Laaltain

ایک تاریخی واقعہ

حسین عابد: نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے

ایک یاد رہ جانے والا خواب

حفیظ تبسم: ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔

Cyber Sex

ثمینہ تبسم: اگر تنہائی کے مارے
بدن کی بھوک کا روزہ
کسی آواز کی دُنیا میں جا کر کھولتے ہیں تو
بھلا اس میں بُرا کیا ہے؟

زہر کا گھونسلا

ایچ بی بلوچ: یہ بات الگ ہے کہ
کانٹے اپنی ضد میں
خاموش ہونٹوں اور سانپوں کی طرح

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

بھوک کی کئی قسمیں ہیں

قاسم یعقوب: میں آج بہت بھوکا ہوں
میرے دل، ذہن اور جسم کے سارے خالی رستوں پر
بے سمت چلنے والے قافلوں کی دھول اڑ رہی ہے

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں

پھانسی گھاٹ

حسین عابد: وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

ڈی این اے کی خود سے لڑائی

ثروت زہرا: علیشا سب سے پہلے
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی

کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

قریبِ شب

نصیر احمد ناصر: رات قریب ہے
اور ابھی آدھا خواب بھی تیار نہیں ہوا