ایک دن بارش کے ساتھ

نصیر احمد ناصر: بارش اے بارش!
کتنی اچّھی ہے تُو
مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا
کتنی اچّھی ہے تُو
مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا
خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی
وارث شاہ کی ہیر کی کھونٹی

ثروت زہرا: وارث شاہ کی
ہیر کی کھونٹی تو نے میرے
دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں
ہیر کی کھونٹی تو نے میرے
دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں
تم نے جس مٹی سے قلعہ بنایا ہے

نور الہدیٰ شاہ: اب مٹھی بھر مٹی بس اتنی سی باقی ہے
یا قلعے کا بُرج بن جائے
یا آدمی کا دل بن جائے
یا قلعے کا بُرج بن جائے
یا آدمی کا دل بن جائے
سوختہ جسم کا لباس

فیصل عظیم: لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں
شہرام سرمدی کی نظم پر ایک مختصر نوٹ

تالیف حیدر: شہرام سرمدی کی کئی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ان کے مذہبی ،معاشرتی اور تمدنی وجدان سے پیدا ہوئی ہیں۔
تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں
جنت جلتے پیروں نیچے

سدرہ سحر عمران: بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟
میں تمہارے لیے نظم نہیں لکھ سکتا

نصیر احمد ناصر:اگر میں تمہارا لفظ بن سکتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا
دشمنی کی فارینزک رپورٹ

وجیہہ وارثی: ہم دونوں ایک ہی قبر میں دفن کر دیے گئے
ہم نے دشمنی ترک کرنے کااعلان کیا
دشمنی جو صدیوں سے جاری ہے
ہم نے دشمنی ترک کرنے کااعلان کیا
دشمنی جو صدیوں سے جاری ہے
سوراخوں سے رِستی سیاہی

حسین عابد: میں دیکھتا ہوں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں
میں نے بہت سا وقت ضائع کر دیا

ابرار احمد: اس کے ہونٹوں پر پھول کھلانے
اور اسے ملنے کے لیے
وقت نکالنے میں
میں ںے بہت سا وقت ضایع کر دیا
اور اسے ملنے کے لیے
وقت نکالنے میں
میں ںے بہت سا وقت ضایع کر دیا
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے

حماد نیازی: جاگتے ہوئے یا سوتے ہوئے
ھنستے ہوئے یا روتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے
ھنستے ہوئے یا روتے ہوئے
ہمیں ایک دن جدائی کا گیت گانا ہے
خواب اور نیند کے درمیان صدائے مرگ

نصیر احمد ناصر: ہوا سرسرائی
کہیں دُور۔۔۔۔۔
بارُود اُڑنے کی آواز آئی
کہیں دُور۔۔۔۔۔
بارُود اُڑنے کی آواز آئی
میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

جمیل الرحمان:میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے