ایک معمول کا دن

حفیظ تبسم: آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا
آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

عذرا عباس: آؤ ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں
ان کے لئےجنت میں جگہ خالی رہے
ان کے لئےجنت میں جگہ خالی رہے
اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

حفیظ تبسم: میں کچھ دن اور زندہ رہ سکتا تھا
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے
اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
شہر کا ماتم

علی اکبر ناطق:
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
سفید بادل

نصیر احمد ناصر: سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
ایک خالی کمرے میں معرکہ

جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
خود کُش

نصیر احمد ناصر:
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
آج چھٹی ہے

ثروت زہرا: میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

عذرا عباس: ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے
برزخ دھندلے خوابوں کا

نصیر احمد ناصر: اک عمر کا سارا قصہ ہے
دکھ درد خوشی کا حصہ ہے
دکھ درد خوشی کا حصہ ہے
ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

سدرہ سحر عمران: ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
مجھے اک خواب لکھنا ہے

نصیر احمد ناصر: مجھے اک نام لکھنا ہے
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر