جنگل کے پاس ایک عورت

افضال احمد سید: نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی
تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں

تنویر انجم: پرندے نے سوچا
ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں
دائیں مڑے یا بائیں
زہر کی پھانک

صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟
سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

زبیر فیصل عباسی: کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں
نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

زاہد امروز:کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے
عشرہ//ایک بہادر عورت کی موت

ادریس بابر:ہم نے کبھی اُس کا ساتھ دینے کی غلطی نہیں کی
ہم نے تو کبھی اُس کو گالی تک نہیں دی
عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
عشرہ // ایک اور دھرنا

ادریس بابر: کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!
خواب

رضی حیدر: خواب اک ایسی کنشت،
جس میں خداؤں کو موت ہے اور بشر کی حیات
کُمہار

گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں
البتراء

افتخار بخاری: میں تجھے تیرے جیسا
اپنا دل ہدیّـہ کروں گا،
پتّھر کا گلاب
گواچن سے پرے بھی کچھ ہے؟

کے۔ بی۔ فراق: ہم نارضامندی کی پیدائش میں
پیدا ہوئے ہی نہیں
اگر ہم پیدا ہوتے
تو ہماری حالت کچھ اور ہوتی
رضوان فاخر کے عشرے

رضوان فاخر: بستر پر بہنے والا خون بچا لیا گیا
گلیوں میں خون بہا کے
رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

عمران ازفر: رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
مجھے نہ کر وداع

ستیہ پال آنند: مجھے اٹھا
مجھے گلے لگا
نہ کر وداع، میری ذات آج
الٹے رُخ کی یہ صلیب
میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!
رات کی بے بسی

صفیہ حیات: میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے
وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر
اپنے گھر کا رستہ بھول جائے