Categories
فکشن

ممنوعہ موسموں کی کہانی (صنوبر الطاف)

یہ اس کی کہانی ہے لیکن میں اس کا آغاز بھول گئی ہوں۔ دراصل اس کا آغاز تھا ہی نہیں۔اس نے مجھے بتایا تھا کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک نئی کہانی کی تشکیل کرتا ہے۔تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ ایک کہانی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ یہاں اس نے مجھ سے چالاکی کی ہے اور جان بوجھ کر مجھے آغاز سے بے خبر رکھا ہے۔اب میں ہر لمحے کی کہانی تو بیان نہیں کرسکتی لیکن کوشش کروں گی کہ کچھ اہم لمحے میری گرفت میں آجائیں۔یہ کہانی اس لیے لکھی جارہی ہے کہ یہ محفوظ رہے۔اس وقت سے جب کوئی آگ کا گولہ آئے اور ہم سب کو بھسم کردے۔ اور جب خدا داڑھی کھجاتے ہوئے ہمارے جلے ہوئے جسموں کو تاسف سے دیکھ رہا ہو تو اسے یہ اوراق نظر آئیں اور وہ جبریل سے مخاطب ہوکر کہے۔ــــــ’’انہیں سنبھال رکھو۔ممکن ہے کسی اگلے صحیفے میں کام آئیں۔‘‘

تو کہانی کہاں سے شروع کی جائے؟ویسے تو کہانی جبریل کو ملنے والے اس حکم سے بھی شروع کی جاسکتی ہے لیکن ہم اس کے کچھ اور پہلو بھی دیکھ لیتے ہیں۔مثلاًوہاں سے جب اس نے جنم لیا۔وہ پہلی اولاد تھی تو خوشیاں بانٹی گئیں۔ حسین بھی تھی تو اسے لاڈ بھی ملا لیکن کچھ چہ مگوئیاں بھی ہوئیں کہ اس کی ماں کا کوئی بھائی نہیں ہے تو شاید اب اس کا بھی کوئی بھائی نہ ہوسکے۔ اس کی ماں جو چہک رہی تھی یہ سن کر مرجھاگئی اور اسے پرے دھکیل دیا۔اس کی ماں نے سوچا کہ آخر زندگی ایسی کیوں ہے؟ ایک پل کی خوشی بھی مجھے راس نہیں۔

ذرا ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ جیسے کہانیوں میں ایک بادشاہ ہوتا ہے۔ ویسے ہی اس کے گھر میں بھی ایک بادشاہ ہے جو اس کا باپ ہے۔ سب گھر والے اس کی رعایا ہیں۔ وہ چاہے تو سانس کھینچ لے اور چاہے تو گلے کا ہار بخش دے۔ ایک شام چھت پر اپنے دائیں گال کے زخم کو سہلاتے ہوئے اور آنسو پیتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ زندگی ایسی تو نہیں ہونی چاہیے۔

زندگی کے عذاب پہلے ہی کم نہ تھے جب ایک صبح اس نے بستر کو خون میں رنگے دیکھا۔ وہ فوراًسے غسل خانے میں بند ہو گئی اور اپنی موت کا انتظار کرنے لگی۔آخر بڑی منت سماجت کے بعد ماں اسے کمرے میں لائی اور اسے سمجھایا کہ وہ بڑی ہوگئی ہے۔اسے کوئی خوشی نہ ہوئی۔پہلے تو اسے صرف گھر کی حکومت سے گلے تھے اب خود اپنے وجود سے شکوے ہونے لگے۔ میرا جسم باعث شرم کیوں ہے؟ یہ چھاتیاں میں نے تو نہیں اگائیں؟ بازار میں چلتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوتا کہ ہر ہاتھ اس کو چھونے دبوچنے کے لیے بڑھ رہا ہے۔ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجود ناجائز،گندا اور ایک بوجھ ہے۔دو آنسو ٹپکے لیکن اس نے چھپا لیے۔گھر کی آمریت سے گھبرا کر اس نے آنسو باہر لانا چھوڑ دیے۔ اب وہ اندر گرتے تھے اور خون کے ساتھ مل کر سارے جسم میں دوڑتے تھے۔ زندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے۔

اس کی زندگی کی ایک کہانی تو وہ بھی ہے جب اس نے پہلی دفعہ اپنے محبوب کو دیکھا تھا ۔یہ رومانوی آغاز یقینا پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔جب اس نے پہلی دفعہ اپنے محبوب کو دیکھا تب وہ دو انسانوں کے درمیان اچانک آنے والی ان شعاعوں کو سمجھتی نہ تھی لیکن اس دن اسے ایک نئی ترنگ ملی۔ وہ راستے جن سے وہ گھبراتی تھی اب ان پر اترا اترا کر چلنے لگی۔ وہ بھول گئی کہ اسے زندگی سے کیسے کیسے شکوے تھے۔کیا کیا غم ہیں جو اس نے اٹھائے ہیں۔وہ خود کو کسی پرندے کی طرح آزاد محسوس کرنے لگی۔ اس کا دل زور زور سے یہ کہتا کہ زندگی ایسی ہونی چاہیے۔

کہانی وہاں سے بھی شروع کی جاسکتی ہے جب اسے پتہ چلا کہ بند کمرےاور ہلکی روشنی میں ہونے والا عمل بھی محبت ہی ہے لیکن محبت کا یہ گوشہ خوف سے جڑا ہے۔ مکمل ہو جانے کا فرحت بخش احساس اور اس کے بالکل ساتھ سروس روڈ پر چلنے والاڈر۔ اس نے جانا کہ زندگی ہاں یا نہیں، گناہ و ثواب، خدا اور شیطان، صحیح اور غلط کے درمیان ایک الجھی ہوئی پتنگ کی ڈور ہے۔ اس ڈور کا سرا ملنا ناممکن ہے اور اگر وہ مل بھی جائے تو زندگی بے سواد ہو جائے۔

کہانی تو وہ بھی ہے جب پہلی بار اس کا دل ٹوٹا۔ اس کی محبت پامال ہوئی اور خلوص پاؤں تلے روند دیا گیا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ شاید محبت ہی زندگی ہے لیکن یہ دھوکا کھانے کے بعد اسے پتہ چلا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ محبت اور نا محبت دو متضاد کنارے ہیں، جن کے بیچ ہم ہینگر پر ٹنگے کپڑوں کی طرح ہیں۔زندگی میں شاید ایک ہی بار محبت کی ہواچلتی ہے جو ہمیں محبت کی سرزمین پر لے جاتی ہے اور ہمیں لگنے لگتا ہے کہ یہی محبت ہے۔اور پھر کچھ کالی گھٹائیں چلتی ہیںجو ہمیں اس گھڑے میں پھینک دیتی ہیں جہاں محبت نہیں ہوتی۔ایک پچھتاوا ہوتا ہے اور انسان موت کی دعا کرتا ہے۔

کہانی وہاں سے بھی خوبصورت ہے جب اس نے اپنے پہلے بچے کو جنم دیا۔ اسے لگا کہ وہ صرف ایک بچہ نہیں ہے بلکہ اس کی ساری کائنات ہے۔تو اس نے اپنے صبح و شام اس کے نام کردیے۔کبھی کبھی وہ بچہ اس کی سہیلی بن جاتا اور وہ راز کی ساری باتیں اسے کہہ دیتی۔کبھی وہ اس کی ماں بن جاتا تو وہ اسے گلے لگاکر رولیتی۔کبھی کبھی اس بچے کی شکل اس کے محبوب جیسی ہوجاتی تو وہ اس کے جسم کے ہر کونے کو دیوانہ وار چومتی۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی یہ نہیں ہے اور ایک دن یہ بچہ بڑا ہو کر سب کچھ بھول جائے گا۔دور جاکر کہیں اپنی زندگی خود بنائے گا۔تب وہ اس کے لیے کچھ نہیں ہوگی۔

کہانی ان چھ مہینوں کی بھی ہوسکتی ہے جب وہ بستر پر لیٹے چھت پر گھومتے پنکھے کو تکتی رہتی تھی۔ اس کے ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا کہ وہ چھ ماہ کی مہمان ہے۔اس کی آنکھوں کے وہ سفید ڈولے جو اپنی سفیدی کے باعث کبھی نیلے لگتے تھے اب ماند پڑچکے تھے۔ ان پر پیلے رنگ کی ایک تہہ بن گئی تھی۔اب وہ کچھ کھا نہیں سکتی تھی،اس کے ہونٹوں پر پیپڑی جمی رہتی اگر کچھ کھا لیتی تو وہ خوراک بھی اس کے خشک ہونٹوں پر جم جاتی۔جنہیں وہ زبان سے اتارنے کی کوشش کرتی رہتی۔اس کے گال پچک چکے تھے۔ہاتھوں کی کھال لٹک چکی تھی۔اس کی چھاتیاں گوشت کی دکان پر لٹکی اوجھڑی کی مانند معلوم ہوتیں۔اسے بستر سے سہارا دے کر اٹھایا جاتاتو اس کے گلے کی رگیں دھاگوں کی طرح تن جاتیں۔ لیکن اس کے ناک میں چمکتی سونے کی لونگ کی چمک ابھی بھی قائم تھی۔وہ ان چھ ماہ میں سب کو یاد کرتی رہی۔اپنی اس سہیلی کو جس کے ساتھ اس نے گرمیوں کی دوپہریں گزاری تھیں۔اپنی پہلی کلاس کی استانی کو یاد کیا۔اس لڑکے کو بھی یاد کیا جس نے اسے ایک محبت نامہ لکھا تھا۔مرنے سے تین گھنٹے اور دس منٹ پہلے بند ہوتی آنکھوں کے دھندلکے میں کسی کی یہ سرگوشی اس کے کانوں سے ٹکرائی کہ بس اب کہانی ختم ہونے کو ہے۔

Categories
نان فکشن

لکھت لکھواتی ہے (صنوبر الطاف)

میں ایک پیشہ ور لکھاری ہوں۔

منظروں سے اپنی لکھت کشید کرتا ہوں۔خاموشی میں دبی سسکیوں کو سنتا ہوں،آہوں کا مطلب سمجھتا ہوں،بند آنکھوں کے خوابوں کو دیکھ سکتا ہوں،درد سے بلکتے انسانوں کی نہ نکلنے والی چیخوں کو سنتا ہوں اور پھر انہیں لکھتا ہوں۔

میں ان آنسووں کو دیکھ سکتا ہوں جو بہے نہیں ہوتے۔میں برف جیسے سرد لوگوں کو بھی جانتا ہوں۔ان کے سرد رویوں کو بھی سمجھتا ہوں۔میں کسی کے برے ہو جانے کے مسائل سمجھ سکتا ہوں اور انہیں سلجھا بھی سکتا ہوں۔میں نے ہمیشہ انسانوں سے پیار کیا ہے،انہیں اپنا سمجھا ہے۔دنیا کے تمام انسان میری لکھت کا خام مال ہیں۔گہری نیند میں گم بلکتے انسان اور ان کی بند آنکھوں میں جاگتے خواب،سب میرے وجود کا حصہ ہیں۔یہ سب لوگ میری قلم کی نوک پر ہیں۔میں جسے چاہوں،جیسے چاہوں درج کرسکتا ہوں۔کسی کو زندہ کردوں ،کسی کومٹادوں،یہ سب مجھ پر ہے۔یہ سب مجھے اس لیے عزیز ہیں کہ ان کی بدولت میں خود زندہ ہوں اور میرے پیارے بھی۔میں ان کے درد کو اپنی لکھت بنا کر بیچتا ہوں اور پیسے کماتا ہوں۔اگر دنیا میں درد مٹ جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان میرے جیسے لیکھک کا ہی ہوگا۔

میرے پڑھنے والے کہتے ہیں کہ میں درد شناس ہوں،مجھے درد رقم کرنے آتے ہیں۔لوگ میری لکھت کو پڑھ کر بہت عرصے تک اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔میں حقیقتوں کو روندتا،درد کی گھاٹیوں میں اترتا،تکلیف کی گہرائیوں میں ٹھہرنے کا فن جانتا ہوں۔

کچھ عرصے سے میں کچھ نہیں لکھ پارہا۔شاید ایسا تب ہوتا ہے جب میں نے کسی نئے شاہکار کو وجود میں لانا ہوتا ہے۔میں اس عمل میں ایک عجیب سی بے معنویت کا شکار ہوجاتا ہوں۔کوئی بھی منظر،کوئی بھی چہرہ،کوئی بات مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کر پا رہی۔مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور لکھنا ان پیسوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

آج میرے پیارے بیٹے نے مجھ سے پہلی مرتبہ کسی چیز کی فرمائش کی ہے۔اسے ایک ویڈیوگیم چاہیے۔میں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ آج میں اسے وہ دلواکر رہوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔گو مجھے معلوم ہے کہ وہ کوئی ضدی بچہ نہیں ہے۔بہت فرمانبرداراور صابر ہے۔ہم نے زندگی کے کئی دن ایسے بھی گزارے ہیں جب ہمارے گھر کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن میرے بچے نے کبھی مجھ سے شکایت نہیں کی۔

سڑک کے دوسری طرف ایک ہجوم کھڑا ہے۔شاید کسی گاڑی نے کسی کو کچل دیا ہے۔ ارے!یہ ایک بچہ ہے جو سڑک کے درمیان درد سے تڑپ رہا ہے۔وہ بری طرح لہو لہان تو ہے لیکن اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔اس کا بستہ جو پاس ہی پڑا ہے خون میں لت پت ہے۔وہ درد کے مارے بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں۔کبھی اپنا پیٹ پکڑتا اور کبھی سر۔سب لوگ دائرے کی صورت میں کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح دم توڑتا ہے اور میں،لکھنا جس کا پیشہ ہے سوچ رہا ہوں کہ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔میری انگلیاں لکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔میں زمین پر بچے کے پاس ہی دو زانو بیٹھ گیا ہوں۔میں نے تیزی سے قلم کاغذ نکال کر لکھنا شروع کر دیا ہے۔میں اس بچے کے منہ سے نکلنے والی آہ اور اس کا درد لکھنے لگا ہوں۔میں لکھنے لگا ہوں کہ موت اور زندگی کی لڑائی کیسی ہوتی ہے؟کیسے انسان خود کو موت کے پاس جانے سے روکتا ہے اور کیسے موت اس کو اپنے قریب گھسیٹتی ہے۔

اچانک مجمع میں سے ایک شخص نمودار ہوتا ہے۔وہ ایک کمزور سا نوجوان ہے ،آنکھوں کے گرد بڑی سی عینک،ہاتھ میں ایک کاغذ اور پنسل ہے۔اس نے بچے کے سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر بنانی شروع کر دی ہے۔ایسی درد بھری اور حقیقی تصویر بنانے کا موقع اسے شاید پھر کبھی نہ ملے۔ اس کی پنسل بڑی تیزی کے ساتھ اسکیچ بنارہی ہے۔وہ بچے کی ایک ایک تکلیف کی تصویر کاغذ پر اتار رہا ہے۔اِدھر میں درد کو لفظوں میں پرو رہا ہوں اور اُدھر وہ لکیروں کے ذریعے درد کی شکلیں بنارہا ہے ۔ہم دونوں اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔مجمع ساکت ہے اور بچہ تڑپ رہا ہے۔

کچھ اور لوگ بھی دھکم پیل کرتے ہوئے بچے کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ہر طرف سے کیمروں سے تصویریں کھینچنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔تصویروں کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے اور تڑپتے بچے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے وہ فوکس نہیں کر پا رہے ہیں۔ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں کہ ایک شخص نے مائیک پکڑ کر کیمرے کے سامنے بولنا شروع کر دیا ہے:”آج کلمہ چوک میں سڑک پر ایک آٹھ سالہ بچے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ منچلے نوجوانوں نے اس مصروف سڑک پر کارریسنگ کا مقابلہ رکھا تھا۔ یہ بچہ باری باری تین کاروں کی زد میں آیا ہے۔ کہا جاتا ہے اس میں سے ایک کار حساس ادارے کے اعلیٰ افسر کے صاحبزادے کی بھی تھی۔ بچہ ابھی زندہ ہے لیکن بری طرح زخمی ہے۔آپ اپنی ٹی وی سکرین پر بچے کو تڑپتا دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بول نہیں پا رہا ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے ٹریفک جام ہو چکی ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ سب حکومت کی ناکامی کو منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیمرہ مین فلاں کے ساتھ، میں فلاں،فلاں نیوز چینل، اسلام آباد”

میں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ جب تک بچہ آخری سانس نہیں لیتا میں لکھنا نہیں چھوڑوں گا۔ کبھی کبھار وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے لیکن میں ان نظروں کو مفہوم سمجھنا نہیں چاہتا۔میں صرف لکھنا چاہتا ہوں۔

اچانک وہ اپنا خون آلود ہاتھ میرے کاغذ کے اس ڈھیر پر رکھ دیتا ہے جو میرے گھٹنوں پر دھرے ہیں۔میں تھوڑا ناراضگی کے انداز میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ شاید یہ اس کی آخری سانس تھی۔میرا قلم رک جاتا ہے۔تصویریں اور رپوٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔ فوٹوگرافر چلے گئے اور ٹی وی والے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔ مجمع پہلے کی طرح ساکت ہے۔میں اس خون بھرے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگتا ہوں جو اب بھی میرے گھٹنوں پر دھرا ہے۔وہ ایک چھوٹا سا نرم ہاتھ ہے۔ جس کے ناخن بڑی نفاست سے ترشے ہوئے ہیں۔

“کل ہی تو اس کی ماں نے اس کے ناخن کاٹے ہیں” یہ شاید میری آواز ہے۔

“یہ وہی ہاتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے بڑی مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔ انہی ہاتھوں کو پکڑ کر میں نے اسے چلنا سکھایا تھا۔ اسے پنسل پکڑنی سکھائی تھی۔ انہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میں نے کئی بار اس سے پنجہ لڑایا تھا،پھر جان بوجھ کر ہارا تھا ۔نہیں، یہ بے جان ہاتھ میرے بیٹے کے نہیں ہیں۔ یہ تو کہانی کا کردار ہے۔ ایک رپورٹ، ایک خبر اور ایک تصویر ہے۔”

Categories
شاعری

میری دنیا گول نہیں اور دیگر نظمیں (صنوبر الطاف)

A room of one’s own

میرے پاس ایک کمرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم ہو
یہ وہ کمرا ہے
جس نے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے بعد پناہ دی ہے
یہاں دبک کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں سوچا جا سکتا ہے
دل چاہے تو سامنے بٹھایا جا سکتا ہے
نظمیں کہی جاسکتی ہیں
افسانے بنے جا سکتے ہیں
اور سارے کائناتی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں
یہ کمرا بوڑھے ملازم کی طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری تنہائی کا خیال رکھتا ہے
اپنی آہٹ کو دبانا جانتا ہے
یہ مجھے اپنے اندر یوں چھپا لیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ماں بچے کو گرم چادر میں لپیٹتی ہے
یا جیسے تم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنی بانہوں میں

اتنی بڑی کائنات میں
میرے پاس ایک کمرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم ہو

میری دنیا گول نہیں

میری دنیا
ایک سیدھی لکیر ہے
جس کے ایک طرف ایک کمرا ہے
اور دوسری طرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک لیپ ٹاپ
اس کمرے میں ایک گھڑی ہے
جو دو ہی وقت بتاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور گزرا ہوا
ایک بستر ہے
جو میرے بوجھ تلے سسک رہا ہے
کچھ کتابیں ہیں
جن پر زندگی تھوک کر چلی گئی ہے
اب وہ اکھڑی اکھڑی سانسیں لیتی ہیں
اس کمرے کی ہر شے اجنبی ہے
زمین پر پڑے چپل
کھونٹی سے لگے کپڑے
کرسی پر پڑا تولیہ
یہ کن انکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں
اور ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں
لیپ ٹاپ کے اندر کی دنیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گول ہے
جس میں بڑی انگلیوں اور چھوٹی آنکھوں والے بونے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھلتے کودتے ہیں
ان کے بڑے بڑے سر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی ڈھول ہیں
یہ ڈگڈگی لیے
کمنٹ،لائک اور شیئر مانگتے پھرتے ہیں
میں انہیں نظر انداز کرتی ہوں
ان کی چیخیں اور فریادیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیپ ٹاپ سے باہر آنے لگتی ہیں
تو میں کمرے کے ایک کونے میں سمٹ جاتی ہوں
لیپ ٹاپ ساری رات ٹہلتا
اور بڑبڑاتا رہتا ہے
اسے اب راتوں کو نیند نہیں آتی!

پہیہ گھوم رہا ہے

آگے۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے۔۔۔۔۔۔
کچھ لکھتے دل ڈرتا ہے
شاید تب بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ایک کمرا ہو۔۔۔۔۔۔۔
جس میں صرف کتابیں ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تہہ در تہہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر کونے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک دھندلی تصویر بھی ہو
بے رنگے سے فریم میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکاتی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو تیری ہو
جھریوں والا ہاتھ ہو
جس میں ایک بوسیدہ قلم کانپتا ہو
اور سامنے کورا کاغذ ہو
جس پر وہ سب لکھنا باقی ہو
جو بیت چکا
لیکن اب بھی باقی ہے

20×15فٹ کی دنیا

میرا کمرا ہی میری دنیا ہے
یہاں کبھی میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی
اب اس کی تصویر کے ساتھ رہتی ہوں
(جس کی طرف میں کبھی نہیں دیکھتی)
اس کمرے میں ایک ڈسٹ بن ہے
کچھ خالی کاغذ ہیں
اور کچھ کتابیں ہیں
سردیوں کی راتوں میں ہم دنیا جہان کی باتیں کرتے ہیں
مونگ پھلیاں کھاتے ہیں
میں اپنے کمرے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی
باہر جائوں تو اپنا ایک حصہ دروازے کے پیچھے چھپا آتی ہوں
یا اسے اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیتی ہوں
وہ سارا دن وہاں بیٹھا سگریٹ پیتا رہتا ہے
میرا یہ کمرہ کوئی بھی روپ دھار سکتا ہے
کبھی یہ بالکونی بن جاتا ہے
جہاں سے گلی میں کھیلتے بچوں کے قہقہے سنائی دیتے ہیں
سردیوں کی دھوپ میںیہ کھلے مکان کی چھت جیسا ہوجاتا ہے
ویک اینڈ پر یہ سٹور بن جاتا ہے
اور میں کسی ردی کی طرح وہاں پڑی رہتی ہوں
تب اس کمرے کی کھڑکی سے خدا دکھنے لگتا ہے
جو اپنی تخلیق پر نادم
بازووں میں سر دیے
میری طرح اداس بیٹھا ہے