Categories
شاعری

تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر

آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے
“ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں”
اس جملے کی روشنی میں
مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے
ہمارے کسان
اپنی کھیتی میں
دن رات ہل جوتتے ہیں
میزاٸل نما بیج بوتے ہیں
ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں
ڈالر اپنی مرضی سے مباشرت کرتا ہے
ہمارا تعلیمی بجٹ محبوبہ کے تل سے چھوٹا ہے
خجل داری نظامِ معیشت راٸج ہے
(خ سے خوف)
(ج سے جہالت)
(ل سے لالچ)
بجٹ کے گوشوارے کی جگالی کرنا منع ہے
ہمارا ماٸی باپ
آٸی ایم ایف
(آٸی ایم فادر)کے اشارے پر
غربت کی لکیر
مزید گہری اور بڑی کر دی گٸ
تاکہ
ہمارے مقعد تک پہنچ سکے

تعزیت نامہ

ایک شاعر مر رہا ہے
اس کی ادھوری نظمیں
جھاگ بن کے منہ سے نکل رہی ہیں
واہ واہ کرنے والے واہ واہ کر رہے ہیں
کچھ دیر میں
واہ واہ آہ آہ میں تبدیل ہو جائے گی
ایک ڈرامہ نگار مر رہا ہے
جسے رد کر دیا گیا
وہ اپنے لکھے ہوئے الفاظ کا کفن بنا لیتا ہے
لوگ سمجھتے ہیں
نیا ڈرامہ رچا رہا ہے
ایک افسانہ نگار مر رہا ہے
کچھ دیر میں افسانوی کردار میں ڈھل جائے گا
ایک ناول نگار مر رہا ہے
اس کے کردار رو رہے ہیں
کیوں کہ
وہ زندہ رہیں گے
ایک فنکار مر رہا ہے
تماش بین تالیاں ٹھونک رہے ہیں
تعزیت نامہ لکھنے والے
سنہرے قلم میں سرخ روشنائی بھر ریے ہیں

دیوار

میں چڑیا دیکھتے دیکھتے چڑیا بن جاتا
تمہاری چھت پر اڑتا
زمین کی کشش سے دور نکل جاتا
مگر ڈر گیا
تمہارے سونے کے پنجرے سے
میں درخت دیکھتے دیکھتے درخت بن جاتا
درخت تعصب پسند ہوتے ہیں
رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں
اپنے سائے میں
کسی اور کو پنپنے نہیں دیتے
پیتل کی کلہاڑی سے ڈرا دیا
میں سمندر دیکھتے دیکھتے سمندر بن جاتا
مگرشارک مچھلیوں کی ہڑتال نے روک دیا
میں بادل دیکھتے دیکھتے بادل بن جاتا
تم پر برستا
مگر تمہیں برہنہ دیکھ کے ارادہ ترک کر دیا
میں کچھ نہیں بن سکا
دیوار دیکھتے دیکھتے دیوار بن گیا

Categories
شاعری

عنوان کی کشاکش سے باہرنکلی نظم (وجیہ وارثی)

جدال اور قتال
اگر
تمہاری تاریخ سے
حذف کر دیے جائے
تو
تمہاری تاریخ
گندم کے ایک دانے پر
لکھی جا سکتی ہے

Categories
شاعری

اداسی کی ایک نظم (وجیہ وارثی)

رات اندھیری رم جھم بارش آندھی اور طوفان
چاند کبھی بادل کے پیچھے اوپر نیچے
شاخ پہ بیٹھی پاگل کوئل کوک رہی ہے
جگنو سارے بھیگ گئے ہیں
ٹڈے اورجھینگر کو اک ڈڈو تاڑ رہا ہے
میرے اندر ایک پپیہا بول رہا ہے
پی کہاں پی کہاں

Categories
شاعری

hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی
تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی
یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں
تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی
وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا
نصف صدی کا عرصہ
انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا ہے
مر جانے کے لیے بہت زیادہ
میں تمہارے بغیر زندہ تھا یا نہیں
اس سوال کا جواب میرے بچے دے سکتے ہیں
سب سے چھوٹا بچہ مجھے مرا ہوا ہی سمجھتا ہے
میری شریک حیات
جسے دنیا کی معزز ترین عورت ہونے کا شرف حاصل ہے
خود کو خاتون اول و آخر سمجھتی ہے
(بیوی کی خوش فہمی ہی اس کی خوش بختی ہوتی ہے)
آرام کے لیے بے آرام پالتی ہے
بچوں کو بڑھاپے کا سہارا بنانے کے لیے راتوں کو جاگتی ہے
بائی پاس کے دوران اپنے عقیدے کے مطابق
مسلسل میری زندگی کی دعائیں مانگتی رہی
کامیاب آپریشن کے باوجود تم دل کے کسی والول کے ساتھ
پھانس کی طرح پھنسی ہوئی ہو
Image: Kristina Falcomer

Categories
شاعری

غربت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غربت

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

 

وہ ماں بننے کی خواہش رکھتی ہے
دل میں
اس کی کوکھ میں کینسر پھیل رہا ہے
اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا ہے
معمولی بات پر
سالن میں نمک کیوں نہیں
نمک ہوتا تو ڈالتی

 

وہ رو سکتی ہے
پھوٹ پھوٹ کے
مگر نہیں روتی
کیونکہ اس کی آنکھ میں موتیا ہے
اسے موتیا سے عشق ہے
وہ اندھی ہوجائے گی
مگر آپریشن نہیں کرائے گی
کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں
وہ مرجائے گی
کسی کو بتائے بغیر
سسک سسک کے
کیونکہ وہ خوددار ہے
وہ کون ہے
وہ میری ماں ہے
میں کون ہوں
غربت

Image: Billie Evans
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ماڈل اور آرٹسٹ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ماڈل اور آرٹسٹ

[/vc_column_text][vc_column_text]

برہنہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں
میری سوچ پہلے ہی برہنہ ہے
میں چارکول اورتصور سے ہر طرح کی تصویر بنا سکتا ہوں
سوائے ان تصاویر کے جو تنہائی میں دیکھی جاتی ہیں
تنہائی میری ہمجولی ہے
تنہائی میں میرے دماغ کی رگیں برش بن جاتی ہیں
خیا لات مچھلیوں کی طرح جال میں پھنسنے لگتے ہیں
رنگ باتیں کرتے ہیں
ابھی ابھی برگنڈی نے میرے ہونٹوں پر بوسہ دیا ہے
گلابی فحش نغمے گا رہاہے
گندمی د ست درازی کرنے کی کوشش کررہا ہے
سبز کسی بھی قیمت پر ٹوپی پہنانے کو تیار ہے
سرخ ہمیشہ گالی دیتا ہے
تم بوژبائی آرٹسٹ ہو
آزادی کے نام پر مستورکی نمائش
ہر برانڈ کے لیے الگ عریاں لڑکی
سب استحصال ہے
کتھئی رنگ دوسرے رنگوں کی چغلی کھاتا ہے
کتھئی رنگ نے ابھی ابھی زیرجامہ کی چغلی کی ہے
سفید اور کالے میں برتری کی جنگ جاری ہے
تم دوسری ماڈلوں سے سبقت حاصل کرنا چاہتی ہو
میں تمہاری خواہش کا احترام کرتاہوں
تمہاری تنہائی کی قیمت نہیں چکا سکتا
صرف تنہائی کی نیوڈتصویر بناسکتاہوں
میں تمہاری تنہائی میں جھانک سکتاہوں
آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
ممکن ہے شہ کارپیدا ہو

Image: Georges Braque
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بدتمیز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بدتمیز

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ طوفان کی طرح بدتمیز ہے
اڑالے جاتی ہے میرا سکون
منتشر کردیتی ہے خیالات
گزرجاتی ہے سامنے سے بغیر دیکھے
منہ پھیرلیتی ہے گفتگو کے دوران
بھڑک جاتی ہے مجھ پر
بلا وجہ
سنانے لگتی ہے
اپنی ناکام محبت کی کہانیاں
رونے لگتی ہے
میرے کندھے پر سر رکھ کے
پھاڑ دیتی ہے میری نظمیں
اور چلی جاتی ہے
کہتی ہوئی
آئندہ موت تک تمہاری شکل نہیں دیکھوں گی
میں سوجاتا ہوں خواب آور گولیاں کھا کے
وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے

Image: Katherine Mitchell
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

راز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

راز

[/vc_column_text][vc_column_text]

صندوق میں تالا لگانا راز بتانے کے مترادف ہے
اور تالا نہ لگانا راز کی چوری کاسبب بن سکتا ہے
عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں
راز کی تشہیر خود بخود ہو جاتی ہے
شہر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک
راز کا اک تار بچھ جاتا ہے
راز کی ایک لمبی الگنی بن جاتی ہے
لوگ الگنی پر اپنے رازداں زیرجامے لٹکاتے ہیں
خشک کرنے کے لیے
پھر بھی داغ چھوڑ جاتے ہیں
عاشق کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک
تاروں پر چلنا پڑتا ہے
سرکس کا مداری ہونا عشق ہونا ایک ہی بات ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پیار کرنے کے سو آسان طریقے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پیار کرنے کے سو آسان طریقے

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں نے اپنی تمام خواہشوں کو یکجا کیا
اور اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
قبر سے چھوٹے چھوٹے نیم سے کڑوے پودے نکل آئے
میں روز پودے کاٹتا ہوں
روز ایک نیا پودا قبر سے نکل آتا ہے
ہر پودے کے کٹتے ہی
میرے بچے کی نئی فرمائش سامنے آتی ہے
کبھی اس بلی کی فرمائش
جس کے گلے میں چوہوں نے گھنٹی باندھی تھی
کبھی الہ دین کے چراغ کی فرمائش
کبھی نیرو کی بانسری
کبھی سنڈریلا کی سینڈل
اور بہت کچھ
اس لیے میں نے وہ تمام کتابیں کتب خانے سے نکال دیں
جن میں دیو مالائی قصوں کا ذخیرہ تھا
الف لیلیٰ کی تمام جلدیں چھپا دیں
اجداد کی رومان پرور داستانیں جلا دیں
خدا جانے کہاں سے اک کتاب ہاتھ آ گئی
پیار کرنے کے سو آسان طریقے
اب میرے بچے کی فرمائش ہے کہ اسے محبوبہ چاہیے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]