تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی روشنی میں مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے ہمارے کسان اپنی کھیتی میں دن رات ہل جوتتے ہیں میزاٸل نما بیج بوتے ہیں ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں […]
عنوان کی کشاکش سے باہرنکلی نظم (وجیہ وارثی)

تمہاری تاریخ
گندم کے ایک دانے پر
لکھی جا سکتی ہے
اداسی کی ایک نظم (وجیہ وارثی)

رات اندھیری رم جھم بارش آندھی اور طوفان چاند کبھی بادل کے پیچھے اوپر نیچے شاخ پہ بیٹھی پاگل کوئل کوک رہی ہے جگنو سارے بھیگ گئے ہیں ٹڈے اورجھینگر کو اک ڈڈو تاڑ رہا ہے میرے اندر ایک پپیہا بول رہا ہے پی کہاں پی کہاں
hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا نصف صدی کا عرصہ انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا […]
غربت

ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے
ماڈل اور آرٹسٹ

تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو
بدتمیز

وہ خواب میں بھی نہیں آتی
صبح جب آنکھ کھلتی ہے
وہ سو رہی ہوتی ہے
میرے سینے پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے
راز

تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں
پیار کرنے کے سو آسان طریقے

اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا