Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – چھٹی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔ مچھروں سے ہاتھا پائی میں گزری رات کی کسالت اس کے جسم پر طاری تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ ان بے چارے بیماروں میں تقسیم کرنے کے لیے اس کے پاس کونین کی گولیاں تک نہیں تھیں۔ سنٹر کے سابق غائب حکمران نے اسے ذمہ داریاں سونپنے اور رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے تشریف لانے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ یکا یک اسے بھیڑ چیرتا ڈسپنسر نذیر نظر آیا جو اسی کی طرف آرہا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے دھیمے لہجے میں کہا کہ وہ گھر میں رکھی ساری ادویات لے آئے، انکوائری اور حساب کتاب بعد میں ہوتا رہے گا۔ نذیر نے آئیں بائیں کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے نئے افسر کی اٹل سنجیدگی دیکھ کر وہ خاموشی سے گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔

 

وہ نذیر سے برآمد ہونے والی ادویات کے چند پیکٹ مریضوں پر تقسیم کر کے جلد ہی فارغ ہو گیا۔ نذیر نے اصرار کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا کھانا اس کے گھر سے پک کر آئے گا، لیکن شاہد نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، اس نے چوکیدار کو کچھ رقم دے کر گاؤں کی جانب روانہ کیا کہ وہ اس کے لیے خوردو نوش کا سامان لے آئے۔ چوکیدار اشرف نے اس کے کوارٹر میں اجاڑ پڑے چولہے کو زندہ کیا اور اس کے لیے کھانا بنایا۔

 

مریضوں سے فارغ ہو کر اس نے سنٹر کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی، یہ پڑتال جلد ہی ختم ہو گئی، سنٹر کی زیادہ تر دستاویزات یقیناً گاؤں کی دوکان پر پکوڑے لپیٹنے کے کام آ چکی تھیں۔ وہ اکتا کر باہر نکلا، کچھ دیر وہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر اس نے گاؤں دیکھنے کا ارادہ ترک کر کے ریتلے ٹیلوں کی راہ لی۔ دن ڈھل رہا تھا اور ریت ابھی اپنے اندر جذب کی ہوئی حرارت فضا کو لوٹا رہی تھی، تھور کے پودوں اور خاردار جھاڑیوں میں کہیں کہیں کوئی بھورا پرندہ پھُدکتا نظر آ جاتا، دور دور تک مکمل خاموشی تھی جیسے یہ کوئی آواز کی پیدائش سے پہلے کی دنیا ہو۔ رات بھر وہ مختلف سوچوں سے الجھتا رہا تھا، وہ یہاں کیا کرے گا؟ وہ جو جھمگٹے کا عادی تھا اور حرکت کا، یہاں کی تنہائی اور سکوت میں کب تک رہ پائے گا۔ کیا اسے بھی اپنی ممکنہ تنخواہ کا کچھ حصہ متعلقہ افسر کے لیے مختص کردینا چاہیئے تھا اور اپنے پیش روؤں کی طرح سیدوں کی دہلیز پر ماتھا ٹیک کر گھر کی راہ لینی چاہیئے تھی؟ پیشانی کے عین درمیان پڑاؤ ڈالتے مچھر پر تھپڑ رسید کرتے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہیں رہے گا اور جب تک اس سے بن پڑا ایمانداری سے اپنا فرض نبھائے گا۔ بھاگ جانے کا رستہ ہمیشہ کھلا تھا۔ اس نے کل ہی جھنگ جانے اور ضلعی دفتر سے ادویات کی فراہمی کا بندو بست کروانے کا قصد کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔

 

اس چمکدار دن وہ مریضوں کے معائنے میں منہمک تھا جب اسے ایک اچانک غلغلے نے چونکایا، کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دالان میں بیٹھے مریض اور ان کے لواحقین باجماعت کھڑے ہورہے تھے، سلام شاہ جی، سلام شاہ جی کی بلند ہوتی صداؤں میں تین چار مصاحبین کے ہمراہ بوسکی کی قمیض اور سفید کھڑکھڑاتی شلوار میں ایک سرخ و سپید نوجوان صحن میں داخل ہوا۔ حاضرین کمر تک جھُک گئے، خواتین نے چادریں گھٹنوں تک کھینچ لیں اور گرمی سے بلبلاتے بچے اچانک خاموش ہو گئے۔

 

“چھوٹے شاہ صاحب بہ نفسِ نفیس آگئے ہیں، خیر ہو”، اس نے اپنے قریب نذیر کی سرگوشی سنی۔ اجتماعی وفور کی اس فضا میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اٹھ کر نوجوان شاہ صاحب کا استقبال کیا۔

 

“ آپ تو سنا ہے گھر سے ہی ہم لوگوں سے ناراض چلے ہیں، لیکن ہم پڑھے لکھے لوگوں کے قدردان ہیں، آپ کے اسقبال کو خود حاضر ہوگئے ہیں۔” نوجوان نے ایک کرسی پر تشریف رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں تکبر، تمسخر اور ایسا ٹھہراؤ تھا جو پشت در پشت مکھن میں پھسلتے رہنے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

 

“ نہیں مجھے کس بات کی ناراضگی ہوسکتی ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ ملنے آئے ہیں”۔ شاہد نے رسان سے کہا۔

 

“ آپ کی خدمت کریں گے ڈاکٹر صاحب، یہاں تو کوئی ٹکتا ہی نہیں، گھر بیٹھے تنخواہ بٹورتے ہیں، آپ تو سنا ہے یہاں رہ کر کام کریں گے”۔

 

“ہاں ارادہ تو یہی ہے”۔

 

“ بہت اچھے، بہت اچھے”، نوجوان جس نے اپنا نام بتانا ضروری نہ سمجھا تھا، توصیفی انداز میں گردن ہلا کر بولا، جس پراطراف و جوانب سے ماشاٗللہ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ شاہ صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اس کے جذبے اور لگن کی قدر کرتا تھا اور عنقریب اپنی جیب سے ہسپتال کے لیئے نیا فرنیچر مہیا کرنے والا تھا۔ پھر وہ شاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔

 

“ نذیر غریب آدمی ہے اور پھر وہ لوگوں کا علاج ہی تو کرتا رہا ہے، خود تو ساری دوائیاں نہیں کھا جاتا تھا، میری بات سمجھ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟”

 

“ ضابطے کی کارروائی تو ہونی چاہیے”۔

 

“ ضابطے تو محکوموں کے لیے ہوتے ہیں، آپ تو ہمارے افسر ہیں، ضلع کے افسران بھی ہمارے ہی ہیں، خوامخواہ آپ وہاں انکوائری ڈال آئے، ایسے چھوٹے موٹے معاملے ہم یہیں نمٹاتے ہیں”۔ شاہ نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور مصاحبین کے جلو میں گاؤں کی سمت بڑھ گیا۔

 

شام اپنے کوارٹر میں اس نے تین ٹانگوں والی میز کی مرمت کی جو اسے سنٹر کے مختصر سے گودام میں مل گئی تھی،میز برآمدے میں رکھ کر اس نے جھنگ سے خریدے ہوئے پلاسٹر آف پیرس کے پیکٹ اس پر منتقل کیے، سوٹ کیس سے مجسمہ سازی کے اوزار نکال کر ترتیب سے میز پر سجائے اور سگریٹ سلگایا۔

 

پلاسٹر میں تھوڑی سی اس دالان کی ریتلی گرد بھی ملا ئی جائے، ناہید کے نام۔ اس نے کش لیتے ہوئے سوچا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کار کی اگلی نشست پر بیٹھتے ہوئے ناہیدنے دھیان سے اپنی چادر سمیٹ کر دروازہ بند کیا، اگنیشن میں چابی گھماتے اس کے نئے نویلے شوہر کے وجود سے اٹھنے والے آفٹر شیو، ڈی اوڈرینٹ اور پرفیوم کے مرکب مرغولے کار کی فضا معطر کر چکے تھے۔ چوکیدار گیٹ کھول چکا تھا، گاڑی آہستہ روی سے کراچی کی ایک متمول بستی کی سڑک پر نکلی۔ ہسپتال کا راستہ دس منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا اور ناہید کو یہ بات بہت پسند آئی تھی، اسے کراچی کی آب وہوا اچھی لگی تھی اور سمندر، لیکن اس شہر کی ٹریفک نے اسے بوکھلا دیا تھا۔والدین کی مرضی اور اس کی رضامندی سے اس کا بیاہ دور کے رشتہ داروں میں کر دیا گیا تھا، یہ ڈاکٹروں کا خاندان تھا، جن کا ایک چار منزلہ ذاتی ہسپتال تھا۔ وہ خاندان میں ایک اور ڈاکٹر کی آمد پر خوش تھے، اس کے والدین احسن طریقے سے اپنا فرض ادا ہونے پر خوش تھے اور وہ اپنے دراز قد اور مضبوط کاٹھی کے مرد کے ساتھ خوش تھی جسے قیمتی سوٹ اور میچ کرتے ریشمی سکارف پسند تھے۔

 

مہندی کی شام جب اس کی سہیلیاں گا رہی تھیں اور وہ اپنے حنائی ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی، ایک لمحہ کے لیئے اسے اس مجہول سے کلاس فیلو کی یاد آئی جو اس سے میڈیسن اور سرجری کی بجائے رنگوں، مجسموں اور شاعری کی باتیں کرتا تھا۔ اور جس کے دماغ میں ایسے بے تکے انقلابی خیالات بھرے تھے جن کی عملی زندگی میں کوئی جگہ نہ تھی۔ گو شاہد نے کبھی اظہار نہ کیا تھا لیکن وہ اس کی مضطرب نگاہ اور لڑکھڑا جانے والے لہجے کو پڑھ چکی تھی۔ اس کی باتیں دلچسپ تھیں اورناہید کو اس سے انسیت سی ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں بادلوں کی طرح امنڈتی محبت کا ناہید کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

 

وہ ایک تنگ گھر سے دوسرے تنگ گھر میں منتقل نہیں ہونا چاہتی تھی، اسے تحفظ کی طلب تھی اور آسائش کی، ایک ایسی زندگی کی جس میں وہ قیمت پر دھیان دیے بغیر اپنی مرضی کا لباس خرید سکے، چمکدار اورخوش باش لوگوں کے بیچ بڑھیا ریستوران میں شام کا کھانا کھا سکے اور جس زندگی میں اسے بچوں کے سکول کی فیس کے لیے تین تین شفٹوں میں کام نہ کرنا پڑے۔ شاہد کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر اس شخص کو اتفاق سے ایسی زندگی مفت بھی مل جاتی تو وہ شاید اپنی میلی جینز سے ہاتھ صاف کرتا پہلی فرصت میں نکل بھاگتا۔

 

اس سے مکمل قطع تعلق ناہید کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اس کے روبرو اس کی محبت کو ٹھکرانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔وہ دن جب تقریباً روزانہ گرلز ہاسٹل کا چوکیدار اسے شاہد کی آمد کی اطلاع دیتا، وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیتی تھی۔کمرے میں اکیلی بیٹھی وہ تصور کی آنکھ سے اس پاگل لڑکے کو گیٹ پر بیچینی سے انتظار کرتا دیکھتی رہتی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(10)

 

جنوری کا جاڑا پنجاب میں خوشگوار قسم کی خوشبو لیے ہوتا ہے۔ ہر طرف دھند ہی دھند تھی مگر ولیم کو یہ کُہر لندن کے جاڑے سے کہیں زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ آج اتوار تھا۔ اس موسم میں اتوارانگریز افسروں کے لیے نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ دیر تک گرم بستر میں لیٹے رہنا، اُس کے بعد مچھلی کے ساتھ ہلکی شراب کا اہتمام اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے۔ مگر ولیم نے باورچی کو حکم دیا کہ اس کی کرسی بنگلے کے کھلے صحن میں لگا دے۔ باورچی کرسی اور میز دہلیز کے سامنے لگا چکا تو ولیم نے اُسے کہا کافی بنا لاؤ۔

 

ولیم کا بنگلہ کم از کم چار کنال کے رقبے میں تھا۔ انگریز نے برطانیہ کے تنگ رقبے اور لندن کے چھوٹے چھوٹے فلیٹس کا غصہ ہندوستان کی دور تک پھیلی ہوئی ہموار زمینوں پر نکالا تھا۔ تنگ گلیوں اور کوارٹروں سے نکلنے کے بعد جب اُس نے اتنی کھلی زمینیں اور رقبے بے مصرف پڑے دیکھے جس کا تصور بھی یورپ نہیں کر سکتا تھا، تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔اُنھوں نے وہ سارا احساس محرومی یہاں نکالا۔ کئی کئی ایکڑ پر بنگلے اور دسٹرکٹ کمپلیکس بنا دیے۔ جن کے تیار کرنے میں اُنھیں باہر سے کچھ بھی نہ خرچ کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح ولیم کو ملنے والا بنگلہ بھی اپنی نوعیت کا شاہکار تھا۔ پورے چار کنال رقبے کو گھیرے ہوئے سرخ اینٹوں کی آٹھ فٹ اونچی دیوار اور اس کے سروں پر لوہنے کی نوکدار سلاخیں مستزاد تھیں۔ دیوار کے سا تھ تین ا طراف سے پچاس فٹ چھوڑ کر درمیان میں بنگلے کی سرخ عمارت تھی۔ تمام عمارت میں سرخ اینٹیں اس صفائی اور مہارت سے استعمال کی گئیں کہ پلستر کی ضرورت نہیں رہی تھی۔عمارت کے سامنے بڑا وسیع صحن تھا۔ دیوار کے چاروں طرف اور صحن کے سامنے والی دیوار کے ساتھ پیپل کے دس پندرہ درخت تھے، جن کے زرد پتے بکھر رہے تھے۔ عمارت میں چھ سات کمرے لکڑی کے دروازوں کی جلالت کے ساتھ بنگلے اور بنگلے میں رہنے والے کے وقار کے ذمہ دار بھی تھے۔ اسی کی مناسبت سے لکڑی کا بڑا گیٹ تھا۔ جس میں سے برابر دو جیپیں اندرونی عمارت کی دہلیز تک چلی جاتیں۔ عمارت سے کچھ دور کمپلیکس کے دوسرے ٓافیسرز کے گھروں کی عمارتیں تھیں۔جو اتنی شاندار تو نہ تھیں جتنی ولیم کی کوٹھی تھی۔ پھر بھی ان میں مقامی عمارتوں کی نسبت ایک قسم کا دبدبہ ضرور تھا۔ ان سب عمارتوں کی دیواریں اٹھارہ انچ موٹائی میں بیس فٹ تک اونچی چلی گئیں تھیں۔ جن کے سامنے اور ارد گردبھاری درختوں کے سلسلے عمارتوں کی وجاہت کے مزید گواہ تھے۔

 

ولیم نے ایک دفعہ چاہا کہ نجیب شاہ کو بلا بھیجے مگر افسرانہ تمکنت زیب نہ دیتی تھی کہ اُسے دفتر کے علاوہ گھر پر بھی ملے۔ یہ بات انگریزی آدابِ افسری کے سراسر خلاف تھی۔ نجیب شاہ نے کل ہی بتا دیا تھا کہ رپورٹ تیار ہو چکی ہے جس میں غلام حیدر کی فائل اور سردار سودھا سنگھ کے متعلق تمام ضروری معلومات موجود تھیں۔ لیکن وہ اُسے دفتر میں دیکھ نہیں سکا تھا کیونکہ فوراً میٹنگ کے لیے فیروز پور نکلنا تھا۔البتہ اُس نے یہ فائل ساتھ لے لی تھی کہ اس کا مطالعہ کر لے۔ جیسے جیسے وہ فائل کا مطالعہ کرتا گیا غلام حیدر کے لیے فکر مند ہوتا گیا۔ دفتر میں غلام حیدر کے ساتھ پہلی ملاقات میں ولیم سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی، اُس کے پیش نظر اُس نے سوچا کہ غلام حیدر کوئی بھی غلط فیصلہ کر سکتا ہے۔ جبکہ ولیم فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ دوسری صورت میں غلام حیدر کے جوابی حملہ کرنے پر حالات اُسے مجرم بنا سکتے تھے۔ لیکن کل اُسے وقت ہی نہ مل سکا کہ نجیب شاہ کے ساتھ بات کر کے اس مسئلے پر سنجیدہ قدم اٹھا سکے۔ ہاں ڈپٹی کمشنر کو ولیم نے اس بارے تھوڑا سا بریف کر دیا تھا۔ میٹنگ میں یہ مسئلہ زیر بحث طے نہ تھا، پھر بھی ولیم نے ضروری سمجھا تھا کہ معاملہ ڈپٹی صاحب کے کانوں تک پہنچ جائے۔ رات وہ دیر سے جلال آباد لوٹا تھا اور آج اتوار کی وجہ سے چھٹی تھی مگر ولیم کو کسی وجہ سے چین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے بار بار رپورٹ کا مطالعہ کیا جو نجیب شاہ نے تین دن کے اندر سرکاری کارندوں کی معلومات سے تیار کی تھی۔اس فائل میں زیادہ تر شیرحیدر اور غلام حیدر کی زندگی کے کوائف جمع کیے گئے تھے۔ واردات کے متعلق رپورٹ تیار کرنا فی الحال نجیب شاہ کے بس کا کام نہیں تھا۔ اس طرح کی رپورٹ پولیس کا کام تھا۔پھر بھی اپنی حد تک واقعہ کے نشیب و فراز کا تھوڑا بہت جائزہ ضرور لیا گیا تھا اور اہم معلومات دے دی گئیں تھیں،جو انھوں نے مو قع واردات پر پہنچ کر حتیٰ کہ سودھا سنگھ اور غلام حیدر کی حویلیوں میں جا کر فراہم کی تھیں۔

 

ولیم ایک گھنٹہ تک وہیں بنگلے کے صحن میں بیٹھا کافی پینے کے ساتھ فائل کا مطالعہ کرتا رہا۔ آخر بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا اور ملازم کو آواز دی۔

 

گل دین بھاگتا ہوا کچھ فاصلے پرآ کر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔

 

ڈرائیور کو بلاؤ ہم کہیں جانا چاہتے ہیں “ولیم نے کھردے لہجے میں گل دین کو بغیر نظریں اٹھائے حکم دیا” اور سنو ہمارا اوورکوٹ لے آؤ

 

گل دین حکم ملتے ہی اُلٹے قدموں بھاگا۔ اُس کے جانے کے چندثانیوں بعد ہی دلبیر سنگھ ڈرائیور پگڑی باندھے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ولیم نے اُسے دیکھ کر کہا، دلبیر سنگھ، انسپکٹر متھرا سے کہو کہ ہم نے کہیں جانا ہے۔ وہ جلدی سے آ جائے اور تم بھی چلنے کی تیاری کرو،یہ کہہ کر ولیم اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ چلنے کے لیے ضروری سامان لے لیا جائے۔

 

ٹھیک بیس منٹ بعد ولیم اوروکوٹ پہنے باہر نکلا تو پورا عملہ انتظار میں کھڑا تھا۔ سی آئی ڈی مِتھرا صاحب، دس عدد سنتری او ر ان کے علاوہ بھی دس بارہ لوگ جو قریب ہی رہائش پذیر تھے۔دلبیر سنگھ باہر جیپ اسٹارٹ کیے کھڑا تھا۔ ولیم نے متھرا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور باقی کو دور ہی سے سلام کا اشارہ کر دیا۔جیپ کے پاس آ کر ولیم نے متھراسے مخاطب ہوکر کہا، متھرا صاحب چھ سنتری لے کر جیپ میں بیٹھ جاؤ اور دوسرے سب اپنے گھروں میں چلے جاؤ۔
جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑاتو ولیم نے ڈرائیور کو حکم دیا، دلبیر سنگھ ہمیں کچھ دیر جودھا پور رُک کر جھنڈو والا کی طرف چلنا ہے۔

 

دلبیر سنگھ نے سر جھکاتے ہوئے جیپ کواگلے گیئر میں ڈال دیا۔جیب کی رفتار کے ہموار ہوتے ہی ولیم نے انسپیکٹر متھرا کے ساتھ گفتگو شروع کردی

 

متھرا صاحب “کیا میں سمجھوں کہ سودھا سنگھ کا غلام حیدر کے گاؤں پر حملہ کرنا سکھ مسلمان لڑائی ہے یا چودھراہٹ کا معاملہ ہے‘ ولیم نے بغیر متھرا کی طرف دیکھے بغیر سوال کیا۔

 

سر پہلے تو لڑائی ذاتی عناد اور فرد کے مفاد سے شروع ہوتی ہے۔ مگر سکھ اور مسلمان دونوں عقل سے زیادہ جذبات میں پلتے ہیں۔ اس لیے یہ لڑائی فوراً کسی ایک نعرے کی بنیاد پر مذہبی روپ لے لیتی ہے۔

 

متھرا صاحب کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کا موقع مل چکا تھا،اس لیے اُس نے بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا‘ سر یہ علاقہ جسے آپ فیروز پور کہتے ہیں، یہاں گیہوں سے زیادہ برچھیاں اُگتی ہیں اور معززپیشہ چوری ہے۔ بلاشبہ جالندھر کے بدمعاش پر فیروز پور کے مولوی کوفضیلت ہے۔

 

متھرا صاحب کیا بات ہے تم سکھوں کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہو،کیا اُن کے سَنت واقعی جالندھر کے بدمعاش کے مقابلے میں سنت ہی ہیں؟

 

ولیم کے اس بھرپور طنز پر انسپیکڑمتھرا ایک دم جھنیب گیا۔ اُسے اپنی لا گدار گفتگو کا احساس فوراً ہو گیا چنانچہ الفاظ کو احتیاط کی شکل دینے لگا اور بولا، سر ایسی بات نہیں ہے۔ سنت اور مولوی سے میری مراد ایک ہی ہے۔ دونوں ہی خون کی تیز گردش میں خدا اور گروجی کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔

 

میں نے سنا ہے، شیر حید ر کا یہاں کافی اثر ورسوخ تھا “ولیم نے بات فوراً اور اچانک اپنے مطلب کی طرف موڑی جس میں متھرا صاحب کو داخل ہونے میں کچھ وقت لگا، پھر بھی اُسے اس امر کی تصدیق کرنا پڑی۔

 

انسپکٹر متھرا نے جواب دیا “جی سر” شیر حیدر تو پورے علاقے کا جمعدار بنا ہوا تھا۔جب تک زندہ رہا،پتا نہیں کھڑکنے دیتا تھا۔

 

متھرا مَیں جتنی بات پوچھتا ہوں مجھے اتنا ہی جواب چاہیے۔ ولیم نے دانت پیستے ہوئے کہا، عہدے بانٹنا گورنمنٹ کا کام ہے۔ مقامیوں کو اس میں دخل نہیں۔

 

متھرا کو ولیم کے خاص کر اس جملے نے سنجیدہ رہنے اور فاصلے کا مطلب سمجھادیا تھا۔اس کے بعد کچھ دیر دونوں طرف سے خموشی رہی اور جیپ دوڑتی رہی لیکن انسپیکٹر متھرا نے گھبرا کر سہمے ہوئے انداز میں کہا، جی سر
ولیم کی اس تنبیہ پر اب یہ بات اُسے معلوم ہو چکی تھی کہ ولیم کے آگے جھوٹ بولنا اور جانب داری سے کام لینا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔ متھرا نے طرح طرح کے بڑے افسروں کو دیکھا تھا۔ اس لیے تجربے کی بنا پر اُسے فوراً محسوس ہو گیا کہ ولیم کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ لہٰذا جھوٹ بولنے کا فائدہ نہیں۔

 

شیر حیدر رسہ گیری اور قتل وغیرہ میں کبھی ملوث رہا ہے؟ ولیم نے دو ٹوک پوچھنا شروع کر دیا۔

 

بالکل نہیں سر، متھرا نے اب کے مختصر جواب میں ہی عافیت سمجھی۔

 

رعایا کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟ ولیم نے پوچھا

 

انسپکٹر متھرداس بولا،،سراس معاملے میں مَیں بے خبر ہوں۔ میرا واسطہ نہیں پڑالیکن سر ایک بات ایسی ہے کہ ارد گرد کے مسلمان چودھری بھی اُسکے خلاف تھے۔شاید وہ ان کی عزت نہیں کرتا تھا۔

 

اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ اپنی رعایا کی عزت بھی نہیں کرتا تھا۔ “ولیم نے متھرا کو دوبارہ پٹری پر لا نے کی کوشش کی”

 

جی سر، متھر داس نے گھبرا کر مختصر جواب پر اکتفا کیا۔

 

“ولیم نے فوراً اگلا سوال کر دیا”گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات کیسے تھے؟

 

کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی،ا نسپکٹر متھرا نے بغیر وضاحت کے کہا،لیکن ولیم متھرا کے جواب میں چھپے نشتر کو مسلسل محسوس کر رہا تھا۔ متھرا بڑی چالاکی سے کام لے کر ولیم کو باور کرانا چاہتا تھا کہ شیر حیدر گورنمنٹ کے دربار میں گویا حاضر باشوں میں نہ تھا۔

 

سی آئی ڈی انسپکٹر متھرا کے ساتھ اس گفتگو میں ایک بات ولیم پر واضح ہو چکی تھی کہ غلا م حیدر کسی بھی وقت مشکل میں گرفتار ہو سکتا تھا۔ اُس کے باپ کے خلاف بغض دیسی چودھریوں سے لے کر سرکاری افسروں تک بھرا ہوا تھا۔ اس کی واحد وجہ شاید یہ تھی کہ شیر حیدر نے اپنے معاملات اپنے ہی ہاتھ میں رکھے تھے اور وہ فیصلے بھی صحیح وقت میں کرتا رہا تھا۔ انسپکٹر متھرا داس کے ساتھ ولیم کی گفتگو بیس منٹ جاری رہی۔ اس عرصے میں جیپ جلال آباد سے شمال مشرق کی طرف کچی سڑک پر دوڑتی رہی، جس کے دائیں طرف نہر تھی اور بائیں ہاتھ کھیتوں کا سلسلہ۔ دُھند باقی تھی، اِس لیے دور کا منظر صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔البتہ پاس کی نظر میں غیر واضح سے مناظر تھے۔ کھیت کچھ زیادہ نہیں تھے۔ کہیں چارے کی فصلیں، چری اور مکئی وغیرہ اور کہیں خالی زمین تھی۔ جس میں بھکھڑا، اِٹ سٹ، عک اور دوسری کانٹے دار جڑی بوٹیاں اُگی ہوئی تھیں۔ کیکر، جنڈ اور کریر کے درخت بھی کہیں کہیں نظر آ رہے تھے لیکن اِن کی تعداد ویرانی کے اعتبار سے بہت کم تھی۔ پوری سڑک سرکنڈوں کے بے پناہ جمگھٹوں کے درمیان میدے کی طرح پسی ہوئی گرد سے اٹی پڑی تھی جو بارش ہونے کی وجہ سے اب کیچڑ میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اگر رات بارش نہ ہوئی ہوتی تو لازماًجیپ گزرنے کے بعدغبار اِس طرح اُٹھتا جیسے دھویں کے مرغولے چڑھتے ہیں۔ اِن زمینوں کی ویرانی سے صاف پتاچلتا تھا کہ لوگوں کو اپنی معاش کی پروا نہیں۔وہ کھیتی باڑی سے زیادہ چوری چکاری کو اولیت دیتے ہیں۔ دوسری طرف نہر کے کنارے پر مسلسل کیکر وں اور سرکنڈوں کے بے شمار جھنڈ تھے، جو ختم ہونے میں نہیں آتے تھے۔ سرکنڈوں کے بیچ کہیں ٹاہلی یا اسی طرح کا مقامی پیڑ نظر آ جاتا مگر اُن کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اِکادُکّا لوگ بھی نظر آئے جو کچھ دیر تک کھڑے ہو کر حیرانی سے جیپ کو دیکھتے پھر اپنے رستے چل دیتے۔ ولیم کو یہ سب دیکھ کر شدید کوفت کا احساس ہو رہا تھا۔ اُسے دل ہی دل میں اُن سابقہ اسسٹنٹ کمشنروں پر غصہ آ رہا تھا،جنھوں نے علاقے میں ذرا بھی ترقی کا کام کرنے یا لوگوں کو کام پر اکسانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اُسے محسوس ہوا کہ وہ آفیسر محض یہاں افسری کرنے کے لیے آتے رہے تھے۔جیسے پورے جلال آباد کو شکار گاہ بنانا چاہتے ہوں۔جہاں اُن کے کُتے خرگوش اور سؤروں کے پیچھے لمبی دوڑیں بھاگ سکیں۔ اُس نے سوچا اگرچہ ِاس کوتاہی میں مقامی لوگوں کا بھی نقصان ہے مگر حقیقتاً گورنمنٹ کا نقصان بڑے پیمانے پر تھا۔ کیونکہ علاقہ جس قدر غیر آباد ہوتا،حکومت کو خراج اور مالیے کا نقصان اُتنا ہی زیادہ تھا۔ ولیم کا یہ علاقے کا پہلا بے قاعدہ دورہ تھا۔وہ سب کچھ ڈائری میں نوٹ کرتا جا رہا تھا۔ انہی خیالوں میں تھا کہ جیپ آہستہ سے ایک جگہ پر رُک گئی۔ولیم نے چونک کر پوچھا،کیا بات ہے رُک کیوں گئے؟۔

 

سر ہم جودھا پور پہنچ گئے ہیں، دلبیر سنگھ نے جیپ کو گیئر سے نکالتے ہوئے خبردار کیا۔

 

دلبیر کی آواز سن کر ولیم خیالوں سے باہر آیا۔ اس نے ایک طائرانہ سی نظر پورے گاؤں پر ڈالی جو بمشکل پچاس گھروں پر مشتمل تھااور آبادی زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی سو افراد ہوگی۔ جیپ سے تھوڑے فاصلے پر چھوٹی مسجد تھی۔جس کے دائیں پہلو بڑا پیپل کا درخت لہریں لے رہا تھا۔ مکان سب کچے تھے اور اُن میں سے اکثر کی مٹی سیم اور تھور کی وجہ سے مسلسل گررہی تھی۔ بعض مکانوں کی دیواریں پاتھیوں کے بیل بوٹوں سے بھر ی ہوئی تھیں۔جن میں سے کچھ سو کھ کر نیچے گر ی پڑی تھیں۔ رات کو غالباً بارش ہوئی تھی اس لیے گلیاں جو پہلے ہی تنگ اورنا ہموار تھیں، کیچڑ اور بارش کے پانی سے بھر گئیں۔اِکا دُکا بچے مسجد کے پاس کی قدرے بلند اور خشک زمین پر بانٹے کھیل رہے تھے۔ اُن کے پاس ہی دو بڈھے چار پائی بچھائے کھیل دیکھنے کے ساتھ اپنی باتیں کر رہے تھے،جو بچوں کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔دونوں نے ہاتھ سے بُنے ہوئے کھدر کے کھیس اوڑھ رکھے تھے، جن کے کناروں پر سُرخ اور سوت ہی کے دھاگے کی نیلی ڈوریاں بندھی تھیں۔اُن ڈوریوں کی وجہ سے کھیسوں کی شوکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ جب کھیلتے کھیلتے بچوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا تو یہ بڈھے بہت آسانی سے اُن کے درمیان منصفی کا فریضہ بھی ادا کرتے جاتے۔

 

ولیم کی جیپ جیسے ہی وہاں رُکی، سب نے اپنے کام چھوڑ کر اُسی طرف دھیان کر لیا۔ مگر کچھ سہمے سہمے انداز میں۔ دونوں بڈھے بھی چادریں سمیٹتے ہوئے چار پائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک بوڑھے کی اسی جلدی میں سر سے پگڑی گِر گئی، جسے افراتفری کی حالت میں تیزی سے اُٹھا کر وہ سرپر باندھنے لگا۔

 

ولیم نیچے اُتر کر آہستہ روی سے چلتا ہوا بڈھوں کے قریب آ کر رک گیا جبکہ سنتری بندوقیں تھامیں وہیں الرٹ کھڑے رہے۔ اسی طرح انسپکٹر متھرا ولیم کے پیچھے تمیز سے کھڑا ہو گیا۔ اس گاؤں میں غالباً پہلی دفعہ کسی گورے کی آمد ہوئی تھی اس لیے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ حتیٰ کہ اُنھیں یہ تک پتہ نہیں تھا کہ فرنگی سے ڈرنے کا طریقہ کیا ہے۔ بس بِڑبِڑ اُسے دیکھنے لگے۔ کچھ بچے ڈر کر گھروں کو بھاگ گئے اور کچھ دور جا کھڑے ہوگئے۔ جیسے محفوظ جگہ پر بیٹھ کر تماشا دیکھنا چاہتے ہوں۔ولیم نے چند لمحوں ہی میں پورے گاؤں کا جائزہ لے لیا تھا۔ سامنے کے گھر میں ایک کیکر کا درخت بھی تھا۔جس پر زرد پھولوں کی اتنی بہتات تھی کہ وہ پیڑ ہی سونے کا لگتا تھا۔ اسی کیکر پر ایک کبوتر اُڑانے والی چھتری پر کبوتر بھی بیٹھا ہوا تھا۔یہ سب ولیم کو اتنا دلکش لگا کہ وہ چند لمحے ہر ایک چیز سے بے نیاز اُسی خوبصورت منظر میں کھو گیا۔

 

ولیم نے آگے بڑھ کر اسلام علیکم کہا اور کھڑے ہو کر گاؤں پر ایک بھرپور نظر ڈالنے لگا۔ اُس کے اس عمل کے دوران وہاں لوگ جمع ہونے لگے مگر اکثر دور ہی اپنے دروازوں سے جھانکا تانی میں لگ گئے کہ نہ جانے ابھی کونسی قیامت آ جائے۔ ولیم کچھ دیر کھڑا رہاپھر آگے بڑھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اپنی اسٹک اُس نے چارپائی کے سرہانے سے لگا دی۔اس دوران جودس بارہ لوگ وہاں آن کھڑے تھے، اُن میں سے ایک بڈھے سے مخاطب ہو کر بولا، بابا ہم نے سنا ہے اِس گاؤں کا آدمی قتل ہوا ہے؟

 

بڈھا نہایت تمیزسے آگے ہو کر کھڑا ہوا اور بولنے لگا، حضور چراغ دین بالکل بے گناہ مارا گیا۔(ہاتھ باندھ کر جو ہلکے رعشہ سے کانپ رہے تھے) سرکار سکھوں نے مار دیا۔ بے چارے کی ایک یتیم بیٹی ہے اور بیوی رحمت بی بی بیوہ ہو گئی۔

 

ہم اس کی بیوی سے ملنا چاہتے ہیں،ولیم نے سپاٹ انداز میں کہا۔

 

سرکار وہ چالیس دن تک گھر سے باہر نہیں نکل سکتی’بڈھے نے وضاحت کی” اب وہ چالیس دن تک پردے میں رہے گی۔ بچاری کا خاوند جو نہ رہا۔

 

تو کیا اُن کا کوئی اور رشتہ دار نہیں؟اگر کوئی رشتہ دار ہے تو اُسے بلا لو، ہم اُسی سے بات کر لیں گیِ، ولیم نے تحمل سے پوچھا۔

 

حضور کل ہی قصور سے اس کا بہنوئی مولوی کرامت اور چراغ دین کی بہن شریفاں آئی ہے۔ بچاری پیٹتے پیٹتے بیہوش ہوئی جاتی تھی۔ کرماں والی کا ایک ہی بھائی تھا۔سکھوں نے مار دیا۔ سرکار ظلم ہو گیا آپ کی سرکار میں۔ سودھا سنگھ نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔صاحب بہادر اُس نے سارے انگریزی قانون فیل کر دیے۔

 

ولیم نے دیکھا کہ بڈھا زیادہ ہی بولنے لگا ہے، دراصل اُس کے نرم رویے نے اِسے کچھ زیادہ ہی حوصلہ دے دیا تھا۔اس لیے وہ عرض و معروض سے بڑھ کر سرکار کی طنز پر اُتر آیا تھا۔ یہ بات حکومت کے وقار کے خلاف تھی۔اُسے اس طرح بولتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ مجمعے کی شکل میں اُن کے گِرد اکٹھے ہو گئے۔ ولیم کو یہ بات ناگوار گزری۔ وہ انصاف کا قائل تو تھا لیکن مقامی لوگوں کے ساتھ فاصلے کی کمی منظور نہ تھی۔چنانچہ سٹپٹا کر بولا،بڈھے زیادہ باتیں مت بناؤ جاؤ مولوی کرامت کو بلاؤ۔ سرکاراس قتل کا پورا انصاف کرے گی۔

 

ولیم کے اس سپاٹ اوردو ٹوک رویے نے بڈھے کو دوبارہ اپنی اوقات میں کر دیا۔ وہ اس اچانک سرد مہری پر بوکھلا گیا اور کھسیانا سا ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس صورت حال میں اس کا رعشہ مزید بڑھ گیا۔ بڈھے کو پیچھے ہٹتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جلدی سے پیچھے سر ک گئے، جو چند لمحے پہلے ولیم پر سایہ کیے کھڑے تھے۔اِسی اثنا میں ایک لڑکا بھاگتا ہوا مولوی کرامت کوبُلا لایا۔ مولوی کرامت سہمے ہوئے انداز میں لوگوں کو نظر انداز کرکے ولیم کی طرف جانے لگا۔ مجمع اب چھٹ چُکا تھابلکہ اکثر لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر جا کر کھڑے ہو گئے۔ اس عرصے میں ولیم ایک تمکنت سے اپنی بیت کو چارپائی کے پائے سے آہستہ آہستہ مارتا رہا۔ مولوی کرامت نے دو قدم دُور ہی سے سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ غالباً اُسے لڑکے نے بڈھے کو صاحب کی طرف سے پلائی جانے والی ڈانٹ کی اطلاع بھی کر دی تھی۔ اِس لیے وہ کچھ زیادہ ہی محتاط نظر آ رہا تھا اور صاحب کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ ویسے بھی مولوی کرامت اس گاؤں کے لوگوں سے زیادہ معاملے کی اونچ نیچ سمجھنے والا تھاکیونکہ تھوڑے بہت کتابی علم نے اُسے معاملہ فہمی کا ادراک دے دیا تھا۔اسی لیے وہ پچھلی تین پشتوں سے قصورمیں اپنی امامت بچائے ہوئے تھا۔ جیسے ہی مولوی کرامت نزدیک پہنچا،ولیم نے اُسے مخاطب کیا۔

 

خوب آپ مولوی کرامت ہیں؟ ولیم نے اس کے انکسار سے متاثر ہو کر گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کا غلام اور انگریز سرکار کا نام لیوا کرامت ہی ہوں۔مولوی کرامت نے سارے جسم کی عاجزی چہرے پر سمیٹتے ہوئے جواب دیا

 

تم چراغ دین کے کیا لگتے ہو؟ ولیم نے اسی بے نیازی سے پوچھا۔

 

غلام اُس کا بہنوئی ہے۔ مولوی کرامت کے جواب دینے میں ایسی انکساری تھی جو اگرچہ ولیم کی نظر میں چاپلوسی تھی مگر اُسے پسند آئی لہذااُس نے مولوی میں دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا،تم کہاں رہتے ہو؟ ولیم کی تمکنت برقرار تھی البتہ لہجے میں ہلکی ملائمت درآئی۔

 

صاحب جی، بندہ تحصیل قصور کی باجگزاری میں ہے اور پیش امامت پیشہ ہے۔ کل شام ہی پہنچا ہوں،مولوی نے اُسی انکسار سے جواب دیا۔

 

آپ کو اطلاع کب ہوئی چراغ دین کے قتل کی، ولیم نے پوچھا۔

 

سرکار صبح فضل دین کو معلقہ کا سبق دے کے اور کریماں کا آخری دور ختم کراکے روٹیاں لینے بھیج دیا اورمَیں تھوڑی دیر چارپائی پر آرام کر نے کے لیے لیٹ گیا۔ سردیوں کے دن ہیں۔سر پر آفتاب چمکا توآنکھ کھلی۔ مسجد میں پہنچا تھا کہ ظہر کی اذان کی تیاری کروں،اُسی وقت راج محمد چراغ دین کی خبر لے کر پہنچ گیا۔یہ بدھ کادن تھا، کہنے لگا چراغ دین کو سودھا سنگھ کے بندوں نے برچھیوں سے مار دیا اور مونگی کی فصل جو لے جا سکے، لے گئے باقی کو آگ لگا دی۔ وہ بارہ بجے دن کے وقت پہنچا میرے پاس۔ ہم شام کی ریل سے بیٹھے۔ جلال آباد تو سرگی ہی پہنچ گئے تھے لیکن جودھا پورجمعرات دوپہر آئے اور آج جمعہ ہے۔ مولوی کرامت نے مختصر جوا ب میں پوری تفصیل بتا دی۔
ولیم نے دیکھا کہ مولوی کرامت نے کتنی ہشیاری سے پورا ملبہ سودھا سنگھ پر ڈال دیا ہے حالانکہ اُس نے ملزم کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تھا۔

 

تمہیں اتنی دیر کیوں لگی جودھا پور آنے میں؟ولیم نے سوال کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

حضور راڑے سے قصور کا دس کوس اور پھر جلال پور سے جودھا پور کا بیس کوس پیدا کیا۔ اس میں دیر ہو گئی لیکن کل ساتے کے ختم پر پہنچ گیا تھا۔

 

چراغ دین کتنے عرصے سے شیر حیدر کا ملازم تھا؟ولیم نے پوچھا

 

سرکار پینتیس سال سے وہ انہی کا نمک خوار تھا، مولوی نے اب مختصر جواب دینے شروع کر دیے۔

 

غلام حیدر جودھا پور کب پہنچا؟ اب ولیم نے دوبارہ گاؤں کے لوگوں کو مخاطب کیالیکن لہجے کی سختی برقرار تھی۔
اب ایک اور بوڑھے کو حوصلہ ہوا کہ وہ آگے بڑھ کر جواب دے۔ یہ بوڑھا سر تا پا سفید لٹھے میں تھا۔مگر ہاتھ میں عصا نہیں تھا اور کمر بھی جھکی نہ تھی لیکن عمر کے اس حصے میں ضرور تھا جب جسم کی کمزوری طاقت میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

 

صاحب بہادرجی غلام حیدر منگل کے دن آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ اس خون کو ضائع نہیں جانے دے گا۔ حضور غلام حیدر کو آپ پر بہت بھروسا ہے اور وہ آپ کے انصاف کی بہت تعریف کر رہا تھا۔ کہتا تھا،وہ انگریزی سرکارکے پاس جا کر سودھا سنگھ سے چراغ دین کے قتل کا پورا حساب لے گا۔

 

ولیم کو بڈھے کی اِس بات پر کوفت ہوئی کیونکہ بڈھا یقیناً جھوٹ بول رہا تھاکہ غلام حیدر کو سرکار پر بھروسا ہے۔ وہ سمجھ گیا تھایہ محض اس کی چاپلوسی کی جا رہی ہے مگر اس کی یہ بات ضرور سچ تھی کہ غلام حیدر منگل سے پہلے جودھا پور نہیں آیا تھا بلکہ وہ پچھلے چار سال سے جودھا پورہی داخل نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ولیم نے گاؤں والوں سے اور بھی کئی سوال کیے جس سے اُسے صاف پتا چل گیا کہ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل کا اُجاڑا سودھا سنگھ کے خلاف کوئی سازش نہیں تھی جیسا کہ پہلے اُس کے ذہن کے ایک گوشے میں ہلکا سا اندیشہ تھا۔ اِن سوال و جواب سے فارغ ہو کر ولیم اُٹھ کھڑا ہوا اور جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ لوگ فوراً پچھلے قدموں ہٹ گئے جو دوبارہ مجمعے کی شکل میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ ولیم جب تک گاؤں والوں سے بات چیت میں مصروف رہا، انسپکٹر متھرا اور دیگر عملہ ماتحتی بھول کر گفتگو میں دوسرے سامعین کی طرح دلچسپی لے رہے تھے مگر ولیم کے اُٹھتے ہی انھیں اپنی اوقات کا احساس ہو گیا۔ وہ فوراً الرٹ ہو گئے اور ولیم کے احترام میں ایک طرف تعظیم سے کھڑے ہو گئے تا آنکہ ولیم آہستگی سے چلتا ہوا جیپ کی طرف بڑھا اور سوار ہو گیا۔ بعد ازاں سنتری اور متھرا بھی پھرتی سے جیپ میں سوار ہو گئے۔ دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر دی۔قبل اِس کے کہ وہ اُسے گیئر میں ڈالتا، ولیم نے مولوی کرامت کو اشارے سے اپنی طرف بلایا۔ مولوی کرامت بھاگ کر قریب آیا تو ولیم نے نرمی سے کہا،مولوی! کل تمہیں جلال آباد آنا ہے۔ تحصیل میں آ کر مجھ سے ملو۔

 

مولوی کرامت نے ہاتھ باندھ کر سر ہلایا پھر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کر دیا۔

 

اس کے بعد جیپ چل دی جس کا رخ جھنڈو والا کی طرف تھا۔ صبح کے دس بج چکے تھے اور جھنڈووالا محض پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ سودھا سنگھ کا گاؤں۔

 

جیسے ہی جیپ گاؤں سے نکلی،لوگ تین گنا بڑھ گئے۔ عورتیں بھی گھروں سے نکل آئیں اور ولیم کی آمد پر تبصرے ہونے لگے۔ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی انگریز کو دیکھ سکے۔ اس لیے سب بہت پُرجوش اوربھرے بھرے لگ رہے تھے۔ ان کے خیال میں جودھا پور میں ایک انگریز بڑے افسر کا آنا غلام حیدر کے اثر و رسوخ کا نتیجہ تھا۔جس نے لاہور میں رہ کر اپنے تعلقات وائسرائے تک بڑے بڑے افسروں سے پیدا کر لیے تھے۔ ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار کا کلکٹر۔

 

ایک شخص نے کہا،بھائی میراں بخش دیکھا تم نے اپنے غلام حیدر کا زور؟کلکٹر صاحب جودھا پور میں ایسے ہی نہیں آیا۔ غلام حیدر کی مار تو لاہور میں بڑے گھر تک ہے۔

 

“رشید ماچھی جو گنّے کے چھلکے سے زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا، فوراً اٹھ کھڑا ہو اور بولا،،میاں رنگو‘ میں تو پہلے دن سے ہی سوچے بیٹھا تھا کہ اب سکھڑوں کی خیر نہیں۔ اپنا غلام حیدر شیر ہے شیر۔ انگریز سرکارکا عدل تو اب جودھا پور پہنچے ہی پہنچے۔ سنا ہے تھانیدار کو حکم مل گیاہے کہ سودھا سنگھ کو ہتھ کڑی لگا کے گھسیٹتا ہوا تھانے لے کے آئے۔

 

’میراں بخش جو چارپائی پر بیٹھ کر حقے کے کئی کش لگا چکا تھا،بڑی سوچ بچار کے بعد مخاطب ہوا‘ بیلیو تم خود ہی سوچو، غلام حیدر کس باپ کا سپوت ہے۔ کیا تم بھول گئے ہو جب اُس نے کہا تھا کہ سودھا سنگھ کو اس ناحق خون کا حساب دینا پڑے گا۔

 

اس کے بعد ایک دو چار پائیاں اور بھی نکل آئیں۔سردی کی دھوپ سینکنے کے لیے اُن کے پاس یہ ایک ایسا موضوع ہاتھ آگیا جس کا ایک سرا وائسرائے اور دوسرا جودھا پور سے ملتا تھا۔ اُن کے لیے چوری چکاری اور دیسی قصے کہانیاں اچانک دقیانوسی ہو گئیں۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کی فصل ایسا عظیم واقعہ تھا جس نے انگریز سرکار اور غلام حیدر کی طاقت کے درمیان حدِ فاصل کو ختم کر دیا تھا۔یہ تو سب کو پہلے سے ہی پتا تھا کہ غلام حیدر بڑے شہروں میں بڑے بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے جہاں اور بھی بڑے راج والے اور پُلس والے کپتان جمع ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا، غلام حیدر جب تمھیں کوئی مصیبت پڑے تو ہمیں خبر کر دینا۔ تیرے دشمنوں کو باندھ کر تیرے آگے پھینک دیں گے۔ ایک فوج کے سب سے بڑے افسر کو تو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔جب وہ غلام حیدر کے ساتھ شکار کھیلتے جودھا پور کچھ دیر رُکے تھے۔

 

ایک بوڑھی خاتون جس کا گھگھرا ایک مرلے کے گھیر میں پھیلا ہوا تھا، آگے بڑھ کر بولی، وے میراں، ہُن تے جودھا پور نُوں ستے خیراں نے۔ ہُن تے غلام حیدر دا سکھ دی سری تے پیر آ گیا اِے۔

 

جودھا پور والوں کی نظر میں اب غلام حیدر کے ساتھ سودھا سنگھ کا نام لینا بھی غلام حیدر کی توہین تھی۔اُن کی نظر میں اب سودھا سنگھ محض ایک دیسی بدمعاش اور دو ٹکے کا غنڈہ تھا۔ جبکہ غلام حیدر کے تعلقات نئی دلی سے لے کر ملکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ مولوی کرامت بڑی خاموشی سے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اُس نے نہ تو پہلے کبھی غلام حیدر کو دیکھا تھا اور نہ ہی جودھاپور والوں سے کچھ زیادہ واقف تھا۔البتہ اس بات پر دل ہی دل میں خوش تھا کہ اُسے کمشنر صاحب نے تحصیل حاضر ہونے کو کہا ہے۔ اُس نے سوچا، گاؤں والوں کی نسبت وہ اُس سے زیادہ متأثر ہوا تھا۔لوگ اُسے رشک کی نظر سے دیکھ رہے تھے لیکن کسی قسم کا تاثر نہیں دے رہے تھے کہ مولوی کرامت جو دوسرے ضلع کا ہے، کہیں اپنی برتری نہ سمجھ لے اور جو دھا پور والوں کی توہین نہ ہو۔ بہر طور ہر ایک نے آج اپنے کام کو التو ا میں ڈال دیا اور وہاں آکر جم گیا۔ جو صبح سویرے چارہ وغیرہ لینے گئے تھے،وہ بھی لوٹ آئے۔ سردیوں کی اس دھوپ میں بیٹھ کر ولیم کی آمد پر طرح طرح سے خیالات کا اظہار کرنے لگے اور جب انھیں یہ پتا چلا کہ ولیم جودھا پور سے سیدھا جھنڈو والا کی طرف گیا ہے تو ان میں مزید گرم جوشی پیدا ہوئی۔ میراں بخش نے فوراً ایک آدمی کا انتخاب کیا کہ وہ پتہ چلائے، ولیم جھنڈو والا میں سودھا سنگھ سے کیا پوچھ گچھ کرتا ہے۔ اس کام کے لیے رحمت علی چھینبے کا قرعہ نکلا، جسے گھوڑی کے ذریعے جھنڈو والا کی حدود میں چھوڑ کر آنے کا کام الہٰ بخش کو سونپا گیا تاکہ وہ جلدی جھنڈو والا پہنچ جائے۔ اگر حدود میں پہنچ گیا تو آگے گاؤں تک پیدل ایک ہی کلو میٹر طے کرنا پڑتا ہے۔گاؤں تک گھوڑی پر جانے کا مطلب مشکوک ہونے کے سواکچھ نہیں تھا۔ یوں بھی اب یہ کام خطرے سے خالی نہیں تھا کہ دونوں گاؤں کی اب باقاعدہ دشمنی ہو چکی تھی۔

 

رحمت علی رخصت ہوا تو میراں بخش نے داڑھی کو انگلیوں سے خلال کیا پھر حقے کے دوچار گہرے کش لیے اور سب لوگوں پر بھرپور نظر ڈالی گویا یہ ثابت کر رہا ہو کہ اس کی یہ کارروائی اس قتل میں اہم کام ہو گی اور یہ کام اسی کو سُوجھا ہے۔ اس کے ِاس عمل سے ایک گُونہ مولوی کرامت کی اہمیت میں کمی بھی واقع ہو گئی جو چند لمحے پہلے گاؤں کو احساس کمتری میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(8)

 

مولوی کرامت مسجد میں داخل ہوا تو سورج دکن کی طرف سے عین پہاڑ کومنہ کرتا تھاگویا ابھی بارہ ہی بجے تھے اوراذان دینے میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت نے کھجی کی ایک صف اندر سے نکال کر باہر صحن میں موجوددھوپ میں بچھا دی،جو رات کو اوس پڑنے سے گیلا ہونے کے ڈر سے اندر رکھ دی گئی تھی۔ مسجد کا صحن کچا تھا لیکن صاف ستھرا اس لیے تھا کہ مولوی کرامت روزانہ اُس پر صفیں بچھانے سے پہلے جھاڑو ضرور دیتا کہ صفیں صحن کی گرد سے گندی نہ ہوں۔ سردیوں کی دھوپ میں صفیں بچھا کر اُس پر نماز پڑھنے کا بھی اپنا ہی ایک لطف ہے۔بوڑھوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے اس طرح کی دھوپ میں نماز پڑھنا عبادت کے ساتھ ایک طرح کی تفریح بھی ہے۔ مسجد یوں تو پکی اینٹوں سے بنی تھی مگر تمام صحن ابھی کچا تھا،جو سردی کے دنوں میں زیادہ ہی سیم زدہ ہو جاتا۔پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں جو مسجدوں کی حالت ہوتی ہے،یہ مسجد بھی اُن سے مختلف نہ تھی۔ گاؤں کے درمیان چوک کے عین بیچ اِس کا وجود خشک روٹی پر رکھے اُس پیاز کی طرح تھا جو بہت عرصہ پڑا رہنے سے سُکڑ گیا ہو۔ اِس چھوٹی سی مسجد کے صحن کو تین طرف سے دیوار نے گھیر رکھا تھا۔چوتھی سمت یعنی مغرب کی جانب خود مسجد کی مسقف عمارت تھی۔ آپ اِسے تیس فٹ لمبا اور بیس فٹ چھوٹا کمرہ کہہ لیں،جس کے اُوپر سامنے کے بنیرے پر چھوٹے چھوٹے کئی منارچے رکھ دیے گئے تھے۔اُن کا رنگ مدتوں ہوا،اڑ گیا تھا۔ اس کمرے کے سامنے تیس پینتیس فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا کچا صحن اور صحن کے بالکل سامنے مشرق کی طرف آٹھ فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا برآمدہ، جس کی چھت بارہ فٹ تک اونچی تھی۔البتہ مسجد کی چھت بیس فٹ ضرور اونچی تھی۔ مسجد کی چھت اور برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور شہتیر یکساں ہیئت کے تھے۔ فرق تھا تو یہ کہ برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور ٹائیلیں مٹی اور گرد سے خاکستری ہوگئئے تھے۔ جبکہ مسجد کی چھت کے شہتیر، آنکڑے اور ٹائیلیں گھی اور تیل کے چراغوں سے اُٹھنے والے دھویں سے سیاہ ہو ئے تھے۔ برآمدے کے عین درمیان مسجد کے صحن میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے تختوں کا دروازہ تھا، جس پر لوہے کا زنجیر لٹکا رہتا۔ اس دروازے کا واحد اور مفید مصرف یہ تھا کہ کوئی جانور، کُتا یا گدھا داخل نہ ہو سکے۔ دروازے کے دائیں پہلو پانی کا کنواں تھا۔ وضو کرنے کی جگہ برآمدے کے نیچے ایک لمبی نالی کی صورت میں بنا دی گئی تھی جس کے ایک کونے پر پانی کی ایک ٹینکی پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی تاکہ کنویں سے پانی کھینچ کرٹینکی میں آسانی سے ڈالا جا سکے۔

 

برآمدوں کی اینٹوں پر پلستر نہیں ہوا تھا،اس لیے ان کی درزوں سے مٹی سیم اور شور بن بن کر گر رہی تھی۔ مسجد کے صحن کی شمالی دیوار بھی کچی اینٹوں کے ہونے کی وجہ سے دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی لیکن وہ صرف پانچ فٹ اونچی تھی جس کی وجہ سے کچھ زیادہ خطرے میں نہیں تھی۔ یوں بھی مسجد گاؤں کے عین چوک میں تھی۔ جس کے آس پاس چاروں طرف تیس فٹ کی دوری سے گھر تھے اس لیے کسی جانی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ مسجد کی حالت روز بروز خستہ ہو رہی تھی۔ مولوی کرامت نے بار بار گاؤں والوں کی اس طرف توجہ دلائی مگر وہ سنتے ہی نہ تھے۔ ویسے بھی گاؤں کے لیے مولوی اور مسجد غیر ضروری سے تھے۔ ان دو چیزوں کا اصل کام گاؤں میں کسی فرد کے مرنے کے بعد ہی شروع ہوتا۔ جو میت کے دفنانے کے بعد ختم ہو جاتا۔البتہ پانچ دس بوڑھے ضرور پانچ وقت آتے اور یہ تعداد پچھلے کئی عشروں سے ایسے ہی چلی آتی تھی۔نہ بڑھتی اور نہ گھٹتی۔ایک بوڑھا مرتا تو کوئی دوسرا شخص بوڑھا ہو جاتا۔اس طرح دس بارہ بوڑھے ہر وقت مسجد کی زینت بنے رہتے اور مولوی کی ضرورت کا احساس رہتا۔

 

فضل دین کی پہلی ڈیوٹی صبح کے وقت ٹینکی میں پانی بھرنے سے شروع ہوتی۔ روزانہ بیس مشکیں کنویں سے نکال کر اسے ٹینکی میں ڈالنا ہوتیں۔ یہ پانی عصر تک کے لیے کافی ہوتا تھا۔عصر کے وقت فضل دین اُس میں مزید سات آٹھ مشکیں ڈال دیتا۔یوں ایک دن نکل جاتا۔ بعض اوقات کام چوری کر جاتا۔وہ صبح کے وقت دس بارہ مشکیں ڈال کر ہی جلدی جلدی نماز پڑھ کر روٹیاں لینے نکل جاتا۔جس کا نقصان یہ ہوتا کہ پانی جلد ختم ہو جاتا۔پھر وہ مشکیں مولوی کرامت کو خود کنویں سے کھنچ کر ٹینکی میں ڈالنا پڑتیں۔ اس عمل میں مولوی کرامت کا پارہ ایک سو بیس ڈگری پر چڑھ جاتا۔ اول تو اُسے اِن بڈھوں پر غصہ آتا جومٹی کے لوٹے ٹینکی سے بھر بھرکے وہیں بیٹھے کُلیاں کر کر کے کھنگارتے رہتے اور پانی ضائع کرتے۔لیکن غصہ اُترتا بالآخر فضل دین پر ہی تھا جو ادھورا کام کرکے مولوی کرامت کو مشقت میں ڈال دیتا۔ آج پھر جب وہ صحن میں ہلکا سا جھاڑو دے کر وضو کرنے کے لیے بیٹھا تو پانی موجود نہ تھا۔ مولوی کرامت نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر ٹینکی میں نظر ماری تو وہ بالکل صاف تھی،پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ یہ دیکھ کر مولوی کی حالت مُردوں کی سی ہو گئی۔ اُسے فضل دین پر اس قدر غصہ آیا کہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔ وہ پاس ہوتا تو کاٹ ہی کھاتا۔ آخر کیا کرتا، پانی تو بہرطور ٹینکی میں بھرنا تھا۔کیونکہ فضل دین ابھی تک گھروں سے روٹیاں اکٹھی کر کے نہیں لوٹا تھا۔ مولوی کرامت نے مشکیزہ اٹھا کر کنویں میں ڈال دیا،جو چالیس فٹ گہرا تھا۔ کنواں زیادہ گہرا ہونے کی وجہ سے مشکیزے کی رسی بھی چالیس فٹ لمبی تھی۔ جسے کھینچتے کھینچتے ہاتھ شل ہو جاتے۔ مولوی کرامت نے ابھی پہلی ہی مشک بھر کر نکالی تھی کہ اس کے کانوں میں چیخوں کی آواز سنائی دی۔اُس نے مشک رکھ کر چیخوں کی طرف دھیان دیا تو اُسے ایسے لگا کہ آواز مسجد کے پچھواڑے سے آ رہی ہے۔

 

خدا خیر کرے، کیا مصیبت آ گئی، مولوی کا کلیجہ حلق میں آ گیا۔ خدا نخواستہ فضل دین کو کچھ ہو گیا مگر وہ تو ابھی نہیں لوٹا تھا۔اُسے گھر سے آئے ابھی چند لمحے تو ہوئے تھے۔ تب تو سب کچھ خیر تھی۔مولوی کرامت نے بھاری قدموں اور لرزتی ٹانگوں سے گھر کی طرف دوڑ لگا دی مگر ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اُسے ڈر ہوا کہیں گر نہ پڑ ے۔وہ دوڑنے کی بجائے چلنے لگا۔ جیسے ہی دروازے پر پہنچاتو عجب تماشا جاری تھا۔ شریفاں نے اپنے بال کھولے ہوئے تھے اور باہیں پھیلا کر اُونچے اُونچے بین کر رہی تھی۔ ارد گرد کچھ عورتیں بھی جمع تھیں۔ شریفاں نے مولوی کو آتے دیکھ کر بین کی آواز مزید بلند کر دی۔

 

ہائے کرامت ہم لُٹ گئے، خانہ خراب ہو گیا۔ میرا ایک ہی ست جنموں کا بھائی مارا گیا۔ میں برباد ہو گئی۔

 

“مولوی نے ہانپتے ہوئے کہا”نیک بختے خیر ہووے کیا ہوا؟ کوئی پتہ تو چلے۔

 

وے کرامتا چراغ مارا گیا۔ میرا اکیلا بھائی مار دیا دشمنوں نے۔

 

شریفاں نے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر زور زور سے مار کر پیٹناشروع کر دیا۔ عورتیں اُسے ادھر اُدھر سے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں اور وہ سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی۔

 

اِنَّ لِلّٰہ وَ اِنَّ اِلیہ راجعون کہہ کر مولوی کرامت آگے بڑھا تو راج محمد سامنے کھڑا نظر آیا۔ اُسے دیکھ کر مولوی کرامت سارا معاملہ سمجھ گیا۔تو گویا راج محمد چَک جودھا پور سے چراغ دین کی موت کی خبر لایا تھا۔مگر مولوی کرامت کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کیونکہ چراغ دین نہ تو بیمار تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا؟

 

سلام دعا کے بعد مولوی کرامت نے راج محمد کو بان کی چار پائی پر بیٹھنے کو کہا۔اتنے میں فضل دین بھی روٹیوں کا تو بڑا لے کر آ گیا۔ مولوی کرامت نے اُسے حقہ تازہ کرنے کا کہہ کر خود راج کے لیے پانی لسی تیار کرنے لگا۔ شریفاں بین کر کر کے اپنا ہلکان کر رہی تھی۔ مولوی کرامت کو پتا تھا، فی الحال اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عورتیں خود اس کے گرد حلقہ کیے ہوئے تھیں۔ کوئی ہاتھ مل رہی تھی اور کوئی پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ زمین پر لیٹی ہاتھ پھیلا پھیلا کر روتی گئی۔حقہ تازہ کرنے کے دوران فضل دین بھی ماں کی تقلید میں رو رہا تھا۔اگرچہ اُسے اس معاملے سے ایسی ہی لا تعلقی تھی جیسے ڈیڑھ سو میل دور کسی بھی اجنبی سے ہو سکتی ہے۔وہ ایسے کسی رشتے دار کو نہیں جانتا تھا جو کبھی اُس کے لیے مٹھائی کی ڈلی ہی لایا ہو۔

 

خاطر مدارت کرنے کے بعد مولوی کرامت جب آرام سے راج محمد کے سامنے بیٹھ گیا تو اُس نے چراغ دین کے قتل کا پورا قصہ مولوی کرامت کو سنا دیا۔پھر آہستہ سے آگے بڑھ کر ایک اور خبر مولوی کرامت کو دی” لیکن بھائی کرامت تو چراغ دین اور بی بی رحمتے کی فکر نہ کرنا، غلام حیدر نے چراغ دین کے قتل کا سنتے ہی دس ایکڑ زمین دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اُس کے ساتھ پورے ایک ہزار روپے تو پہلے ہی دے دیے ہیں۔اتنے پیسے تو چراغ دین پوری زندگی نہیں کما سکتا تھااور پرسوں جلال آباد کچہری میں زمین باقاعدہ رحمت بی بی کے نام ہو جائے گی۔ غلام حیدر تو فرشتہ ہے فرشتہ۔ اُس نے مالکوں والا حق ادا کر دیا۔

 

یہ سن کر مولوی کرامت کے چہرے پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی لیکن مولوی نے اس تاثر کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی گویا چراغ دین کی زندگی کے آگے اس دس ایکڑ کی کیا حیثیت ہے۔ پھر حیرانی سے پوچھا، بھائی راج مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ تم شیر حیدر کی بجائے غلام حیدر کا ذکر بار بار کر رہے ہو۔ خدا نہ خواستہ شیر حیدر کا کیا ہوا؟

 

“راج محمد نے کہا”مولوی جی تو کیا تمھیں شیر حیدر کے مرنے کی خبر بھی نہیں ملی؟ بھائی کرامت اسی کے سوم والی رات تو چراغ دین کا قتل ہوا ہے۔

 

مولوی کرامت نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ اِنَّ للہ پڑھی پھر پورے حالات پر راج محمد سے گفتگو کرنے لگا۔ جب آدھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد ہر چیز مولوی کرامت پر کھل گئی تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ کھینچی پھر چراغ کے حوالے سے بات دوبارہ چھیڑ دی۔

 

بھائی راج محمد مجھے تو ایک ہی فکر اب کھار ہی ہے کہ رحمتے اور اس کی بیٹی تاجاں کا کیا بنے گا۔ بچاری یتیم بیٹی کو کیسے پالے گی۔ ادھر مَیں جلال آباد سے ڈیڑھ سو میل دور قصور میں بیٹھا اُن کی دیکھ بھال کیسے کروں گا۔ بچی نادان ہے اور یہ مسجد کا کام میرے بغیر چل نہیں سکتا۔

 

ادھر مولوی کرامت یہ باتیں کر رہا تھا اُدھر شریفاں رو رو کے تھک چکی تھی۔اب اس کی آواز بھی حلق سے بمشکل نکل رہی تھی۔

 

دیکھ بھائی کرامت، فی الحال تو جاکر چراغ دین کے ساتویں کا بندوبست تجھے کرنا ہے۔ تیرے سوا اب اس کا وہاں رشتے دار کوئی اور تو ہے نہیں۔ ابھی سے چلنے کی تیاری کر،شام چھ بجے قصور سے ریل پکڑنی ہے۔ قُل کا ختم تو آج ہو گیا ہو گا۔ تین دن بعد ساتا ہے۔ اُس کے بعد دوسرا بندوبست دیکھ لینا۔ جو مناسب ہو وہی کرنا۔

 

مولوی کرامت تاسف سے بولا” لیکن بھائی راج، مجھے تو دکھ ہے کہ شریفاں بھاگاں والی اپنے بھائی کا منہ بھی نہ دیکھ سکی۔ یہ تو بچاری مر جائے گی۔

 

مولوی صاحب آپ تو جانتے ہیں اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ پہلے دن تو کسی کو ہوش ہی نہ رہا۔ ادھر غلام حیدر کی پگ بندی کی رسم تھی۔ ہر کوئی وہاں مگن تھا۔ میں بھی وہیں چلا گیا تھا۔ صبح سورج چڑھا تو اس واقعے کاپتہ چلا لیکن رسم کو اُدھورا چھوڑ کر آنا اچھا نہ لگا۔جیسے ہی رسم ختم ہوئی، مَیں سیدھا یہاں دوڑا آیا مگر ریل نکل چکی تھی۔دوسری گاڑی رات کے دو بجے جلال آباد سے چلی اور صبح آٹھ بجے قصور پہنچی وہاں ایک گھنٹہ رُکی رہی۔ پھر کہیں خدا خدا کر کے گیارہ بجے اڈا جبومیل آیا۔مَیں اُترتے ہی بھاگ کھڑا ہوا اور ڈیڑھ گھنٹے میں یہاں آن پہنچا۔ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے غلام حیدر چراغ دین کا بدلہ لیے بغیر نہیں ٹلے گا۔ اُس کے تیور تو ایسے ہی لگتے تھے۔ خیر یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی تُو چلنے کی تیاری کر۔

 

مولوی کرامت نے فضل دین کو آواز دی جو اپنی والدہ کو اتنی شدت سے روتے ہوئے دیکھ کر سہما کھڑا تھا، بیٹے ذرا بھاگ کر چودھری حکم داد کے پاس جا اور اُس سے کہنا کہ آج دو گھنٹے کے لیے بیل گاڑی چاہیے ’جیسے فضل دین پاس آیا مولوی کرامت نے اسے ہدایت کی “اور ہمیں ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آ پھر شریفاں کو پکار کر بولا، اب صبر کر بس اللہ کے کام ہیں جن پر نہ تیرا بس چلے گا نہ میرا۔ خدا اُسے شہیدوں کی صف میں لائے گا۔ چراغ دین ہماری بخشش کا وسیلہ بھی بنے گا۔ شام چھ بجے کی گاڑی سے فیروز پور نکلنا ہے۔اُس لیے کپڑا لتّا اُٹھا لے۔ فضل دین ہمیں سٹیشن پرچھوڑ آئے گا۔

 

تو کیا فضل دین نہیں جائے گا ساتھ؟ شریفاں نے مُردنی سی آواز میں احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ اُسے اپنے مامے کے ختم میں شریک نہیں ہونے دے گا؟

 

اُف بھاگ بھریے سمجھا کر، “مولوی کرامت نے آہستہ سے شریفاں کو کندھے سے سہارا دیتے ہوئے کہا‘ فضل دین بھی اگر ساتھ چلا جائے گا تو یہ بھرا پُرا گھر کس کے سپرد کروں؟ پھر گدھی اور یہ بکریاں یہیں بندھی بندھی بھوکی مر جائیں گی۔ ہمیں کچھ دن لگ جانے ہیں۔ اتنے دنوں تک کون ہمارے اس سارے بکھیڑے کو سنبھالے گا؟ فضل دین کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ مسجد کی صفائی اور اذان کون دے گا؟ اتنا کہہ کر مولوی کرامت نے حقے کے دو تین کش لیے پھر اس کی نَے راج محمد کے سامنے کر دی۔

 

مولوی کرامت کو پتا تھا کم از کم وہ چھ سات دن تک واپس نہیں آ سکتا۔ اس عرصے میں تہرے نقصان ایک دم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔جودھاپور آنے جانے کا خرچہ،اس کے علاوہ ساتویں کے ختم میں رحمت بی بی اور اس کی بیٹی کو بھی پانچ دس دینا پڑتے۔ کم از کم پچاس کا نسخہ اس کے پیٹے پڑ چکا تھا اور اگر وہ فضل دین کو بھی ساتھ لے جائے تو اور تو سب گزارا ہو سکتا تھا لیکن روٹیاں نہ ملنے کا نقصان ایک اضافی تھا۔ جس سے بچنے کے لیے فضل دین کا یہاں رکنا ضروری تھا۔

 

اس پوری سوچ کے دوران مولوی کرامت راج سے باتیں بھی کرتا گیا اور سر پر پگڑی سے لے کر جوتے پہننے کا کام بھی نمٹاتا گیا۔ لٹھے کی چادر جسے ٹین کے صندوق میں پچھلے کئی مہینوں سے دھو کر رکھا ہوا تھا، وہ بھی شریفاں نے اُسے وہیں بیٹھے لا کر تھما دی اور کرامت نے وہیں کھڑے ہو کر کمر کے گرد لپیٹ کر نیچے سے پہلی دھوتی کھینچ لی۔پھر جانگیے کے اوپر لٹھے کا سفید کرتا بھی پہن لیا۔ مولوی کرامت نے چند لمحوں میں کھڑے کھڑے یہ سارا کام مکمل کر لیا۔اس عرصے میں راج محمد حقہ پیتا رہا۔ شریفاں کبھی جانے کی تیاری میں ادھر اُدھر تیزی سے چلتی اور کبھی چلنے کے ساتھ زور زور سے رونا شروع کر دیتی۔جس کی مولوی کرامت کو بہت کوفت ہونے لگی مگر وہ جانتا تھا کہ اب یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہے گا۔اس لیے اسے بہرحال برداشت کرنا تھا۔

 

اِسی اثنا میں عورتوں کے علاوہ گاؤں کے مرد بھی آنا شروع ہو گئے۔ گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔ ہر کوئی دوسرے کی ماں بہن کو اپنی ماں بہن سمجھنے کے سوا اُس وقت دوسرا تصور بھی نہیں لاتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں دس بارہ مرد بھی پرسہ داری کو جمع ہو گئے، جنھیں فی الحال مولوی کرامت جلدی سے فارغ کر کے چلنے کی فکر میں تھا۔ نور تیلی کو مولوی کرامت نے ہدایت کر دی جواُس کا شاگرد بھی تھا کہ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتے، رات اس کے گھر فضل دین کے پاس رہ لیا کرے۔ اتنے عرصے میں فضل دین بیل گاڑی لے کر آ گیا۔

 

مولوی کے پاس اپنی گدھی بھی تھی، جو فالتو روٹیاں کھا کھا کر بہت موٹی تازی اور تیز طرار ہو چکی تھی۔مولوی کرامت اُسی پر روٹیاں لاد کر شہر لے جایا کرتا اور واپسی میں اُسی گدھی پرسوار ہو کر گاؤں آ جاتا۔ اس لیے اس کا سٹیشن تک پہنچنے میں تھکاوٹ کو دخل نہیں تھا۔ ویسے بھی ہر ہفتے ایک دو من روٹیاں قصور لے جانے میں گدھی کی کافی مشق ہو چکی تھی لیکن آج بندے زیادہ تھے گدھی کام نہیں دے سکتی تھی۔یہی وجہ تھی جو مولوی کو بیل گاڑی کا احسان لینا پڑا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو ضروری ہدایات دے کر اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سمجھا کر ہر کام ازبر کرا دیا اور کہا کہ وہ شام سے پہلے ہر حالت میں گھر آ جایا کرے۔

 

عصر کے وقت مولوی کرامت، شریفاں اور راج محمد بیل گاڑی پر بیٹھ چکے تو فضل دین نے بیلوں کو ہشکارا دے کر پہلا ڈنڈا رسید کر دیا۔بیل گا ڑی گرد بھری کچی سڑک پر دوڑ پڑی۔ نورا تیلی بھی پاس ہی بیٹھا فضل دین کو بیل گاڑی چلانے کے متعلق ہدایات دینے لگا۔ اسٹیشن پندرہ کلو میٹر دور تھا۔ مولوی کرامت نے فضل دین کو ہدایت کر دی کہ وہ بیلوں کو دوڑائے چلا جائے، کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے۔ گرد سے مولوی کرامت اور شریفاں کے کپڑے مٹیالے ہو ئے جاتے تھے لیکن اب اس کی کس کو پرواہ تھی۔

 

(9)

 

رات کا گھنٹا بجنے میں ابھی کچھ وقت تھا لیکن دھند نے اندھیرا بڑھا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے تاریکی کے اندر ہیبت کا تاثر بڑھ گیا۔ سودھا سنگھ کی حویلی میں دس پندرہ سرداروں کی محفل جم چکی تھی۔ دیسی شراب کے مٹکے اور تانبے کے بھاری گلاس جن پر قلعی پُرانی ہو چلی تھی، چار پائیوں کے ساتھ پڑے لکڑی کے تختوں پر سجا دیے گئے۔سوڈا باقاعدہ فیروز پور سے منگوایا تھا۔ شراب کے بہت سے برتن ایک ہی دفعہ استعمال ہو رہے تھے۔اس لیے انھیں یکے بعد دیگرے تبدیل کرنا اکیلے چھدو کے بس میں نہیں تھاچنانچہ مزید ایک آدمی اس کام پر متعین ہو گیا۔ حویلی کا دروازہ بڑی بڑی اُوپر نیچے چاربَلّیوں سے بند کر دیاگیا۔ ان سرداروں میں دو مسلمان زمین داربھی موجود تھے۔ جن میں عبدل گجر اپنے وقار اور سرداری میں سودھا سنگھ کے علاوہ سکھوں سمیت سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اُس کا مُوڈھا مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔اُس کے ساتھ شریف بودلہ بھی بیٹھا تھا۔سردار سودھا سنگھ کو پتا تھا،غلام حیدر اگرچہ نا تجربہ کار ہے مگر اس کے باپ کے تعلقات ضرور غلام حیدر کی پشت پر موجود ہیں۔ عبدل گجر کا تنازعہ چونکہ شیر حیدر کے ساتھ پچھلے بیس سال سے تھا۔اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پرانے دشمن سے بدلہ چکانے میں کوتاہی نہیں کرے گا اور بیلوں کی لڑائی میں جو سُبکی اُسے اٹھانی پڑی تھی، جس میں پورے پچاس ایکڑ زمین شیر حیدر سے ہار گیا تھا، اُس پر قبضہ کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے اپنے صحیح حلیف کا انتخاب کیا۔اس کے علاوہ عبدل گجر کو ساتھ ملا نے سے ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس لڑائی میں سکھوں کی ہمدردیاں تو سودھا سنگھ کے ساتھ رہتیں،لیکن مسلمان دو حصوں میں بٹ جاتے۔ وہ پورے طور پر غلام حیدر کے ساتھ نہ مل سکتے تھے۔ لہٰذا یہ لڑائی سکھ مسلم سے زیادہ ذاتی تصور کی جاتی، جس کا فائدہ ہر صور ت میں سودھا سنگھ کو پہنچتا۔ ویسے بھی شیر حیدر کے مرنے کے بعد عبدل گجر کی طاقت اور رعب کا علاقے میں خود بخود اضافہ ہو گیا تھا۔

 

آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ڈیرے کی چار دیواری کے گرد پہرے پر موجود تھے۔ کچھ جاسوسی کے لیے ادھر اُدھر گاؤں کے رستوں پر بٹھا دیے گئے تاکہ حالات اچانک پلٹا نہ کھا جائیں۔ محفل میں جب ہر طرف سے سکون ہو گیا تو سودھا سنگھ نے عبدل گجر کو مخاطب کیا،

 

چوہدری صاحب اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی کمانوں کی تندیاں کَس کر اُن پر تیر چڑھا دیں اور (اپنی کرپان کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) لوہے کو پان دے لیں۔ اپنے لوہاروں کو کہہ دو وہ درانتیاں بنانی چھوڑیں اور کرپانوں کی چوڑیاں کَس دیں۔

 

سردار جی! “عبدل نے پہلو بدل کر کہا” لوہا کُھنڈا ہو یا پان چڑھا، ضرب لگاؤ تو اپنی لاج رکھتا ہے۔ویسے میں نے لوہاروں کوکہہ دیا ہے کہ دیگی لوہے کو سان پر رکھ دیں۔ تیرے کہنے سے پہلے ہی چَھویوں کی دھاروں پر پان چڑھ گئی ہے۔ میرا سو بندہ برچھیوں کی بولی بولتا ہے۔سودھا سنگھ، ڈر تو بس سرکار کا مارتا ہے۔ کتا بھی مار دوتو کچہری کی سیڑھیاں قدموں سے لگ جاتی ہیں۔ ڈرتا ہوں وار اوچھا نہ پڑ جائے اور میں مقدمے بازی میں نہ پھنس جاؤں۔

 

سُودھا سنگھ آگے جھک کر بولا، چوہدری صاحب سمجھا کر، سیدھا حملہ نقصان دے گا۔ میری طرف دیکھ،میں نے غلام حیدر کی ساری مونگی اُجاڑ دی اور ایک نوکر بھی مار دیا۔اب کُتے کی طرح زخم پر دُم مارتا پھرتا ہے۔ دیکھنا تھوڑے دنوں میں کیڑے پڑجائیں گے پھر اس قابل بھی نہیں رَہے گا۔ زیادہ سے زیادہ تین سو دو کا کیس ہو گا، جس میں میری ضمانت پہلی پیشی پر لازمی ہے۔کیونکہ نہ ثبوت نہ گواہ۔ سیدھی لڑائی انگریز ی دور میں سراسر نقصان ہے۔ واہگرو دی سونہہ، غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکتا۔ بس ایک طرف ہو کر وَکھّی میں وار کرو۔

 

شریف بودلہ،جو ابھی تک خاموش بیٹھا صرف حقہ پیے جا رہاتھا، بولا: سُودھا سنگھ بات سیدھی کر، بجھارتوں کا وقت نہیں۔

 

شریف بودلے کے اس سوال پر سودھا سنگھ کی بجائے دھیر سنگھ بولا: “چوہدری جی،سردار سودھا سنگھ کے کہنے کا مطبل ہے، غلام حیدر سے سیدھا پھڈا لینے کی بجائے اُس کی رعایا کے مال پر ہاتھ صاف کرو۔سٹ پہ سٹ مارتے جاؤ۔ اس کی رعایا کو جتنا زیادہ نقصان دوگے، غلام حیدر کے اوسان اتنے ہی بے وَسے ہوں گے۔ آخر بوندلا جائے گا۔ رعایا کے پاس تو مقدمے باز ی کے لیے پیسہ ہوتا نہیں۔وہ غلام حیدر سے ہی جا جا کر فریادیں کریں گے۔ اب آپ ہی بتا ؤ، بچارا کہاں تک ان کے مقدمے بھگتے گا۔ آخر تھک کر لاہور بھاگ جائے گا۔ رہا رفیق پاولی، تو وہ بے چارا، پاولی کا پاولی، منشی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔چوہدری صاحب اس کارا دھاری میں غلام حیدر کی رعایا اُس سے بددل ہو جائے گی۔ آخر بے چارے لاوارث آپ کی جھولی میں آ گریں گے۔ بس رعایا آپ سے مل گئی تو آرام سے زمینوں پر بغیر رجسٹری کے قبضہ ہو جائے گا۔ پھر زمین تو ہوگی غلام حیدر کی اور اُس میں واہی بیجی کریں گے آپ اور ہم۔ آئی بات سمجھ میں چوہدری صاحب؟

 

“ہوں” عبدل گجر نے سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ عبدل کو جال کی طرف آتے دیکھ کر سودھا سنگھ نے دھیر سنگھ کی بات مزید آگے بڑھائی اور بولا:

 

تمہارے گاؤں کے نزدیک شاہ پور جو غلام حیدر کا گاؤں ہے، وہاں بندے بھیج کر رات کو ساری بھینسیں گھیر لاؤ اور ہدایت کر دو کہ اس کام میں ہو سکے تو ایک آدھ بندہ بھی پھڑکا دیں۔ جب چاروں طرف سے یلغار ہو گی تو غلام حیدر کس کس کا مقابلہ کرے گا۔ ساری برادری اُس کی پاکپتن بیٹھی ہے۔وہ تو فیروز پور اور جلال آباد آ کر ہم سے مقابلہ کرنے سے رہی۔

 

“ہوں”ٹھیک ہے۔عبدل گجر اور شریف بودلے نے یہ سن کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

 

عبدل دل میں سوچنے لگا کہ آج کسی سکھ نے بھی کوئی کام کی بات کی ہے۔ورنہ تو ہر وقت دماغ کے بارہ ہی بجے ہوتے ہیں۔

 

“انھیں متاثر ہوتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے گرم لوہے پر ایک اور ضرب لگائی” چوہدری عبدل سوچنے کا وقت نہیں پربھا کا نام لے کر آج ہی کام شروع کردو۔ میں اپنے بھی کچھ بندے بھیج دوں گا، اگر تمہیں اکیلے میں کچھ شُبہ ہے کہ کام ادھورا نہ رہ جائے تو مَیں متھا سنگھ اور رنگا کو بھی حملہ کی رات تیری پارٹی میں بھیج دوں گا۔ مَیں تو مِتروں کا مِتر ہوں عبدل بیبا۔

 

ٹھیک ہے سودھا سنگھ، “عبدل گُجر سودھا سنگھ کی اس آخری امداد سے متفق ہوتے ہوئے بولا” میں سارا منصوبہ کر کے تمہیں اپنی دلیل بتا دوں گا۔ پچاس ایکڑ تو اب میں لے کے رہوں گا۔

 

القصہ رات پچھلے پہر تک اس مسئلے پر بحث اور گفتگو رہی جس میں بہت سے پہلوؤں پر غور کیا گیا اور ہر معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ کر ایک طے شدہ پروگرام مرتب کیا۔جس کے تحت ہر حالت میں عمل درآمد کرناتھا۔ عبدل گجر اور شریف بودلے نے رات وہیں سودھا سنگھ کے ڈیرے پر بسر کی۔ اپنی اپنی پگڑیاں بدلیں۔ قرآن اور گرنتھ پر قسمیں کھائیں۔ جس کے تحت ایک دوسرے کی مدد کے وعدے کیے اور بالآخر سب لوگ اطمینان سے سو گئے جبکہ باقی لوگ جن کے گھر وہیں تھے، وہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

 

دوسرے دن صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ہی عبدل گجر اور شریف بودلہ جاگ اُٹھے۔ سودھا سنگھ جو غالباً باقی رات بھی نہیں سویا تھا بلکہ گرو جی کی جَے میں پوجا پاٹ کو بیٹھا رہا، ان کے جاگتے ہی آ گیا۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں نور دین ماچھی ناشتے کا ٹوکرا سر پہ رکھے آ گیا۔ سردار جی نے خاص اہتمام ناشتے کا کیا تھا۔جس کا سارا انتظام نور دین ماچھی کے گھر میں کیا گیا۔ ناشتے میں دیسی مرغ کا گوشت، مکھن، شکر، لسی اور دیسی گھی میں تر پراٹھے تھے۔

 

نوردین نے چوہدریوں کے سامنے ناشتہ بڑے سلیقے سے رکھ دیا۔ سچ پوچھیں تو سودھا سنگھ نے رات سے لے کر اب تک اُن کی اتنی آؤ بھگت کی کہ اب وہ دل و جان سے سردار جی کے ساتھ مل کر غلام حیدر کا تِیّا پانچا کرنے کو تیار ہو گئے۔ ناشتے کے بعد حقے کے کش لیتے لیتے سورج کافی چڑھ آیا تو انھوں نے سودھا سنگھ سے کہا، بگھی تیار کروا دے تاکہ جلد اپنے گاوں پہنچ کر منصوبے پر عمل شروع کریں۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – پانچویں قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

” کب جائن کر رہے ہو ڈاکٹر؟” بہنوئی نے پوچھا۔

 

“اگلے ہفتے”، شاہد نے مختصر جواب دیا۔

 

“کتنا عرصہ وہاں رہنا پڑے گا بیٹا؟” ماں نے پوچھا۔

 

“تین سال”، شاہد نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

 

“چلو نوکری جائن تو کرو، شاید کبھی تبادلے کا چانس مل جاے”، بہنوئی نے تسلی دینے کے انداز میں کہا۔

 

“شادی کر لو بیٹا، ساتھ لے جانا دلہن کو، خدمت کرے گی وہاں تیری، اکیلے میں پردیس کاٹنا بڑا مشکل ہے”، ماں نے مشورہ دیا۔

 

“اپنی خدمت کے لیئے میں آپ ہی کافی ہوں”۔

 

“دیتا ہے کسی بات کا جواب انسانوں کی طرح”، خاور کے لہجے میں پھر غصہ عود آیا،”میں کہتا نہیں کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے”۔

 

“اچھا یار ناراض مت ہو، مجھ پر بڑے احسان ہیں تمہارے، بس شادی کے موضوع پرمجھ سے بات نہ کرو”،شاہد نے گہری سانس لے کر صُلح جُوئی سے کہا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تنگ کوچوں میں شام اُتر رہی تھی۔ ٹاٹ کے پردوں اور سلاخ دار کھڑکیوں میں سے بچوں، برتنوں اور ٹیلی وژن کی آوازیں آرہی تھیں، آسمان پر ختم ہوتی روشنی میں چند پتنگیں ہلکی ہوا پر ڈول رہی تھیں۔بازار میں چھڑکاؤ کے بعد کی تازگی اور گہماگہمی تھی، شاہد نے چاچا مجید کے کھوکھے پر رک کر سگریٹ لئے اور کچھ دیر اس سے فقرہ بازی کی، منحنی بدن،خشخشی داڑھی،اندر کو دھنسی ہوئی چمکیلی آنکھیں جو ہر گاہک پر مذاق کے شرارے چھوڑنے کوبے چین رہتی تھیں،چاچا مجید حسبِ عادت اُکڑوں بیٹھا تیزی سے پانوں پر کتھا چُونالگا رہا تھا اور شاہد کو شاہی قوام والا پان کھلانے پر مُصر تھا ، اس کا بیان تھا کہ قوام والے پان سے آدمی کی تیسری آنکھ کھل جاتی ہے، کانوں پر پڑے چبے ہٹ جاتے ہیں اور جگر میں اصلی اور سُچی گرمی پیدا ہوتی ہے۔ شاہد کا اصرارتھا کہ وہ اس بہشتی سفر کے لئیے ابھی نابالغ تھا۔

 

بازار سے گزرتا وہ اقبال کی پتنگوں کی دُکان پر پہنچا، دُکان کے آگے پڑے بنچ پر اقبال کا باپ اپنے چند دوستوں کے جلو میں حقے کے کش لے رہا تھا، بزرگوں سے علیک سلیک کر کے وہ دُکان میں داخل ہوا۔ اس وقت ڈور پتنگ کے گاہکوں کی آمد کا امکان نہیں تھا لیکن دُکان بند کرنے کی کوئی جلدی نہیں پائی جاتی تھی۔ اقبال پچھلی دیوار سے ٹیک لگائے پتنگوں کے شہتیر چھیل رہا تھا۔ شاہد کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکیں۔ شاہد نے اسے بتایا کہ اسے جھنگ کے ایک دوردراز گاؤں میں نوکری ملی تھی۔ اقبال نے ایک مفصل گالی کے ذریعے اس خبر پراپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ شاہد اور وہ بچپن میں ایک ہی سکول میں پڑھتے رہے تھے۔ تمام ذمہ دار باپوں کی طرح اقبال کے باپ کا بھی یہی نصبُ العین تھا کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر ایک بڑا سرکاری افسر بنے، اپنے باپ کا نام روشن کرے اور اس کی طرح مانجھے سے اپنے ہاتھ کاٹنے میں زندگی گزارنے سے بچ جائے۔اقبال کی نظر لیکن آسمان پر رہتی تھی،استادوں کی جھڑکیاں، ڈنڈے، سزائیں،باپ کی لعن طعن، ہم جماعتوں کے ٹھٹھے، کوئی حیلہ اس کی توجہ بے رنگ الفاظ پر مرکوز کروانے میں کامیاب نہ ہوا۔ آٹھویں کے امتحان سے کچھ دن پہلے اس نے بستہ موچی دروازے کے باہر لیٹے نالے میں پھینک دیا اور باپ کو دھمکی دی کہ اگر اس کے سامنے کسی نے سکول کا نام لیا تو وہ ایک بہت بڑی پتنگ بنائے گا اور اس کے ساتھ لٹک کر ہمیشہ کے لیئے اُڑ جائے گا۔

 

اب اس کی بازار میں دو دکانیں تھیں، شاگرد تھے،ملازم تھے ، اس کے ہاتھ کے بنے سُدھ تیِرے اور کُپ شہر میں مشہور تھے۔اس کا باپ اب اپنی ریٹائرمنٹ کا زمانہ اس دکان کے آگے رکھے بنچ پر گزارتا تھا جو اس کے وقتوں کے ڈربے سے پھیل کر ایک بڑی، شیشے کی الماریوں سے سجی رنگا رنگ اور مشہور دکان بن گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ حقے کا کش لے کر اپنے دوستوں سے کہتا،”چلو جو خدا کو منظور، اس کے کاموں میں بہتری ہی ہوتی ہے، لیکن ظہورعلی کا لڑکا دیکھو ڈاکٹر بن گیا ہے”۔

 

دکان بند کرنے تک شاہد اقبال سے گپیں لگاتا رہا، پھر وہ گھر واپس چل دیا۔ اگلے ہفتے اسے چک بھمبراں روانہ ہونا تھا، چک بھمبراں کہاں تھا؟ کیا وہاں اونٹ پر بیٹھ کر پہنچنا پڑے گا؟

 

۔۔۔۔۔۔۔

 

چک بھمبراں جانے والا چوڑا پگڈنڈی نما راستہ ریت کے سنسان ٹیلوں میں لیٹا تھا، شاہد بھوسے کے نیم شکستہ چھپر تلے کھڑا گنڈیریاں چوس رہا تھا۔چھپر کا مالک پھلوں کی چند ٹوکریوں اور مکھیوں کے بیچ سہ پہر کی غنودگی میں جھول رہا تھا۔دور دراز تک مکمل خاموشی اور سکوت تھا جس میں شاہد گنڈیریاں چوسے جانے کی سڑک سڑک سن رہا تھا۔ جھنگ سے روانہ ہونے والی لاری نے ڈھائی گھنٹے کے سست رو سفر کے بعد اسے اس مقام پر جسے اڈہ خاص کہلانے کا شرف حاصل تھا،اتار دیا تھا۔ اڈہ خاص ایک بوسیدہ کھوکھے پر مشتمل تھا جس کے مالک نور علی نے شاہد کو اطمینان دلایا کہ بابا رحمت اپنے ٹانگے سمیت آتا ہی ہوگا، اڈے سے ہسپتال تک تین میل کا فاصلہ تھا ، گاؤں ہسپتال سے کوئی ایک فرلانگ پہلے تھا۔سیدوں کی گاڑی کے علاوہ بابا رحمت کا ٹانگہ اس رستے کو طے کرنے والی واحد سواری تھی۔
نور علی نے اس اطلاع پر کہ شاہد کا ارادہ وہاں قیام کرنے اور ہسپتال چلانے کا تھا اسے تشویش اور تعجب سے دیکھا تھا۔ جب سے یہ مرکز بنا تھا کسی ڈاکٹر نے وہاں قیام کرنے کی تمنا کا اظہار نہیں کیا تھا۔ موجودہ ڈیوٹی ڈاکٹر تین چار مہینوں میں ایک بار یہاں کا چکر لگاتا تھا، ہسپتال میں چند منٹ رکنے کے بعد وہ سیدوں کی حویلی سلام کرنے جاتا اور اسی شام واپس روانہ ہو جاتا۔ہسپتال کا عملی ڈاکٹر وہاں کا ڈسپنسر نذیر تھا جو اسی گاؤں کا رہائشی تھا۔

 

بابا رحمت کا ٹانگہ نمودار ہوا تو اگلی سیٹ پر بیٹھے صاف ستھری شلوار قمیض میں ملبوس، اندر کو دھنسی آنکھوں اور تیل سے چپڑے بالوں والے نوجوان نے ٹانگے سے اتر کر ہاتھ اٹھا کر ادب سے ڈاکٹر شاہد علی کو سلام کیا۔یہ ڈسپنسر نذیر تھا جو اپنے نئے افسر کا استقبال کرنے بذاتِ خود حاضر ہوا تھا۔ شاہد کے اس استفسار پر کہ اسے اس کی آمد اور خصوصاً آمد کے وقت کا علم کس طرح ہوا، نذیر نے نہایت انکساری سے مطلع کیا کہ نوکر پر لازم ہے کہ مالک کی خبر رکھے۔

 

نذیر نے راستے میں شاہد کو بتایا کہ وہ لاری کے اڈہ خاص پہنچنے سے پہلے وہاں استقبال کے لئے موجود ہونا چاہتا تھالیکن عین وقت پر سیدوں کی حویلی سے اسے بلاوا آگیا، بڑی شاہنی کے پیٹ میں زبردست مروڑ اٹھا تھا اور اسے فوری طور پر دوا کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے اسے اڈہ خاص پہنچنے میں دیر ہو گئی ۔

 

ٹانگہ کچے راستے پر ریت اور دھول اڑاتا سنسان میدانوں سے گزر رہا تھا ، کوتاہ قامت ٹیلوں پر اکا دکا ضدی جھاڑیاں بقا کی جنگ میں کانٹے تانے کھڑی تھیں۔ہوا سے ریت پر بنتی لہروں کے علاوہ یہ ایک مکمل ساکت دنیا تھی۔
ویرانے میں ایک چاردیواری نظر آئی جس میں پکی اینٹوں کی دو پستہ قد، مختصر عمارتیں واقع تھیں۔ ان میں سے ایک کے قریب پہنچ کر ٹانگہ روکا گیا اور نذیر اُچک کر ٹانگے سے اترا، اس کی دیکھا دیکھی شاہد بھی اتر آیا۔ بابا رحمت نے شاہد کا سامان اٹھایا اور وہ اس مکان میں داخل ہوے جو اب شاہد کی رہائش گاہ بننے والا تھا۔ اس کوارٹر نما مکان کے دونوں کمرے فرنیچر سے قطعاٌ عاری تھے، غسلخانے کے خلا میں جالے لٹک رہے تھے، تنگ باورچی خانے کے ایک کونے میں تین اینٹیں اور زمانوں پرانی راکھ چولہے کی ناموس کے پاسبان تھے ،دیواروں کے علاوہ اس مکان میں دیکھنے کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ شاہد چھوٹے سے برآمدے میں نکل آیا، برآمدے اور باہر کی چار دیواری کے درمیان ایک مختصر میدان تھا جس کے کنارے کنارے کسی زمانے میں کی گئی کیاریاں بنانے کی ناکام کوشش کے آثار تھے۔ یہ صفا چٹ میدان دیوار پار کی سخت جان جھاڑیوں سے بھی محروم تھا۔

 

“لگتا ہے کوئی بہت بڑا گناہگاریہاں لوٹنیاں لگاتا رہا ہے”، شاہد نے اظہارِ خیال کیا۔

 

ڈسپنسر نذیر اس کے اس فقرے سے واضح طور پر محظوظ ہوا۔ اس نے شاہد کو بتایا کہ یہ مکان تقریبأ ہمیشہ بند ہی رہا ہے۔ بحالتِ مجبوری ایک رات سے زیادہ وہاں کسی ڈاکٹر نے قیام نہیں کیا تھا۔ اس نے آج صبح مکان کھول کر اس کی صفائی کروائی تھی۔ شاہد نے دیکھا کہ فرش پر پھیلی گرد میں جھاڑو پھیرے جانے کے نشانات تھے۔ اس اثناء میں دومنحنی انسان برآمدے میں نمودار ہوے۔ ایک کی بغل میں جھاڑو دبا تھا ،دوسرا اس اعزاز سے محروم تھا۔ دونوں نے معزول سپاہیوں کی طرح شاہد کو سیلیوٹ کیا۔یہ خاکروب جیکب مسیح اور چوکیدار اشرف چِبا تھے۔

 

” ہوسکے تو یہاں ایک بار پھر جھاڑو پھیر دو”، شاہد سیلیوٹ کا جواب دے کر جیکب سے مخاطب ہوا۔

 

“بہتر جناب”، جیکب بغل سے جھاڑو برآمد کرتے ہوے بولا، “ویسے صفائی جتنی مرضی کر لیں، مٹی اتنی ہی رہتی ہے”۔
“آئندہ اس فقرے کو الٹی طرف سے یاد رکھو، مٹی جتنی مرضی آئے، صفائی اتنی ہی رہنی چاہیے”۔

 

نذیر اور اشرف کی ہمرکابی میں وہ ڈسپنسری کا معائینہ کرنے نکلا تو باہر کھڑے بابا رحمت نے اسے سلام کیا۔ شاہد نے جیب سے بٹوا نکالتے ہوے کرایے کے بارے استفسار کیا۔ بابا رحمت نے اسے حضور، مائی باپ کے لقب سے نوازتے ہوے درخواست کی کہ وہ نوکر کو شرمندہ نہ کرے، وہ بھلا اس سے کرایہ کس طرح مانگ سکتا تھا؟ شاہد نے چند روپے اس کے انکار کے باوجود اسے دیے اور اسے بتایا کہ وہ حضور اور مائی باپ نہیں تھا اور دوسروں سے بیگار لینے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔

 

ڈسپنسری تین کمروں پر مشتمل تھی، ایک گرد آلود میز، کرسی، معائینے کا سٹول، چند زنگ خوردہ اوزار، ایک بستر جس کے سپرنگ پینڈولم کی طرح لٹک رہے تھے اور دوائیوں کی ایک الماری اس کا کل اثاثہ تھے۔ دوائیوں کی جانچ پڑتال سے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے تعویذ گنڈے سے کام چلانا پڑے گا۔ نہایت بنیادی قسم کی چند ادویات کے پیکٹ جو وہاں دستیاب تھے ان میں سے اکثر کی مدتِ میعاد عرصہ پہلے پوری ہو چکی تھی۔

 

گو اپنے سینیئر دوستوں سے وہ بنیادی مراکز صحت کے حالات سن چکا تھا اور یہ دگرگوں حالت اس کے لئے انکشاف نہ تھی لیکن خود کو اس بے سروسامانی و ویرانی میں گھرا پا کر وہ کچھ روہانسا ہوا۔ وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا؟

 

ڈسپنسری کے معائینے سے فارغ ہو کر وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف نکلا۔ بابا رحمت اپنے ٹانگے سمیت ابھی وہیں تھا اور گھوڑے کی نادار پشت سہلاتے ہوے جیکب مسیح سے محوِ گفتگو تھا۔

 

“ڈاکٹرصاحب سیدوں کی حویلی ہو آئیں؟” ، نذیر نے اس کے ساتھ چلتے ہوے مشورانہ لہجے میں استفسار کیا۔

 

“وہ کیوں بھئی؟”

 

“جی بڑی شاہنی بیمار ہیں، آپ چیک کر لیں”۔

 

“اتنی خراب حالت ہے کہ ڈسپنسری تک نہیں آسکتیں؟”

 

” نہیں سر ایسی بات تو نہیں، دوا تو میں نے دے دی تھی”۔

 

“پھر؟”

 

“سر وہ مالک ہیں اس علاقے کے ،تیس گاؤں ان کے مزارعے ہیں”۔

 

“نذیر، میں سرکاری ملازم ہوں سیدوں کا نہیں”۔

 

“ڈاکٹر صاحب سرکار بھی تو انہی کی ہے، آپ جانتے ہی ہیں”۔

 

“ہاں جانتا ہوں”۔شاہد نے بات ختم کرتے ہوے کہا۔

 

نذیر کے چہرے پر تشویش کے آثار پھیلے لیکن وہ خاموش رہا۔ شاہد نے مکان پر پہنچ کر دروازہ کھولا اور ان لوگوں کی طرف دھیان دیے بغیر اندر چلا گیا۔

 

تھکن اور بیزاری نے اس پر یک بار چڑھائی کی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں اس کا بستر اور سوٹ کیس پڑا تھا، ایک لمحے کو اسے خیال آیا کہ سامان اٹھا کر ٹانگے میں رکھے اور اسی وقت لاہور لوٹ جائے، کاغذی کارروائی پوری ہوچکی تھی، ادویات کے بغیر یہاں کرنے کو کچھ نہ تھا۔ بڑی شاہنی اپنی بدہضمی کی خود ذمہ دار تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دوسری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(4)

 

ولیم کو انگلستان سے آئے ایک سال کے قریب ہوگیا لیکن ابھی تک اُسے خاص جگہ تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف کمشنروں کے دفتروں میں ہی چھوٹے موٹے کاموں کی تربیت میں مصروف رکھا،تاکہ کام پر نکلے تو پورے حساب میں ہو۔ایک سال کے بعد جب اُس کے باقاعدہ پوسٹنگ آرڈر تیار ہوئے تو وہ فیروز پور کی تحصیل جلال آباد میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کے تھے۔ ولیم نے بہت کوشش کی اُسے مشرقی پنجاب نہ بھیجا جائے مگر اِن دنوں چیف سیکرٹری صاحب کے موڈ اچھے نہیں تھے اور کمشنر جیمس ویسے ہی ولیم کے باپ سے خار کھائے بیٹھا تھا۔اس لیے وہ اُن سے کہنے کا رِسک نہیں لے سکتا تھا۔ جانسن نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اِس معاملے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ولیم کو فیروزپور میں بطورِ اسسٹنٹ کمشنر اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینے ہی پڑے، بجز اس کے چارہ نہیں تھا۔

 

ولیم فیروزپور میں ڈسڑکٹ آفس کے ریسٹ ہاؤس میں پہنچا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ ایک تو رات کی تاریکی تھی دوسرا پہلے اس علاقے میں آیا بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی شہر کے خط وخال اور رنگ ڈھنگ کو دیکھ نہ سکا۔علاقے کا تحصیلدار اور دوسرے کئی دیسی افسر ریلوے سٹیشن پر اُسے لینے کے لیے آئے۔ سرد رات کے اس پہر ولیم کے لیے اُن کی شکلیں بھوتوں کے سا ئے محسوس ہو رہے تھے۔اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی گیدڑوں کی ہاؤ ہُو اور کتوں کے بھونکنے کی آواز وں نے اُس کا استقبال کیا۔ ان کریہہ آوازوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک اُس کو آزار پہنچایا۔اس کے سبب ولیم کی بیزاری مزیدبڑھ گئی۔ فیروز پور شہر جس قدر کھلا تھا اُسی قدر سنسان بھی تھا۔ جیپ سے اُترا تو اُس نے دیکھا ہر طرف سناٹے کا سماں ہے۔ پانچ چھ سکھ سنتری بندوقیں کاندھوں پر رکھے ستونوں کی طرح اٹینشن کھڑے تھے۔ غالباََ اُنہیں بتا دیا گیا تھا کہ نئے صاحب آ رہے ہیں۔ چوکیدار اور سنتریوں نے تیزی سے سلام کیااور ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ ولیم نے چاروں طرف غائر نظر ماری۔گیس کے ہُنڈے جل رہے تھے، جن کی پیلی روشنی ہلکی دھند میں مزید ٹھنڈی اور دھندلی ہو رہی تھی۔ گاہے گاہے دُور سے بھونکتے کتوں اور چیختے گیدڑوں کی آوازیں اِس دُھند میں اور زیادہ اُداسی پھیلا رہی تھیں۔ ایک افسر نے ولیم کا اٹیچی کیس پکڑ لیا۔ دوسرا عملہ چوکیدار کے ساتھ مل کر جیپ سے بقیہ سامان اُتارنے لگا۔اِسی اِثنا میں ولیم قدم بڑھاتا ہوا ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوگیا۔ وہ کچھ دیر ٖضرور باہر کی ہوا دیکھتامگر سفر کی تھکاوٹ اور ٹھہرے ہوئے موسم نے اُسے اِس بات پر آمادہ نہ ہو نے دیا۔ جب سامان اندر آگیا اورتحصیلدار سمیت تمام عملہ سلام کر کے رخصت ہو چکا تو چوکیدار سامان کو ترتیب سے ایک طرف جمانے لگا۔ اس معاملے میں اس کی مدد ایک سب انسپیکٹرازخود کر رہا تھا۔ اِسی بہانے اُس نے ایک بار ولیم سے گفتگو کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ولیم اپنی ہدایات مسلسل چوکیدار ہی کو دیتا رہا۔ سامان پوری طرح ترتیب سے لگ گیا تو ولیم نے سب انسپیکٹر کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور آرام سے کرسی پر دراز ہو کر چوکیدار سے مخاطب ہوا۔

 

مسٹر آپ کا نام کیا ہے ؟

 

چوکیدار پورے جوش سے آگے بڑھتے ہوئے بولا، جی صاحب بہادر غلام کا نام نیاز دین ہے لیکن سب نجا کہتے ہیں۔ صاحب آپ حاکم ہیں، جس نام سے چاہیں بلا لیں۔

 

ولیم نے بغیر تاثر اور کیفیت پیدا کیے کہا، نو نو نیاز دین، ہم آپ کو نیاز دین ہی کہیں گے۔پھر فوراََ کرسی سے اُٹھ کر بولا، نیاز دین ہمارے نہانے کا بندوبست کرو۔ ہم جلدی آرام کرنا چاہتے ہیں۔

 

صاحب جی، پانی گرم ہے۔ مجھے پتہ تھا آپ آ رہے ہیں اس لیے مَیں نے آپ کے آرام کا پورا بندوبست کر دیا ہے۔ نیاز دین نے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ولیم کوداد طلب نظروں سے دیکھامگر ولیم کا چہرہ سپاٹ رہا۔ وہ بغیر کچھ کہے واش روم کی طرف مُڑ گیا۔ نیاز دین کو ولیم کے اس عمل سے تھوڑا سا دکھ ہوالیکن زیادہ تعجب نہ ہوا کیونکہ وہ اس ریسٹ ہاؤس میں کئی برسوں سے چوکیدارہونے کے سبب انگریز افسروں کے سپاٹ رویوں کا عادی ہوچکا تھا۔بلکہ وہ اس بات سے خوش تھا کہ ولیم نے اُس کے اصلی نام سے اُسے مخاطب کیا تھا۔

 

گرم پانی سے نہاکرولیم کی طبیعت میں تازگی کا احساس در آیا۔ ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ نیاز دین نے یاد دلایا، کھانا تیار ہے۔ ولیم نیاز دین کی اس تیز رفتاری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہامگر اپنے آپ کو جذبات سے باہر رکھتے ہوئے،جس کی تاکید سول افسر کو خاص طور پر دورانِ تربیت کی جاتی ہے،بولا،ویل ڈن نیاز دین اور کھانے کے کمرے میں چلا گیا۔کمرے کی اندرونی ترتیب کا اہتمام خاص طور پر آرائش سے لے کر کھانے تک انگریزی اور ہندوستانی امتزاج سے بہت عمدہ کیا گیا تھا۔ کھانے کے دوران نیاز دین اور باورچی ہاتھ باندھے خدمت کے لیے تیار ایک کونے میں کھڑے رہے۔ ولیم نے باورچی کو نہ تو آواز دی اور نہ ہی نام پوچھنے کی ضرورت محسوس کی۔ البتہ ایک دفعہ نیاز دین کو تھینکس ضرور کہا۔

 

چائے پینے کے بعد ولیم ایک دفعہ پھر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں نکل آیا اور آدھ گھنٹہ ٹہلتا رہا تاکہ کھانا ہضم ہو جائے اور اب تھکا وٹ دوبارہ اثر دکھانے لگی تھی۔جس کی وجہ سے غنودگی طاری ہوگئی۔وہ بیڈ روم میں آگیااورلیٹتے ہی سو گیا۔

 

اگلے دن ولیم کی آنکھ کھلی تو اُس نے انگڑائی لیتے ہوئے سامنے کے دیوار گیر کلارک پر نظر ڈالی۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پورے نوگھنٹے سویا۔اس قدر سکون کی نیند اُسے شاید ہی کبھی آئی تھی۔ مختصر یہ کہ ناشتہ کرنے اور پوری طرح سے تیار ہونے کے بعد دس بجے کمرے سے نکلا۔دھوپ خوب چمک رہی تھی۔ باہر قدم رکھتے ہی اُس کی نظر بغیر کسی رکاوٹ کے دُور تک چلی گئی۔ باہر نہ تو کوئی دیکھنے کو منظر تھا اور نہ زندگی کے آثار۔ کچے میدان اور خاکستری آسمان کے درمیان فقط چند اُجاڑ درخت ایک دوسرے سے دُور اور روٹھے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔اُن ٹُنڈ مُنڈ پیڑوں پر نہ کوئی پرندہ تھا، نہ گلہریوں کے آثار۔ ریسٹ ہاؤس کے گرد دوچار کیکر، ایک برگد اور بے شمار عک کے پودے تھے۔ جن کے اندر غالباً چوہیاں دوڑ رہی تھیں۔ کیکر کے پیڑوں کے نیچے تُکلوں کی پھلیاں بکھری پڑی تھیں۔ایک جانب کچھ سرسوں کے کھیت اور دوسری طرف شہر کی اُجڑی عمارتیں تھیں۔بازاروں کو وہ دُور ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکتا تھا۔لیکن اُسے یہ احساس ضرور ہوگیاکہ یہ شہر انسانوں سے زیادہ بھوتوں کا ہوگا۔اُسے یہ سب دیکھ کر تعجب ہوا۔ کیا فیروز پور انگریزی سرکار کے ماتحت نہیں کہ اس کی جمالیات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ؟یا پھر یہ شہر ہی منحوس ہے۔ تحصیلدار جوزف اور ایک دو دیسی افسر اسے ویلکم کہنے کو ریسٹ ہاوس کے باہر موجود تھے، جو صبح سات بجے ہی وہاں پہنچ گئے تھے اور تین گھنٹے تک ویٹنگ روم میں بیٹھے ولیم کے نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔ ولیم نے اُن سے ہاتھ ملا کر ہیلو کہنے کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں کی، اپنے اُنہی خیالوں میں گم چلتا گیا مگر پھر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا کہ خواہ مخوادماغ کو ہلکان کرنے کا فائدہ نہیں تھا۔ کونسا اُس نے یہاں رہنا تھا، نہ ہرچیز ٹھیک کرنے کا اُس نے ٹھیکہ لیا تھا۔ اُس نے سوچا وہ کچھ وقت تک یہاں مہمان ہے۔ اُس کی بلا سے جائے جہنم میں۔ اُسے تو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ہدایات وصول کرنا ہیں۔ وہ یہ کام جلد کر کے جلال آباد کی طرف نکل جانا چاہتا تھا، جہاں اُسے اپنے فرائض بطوراسسٹنٹ کمشنر ادا کرنے ہوں گے۔ لاہور سے جاتے ہوئے اُس نے خیال کیا تھا کہ دوچار دن کے لیے فیروز پور رُکے گالیکن یہاں آکر جلد ہی اکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ یہاں اگر کوئی شے اِن میں جاندار تھی تو وہ نیاز دین تھا، جس نے اُسے کل شام سے کچھ تکلیف نہ ہونے دی، لیکن جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے،فیروز پور آنا ولیم کی غلطی نہیں مجبوری تھی۔ اس کے ساتھ ایک بات کا اُسے اطمینان بھی تھا کہ اُس کی پوسٹنگ ابھی فیروز پورہی میں ہوئی تھی، نہ کہ لدھیانہ یا راجستان میں، جس کا پہلے بہت امکان تھا اور اُن کے نام ہی سے وہ بیزار تھا۔پھر یہ بات اور بھی اطمینان بخش تھی کہ فیروز پور کی بجائے اُس کو تحصیل جلال آبادبھیجا جا رہا تھا،جو فیروزپورسے جنوب مغرب کی طرف ستر کلو میٹر پر تھی۔وہاں سے وسطی پنجاب محض پچاس کلومیٹر تھا، اُس کے خوابوں کا استھان۔

 

ولیم خیال کی انہی وادیوں سے گزرتا ہوا ڈپٹی کمشنرکے دفتر پہنچ گیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جیپ رُکتے ہی آگے بڑھ کر ولیم سے بریف کیس پکڑ لیا اور بڑے ادب سے ڈپٹی کمشنر کے کمرے کی طرف رہنمائی کرنے لگا۔ اُس نے دیکھا بہت سے کلرک اپنے کمروں کے کھلے دروازوں سے جھانک رہے ہیں۔اِن میں اکثر کی گول شیشے والی عینکیں میلی چکٹ ڈوریوں سے بندھی،اُن کی ناکوں پر ترچھی جمی اُسے گھو رہی تھیں۔کچھ کلرک اِن دھندلائے ہوئے شیشوں کے اُوپر سے دیکھنے کی کوشش میں تھے۔ ولیم کوسرسری نظر میں بھی اُن کی باہر نکلی ہوئی توندیں اور بغیر بالوں کی چُندھیائیں دِکھنے سے باز نہ رہ سکیں۔ وہ جانتا تھا،یہ سب اُس کے گزر جانے کے بعد اُس پر رائے زنی شروع کر دیں گے۔ جس کا نہ اُنھیں کچھ فائدہ ہو گا اور نہ انگریز سرکارکو۔مگر ہوا میں ضائع ہو جانے والے تبصرے وہ ہر حالت میں کریں گے۔ کلرکوں کے ایسے عمل سے اُسے شدید نفرت تھی مگر اِن کی مشترکہ عادات کو روکنا اُس کے بس کا روگ بھی نہیں تھا۔ وہ راہداریوں سے گزر کر جیسے ہی ڈپٹی صاحب کے دروازے پر پہنچا، ڈپٹی کمشنر ہیلے دروازے پر استقبال کرنے کے لیے موجود تھا۔

 

گڈمارننگ سَر’’ولیم نے ایک لمبا ڈگ بھرتے ہوئے ہیلے کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔

 

گڈ مارننگ ینگ مین، ’’ہیلے نے ولیم کا ہاتھ گرم جوشی سے دبایا اور کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا۔
تحصیلدار جوزف کو ولیم نے باہر ہی سے رخصت کر دیا۔ نائب تحصیلدار وِکرم نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا اور اُس وقت تک دروازہ پکڑے کھڑا رہا جب تک دونوں کمرے میں داخل نہیں ہو گئے۔ہیلے نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی سگار کا کش لیا اور ولیم کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کر دیا۔

 

چند ثانیوں بعد ایک شخص کافی اور بسکٹ رکھ کر چلا گیا۔پھر کچھ دیر خاموشی چھائی رہی،نہ ولیم کچھ بولااور نہ ہیلے۔دونوں شاید ایک دوسرے کے جسمانی خدو خال سے دماغ کی اندرونی کیفیت کا اندازہ لگاتے رہے۔ چند ثانیوں کے اس وقفے کے بعد ہیلے نے گفتگو کا آغاز کر دیا،برطانیہ سے کب آئے؟

 

ولیم نے کرسی پر ٹھیک سے پہلو درست کیااور جواب دیا،سر لندن سے آئے ایک سال سے اوپر ہو گیا لیکن آرام سے ایک دن نہیں بیٹھ سکا۔ آپ جانتے ہیں،اکیڈمیوں والے ایک کے بعد دوسری ٹریننگ کے چولہے میں جھونک دیتے ہیں اور سیکھا ہوا بار بار سکھاتے ہیں۔

 

اس باوجود بھی کچھ لوگ نہیں سیکھتے،ہیلے نے یہ جملہ چبھتے ہوئے انداز میں کہا،جسے ولیم محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا لیکن خاموش رہا۔

 

بات فوراًبدل کر اوروطن کی پوری محبت دل میں جمع کرتے ہوئے ہیلے دوبارہ بولا،لندن کیسا تھا؟

 

ولیم نے کاندھے اُچکاتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا،وہی پرانی برف،جو قیامت تک رہے گی۔

 

ہیلے کو ولیم کا جواب ناگوار لگا مگر وہ پی گیا اور گفتگو اپنے مطلب کی طرف لے آیا،فیروزپور کا سفر کیسے کٹا؟ میرا مطلب ہے کچھ تکلیف تو نہیں ہوئی ؟

 

ولیم نے کافی کا گھونٹ پیتے ہوئے جواب دیا، بہت عمدہ سر، ریسٹ ہاؤس کا ملازم اچھا تھا۔

 

باتیں کرنے کے ساتھ ولیم کمرے کا جائزہ بھی لیتا جا رہا۔ ہیلے کی میز اور کمرے کی اندرونی ہیئت واقعتاً برطانوی ایمپائر کی ہیبت کی عکاس تھی۔ دس فٹ لمبی اور چھ فٹ چوڑی میز کے ایک کونے پر رکھا ہوا گلوب کچھ معنی رکھتا تھا۔ کمرہ انتہائی کھلا اور آرائش میں پروقار چیزوں کی نشاندہی کر رہا تھا۔ پردوں سے لے کر صوفوں تک اور سامنے کی دیوار پر برطانیہ کی وسیع سلطنت کے پھیلے ہوئے نقشے کسی بھی ملاقاتی کے دل پر حکومت کی جلالت اور اس کے نمائندے کی ہیبت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔

 

ینگ مین آپ کب تک جلال آباد جانا چاہتے ہیں؟ ہیلے جلد ہی مطلب پر آ گیا۔

 

ولیم،جسے حال ہی میں انگلستان میں آٹھ سال گزارنے پڑے تھے، جواب دینے کے معاملے میں اس کی طبیعت میں ایک ٹھہراو تھا۔کچھ دیر کافی کی چسکی لینے کے بعد کمرے کو چند ثانیے گھورتا رہا پھر اعتماد کے ساتھ بولا،سَر میں آج ہی یہاں سے روانہ ہونا چاہتا ہوں۔ لیٹر جلد مل جائے تو خوشی ہوگی۔

 

ہیلے نے کچھ دیر ولیم کی نیلی آنکھوں میں، جن میں ہلکا سبز رنگ بھی گُھلا تھا ’دیکھتے ہوئے ایک بھر پور خاموشی کا سوال کیا۔جس کا مطلب تھا، جواب وضاحت طلب ہے۔

 

ولیم نے وضاحت کی ’ سَر میری طبیعت یہاں اُکتاہٹ کا شکار ہو رہی ہے اس لیے اپنے کام پر جلد پہنچنا چاہتا ہوں۔
او کے، ہم آپ کو آج ہی رخصت کر دیں گے۔ ہیلے نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا، بس کچھ ضروری معلومات آپ کے گوش گزار کرنا ہیں۔ جن میں سے کچھ کا تعلق زبانی ہے اور کچھ تحریری۔

 

کیا زبانی معلومات ابھی نہیں مل سکتیں ؟ولیم نے اب کے بے چینی کا مظاہرہ کیا۔

 

یس مسٹر ولیم، ہیلے نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔

 

آپ کے متعلق میرے پاس خاصی معلومات ہیں،جو ہندوستان میں رہنے والے ایک انگریز افسر کے لیے خطرناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آپ کمشنری کے لیے مناسب نہیں تھے۔اُن کا کہنا ہے آپ کے مزاج میں شوریدگی اور بعض شاعرانہ قباحتیں ہیں۔لیکن ہوم منسٹری نے آپ کے اجداد کی سابقہ خدمات کے پیش نظر اُس رپورٹ کو نظر انداز کردیا اور پوسٹنگ لیٹر دے کریہاں بھیج دیا۔ اب اُس رپورٹ کو غلط ثابت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔

 

سر بات میری سمجھ میں نہیں آئی،ولیم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

 

ولیم،ہیلے دوبارہ بولا،اسٹیج پر آنے کے بعد اسٹیج سے باعزت اُترنا زیادہ اہم ہے۔ آپ ایک ایسے ناٹک کی طرف جا رہے ہیں جس میں ایک سین ایک ہی بار شوٹ ہوتا ہے۔ ری ایکٹ کرنے کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ پہلی ہی بار پرفیکٹ ہونا ضروری ہے۔جہاں ا سٹیج کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، وہیں ذلت اُٹھاؤ گے۔ میرا خیال ہے، آپ ہوم منسٹری کی عزت رکھیں گے اور اپنے اجداد کی بھی۔

 

ولیم کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ہیلے کی گفتگو سن رہا تھا۔ ہیلے کے چہرے کی سلوٹیں بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔جن میں ہر اُس افسر کی طرح، جب وہ سروس میں کچھ عرصہ گزار لیتا ہے، بقراطیت جھلکنے لگتی ہے۔

 

ہیلے نے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر آگے جھکتے ہوئے گفتگو دوبارہ شروع کی،ولیم، تم ایک انگریز ہو۔یہاں تمہاری حیثیت حاکم کی ہے۔ ہم یہاں کی زمین سے رومانس نہیں، حکومت کرنے آئے ہیں۔ جیسا کہ مجھے معلوم ہواہے، آپ کی شاعرانہ طبعیت آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ یہاں آپ کاوجود ایک برتر سطح پر ہے۔اس لیے آپ پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔جو انگریز نوجوان برٹش سول سروس کو جوائن نہیں کرتے وہ ان حدود اور ذمہ داریوں سے ماورا ہیں۔

 

ولیم حاکم اور محکوم میں ایک فاصلہ ہوتا ہے۔ اُسے قائم رکھنا حاکم کی ذمہ داری ہے۔ دیسی لوگوں کو انصاف فراہم کرو لیکن عدل کے دوران تمہارا ظالم اور مظلوم سے فاصلہ برابر ہونا چاہیے۔ اُن کے درمیان فیصلہ کر کے دونوں سے بے تعلق ہو جاؤ۔ اگر مقامی سے سو دفعہ ملو تو ہربار اجنبی کی طرح۔کیونکہ تمہاری قربت اُسے تمھاری ہیبت سے باہر کر دے گی اور یہ بات قانون کو چھوٹا کرنے کے لیے کافی ہے۔یہی قانون جو ہماری ایمپائرکاحقیقی ستون ہے۔ (ہیلے تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر سیدھا کھڑا ہوگیا اور گلوب کو دائیں ہاتھ کی انگلی سے گھماکر بات جاری رکھی )میرا خیال ہے ینگ مین،آپ میری بات کے سمجھنے میں مشکل محسوس نہیں کر رہے۔ ہندوستان ایک وسیع سمندر ہے جو انتہائی گہرا،تندوتیز موجوں سے بھرا ہوا ہے۔ حکومت یعنی ہم اس کی سطح پر ایک جہاز کی مانند تَیر رہے ہیں۔ہمیں اپنی بقا کے لیے ہر طرف سے ہوشیار اور متحرک رہنا ہے۔ اس کی ہولناکیوں پر قابو پانے کے لیے بے رحم طاقت چاہیے۔ جہاز کا ہر تختہ دوسرے سے بغیر فاصلے کے جُڑا ہو، ورنہ سمندر کا اپنا وجود مستعار نہیں۔ وہ اپنی زمین پر کھڑا ہے۔ہم اُسے اُٹھا کر نہیں لے جا سکتے۔اس کی موجوں کو طغیانی سے نہیں روک سکتے۔ مَیں جانتا ہوں، ہم نے جہاز پر اتنا کچھ لاد لیا ہے جس کی گراں باری تختوں کے چوکھٹے ہلا رہی ہے۔ چنانچہ اُس وقت تک موجوں کی سرکشی کوبادبانوں پر رکھوجب تک تمہاری کشتیاں ٹھنڈے ساحلوں پر لنگر نہیں گرا لیتیں۔ ولیم،ہم ان تختوں کے ساتھ ڈوبنا نہیں چاہتے۔

 

آپ میری باتیں سن رہے ہیں؟ہیلے نے اُسے دوبارہ مخاطب کیا۔

 

سَر آپ بات جاری ر کھیں، ولیم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔

 

گُڈ۔ تو میں کہہ رہا تھا (اسی اثنا میں ہیلے نے سگار کا بھر پور کش لیا) ہمیں یہاں اپنا وجود ثابت کرتے رہنا ہے، جب تک اس جگہ موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم،ہمارے مرکز میں کتنی طاقت ہے۔لیکن تمہارے ہیٹ کی چوڑائی پگڑی سے زیادہ ہونی چاہئے اور سگار کا دھواں حقے سے تلخ۔تم ان کی آنکھوں میں دھواں بھر تے رہو تاکہ یہ صاف نہ دیکھ پائیں۔ اُس کے بعدجو تمہاری عینک اِنہیں دکھائے، یہ وہی دیکھیں۔لیکن دھواں تمہاری اپنی آنکھوں کی طرف نہ آنا چاہیے۔

 

اس کے بعد ہیلے آرام سے کرسی پر بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے خموش ہو گیا۔ اُس کی خموشی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ولیم نے کہا،سَر کیا آپ پسند کریں گے،مجھے جلال آباد کے متعلق سرسری معلومات مل جائیں؟

 

ولیم کے اس سوال نے ہیلے کو یاد دلایا کہ وہ اپنی پوسٹنگ سائیٹ میں دلچسپی رکھنے پر اکتفا کرے گا۔ہیلے مسکرایا، اُسے محسوس ہوا ولیم کچھ زیادہ بے چینی میں ہے۔

 

وائے ناٹ، مسٹر ولیم، یو وِل ورک انڈر می اور میں آپ کے کام کا ذمہ دار ہوں۔ غور سے سنو،ہندوستان میں پنجاب واحد ایسا علاقہ ہے جہاں انسان جانوروں کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اکثر پتا نہیں چلتا، دونوں میں اصل جانور کون ہے؟ ان لوگوں کے پاس بیل اور بھینسیں بہت ہیں۔یہ لوگ اطاعت کے وقت بھینس اور سرکشی کے وقت بیل بن جاتے ہیں۔چنانچہ ِانھیں دوہتے وقت تھپکی دینا اور سرکشی کریں تو سینگوں سے دور رہنا۔ شاید برکلے کا انجام تمھیں یاد ہو۔ قبروں پر چراغ جلانے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ جلال آباد وسطی پنجاب کی سرحد پرفیروز پورکی آخری تحصیل ہے۔ اِن کے سینے دریاؤں کی طرح چوڑے اور مزاج اس کے بہاؤ کی طرح تیز ہیں۔جنھیں کناروں میں رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

 

یہاں دو قومیں ہروقت ایک دوسرے کے مقابلے پر رہتی ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے حریف سکھ اور پنجابی مسلمان ہیں۔ پنجابی مسلمان معقول اور بات کو جلد سمجھ لینے والے ہیں۔ جب کہ سکھ احمق اور ہر وقت اپنے ہی نقصان کے دَر پَے رہتے ہیں۔لیکن تمہارے لیے بہتر مدد گار سکھ ہوں گے۔کیونکہ مسلمانوں کے اندر سے نخوت اور منافقت ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اپنے پرائے کو کسی بھی وقت دھوکا دے سکتے ہیں۔ مَیں یہ نہیں کہتا، سکھوں کو بلا جواز مدد دینا۔ یہ تمہارے لیے خطرناک ہوگا لیکن مشکل کے وقت انہی سے کام لینا۔ یہ لوگ ہر کام بغیر سوچے کر گزریں گے۔ جب کہ مسلمان تمھارے کاموں میں اپنی رائے داخل کریں گے اور وہ ناقص ہوگی۔بس یہی کچھ ہے جو میں زبانی آپ سے کہنا چاہ رہا تھا۔ اب آپ کچھ پوچھنا چاہیں تو مَیں بتانے کو بیٹھا ہوں۔

 

صرف ایک بات سر ’’ولیم نے دھیمے سے کہا‘‘

 

پوچھیے، ہیلے نے متوجہ ہوکر کہا۔

 

کسی معاملے میں اگر مَیں تنہا ہو جاؤں تو اس وقت آپ کی عینک کے شیشے سیاہ ہوں گے یا شفاف؟

 

دیکھو ولیم، ہیلے نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا،ہر انچارج ہمیشہ دو عینکیں رکھتا ہے، ایک شفاف ایک سیاہ۔ شفاف عینک اُس کے ضمیر کی ہوتی ہے اور سیاہ اپنے مفاد کی۔ اکثر ایسا ہو تا ہے سیاہ عینک لگانی پڑ جائے البتہ مَیں مدد سے گریز نہیں کرتا۔پھر بھی آپ احتیاط سے کام لیتے رہیں۔ اتنا کہہ کر ہیلے کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا اور گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔

 

ولیم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔

 

اتنے میں ایک آدمی جس کے سَر کے بال تقریباََ اُڑ چکے تھے اور گول پاجامے سے پیٹ ڈھولکی کی طرح اتنا با ہر نکلاتھا کہ اُس میں پاجامے کی بیلٹ چھپ چکی تھی۔ وہ ایک بڑی بھاری فائل لے کر اندر داخل ہوا۔ ہیلے نے اُسے ولیم کی طرف اشارہ کر دیاجس کا مطلب تھا یہ فائل صاحب کو دے دی جائے۔ جب فائل ولیم کے سامنے آئی تو ہیلے نے کہا، مسٹر ولیم، اس گز یٹر میں آپ کو بہت کچھ مل جائے گا۔اور آخر میں ایک اور مگر سب سے اہم بات دھیان میں رہے۔یہ کہہ کر ہیلے اُٹھ کر میز کی دوسری طرف سے ہوتے ہوئے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ولیم ہیلے کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا تو اُس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا، ولیم تمھیں انگلستان کی برف ہندوستان کے گرم دریاؤں سے اور لندن کے سفید کوے آگرہ کے کبوتروں سے زیادہ عزیز ہونا چاہیئیں۔ بس اب آپ جا سکتے ہیں۔

 

ولیم نے ہیلے کے آخری جملے کی چبھن کو واضح محسوس کیا لیکن کچھ بولا نہیں، بلکہ اٹھنے کے لیے سلام کیا۔ ہیلے اُسے باہر تک چھوڑ نے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ دونوں پورے وقار کے ساتھ جیسے ہی دفتر کے مرکزی دروازے پر آئے دفتر کا پورا عملہ دورویہ قطار میں مقامی حیثیت کا اعلان کرنے کے لیے موجود تھا۔ جنہیں آگے بڑھ کر ہا تھ ملا نے کا حوصلہ تو نہیں تھا البتہ اپنے ہاتھ ماتھوں پر ضرور لے آئے اور نائب تحصیلدار وِکرم کو رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ کیسے اِترا اِترا کر ولیم کا بیگ پکڑے چل رہا تھا۔ موتی چند کے پاس سے گزراتو اُس نے کہنی مارکر بابوجلال سے کہا،بابوجی، یہ وِکرم بہت حرامی ہے۔ جلال آباد تک ولیم کے ساتھ جائے گااو ر رستے میں صاحب کو شیشے میں اُتار لے گا۔

 

بابو جلال دھیمے سے تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا،منشی جی یہ چپڑ قناتیا تحصیلدار ایسے ہی نہیں ہوا،موقعے کی تاڑ میں رہتا ہے۔بھلا یہ بتاؤ کِسے خبر تھی ولیم جلال آباد کا اسسٹنٹ کمشنر بن کر آ رہا ہے؟ سوائے اس حرام خور کے۔
ولیم جیپ میں بیٹھ چکا،جس کا انجن کچھ دیر پہلے ہی رسہ گھما کر سٹارٹ کر دیا گیا تھا، تو وِکرم بیگ پکڑ کر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر سمٹ گیا،پھر نہایت اد ب سے بولا، سَراگر حکم ہو تو غلام آپ کو فیروز پور کی سیر کروا دے۔

 

وِکرم، مَیں فیروزپور نہیں دیکھنا چاہوں گا۔ولیم نے دو ٹوک اور سپاٹ انداز میں وکرم کی فرمائش کو رد کر دیا
اس کے بعد جیپ چل دی، جس کے پیچھے پولیس کی ایک جیپ مزید پروٹو کول کے لیے موجود تھی۔اس میں چھ سپاہی اور ایک تھانیدار تھا۔ پروٹوکول جیپ کو قانوناً ولیم کے آگے چلنا چاہیے تھا لیکن کچی سڑک پر گرد کی بہتات اور ولیم کو مٹی سے بچانے کے لیے یہ جیپ پیچھے ہی رکھی گئی۔

 

(5)

 

شیر حیدرکی خواہش تھی اُس کا بیٹا غلام حیدر کلکٹر بنے۔ اس سلسلے میں اسے میٹرک کے بعد لندن بھی بھیجا گیا مگر غلام حیدر نے وہاں خاص کامیابی حاصل نہ کی اور دو سال بعد ہی لوٹ آیا۔ویسے بھی ہندوستانیوں کا اِس معیار پر پورا اُترنا کچھ خالہ جی کا کھیل نہ تھا۔البتہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے کر گیا۔ شیر حیدر نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کوشش کی کہ غلام حیدر جلال آباد سے دُور رہے۔ وہ اُسے کسی طرح اقتدار کی حویلیوں تک لے جانا چاہتا تھا۔جس کے لیے بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب کچھ جلال آباد کے دیہاتوں سے دُور رہ کر ہی آ سکتے تھے۔اسی بات کے پیش نظر لاہور میں اس کے لیے ایک کوٹھی بنوا دی۔جہاں دو چار ملازم بھیج دیے گئے۔ اس طرح لاہور میں طویل قیام نے غلام حیدر کے مزاج میں ایک تہذیبی رچاؤ داخل کر دیا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی جس کے سبب اعلیٰ سوسائٹی اور کلبوں میں آمدورفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ انہی مشاغل میں بہت سے ایسے دوست نکل آئے جن کا تعلق اقتدار کے حلقوں سے تھا۔ ان میں خاص کر دو دوست میجر رچرڈ اور نواب افتخار غلام حیدر سے کچھ زیادہ ہی شیرو شکر ہو گئے۔میجر رچرڈ جو بعد میں کرنل بن گئے تھے،ایک دفعہ غلا م حیدر کے ساتھ سیر و شکار کے لیے جلال آباد بھی جا چکے تھے۔نواب افتخار کی زیادہ زمین بھی اِسی طرف تھی۔ اس لحاظ سے یہ ربط وضبط ایک ثلاثہ کی حیثیت اختیار کررہا تھا کہ اچانک نواب افتخار لندن چلا گیا اور چار سال تک اس کے واپس آنے کا امکان نہ رہا۔جبکہ کرنل رچرڈ کی پوسٹنگ بنارس ہو گئی۔ اس طرح یہ سلسلہ بیچ ہی میں رہ گیا البتہ اتنا ہوا کہ وہ جاتے جاتے ایک ولایتی بندوق بمعہ لائسنس غلام حیدر کو تحفے میں دے گیا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم تھی کہ اُس وقت ایک تو ولایتی بندوق کا دیسی آدمی کو ملنا مشکل تھا،دوم یہ کہ اُس کا لائسنس اِ س سے بھی زیادہ ناممکن بات تھی اور یہ دونوں کام کرنل رچرڈ نے کسی نامعلوم طاقت ور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے غلام حیدر کے لیے کر دیے۔ جن کی اجازت کم از کم نواب سے نیچے کسی کو ملنا ممکن نہیں تھی۔

 

اب شیر حیدر کی دفعتاً موت واقع ہوئی تو اس کا اکلوتا وارث ہونے کی وجہ سے غلام حیدر پر کافی ذمہ داریاں آ گئیں۔ چار ہزار یکڑ رقبے کو سنبھالنا اور علاقے کے بُرے بھلے کی خبر رکھنا آسان کام نہ تھا۔ زمینداری اور زمینوں میں کام کرنے والی رعایا اور ان کے درمیان پیداہونے والے بیسیوں جھگڑوں کا بار بھی غلام حیدر کے سر آپڑا۔ عمومی طو رپر قتل اور ڈکیتی کی واردات کے علاوہ اتنے بڑے رقبے میں رہنے والی رعایا سے گورنمنٹ بے نیاز سی ہو جاتی۔ ویسے بھی بڑے زمیندار کچھ تو اپنی ذیلداری کا بھرم رکھنے کے لیے اور کچھ گورنمنٹ کی نظروں میں اعتبار پانے کی غرض سے اپنی رعایا کے فیصلے عام طور پر خود ہی عدل سے چکا دیتے۔اس لیے زیادہ تر ایسے علاقوں میں امن و امان ہی رہتا۔یااگر کسی کے ساتھ زور زیادتی ہوبھی جاتی تو وہ صبر کر لیتا اور گورنمنٹ تک بات کم پہنچتی۔ پھر بھی مکمل طور پر ہر ایک کی خبر گیری کرنا کسی طرح آسان نہیں تھا۔ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ غلام حیدر کو ان معاملات میں تجربہ کچھ نہیں تھا۔ اس کی زندگی کسی اور ہی تربیت کا نتیجہ تھی۔اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کاروبار رفیق پاولی کو سونپ کر چند دنوں بعد لاہور چلا جائے گا۔ رفیق خود ہی مزارعوں کے ساتھ حساب کتاب کرتارہے گا۔ ویسے بھی شیر حیدر کی زندگی میں نوے فی صد کام رفیق پاولی نے اپنے ہی ذمے لے رکھے تھے اور اس سے زیادہ قابل اعتماد آدمی کوئی اور تھابھی نہیں۔ شیر حیدر اسے چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھتا تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ رفیق پاولی نے کبھی اُس کے اعتماد کو ٹھیس بھی نہیں پہنچنے دی تھی۔

 

شیر حیدر کی وفات کودو دن گزر چکے تھے۔ تمام برادری، شیر حیدر کے یاردوست اور غلام حیدر کے کچھ دوست۔اس کے علاوہ اردر گرد کی رعایا۔ سینکڑوں لوگ حویلی میں جمع تھے۔

 

حویلی کیا تھی، ایک چھوٹا سا قلعہ تھا۔ جس کی چار دیواری پچیس فٹ اونچی ضرور ہو گی،جوچھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ اس پچیس فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی دیوارپر، جس پر گھوڑا بھی دوڑ سکتا تھا، جگہ جگہ برج بنے ہوئے تھے اور برجوں پر چھوٹی چھوٹی محرابیاں اور طاق تھے۔ جن میں رات کے وقت لالٹینیں روشن ہو جاتیں۔ مرکزی دروازے کے سامنے ڈیوڑھی سو فٹ لمبی اور چالیس فٹ چوڑی تھی۔ یہ پچیس فٹ اونچی چھت والی ڈیوڑھی بے شمار ڈاٹوں اور محرابوں کے سہاروں پر دور تک چلی گئی تھی۔ اسی طرح ڈاٹوں کے ساتھ بے شمار طاق اور محرابیں بنا دی گئیں۔ یہاں بھی یہ طاق زیادہ تر لالٹینیں جلانے کے کام آتے۔لالٹینوں کے متواتر اٹھتے ہوئے دھوئیں سے سیاہ رنگ کا دبیز پلستر ڈیوڑھی کی دیواروں پر چڑھ گیا تھا۔ ڈیوڑھی چھوٹی سرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی۔ مگر اب نہ کوئی ان اینٹوں کا رنگ اور نہ ہی سائز بتا سکتا تھا۔ البتہ سیاہ دھوئیں نے اس آباد ڈیوڑھی کی ہیبت میں ایک طرح سے اضافہ ہی کیا تھا۔ ڈیوڑھی میں ہر وقت بیس چالیس لوگ بیٹھے رہتے۔ ان میں کچھ تو معذور اور بے گھر تھے۔ جن کا کام صرف تین وقت کھانا اور گپیں ہانکنا تھا۔باقی اِدھر اُدھر سے مسافر یا داستان گو آن پڑتے۔ ان سب کا روزانہ کا کھانا شیر حیدر کے ذمہ تھا۔ ایک دیگ صبح پک جاتی ایک شام اور اِن کا پیٹ بھر جاتا۔ کپڑا لتّا بھی عید بقرعید یہیں سے مل جاتا اور نہانے دھونے کو رہٹ وہاں جگہ جگہ تھے۔

 

ڈیوڑھی کے علاوہ دیوار کے ساتھ ساتھ چاروں طرف سو کے قریب کمرے تھے۔ان میں اجناس، غلہ اور ضرورت کی دوسری اشیاء بھری رہتیں۔ اسی احاطے کے درمیان سے ایک دیوار کھینچ دی گئی تھی، جس نے جنوبی سمت کے حصے کو پورے احاطے سے الگ کر دیا تھا۔اس کے اندر شیر حیدر کے اپنے رہنے کے مکان تھے۔ان مکانوں کی دیواریں بیرونی دیوار کی طرح مضبوط تو نہیں تھی البتہ آرائش کے اعتبار سے کہیں بہتر اور صاف تھیں۔

 

شیر حیدر کی عمومی مجلس زیادہ تر بیرونی احاطے میں رہتی۔ پیپل کے دو بڑے پیڑ حویلی کے بڑے صحن میں موجود تھے۔ اِن کا سایہ احاطے کے صحن کی آدھی جگہ گھیر لیتا۔ وہیں گرمیوں میں شیر حیدر کی پرانی چار پائی لگ جاتی۔ سینکڑوں مُوڈھے اور چار پائیاں سامنے پڑے رہتے۔ جن پر بیسیوں لوگ ہمہ وقت موجود خوش گپیوں میں اپنا وقت کاٹتے۔
یہ دن سردیوں کے تھے۔ اس لیے چارپائیاں پیپلوں سے کافی ہٹ کے مغربی دیوار کے ساتھ لگی تھیں اور احاطہ ایک ایکڑ کھلا تھا۔

 

آج شیر حیدر کے سوم کا ختم تھا۔ اس لیے مہمان سینکڑوں کی تعدادمیں جمع تھے۔اُن کی تواضع کے لیے پچاس کے قریب دیگیں حویلی کے باہر قطاروں میں چڑھی ہوئی تھیں اور صبح نو بجے ہی کا وقت تھا۔ دھوپ کی تمازت میں غلام حیدر چارپائی پر بیٹھا چاروں طرف سے پُرسہ دینے والوں میں گِھرا تھا۔سوم کے ختم کے بعد پگڑی باندھنے کی رسم تھی۔ جس کے لیے برادری والے سب دُور نزدیک سے اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس پس منظر میں ایک ایسا ماحول بن گیا،جس کے پس پردہ توالم کی کیفیت تھی لیکن ظاہر ی طور پر شادی کی سی فضا بن چکی تھی۔ہرکوئی شیر حیدر کے سابقہ کارنامے گنوا رہاتھا۔ کسی کو اس کا عدل و انصاف یاد آنے لگا۔کوئی رو رو کر بتا رہا تھا کہ کس طرح بہشتی نے اُس کی بیٹی کے جہیز کا بندوبست کیا۔ غلام حیدر سب کچھ بیٹھا خموشی سے سنتا رہا۔ زنانہ حصے سے بین کی آوازیں بھی کچھ کچھ دیر بعد اُس کے کان میں پڑ جاتیں۔ یہ رونے والیاں گاؤں کی زیادہ تر وہ عورتیں تھیں،جو اُن کی رعایا میں شمار ہوتیں اور غلام حیدر کی والدہ کو خاوند کا پرسہ دینے آئی تھیں۔ سب کچھ دھیمے سے چل رہا تھا، اچانک رفیق پاؤلی تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا غلام حیدر کی طرف آیا۔ چہرے پر پریشانی اور سراسیمگی نمایاں تھی۔ آتے ہی اُس نے چپکے سے غلام حیدر کے کان میں کچھ کہا۔ پھر وہ دونوں پیپل کے دوسری طرف مشرقی دیوار کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ غلام حیدر کی زندگی میں چونکہ اس قسم کا پہلا تجربہ تھا اس لیے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا جواب دے اور ایسی صورت حال میں کس ردعمل کا مظاہرہ کرے۔اُس نے فیقے سے کہا۔

 

چاچا فیقے، اب آپ ہی بتاؤ، ایسے معاملے میں کیا کرنا چاہیے؟ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بابا شیر حیدر اگر ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ اس کے سارے کام تو آپ ہی کرتے رہے ہیں۔

 

رفیق پاؤلی کے لیے یہ ایک سٹپٹانے والی کیفیت تھی۔ شیر حیدر کے وقت اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ فیصلے کر جاتا تھا تو فقط اس امید پر کہ مالک سر پر موجود ہے۔ کچھ غلط بھی ہو گیا تو سنبھال لیا جائے گا۔ یعنی اس کے بُرے بھلے کی ذمہ داری شیر حیدر پر ہی ہوتی لیکن اب معاملہ بالکل برعکس تھا۔ رفیق پاؤلی نے سوچا کہ اب اگر وہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کر جائے اور اُس کا نتیجہ غلط نکل آیا تو پھر نہ جانے کیا ہوکیونکہ غلام حیدر ابھی ناتجربہ کار لڑکا ہی ہے۔وہ لاکھ شہر میں رہتے ہوئے تجربہ کار ہو گیا ہو مگر شیر حیدر کی بات تو پیدا نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت حال میں ظاہر ہے معاملے کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔چنانچہ کچھ دیر اُلجھن کے ساتھ سوچتا رہا۔

 

غلام حیدر معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا ہے ’’رفیق پاؤلی نے بے کسی اور بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں پگڑی ایک طرف کر کے سر کھجایا‘‘ سودھا سنگھ سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اتنی اوچھی حرکت کرے گا۔ اس خنزیر نے عین پھوڑے کے اُوپر سٹ ماری ہے۔اِدھر سارا شریکا جمع ہے۔ اگر بات پھیلی تو لوگ پوچھ پوچھ کرکے کان کھا جائیں گے۔

 

چاچا رفیق اب تو اُس نے جو کرنا تھا کر دیا ’’غلام حیدر نے بے قراری سے کہا‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔بیس ایکڑ مونگی کی تو خیر ہے لیکن چراغ دین کے قتل کا کیا کریں۔ وہ بچارا تو بڑا وفادار ملازم تھا۔ جلدی کوئی حل بتا۔میرا دماغ تپنے لگا ہے۔

 

کچھ کرتے ہیں سردار غلام حیدر ’’رفیق پاولی دوربارہ سر کھجاتے ہوئے بولا۔پھر شریف کو آواز دی جو مہمانوں کو لسی پانی پلانے میں مصروف تھا۔ اس نے لسی کے جگ، گلاس وہیں رکھے اور بھاگ کر رفیق پاولی اور غلام حیدر کے پاس آ گیا۔ رفیق نے اسے کہا کہ ایک چارپائی اٹھاکر یہاں لے آ اور دیکھ، نیاز حسین کو بھی یہیں پر بُلا لے۔ اُس سے کچھ بات کرنی ہے۔

 

شریف نے تھوڑی دیر میں چار پائی دہکتے ہوئے سُرخ کوئلوں کے پاس مشرقی دیوار کے ساتھ رکھ دی۔ غلام حیدر اور رفیق تسلّی سے اس پر بیٹھ کر معاملات پر غور کرنے لگے، اتنے میں نیاز حسین بھی آ گیا۔ غلام حیدر نے نیاز حسین سے کہا بیٹھ جا اور جو کچھ ہوا ہے اُس واقعے کی صاف صاف تفصیل بتا لیکن ایک بات نہ بُھولنا، تمہارے جھوٹ بولنے سے معاملہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ جو نقصان ہوا اور جس طرح چراغ دین کا قتل ہوا ہے، یہ بات بہت آگے تک بڑھے گی۔اس لیے ابتدا ہی میں اگر غلطی ہو گئی تو کیس خراب ہو جائے گا۔ لہٰذا جو کچھ ہوا اور جیسے ہوا ہے وہ چھپانا نہیں۔نہ ہی واقعے کو بڑھا چڑھا کر بتانے کی ضرورت ہے۔ہم نے تمہارے چشم دید قصے پر ہی کیس کی بنیاد رکھنی ہے۔

 

نیاز حسین نے حقے کے دو تین کش لیے جس کا پانی کچھ ہی دیر پہلے تبدیل کیا تھا اور چلم میں نیا تمباکو ڈال کر اُس میں تازہ کوئلے رکھے گئے تھے۔ اُسے تمباکو کی کڑواہٹ ایک سرور سا دے گئی۔ مزید دھواں پھیپھڑوں میں لے جانے کے لیے اس نے دو تین کش مزید لے کر حقے کی نَے ایک طرف کر دی۔

 

بات بھائی جی یہ ہے، نیاز حسین نے واقعہ سنانا شروع کر دیا ’’گیدڑوں اور سوئروں سے مونگی کی راکھی کے لیے مَیں اور چراغ دین روز کی طرح رات وہیں پر رُک گئے۔ سوئروں سے بچنے کے لیے کہ سوتے میں ہمیں پھاڑ ہی نہ کھائیں،چار بانس زمین میں گاڈ کر ہم نے اُس پر لکڑیاں باندھیں اور اُس کے اُوپر پرالی پھینک کر چھ فٹ اونچا چھپر سا بنا لیا۔ اِس پر چڑھ کر رکھوالی کے لیے لیٹ جاتے۔اِس میں ایک اور فائدہ بھی تھاکہ اونچا ہونے کی وجہ سے دور تک نظر جاتی تھی۔ میں پورے کھیت کا چکر لگا کر آگیاتھا۔پھرریگلے سے دو تین پٹاخے بھی مار دیے کہ گیدڑ ویدڑ بھاگ جائیں۔ رات کے دو پہر نکلے تھے۔ دُھند نے چاندنی ختم کر دی تھی۔ پٹاخے مارکر ابھی میں نے ریگلا چھپرکے بانس کے ساتھ لگایا ہی تھا کہ دُور سے ہمیں کچھ کُھسر پھسر سُنائی دی۔ یہ جانور نہیں تھے بلکہ انسانوں کی آوازیں تھیں۔ پہلے تو مجھے شک پڑا، کوئی راہ گیر ہیں مگر پھر جب تھوڑی ہی دیر بعداندھا دُھن مونگی کے کھیت میں دبڑ دبڑ ہونے لگی تو میں نے کہا،چراغ دین دشمن آ گئے۔ اسی لمحے بے شمار قدموں کی آواز آنا بھی شروع ہو گئی۔ایسے لگا مونگی میں درانتیاں چل رہی ہیں۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی ڈانگوں پر چَھو یاں چڑھا لیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ منظر کچھ واضح نہیں تھا۔پھر بھی سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ بے شمار آدمی تھے۔ کچھ انّھے مُنہ مُونگی کاٹ رہے تھے،کچھ مونگی کے گٹھڑ اُٹھا کر گڈوں پر لاد رہے تھے۔ ہم حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ چراغ دین نے کہا، نیازے اِن کو للکار مار۔ سچی بات تو یہ ہے مجھے اتنے بندوں کو دیکھ کر حوصلہ نہ ہوا۔ مَیں نے کہا، بھائی چراغ دین ہم دو ٹیٹرو کیا کر لیں گے مگر وہ نہ مانا، کہنے لگا، نیازے یہ نہیں ہو سکتا۔ کل ہی ہمارا مالک فوت ہوا ہے اور آج اس کی فصل اُجڑ جائے ہماری آنکھوں کے سامنے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ساری عمر شیر حیدر کا نمک کھایا ہے۔ میں تو انھیں جیتے جی مونگی نہ لے جانے دوں گا۔ کل کو لوگ کیا کہیں گے، دیکھو شیر حیدر کا عمر بھر کھاتے رہے، آج موقع آیا تو نمک حرامی کر دی۔ مُنہ د کھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کیا لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم چوڑیاں پہن کے بیٹھے تھے؟

 

میں نے کہا، بھائی چراغ دین یہاں سوائے موت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہ تو کوئی پچاس بندے ہیں۔ لیکن صاحب جی چراغ دین نہ مانااُس نے سرہانے سے اپنا صافا اُٹھا کر اُسے کس کے سر پر باندھا، چھَوی چڑھی ہوئی ڈانگ پکڑی اور للکارتے ہوئے دشمنوں کی طرف چھلانگ ماردی۔سردار غلام حیدر !میں سمجھ گیا تھا، چراغ دین کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ اُس نے میری ایک نہیں سُنی۔جیسے ہی یہ بھاگ کر اُن کی طرف گیا، انہوں نے فوراً اُس پر بر چھیوں کا مینہ برسا دیا اور چراغ دین شوہدے پر لوہے کے پہاڑ گرنے لگے۔ بس ایک دو پَل میں ہی رَت کے پرنالے بہہ گئے۔ میرے تو ساہ سوکھ گئے اور میں بھاگ کے اُسی چھپر کے نیچے پڑی چارپائی، جو اس لیے رکھی تھی کہ بارش وارش ہو تو چھپر سے اُتر کر چارپائی پر لیٹ جائیں، مَیں اُسی کے نیچے چھپ گیا۔کچھ اندھیرا اور کچھ دُھند، اس لیے میرا اُن کو کچھ پتا نہ چلا۔ بس میں خوف کے مارے چار پائی کے نیچے لیٹا ساہ دبائے اُن کے واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے سنتا رہا۔اسی طرح تین گھنٹے گزر گئے۔وہ میری آنکھوں کے سامنے مونگی کا اُجاڑا کرتے رہے اور گڈوں پر لادتے رہے۔ حتیٰ کہ صفایا کر کے چلتے بنے۔ میں گِن کے صحیح صحیح تو نہیں بتا سکتا مگر بیس چھکڑے ضرور تھے۔ اِدھر گڈے مونگی لے کر چلے، اُدھر میں چارپائی کے نیچے سے نکلا، بھاگ کر چراغ کے پاس آیا۔ بچارا اُلٹے مُنہ پڑا تھا۔ میں نے سیدھا کیا، دیکھا تو اُس کے ساہ پورے ہو چُکے تھے اور زمین پر خون کے نِگال جم گئے تھے۔ میں نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا اور فوراً چادر لپیٹ کر جو دھاپور سے نکل پڑا۔ چوہدری صاحب، بھاگم بھاگ یہاں آ گیا۔ خدا گواہ ہے بارہ میل کی راہ میں سانس تک نہیں لی۔ جودھا پور کے یار محمد کو بتا آیا ہوں۔ وہ بندے لے کر لاش کے پاس پہنچ گیاتھا۔ ایک بندہ تھانے اطلاع کے لیے بھیج دیا ہے۔ شاید پولیس بھی اب تک آگئی ہو۔

 

نیاز حسین جیسے جیسے کہانی سناتا گیا، غلام حیدر کے چہرے کارنگ کئی پرتوں میں بدلتا رہا اور شدید غصے سے کپکپاہٹ اس پر طاری ہوتی رہی۔ پھر ایک دم یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا، چاچا فیقے عصر تک یہ قل فاتحہ کو نپٹاؤ۔ اس سے زیادہ دیر نہ کرنا اُس کے بعد سودھا سنگھ کو ایک پیغام بھیج دو اور چراغ دین کے بچوں کے لیے پانچ سو روپیہ لیتے جاؤ۔ اُن کے سر پر ہاتھ رکھو۔ اِس طرح وارثوں کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ عصر کے فوراً بعد جودھا پور روانہ ہو جاؤ اور سب خبریں خود لے کر آؤ۔ میں تحصیل جا کر کمشنر صاحب سے بات کرتا ہوں۔

 

سودھا سنگھ کو کیا پیغام دوں؟رفیق پاولی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا‘‘

 

یہی کہ سکھڑے اب واہگرو سے جو مدد مانگنا ہے مانگ لے کیونکہ موت اسے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔غلام حیدر نے غصے سے شدید نفرت پیدا کرتے ہوئے کہا،جیسے کہہ رہا ہو کہ میں تیرے واہگرو کو بھی دیکھ لوں گا۔

 

رفیق پاولی ایسی صورت حال میں جلد بازی کا قائل نہیں تھا۔لیکن نیاز حسین نے میدان جنگ کا ایسا نقشہ کھینچا کہ غلام حیدر کے تیور جو تھوڑی دیر پہلے اعتدال پر تھے، بڑی حد تک بگڑ گئے۔ اس سے پہلے کہ رفیق غلام حیدر کو کچھ مشورہ دے وہ اٹھ کر جلدی سے حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

تھوڑی ہی دیر میں اس واقعے کی خبر مہمانوں سے لے کر گاؤں کے ہر چھوٹے بڑے کو ہو گئی۔ ماحول میں دوبارہ ایک ماتمی کیفیت کا احساس در آیا اورلوگ شیر حیدر کی داستانوں کو چھوڑ کر تازہ صورت حال پر تبصرے کرنے لگے۔جس میں غلام حیدر کے رد عمل کا کوئی صحیح تعین نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ یہ طے تھا کہ حالات کسی برُی صورت کا رخ کرنے والے ہیں۔ ڈیوڑھی اور احاطے میں لوگوں کی تعداد،جو پہلے ہی کم نہ تھی، بڑھ کر دگنی ہو گئی۔ باتیں اس تسلسل میں گونجنے لگیں جیسے شہد کی مکھیوں کے غول اُڑ کر نکلے جا رہے ہوں اور ہر کام میں بے چینی در آئی۔ وہ تو خیر ہوئی چراغ دین کی لاش جودھا پور ہی میں تھی ورنہ وہ بھی سارے کا سارا گاؤں یہیں آ پڑتا۔ حویلی کے ہر کام میں ایک پُراسرار وحشت پیدا ہو گئی۔ نوکروں سے لے کر متعلقین تک کے قدموں میں بوجھل پن کی کیفیت تھی، جو اُن کے دلوں پر وزن بڑھا رہی تھی۔ خاص رفیق پاولی کی ذہنی حالت بہت تذبذب میں تھی۔ شیر حیدر کے ہوتے ہوئے اُسے اطمینان ہوتا کہ مشورے میں کجی بھی ہوئی تو فکر کی بات نہیں۔ کام غلط ہو جانے پر شیر حیدر سنبھال سکتا ہے مگر غلام حیدر کا معاملہ دوسرا تھا۔ وہ ابھی ان معاملات میں بالکل کورا تھا۔ اِس لیے رفیق پاولی کو اب اپنے کسی فیصلے پر اعتماد نہ تھا۔ شاید کچھ دن بعد وہ اعتماد لوٹ آتا مگر یہاں تو سر منڈلاتے ہی اولے پڑنے والی بات تھی۔ اِدھر وقت گزرنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ رفیق پاولی کی نظر دیوار کے سائے پر تھی،جو صدیوں سے رُکا کھڑا تھا۔ وہ سر جھکائے اسی سوچ میں غرق تھاکہ آخر اچانک سودھا سنگھ کو کیا سوجھی ؟کچھ دم بھی نہ لینے دیا۔ اُسے اس قدر فکر مندی میں دیکھ کر نیاز حسین نے کہا،فیقے بھائی آخر کیا ہوا ؟حوصلہ کر،ہمارے سر پر ابھی غُلام حیدر ہے نا۔کیا ہوا جو شیر حیدر زندہ نہیں۔غلام حیدر بھی تو اُسی کا بیٹا ہے۔ دیکھ لینا، سکھڑوں کو کیسا سبق دیتا ہے؟

 

نیاز حسین کی با ت سُن کر رفیق پاولی نے سر اُوپر اٹھایا اور بولا نیاجے، تو نہیں جانتا، اب بات یہاں رُکنے والی نہیں ہے۔ یہ تو سودھا سنگھ نے ابھی للکار دی ہے۔مَیں جانتا ہوں، اُس کے سینے میں کتنا کینہ بھرا ہوا ہے۔ اُسے د یکھ کر پتا نہیں کون کون سے سنپولیے سِریاں نکال لیں گے۔ مجھے تو غلام حیدر کی زندگی کی فکر پڑ گئی ہے۔ اتنا کہہ کر رفیق پاؤلی اٹھ کھڑا ہوا اور جانی چھینبے کوپاس بُلا کر سارا پروگرام سمجھا دیا کہ پگ بندی کے بعد انھیں جودھا پور جانا ہے اس لیے وہ تیاری کر لیں۔

 

نیاز حسین نے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فیقے ہمت کر ہم تیرے پیچھے ہیں۔ جو گزرے گی، مولا کے سہارے بھگتیں گے۔

 

اِسی عالم میں دو بج گئے۔صحن میں دور تک دریاں اور چاندیاں بچھ گئیں۔ ختم نیاز کے لیے پھل اور چاولوں کی پراتیں الگ تھیں۔جنھیں کاڑھے ہوئے ریشمی غلافوں سے ڈھانک دیا گیا۔ مولوی صاحب بھی آ چکے تھے۔ غلام حیدر سامنے بیٹھ گیا تو مولوی نے سورہ الحمد سے تلاوت شروع کی۔ تمام خلقت جو کم سے کم چھ سو کے لگ بھگ تھی، چاندنیوں پر بیٹھ گئی۔ آیات کی تلاوت نے پوری خلقت اور خاص کر غلام حیدر کے دل میں سوز کی کیفیت پیدا کر دی۔ قرأت کچھ اِس ملائمت سے جاری تھی کہ فی الوقت تکدّر دُور ہو گیا۔ غلام حیدر سمیت تمام لوگ تازہ حادثے کو بھول گئے اور طبیعتوں میں ٹھہراؤ سا آ گیا۔ اسی عالم میں شام کے تین بج گئے۔ غلام حیدر کے سر پر پگڑی باندھ دی گئی۔ رعایا اور رشتے داروں نے آگے بڑھ کر وفاداری کے حلف دیے۔ رفیق پاولی اس سارے عمل کے دوران سرخوشی کے عالم میں کھڑا تھا۔ دوسری طرف لوگ نیاز کھانے میں مصروف تھے،جو کئی دیگوں پر مشتمل تھی۔چار بجے غلام حیدر اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے دلاور کے ساتھ صبح ہی شاہ دین کو تھانہ گروہرسارپورٹ درج کروانے بھیج دیا تھا۔ لیکن یہ محض سرسری قانونی خانہ پری تھی جوغیر اہم ہونے کے ساتھ ا ہم بھی تھی۔

 

چار بجے ٹھیک رفیق پاولی شیدے، جانی چھینبے، سلام علی اور گامے کے ساتھ جودھا پور روانہ ہو گیا تاکہ معاملے کی پوری جانچ لے کر آئے اور چراغ دین کی بیوی کو غلام حیدر کی طرف سے پُرسہ بھی دے۔ اِدھر رفیق جودھا پور کی طرف روانہ ہوا،اُدھر غلام حیدر زنانے میں چلا گیاکیونکہ پانچ بج چکے تھے اور یہ تحصیل کا دفتری وقت نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سارے دن کی کِلکِل اور شور شرابے سے دماغ بھی بوجھل ہو چکا تھا اور اب نیند کے جھولے آنے شروع ہو گئے تھے۔اس لیے تحصیل جانے کا پروگرام کل پر ملتوی کر دیا گیا۔

 

یہ خبر غلام حیدر کو آج ہوئی کہ چودھراہٹیں کرنی کتنی مشکل ہیں۔غلام حیدر گھر میں داخل ہوا تو رونے والیوں کا شور ایک دم بڑھ گیا۔ پہلے جو عورتیں غلام حیدر کی والدہ فاطمہ بانو کے گرد جمگھٹا کیے بیٹھی تھیں، اُٹھ کر غلام حیدر کے چوفیرے ہوگئیں۔کوئی اُسے روکردِکھانے لگی،کوئی سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ کچھ ادھیڑ عمر اور بوڑھی عورتیں گلے لگ کر روئیں۔ عورتوں سے فارغ ہو کر وہ بڑی مشکل سے اپنی ماں کے پاس پہنچا،جو سفید چاندنی کے فرش پر سر تا پا سفید لباس میں سوگوار بیٹھی تھی۔ غلام حیدر ماں کے پاس بیٹھا تو وہ بھی بیٹے کے گلے لگ کے رونے لگی۔ لیکن یہ رونا دھونا چند ہی منٹ جاری رہا کیونکہ شیر حیدر کو فوت ہوئے آج تین روز ہو چکے تھے جس میں بہت کچھ غم ہلکا ہو گیا تھا۔ دوم بے شمار عورتوں کی مسلسل تعزیت اور پرُسہ داری نے فاطمہ بانو کو بھی تھکا دیا تھا۔چنانچہ غلام حیدر چند منٹ بیٹھنے کے بعد سونے کے کمرے میں آ گیا۔

 

اگلے دن صبح چھ بجے غلام حیدر کی آنکھ کھلی۔ وہ نہا دھو کر باہر نکلا تو طبیعت بحال ہو چکی تھی۔ حویلی میں مہمان کچھ آگ کے گرد بیٹھے حقہ پی رہے تھے،کچھ چائے کی پیالیوں سے چسکیاں لے رہے تھے۔ غلام حیدر کو دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھ کر سلام کرنے لگے۔ فیقا ابھی تک نظرنہیں آیا تھا۔غالباً وہ جودھا پور سے ابھی نہیں لوٹا تھا۔ غلا م حیدر نے ملازم سے کہا،چار پائی آگ کے پاس لے آئے جہاں لوگ حقہ پینے میں مصروف تھے۔ تھوڑی دیر میں غلام حیدر سب کے ساتھ گھل مل گیا اور سانحات کو بھول کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ جبکہ دوسرے آدمی اُسے اُس کے باپ کے واقعات سنانے لگے حتیٰ کہ آٹھ بج گئے اور فیقا اپنے ساتھیوں سمیت حویلی میں داخل ہو ا۔ اس کے بعد وہ، رفیق پاولی اور چھ سات خاص بندوں کو لے کر دوسرے کونے میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگا۔ تمام لوگ رفیق پاولی کے گرد جمع ہو گئے۔ ہر آدمی واقعے کو پہلے سے ہی جانتا تھا مگر رفیق پاولی کی حیثیت زیادہ معتبر تھی۔ اس لیے لوگ مزید نئی خبر کی توقع رکھتے تھے، جو رفیق اُن کے خیال میں ہر حالت میں لے کر آیا ہو گا۔ جب ہجوم بہت زیادہ اُن کے گرد اکٹھا ہو گیا تو رفیق پاولی نے سب کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔ اتنے زیادہ چھکڑے اور آدمی، سب کے کُھرے جھنڈو والا کی طرف جاتے ہیں۔ میں نے کھیم نگر سے کھوجی بھی ساتھ لے لیے تھے۔ ہر ایک نے غور سے اور جانچ کر کے یہی نتیجہ نکالا کہ اِس کا ذِمہ دار سودھا سنگھ ہے۔چار بندوں کے پیروں کے نشان تو کھوجیوں نے پہچان بھی لیے،جو کئی جگہ چوری چکاری میں پکڑے گئے تھے۔ وہ خاص سودھا سنگھ کے ہی بندے ہیں۔ دمّا سنگھ، ہاسو وٹو، رنگا اور متھا سنگھ۔متھا سنگھ مَنّا پروَنّا بدمعاش ہے، جس کے کُھرے کھوجی نہیں بھول سکتے۔ یہ خاص سودھا سنگھ کا بندہ، علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ ہے۔ پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے۔ سودھا سنگھ ہر مشکل کام اسی سے لیتا ہے۔ سُنا ہے کئی بندوں کا قاتل ہے۔ ڈانگ سوٹے اور کرپان چلانے کا اتنا ماہر کہ اکیلے ہی دس دس بندوں کو پھٹڑ کر کے صاف نکل جاتا ہے۔ باقی کے تین بھی بہت خطرناک ہیں۔ سودھا سنگھ کسی کو سٹ پھینٹ بھی انہی سے لگواتا ہے اور تھانے کچہری میں اُن کے پیچھے امداد بھی اِسی کی ہوتی ہے۔ باقی تین میں رنگا سب سے خطرناک ہے۔ سٹ مارنے میں ڈھیل نہیں کرتا۔ کھوجی اس کے قدموں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ اگر مزید پوچھ گچھ کرنی ہو تو مَیں اُنھیں ساتھ ہی لے آیا ہوں۔ ڈیوڑھی میں بیٹھے ناشتہ کر رہے ہیں۔چاچا رفیق تم بھی ناشتہ کر لو ’’ غلام حیدرنے اٹھتے ہوئے کہا‘‘ تھوڑی دیر آرام کرو پھر ہم نے تحصیل جاکراسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کرنی ہے۔سنا ہے، کچھ ہی دن پہلے ایک اسسٹنٹ کمشنر نیا نیا آیا ہے۔ میرا خیال ہے، ابھی اُس کے کسی سے تعلقات نہیں ہوں گے۔ ہمیں ٹھیک دس بجے تحصیل پہنچ جانا چاہیے۔ یہ کہہ کر غلام حیدر اٹھ کر حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔

 

دس بجے تین بگھیوں کے ساتھ مزید پانچ گھوڑوں پر سوار یہ قافلہ جلال آبادتحصیل کمپلیکس کی طرف چل دیا۔ غلام حیدر کے پاس بندوق تھی۔ باقی سب کے پاس ڈانگوں کا اسلحہ وافر تھا۔ برچھیاں اور کُلہاڑیاں البتہ ساتھ نہ رکھ سکتے تھے کہ اُن ہتھیاروں کی ابھی تک کھلی اجازت نہیں تھی اور تحصیل کچہری میں تو بالکل بھی نہیں تھی۔ قافلہ جیسے ہی تحصیل کی طرف روانہ ہوا، ہر طرف جوش و خروش کی لہر پھیل گئی۔ گاؤں والے گویا اپنی یتیمی کے احساس کو نئے طاقت ور مالک کی آمد کے احساس میں دبا چکے تھے۔ وہ اس شان و شوکت کی سواری کوحویلی سے نکلتے دیکھ کر اپنے اندر ایک نئی طاقت محسوس کرنے لگے اور شیر حیدر کے دکھ کوفی الحال بھول سے گئے۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان۔ گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-11
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بھری بھری سانسوں کی آواز آرہی تھی، جیسے نرخرے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہو، بلغم یا پھر کٹھل کا کوئی بیج۔ مرنے والا ایسی سانسیں نہیں لیتا۔ بدلتے ہوئے گہرے سرد اور ہلکے سرخ اجالے میں ایک شخص اپنی ہی کھال کی پوشاک پہنے ہوئے بستر پر الٹا پڑا تھا، کولہوں پر سے ڈولتی ہوئی ایک سفید رنگ کی چادر اس کو اور زیادہ لائق دید بنارہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ آس پاس کی ساری چیزیں اسے گھور رہی ہیں، دیکھ رہی ہیں اور مستقل اس کے وجود میں اپنے نکیلے اور تیز ناخن اتار کر اس کو لہو لہان کردینا چاہتی ہیں۔ آس پاس بکھری ساری کھردری اشیا کو اس بدن سے الجھن ہورہی تھی۔ بستر اور بدن کے درمیان گونجتی ہوئی دھک دھک کی صدا نے پورے ماحول کو موت کی آہٹوں سے ہم آہنگ کردیا تھا۔ ہواؤں کا تجسس پھیکا پڑتا جارہا تھا کیونکہ وہ کب سے بند دروازے سے اپنا سر مارے جارہی تھیں، باہر ڈرائنگ روم کا دروازہ بھٹم بھاٹ کھلا ہوا اتھا، جیسے کوئی چور اچکا اس پورے شہر میں نیندوں کی پھیلتی ہوئی سیاہی میں غوطہ نہ لگانا چاہتا ہو۔شراب کی ایک بوتل دروازے کے پاس چٹخی ہوئی پڑی تھی اور اس کا ڈولتا ہوا بے روح وجود بار بار دروازے کے سٹاپر سے ٹکرارہا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے پوری فضا غنودگی میں ہے، ہر شے کی پلک بھاری ہے اور نیند کی بلیا ں اپنے پھولے ہوئے ، گدگدے جسم کے ساتھ اس خاکی قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی ہیں، آوازوں پر چونک کردیکھنا اور پھر اپنے منہ کو بغل میں دبا لینا، کب سے اس ہلکی شفق مائل اداس کردینے والی دنیا میں یہی کھیل تماشا جاری تھا۔لیکن باہر ڈرائنگ روم میں کوئی وجود اپنے سائے سمیت صوفے کے نیچے اپنا ایک ہاتھ پھیلائے دراز تھا، اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ساکت جسم کی بے جان پتلیاں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جان نکل چکی ہے۔ ہونٹ ہلکے اودے ہورہے تھے اور ننگے بدن پر پھیلے ہوئے ، گول اور چکنے سینے میں کھنچی ہوئی سبز رگوں کے جال پر لگتا تھا کسی نے کبودرنگ چھڑک دیا تھا۔کمر دو چار بار پھڑکی تھی اور ایک ننھا کیڑا ہتھیلی سے رینگتا ہوا بغل کے باریک پسے ہوئے بھورے گچھے کی طرف کسی گھونگھے یا کچھوے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ سیلنگ فین یوں چرچرارہا تھا جیسے کسی بات پر خفا ہو، اس کی ناراض نگاہوں میں دھول جمی ہوئی تھی ، اچانک نیچے پڑے ہوئے وجود کے پاؤں اکڑنے لگے، تمام انگلیاں ایک معدوم رسی سے باندھ کر کھینچی جانے لگیں، انگلیاں خون کے انجماد سے گھبرا کر پچکنے لگیں، کیا وہ خون کا انجماد تھا یا کچھ اور، لگتا تو یہی تھا۔ مگر لگنے سے کیا ہوتا ہے۔اچانک اس وجود کے نتھنوں سے چنگھاڑتی ہوئی ہوا نکلی، آنکھوں کی سٹی ہوئی پتلیوں میں حرکت پیدا ہوئی ، گال سرخ ہوگئے، کان کی لویں گہری لال اور سینے کے پھیلے ہوئے ننھے ننھے راستوں کے نقشے پر سے نیلے تھوتھیے کو جھاڑ کر گویا کسی نے کنارے سے لگادیا، اب وہاں پھر وہی سبز رنگ کی شام مسکرانے لگی، جس میں نیلاہٹ کے اجلے آثار صبح اور دوپہر کے ملے جلے رنگوں کی طرح اپنی نکھری ہوئی صورتیں ابھارنے لگے۔

 

این نے گھبراکر آنکھیں کھولیں، اپنے گال پر دو طمانچے مارے اور اس بات کی تسلی کی کہ وہ زندہ ہے، اس کی سانس اپنے پورے جوبن سمیت جسم کی اینٹوں میں چنی ہوئی ہے۔وہ مسکرائی،ایک لمبی سانس اس نے باہر کی سمت دھکیلی اور پھر ایک خیال کے آتے ہی دوبارہ اداسیوں کی پگڈنڈی پر رینگنے لگی۔اچانک اسے محسوس ہوا جیسے بغل میں کسی نے زور کی چٹکی لی ہے، بلبلا کر اس نے ایک سرعت میں میلے بھورے سے لپٹے ہوئے ایک ننھے وجود کو ہوا میں اچھال دیا، کچھ بال بھی ٹوٹ گئے تھے، اور جس جگہ چٹکی کا احساس ہوا تھاوہاں ایک سوجن زدہ سرخ دھبہ اجاگر ہوگیا تھا۔ وہ بغل اٹھا کر ترچھی نظروں سے دیکھنے لگی اور جب آنکھوں کا وجود اس دھبے کی گولائی کو پوری طرح اپنے دائرے میں لینے سے قاصر رہا تو این نے انگلیوں کے پوروں پر سجی اور سلی ہوئی بے شمار ننھی ننھی آنکھوں کو اس کام پر لگا دیا۔وہ نہ جانے کب تک اپنی بغل کو سہلاتی رہی۔ہلکی ہلکی گدگدی اور اداسی نے اس کے اندر ہنسی اور مایوسی کی بالکل متضاد اور مختلف دھاراؤں کو بدن کی ندی میں گرایا، آخر کار اس نے تنگ آکر گدگدی کے آبشار سے خود کو الگ کر لیا اور دھپ سے زمین پر لیٹ کر دوبارہ مایوسی کے اندھے غار میں گم ہو گئی۔

 

این جس رات صدر کے پاس آئی تھی، وہ مل نہیں سکا تھا، کسی دوست کے یہاں تھا، گھر میں تالا تھا، چنانچہ اس نے بھری رات کے پیٹ میں اتر کر پھیلی ہوئی سڑکوں کی آنتوں پر مجبوری میں ایک غلیظ ہوٹل کا سہارا لیا۔اس ہوٹل میں پوری رات وہ ایک بدبودار کمرے میں بیڈ پر ہلکی روشنی کا لباس اوڑھ کر عریاں حالت میں سوچتی رہی کہ صدر سے سامنا ہونے پر آخر کیا کیا باتیں ہونگی۔وہ ضرور ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی غلط بھی تو نہیں ہوگی۔وہ اور کچھ بھی سوچنا چاہتی تھی، مگر بدبو کا اثر اتنا گہرا تھا کہ دماغ پوری طرح اس کے شور میں ڈوبنے لگا، قریب ساڑھے چار بجے وہ بے تاب ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور اسی ننگی حالت میں رسیپشن پر چلی گئی، سیڑھی پر ایک گیلے اور گہرے اور سرمئی رنگ کے کتے نے اسے دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا، وہ اس کے برابر سے نکلی تو وہ ڈر کر بھاگا اور اپنے چکنے وجود سمیت لکڑی کی سیڑھیوں سے پھسلتا ہوا زمین پر گرا، اور بھاگتا ہوا رسپشن کے پیچھے چلا گیا ، اس کے منہ سے اب بھی ہلکی ہلکی غاؤں غاؤں نکل رہی تھی۔کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا، اس نے زور زور سے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجانا شروع کردی۔کئی بار دھاپ دھاپ کی گونج سے کتا سٹپٹا گیا، اسے لگا جیسے اس پر حملہ ہونے والا ہے، وہ دیوار سے چمٹ گیا اور اپنے ہی وجود میں سمٹتا ہوا بالکل خاموش ہوگیا، جیسے خوف سے اسے سکتہ سا ہوگیا ہو۔اس شور سے کئی لوگ ہوٹل کے کچے اور اوبڑ کھابڑ کمروں سے جو بالکل چھپکلی کے زہر سے بنائی جانےو الی ٹھرا شرابوں کے پیپے کی طرح زنگ آلود اور بدبو دار تھے، آنکھیں ملتے باہر نکلے اور جب انہوں نے دیکھا کہ ایک جوان لڑکی بالکل ننگی حالت میں کاؤنٹر پر کھڑی بری طرح چیخ رہی ہے تو کچھ زیر لب مسکرانے لگے، کچھ اس کی ہذیانی کیفیت پر افسوس کرنے لگے ۔عورتیں اس منظر کو دیکھ کر چیخنے چلانے لگیں، ایک آٹھ سالہ بچہ دوڑ کر کہیں باہر سے اتنی رات گئے نہ جانے کیسے ہوٹل میں آدھمکا، اس کے پیچھے پیچھے ایک پھیلی ہوئی توند والا شخص تھا، جس نے ٹائی اور سوٹ میں اپنے مختلف کھانوں اور مٹیوں سے بھرے ہوئے بدن کو کس کر باندھ رکھا تھا۔ایک دو بار اس نے لڑکی کو پکڑنا چاہا مگر جب وہ اول فول بکتی رہی تو اس نے ایک الٹا ہاتھ لڑکی کے منہ پر رسید کیا، جب تک پڑوس کی دکان میں بیٹھ کر گپ شپ کررہے رسپشنسٹ کو بھی اس ہنگامے کی بھنک لگ گئی، وہ دوڑ کر یہاں آیا تو لوگوں نے اسے بھی پیٹنا شروع کردیا۔رو رو کر اس نے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہا، لڑکی ایک دراز بینچ پر اوندھی پڑی ہوئی تھی، اس کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ الغرض اس تماشے کا سد باب اس طرح کیا گیا کہ پولیس کو بلا کر این کو اس کے حوالے کردیا تھا۔نتیجتا صبح سوا چار بجے تک وہ ایک کال کوٹھری میں جہاں بہت سے زندہ چوہے، اندھے پروں والے کاکروچ اور دوسرے بے نام کیڑے اڑتے یا رینگتے ہوئے محسوس ہورہے تھے، پڑی ہوئی تھی۔اس تماشے نے اس کے پورے وجود کو تھکا دیا تھا، اسے یاد آیا کہ اس کی کوٹ کی جیب میں ، جوپولیس والوں نے اسے زبردستی پہنایا تھا، ایک ایسا سفوف رکھا ہے، جس کو چاٹتے ہی وہ بہت دیر تک دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوسکتی ہے۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ ننھی سی پڑیا نکالنی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ پھٹ گئی ہے اور ہلکے سبز رنگ کا وہ سفوف گہری جیب کے دھاگوں سے بری طرح الجھ گیا ہے۔بہرحال اس نے دو بار چٹکیوں میں جیسے تیسے یہ سفوف بھرا اور گلے میں انڈیل لیا۔

 

اس کے بعد ایک رنگ برنگی ، چمپئی اور بسنتی اداسی کے دو قوی ہیکل جوانوں نے اس کے دل پر بید یں بجانی شروع کردیں ، ان بیدوں سے بڑی مترنم مگر بوفر کی گہری اور حملہ آور آوازیں پیدا ہونے لگیں۔اسے لگا جیسے یہ جوان بیدیں برساتے ہوئے ، دل کو ساز بنا کر کوئی گیت گارہے ہیں ،مگر یہ گیت سننے کے لیے اسے پوری طرح خود کو ان لہروں میں ڈبونا پڑا، مگر اب الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔

 

تیرے دل میں پیتل کے جو پتے ناچ رہے ہیں
دھمم اور گھگھر گھگھر جو کیڑے ناچ رہے ہیں
بیلیں، جو پنڈلی سے لے کر چھاتی کو
ہلکے ہلکے ڈھانپ رہی ہیں
سانسیں جو روحوں کے جل تھل میں
کھانس رہی ہیں، کانپ رہی ہیں

 

اب وہ ان دونوں قوی ہیکل جوانوں کے بالکل نزدیک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں جوان ایک ہی شکل و صورت کے تھے، انہوں نے ماتھے پر انگوچھے باندھ رکھے تھے اور ان کی سفید سلکی لنگیاں، ایسے مشاقی سے بندھی تھیں جیسے پہلوان لنگوٹ باندھا کرتے ہیں، بھرے ہوئے بدن پر ایک کالے رنگ کی بنڈی تھی، دھپ دھپ کی آوازیں زوردار ہوتی جارہی تھیں، وہ جب بھی قدم آگے بڑھاتی تو اسے لگتا کہ وہ ایک پلپلے فرش پر پاؤں رکھ رہی ہے، جیسے بہت سے گدوں کو بچھا کریا بہت سی لاشوں کو سجا کر ایک فرش تیار کیا گیا ہو، وہ پھٹے ہوئے پیٹوں، جمی ہوئی چکنی اور سرد سانسوں اور کچلے ہوئے بھیجوں پر پاؤں رکھتی ہوئی ان دونوں جوانوں کے نزدیک پہنچ گئی، اور پھر ان دونوں جوانوں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا، بیک وقت، وہ دو وجود تھے، ایک نہیں مگر وہ اس کی رانوں پر ہلکے ہلکے چٹکیاں لے رہے تھے، اس کی سسکیا ںپھوٹنے لگیں، ایک بہت تیز سیاہ رنگ کے بھبھکے والی سانس نے اس کی پوری حلق کڑوی کردی، اس کی آنکھوں میں دھواں بھر گیا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی زبان پر ایک لجلجا جھینگا تیر رہا ہو، ان دونوں جوانوں نے اس کی شلوار کو جوش میں چیر دیا اور اپنے مضبوط آلہ تناسل کو اس کے جسم کے دو نچلے اور نہایت پتلے ہونٹوں میں پھنسا کر وہ پھر سے دھپ دھپ کا شور بلند کرنے لگے۔اف کتنا شور تھا، اب یہ پورا شور اس کے پستانوں سے ہوتا ہوا، بدن کے ہر گوشے میں پھیلتا جارہا تھا، وہ چیخنے لگی، اسے لگا جیسے وہ اب بھی اسی ریسپشن پر کھڑی زور زور سے ٹیبل بجارہی ہے۔ اچانک اسے لگا کہ ایک گرم ابلتی ہوئی ہانڈی میں اس کا منہ رکھ دیا گیا ہے، اور ان دونوں جوانوں نے اپنے ننگی ہتھیلیوں کو اس کے کوٹ کے اندر چمکیلی اور چکنی پیٹھ سے چپکا دیا ہے، اسے لگا جیسے اس کی رانوں پر سگریٹ کا دھواں چھوڑاا جارہا ہو، گرم، گیلا اور بے حد سفاک و سفید دھواں، جوا س کے وجود کو ایک بڑی سی ہانڈی میں حلیم کی طرح گھول رہا ہو، گھوٹ رہا ہو۔ اس کی سانسیں پھنسنے لگیں، اس نے پھڑپھڑا کر اس پورے کرب آمیز منظر سے نکلنا چاہا تو زبان پر بیٹھا ہوا وہ لجلجا جھینگا، سانپ بن گیا اور اس کے تالو، زبان، زبان کی نچلی اور اوپر پرت، حلق میں دھنسے ہوئے کوے اور داڑھوں کی باریک سوراخوں تک میں اپنا زہر چھوڑنے لگا۔
آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔وہ پولیس سٹیشن کیسے پہنچ گیا ، جب وہ دونوں باہر نکلے تو اس کے پورے وجود میں ایک درد بھرا نشہ اترا ہوا تھا، اس نے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے صدر سے بس اتنا پوچھا
تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟

 

‘تمہیں پڑوس کی بلڈنگ کے ایک چوکیدار نے دیکھ لیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ کوئی لڑکی میرے گھر گئی تھی، میں نے دماغ پر کافی زور دیا اور پھر یکدم تمہارا خیال آیا، پتہ ہے تم کب سے ہو یہاں؟’
‘کل صبح تو لائے ہیں مجھے؟

 

‘ہمم۔۔۔۔تین دن ہوچکے ہیں ، بڑی مشکل سے مجھے اس ہوٹل کا پتہ چلا جہاں تم نے ہنگامہ مچایا تھا۔’
این کسی بھاری مجرم کی طرح خود کو گھسیٹ کر چل رہی تھی، صدر نے ایک آٹو کیا اور دونوں واپس اس کے فلیٹ میں پہنچ گئے۔
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – چوتھی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شاہد لاہور سیکریٹیریٹ کے لان میں بیٹھا اپنی سفارش کا انتظار کر رہا تھا۔ لوگ اپنی درخواستیں اور سفارشیں لئے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے یا درختوں کے سائے میں بیٹھے کاہلی سے گپیں لگا رہے تھے۔گرمی عروج پر تھی،دوپہر کا سورج عین سر پر آگ برسا رہا تھا اور پسینہ چوٹی سے ایڑی تک بہہ رہا تھا۔پسینے میں تر کپڑوں کی چپ چپ،مکھیاں،انتظار اور بے زاری۔اس کے ایک دور پار کے واقف نے اسے امید دلائی تھی کہ وہ ایڈشنل سیکرٹری صحت سے کہہ کر لاہور کے کسی قریبی گاؤں میں اس کی تقرری کروا دے گا۔میو ہسپتال میں اس کا ہاؤس جاب ختم ہو رہا تھا ،سرکاری ملازمت میں آنے کے لئے اسے پنجاب کے کسی دیہاتی مرکزِ صحت پر تین سال گزارنے تھے جس کے بعد وہ لاہور کے کسی ہسپتال میں نوکری کی امید کر سکتا تھا۔

 

عرفان ہاؤس جاب مکمل کرنے کی بجائے ایک امریکی گرین کارڈ کی مالکہ سے بیاہ رچا کر امریکہ جا چکا تھا۔ہوائی اڈے پر الوداع ہوتے اس نے بیان دیاتھا کہ وہ بے تکے اور ادھ پکے نظریات کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ چکا تھا، وہ دولت، عزت اور آسائش کی زندگی چاہتا تھا جو قسمت آزماؤں کی سرزمین پر اس کی منتظر تھی۔

 

راشد کی ماں کی ناگہانی وفات کے بعد شاہد اپنے دوست کی بہت دن دلجوئی کرتا رہا۔ راشد کی ماں اچانک وارد ہونے والے ہارٹ اٹیک سے جانبر نہ ہوسکی، ہسپتال کے رستے میں ٹریفک کے اژدہام میں پھنسی اپنے ڈاکٹر بیٹے کی کار میں اس نے دم توڑ دیا۔ اس کا تارک الدنیا خاوند جنازے پر کہیں نظر نہ آیا۔

 

جرمنی میں مقیم راشد کے ایک چچا نے اس کا داخلہ فرینکفرٹ یونیورسٹی میں کروا دیا تھا۔ تلخی اور غم سے بھرا اس کا پرانا دوست جرمنی میں میڈیکل سافٹ وئیر کی تعلیم کے لیے جا چکا تھا۔

 

توفیق کی کوئی خبر نہ تھی، فائنل امتحان کے بعد وہ اپنے آبائی شہر پارا چنار چلا گیا تھا اور ان کے راڈار سے مکمل غائب تھا۔

 

ناہید کے لیے اس کی یک طرفہ خاموش محبت کے زخم پروقت کی گرد جم گئی تھی لیکن زخم مندمل نہیں ہوا تھا۔ گرم،ویران سہ پہر کے سناٹے میں ہسپتال کی کینٹین کے باہر بیٹھے،خزاں کی شام میں موٹر سائیکل پر نہر کے ساتھ گزرتے،اپنے سیلن زدہ کمرے میں مٹی اور پلاسٹر کے مجسمے بناتے ، کینوس سے باہر نکلتی ناہید کی ایک اور نئی تصویر کے سامنے کھڑے اسے اپنی احمقانہ محبت کی یاد مضطرب اور اداس کر دیتی۔ناہید کا اتہ پتہ معلوم کرنے کی اس نے کبھی کوشش نہ کی۔وہ اب اس کی انگلیوں کی پور پور میں رہتی تھی۔

 

اس کے والدین کا اصرار تھا کہ وہ ہاؤس جاب ختم کرتے ہی شادی کرلے، اس کے مستقل انکار پر انہوں نے اسے یہ اجازت بھی دی کہ وہ اپنی پسند سے شادی کر سکتا تھا۔ شاہد کا ایک ہی جواب تھا کہ اس سے اس موضوع پر گفتگو نہ کی جائے۔
گھنٹہ بھر سفارش کے انتظار سے اکتا کر وہ ملازمت کی درخواست سنبھالے متعلقہ سیکشن افسر کے کمرے کی جانب روانہ ہوا۔کمرے میں اس جیسے اور کئی نوجوان ڈاکٹر کاغذوں کے پلندے اٹھائے میزوں،ملاقاتیوں اور چائے کی پیالیوں کے درمیان چکراتے پھر رہے تھے۔ کافی دھکم پیل اور تگ و دو کے بعد وہ سیکشن افسر کو مخاطب کرنے میں کامیاب ہوا۔
“جگہیں تو ساری پْر ہو گئیں ڈاکٹر صاحبــــ”،سیکشن افسر نے رجسٹروں کے انبار سے نظر ہٹائے بغیر تمسخرانہ رعونت سے اسے مطلع کیا۔

 

“جگہیں ساری پْر ہو گئیں؟ابھی تو تقرریاں شروع ہوئی ہیں، اور یہ اتنے سارے لوگ جو درخواستیں لئے پھر رہے ہیں یہ کدھر جائیں گے؟” شاہد بدحواسی سے بولا۔

 

“آپ اپنی بات کریں ڈاکٹر صاحب، دوسروں سے آپ کو کیا لینا دینا”، سیکشن افسر نے اسی رعونت سے کہا۔

 

“ اپنی ہی بات تو کر رہا ہوں، نوکری چاہئیے مجھے”۔شاہد کے لہجے میں غصے کی لہر تھی۔

 

“ گرمی کھانے کی کوئی ضرورت نہیں، میں اخلاق سے بات کررہا ہوں آپ سے”۔

 

“ یہ کس قسم کا اخلاق ہے؟ غلط بیانی کررہے ہیں آپ،جگہیں کیسے پْر ہوگئیں؟”۔

 

“ ڈاکٹر صاحب گرمی سردی رہنے دیں، الزام تراشی کر رہے ہیں آپ صاحب پر” سیکشن افسر کے پاس بیٹھے لمبے تڑنگے آدمی نے اپنی حکم دینے کی عادی آواز میں مداخلت کی،یہ یقیناکسی کی سفارش کرنے آیا تھا۔

 

یکایک شاہد کو خیال آیا کہ کچھ بھی کہنا سْننا بیکار تھا، اسے سفارش کے بغیر یہاں آنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ غصے،مایوسی اور خودترسی سے بوجھل وہ سیکشن افسر کے کمرے سے باہر نکل آیا۔

 

باہر کاریڈور میں وہ روہانسا اور نیم بدحواس سا کچھ دیر ادھر ادھر پھرتا رہا۔سرکاری نوکری نہ ملی تو کیا کروں گا،کسی نجی ہسپتال کے لاللچی اور مکروہ مالک کی انگلیوں کے اشارے پر ناچتا رہوں؟کہیں چھوٹا موٹا کلینک کرلوں اور وہیں اسی کرسی میں زندگی گزار تا مر جاؤں؟کلینک بنانے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

 

اچانک اسے کاریڈور کے سرے پر اپنا واقف نظر آیا جس کے آنے کی امید وہ ختم کر چکا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس کے مربی نے بتایا کہ اس کے گاؤں سے کچھ لوگ آگئے تھے، ڈکیتی کا معاملہ تھا، سفارش کے لئے اسے ان کے ساتھ ڈی ایس پی کے دفتر جانا پڑا جس وجہ سے اسے دیرہو گئی۔شاہد نے اسے سیکشن افسر سے اپنی جھڑپ کی روئیداد بیان کی۔

 

“ ڈاکٹر صاحب اس ملک میں سیدھی طرح بھی کبھی کوئی کام ہوا ہے؟ کوشش ہی فضول ہے،” اس کے واقف نے عمومی انداز میں اظہارِ خیال کیا۔اس نے شاہد کو بتایا کہ ایڈشنل سیکرٹری سے اس کی ذاتی واقفیت نہ تھی، کسی کے حوالے سے کام کروانا تھا۔ایڈشنل سیکرٹری کے دفتر کے پاس پہنچ کر اس نے شاہد سے کاغذات لیے اور اسے باہر انتظار کرنے کا کہہ کر اندر چلا گیا۔ شاہد دیوار سے ٹیک لگائے معاشرے کی اخلاقی اور سیاسی بدحالی پر کْڑھتا رہا۔ اسی طرح کے ہو جاؤ جیسے سب ہیں،سوچو مت،دیکھو مت،کہو مت،شاہد علی، صرف اس منجن کی ترکیب سوچو جس سے اپنے دانت تیز کر سکو اور کاٹو! انسان، کتا،بلا جو راہ میں آئے خون پی جاؤ اس کا،بھیڑیوں کے غول میں بھیڑیا بنو یا زمین میں گڑھا کھود کے گھس جاؤ اس میں۔تھرپارکر سے ادھر توگڑھا کھودنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی،وہ تلخی سے دل میں ہنسا۔

 

“ڈاکٹر صاحب مبارک ہو، کام ہو گیا،” اسے اپنے واقف کی آواز سنائی دی،”چک بھمبراں کے سنٹر میں آپ کی تقرری ہو گئی ہے”۔

 

“ وہ کہاں ہے؟”

 

“ پاکستان ہی میں ہے، شکر کریں نوکری مل گئی ہے، بڑی بڑی سفارشوں کا زور ہے، بس مالک نے عزت رکھ لی، نوکری کا چارج لیں بعد میں تبادلہ کی کوشش کر لیں گے”۔

 

“چک بھمبراں ہی ٹھیک ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہے، شایدوہاں گڑھا کھودنے کی جگہ مل جائے،” شاہد اس سے تقرری کا پروانہ لیتے ہوئے احسان مندی سے ہنسا۔

 

سیکریٹیریٹ کی دہشت ناک عمارت سے نکل کر اس نے اپنی بوسیدہ موٹر سائیکل کا رُخ اندرون شہر کی طرف کیا۔ ویگنیں، بسیں، رکشے، تانگے،موٹر سائیکلیں، سائیکلیں،سکوٹر، چھکڑے، ٹرک ایک دوسرے پر اپنی اپنی تیزرفتاری کی دھاک بٹھاتے،گرمی سے پگھلی تارکول پراپنی لہریے دار چال کے نقش ثبت کرتے سرپٹ بھاگ رہے تھے۔ان سب لوگوں کو کہیں پہنچنے کی شدید جلدی تھی جہاں پہنچ کر انہوں نے آرام سے بیٹھ جانا تھا اور فوری طور پر اس تیزی اورعجلت کو اپنے ذہن سے محو کردینا تھا جس میں وہ چند لمحے پیشتر پوری سنجیدگی سے جان داؤ پر لگائے ہوے تھے کہ اس تیز رفتاری کا مقصد کسی فریضے سے جلد از جلد عہدہ برآ ہونا ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ ان کے گرمی،مصالحوں،طیش اور انا کی پھپھوندی سے بنے خمیر سے اٹھتی بھاپ کے آزاد ہونے کاذریعہ تھا۔

 

موچی دروازے کی گلیوں میں داخل ہو کر اس نے کچھ اطمینان کا سانس لیا، بازار میں یہاں بھی کم ہڑبونگ نہ تھی، لیکن ذیلی گلیوں میں گرمی نسبتاً کم تھی اور یہاں وہاں بندھے بکروں اور نالیوں کے پاس لیٹی بلیوں اور گرم فرش پر ننگے پاؤں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے اکا دکا بچوں کے علاوہ سنسانی تھی۔اپنے مکان پر پہنچ کر اس نے موٹرسائیکل مختصر سی تنگ اوراندھیری دیوڑھی میں کھڑی کی۔ یہ تنگ سا تین منزلہ مکان اسی عجز اور محبت سے اردگرد کے مکانوں سے بغلگیر تھا جیسے اندرون لاہور کے دوسرے سارے مکان ایک دوسرے میں سرایت کئے ہوئے تھے۔

 

گھر میں اس کی ہمشیرہ اور بہنوئی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ آئے ہوے تھے،بچے اس سے بہت مانوس تھے اور فوراً ہی اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے، ان کا اصرار تھا کہ وہ انھیں چڑیا گھر کی سیر کروائے ،ابھی وہ ان سے ٹال مٹول کر رہا تھا کہ خاور بھی آگیا،وہ ٹیلی فون کے محکمے میں ملازم تھا اور اپنی اوسط درجے کی تنخواہ میں گھر کا خرچ چلا رہا تھا، ان کا باپ جس کی گھر کے قریب ہی کریانے کی دکان تھی پچھلے چند سالوں سے مختلف بیماریوں میں مبتلا رہنے لگا تھا اور اس کے کاروبار میں باقاعدگی نہ رہی تھی۔ ہسپتال سے ملنے والے شاہد کے قلیل وظیفے نے گھر کی مالی حالت کو کچھ سہارا دیا تھا۔ خاور کی شادی چار سال پہلے خاندان میں ہی ہوئی تھی،ماں ہر نماز کے بعد باقاعدگی سے اس کے لیے اولاد کی دعا کرتی۔

 

خاور نے آتے ہی شاہد سے ملازمت ملنے کے بارے استفسار کیا۔ کامیابی کی خبر سنتے ہی اس کے چہرے پر جمی مشقت کی گرد اُڑ گئی۔ ہمشیرہ اور بہنوئی نے مبارکباد دی۔ ماں یہ سن کر آزردہ ہوئی کہ اس کی تقرری ضلع جھنگ کے کسی دورافتادہ گاؤں میں ہوئی تھی۔

 

“ اتنے برسوں بعد خدا خدا کرکے تُو گھر آیا تو اب پھر چل دیا، تُو نے انہیں کہا نہیں کہ تجھے لاہور میں نوکری دیں؟”

 

“آپ کے خدا نے سفارش ہی نہیں کی امی” شاہد ہنسا۔ “ اس طرح نہیں کہتے بیٹا، نماز پڑھا کرو،دعا مانگا کرو، اللہ بڑا کارساز ہے”، اس کے باپ نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔

 

“جتنی دعائیں اور کراہیں اس دھرتی سے اٹھتی ہیں اگر انہیں کاغذوں پر لکھ کر آسمان پر چپکا دیا جائے تو آسمان بھر جائے، چھاؤں ہو جائے اس دھرتی پر”، شاہد تلخی سے بولا۔

 

“ دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا، ڈاکٹر بننے بھیجا تھا اس کالج میں،کفر کی ڈگری لے کے آیا ہے وہاں سے”،خاور غصے

 

سے بولا۔
“بھائی جان غصے نہ ہوں مُنے بھائی پر”، بہن نے مداخلت کی،” اتنی گرمی میں سیکریٹیریٹ کے دھکے کھاتا پھرا ہے دماغ تو خراب ہونا ہی ہے بیچارے کا”۔

 

خاور کی بیوی سکنجبین سے بھرا ڈول لیے کمرے میں داخل ہوئی،” بھیڈُو!”، وہ پانچ سالہ بھانجے کو مخاطب کر کے بولی،” جا باورچی خانے سے گلاس لے کر آ ٹھنڈا کریں ان کو”۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پہلی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32 ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دور تک پھیلا سمندرمنظر سے خالی ویسا ہی بے لطف تھا، جیسا کئی دنوں کی مسافت میں اُس کا وہ بڑا حصہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اُس کی وجہ سے وہ بیزار کر دینے والی تھکاوٹ میں مبتلا رہا۔ اب ساحل قریب آرہا تھا تو اُس پر جذباتی کیفیت طاری ہوگئی۔ آنکھوں کے پردوں پروسطی پنجاب کی یادیں تصویر یں بناتی چلی گئیں۔ مال روڈ پر موجود پُر آسائش بنگلہ، مامائیں، خادم اور دیگر ملازموں کی فوج ایک ایک کر کے یاد آنے لگی۔ آٹھ سال کا عرصہ کم نہیں تھا،جب وہ اپنے باپ،ماں اور گھر سے دور انگلستان کی اکتا دینے والی تعلیم اور ٹھٹھرا دینے والی سردی کے گھوروں میں بیٹھا انتظار کاٹتا رہا اور لڑکپن کی ہواؤں کو تصور میں لاتا رہا۔ مامائیں بابا لوگوں کو اپنے حصار میں لیے لارنس باغ میں آتیں۔ ایک ایک نخرے پر ہزار طرح سے جاں نثار ہوتیں۔ اُدھر جب بابا جان اورانگریزی سرکار کے افسر جیپوں پر دورے کو نکلتے تو دیسی لوگوں پر کیسی حسرت طاری ہوتی۔ وہ اُن کی تمکنت کو سڑک کنارے کھڑے پچکے ہوئے چہروں پر ٹکی اور بھنچی ہوئی بے نور آنکھوں سے تکتے رہ جاتے۔ یہاں تک کہ جیپ زنّاٹے سے اُن کے سروں پر خاک پھینکتی نکل جاتی۔ اُسے یاد آیا، جب وہ اپنے والد کے ساتھ اُن کے دفتر جاتا تو کس طرح آفس میں کام کرنے والا عملہ خوشامد کو آگے بڑھتا۔ چاکلیٹ اور عمدہ مٹھائیوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ آدھا دفتر سب کام چھوڑ کر اسی فکر میں ہولیتا کہ بابا لوگ کی خوشی حاصل کرے۔ کیا عیاشیاں تھیں، ایسے ایسے پھل جن کی یورپ میں مہک تک نہیں پہنچی، بنگلے کے ڈرائنگ روم میں پڑے سوکھا کرتے۔ نہ کوئی فکر نہ فاقہ۔ ہر کام سے آزاد ایچی سن کالج کے برگدوں کی لمبی ٹہنیوں پر جھولا جھولتے سارا وقت کٹ جاتا۔ زندگی میں اُن دنوں سوائے مزے کے کچھ نہ تھا۔ پھر ایک دن جب بابا جان نے بتایا کہ اُسے اپنی تعلیم کے سلسلے میں انگلستان جانا ہے تو اُسے کتنا برا لگا۔ بہت رویا پیٹا لیکن بابا نے ضد کو پورا کیا۔ آج اُسے اُن کا فیصلہ ٹھیک نظر آرہا تھا۔ آٹھ سال کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا تھا۔ اگرچہ سردی اور روکھی پھیکی زندگی نے اسے کئی دفعہ بیزارکیا اور وہ فوراً ہندوستان بھاگنے کو تیار بھی ہوا لیکن کیتھی نے اُسے اِس حرکت سے باز رکھنے میں بڑا کردار ادا کیااور آج جب وہ اسسٹنٹ کمشنربننے کے لیے امتحان پاس کر کے ہندوستان میں داخل ہو رہا تھا تو کیسا سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اُس نے سوچا دیسی لوگوں پر حکومت کرنے میں کتنا مزہ ہے۔ اِدھر انگلینڈ میں میں تو کوئی تمیز ہی نہیں۔ سب کام اپنے ہاتھ سے کرنا پڑتے ہیں۔ کھٹ بھیّے اور بھنگی تک بات نہیں سنتے مگر جیسے ہی ہندوستان کی ہوا لگتی ہے، بندہ ایک دم نواب ہوجاتا ہے۔ زندگی کا لطف تو بس ہندوستان ہی میں ہے۔ اُس نے سوچا، اب میں کبھی انگلستان کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ دوسال بعد کیتھی کوبھی بلا لوں گا پھر ساری عمر مزے سے کمشنری کریں گے۔

 

دادا ہالرائیڈ کے بعد اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر بنا اور اب اُسے بطورِ اسسٹنٹ کمشنر، لاہورسے اپنی پوسٹنگ کے آرڈر لینا تھے،جس کے لیے ابھی ایک سال مزید بطور ٹرینی ادھر اُدھر کی نوکری کرنی تھی لیکن یہ ایسی کڑی شرط نہیں تھی،جسے پورا نہ کیا جا سکتا۔ یہ ولیم کے لیے سرشار کر دینے وا لا خوش کن منظر تھا۔ آٹھ سال بعد اُسی جگہ وہ حکومت کرنے جارہا تھا،جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ پھر اُسے نہری کوٹھیوں میں گزرے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ اُس وقت وہ ابھی چھ سال کا تھا۔ اکثر اپنے دوست ایشلے کے ساتھ کھیلتے کھیلتے لڑپڑتا۔ پھر آپ ہی آپ صلح ہو جاتی۔ وہ اکٹھے سکول بھی جانے لگے تھے اور ایک دوسرے کے بغیر اداس بھی ہو جاتے لیکن اب اُس نے کتنے برس ایشلے کے بغیر نکال لیے تھے۔ کیا موسم تھے، جب نہروں کے کنارے چھتنار درختوں کے سایوں میں مامائیں اُس کو لیے پھرتیں۔ برگد کے پیڑوں سے بندھے جھولوں پرپینگیں جھولاتیں۔ نہروں کا پانی، برگدوں سے لٹکے جھولے اور آموں کے باغوں سے پھوٹتی خوشبو اُسے کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ جب دادا مقامی لوگوں کے ہاتھوں بلوے میں قتل ہواتو اُسے گوگیرہ چھوڑنا پڑا۔ گورنمنٹ نے اپنا ضلعی دفترگوگیرہ سے اُٹھا کر منٹگمری منتقل کر دیا۔ پھرجب تین سال بعد جانسن کو منٹگمری کا ڈپٹی کمشنر بنادیا گیاتو وہ اُسے اپنے ساتھ منٹگمری لے گیا اور وہاں چارسال تک رہا۔ اس عرصے میں جانسن کے ساتھ کئی بار گوگیرہ میں سیر کے واسطے آیا۔ یہاں آ کر اُسے سکون مل جاتا۔ گوگیرہ جو اُس کے پردادا ہی کے نام پر تھا، اپنی دل فریبی میں اُسے کبھی نہ بھولا۔ وہ جانسن کے ساتھ گوگیرہ آتا تو اکیلا ہی ڈاک بنگلے سے نکل کر مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اُس وقت کتنا مزا آتا،جب دیسی ملازم اور گارڈ فکرمندی میں حفاظت کے لیے اُس کے ارد گرد بھاگتے پھرتے۔ اُس وقت شرارتاً وہ اپنے گھوڑے کو ہلکے ہلکے بھگا دیتا اور لمبی سنگینوں والی بھاری بندوقیں پکڑکر پیچھے بھاگتے ہوئے گارڈز کودیکھ کر لطف اُٹھاتا۔ اُن میں سے کئی ہانپتے ہانپتے گِرپڑتے تو وہ نظّارہ لوٹ پوٹ کر دینے والا ہوتا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں بھی اُنھیں دیکھتیں اورہنس ہنس کر دوہری ہوجاتیں۔ آموں کا موسم تو اُسے کبھی فراموش نہیں ہوسکتا تھا،جس کے لیے اُس کے دادانے خاص انتظام کیا تھا۔ وہ اُس کا تصور کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہنے لگا،کیا جنت کا منظر تھا۔ تین نہروں کے درمیان دو سو ایکڑ پر موجود آموں کے گھنے سیاہ باغ۔ اگست ستمبر کے دنوں میں اُس باغ میں کوئلوں اور پپیہوں کی جان نکال دینے والی بولیاں اور راگنیاں جو تیز بارشوں میں کچھ اور تیز ہو جاتی تھیں،اُس کے لیے ایک ہری بھری جادو نگری تھی۔ اس جادو کی نگری کے بیچوں بیچ دو ایکڑ رقبے پر ان کا وہ سُر خ انیٹوں سے کھڑا کیا ہوا شاندار بنگلہ۔

 

دادا کہا کرتے تھے، بھلے وقتوں میں اُس پر نو لاکھ خرچ آیا تھا۔ جیسی بنگلے کی شان تھی، خیال ہے، یہ بھی کم بتاتے تھے۔ اُنہوں نے اُس کا نام نو لکھی کوٹھی رکھ دیا تھا۔ دادا جان نے بڑی نہر سے ایک چھوٹی نہر کاٹ کر، جوسانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی جاتی تھی، بنگلے کے صحن سے گزارتے ہوئے ایک کلومیٹر پرلے جاکر پھر اُسی نہر میں ڈال دیا تھا۔ لوئس نے دادا کے مرنے کے بعد اُس بنگلے کے پندرہ لاکھ لگا دیے لیکن بابا نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ سچ پوچھیں تو اُس کی بہت خوشی ہوئی۔ بنگلے میں ہوا کا ایسا نظام تھا کہ چاروں طرف کے برآمدوں میں گھومتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی، جن کی چھتیں پچیس فٹ تک بلند تھیں۔ اس لیے گرمی کا ذرا احساس نہ رہتا۔

 

انہی سوچوں میں وہ آموں کے ذائقے بھی محسوس کرنے لگا۔ آم کھانے میں جو رغبت تھی، اُسے بیان کرنے سے قاصر تھا۔ بس چاندی کے بڑے تھال آموں سے بھر کر برف ڈال دی جاتی۔ چند لمحوں بعد ٹھنڈے ہولیتے تو کیا میٹھے ذائقے زبان اور حلق سے ہوتے ہوئے سینے تک اُتر جاتے۔ لورین اور ماما تو اس موسم پر جان چھڑکتیں۔ آم کھا کر لسّی پی لیتیں پھر گھنٹوں سوتیں۔ ایسے میں کوئی اُنہیں انگلستان یاد دلاتا تو عجیب طرح سے منہ بسورتیں۔ خاص کر بابا اس وقت ضرور چھیڑتے کہ اگلے برس انگلستان چلے جائیں گے، تمہاری عادتیں خراب ہو رہی ہیں اور وہ آگے سے سو طرح کوستیں۔ انگلستان کو سرد جہنم اور نہ جانے کیا بُرے بُرے خطاب دیتیں،پھر شوخی میں آکر باباجان کو چمکاتیں کہ میں نہیں جاؤں گی۔ یہیں کسی نواب سے شادی کر لوں گی۔ اس پر بابا چمک کر ایک دم شٹ اَپ کہتے اور بڑھ کر ماما کا بوسہ لیتے۔ یہ منظر لورین اورمیرے لیے محظوظ کیفیت پیدا کر دیتا۔ ویسے یہ سب تو چھیڑ خانی تھی، ورنہ بابا ہندوستان کو کسی قیمت چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔ خاص کر وسطی پنجاب کے سر سبز میدانوں کو،جہاں اُن کے نوابوں کے سے ٹھاٹ تھے۔ ہزاروں مرغ، بٹیر اور گھوڑے پال رکھے تھے۔ بٹیر لڑانے کا شوق تو دادا کو بھی بہت تھا۔ حقے کا لپکا بھی اُنہی سے لگا۔ لوگ بابا کے اس شوق کو دیکھتے ہوئے ایک سے بڑھ کر ایک چاندی کا حقہ تحفہ میں لے کر آتے۔ کئی لوگوں نے اُسی تحفے کے عوض بابا سے کئی کئی زمینیں الاٹ کروالیں۔ خود اُنہیں بھی زمین خرید کر باغات لگوانے کا بے پناہ شوق ہے۔ راوی کے کنارے ہزاروں ایکڑ اُن کی ملکیت ہوں گے۔ اُس نے سوچا، سب سے پہلے نو لکھی کوٹھی پر جاؤں گا۔ پھر کیتھی کے لیے بھی،جب وہ ہندوستان آ جائے گی، تو اُسی کوٹھی میں رہائش کا انتظام کروں گا۔ دوسرے ہی لمحے اُسے پھر ماما کا خیال آ گیا۔ وہ دل ہی دل میں ایشلے،لورین، ماما اور باپ سے آٹھ سال بعد ہونے والی ملاقات کا تصور کر کے مزا لینے لگا۔ لورین کی شادی کی اطلاع اُسے انگلستان میں مل گئی تھی، جو بمبے میں ایک مشہور وکیل جیک سے تین سال پہلے ہوئی تھی۔ دونوں کلکتہ میں دو سال ایک ہی کالج میں پڑھے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے لیکن اُس کے ذہن میں لورین کی وہی صورت بیٹھی تھی۔ باغ میں ناچتے موروں کے پر چُننے والی اور کبوتر اڑا کر اُن کے درمیان دور تک بھاگنے والی پتلی اور نرم و نازک۔ پھر کچھ دیرولیم لورین کو تصور میں بھاگتے ہوئے دیکھنے لگا، سفید کپڑوں میں جیسے پری پھر رہی ہو۔

 

اِنہی خیالوں میں گم تھا کہ اُسے کپتان کی اناؤنسمنٹ سنائی دی،جو فاصلے، وقت اور جغرافیے کی معلومات دے رہا تھا۔ اعلان تو اُس نے غور سے نہیں سنا البتہ ماضی کی رَو سے چَونک اُٹھا۔ سورج غروب ہو رہا تھااور شام بالکل قریب تھی۔ اُسے احساس ہوا، وہ مسلسل تین گھنٹے عرشے پر کھڑا ماضی میں جھانکتا رہا،جس میں وقت گزرنے کا پتا نہ چلا تھا۔ پورے سمندر پرہولناک تاریکی چھا رہی تھی۔ پھر ایک دم بادل بھی چلے آئے اور بارش کا سامان بننے لگا۔ ہوا بھی تیز ہو چلی تھی۔ جہاز بمبے کی بندرگاہ کی طرف مسلسل بڑھ رہا تھا۔ وہ شاید کچھ دیر مزید عرشے پر کھڑا رہتا مگر سردی کی لہر تیز ہو چکی تھی اور بوندا باندی بھی۔ وہ آہستہ سے عرشے کے زینے اُترتا ہو ا کمرے میں آگیا۔ کیبن میں تین گھنٹے پہلے سِول سروس کے چھوکروں نے شراب پی کر جوہلڑ بازی مچا رکھی تھی، وہ اب ختم ہو چکی تھی۔ ہر ایک خاموشی سے ڈنر کی تیاری میں مصروف تھا۔ وہ اس سارے ماحول سے سخت بور ہو چکا تھامگر دو دن کا سفر تو اُسے بہرحال کرنا تھا کہ بمبئی ابھی دو دن کی مسافت پر تھا۔ وہ تھوڑی دیر کمرے میں بیٹھا پھر ڈنر کے لیے تیار ہونے لگا۔
2

 

مولوی کرامت گھر سے نکلا تو اُس کے قدم سیدھے نہیں پڑ رہے تھے۔ بار بار عصا پر دباؤ بڑھ جاتا۔ سَر میں شدید درد تھا۔ معدہ خالی ہونے کی وجہ سے اُس میں تبخیر پیدا ہو چکی تھی۔ اُسے رہ رہ کر فضل دین پرغصہ آ رہا تھا،جو ابھی تک روٹیاں لے کر نہیں آیا تھا۔ مولوی کرامت کو ڈر تھا، نماز پڑھاتے ہوئے گر نہ پڑے۔ صبح کے وقت ایک گلاس گُڑ والی لسی پی کر ظہر تک نبھانا بہت مشکل تھا۔ نماز کے دوران بھی پتہ نہیں وہ کیا پڑھتا رہا۔ تلاوت کرتے ہوئے کسی جگہ کی آیت دوسری جگہ پڑھ گیا تھا۔ وہ تو خیر تھی کہ ظہر کی نماز میں تلاوت بلند آواز سے نہیں پڑھی جاتی ورنہ بہت رسوائی ہوتی اور مقتدی مولوی کے دماغ پر شبہ کر لیتے۔ سجدے، رکوع اور قیام کے دوران مولوی کرامت نے فضل دین کو نہ جانے کتنی صلواتیں سنائیں اور اِن گاؤں والوں کو بھی، جو آرام سے پیچھے آ کر نماز تو پڑھ لیتے مگر یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ وہ بھوکا ہے یا پیٹ بھرا۔ اسی خیال میں اُسے حدیث یاد آئی، اگر نماز اور کھانے کا وقت ایک ہو جائے ہو تو پہلے کھانا کھا لو،بھوکے پیٹ نماز نہیں ہوتی۔

 

مولوی کرامت پچھلے تیس سال سے اس چھوٹے سے گاؤں کی مسجد کا پیش امام تھا۔ گاؤں کیا؟یہی سو پچاس گھروں کی چھوٹی آبادی تھی۔ پہلے پہل مولوی کرامت کا پردادا خدا یار چندہ مانگنے اور گداگری کرتے ہوئے یہاں آیا تھا۔ تب یہ مسجد خالی پڑی تھی۔ اُس نے اسی احاطے میں اپنی گُدڑی جمادی اور نماز پڑھنے لگا۔ گاؤں والے اول اول ترس کھا کر اُسے دو وقت روٹی دے دیتے۔ پھر رفتہ رفتہ دو چار لوگ اور بھی وہاں اُس کی دیکھا دیکھی نماز پڑھنے لگے۔ خدا یار نے ایک سال کسی مدرسے میں لگایا تھا۔ اس وجہ سے کچھ قرآن کی سورتیں یاد ہو گئیں اور نماز بھی آتی تھی۔ اُسی کے سہارے امامت شروع کر دی اور خود بخود گاؤں کا مولوی بن بیٹھا اور مسجد کی عملی شکل ترتیب پانے لگی۔ اُس کے مرنے کے بعد مولوی کرامت کا باپ احمد دین جانشین بنا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ نسل در نسل یہیں کے رہ گئے۔ مولوی احمد دین نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے کرامت کو ابتدائی قاعدے سپارے پڑھا کر باقاعدہ قصور کے ایک مدرسے میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا۔ یہاں مولوی کرامت نے چھ سال لگائے۔ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے تک عربی،فارسی اور اردو کاچنگا بھلا مولوی بن گیا۔ اسی ا ثنا میں مولوی کرامت کا باپ مولوی احمد دین ساٹھ سال کی عمر میں مر گیا۔ باپ کے مرنے کے بعد مولوی کرامت نے کہیں اور جانے کی بجاے اسی گاؤں کی مسجد کو امامت کے لیے تر جیح دی۔ اب وہ پورے پچپن کا ہو چکا تھا۔

 

گاؤں کے سو فیصد لوگ حقیقت میں ایک ہی جد کی اولاد تھے، جو وقت کے ساتھ مختلف خاندانوں میں بٹ گئے تھے۔ یہ سب اَن پڑھ اور سادہ لوح تھے۔ لوگوں کے پاس ملکیتی زمین دو دو یا چار چار ایکڑ سے زیادہ نہیں تھی،جس میں سبزیاں اور چھوٹی موٹی ضرورت کی چیزیں کاشت کرتے اور اُنہیں آٹھ میل پیدل،گدھیوں،گَڈوں یا چھکڑوں پر لاد کر قصور شہر میں بیچ آتے۔ ساری آبادی غریب افراد پر مشتمل تھی، جن کا گزارہ بھی مشکل ہی ہوتا۔ اس لیے مولوی کرامت کو پیسے کون دیتا؟اکثر اوقات اُس کی جیب خالی رہتی۔ البتہ عید کے روز قربانی کیے گئے جانوروں کی کھالیں، گاؤں کے مرنے والے بوڑھوں کے کپڑے، بستر اور چارپائیاں، شادی بیاہ میں نکاح کی فیس اور اِسی طرح سال کے سال گندم کی کٹائی پر تھوڑی بہت گندم ہر ایک اُن کو دے دیتا۔ مولوی کرامت یہ گندم شہر لے جاکر بیچ دیتااور کچھ پیسے کھرے کر لیتا۔ اس کے علاوہ روزانہ صبح اور شام کرامت کا لڑکا فضل دین، جو ابھی تیرہ چودہ سال کا تھا، پورے گاؤں سے روٹیاں اکٹھی کر لاتا۔ ہر گھر نے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا کہ وہ ایک روٹی فضل دین کو ضرور دے گا۔ اس طرح روزانہ مولوی کرامت کے گھر تیس چالیس روٹیاں جمع ہوجاتیں۔ اتنی روٹیاں وہ کھا نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ مولوی کے سوا اس کا بیٹا فضل دین اور بیوی شریفاں، یہ تین افراد کہاں تک کھاتے۔ باقی روٹیوں کو دھوپ میں سُکھا لیا جاتا۔ مہینے بعد وہ سب اکٹھی کر کے بڑی بڑی بوریوں میں بھر کے شہرمیں کھل بنولہ والوں کے ہاں بیچ آتے۔ جس سے اُن کے لیے مہینہ بھر کا نقد خرچ نکل آتا۔

 

گاؤں والوں سے روٹیاں اکٹھی کرنے کا کام فضل دین کرتا تھا۔ مولوی کرامت کی اُسے تاکید تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں جایا کرے تاکہ روٹیاں بڑی مقدار میں اکٹھی ہو جائیں مگر سو گھر کچھ کم نہ تھے۔ فضل دین بمشکل چالیس پچاس گھر ہی پورے کر پاتا۔ ایک مصیبت فضل دین کے لیے یہ تھی کہ روٹیاں مانگنے جاتا تو لوگ اُس سے گھرکام کروانا شروع کر دیتے۔ کوئی عورت روٹیوں کا تھیلا رکھوا لیتی اور دوکان سے سودا لینے بھیج دیتی، کوئی گائے کو چاراڈلوانا شروع کر دیتی۔ اس وجہ سے اُسے گھر پہنچنے میں کافی دیر ہوجاتی۔ گھر جاتاتو مولوی کرامت سیخ پا ہوتا کہ اتنی دیر کہاں کر دی؟ بعض اوقات دو چار چپتیں بھی لگا دیتا۔ ہر دو طرف سے فضل دین پر ہی مصیبت گرتی لیکن یہ تو اب معمول بن چکا تھا۔ فضل دین اس سب کچھ میں کوئی تکلیف محسوس نہ کرتا بلکہ گھر گھر کے طرح طرح کے کھانے شاید ہی کسی کو نصیب ہوں کہ فضل دین کے لیے نعمت سے کم نہیں تھے۔ دو سرا فائدہ یہ تھا کہ فضل دین کا علمی ذخیرہ گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ تھا۔ پورے گاؤں کے حالات کی اُسے لمحہ بہ لمحہ خبر رہتی۔ لاشعوری طور پر وہ گھر گھر کی خبروں سے آگاہ ہو رہا تھا۔ کسی نے جو کچھ بھی گاؤں کے دوسرے فرد کے متعلق پوچھنا ہوتا،فضل دین کو بلا لیتا۔ کس کے گھر میں کون مہمان آیا ہے؟ کس نے کس کے اوپر کیا الزام لگایا ہے؟ اسی طرح کی اکثر باتیں اُس کو پتا ہوتیں۔ فضل دین کی وجہ سے مولوی کرامت کا تجربہ بھی بڑھ رہا تھا۔ اُسے پتہ چل جاتا کہ اس وقت احمد بخش کے گھر سے لہسن منگوایا جا سکتا ہے اور شیر محمد کے ہاں باسمتی کے چاول وافر پڑے ہیں اور یہ کہ ِاس وقت اُس کا موڈ بھی ٹھیک ہے، مانگنے سے ضرور مل جائے گی۔ علاوہ ازیں آج خیر دین نے اپنے بیوی کو جھونٹوں سے پکڑ کر وہ تانبی(مارا) لگائی ہے کہ اللہ جانتا ہے،چور کو پڑتی تو وہیں مر جاتا۔ یہ سب باتیں ایک طرف، فضل دین اب اپنے باپ کے سوا گاؤں کے کسی بھی فرد سے زیادہ پڑھا لکھا بھی تھا۔ کئی کئی آئتیں، سورتیں اور تعویذ گنڈے کی رمزیں اس عمر میں وہ سیکھ چکا تھا۔ پور ی نماز،تراویح،حتیٰ کہ نماز جنازہ کی بھی کئی کئی دعائیں، جو اکثر مولویوں کو بھی نہیں آتی تھیں،وہ اِسے یا د تھیں اور مزید ترقی کر رہا تھا۔

 

اتنا زیادہ علم حاصل کرنے کا سبب یہ تھاکہ گاؤں میں کسی بھی فرد نے اپنی اولاد کو مولوی صاحب سے پڑھانے کی زحمت گوارا نہ کی تھی۔ نہ ہی مولوی ایسی کسی بدعت کو رواج دینا چاہتا تھا۔ اس کے تمام علمی سرمائے کی منتقلی صرف فضل دین تک محدود تھی۔ کریماں، بوستان، گلستان، دیوانِ حافظ، عرفی و خاقانی کے قصیدے اور ان کے علاوہ عربی کی ابتدائی کتابیں،گرائمر و صیغہ جات۔ یہ سب آہستہ آہستہ فضل دین کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔ مرغا ذبح کرنا، بچے کے کان میں اذان دینا تو فضل دین کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ مردے کو نہلانا، قبر، کفن اور جنازے کی معلومات بھی اب اُس کے لیے غیب کی باتیں نہ رہیں۔ مولوی کرامت نے جو کچھ اپنے باپ مولوی احمد دین سے پڑھا یا جو اُسے خود نہیں بھی آتا تھا، وہ بھی اُلٹا سیدھا امانت کی طر ح فضل دین کے سپرد کر رہا تھا، کہ اس خاندان کی بقا اسی پر تھی۔ ویسے بھی مولوی کرامت کا باپ کرامت سے اور کرامت کا دادا اُس کے باپ سے کم ہی پڑھے تھے اور ہر بعد میں آنے والا اُس علم میں اپنی ذاتی استعداد سے اضافہ کر رہا تھا۔

 

ہزار مشکل سے مولوی کرامت ظہر کی نماز پڑھا کر گھر آیا تو فضل دین روٹیاں لے کر آ چکا تھا۔ مولوی کا غصہ انتہاؤں پر تھا۔ تیزی سے عصا لے کر فضل دین پر ٹوٹ پڑا۔ فضل دین نے عصا اُٹھتے دیکھا توآگے بھاگ اُٹھا۔

 

ارے کم بخت کہاں جاتا ہے؟ ملعون صبح چھ بجے سے نکلا اور ظہر کر دی۔ خدا تجھے غارت کرے،تیرے جیسا حرام خور آج تک پیدا نہ ہوا’’ مولوی غصے سے بھاگتے ہوئے کانپ بھی رہا تھا”۔ تجھے خدا سمجھے یہاں گھر میں کچھ کھانے کو تھا؟ جو موت کے وقت واپس آیا۔

 

مولوی کو غصے میں دیکھ کر فضل دین سمٹ کردیوار سے لگ گیا اورتھر تھر کانپنے لگا۔ وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا،کیا جواب دے کہ عصا چھپاک سے فضل دین کے چوتڑوں پر لگا۔ شریفاں نے اُسے پٹتے دیکھا تو فوراََ دوسرا عصا پڑنے سے پہلے درمیان میں آگئی اور عصا ہاتھ سے کھینچ کر بولی،ہائے ہائے بد بخت بڈھے تیرے ہاتھ ٹوٹیں۔ خدا کوڑھی کر کے مارے، کیوں معصوم کی جان کا دشمن ہوگیا؟سارا دن گلی گلی پھر کر تیرا دوزخ بھرتا ہے، پھربھی تجھے صبر نہیں۔ مَیں جانتی ہوں، یہ لڑکا نہ ہوتا تو تُو بھوکا مرجاتا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو بازو سے پکڑ کر اپنی بغل میں لے لیا، جو عصا کھا کر ہاتھ سے چوتڑ سہلا رہا تھا۔
ہاں ہاں مَیں بھوکا مر جاتا،مولوی تڑپ کر بولا، جب تُو نے اِسے نہیں جنا تھا، تب میں مٹی کھاتا تھا؟پورے پچاس سال اسی گاؤں سے مَیں نے روٹیاں اکٹھی کی ہیں اور اب اگر اِسے لوگ دیتے ہیں تو میری ہی وجہ سے۔ مَیں نہ ہوں تو ماں بیٹا دونوں کسی روڑی(کچرا) سے چن کر کھا رہے ہوتے بلکہ وہ بھی نہ ملتی اور کتوں کی طرح باولے ہو جاتے۔ مولوی کرامت بِڑبڑا تا ہو ا چارپائی پر بیٹھ گیا، جس کی ادوائین ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ چارپائی کا بان سرکنڈوں کی باریک مونج سے بٹا ہوا تھا۔ گرمیوں میں سرکنڈوں کا بان جسم کو جس قدر ر احت اور ٹھنڈک پہنچاتا ہے،اُس کی مثال نہیں۔ مولوی کو ٹھنڈا پڑتے دیکھ کرشریفاں فضل دین کی طرف پلٹی اور اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا،کیوں بے تُو اتنی دیر کہاں لگا دیتا ہے ؟تیر ااس طرح کام کر نا مجھے بالکل منظور نہیں۔ تیر ی نالائقی اور کام چوری کی وجہ سے ہم ایک دن ضرور دانے دانے کو ترسیں گے۔

 

اماں لوگ کام لینا شروع کر دیتے ہیں،فضل دین منہ بسورتے ہوئے بولا، میں کیا کروں؟ انکار کرتا ہوں تو روٹیوں کا تھیلا اُتار کر رکھ لیتے ہیں۔ تب مجھے بات مانتے ہی بنتی ہے۔

 

کون کون ایسا کرتا ہے ؟شریفاں نے فضل دین کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

 

اماں ! ملک نظام کی بڈھی حاجن مجھے گھنٹہ گھنٹہ کام میں لگائے رکھتی ہے۔ یہ سب دیر اُسی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ سارے گھر کے کام اکٹھے کر کے میرے انتظار میں رکھ چھوڑتی ہے، بس جاتے ہی کام پر لگا دیتی ہے۔ زیادہ دیر تووہیں ہوتی ہے۔

 

سن رہے ہوکرامت؟ لڑکا کیا کہہ رہا ہے؟ سارے گاؤں کی مزدوری اور تیری جھڑکیاں سب اسی کی گردن پر۔ خبردار جو آئندہ فضل دین کو کچھ کہا’’شریفاں کا پارہ مسلسل چڑھ رہا تھا‘‘ نظام کو صاف صاف کہہ دے، وہ حاجن کو سمجھا دے۔ ہم سے اُس کی ونگاریں (مفت کے کام) نہیں کی جاتیں۔ جتنا کام وہ لیتی ہے، اتنا فضل دین منڈی میں جا کر کرے تو روز کے دوروپے کمائے۔

 

مولوی کرامت اب بھیگی بلی کی طرح چارپائی پر سمٹا بیٹھا تھا، کسمسا کر خلا کی طرف گُھورتے ہوئے بولا، نیک بختے اب جانے بھی دے۔ میں ملک نظام سے بات کروں گالیکن یہ تو سمجھ، وہ گاؤں کا بڑاہے،سب اُس کی عزت کرتے ہیں، کوئی بندہ کُبندہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ہم سو چیزیں اُن سے لیتے ہیں۔ خیر چھوڑ اِن باتوں کو، جلدی اب کھانا دے، سرگھوم رہا ہے۔ پھر فضل دین کی طرف دیکھتے ہوئے تڑخ کر بولا، چل اُٹھ فضلو سورہ یٰسین میں جتنے متکلم حاضر کے صیغے استعمال ہوئے ہیں، یہاں میرے پاس بیٹھ کے مجھے ابھی ان صیغوں کا پتہ چلا کے بتا۔ آج اگر تو صحیح صحیح نہ بتا سکا تو دیکھ،مَیں تیری کیسے چمڑی اُدھیڑتا ہوں۔ تین مہینے ہو گئے، ابھی تک چودہ صیغوں پہ اٹکا ہے۔ مَیں نے یہ کام صرف دو مہینوں میں کیا تھا۔

 

مولوی کرامت کی جھڑکیاں کھا کر فضل دین نے اُٹھ کر لوٹے میں پانی لیا،وضو کیا۔ اُس کے بعد کمرے سے جا کر ریشمی غلاف میں لپٹا ہوا ایک بڑی تقطیع کاقرآن پاک اُٹھا لایا اور مولوی کرامت کے سامنے ٹوٹی پھوٹی چوکی پر بیٹھ کرسورہ یٰسین نکال لی۔ اِتنے میں شریفاں نے روٹی لاکے مولوی کرامت کے سامنے رکھ دی۔ مولوی روٹی کھانے کے ساتھ ساتھ فضل دین سے صیغوں کے بارے میں پوچھتا جاتا تھا اور ڈانٹتا جاتا تھا۔ بیچ میں مزید معلومات کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتاتا گیا۔ جہاں کہیں فضل دین غلطی کرتا،وہیں ہلکا سا عصا دا ئیں بائیں ٹکا دیتا۔
3

 

غلام حیدر گرو ہرسا ریلوے اسٹیشن پہنچا تو رفیق بگھی لیے وہاں موجود تھا۔ چراغ تیلی اورجانی چھینبا بھی اپنی چَھو یوں اورگنڈاسوں کے ساتھ پاس ہی کھڑے تھے۔ راستے میں دشمنوں کے گاؤں پڑتے تھے اس لیے رفیق نے انہیں ساتھ لے لیا تھا۔ غلام حیدر کے آنے کی خبرتو کسی کو نہیں تھی مگر یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے والد شیر حیدر کی اچانک موت پر ضرور آئے گا۔ اس لیے دشمن کچھ بھی اوچھی حرکت کر سکتے تھے،جس کے لیے بہت سے جوانوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔ اِسی خطرے کے پیش نظر غلا م حیدر سے رفیق پاولی نے کہلا بھیجا تھا کہ وہ جلال آباد تک ریل میں آنے کی بجائے منڈی گرو ہرسا میں ہی اُتر جائے، ہم وہاں لینے کے لیے پہنچ جائیں گے تاکہ دشمن رستے میں ریل پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ ریل بیسیوں گاؤں میں رُکتی ہوئی آتی تھی۔ دشمن کہیں بھی اُس میں سوار ہو کر نامناسب حرکت کر سکتے تھے، جس کے بعد پچھتاوے کے سوا کوئی تلافی نہ ہوتی۔ ریل سے نکلتے ہی غلام حیدر کو بیس افراد کے گروہ نے گھیر لیا۔ رفیق پاؤلی نے اُسے گود میں کھلایا تھا، غلام حیدر اُسے چاچاکہہ کر مخاطب کرتا۔ ملتے ہی دونوں کے آنسو نکل آئے۔ پُشتینی ملازم ہونے کے ناتے فیقے نے غلام حیدر کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دلاسا دیتے ہوئے کہا، پُتر صبر کر، یہ اللہ کے کام ہیں۔ شیر حیدر اللہ کی امانت تھا،وہ اُسے لے گیا،تُو حوصلہ رکھ، ہم تیرے ساتھ ہیں۔ پھر سب لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،غلام حیدر گھبرا نا مت، یہ سب تیرے بازو ہیں۔ تیرے ایک اشارے پر مرنے کو تیار رہیں گے۔ اسی دوران بُوٹا تیلی غلام حیدر کی بندوق پکڑ کراُسے دیکھنے لگا۔ زندگی میں پہلی دفعہ بندوق کو ہاتھ لگایا تھا، اس لیے ہاتھ پھسلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد باری باری سب نے بندوق کو کاندھے پر رکھنے کی کوشش کی اور ہاتھوں میں تول تول کر وزن بھی ماپنے لگے۔ بالآخر رفیق پاولی نے بندوق اپنے کاندھے سے لٹکا لی۔ غلام حیدر نے آنسو ہتھیلی سے صاف کر کے پونچھ ڈالے اور بگھی پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد تینوں بگھیاں جلا ل آباد کی طرف دوڑنے لگیں،جن میں شیر حیدر کے اصطبل کے خاص گھوڑے جُتے ہوئے تھے۔

 

شیر حیدر جلال آباد کے تین گاؤں کا مالک تھا۔ جلال آباد میں اُس کی ذیلداری کسی بھی شک و شبے اور چیلنج سے بالاتر تھی۔ خاص تیس چالیس آدمی ہر وقت ڈانگ برچھی سے لیس اُس کے ڈیرے پر موجود رہتے لیکن عموماََ وہ لڑائی بھڑائی سے پرہیز ہی کرتا۔ کوشش یہی ہوتی کہ معاملہ صلح صفائی سے حل ہوجائے۔ ویسے بھی اتنی بڑی طاقت سے مخالفین دبکے رہتے اور بات آگے نہ بڑھ پاتی۔ اس کے علاوہ شیر حیدر کوانگریز سرکار سے جو ذیلدار ی کا پروانہ ملا ہوا تھا وہ بھی کم نہ تھا۔ بہت سے لوگ انگریز کا نام سن کر بھی گھورے میں چلے جاتے مگر شیر حیدر انگریزوں سے ربط ضبط ذرا کم ہی رکھتا۔ اُ س کے تعلقات کی حدود فیروز پور کے بڑے زمین داروں اور چھوٹے نوابوں تک تھی۔ علاقے میں بڑی زمینوں کے ما لک زیادہ تر سکھ ہی تھے۔ مسلمان یا تو مزارع تھے یا پھر بہت کم زمینوں کے مالک تھے۔ اگر کوئی بڑا زمیندار تھا،تو پھر وہ زیادہ ہی بڑا تھا،جیسے نواب افتخار ممدوٹ کا والد سر شاہنواز۔ ا لبتہ اِکا دُکا شیر حیدرجیسے بھی تھے،جو نواب تو نہیں لیکن مناسب درجے کے زمین دار ضرور تھے۔ اس طرح کے زمینداروں میں زیادہ کے پاس ذیلداری کا منصب بھی تھا،جو شیر حیدر کے پاس بھی تھا۔ شیر حیدر کا حریف مسلمانوں میں تو بالکل نہیں تھا،سوائے عبدل گجر کے، مگر وہ بھی زمیندار بہت چھوٹا تھا۔ اُس کے ساتھ اُس وقت رنجش پیدا ہوئی،جب وہ شیرحیدر سے بیلوں کی دوڑ ہارا۔ اس دوڑ میں عبدل گُجر شیر حیدر سے پچاس ایکڑ زمین ہار گیا۔

 

شیر حیدر کے زیادہ حریف سکھوں میں تھے لیکن وہ بھی کُھل کر سامنے نہیں آ سکتے تھے، سوائے سودھا سنگھ کے۔ وہی ایک شیر حیدر کا مرکزی حریف تھا، جس کے ساتھ اُس کی گہری دشمنی تھی۔ یہ دشمنی پچھلی دو نسلوں سے چلی آ رہی تھی، جب شیر حیدر کے والد سردار علی حسین بخش کے گاؤں شاہ پور اور سودھا سنگھ کے والد موہن سنگھ کے گاؤں جھنڈو والا کے درمیان کبڈی کا میچ ہوا۔ اس مقابلے میں اگرچہ سکھ مسلمان کھلاڑیوں کی کوئی تخصیص نہیں تھی،دونوں طرف ملے جلے پہلوان تھے مگر جب پھجا سنگھ کا گُھٹنا جمال خاں کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے تڑخ گیا تو نعرہ بازی شروع ہو گئی۔ نعرہ بازی کے دوران لڑائی کا سماں بن گیا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے برچھیاں اور ڈانگیں نکل آئیں۔ لڑائی میں موہن سنگھ کے گاؤں کا ایک بندہ مر گیا۔ پھردونوں طرف سے پرچے ہو گئے۔ چونکہ پورے پورے گاؤں لڑائی میں شامل تھے لہٰذا قتل ایسے ملوے میں بدل گیا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکا۔ دونوں گاؤں میں بہت عرصے تک مقدمے بازی کے بعد عارضی طور پر صلح ہو گئی مگر دلوں کے اندر کینے کی آگ جلتی رہی، جو مستقل دشمنی کی شکل اختیار کر گئی۔ اس دشمنی میں دونوں پارٹیاں گاہے گاہے ایک دوسرے کا تھوڑا بہت نقصان کرتی رہیں۔ وہی دشمنی سودھا سنگھ اور شیر حیدر کو وراثت میں ملی اور اب شیر حیدر کی وفات کے بعد غلام حیدر کے کھاتے میں پڑ گئی۔ سردار سودھا سنگھ کی زمین شیر حیدر سے زیادہ تھی لیکن دو تین دفعہ کی لڑائی میں پلڑا شیر حیدر کا ہی بھاری رہا۔ عدالت کچہری میں بھی سودھا سنگھ کو کچھ برتری حاصل نہ ہوسکی، اس لیے اُس کے اندر انتقام لینے کی کسک موجود رہی۔ اب جو اُس نے شیر حیدر کے مرنے کی خبر سنی تو باغ باغ ہو گیا۔ فوراََ جگبیر سنگھ، شام سنگھ، پیت سنگھ اور فوجا سیٔو کو بلا کر شراب کی محفل سجا دی۔ پورے دو گھنٹے شراب پیتے رہے اور بکرے بلاتے رہے۔ نشہ اُترا تو مستقبل کے صلاح مشورے شروع کر دیے۔

 

سورج نے نیزے کی اَنی چھوڑ دی تھی اور سائے نے مشرق کی طرف قد بڑھاناشروع کر دیا تھا۔ نیم کے پُرانے درخت نے احاطے کا سو فٹ قطر اپنے گھیرے میں لے کر دھوپ کو روک رکھا تھا۔ اس لیے چار پائیاں اور مُونڈھے مشرقی دیوار کے ساتھ لگ گئے کیونکہ وہاں ابھی دھوپ کافی تھی اور نیم کا سایہ دو گھنٹے تک وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ احاطے کا صحن بہت بڑا تھا اور باریک انیٹوں سے سارے کا سارا فرش کیا گیا تھا۔ اس لمبے چوڑے صحن کے ایک کونے میں پانی کا بڑا گہرا کنواں بھی تھا،جو نہ صرف سودھا سنگھ کی حویلی کی ضروریات کو پورا کرتا بلکہ سب گاؤں والے بھی اس کنویں کو استعمال کرتے اور کسی کو روک ٹوک نہ تھی۔

 

سردار سودھا سنگھ متروں کے ساتھ سردی کی دھوپ میں بیٹھ کر معاملات پر غور ہونے لگا۔ حویلی کے سب دروازوں کی بَلیاں چڑھا دی گئیں۔ احاطے کی دیواریں پکی اینٹ سے چن کر بیس فٹ تک اونچی کی گئیں تھیں لیکن اُن پر کسی وجہ سے پلستر نہیں کیا گیا تھا۔ اینٹیں بارشوں اور زمانے کی ہواؤں کے سبب سیاہ ہو چلیں تھیں۔ دیواروں میں بھی پیپلوں کی شاخیں نکل آئی تھیں۔ ویسے بھی دیواروں کو آرائش یا پلستر کرنا عموماََ دیہاتوں میں ضروری نہیں سمجھا جاتا البتہ احاطے کے گیٹ یا مرکزی دروازے پر خاص توجہ دی جاتی ہے، وہ سردار سودھا سنگھ نے اپنی بساط کے مطابق اچھی خاصی دی تھی۔ شیشم کی پکی لکڑی کا دروازہ، جس کی رنگت پالش کے بغیر ہی اتنی سیاہ تھی کہ توّے کی طرح چمکتی تھی۔ چو گاٹھ ڈیڑھ فٹ مربع چوڑے تھے اور تختے تین تین انچ موٹے۔ تختوں پر پیتل کے دو دو انچ انچ موٹے سینکڑوں کیل اُس کی ہیبت میں اس طرح اضافہ کرتے کہ بیس فٹ اونچا اور بارہ فٹ چوڑا دروازہ اژدھے کی طرح نظر آرہا تھا۔ دروازے کی ڈیوڑھی کے اُوپردائیں بائیں دو بُرج تھے۔ اُن پرپتھر کے دو شیر منہ کھولے کھڑے تھے، جیسے ابھی کچھ ہڑپ کرنے والے ہوں۔ نئے آنے والے کو تو بالکل اصلی دکھائی دیتے اور وہ ایک دفعہ سہم جاتا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اپنی مونچھوں کو رسی کی طرح بَل دے کر ہلکا سا جھٹکا دیا پھر فٹ بھر لمبی داڑھی کے اندر انگلیاں ڈال کر زور سے ٹھوڑی کھجائی اور سامنے پڑے مُونڈھے پر اپنی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے چھدو کو آواز دے کر دروازوں کوپہرا بند کرنے کو کہا۔ اُدھر چھدو لنگڑاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا،اِدھر سودھا سنگھ نے جگبیر سنگھ کو مخاطب کرکے اپنی بات شروع کی،جو پہلے ہی اس انتظارمیں تھا کہ کب سودھا سنگھ اس سے اصل بات کی طرف آتا ہے۔
جگبیرے واہگرو نے اس سے اچھا موقع نہیں دینا، شیر حیدر کا مُنڈا(لڑکا) ابھی ندان (کم عمر)ہے۔ تکڑے (ہمت کر کے) ہو کے اپنا وار کر دیں، آگے کی شرماں گرو جی رکُھو گے۔

 

جگبیر آگے کی طرف جھکتے ہوئے دھیمے دھیمے بولنے لگا، سردار جی میرا ایک مشورہ کبھی ضائع نہ کرنا،بانس کی کونپل زمین سے نکلتے ہی کاٹ دو ورنہ اُس کے نیزہ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ چک جودھا پور میں آج ہی بندے بھیج کے غلام حیدر کی مونگی کی فصل وران(تباہ) کر دو۔ بیس ایکڑ مونگی کو پہلا دھکا ابھی لگا دو۔ جوگڈوں پر لاد کر لا سکتے ہیں،وہ لے آئیں،باقی کو آگ لگا دیں۔

 

پیت سنگھ،جس کے سَر کے بال گھنے ہونے کے ساتھ ڈب کھڑبے بھی ہو چکے تھے، اُس نے اپنے زانوؤ ں پر ہاتھ رکھ کر گفتگو میں حصہ لیا، سردارسودھا سنگھ! مُنڈے کو سر ہی نہ اُٹھانے دو۔ مَیں تو کہتا ہوں، دیر کرناگرو جی کے ویریوں کا کام ہے۔ میرے تو جی میں ساہ اُس وقت آئے گا،جب شیر حیدر کے مُنڈے کو فلانگ (تباہ) کر دیں گے۔

 

ابھی پیتا سنگھ بول ہی رہا تھا کہ بیچ سے بیداسنگھ نے اُس کی بات کاٹ کر کہا، سردارسودھا سنگھ! میری کرپان تو بڑے ورھوں سے پیاسی ہے۔ واہگرو جانتا ہے، مَیں نے اس دن کے لیے کتنی منتیں مانیں۔ روز اس کی دھار تیز کرتا ہوں۔ جب تک یہ کسی مُسلے کا لہو نہیں پی لیتی،واہگرو کی سونہہ ِاسے سہج نہیں ملے گی۔

 

فوجا سیؤ یہ باتیں آرام سے بیٹھا سنتا رہااور خاموشی سے داڑھی کھُجاتا رہا۔ سودھا سنگھ نے فوجا سیؤ کو مسلسل خموش بیٹھے دیکھا تو مخاطب کرکے تائید کی خواہش کی۔ فوجا سئیو نے پہلے بائیں ہاتھ سے اچھی طرح کان میں کھجلی کی اور ایک دفعہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر چند منٹ خاموشی سے سودھا سنگھ کی طرف دیکھتا رہا اور آخر کارسہج سے بولا،سودھے آگے تیری مرضی، پر میری مانو تو یہ موقع ٹھیک نئیں۔ شیر حیدر کے بندے اس وقت زیادہ ہشیار ہوں گے۔ اگر وار اوچھا جا پڑا تو بڑی نموشی ہوگی۔ شیر حیدر کا مُنڈا ضرور ندان ہے پر فیقا اور اُس کے بیلی متر تو ندان نئیں۔ وہ تم سب سے زیادہ چاتر ہیں۔ ویسے بھی لوگ چنگا نئیں جانیں گے اور سرداری کو مِہنا آئے گا۔ تھوڑے دن ٹھہر کے حالات کی ٹوہ لے لو،پھر جو گرو جی کی منشا ہوگی، بڑے دن پڑے ہیں بدلہ لینے کو۔

 

پیت سنگھ بے صبری سے فوجا کی بات سن رہا تھا، ایک دم جوش میں آگیا، فوجے آج تک تُو نے بزدلی کے علاوہ کوئی مشورہ دیا ہے ؟ واہگرو کی سونہہ، ہم اب تیری بات نئیں مانیں گے۔ فیقا چاتر ہے تو ہووے، آخر وہ ہے تو پاولی کا پاولی۔ سرداروں کے مُوت کے برابر اُس کی عزت نہیں۔ اُس کی عقل اُس وقت تک کام کرتی تھی جب تک شیر حیدر کا سر پر ہاتھ تھا۔ کمی کمین خود کچھ نہیں ہوتا۔ اُس کی دلیری اُس کتے جیسی ہوتی ہے، جو مالک کی ہلا شیری کے بغیر گیدڑ سے بھی ہولا ہوتا ہے۔ کہو تو فیقے پاولی کو کل ہی بودیوں سے پکڑ کر سردار سودھا سنگھ کے آگے پھینک دوں؟ باقی رہا سرداری کو مِہنا،تو اُس کے لیے ایک بات دھیان میں رکھ،جنگ میں سب جائز ہے۔

 

اَو پیتے بیٹھا رہ تُو، فوجا سیؤ غصے سے بولا، پھر تُو تو ایک طرف ہو جائے گا، بھگتان تو سودھا سنگھ کو ہی دینا پڑے گا۔ تیرے سر میں بھیجا نہیں،بھوسا اور گوبر بھرا ہے۔ جب دیکھو ڈانگ برچھی اور کرپان کی باتیں کرتا ہے۔ کبھی چوہا تک نہیں مارا تو نے۔ دو گھونٹ کیا پی لیتے ہو،دُم پر کھڑے ہو جاتے ہو( سودھے کی طرف مخاطب ہو کر)دیکھ سردار سودھاسنگھ، مَیں تو تجھے یہ صلاح نہ دوں گا،آگے تیری مرضی۔

 

پیت سنگھ فوجے کا طعنہ سن کر سُرخ ہو گیا، فوراً کرپان کھینچ کر بولا،فوجے تجھے مَیں پِتا کے برابر جان کے لحاظ کرتا ہوں، پر تیری منشا عزت کروانے کی نہیں۔

 

او رہنے دے،فوجا دوبارہ بولا،تو نے اپنے پِتا کی عزت کبھی نہیں کی، میری کیا کرے گا۔ بے چارہ جیٹھ ہاڑ کی ننگی دوپہروں میں کنکاں گاہتے اور تتی زمین پرچوتڑ گھساتے سڑ سڑ کے مر گیا،تجھے تو دارو اور بوٹی کے سوا کوئی لہنا نہیں۔

 

فوجے مجھے غصہ نہ دلا ورنہ اسی وقت تیری رَت کے نگال بہادوں گا،پیت سنگھ ایک دم مونڈھے سے اُٹھا اور کرپان پکڑ لی۔

 

دونوں کو جھگڑتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے بات کاٹ دی اور گرج کر پیت سنگھ کی طرف منہ کر کے بولا۔ ناں پر مَیں نے تمھیں آپس میں لڑائی کے لیے یہاں اکٹھا کیا ہے یا صلاح مشورے کے لیے؟ اپنی بکواس مکا کے غلام حیدر کا اُپا کرو بس۔

 

یہ کہہ کر سودھا سنگھ نے دوبارہ چھدو کو آواز دی، جو سودھا سنگھ کی سفید گھوڑی کو دانہ کھلانے میں مگن تھا۔ چھدو آواز سنتے ہی لنگڑاتا ہوا دوڑ کر سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے دائیں طرف آکھڑا ہوا۔ چھدّو کو پتا چل چکا تھا سردار جی کیا کہنا چاہتا ہے مگر وہ پوری ہدایت لینے کے لیے باادب کھڑا رہا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے اُسے متھا سنگھ کو بلا کر لانے کے لیے کہا تو اُس نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دوڑ لگا دی اور باہر نکل گیا۔ اُس کے باہر نکلنے کے بعد پیت سنگھ نے اُٹھ کر پھر دروازے کی بَلّی گرا دی اور پورے منصوبے پر غور کرنے لگے مگر فوجا سیؤ ہوں ہاں کے سوا چپ بیٹھا رہا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – قسط نمبر 3

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

“ لعنت بھیجو”، شاہد کرسی میں گرتے ہوئے بولا۔

 

وہ تینوں کینٹین کے لان میں بیٹھے چائے پیتے رہے۔ کھلے آسمان پر چیلیں سستی سے اُڑ رہی تھیں اورگرد آلود ہوا لان میں کھلے نوع بہ نوع پھولوں کی خوشبو سے بوجھل تھی۔ان کے واقف دوست گھڑی بھر ان کے پاس ٹھہرتے، گپیں لگاتے اور کینٹین میں یا کلاسوں کی طرف چلے جاتے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا لیکن فضا میں ایک دبا دبا جوش اور اضطراب تھا جسے وہ سب محسوس کر رہے تھے۔

 

یکایک بڑی راہداری سے بھگدڑ کی آواز آئی، کچھ لڑکے لڑکیاں بھاگتے ہوئے کینٹین کی طرف آئے کچھ دوسری سمت لیکچرہال کی طرف نکل گئے، ان میں سے چند لڑکے کونے پر مڑ کر راہداری میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگے۔ گولی چلنے کی آواز آئی،پھر پے در پے گولیاں۔ وہ تینوں اٹھ کر کینٹین کی اوٹ میں چلے گئے۔

 

مارو مارو انہیں، فائرنگ کے شور میں انہوں نے ایک بلند اور کرخت آواز سنی۔

 

پھر چیخوں اور کسی کے گرنے کی آواز آئی، فوراً ہی کچھ اسلحہ بردار راہداری سے باہر نکلے اور بھاگتے ہوئے مختلف سمتوں میں غائب ہو گئے۔چیخ و پکار بلند ہوگئی۔ مخالف جماعت کے ایک رکن کو کلاشنکوف کا برسٹ چاٹ گیا تھا۔ میڈکل کالج کے وسط میں طبی امداد پہنچنے تک اس چمکدار دن میں، گلاب کی کیاریوں کے پاس اس نے اپنے سرخ ہوتے گاؤن میں دم توڑ دیا، نبض شناسی سیکھنے والی انگلیوں میں ریوالور جکڑا رہا۔

 

کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔ توفیق کا پستول اس کے نیفے میں اُڑسا رہا۔ اس کے کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے کسی کو قبائیلی علاقے کے اس خوش پوش، ہنس مُکھ لڑکے کی جسمانی تلاشی کا خیال نہ آیاتھا۔

 

“ جناب، کیا کالج کے ساتھ ہی امتحان ہونے بھی بند؟” شاہد نے سوٹ کیس اٹھائے باہر نکلتے ہوئے ہاسٹل کے دروازے پر کھڑے پرنسپل سے پوچھا۔

 

“ خوش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، امتحان وقت پر ہوں گے”، پرنسپل نے خشک لہجے میں جواب دیا۔ کاش تمہارے مزاحمتی پوسٹر رنگ لاتے، یہ کالج قتل گاہ نہ بنتا اور مجھے ڈاکٹر سے گورکن نہ بننا پڑتا، اس نے دور ہوتے شاہد کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

چھوٹے، ننگی اینٹوں کے مکانوں کی قطار میں یہ پلستر شدہ بڑا مکان نیا تعمیر شدہ دکھائی دیتا تھا۔ لوہے کے پھاٹک پر سبز رنگ کیا گیا تھا، پھاٹک سے اوپر دیوار پر سبز رنگ کی ایک بڑی تختی آویزاں تھی جس پر مکین کا نام درج تھا، آستانہ عالیہ خادم درویشاں، سگِ اولیأ حضرت پیر غلام دستگیر سہروردی نقشبندی مدظلہ علیہ۔ سبز رنگ کا دوسرا دروازہ یقینا بیٹھک میں کھلتا تھا۔ کچھ دیر تذبذب کے بعد راشد نے اس دروازے پر دستک دی۔ دروازہ فوراً ہی کھول دیا گیا تھا، یہ ایک بڑا کمرہ تھا جس میں دو مختلف رنگوں کے قالین ساتھ ساتھ بچھے تھے، ہوا اگربتیوں کی مہک سے بوجھل تھی اور چاروں دیواروں سے ٹیک لگائے حضرات خشوع و خضوع سے بیٹھے تھے، دائیں دیوار پر لکڑی کے چوکھٹے میں خانہ کعبہ کی فوٹو تھی جس میں حج کا منظر دکھایا گیا تھا اس فوٹو کے نیچے سفید لباس اورسفید پگڑی میں ملبوس صاحبِ خانہ تشریف فرما تھے جن کی توجہ قریب بیٹھے سائل پر مرکوز تھی جو انہیں دھیمی آواز میں اپنا مسئلہ بیان کر رہا تھا۔ راشد کے سلام کا بقیہ حاضرین نے باآوازِ بلند جواب دیا، پیر صاحب نے اس کی آمد نظرانداز کی تھی۔ جوتے اتار کرراشد ایک طرف بیٹھ گیا۔ لوگ اپنی باری پر پیر صاحب کے پاس بیٹھ کر اپنا مسئلہ بیان کرتے، یہ مسائل زیادہ تر نوکری، کاروباری مشکلات، اولاد اور بیماری سے متعلق تھے۔ پیر صاحب سے تعویز، صدقہ یا چلہ کشی کی ہدایات حاصل کرکے سائل دونوں ہاتھوں میں احترام سے چھپا کر نذرانہ ان کے نمدے کے نیچے گھسیڑ دیتا۔ باری آنے پرراشد پیر صاحب کے سامنے دوزانو ہُوا، صاحبِ خانہ نے اپنی سُرمے سے منور بڑی بڑی آنکھوں سے اسے لمحہ بھر دیکھا، اس نظر میں دوسرے کو بھانپ لینے کا تفاخر تھا۔ ایک لمحہ توقف کے بعد انہوں نے سرسری انداز میں کہا،” بچھڑ گیا ہے، مل جاے گا،ـ” عرفان کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر انہوں نے بات جاری رکھی،”لیکن پیچیدہ کام ہے، کل صبح دس بجے تنہائی میں ملاقات کریں،کوشش کریں گے آپ کے لیئے۔”

 

باہر نکل کرراشد نے گہری سانس لی، تنہائی میں ملاقات کا مطلب وہ جانتا تھا۔

 

“لوگ کیسے سونگھ لیتے ہیں کہ میری جیب میں پیسے ہیں؟” اس نے بے زاری سے سوچا۔

 

پروفیسر جمیل احمد کی گمشدگی کو جو خاندان کے اکثر افراد کی رائے میں روپوشی تھی، چار ماہ گزر چکے تھے۔ پولیس کی بے ثمر مالی خدمت کرنے کے بعد راشد زندہ اور مردہ پیروں کے لواحقین کی کفالت کر رہا تھا۔ اس کی ماں جو عمر بھر توہمات کے خلاف رہی تھی، اب ہر قسم کا ٹونہ ٹوٹکا آزمانے پر تیار تھی، اس کے اصرار پر راشد اسے دعا مانگنے کئی مشہور مشکل کشاؤں کی قبر پر لے جا چکا تھا، لیکن پروفیسر جمیل احمد بدستور لاپتہ تھا۔کالے بکرے جو راشد نے بطور صدقہ قربان کروائے تھے اس کے خوابوں میں آنے لگے تھے، وہ سینگ تانے اور داڑھیاں تنتناتے اسے للکارتے اور جاتے ہوئے اس کی نیند مینگننوں سے بھر جاتے۔

 

سبز دروازے سے نکل کر اس نے سگریٹ سلگایا اور آہستہ خرامی سے اپنی کار کی طرف روانہ ہوا، جسے وہ اس خدشے کے پیشِ نظر گلی کے موڑ پر چھوڑ آیا تھا کہ کار دیکھ کر پیر صاحب کا نرخ بڑھ نہ جائے۔ شاہد کار میں ہی اس کا منتظر تھا، اس نے یہ کہہ کر پیر صاحب کی زیارت میں راشد کا سا تھ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ کسی پیر یا مولانا کی خوشامد پر گمشدگی کو ترجیح دیتا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس پر یکلخت مایوسی، بیزاری اور شدید تھکن کا حملہ ہوا۔ فائنل امتحان شروع ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ امتحان کا خوف باپ کی گمشدگی کی دہشتناک پریشانی میں مل کرایک اعصاب شکن بیماری کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ سگریٹ کا کش لیتے ہوئے راشد کا ہاتھ کانپا، پھر یہ لرزا سارے بازو میں پھیل گیا۔ سگریٹ کار کی کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوے وہ بڑبڑایا،” باپ سے بھی گئے اور امتحان سے بھی گئے”۔

 

“ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، ہاہاہاہاــ” اچانک اس کے قریب سے ایک بلند آواز گونجی۔ راشد نے مُڑ کر دیکھا یہ وہی مجذوب نما فقیر تھا جسے اس نے چند ماہ پہلے ایک ڈرائیور ہوٹل پردیکھا تھا، اسے پہچاننے میں راشد کو ایک لمحہ بھی نہ لگا لیکن اس کے نعرے کے اچانک پن نے اور اس کی انتہائی بلند آواز نے اس کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ دیے تھے۔

 

“ ایک اور ڈرامہ، سالی زندگی ہے یا نوٹنکی!”۔ شاہد بولا

 

یکلخت راشد نے غصے کی ایک شدید لہر کو کھوپڑی میں پھیلتے محسوس کیا۔” تم کیا سن باسٹھ کی پنجابی فلموں کا سین چلاتے پھرتے ہو؟ کون ہو تم؟” وہ فقیر پر غرایا۔

 

“عبدالباقر گلا بلا، نونہہ کُچجی آٹا ڈھلا”۔

 

اس علم افروز جواب نے راشد کو لا سوال کردیا، وہ منہ کھولے الف لیلہ کے اس شاہکار کو دیکھتا رہا۔

 

“ شاہو خانقاہ شاہو،چلو جی،” فقیر نے نعرہ لگا کر گاڑی کی چھت کو زور سے کھڑکھڑایا جیسے مسافربس کو روانگی کا اشارہ دے رہا ہو۔ راشد نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراـ گاڑی اسٹارٹ کر کے گیئر میں ڈالی اور ایک دھچکے سے آگے بڑھا لے گیا، تماشا دیکھنے کے شوقین جو گاڑی کے قریب جمع ہورہے تھے بمشکل خود کو بچا سکے، ان میں سے چند ہوا میں مُکے لہراتے اور گالیاں دیتے تھوڑی دور تک کار کے پیچھے بھاگے۔ کچھ دور جا کر دماغ پراچانک چھاجانے والی وحشت کم ہوئی توراشد کو خیال آیا کہ وہ خواہ مخواہ اپنا تماشا بنا بیٹھا تھا اور بلا تمیزِ سمت و منزل اُڑا جارہا تھا۔ شاہد کچھ بوکھلایا سا خاموشی سے ٹریفک پر نظر گاڑے بیٹھا تھا۔ اب شاہو خانقاہ پنہچ کر ہی دم لوں گا، اس نے غصے اور خجالت سے سوچا۔ لیکن خانقاہ شاہو تھی کہاں؟ کنڈکٹر کو تو وہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔

 

یکلخت اسے مکمل یقین ہو گیا کہ اس کا باپ خانقاہ شاہو میں تھا، یہ بات شک و شبہ سے ماورا ایک یقین کی صورت اس کے دل میں داخل ہوئی اور وہاں جم کر بیٹھ گئی۔ شام ہونے تک وہ اس خانقاہ کا اتہ پتہ معلوم کر چکے تھے۔

 

دور دور تک کھیت تھے اورہوا سبزے کی خوشبو سے بوجھل تھی، گہرے نیلے آسمان پر اکا دکا سفید بادل سستی سے پھر رہے تھے۔ منڈی بہاألدین گزرنے کے چند کلومیٹر بعدراشد نے کار بائیں ہاتھ کو نکلتے ایک کچے راستے پر موڑ دی۔ کھیتوں کے درمیان لیٹا یہ ایک سیدھا، خوبصورت راستہ تھا، دایں ہاتھ ایک چوڑا کھالا چل رہا تھا جس میں مٹی کے رنگ کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا، کھالے کے ساتھ ساتھ پوپلر کے پیڑ جھوم رہے تھے۔ یہ پیڑ ابھی نوخیز تھے اور ان کے تنے پتلے تھے لیکن صحت مند مٹی میں ان کی جڑیں مضبوط تھیں اور وہ ایک لہک اور سرشاری کے ساتھ دیکھتے دیکھتے آسمان میں بلند ہوتے جارہے تھے۔ راستے کے دوسری طرف وقفے وقفے سے شیشم، کیکر اوربیر کے درخت تھے۔ یہ نوخیز پوپلر کے برعکس بڑی متانت اوربُردباری سے کھڑے تھے، ان میں ان کی صدیوں پرانی خاندانی تہذیب کا وقار تھا۔

 

شاہد کا ایک پرانا واقفِ کار بشیربھٹی بھی ان کے ساتھ تھا۔ وہ اس علاقے کو جانتا تھا، خانقاہ شاہو کے محلِ وقوع کا علم بھی اسی سے ہوا تھا۔ کچے راستے پر چند کلومیٹر گرد اڑانے کے بعد جب وہ ایک گاوٗں کے قریب پہنچے تو کتوں نے حسبِ روایت ان کا استقبال کیا، وہ پوری قوت سے بھونکتے اور ایک دوسرے پر گرتے پڑتے کار کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے۔ راشد نے کار کی رفتار رینگنے کی حد تک کم کردی۔ بھٹی نے اسے رکے بغیر گاؤں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس چھوٹے سے گاؤں کی اکلوتی نیم تاریک ہٹی دیکھ کر راشد نے کار روک لی۔

 

اس کے منہ میں یکلخت نِگدی کا ذائقہ گُھل گیا تھا۔ دینہ کے قریب اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں سکول کی چھٹیاں گزارتا تھا، گاؤں کی اکلوتی ہٹی میں سب سے مزیدار چیز نِگدی تھی جس سے اس کی نکر کی جیبیں بھری رہتی تھیں۔ بہت بعد میں ایک بار اس کا ایک دوست لندن سے واپسی پر اس کے لئے چاکلیٹ کا ایک پیکٹ لایا تو اس نے اس پیکٹ پر نگٹ لکھا ہوا دیکھا، اسے لفظ نِگدی کی سمجھ تو آگئی لیکن نگٹ میں بچپن کی نِگدی کا مزہ نہ آیا۔

 

کار رکنے اور اس کے باہر نکلنے پر شور وغل مچاتے کتے یکدم خاموش ہو گئے۔ ان میں سے اکثر دم دبا کر اوراور تھوتھنی لٹکا کر کار سے ایک مناسب فاصلے پرٹہلنے لگے، وہ مشکوک نظروں سے کار کو گھور رہے تھے، چند ایک دبی آواز میں غراتے ہوے راشد کوہٹی تک چھوڑنے آئے۔ دکان کے پاس کھڑے لوگوں نے ان بے ضرر جانوروں کو حقارت سے بھگا دیا۔ دوکاندار نے نگدی کی فرمائش پر اسے حیرت اور تاسف کے ملے جلے جذبات سے دیکھا، اس نے بتایاکہ اس کے باپ کے زمانے میں ایسی چیزیں بکا کرتی تھیں، آجکل ایسی دقیانوسی اشیاء کا خریدار کون تھا؟ اس کے پاس بہترین بسکٹ کے ڈبے تھے اور سوڈے کی بوتلیں۔ راشد اس اطلاع پر اس کا شکریہ ادا کرکے گاڑی کی طرف لوٹ آیا۔

 

“نگدی نایاب تھی تو گنڈیریاں ہی لے آتے!“، شاہد اسے خالی ہاتھ لوٹتا دیکھ کر بولا۔

 

کار چلی تو کتے فوری طور پر اسی جوش و خروش اور ولولے سے بھونکنے اور کار کے اردگرد بھاگنے میں مصروف ہوگئے۔
دوپہر کے قریب وہ خانقاہ شاہو پہنچے۔ یہ چھ سات کچے کمروں پر مشتمل ایک ڈیرہ نما احاطہ تھا جس سے ایک چھوٹی اور سادہ سی مسجد ملحق تھی۔ یہ اس طرف کی آخری انسانی آبادی تھی، اس سے آگے چناب کا بیلہ تھا جس میں ڈِب اور سرکنڈے کے جزیرے اور صاف سرد پانی کی جھیلیں ایک دوسرے میں خلط ملط تھیں۔ بیلہ دن بھر مختلف نسل کی مرغابیوں کی آوازوں سے گونجتا رہتا، ان میں طویل پرواز کرنے والی کونجوں اور مرغابیوں کی چہکاریں بھی تھیں جو سائیبیریا سے سردیاں گزارنے کے لیے پنجاب کے پانیوں تک کا سفر کرتی تھیں۔ہوا میں ٹھہرے پانی، گھاس اور پرندوں کی ملی جُلی خوشبو تھی۔

 

احاطے میں داخل ہوتے ہی ان کی نظر جس شخص پر پڑی وہ پروفیسر جمیل احمد تھا۔ وہ ایک کونے میں لگے دستی نلکے پر لوٹے میں پانی بھر رہا تھا۔ بیٹے کو دیکھ کر اس نے لوٹا نیچے رکھ دیا۔

 

“مجھے پتہ تھا تم مجھے ڈھونڈ لوگے،” پروفیسر جمیل احمد نے رسان سے کہا۔

 

“ بڑی خوشی ہوئی یہ سن کر، آپ گویا ولایت کی منزل پر پہنچ چکے ہیں،” راشد کے لہجے میں تلخی تھی۔

 

“ مجھے افسوس ہے میں نے تم سب کو بہت تکلیف دی۔” جمیل احمد کے لہجے میں افسوس نہیں تھا، اس کی آواز جذبات سے خالی تھی، وہ بیٹے کو گلے لگانے کے لیے آگے نہیں بڑھا۔

 

راشد کو جھٹکا سا لگا، اس کا ریاضی دان باپ گرم جوش آدمی نہ تھا لیکن یہ ٹھٹھرا دینے والی سرد مہری نئی تھی۔ وہ چند لمحے تذبذب کا شکار رہا، پھر اس کا دل بھر آیا، وہ آگے بڑھ کر باپ سے بغلگیر ہوگیا۔ جمیل احمد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا لیکن اس کے وجود میں ایک لاتعلقی اور بیگانگی تھی جیسے اس کا اصل اس واقعہ سے کہیں دور کسی دوسری دنیا میں ہو۔

 

اس نے نلکے کے پاس کھڑے کھڑے راشد کو بتایا کہ اسے یا اس کی ماں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی، وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر آیا تھا اور اس خانقاہ میں بہت خوش تھا اور یہ کہ اُس مریض دنیا میں لوٹنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔

 

“ آپ کم از کم بتا ہی دیتے، ہم لوگ تلاش میں اتنا عرصہ ذلیل تو نہ ہوتے”، راشد نے تلخی سے کہا۔

 

“ بتا دیتا تو مجھے جانے کون دیتا ؟“، پروفیسر جمیل احمد نے کہا،” ویسے بھی لواحقین کو سوتے چھوڑ کر تارک الدنیا ہو جانا اس خطے کی قدیم روایت ہے۔” اس کے لہجے میں مزاح کا شائبہ تک نہ تھا۔

 

شاہد اور بشیر بھٹی نے کچھ دیر گھگھیا کر پروفیسر کی منت کی کہ اسے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا، یا قطعی طور پر لا تعلق ہونے کی بجائے کم از کم کبھی کبھار اپنے خاندان کی خیر خبر لیتے رہنا چاہیے تھا۔

 

“ میرا خیال تھا کہ کم از کم تمہارا ذہن اہم باتیں سوچنے کا اہل ہے، لیکن تم نے بھی عمومی سطح کی بات کی”، پروفیسر نے شاہد کو گھورتے ہوئے کہا،” دن ابھی ڈھلا نہیں، خیریت سے واپس پہنچو، خدا حافظ”۔

 

“ روپوش ہی رہنا تھا تو وہ ایجنٹ کیوں روانہ کیا تھا؟” راشد نے باپ کے قطعی لہجے کو نظرانداز کرتے ہوئے غصے سے اسفتسار کیا۔

 

“ کون سا ایجنٹ؟”

 

“ وہ فلمی فقیر جو کوڈ ورڈز میں پیغامات نشر کرتا پھرتا ہے”۔

 

“ میں کسی فلمی فقیر کو نہیں جانتا، ایک مجذوب یہاں آتا رہتا ہے، ہو سکتا ہے اس سے تمہارا سامنا ہوگیا ہو”۔ پروفیسر جمیل احمد نے خشکی سے جواب دیا پھر اس نے پانی سے بھرا لوٹا اٹھایا اور ان لوگوں پر الوداعی نظر ڈالے بغیر دالان کے ایک سرے پر بنے ایک ڈربہ نما کی سمت روانہ ہوگیا۔
Categories
فکشن

پستان ۔ دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-10
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

کچ ایک بے پناہ اندھیرے میں لمبی سانسیں بھررہی تھی۔رات کے فرفر کرتے ہوئے ، ہوا سے بھرے قالین پر قدم رکھنے کی جرات اس نے خود میں نہ پائی تو وہ گرائونڈ فلور کے آخری زینے پر بیٹھ گئی۔باہر بارش بہت تیز ہورہی تھی، جیسے کسی نے بادلوں کی بق بق کرتی ہوئی بھری ہوئی توندوں میں چاقو گھسیڑ دیا ہو۔کیا ہوگیا تھا، اسے وہ میسج پڑھ کر،جس رشتے میں کوئی توقع نہ تھی، جس کے مستقبل کی وہ عامیانہ سوچ اس پر کبھی حاوی نہ تھی، کیا وہ دنیا کی باقی عورتوں کی طرح ایک سرخ لباس میں خود کو صدر کے ساتھ حجلہ عروسی میں دیکھنا چاہتی تھی؟ کیا اس خاص، خوشبوئوں سے لدی پھندی اور رویات سے بوجھل رات میں کوئی خاص بات ہوتی، ایسا کیا تھا جو جنسی اختیارات حاصل کرنے میں اب تک مانع رہا تھا،شوہر اور بیوی کا جنسی عمل بھی کوئی ایسی بات ہے،جس کا رومانس محسوس کیا جاسکے۔وہ تو ایک تھکی ہاری عادتوں میں روزبروز بدلتے جانے والا عمل ہے، ایک شخص کے ساتھ محبت کے نام پر اپنا پلو باندھ کر رات کو اسی پر پلو کھول دینا، نہیں یہ سب بہت عجیب تھا۔صرف ایک ہی شخص کیوں، ابھی اس کے پاس زندگی تھی، ایک بھرپور لمبی اور سانس لیتی ہوئی تازہ دم زندگی۔ وہ الگ رہ سکتی تھی، اسے تکلفات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جانے والا جنسی عمل پسند نہیں تھا، جیسا ان دو افراد کے بیچ ہوتا ہے، جو پتی پتنی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔اس میں دونوں کو ایک دوسری کی جنسی تہذیب کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جنسی تہذیب؟ یہ بھی کوئی بات ہے؟اس کا تو دل چاہتا تھا کہ صدر اور وہ ایک دوسرے کے بدن سے کھیلیں، ویسے ہی، جیسے کوئی ضدی بچہ پلاسٹک کے بازیچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ، غباروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔وہ اپنے بدن کے ہر انگ سے محبت کرتی تھی، اس کی محبت میں ہرنیوں کی سی وحشت تھی، وہ کسی پستانیے کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی، جس کا مقصد صرف اپنی اولاد کو دودھ پلانا ہو، وہ اپنے سینے کی حفاظت کرنا چاہتی تھی، اسے اپنی مرضی سے برباد کرنے کے لیے۔جب بھی صدر اس کے سینے کے درمیان موجود خاکی لکیر پر ہاتھ رکھتا،اس کی سانسیں گرم ہونے لگتی تھیں، رانوں کے درمیان کوئی آبشار ابلنے کے لیے بے تاب ہونے لگتا اور سرد موسم میں بھی حدت کی ساری تہیں اس کی ہتھیلیوں میں جذب ہونے لگتیں۔اسے یاد تھا کہ کسی شخص نے اسے بتایا تھا کہ انسان کیچڑ سے بنائے گئے ہیں، لبلبلی مٹیوں سے، جن کو مٹھیوں میں بھرنے کے بعد انگلیوں کے کھانچوں سے نکلتے ہوئے دیکھنے میں ایک سلیٹی سی فرحت محسوس ہوتی تھی۔ایک دفعہ اس نے ایک آدمی کے منہ پر تھوک دیا تھا، جب اس نے کہا تھا کہ عورت کی تکمیل تو ماں بن جانے میں ہے۔حالانکہ اتنا غصہ اسے اچانک کیوں آیا وہ اس کی وجہ نہیں جانتی تھی، مگر ماں بن جانا، قدرت کی جانب سے اس کے نزدیک ایک اضافی بوجھ تھا، ہر عورت پر۔جو دھیرے دھیرے ذمہ داری سے پسند میں بدلتا چلا گیا اور پھر عورت نے لاچاری میں اس تصور کو اپنی ذات کے سب سے اونچے کنگورے پر ٹانگ کر دیکھنا شروع کردیا تاکہ وہ اس لعنت کو کم از کم جب بھی دیکھے، سر اونچا کرکے دیکھے۔ماں بن جانا، ضروری نہیں ہے، ایک عورت بچے کو جنم دے سکتی ہے، بغیر ماں بنے بھی۔عورت کی چھاتیوں میں بننے والا دودھ دراصل اس گرم خون کا پہلا قتل ہے، جو اس میں جنسی حرارت پیدا کیا کرتا تھا۔وہ دنیا کی ساری ماؤں کو بتانا چاہتی تھی کہ انہیں اپنے بچے اس شرم اور جھجھک کے ساتھ نہیں پالنے چاہیے کہ زندگی بھر اپنے ہی پستانوں کو بغلوں میں دبا کر گھومنا پڑے۔اسے تقدس سے چڑ تھی، کسی بھی قسم کے تقدس سے۔عورت کو دیوی، ماں یا اس کے پیروں میں جنت رکھنے کی روایتی فکروں سے اسے سخت الجھن ہوتی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ جب وہ کوئی لڑکا پیدا کرے تو اس کا بچہ اپنی گوشت سے بنی ہوئی ایک سادہ اور جنسی خواہش رکھنے والی عورت کو کوئی مقدس ہستی سمجھ بیٹھے اور اس کے ہونٹ چومنے، سینے پر ہاتھ رکھنے اور گلے لگنے پر پستانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کے رائج طریقوں سے آشنا ہو۔وہ سوچتی تھی کہ اگر کبھی اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ ایک انسان کو تخلیق کرے گی، اپنے ہی بطن سے، اپنے ہی جیسا ایک گوشت کا سانس بھرتا ہوا لوتھڑا۔کیچڑ سے بنا ہوا، اسی کی طرح ، سلیٹی خوشبو سے لیس۔برسات کا زور نہیں تھم رہا تھا اور بھیگنے کی اس میں ہمت نہ تھی، بدن سردی کی شدت سے جھرجھری لینے لگا تو اس نے اپنے آپ کو زانوئوں کے چادر میں لپیٹ لیا، لیکن کچھ دیر یونہی بیٹھنے کی وجہ سے گھٹنوں میں درد ہونے لگا اور گلے میں خشکی سی محسوس ہوئی۔رات کسی اندھے ، گہرے غار کی طرح منہ کھول کر چیخ رہی تھی اور اس کے منہ سے نکلنے والا ٹھنڈی ہواؤں کا بھبھکا کچ کی کنپٹیوں پر زور ڈال رہا تھا، اس کے روئیں روئیں کو چھو رہا تھا۔ اس نے اس بھیانک حملے سے بچنے کے لیے خود کو جھریوں والے حصے میں ایک طرف بٹھا دیا، اب اس کے اور ہوا کے بیچ ایک موٹی دیوار کی پرت تھی، مگر زمین بالکل نم تھی، اتنی سرد اور ایسی سوجی ہوئی، جیسے فریزر میں رکھا ہوا پپیتا ہو۔اس کے کولہے اس سردی سے کچھ دیر تک خود کو بدن کی گرمی کی وجہ سے برداشت کرسکتے تھے، وہ سکڑ کر کونے میں ہی ہلکی غنودگی میں ڈوب گئی۔مگر اب بھی اس لڑکی کا دھیان اس کے دماغ کے ریشوں میں چوکڑیاں بھر رہا تھا۔

 

کیا ایک عورت بغیر رقابت کے زندہ نہیں رہ سکتی، وہ بھی تو انہی عورتوں کی طرح اس معاملے میں پیش آرہی تھی جو مرد کی ناف پر اپنا نام کھدوادینا چاہتی ہیں۔لیکن رقابت کی یہ عجیب و غریب پہیلی عورت ہی کے حصے میں تو نہیں آئی، مرد بھی عورت کے کون سے دوسرے رشتے کو برداشت کرسکتا ہے۔اور پھر سوال یہاں شاید رقابت کا نہیں تھا، یا پھر شاید پہلے کے کچھ لمحوں میں رہا ہو، مگر اب نہ تھا۔اب وہ اپنے اور صدر کے تنہائی پسند تعلق میں ایک تیسرے سایے کو پھیلتا ہوا دیکھ رہی تھی، اسے لگا کہ این نامی وہ لڑکی ، کون تھی، کب تھی ، شاید اس بات سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا، خاص طور پر اب جب وہ اس معاملے پر سرد موسم میں ٹھنڈے دل سے وچار کررہی تھی۔وہ شاید اب یہ سچ جانتے ہوئے کہ ایک مست و بے خود سانپ اس طرف لپک رہا ہے، اپنے آپ کو ، اپنے جسم کے سبز ناگ کو صدر کے تن سے لپیٹے رکھنے میں برائی محسوس کررہی تھی۔اب تک اس نے کوئی رشتہ دل سے نہیں بنایا تھا، صدر بلاشبہ وہ پہلا شخص تھا، جس نے اس کے بدن کی آیتوں کو ترجمے ہی نہیں تفسیر کے ساتھ پڑھا تھا، ان پر بحث کی تھی، انہیں اچھا یا خراب، مقبول یا منسوخ قرار دیا تھا۔مگر اب یہ کھیل اور کتنے دن جاری رہ سکتا تھا، سانسوں کا جھرنا، اس کی ناف کے نیچے موجود سیاہ جھلیوں کی کٹوری میں کہاں تک ٹھہرتا، ایک نہ ایک روز تو چھلکنا تھا، اور پھر آج تو یہ رات بھی طوفانی ہورہی تھی، اندر و باہر کا اتنا پانی اس کے شریر کے چلو میں کیسے سماسکتا تھا، سو اس نے ہمیشہ کے لیے خود کو اس رشتے سے الگ کردینے کا یہ سب سے بہتر موقع سمجھا تھا۔یا پھر یہ بالکل بے ارادہ سی کیفیت تھی، جیسے کبھی کبھی کوئی مسافر بغیر کسی منزل کے بھی راستوں پر نکل پڑتا ہے، صرف اپنی ذات کی بے چینی کی وجہ سے۔کچ کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہورہا تھا۔ بہت دیر اسی غنودگی کے عالم میں بیٹھنے کے بعد اسے اچانک متلی سی محسوس ہونے لگی، ایسے میں جب اسے واپس اسے صدر کے برابر میں پھیلے کمفرٹر کی گرم آغوش میں چلے جانا چاہیے تھا، وہ برسات میں باہر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔کالی گھنی برسات میں سفید بوندوں کی ایسی یلغار اس پر شروع ہوئی کہ اس کا تقریبا ننگ دھڑنگ بدن بے جان سا ہونے لگا، برسات کے ہی دوران اسے دو چار الٹیاں ہوئیں، رات کا سارا کھانا باہر نکل چکا اور اب پتھ کی آخری ہری الٹی نے اسے بالکل بے دم کردیا۔اچانک اسے ایک ٹھیلہ دکھائی دیا، یا شاید وہ اس سے ٹکراگئی تھی، اس پر نیلے رنگ کی موٹی سی پلاسٹک تنی ہوئی تھی، شاید اس کے مالک نے اس پلاسٹک کو تان دیا تھا تاکہ اس گھنگھور برسات میں لکڑی کا ٹھیلہ پھولنے سے بچ جائے، اسی ٹھیلے پر ایک جانب ایک کتیا اپنے چار بچوں کو بغل میں دبائے سانسیں بھررہی تھی، اس کی پھولتی پچکتی پسلیوں کی کسرت بتارہی تھی کہ وہ گہری نیند میں ہے،ٹھیلے کو لگنے والی ٹھیل سے اس میں کچھ انگڑائی سی کیفیت پیدا ہوئی، لیکن ٹھنڈ کی اتھاہ گہرائی میں اترجانے کے ڈر سے وہ خود اپنے بچوں سمیت اپنے ہی بازوئوں میں دوبارہ سمٹ گئی۔وہ کتیا کی بغل میں ٹانگوں کو گھٹنوں کے بل موڑ کر لیٹ گئی، ٹھنڈ تو بہرحال تھی، مگر پانی کی بہت دھیمی پھوار پڑرہی تھی، کچھ دیر بعد اسے ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ سورہی ہے یا جاگ رہی ہے، ایسا لگتا تھا جیسے اس کی کمر پر کوئی بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے، بہت سارے بھیڑیے مل کر اس کی چھاتی کو بھنبھوڑ رہے ہیں اور وہ رسیوں سے بندھی،سر کو اچکا کر اپنے ہی جسم سے اٹھنے والے تعفن اور نوچے جانے والے گوشت کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی ہے، اچانک اسے لگا جیسے اسے ایک بہت اونچی عمارت سے پھینک دیا گیا ہے، مگر نیچے گرنے سے پہلے ہوا نے اچک کر اس کے بالوں کو ایک بہت بڑے سے ہینگر میں ٹانگ دیا ہے۔اس نے یہ بھی دیکھا کہ وہ مرچکی ہے اور اس کی ارتھی پر بہت ساری عورتیں بال کھول کر رورہی ہیں، چیخ رہی ہیں، مگر ان کے منہ سے عجیب و غریب اور دل کو جھنجھوڑنے والی آوازیں نکل رہی ہیں۔انہی عورتوں میں صدر بھی شامل ہے، اس کے بھی سینے پر پستان کے دو بھاری پھول کھل اٹھے ہیں اور وہ ماتھے پر لال رنگ کا بھبھوت لگائے ، ہاتھوں میں موجود چوڑیوں کو زمین پر مار کر توڑ رہا ہے۔بہت دیر سے اسی کیفیت میں موجود رہنے کے بعد اسے لگا جیسے کوئی اس کے کولہے کو ہلکے ہلکے کھرچ رہا ہے، اس نے کروٹ لینی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ تو سیدھی ہی لیٹی ہے، کولہے پر ٹھیلے پر اگی ہوئی کوئی کیل مستقل چبھ رہی تھی، اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے پوروں سے اس کیل کو چھوا، اس کے سینے پر ایک پلا آکر لیٹ گیا تھااور اتنی ہی بے خبری کے ساتھ سورہاتھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے لپٹ کر ،گرم و گداز اور گدگدے بدن کی لہر میں لپٹ کر اپنے بند نتھنوں کی الجھن کو بھول کر سوجاتا ہے۔اسے صدر کا دھیان آیا، شاید وہ یہ سب کچھ جو کررہی تھی، ٹھیک نہیں تھا۔اس نے بڑی محنت سے اپنی ہمت کو مجتمع کیا اور دوبارہ اسی سمت کو لوٹ گئی جدھر سے آئی تھی۔بارش ابھی بھی فراٹے سے ہورہی تھی، اور اندھیرا بدستور اپنی کوربینی پر دہاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔مگر وہ ٹٹولتے ہوئے صحیح سمت میں پہنچ گئی۔

 

گھر پہنچ کر سب سے پہلے اس نے بھیگے ہوئے بدن کو بہت تھکا ہوا محسوس کیا، اتنا کہ وہ اپنے ہی بوجھ کو اٹھانے سے قاصر معلوم ہوتی تھی، سلائڈنگ کھلی ہوئی تھی اور ہوا کے ساتھ ساتھ پانی کی زبردست پھواریں اندر بھی داخل ہورہی تھی، فرش پر اور دیواروں پر پانی ہی پانی نظر آرہا تھا، جیسے وہ اجلے خوابوں کی ایسی گھٹی ہوئی آوازوں اور بجھی ہوئی امیدوں پر پڑا ہوا پانی ہو، جس کو واپس بھیجنا ناممکن سا ہی ہوا کرتا ہے۔اس نے اپنے بدن کی اس تکان کو بہت دیر تک صوفے پر بیٹھ کر اس کی گیلے سفنج میں جذب کیا ، پھر یکایک اس کی نظر صدر کی بنائی ہوئی ایک تصویر کی جانب گئی ، جس میں ایک کاگ پستان کو اپنے منہ دبائے حرص کے مارے اڑرہا تھا اور ایک بڑی سی چیل اس کے پیچھے منڈرارہی تھی، اس نے اٹھ کر تصویر میں موجود پستان کو چھوا،وہ اس تصویر کامطلب کئی دفعہ صدر سے پوچھ چکی تھی، مگر کچھ نہیں بتا تا تھا یا شاید بتاہی نہ پاتا ہو۔وہ کسی فرانسی داداازم کا حوالہ دے کر اس کے سوال کو ہوا میں اڑا دیا کرتا تھا، مگر کوئی تو مطلب ہوگا جو کاگ کے پنجوں میں دبے ہوئے اس پستان کو ایک مخصوص مطلب دے سکے۔صدر کہتا تھا، وہ اپنی ہر تصویر میں موجود ہوا کرتا ہے، تو کیا وہ اس تصویر میں بھی تھا، وہ کاگ تھا،یا چیل تھا یا پھر پستان یا پھر وہ خلا جو ان تینوں کے درمیان موجود کشمکش اور ندیدگی کو کسی لاچار بوڑھے کی طرح دیکھ رہا تھا۔اسے بہت دیر تک کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے الجھن میں دیوار پر ابھر آئے پلاستر کو اپنے لمبے ناخن سے ادھیڑنا شروع کردیا۔ہوا کی ایک تیز لہر نے اس کے سن ہوتے ہوئے بدن کا احساس جب بے حد شدید کردیا تو وہ ہال سے ملحقہ باتھ روم میں گھس گئی اور باتھ ٹب میں لیٹ کر کافی دیر تک گرم پانی کی آغوش میں اپنے جسم کو جگانے کی کوشش کرتی رہی۔عجیب سی بات تھی، یہی پانی تھا بس سرد و گرم کی وجہ سے اس کی تاثیر میں ایسی تبدیلی واقع ہوئی تھی کہ ایک کچ کے حق میں زہر بن گیا تھا تو دوسرا اس زہر کو چوس کرباہر نکال لینے والا چارہ گر۔نہا کر نکلنے کے بعد جب وہ کمرے میں گئی تو صدر غائب تھا، اتنی رات میں وہ کہاں نکل سکتا تھا، ہوسکتا ہے، اسے ہی ڈھونڈنے گیا ہو، کچ کو بہت تیز سردی کا احساس ہورہا تھا، اس کا سارا بدن پھک رہا، دماغ پھوڑے کی طرح پھولنے پچکنے کے عمل میں مصروف تھا ، مگر ایسے میں بھی اسے اس بات سے بہت فرحت محسوس ہوئی تھی کہ صدر اتنی بھیانک رات میں اس کی تلاش میں نکلا ہے، وہ شخص جس کے اندر اپنی ہی پرواہ کے جراثیم بالکل نہ پائے جاتے ہوں، کچ کی عدم موجودگی سے اتنا پریشان ہوگیا تھا۔اسے یہ سوچ کر خوشی ہورہی تھی، اسی خوشی میں اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے ریکارڈر کے تار کو چھیڑدیا۔اس میں سے جل ترنگ کی لہریں پیدا ہونی شروع ہوگئیں۔

 

راہ تکے من ہارے نہیں
اب کوئی کہیں ہے کوئی کہیں
کیوں راہ تکے من ہارے نہیں

 

کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
Categories
فکشن

میر واہ کی راتیں – آخری قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شام ڈھلنے سے کچھ پہلے ہی نذیر چائے خانے پر جا بیٹھا۔ وہ گردوپیش کی چیزوں کو دیکھنے کے بجائے باربار فکرمندی سے کاریگر کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق سوچتا رہا۔

 

غفور چاچا کی پریشانی کا راز جاننے کے بعد وہ شدید احساسِ گناہ میں مبتلا ہوگیاتھا۔ وہ خود کو ملامت کرتا رہا کہ اس نے جانے یا انجانے میں چاچی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ حیران تھا کہ چاچے کو اس معاملے کی خبر آخر کیسے مل گئی۔ اب وہ فرار چاہتا تھا تاکہ اس کی وجہ سے یہ محترم رشتہ کہیں پامال نہ ہو جائے۔ مگر اس کے دل کی گہرائی میں کوئی شدید جذبہ موجود تھا جس کے آگے وہ خود کو پوری طرح بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اس کے لیے اب وسوسوں اور اذیت کے مہیب جنگل میں چاچی خیرالنسا ہی واحد پناہ گاہ رہ گئی تھی۔

 

وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے یعقوب کاریگر کو آتے ہوئے دیکھا۔ وہ آتے ہی چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا اور جلدی جلدی بیڑی پھونکتا رہا۔ اس کی پیشانی پر دو گہری لکیریں تھیں۔

 

اس نے چٹکی بجا کر بیڑی کی راکھ کو جھٹکا اور استغراق سے نکل کر نذیر کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے وہ کھنکار کر اپنا گلا صاف کرنے لگا۔ پھراس نے اس کی طرف تھوڑا جھک کر دھیمے لہجے میں کہا، “غفور سے میری دوستی بہت پرانی ہے۔ تمھاری عمر سے بھی زیادہ پرانی۔ اس نے بڑی بدفعلیاں کیں۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ تین ضلعوں میں کوئی چکلا نہیں بچا ہو گا جہاں جا کر اس نے زنا نہ کیا ہو۔ اس کے بیسیوں معاشقے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی وجہ سے جب اس نے شادی کی تو کچھ عرصے کے بعد اسے پہلی مرتبہ اپنی کمزوری کا احساس ہوا۔ وہ مجھ سے چھپ چھپ کر اپنا علاج کرواتا رہا۔ مگر اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ایک دن پریشان ہوتے ہوئے اس نے شرمندگی سے مجھے بتا ہی دیا۔ میں اسے رانی پور میں ایک واقف حکیم کے پاس لے گیا۔ اس کی دوا سے غفور کی قوت بحال ہونے لگی اور وہ شادی کے مزے سے ہمکنار ہوا۔” کہتے کہتے وہ خاموش ہوا اور اِدھراْدھر دیکھنے لگا۔

 

نذیر اس کے ہونٹوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ بغور سن رہا تھا۔
کاریگر نے چائے کا گھونٹ بھرا اور سرگوشی میں پھر سے کہنے لگا، “کل پہلی بار اس نے مجھ سے تمھارے قتل کے بارے میں بات کی۔ دکان کے کام میں تمھاری عدم دلچسپی کی وجہ سے اسے شک ہونا شروع ہوا۔ وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگا۔ کئی مرتبہ اس نے تمھاری جاسوسی کی۔ دیوار پھاند کر اپنے گھر میں گھسا۔ رحیم سنار والے مسئلے پر اس نے تم پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں مجھے بتایا تو میں نے اس پر لعن طعن کی کہ اسے تم پر شک نہیں کرنا چاہیے۔” اس نے چائے کی پیالی ختم کی اور نئی بیڑی سلگائی۔

 

تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔ “اس کی باتوں نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں رات بھر سوچتا رہا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تم سے ضرور بات کروں گا۔ شاید غفور اپنی بیوی کو وہ آسودگی نہیں دے سکا جو اس کا حق تھا۔ اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور سے اپنا تعلق جوڑ لے گی۔ یہ معاملہ تمھارے حق میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ تم اس کے گھر میں رہتے ہو اور تمھاری اس کی بیوی کے ساتھ بے تکلفی بھی ہے۔” وہ جواب طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

 

نذیر ٹھنڈا سانس بھر کر بولا، “تمھارا اندازہ ٹھیک ہے۔”
“میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم اپنی عزت اور زندگی بچاؤ اور میرپور ماتھیلو واپس چلے جاؤ۔ تمھیں یہاں سے جانے کے لیے وہ کبھی نہیں کہے گا لیکن اگرکسی دن اس کا مغز گھوم گیا تو پتا نہیں وہ کیا کر بیٹھے گا۔” اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
“تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو؟”

 

کاریگر ہنسا۔ “مت بھولو میں اس کا پرانا دوست ہوں۔ وہ اپنی دو محبوباؤں کے شوہروں کو زخمی کر چکا ہے۔ یہاں غیرت کا مسئلہ بھی ہے اور کل بے ساختگی میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ اسے ثبوت ملنے کی صورت میں اس نے تمھیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ وہ تمھیں کارا کر کے مار ڈالے گا، کیا سمجھے؟”

 

نذیر یہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ ناقابلِ یقین بات کی حقیقت کو اسے اپنے دل سے تسلیم کرنا پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شام ڈھلے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔ آسمان پرستارے نکل آئے تھے۔ چائے پینے والے سب گاہک بھی جا چکے تھے۔ ہوٹل کا مالک برتن سمیٹ رہا تھا۔ وہ اٹھے اور نہر کے پل تک ساتھ چلتے ہوئے گئے۔ وہاں سے نیچے اترنے والے راستے پر وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔

 

کچھ دور تک اس کے ذہن میں کاریگر کی باتیں گھومتی رہیں۔ یہ سب تو اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا مگر اب اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ یہاں رہتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی بھی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسے غفور چاچا پیشہ ور قاتل معلوم ہونے لگا۔ اس کی سماعت میں اس کی پاٹ دار آواز گونجنے لگی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اسے یاد آئیں جن میں ہر وقت اسے اپنے لیے عناد بھرا محسوس ہوتا تھا۔ اسے گزشتہ روز کی مارپیٹ یاد آئی۔ وہ کتنے نفرت انگیز لہجے میں اسے مخاطب کرتا ہوا چیخ رہا تھا۔

 

نذیر نے خود کو اپنے گھر والوں سے دور، اجنبی لوگوں کے درمیان مکمل طور پر غیرمحفوظ محسوس کیا۔

 

وہ نیم تاریک سڑک پر روشنی کے دائروں میں چلتا رہا۔ اس نے سوچا کہ کیا خبر اس کا چاچا یعقوب کاریگر کے ساتھ مل کر اسے قصبے سے بھگانا چاہتا ہو تاکہ اس کے تمام خدشات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔

 

وہ گھر جانے کے بجاے پہلوان دستی کے چائے خانے پر جا بیٹھا۔
اسے کاریگر پر اعتماد تو تھا مگر وہ فرار ہونے کے خیال سے ہچکچا رہا تھا۔ چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے دل میں باربار ہوک سی اٹھ رہی تھی۔ اسے اس کا طویل قامت جسم یاد آیا، اس کے فسوں کاربدن کے انگ یاد آئے۔ اس نے چاچی کو دیکھنے، اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے لپٹنے کی ناقابلِ مزاحمت خواہش محسوس کی۔

 

وہ چائے خانے پر بیٹھا رہا اور ٹھری میرواہ میں اپنے گزرے ہوئے وقت کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے دل میں گناہ کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہو رہا تھا۔ کل اسے سوچتے ہوئے جو ندامت محسوس ہو رہی تھی اب وہ مٹتی جا رہی تھی۔ اب وہ عورت واقعی اس کی محبوبہ بن گئی تھی۔ وہ خود سے کہتا رہا کہ پہلی بار اسے محبت ہوئی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے سوچتا رہے۔ اس نے چاچے کو رقیب جان کر اس کے خلاف اپنے دل میں شدید نفرت محسوس کی۔ نفرت سے ا س کے اعصاب تن گئے اور وہ مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اپنی محبت کی خودغرضی کے باوجود وہ اسے ہمیشہ کے لیے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر فرار نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت دیر تک وہ ذہنی کشمکش سے دوچار رہا۔

 

ڈبو کھیلنے والے لڑکے شور مچا رہے تھے۔ پہلوان دستی اپنے دکھل کے پاس اونگھ رہا تھا۔ رات کے دس بجنے والے تھے۔ قصبے سے باہر جانے والی گاڑیاں شام سے پہلے ہی بند ہو جاتی تھیں۔

 

وہ چائے خانے سے اٹھا اور جھجکتے ہوئے قدموں سے اس مکان کی طرف چل دیا جو اب اس کا گھر نہیں رہا تھا۔ گلی میں پہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے ٹھیر گیا۔ سارے مکان تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایک خیال کی دہشت سے جھرجھری لیتے ہوئے اس نے پاؤں آگے بڑھایا۔

 

دروازے کی کنڈی کھول کر وہ اندر آیا تو اس نے باورچی خانے والی کوٹھڑی کو بند پایا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں بچھی اپنی چارپائی تک پہنچا اور بیٹھ گیا۔ اسے بھوک نہیں تھی۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا رہا۔

 

کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر وہ چونکا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو چاچی خیرالنسا دروازے سے باہر نکلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر عجیب انداز میں مسکرائی۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر برآمدے کی بتّی جلا دی۔

 

نذیر پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “چاچا جاگ جائے گا۔”

 

“آج وہ صبح سے پہلے نہیں جاگے گا۔” وہ ایک بار پھر مسکرائی۔
“کیوں ؟” نذیرنے حیرت سے پوچھا۔

 

“نیند کی ایک گولی اس نے خود کھائی اور دو میں نے دودھ میں گھول کر اسے پلا دیں۔”

 

“آخر ایسا کیوں کیا؟”

 

چاچی خیرالنسا نے لجاتے ہوئے کہا، “تم سے ملنے کے لیے۔”

 

نذیر نے خود کو اس عورت کے زیرِاثر محسوس کیا۔ وہ دونوں باورچی خانے کی کوٹھڑی میں جا بیٹھے۔

 

“میرے لیے کھانا مت گرم کرنا۔ میں نے باہر کھا لیا ہے۔”

 

وہ چولھے کے پاس بیٹھی تھی جبکہ نذیر اس کے قریب پیڑھی پر بیٹھا تھا۔ اس نے لمبا سانس لیتے ہوئے خود کو پْراعتماد پایا۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔

 

“مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں،” وہ بولا۔

 

“کہو۔”

 

“توْ میرے چاچے کی بیوی ہے مگر میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،” اس نے بے جھجک اپنے دل میں سمائی بات کہہ دی۔

 

“میں جانتی ہوں یہ گناہ اور بے حیائی ہے، مگر تو بھی جان لے کہ تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اسی لیے آج رات میں نے بڈھے کو نیند کی گولیاں کھلا دیں۔ میں جانتی ہوں تو اس کا احترام کرتا ہے۔” وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔ “میں بھی تیری طرح ڈرتی ہوں اس سے۔ لیکن توخود سوچ! اس کے اور میرے درمیان کتنا فرق ہے۔”

 

اسے اداس دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا۔ “آدھی عمر کا فرق ہے! اور میں جب سے یہاں آیا ہوں، یہی سوچ رہا ہوں۔ تو اس سے بہت چھوٹی ہے اور خوبصورت بھی بہت ہے۔” وہ مسکرانے لگا۔ “پرسوں رات میرے اور تیرے بیچ جو کچھ ہوا میں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ میں سمجھا کہ تو مجھ سے بہت ناراض ہو گی اور مجھے تجھ کو منانا پڑے گا۔”

 

یہ سن کر چاچی خیرالنسا اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر مسکراہٹ خودبخود اس کے ہونٹوں پر نمایاں ہو گئی تھی۔

 

نذیر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یعقوب کاریگر سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گا۔ اس نے تشویش سے اس سے ایک سوال پوچھا، “صبح چاچے کو گولیوں کے بارے میں پتا نہیں چل جائے گا؟”

 

“نہیں چلے گا۔ وہ یہی سمجھتا رہے گا کہ جو گولی اس نے کھائی یہ اسی کا نشہ ہے۔” وہ پھر مسکرانے لگی۔

 

“میں پہلے تیرے بارے میں جب بھی سوچتا تھا تو خود کو بڑا گناہ گار سمجھتا تھا،” اس نے سنجیدگی سے کہا۔

 

“اور اب؟” چاچی نے شرارت سے پوچھا۔

 

“اب تیری محبت کو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔”

 

“میں تو اندر سے کانپ رہی ہوں۔ وہ گہری نیند کر رہا ہے، میں پھر بھی یہاں سہمی ہوئی ہوں، اور یہ گناہ ہے، بڑا گناہ!” اس نے جھرجھری لی اور آنکھیں میچ لیں۔

 

“یہ گناہ نہیں ہے، محبت کبھی گناہ نہیں ہوتی،” وہ بلند لہجے میں بولا۔

 

“آخر تم رشتے میں میرے بھتیجے لگتے ہو۔”

 

“تْو اپنی مرضی سے میری چاچی نہیں بنی اور میں۔۔۔” وہ جذبے کی شدت سے خاموش ہو گیا۔

 

“کچھ بھی ہو، میں اس بوجھ سے نہیں بچ سکتی۔۔۔ مگر خود کو روکنا بھی مشکل ہے،” وہ آہ بھر کر بولی۔

 

نذیر اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتا رہا۔ وہ حیران تھا کہ اسے کیا ہو گیا۔ وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا مگر اس کے پاس تمام الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ اسے خوشی سے ہمکنار کرنے کے لیے اور اپنی باقی ماندہ زندگی کے لیے ایک خوشگوار یاد کو اپنے سینے میں محفوظ رکھنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے بدن کا لمس کشید کرنے لگا۔ وہ ایک نئی لذت سے آشنا ہوتا جا رہا تھا۔

 

انھوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا اور ہنسنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ برآمدے میں بچھی ہوئی چارپائی پر جا کر ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹ گئے اور ان کے ترسے ہوئے جسم نہ جانے کب تک ایک دوسرے میں مدغم ہانپتے کانپتے رہے۔

 

بہت دیر کے بعد چاچی خیرالنسا اپنے کپڑے اٹھا کر غسل خانے کی طرف چلی گئی مگر وہ وہیں چارپائی پر لیٹا رہا۔

 

غسل خانے سے باہر نکل کر چاچی نے نذیر کے ہونٹوں پر آخری بوسہ دیا اور اسے نگاہ بھر دیکھنے کے بعد کمرے میں اپنے سوئے ہوئے شوہر کے پاس چلی گئی۔

 

اس کے جانے کے بعد نذیر آہ بھرتے ہوئے مسکرایا۔ اس نے چاچی خیرالنسا کو پا کر کھو دیا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ مگر اپنے لیے ایک یاد کو محفوظ کر لیا تھا۔

 

وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پھر اس نے دیکھا کہ صبح کی روشنی پھیلنے والی ہے۔ اس نے اٹھ کر کپڑے پہنے۔ غسل خانے میں گیا لیکن غسل نہیں کیا۔ ہینڈپمپ چلا کر وہ اپنے ہاتھ اور منھ دھو کر باہر نکل آیا۔ وہ صحن میں چند لمحے ٹہل کر کچھ اور وقت گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔ اس نے کمرے کے دروازے سے کان لگا کر ان دونوں کی سانسوں کی آو از سنی اور دھیرے دھیرے چلتا باہر کی طرف چل پڑا۔

 

وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔ اس نے چلتے ہوئے گلی عبور کی، سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرااور ٹھنڈے سانس بھرتا ہواآہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – نویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔ وہ چند لمحے نسوانی جسم پر بے سُدھ لیٹا رہا۔ اس بدن کے بوجھ سے شمیم کی سانسیں گھٹنے لگیں۔ وہ ا س کے نیچے تڑپ رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ دفعتاً نذیر نے اپنا سر اٹھایا اور صحن سے ملحقہ برآمدے کی طرف دیکھا اور گھر کی دیگر اشیا پر بھی نگاہ ڈالی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند اور سکوت میں ڈوبا ہوا گھر اور اس کی تمام چیزیں یک بہ یک بیدار ہو گئی ہیں اور اس بلی کی طرح غراتی ہوئی اس کی جانب لپک رہی ہیں۔ خوف اور دہشت کے سبب اس کے جسم کے ایک ایک عضو میں تشنج کی لہر سی دوڑ گئی۔
شمیم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے سر کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دھیرے سے گویا ہوئی، “کیا ہوا؟ تم ایک بلی سے ڈرگئے؟”

 

نذیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔ “اس نے تو میری جان ہی نکال دی،” اس نے تیز اور طویل سانس کھینچتے ہوئے کہا۔ “مجھے لگا کہ وہ کوئی بلی نہیں، بلکہ کوئی غیر مخلوق ہے۔” اس کی یہ بات سن کر شمیم افسوس سے سر ہلانے لگی۔

 

اسے سر ہلاتے دیکھ کر نذیر کو اپنی شکست کا احساس ہونے لگا۔ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس پر دوبارہ دراز ہو گیا اور اس کے کانوں کی لووں کے آس پاس کے نرم و گداز علاقے پر اپنے بوسوں کی بارش کرنے لگا۔ مگر اس مرتبہ اس کے بوسوں میں نہ پہلے والی حدت رہی تھی اور نہ ہی وہ شدت۔ پہلے بوسوں کے دوران اس کے انگ انگ پر عجیب سی مستی چھا گئی تھی۔ وہ ایک طائرِ آزاد کے مانند فضاے جسم کے تمام گوشے دریافت کرتا رہا تھا اور نت نئی دریافتوں کے لیے کوشاں تھا، لیکن اب اس کے ہر بوسے سے بیزاری کا احساس نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کے لیے وہ کارِ لذت سے زیادہ عذابِ جاں بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اس کی گردن کی مہین و نازک جلد کو اپنے لبوں سے چومتا اور نوکِ زبان سے چاٹتا رہا مگر اس کے اندر کی تحریک مردہ ہو چکی تھی اور اس کے لہو میں سنسناتے، کلبلاتے، تڑپتے، تلملاتے سارے جذبے سرد پڑ چکے تھے۔ اچانک وہ شمیم کے اوپر سے ہٹا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔

 

شمیم کروٹ لیتی ہوئی اٹھی اور کھاٹ سے اتر کر جلدی جلدی کپڑے پہننے لگی۔ نذیر نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا، مگر اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں آواز دے کر اسے بلانا چاہا، مگر وہ اس کے قریب نہیں آئی۔ وہ ذرا پرے ہو کر آہیں بھرتی اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی رہی۔ پھر وہ آنگن میں رکھی گھڑونچی کی طرف گئی، اس نے مٹکے کو لٹا کر کٹورے میں پانی انڈیلا اور اس کے بعد زمین پر بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔

 

نذیر شدید اذیت میں تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے تکے انداز میں چارپائی پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا رہا، پھر نیچے اتر کر کپڑے اٹھائے کونے میں چلا گیا۔ شمیم پیتل کے کٹورے میں اس کے لیے پانی لے آئی۔ وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لے کر کئی دنوں کے پیاسے شخص کی طرح یک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔

 

“میری ساس تھوڑی دیر میں اٹھنے والی ہے، اگراس نے دیکھ لیا تو یہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا،” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اس کے ہاتھ سے کٹورا لے کر دور ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

 

وہ اس سے کچھ دیر باتیں کرنا چاہتا تھا، اسے اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتانا چاہتا تھا، لیکن اس کی بات سننے کے بعد اس میں کچھ بھی کہنے کا حوصلہ نہ رہا۔ وہ ہونق نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اب اس کی تمام گرم جوشی پر اوس پڑ چکی ہے۔ نذیر اٹھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے دھیرے صحن کی طرف بڑھنے لگا۔

 

صحن سے برآمدے میں آتے ہوئے وہ ایک ستون سے ٹکرایا۔ وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا مگر اس کے اعصاب پر ایک حواس باختگی طاری ہو چکی تھی۔ کھیتوں کی طرف کھلنے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اس کا پیر چوکھٹ سے بھی ٹکرا یا۔ اس مرتبہ وہ لڑکھڑایا اور باہر کی طرف منھ کے بل گرتے گرتے بچا۔ وہ سنبھل تو گیا مگر اس کے پاؤں کی ڈگمگاہٹ ختم نہیں ہو سکی۔ وہ گھر سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نہ راستہ، نہ مکان، نہ کھیت۔ وہ ڈگمگاتا اور لڑکھڑاتا ناہموار زمین پر چلتا رہا۔ وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتا تھا مگر دیکھ نہیں سکا۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے دو آنکھیں اسے رخصت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اپنی ندامت اور خفت کے سبب اس کے لیے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔ وہ جلدازجلد یہاں سے دور جانا چاہتا تھا تاکہ ان آنکھوں کی پہنچ سے نکل جائے۔

 

شمیم گھر کے دروازے سے لگ کر نڈھال کھڑی آہیں بھرتی رہی اور اسے جاتے ہوئے تکتی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ بند کر دیا اور کنڈی چڑھا دی۔

 

نذیر کا وجود درد کا گولہ بنا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں دکھ رہی تھیں۔ بازوؤں میں اتنا شدید درد تھا کہ اسے لگتا تھا کہ وہ کٹ کر اس کے کاندھے سے جھول رہے ہیں۔ زمستاں کی رات میں گرتے کہرے اور پالے میں اسے اپنا خون اور اپنی سانسیں منجمد ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اوبڑکھابڑ زمین پر دقت کے ساتھ قدم رکھتا رہا۔
وہ شرینہہ کے دیوقد پیڑ کے پاس پانی کے نالے پر بیٹھ گیا۔ آنے کے بعد وہ اسی جگہ بیٹھ کر شمیم کا انتظار کرتا رہا تھا۔ نالے کی سیمنٹ کی سطح اسے پہلے سے بہت زیادہ یخ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگا تاکہ وہ گرم ہو سکیں، مگر بہت دیر تک ہاتھ مسلتے رہنے کے باوجود ان میں حرارت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی ٹانگیں بھی وقفے وقفے سے کانپ رہی تھیں۔

 

وہ اچانک اْٹھا اور ایک پگڈنڈی پر دوڑ کر رگوں میں جامد خون کو گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دور جا کر رات کے پالے سے بھیگی ہوئی پگڈنڈی پر اس کا پاؤں پھسلا اور وہ کماد کی فصل میں جا گرا۔ اس کے کپڑے اور پاؤں گیلی مٹی میں آلودہ ہو گئے۔ گرنے سے اس کا بدن اور زیادہ دکھنے لگا۔ کماد کے کھیت میں دشواری سے چلتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے گوٹھ ہاشم جوگی سے دور ہوتا چلا گیا۔

 

بہت آگے جا کر وہ جھاڑیوں سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا نہر کے پْل پر پہنچ گیا اور اندھیرے کے سبب سیاہ نظر آتے پانی کو دیکھنے لگا۔ نہر کا پانی اپنے کناروں سے نیچے نیچے بہہ رہا تھا۔ اس کی سطح پر ٹمٹماتے ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔

 

ہولے ہولے اس کا خوف زائل ہو رہا تھا۔اسے درختوں کا عکس پانی میں دھندلے دھبوں کی طرح نظر آ رہا تھا۔

 

اس نے قصبے کے مکانوں کی جانب نگاہ کی تو وہ سب اسے ایک ڈھیر کی صورت ایک دوسرے کے اوپر تلے پڑے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ مکانات کے اس ڈھیر میں چھپی ہوئی گلیوں سے اس طرف آیا تھا۔ پل پر کھڑے کھڑے اس نے اپنی چشمِ تصور سے شمیم کو بستر پر درازدیکھا اور اس کی تلخ آہوں کو سنا۔ اس نے بے بسی اور لاچاری سے دانت کچکچائے۔ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کے وجود میں ایک ساتھ اذیت کی کئی لہروں نے سر اٹھایا۔ اس کے دل نے چاہا کہ وہ اونچی آواز میں چیخے چلائے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنی چھاتی کو زخمی کر ڈالے۔ اسے اپنے وجود کے وہ سب حصے جن سے اس نے شمیم کو چھوا تھا، قابلِ نفریں محسوس ہونے لگے۔ اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کو ٹٹولنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے خون رسنے لگے۔ اس نے نہر کنارے کسی درخت پر رسی باندھ کر خودکشی کے بارے میں سوچا۔

 

وہ بڑبڑایا: “آج کے دن کی شروعات منحوس طریقے سے ہوئی تھی۔”
اس کے بدن میں اب بھی درد تھا اور اس کے اعضا کی دکھن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ پل سے اتر کر نہر کے کنارے پیڑوں کی قطار کے نیچے چلنے لگا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک ایسی جگہ پر کنارے سے نیچے اترنے لگا جہاں پر نہر کا پانی اسے زیادہ گہرا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بے سوچے سمجھے نہر کنارے کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پربیٹھ گیا۔ کچھ آگے کھسک کر اس نے اپنی چپلوں سمیت اپنے پاؤں نہر میں ڈال دیے۔ نہر کا پانی اسے بہت ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی یخ لہریں اس کے ٹخنوں اور پنڈلیوں میں گھسنے لگیں۔ مگر نذیر کے سر میں عجیب سودا سمایا ہوا تھا۔

 

وہ نہر کے پانی میں لرزتا ہوا اپنا دھندلا دھندلا عکس دیکھتا رہا۔ وہ اپنی رگوں میں اپنے جامد خون کو گرمانا چاہتا تھا۔ شمیم سے ملاقات کے دوران اسے جس ہزیمت اور اذیت کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا، وہ اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔

 

اپنے عضوِلذیذ کو بہت دیر تک رگڑنے اور مسلنے کے بعد اس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ اسے اور زیادہ حرارت کی ضرورت تھی۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت دھیرے دھیرے مجنونانہ اور وحشیانہ انداز اختیار کرتی چلی گئی۔ اگر اس وقت اسے کوئی شخص اس حال میں دیکھ لیتا تو یقیناً فاترالعقل یا سودائی خیال کرتا۔

 

اس کے رگ و ریشے میں یکلخت کئی الاؤ جلنے لگے۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگیں۔ اس کی سانسیں کسی دھونکنی کی طرح چلنے لگیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کی حرکت میں مزید تیزی پیدا کرتا گھاس پر لیٹ گیا اور سیاہ آسمان کو تکنے لگا۔

 

ایک شدید ہیجان خیز لمحے میں وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہر کے پانی میں انزال کی بوندیں گرانے لگا۔ اگلے ہی وہ گھاس پر نڈھال ہوکر گر پڑا اور زور زور سے سسکیاں لینے لگا۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ صبحِ صادق اب صرف چند لمحوں کی منتظر تھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صبح دیر سے جاگنے کے باوجود نذیر کے جسم میں کل شب کی ہزیمت اور اذیت کے آثار باقی تھے۔ اس نے کمرے میں جا کر صندوق سے استری شدہ لباس نکالا۔ وہ جلدازجلد غسل کرنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی اس کے کپڑوں پر مٹی اور گھاس کے نشان دیکھ لے اور کسی شک میں مبتلا ہو جائے، مگر وہ جیسے ہی برآمدے میں آیا، چاچی خیرالنسا اسے برآمدے میں ٹہلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔

 

چاچی اس کے پاس آ گئی اور اسے ٹوہ لینے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

 

اس نے سنجیدگی سے کہا، “تیرا چاچا آج سویرے سویرے ہی دکان پر چلا گیا۔ “

 

نذیر نے اسے دیکھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ وہ کتھئی رنگ کے ریشمی لباس میں تھی جو اِس کی سفید رنگت سے مل کر پرکشش تاثر پیدا کر رہا تھا۔ اس کی گردن اور کلائی کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ اس کے سر سے ڈوپٹہ اْترا تو اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی۔

 

“آج تو دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ دکان جانے سے پہلے تیرے چاچے نے تجھے ایک دو بار جگانے کی کوشش کی، مگر تو ہلاجلا ہی نہیں، “اس نے بے تکلفی سے کہا۔

 

وہ اس کے ہونٹوں پرپہلی بار لگی ہوئی لپ اسٹک کی تہہ دیکھ کر بولا، “رات جب تو کمرے میں چلی گئی تو اس کے بعد میں سو نہیں سکا۔ “ پہلی بار اسے چاچی کے بھرپور خدوخال روکھے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔

 

“مجھے بھی نیند مشکل سے آئی۔” وہ چاہتی تھی، نذیر آج بھی اس کی تعریفیں کرے اور اس سے اپنی چاہت کا اظہار کرے۔ مگر وہ اس سے کھنچا کھنچا سا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پژمردگی تھی اور لہجے میں گرم جوشی کے بجائے سوگواری تھی۔ وہ اسے نظرانداز کرتا، نیلے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں پرندے اْڑتے پھر رہے تھے۔ “تیرے لیے ناشتہ تیارکردیا ہے،” وہ ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے بولی۔
“غسل کر کے کھا لوں گا،” یہ کہتے ہوئے وہ کپڑے اٹھائے غسل خانے کی طرف چل دیا۔

 

ناشتے کے بعد اس نے ایک اور چائے پینے کی فرمائش کر دی۔ وہ باورچی خانے جا کر اس کے لیے ایک اور چائے کی پیالی لے آئی۔ وہ اس سے گریزاں سا تھا۔ اس کا جسم اور چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے کل رات اس سے کیا کیا باتیں کی تھیں۔ اس کے اعصاب اور حواس پر شمیم سے ملنے کے دوران ہونے والی شکست سوار تھی۔ وہ اپنی ناکامی کے عذاب میں مبتلا تھا۔
“آج تو نے پیٹ بھر کے ناشتہ نہیں کیا۔”

 

“بھوک ہی کم تھی۔”

 

وہ سوچ رہی تھی کہ آج اچانک اسے کیا ہو گیا۔ وہ پہلے تو اکیلا ہی چار پانچ روٹیاں کھا جاتا تھا۔ “آج تجھے دکان پر جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے تیری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تو آرام کر لے،” اس نے اپنائیت سے کہا۔

 

“دکان پر تو نہیں مگر ذرا دیر کو باہرگھومنے جاؤں گا۔”

 

اس کی بات سن کر وہ افسردہ ہو گئی۔

 

نذیر نے اچانک اس کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اس عورت سے وصل کر کے اپنی جذباتی شکست کا مداوا کر سکتا تھا۔ اسے اچانک باورچی خانے میں پیش آنے والے واقعے کی جزئیات یاد آئیں تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے کس طرح اسے چومتے ہوئے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا؟
ان خیالات کا سلسلہ بھی اس کے مزاج کی سردمہری کو ختم نہیں کر سکا۔ وہ پیالی سے چائے کی آخری چسکی لے کر باہر جانے کے لیے اْٹھ کھڑا ہوا۔

 

“سن! تیرا چاچا ہاروالی بات بھول گیا ہے۔”

 

وہ روکھی مسکراہٹ سے بولا، “اچھا؟”اس کے بعد ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے وہ دروازے کی طرف چل پڑا۔

 

گلی سے گزرتے ہوئے تنہائی میں وہ سوچتا رہا کہ کل رات کے تیسرے پہر جو کچھ پیش آیا وہ محض ایک اتفاق تھا۔ اگر بلی چھپر کی چھت سے اس کی پیٹھ پر چھلانگ نہ لگاتی تو اس کا شادکام ہونا یقینی تھا۔ وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگا کہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اس کی مردانگی پوری طرح بحال تھی اور نہر کنارے بیٹھ کر وہ اپنے انزال کے آب دار موتی بھی نہر کے پانی میں گرا چکا تھا۔ یہ سب باتیں سوچنے کے باوجود وہ خود پر اپنے یقین اور اعتماد کو بحال نہیں کر سکا۔

 

اس نے پان کی مانڈلی سے کچھ سگریٹ خریدے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کھیتوں کی طرف چل دیا۔ وہ سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے کش لیتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔

 

مکمل تنہائی میں مکمل خودسپردگی کے لیے آمادہ عورت سے مباشرت میں ناکامی غیرمعمولی اور شرم ناک بات تھی۔ شمیم خود کو ملامت کرتی رہی ہو گی اور اسے ایک نامرد تصور کر کے دل ہی دل میں وہ اس کا مضحکہ اڑاتی رہی ہو گی۔ نذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس سے قطع تعلق کر لے گا اور آئندہ کبھی نورل کی شکل بھی نہیں دیکھے گا۔ اپنے آپ سے یہ عہد کرتے ہوئے وہ جانتا تھا کہ اس کی خاطر اس کا دل بری طرح مچلے گا اور کیا پتا وہ نیند میں اْٹھ کر نہر کی طرف دوڑتا چلا جائے۔

 

وہ قصبے کی مشرقی سمت میں واقع آخری مکانوں تک پہنچا اور انہیں عبور کرتا ہوا کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ تاحدِنظر زمین پر سبزیوں اور گندم کے پودے لہلہا رہے تھے۔ سورج آسمان کے وسط میں چمک رہا تھا اور سارے میں پیلی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ گردوپیش اچٹتی سی نگاہ ڈال کر وہ سر جھکائے ایک پگڈنڈی پر چلنے لگا۔

 

وہ اپنے آپ کو باربار سمجھاتا رہا کہ اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آ چکا تھا وہ اس کے اناڑی پن کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اس نے پہلی اور بنیادی غلطی پکوڑافروش کے ہمراہ مے خانے جا کر کی تھی۔ وہاں اس نے چرس اور بھنگ کا بے محابا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حواسِ خمسہ کند پڑ گئے تھے۔ پھر شدید سردی کے موسم میں آدھی رات کو چوری چھپے گھر سے نکلنا، ویران اور تاریک گلیوں میں خوفزدہ چلنا، آہٹوں پر چونکنا اور کھیتوں کے پاس کانپتے ہوئے اس کاانتظار کرنا یہ تمام چیزیں بھی تو اس افسو س ناک عمل کی رونمائی میں شامل تھیں۔

 

سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہو گیا اوروہ تھک کر ایک بلندقامت شیشم کے پیڑ کے نیچے پگڈنڈی پر ہی بیٹھ گیا۔

 

چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے عجیب شرمندگی محسوس کی لیکن اسے معلوم تھا کہ یہی وہ عورت ہے جو اس کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔

 

وہ بیٹھے بیٹھے تین سگریٹ پھونکنے کے بعد اپنی الجھنوں کو سلجھائے بغیر اْٹھا اور قصبے کی طرف واپس چل دیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگلے دن وہ سویرے اٹھا اور چابیاں لے کر دکان چلا گیا۔

 

جانے سے پہلے باورچی خانے میں ناشتہ کرتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ چاچی اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کراس کے ہاتھ سے چائے سے بھرا پیالہ نیچے گر گیا اور گرم چائے نے اس کے اپنے پاؤں کو جلا دیا۔ اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوئے وہ اس سے آنکھیں ملائے بغیر اٹھا اور باورچی خانے کی کوٹھڑی سے باہر نکل گیا۔

 

دکان پر پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں اور شٹر پر لگے ہوئے تالے کھولے۔ شٹر اٹھا کر دکان کھول کر وہ صفائی کرنے کے بجائے دیواروں پر چسپاں فلمی اداکاراؤں کی تصویروں کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ نئی تصویروں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ تصویروں کے نزدیک ہو کر انہیں اپنی نظروں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بھاری سی مردانہ آوازنے اسے چونکا دیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو یعقوب کاریگر اس کے قریب ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ نذیر کو ڈرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

 

“دیوار پر لگے نئے نئے فوٹو کیسے ہیں؟ میرے ایک دوست نے مجھے باہرکے ملک کا ایک رنگین رسالہ تحفے میں دیا تھا۔ میں نے اس میں سے بہترین تصویریں نکال کر یہاں لگا دیں۔ ذرا دیکھو! اس فوٹو کا تو جواب نہیں۔”

 

“ویسے تمھاری پسند کا بھی کوئی جواب نہیں۔”

 

کاریگر اپنی تعریف سن کر اس تصویر کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے لگا۔ “اسے غور سے دیکھو! اس کے بالوں کا رنگ بالکل سونے جیسا ہے۔ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھ کر ہم جیسا خوامخواہ خوش ہونے لگتا ہے۔ ذرا اس کی چمڑی کو دیدے پھاڑ کر دیکھو، کتنی چمکیلی اور نرم ہے۔ اور اس کے وہ تو۔۔” وہ بے قابو ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر چمکیلے رنگین کاغذ کی سطح پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر تصویر کو چومتے ہوئے کہنے لگا، “پتا نہیں کہاں اور کون سے دیس میں رہتی ہیں یہ پریاں۔ ہماری قسمت میں تو باگڑی اور بھیل بھکارنیں لکھی ہیں۔” وہ افسردگی سے سر ہلاتابیڑی سلگا تے ہوئے اپنی سلائی مشین کے پاس لگی نشست پر بیٹھ گیا۔

 

نذیر نے اسے چھیڑا۔ “تمہارے پاس کپڑے سلوانے خوبصورت عورتیں بھی آتی ہیں۔ پھر ان سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟”

 

“وہ بہت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں۔ آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتیں۔ پھر انہیں قابو کرنے کے لیے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک غریب درزی۔ تمھارے چاچے کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے ایک حسین اور جوان عورت مل گئی۔”

 

نذیر نے اس سے یونہی ایک بات پوچھی۔ “اب اس کی پریشانی کا کیا حال ہے؟”

 

یعقوب کاریگر یہ سننے کے بعد اپنی آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اپنی بیڑی کی راکھ جھٹکتے ہوئے اْٹھا اور گلی میں جھانکنے کے بعد نذیر کے پاس آ بیٹھا۔ وہ رازداری سے کہنے لگا، “میں جانتا ہوں تم شریف آدمی ہو، اسی لیے میں تمہیں پسند کرتا ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ تمہاری وجہ سے پریشان ہے۔ اس نے کل یہ بات مجھ سے رازداری رکھنے کی قسم لینے کے بعد بتائی۔”

 

“میری وجہ سے؟”

 

“اسے شک ہے کہ تم اس کی بیوی کے ساتھ خراب ہو۔” اس نے بیڑی کو فرش پر پھینکا اوراسے پاؤں کے نیچے مسلتے ہوئے کہنے لگا، “وہ تھوڑی دیر میں آنے والا ہو گا۔ دکان بند ہونے کے بعد تم مجھ سے جوگی کے چائے خانے پر ملو۔”

 

واقعی تھوڑی دیر بعد چاچا غفور دکان پہنچ گیا۔ یعقوب کاریگر سلائی میں مصروف تھا جبکہ نذیر قمیص کے بٹن لگاتا رہا۔ اس دوران غفور نے ایک بار بھی نذیر سے کوئی بات تک نہ کی۔ وہ آتے ہی سر جھکائے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – آٹھویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شام سے ذرا پہلے غفور چاچا بکھرے ہوئے بالوں اور گرد میں اٹے ہوئے چہرے کے ساتھ دکان میں داخل ہوا۔ اپنی تھکاوٹ اور اضطراب چھپانے کے لیے اس نے ہنس کر ان سے دو چار باتیں کیں۔ یعقوب کاریگر نے اس سے رانی پور جانے کا سبب پوچھا تو اسے ٹالنے کے لیے اس نے گول مول جواب دے دیا۔ نذیر کو پتا چل گیا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ چاچا غفور سے اجازت لے کر دکان سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے نہر کنارے واقع چائے خانے پر پہنچا تو وہاں پکوڑافروش کو اپنا منتظر پایا۔ وہ چائے پینے کا خواہشمند تھا مگر نورل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ایک نئی جگہ چلنے کے لیے کہا۔

 

وہ تاریک گلیوں میں چلتے ہوئے قصبے کے شمال میں واقع ایک مے خانے میں پہنچے۔ نذیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اندرونِ سندھ کے بیشتر گوٹھوں اور قصبوں میں ایسے مے خانے عموماً مزاروں اور درگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی کئی جگہوں پر قابلِ تعظیم سادات گھرانے کے معتقدین کی بڑی تعداد نے پنجتن پاک سے منسوب مخصوص نشان سے آراستہ بڑے بڑے سیاہ علم لگا کر ایسے مے خانے قائم کر رکھے ہیں۔ یہاں چرس اور بھنگ کے موالیوں کا ڈیرہ رہتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہاں آنے والے ہر خاص وعام کی تواضع بھنگ اور چرس سے کی جاتی ہے۔ یہاں سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ لاہوتیوں کو خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مے خانے عموماً کسی قسم کی شان و شوکت اور آرائش سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ موالی نشے کی جھونجھ میں سادات گھرانے کی قربانی، ان کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان سے منسوب کرامات اور معجزات کا ذکر بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔

 

وہ دونوں داخلی دروازے سے بے نیاز ایک مختصر سے احاطے میں داخل ہوئے جس کے اطراف دیواروں کے بجائے سوکھی شاخوں اور جھاڑیوں کی باڑھ تھی۔ یہاں کی زمین کچی مگر ہموار تھی۔ احاطے کے بیچوں بیچ مٹی کے چبوترے پر نصب ایک موٹے سے بانس پر سیاہ علم لگا تھا، جس پر پنجتن پاک کی نسبت سے مخصوص پنجے کی شکل کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک بلب روشن تھا، جس کی پھیکی سی روشنی میں ہوا سے لہراتا ہوا علم دکھائی دے رہا تھا۔ نیچے چبوترے پر دو چراغ جل رہے تھے جن کی لویں ہوا کے جھونکوں سے لرز رہی تھیں۔

 

احاطے کے ایک کونے میں گھاس پھوس کی ایک جھونپڑی سے باربار موالیوں کے نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے تھے۔ جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی نورل نے بھی نعرہ حیدری بلند کر کے اپنی آمد کا اعلان کیا۔ کشادہ سی جھونپڑی کے عین وسط میں چھوٹے سے گول دائرے میں آگ کا مختصر سا الاؤ روشن تھا جس کے گرد پندرہ بیس موالی حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب ہی ان دونوں کو زمین پر بچھی پیال پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ اس وقت وہاں چرس کی سلفی کا دور چل رہا تھا اور پوری جھونپڑی چرس کے دھویں اور بو سے بھری ہوئی تھی۔

 

موالیوں نے آس پاس ہٹ کر انہیں الاؤ کے قریب ہو کر بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔ نذیر نے جیب سے پچاس روپے نکال کر ایک موالی کو دیے اور اسے بھنگ اور چرس لانے کے لیے کہا۔ وہاں بیٹھے موالی اس کی سخاوت سے متاثر ہوئے اور نورل سے پوچھ پوچھ کر اس کاتعارف حاصل کرنے لگے۔ نذیر عام طور پر زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا مگر ان بے کار لوگوں کے بیچ بے دھڑک بولنے لگا۔

 

الاؤ کے گرد بیٹھے لوگوں کے چہرے نشے کی کثرت سے سوجے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ نذیر کے تعارف کے بعد وہ سب ایک دوسرے پر تصوف کی جھوٹی سچی باتیں جھاڑنے لگے۔ ہر آدمی زیارتوں اور مزاروں کے قصّے سنا رہا تھا، جن سے نذیر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وقفے وقفے سے کسی درگاہ کا کوئی بھولا بھٹکا درویش ادھر آ نکلتا تو مے خانے کی رونق اور بڑھ جاتی۔

 

نذیر نے اپنے نشے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے اور گاہے بگاہے چرس کی سلفی کے کش بھی کھینچتا رہا۔ اسے خود پر اعتماد تھا کہ نشے کی زیادتی کے باوجود وہ نہیں بہکے گا۔ جب اس نے بہت زیادہ نشہ کر لیا تو اس کے دل میں کسی سے بھی بات کرنے کی خواہش یکسر ختم ہو گئی۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ملنگوں کی بے سروپا لن ترانیوں پر وہ باربار اپنا سر دھنتا رہا۔ دھیرے دھیرے اس کی سماعت کے در بند ہونے لگے اور وہ ان کی آوازوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یوں ہی خالی خالی نظروں سے موالیوں کے چہروں کو دیکھنے لگا۔ الاؤ کی مچلتی اور تلملاتی لپٹوں کی روشنی میں وہ سب کے سب اسے اس وقت بدروحوں جیسے معلوم ہونے لگے تھے۔ ان کے چہروں کی تمام سرخی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔

 

جھونپڑی سے باہر گہری رات پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظر جھونپڑی میں داخل ہونے کے لیے بنے ہوئے چوکھٹے پر ٹھیر گئی۔ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے تارے اسے صاف دکھائی دیے۔ اس نے ایک حواس باختہ شخص کو زور سے زمین پر پاؤں پٹختے ہوئے دیکھا اور ایک جھرجھری سی لی۔ ذرا فاصلے پر نورل جوگی بیٹھا تھا۔ نذیر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا پیال سے اٹھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مے خانے کے موالیوں سے اللہ وائی کہا اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔

 

وہ دونوں لہراتے ہوئے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوئے گلیوں میں چلنے لگے۔ رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہ ہوا تھا مگر قصبے کی گلیوں اور سڑکوں سے زندگی رخصت ہو گئی تھی۔ لیکن نذیر کو شب کے تیسرے پہرکا شدت سے انتظار تھا۔ وہ مضطرب تھا مگر اس نے رستے بھر نورل سے کوئی بات نہ کی۔ وہ باربار اپنے تخیل میں ایک دیہاتی حویلی کی خواب گاہ میں حجاب سے بے نیاز شمیم کے بدن کے مہین خدوخال دیکھ رہا تھا، جو بے قراری سے وہاں اس کی منتظر تھی۔ وہ اس کے ساتھ اپنی گزشتہ بے ڈھب ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ اس کی انگلیوں کی پوریں اس کے اعضائے بدن کے لمس، اور اس کے ہونٹ اس کے لبوں کے نرم گرم بوسوں کے لیے مچل رہے تھے۔ اس کے گزشتہ لمس اور پرانے بوسوں میں لذت و سرور سے زیادہ افسوس اور تشنگی شامل تھی۔

 

گلیوں سے گزرتے ہوئے نورل اسے مختلف نصیحتیں کرتا رہا۔ “اس کے گھر پہنچنے کے لیے گاؤں کے اندرونی راستوں سے جانا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس نے جو بندوبست کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ ذہین عورت ہے۔ اس لیے اس نے تمہاری آمد کے لیے پچھلے راستے کو چنا۔ اور دیکھو! اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو تم اسی راستے سے باہر نکلنا۔ مولا مشکل کشا تمھاری مدد کرے گا۔ “

 

“نورل! اب مجھے وہاں جانے سے کوئی خوف نہیں،” نذیر نے اعتماد سے کہا۔

 

پکوڑافروش نے چلتے چلتے جماہی لی۔ “مگر یاد رکھنا! کسی کے گھر میں گھس کر اس کی عورت سے ملنا اتنا آسان نہیں۔”

 

اپنے گھر والی گلی کے کونے پر پہنچ کر ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے نورل سے کہا، “تم اسی پرانی جگہ پر میرا انتظار کرنا۔ میں بالکل ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گا۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دروازے میں ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور ہولے ہولے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔

 

چاچی خیرالنسا نے شاید اس کی آہٹ سن لی تھی، وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔ چاچا غفورکے خرّاٹے برآمدے میں نذیر کو بھی سنائی دے رہے تھے۔

 

اسے دیکھ کر نذیر حیران ہوا مگر اپنی حیرت چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے دروازے پر کنڈی لگا دی ہے۔ معاف کرنا میری وجہ سے تیری نیند ٹوٹ گئی۔ تو دوبارہ جا کر سو جا۔ میں خود ہی روٹی نکال کر کھا لوں گا۔”

 

خیرالنسا نے اپنے چہرے سے بال ہٹاتے اور سر پر چادر اوڑھتے ہوئے کہا، “میں نے تیرے لیے آج روٹی نہیں پکائی، اور سالن بھی تو گرم کرنا ہو گا۔”

 

یہ بات نذیر کے لئے یکسر خلافِ معمول تھی اس لیے اسے شدید حیرت ہوئی، لیکن وہ چپ سادھے رہا۔ وہ جماہی لیتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔

 

نذیر نے برآمدے کا بلب روشن کر دیا اور دوبارہ آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے کمرے میں جھانک کر چاچے کی طرف سے ایک بار پھر اطمینان کرنے لگا۔ پھر وہ اٹھ کر غسل خانے میں جا کر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی کو اس کے نشے کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔

 

وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں داخل ہوا اور چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر جا بیٹھا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا: “ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں، تْو میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تْو میری دور کی رشتے دار بھی نہیں لگتی۔ جو میرے رشتے دار ہیں، وہ سب کے سب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میرپور ماتھیلو میں تھا تو وہاں ابا اور بھائی مجھے گالیاں دیتے تھے۔ اور یہاں پر میرا چاچا دیتا ہے۔ میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ تھوڑے ہی دن میں ٹھری میرواہ بھی چھوڑ کر چلا جاؤں گا، اور کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں سے کسی کو میری کوئی خبر نہیں مل سکے گی۔ آخر مجھے تو ہی بتا، کیا میں بہت خراب ہوں؟ کیا میں واقعی بہت برا شخص ہوں؟” کہتے کہتے وہ اچانک خاموش ہو گیا۔

 

اس کے کہے ہوئے جملوں نے چاچی کے دل پر بہت اثر کیا۔ وہ اس کے لیے پہلے سے جو ہمدردی محسوس کر رہی تھی اس کی یہ باتیں سن کر اس میں اضافہ ہو گیا۔ آج کا تمام دن اس نے نذیر کے بارے میں سوچتے ہوئے گزارا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے ذہن میں اس کے لیے ابھرنے والے جذبات کی رو کو دبایا نہیں تھا۔ اپنے شوہر کے نامناسب طرزِعمل پر وہ اسے جی ہی جی میں ملامت کرتی رہی تھی اور اسے مسترد کرتی رہی تھی۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ نذیر سے صرف ایک بار ہی سہی مگر کھل کر بات کرے۔

 

اس نے اندازہ لگا رکھا تھا کہ شاید وہ اس سے کبھی کوئی بات نہ کرے، کیونکہ وہ اس کے گھر میں مہمان کی حیثیت سے رہتا تھا اور ان کے رشتے کی نوعیت بھی بے حد حساس تھی۔ اس نے سوچ کر خود سے ہی طے کر لیا تھا کہ بات کرنے میں وہ پہل کرے گی۔ نذیر کی اس کے لیے دلچسپی کے متعلق اسے اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ہار اب بھی اسی کے پاس تھا اور وہ موقع محل دیکھ کر اسے دینا چاہتا تھا مگر صبح کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اس نے جھوٹ بول دیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لیے بنوایا جانے والا ہاردیکھے اور اسے اپنے گلے میں سجائے۔

 

مگر اس وقت وہ اس کے ہونٹوں سے ٹھری میرواہ چھوڑ کر جانے کی بات سن کر دھک سے رہ گئی تھی۔ اس کی افسردگی دیکھ کر وہ بھی آزردہ خاطر ہو گئی تھی۔ کاش وہ اسے بانہوں میں بھر سکتی اور اس کے لبوں کو چوم چوم کر اس کا غم اپنے اندر جذب کر سکتی۔

 

وہ کسمساتے ہوئے بولی، “دیکھ! تیرے چاچے کی بدگمانی اور غلط فہمی اب ختم ہو گئی ہے اور تْو نے اس کا شک دور کر کے اسے مطمئن کر دیا ہے۔ میں نے بھی اس سے بہت کچھ کہا سنا۔ اس کے بارے میں ایک بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ دل کا بْرا نہیں ہے۔ تم اسے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے، ورنہ وہ ٹھری میرواہ میں اکیلا رہ جائے گا۔ “

 

نذیر غور سے اس کی طرف دیکھتا اس کی باتیں سنتا رہا۔

 

چاچی خیرالنسا نے مزید کہا، “میں اپنی شادی سے پہلے تمہاری رشتے دار نہیں تھی مگر اب تیری چاچی لگتی ہوں۔ اگر تم میری عزت کرتے ہو تو میرواہ چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔ نہیں جاؤ گے نا؟”

 

وہ جواب میں کچھ نہیں بولا۔ اپنا سرجھکائے چپ چاپ روٹی کا نوالہ چباتا رہا۔

 

وہ نذیر سے مثبت جواب سننا چاہتی تھی مگر اس کی خاموشی سے تلملا کر رہ گئی۔

 

“میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گی۔ آج کے بعد وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا،” وہ پیڑھی پر بیٹھی بیٹھی پہلو بدل کر بولی۔

 

“بس چاچی، میں نے فیصلہ کر لیا ہے!” نذیر نے حتمی بات کہہ دی۔
اس کی خموشی کو اس کا اٹل فیصلہ سمجھ کر چاچی خیرالنسا چپ ہو گئی اور اذیت بھرے سانس لینے لگی۔

 

نذیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اسے کرب کی خفیف سی لہر دکھائی دی۔

 

وہ رہ رہ کر سوچ رہی تھی کہ اس کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے بغیر اپنے بنجر ماہ و سال کا خیال اسے بہت ہول ناک محسوس ہو رہا تھا۔ زندگی پھر ویسی ویران اور بے مزہ ہو جائے گی جیسی کہ پہلے تھی۔

 

نذیر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا: “یہ آخر رات کے اس پہر یہاں کیوں بیٹھی ہے؟ اپنے کمرے میں جا کر سو کیوں نہیں جاتی؟”

 

خیرالنسا نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی تو وہ خود کو اس کی طرف دیکھنے سے نہیں روک سکا۔ وہ ہٹ دھرمی سے اس کے بدن کا جائزہ لیتا رہا۔ اسے محسوس ہوارہا تھاکہ وہ اگر چاہے تو ابھی اسی وقت اس سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ اب تک یہاں بیٹھی تھی۔

 

کچھ دیر بعد وہ جھرجھری سی لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی، “کیا تْو واقعی ہمیشہ کے لیے میرواہ سے چلا جائے گا؟”

 

نذیر اس کی تشویش پر مسکراتے ہوئے اٹھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے تک گیا۔ وہ اس کی مسکراہٹ اور اس کے اٹھ کر جانے کو نہیں سمجھ سکی۔ وہ دو لمحوں تک باہر جھانکنے کے بعد پلٹ آیا اور اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ “نہیں جاؤں گا۔ میں یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گا۔ اور وہ بھی صرف تیری خاطر۔ “

 

اس کا جواب سن کر وہ ضبط کی کوشش کے باوجود ہنسنے لگی۔ “تو مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ بات کر رہا تھا۔ جانتی ہوں تجھے!”

 

نذیر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور انہیں بے طرح چومنے لگا۔ اپنے ہاتھوں پر اس کے بوسوں کو محسوس کر کے وہ لرز کر رہ گئی۔ اس کے وجود پر چڑھا ہوا کوئی پرانا میل اتر نے لگا اور اس کے بدلے اس کے وجود پر ایک انوکھا اور منفرد رنگ چڑھنے لگا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ لیں۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ اسے ہلکا سا دھکا دے کر اپنے ہاتھ چھڑا کر اْٹھ کھڑی ہوئی۔
دھکا لگنے سے وہ لڑکھڑا گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے خیرالنسا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ دونوں کے بدن کچھ دیر کے لیے ایک وجود معلوم ہونے لگے۔ وہ اس کے شانے کو چومتا ہوا اس کے چہرے تک پہنچا اور والہانہ انداز سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ باری کرنے لگا۔ وہ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

 

نذیر نے اس کی سماعت میں شیریں سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا، “میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم بہت اچھی ہو۔”

 

وہ اس کے بوسوں کا جواب دینے کے بجائے کسمسا رہی تھی اور دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی: “وہ جاگ جائے گا۔ وہ جاگ گیا تو بہت برا ہو گا۔ میں جاتی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے اس نے نذیر کو اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ باورچی خانے میں کھڑا کچھ دیر تک اپنی بپھری ہوئی سانسیں درست کرتا رہا۔ پھر وہ جا کر برآمدے میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔

 

لیٹے لیٹے وہ حیرت سے مسکرایا، پھر آہستگی سے ہنسنے لگا۔ وہ حیران تھا کہ اتنی بڑی انہونی آخر کیسے ہو گئی؟ مگر جو کچھ بھی ہوا وہ اچانک اور اس کے کسی ارادے کے بغیر ہوا تھا۔ اس نے اس کی دست درازی کا برْا نہیں مانا۔ اس نے کسی خفگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اپنی اس غیرمتوقع کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور انہیں اپنے ہونٹوں کے پاس لے جا کر چومتے ہوئے ان میں چھپے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے سوچا کہ اس کی زندگی میں چند اور خوشگوار لمحوں کا اضافہ ہو گیا۔ وہ مدت سے ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں تھا جو چند لمحوں کے لیے سہی، اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کر دے۔ وہ مستقبل سے وابستہ اپنی توقعات کے بارے میں سوچ سوچ کر لذت کشید کرنے لگا۔

 

آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوش نصیب رات تھی۔ دو طرف سے اس پر لطف و کرم کی پھوار گرنے لگی تھی۔ یہ پھواراس کے بے قرار اعضائے بدن کو قرار دے رہی تھی۔ وہ چارپائی سے اتر کر صحن میں آ گیا۔ اس کی نگاہ اٹھ کر آسمان پر گئی اور وہاں چمکتے ہوئے ستاروں پر بھٹکتی رہی۔ ہر ستارہ اسے آج خوشی کا چراغ معلوم ہو رہا تھا۔ اس کا رنگ، اس کی چمک گویا کسی شادمانی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے اس گھر کے درودیوار سے ملحقہ مکانوں کے ابھرے ہوئے نو ک دا ر سایوں کو دیکھا۔ رات کے اس پہر ہر مکان خاموشی اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور تمام کھڑکیاں اور روشندان بند تھے۔

 

ٹہلتے ٹہلتے اسے چاچے غفور کا خیال آیا۔ وہ اس کی لاعلمی پر دھیرے دھیرے ہنسنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے خود کو ملامت کرتے ہوئے اس عجیب وغریب انتقام پر حیران ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں چاچے کے لیے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے گناہ کے شدید احساس کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔ خود کو سمجھایا کہ یہ سارا معاملہ اس کی مرضی کے بغیر خودبخود طے ہوا ہے۔ اس نے اس راز کے کھلنے کی صورت میں اپنے لیے منتظر بدنامی اور ذلت کے بارے میں سوچا تو اس کے جی میں آیا کہ اسی وقت دروازہ کھول کر کمرے کے اندر گھس جائے اور بوڑھے درزی کو ہلاک کر دے۔

 

جوگیوں کے گوٹھ جانے کا خیال جوکچھ دیرکے لیے اس کے ذہن سے محو ہو گیا تھا۔اب اچانک اسے شمیم یاد آئی تووہ چونک پڑا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ ابھی اس کے گھر سے نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا۔ پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی یہ سفر اسے دشوارگذار معلوم ہو رہا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے لیے یہ سفر ناگزیر ہو چکا ہے۔

 

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ چارپائی سے اٹھا اور پہلے کی طرح اپنے تکیے کو رضائی کے نیچے رکھ کر اسے اس کے اوپر بچھا دیا۔ چپل پہن کر وہ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔ دہلیز پار کرنے کے بعد اس نے باہر سے دروازے پر کنڈی لگائی اور چل پڑا۔ وہ محتاط انداز میں دبے پاؤں چلتا ہوا مختلف گلیوں سے گزرا۔ اس نے مختلف جگہوں پر تعینات چوکیداروں کی سیٹیوں کو سنا تو اس کے حوصلے خطا ہونے لگے۔ ایک گلی میں داخل ہوتے ہی آپس میں گتھم گتھا دو آوارہ کتے اچانک اس کے سامنے آ گئے۔ اس کی سانسیں لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئیں۔ ان کی چیخوں میں وحشت کے ساتھ ساتھ دہشت بھی تھی۔

 

ابھی بمشکل آدھا راستہ طے ہوا تھا۔ وہ چلتے ہوئے چاروں سمتوں میں باربار دیکھتا رہا۔ جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا، اس کے قدموں میں ایک عجیب سی ڈگمگاہٹ آتی جا رہی تھی۔ اسے اپنے پورے وجود میں ڈر پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک بجلی کے کھمبے کے سائے سے خوف کھا کر اس نے لوٹ جانے کے بارے میں سوچا۔ چلتے چلتے وہ ٹھٹک کر رکا، مگر پھر دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔

 

اسے باربار یہ خیال ستا رہا تھا کہ کسی لمحے کوئی شخص اچانک اسے پکڑ لے گا اور چور یا ڈاکو سمجھ کر پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ وہ ہر مکان کے دروازے کو غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اچانک سب کے سب مکانوں کے دروازے بھک سے کھل جائیں گے اور وہاں سے اچانک بہت سے لوگ باہر نکلیں گے اور اسے ہلاک کر ڈالیں گے۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ آج کی شب اس نے بھنگ اور چرس کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا ذہن واہموں اور وسوسوں سے بھر گیا تھا۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ تیزرفتاری سے چلنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔ اسے اپنے گھر سے خوش باش نظر آنے والے ستارے یکسر تبدیل ہو گئے تھے اور اب آنکھیں مچمچاتے ہوئے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا، زمیں و آسمان کے تمام مظاہر اور مناظر آج کی رات اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔

 

وہ نہر کے کنارے پہنچا تو سردی کا احساس شدت اختیار کر گیا، مگر آج وہ سویٹرکے اوپر جرسی پہن کر آیا تھا۔ اس کے گلے میں مفلر بھی تھا۔ اس کے باوجود درختوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ٹھنڈ سے کپکپانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نہر کے پل تک پہنچا۔ یہاں ہر چیز دھند میں اٹی ہوئی تھی اور کہرا پڑ رہا تھا۔ پل کے نیچے سے گزرتا پانی مدھم سی سرگوشیاں کرتا بہہ رہا تھا۔ اس نے پل کی دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا۔ پل سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے رک کر گردوپیش کے منظر پر نظر دوڑائی۔ گہری تاریکی کے باوجود ایک مدھم سی روشنی سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔ پل سے نیچے اتر کر وہ کچھ دیر کچی سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ داہنے ہاتھ پر واقع کھیتوں کے اندرگھس گیا اور گیلی گھاس پر پاؤں جما کر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ ٹھہر گیا اور پکوڑافروش کو آوازدینے لگا۔ اس نے آس پاس بہت غور سے دیکھا۔ اسے نہ کہیں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا اور نہ ہی فضا میں چرس کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ ہاتھ سے جھاڑیوں کو ٹٹولتا رہا مگر نورل اسے کہیں بھی نہیں ملا۔

 

اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے اسے پْل آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ بہت وقت گزرنے کے بعد بھی اس طرف سے کوئی نہیں آیا۔ وہ مخمصے میں تھا۔ اسے اپنے دوست سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ وہ اس پر ہمیشہ اندھا اعتماد کرتا رہا تھا۔

 

ملاقات کے لیے مقررہ وقت میں تھوڑی دیر باقی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے شمیم نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ہو، مگر رہ رہ کر اسے پکوڑافروش کی دغابازی تنگ کر رہی تھی۔ اس کے بغیر وہ خود کو بے آسرا اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔ وہ گومگو کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ پچھلی بار بھی وہ اسی کے سہارے وہاں تک چلا گیا تھا، مگر آج وہاں تک جانا اسے پْرخطرمحسوس ہو رہا تھا۔ اس کا ذہن اسے باربار وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ رہا تھا مگر اس کا دل اس کے قدم روکے ہوئے تھا۔ رہ رہ کر اسے شمیم کا مخملیں بدن یاد آ رہا تھا۔ اس کی یاد کی کشش خودبخود اس کے قدموں کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔

 

وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ اِدھراْدھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی اور وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبور کیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔ فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں۔ پانی کا نالا قریب ہی واقع تھا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک بار پھر کماد کی فصل سے باہر نکلا اور سیمنٹ سے بنے پختہ نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ شرینہہ کے درخت کے پاس پہنچ کر وہ نالے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ آج اس کی سطح اْس دن سے بھی زیادہ ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ٹھنڈ سے کانپنے لگا تھا۔ نورل کی غیرحاضری پر اسے جی ہی جی میں غصہ آ رہا تھا۔ اس کا ذہن اب بھی اسے واپس جانے پر اکسا رہا تھا۔ وہ باربار اس خیال کو رد کر رہا تھا۔ اس کے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چٹکی لے رہی تھی کہ وہ جا کر حویلی کے اس دروازے کو نزدیک سے دیکھ لے جہاں سے اس دن شمیم آئی اور گئی تھی۔

 

اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔ کماد کی فصل میں یخ ہوا کے جھونکے سرسرا رہے تھے۔ ان کی سرسراہٹ پر اسے باربار کسی چڑیل کی ہنسی کا گمان گزرتا تھا۔ وہ گرد ن موڑموڑ کر اس جانب دیکھنے لگتا تھا۔ اس طرف پانی کے نالے کی لکیر دور تک چلی گئی تھی جبکہ دوسری طرف ایک کھیت خالی پڑا ہوا تھا۔ وہاں اگلے مہینے کپاس کا بیج ڈالا جانا تھا۔

 

وہ ٹھٹھرتا کانپتا ہوا نالے پر بیٹھا، شمیم سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ یاد کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ اٹھ کر خالی کھیت کی جانب بڑھا۔ کھیت میں چلتے ہوئے اس کے پاؤں کے نیچے سوکھی لکڑیاں چرچرانے لگیں۔

 

“وہ شاید آخری مکان میں رہتی ہو گی، نورل جسے باربار حویلی کہہ رہا تھا،” اس نے سوچا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور اردگرد دیکھنے لگا۔

 

اسے معاً کسی دروازے کی کنڈی اترنے کی آواز اور پھر دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چند لمحوں کے بعد ایک دھیمی سی ہشکار اس کے کانوں میں پڑی۔ اس نے شمیم کے سائے کو دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تو اطمینان کی لمبی سانس لینے لگا۔ اس کے ذہن سے تمام اندیشے اور وسوسے آناً فاناً مٹ گئے۔ ناہموار زمین پر دھیرے دھیرے چلتا ہوا وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔ رات کے تیسرے پہر جب دنیا گھٹاٹوپ اندھیروں کے فسوں میں لپٹی، نیند کے خمار میں ڈوبی ہوئی تھی، دو پیار کرنے والوں کے سائے ایک دوسرے کے نزدیک آ کر، ٹھٹک کر رک گئے۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے جگنو دو لمحوں کے لیے جگمگائے اور انہیں لاحق تشویش کی دھند میں چھپ گئے۔
“میں بہت دیر سے تمھاری منتظر ہوں۔ تین بار دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا مگر تم نظر نہیں آئے۔ میں پریشان اور مایوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ تم نہیں آؤ گے۔ شاید تم مجھ سے روٹھ گئے… یا۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بات کرتی کرتی رک گئی۔ اس کے لہجے کے اتارچڑھاؤ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنی موجودہ صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی ہے اور اسے اپنی باتوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔

 

نذیر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا: “میں یہاں بہت پہلے پہنچ جاتا مگر میرا رازدار عین وقت پر آج مجھے دھوکا دے گیا۔ پھر تم جانتی ہی ہو کہ آدھی رات کو قصبے سے نکل کر اس طرف آنا کتنا بڑا جوکھم ہے۔ ہے کہ نہیں؟” وہ اپنے استفسار کے بعد شمیم کی طرف دیکھنے لگا۔

 

وہ جواب دینے سے پہلے دھیرے سے ہنسی۔ اس کی ہنسی کی مدھم سی کھنک نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ “جوکھم تو ہے، مگر تم سے زیادہ بڑا جوکھم تو میں نے مول لیا ہے۔ سنو!میرے سب گھروالے اس وقت گہری نیند سو رہے ہیں۔ تم چیزوں کو دیکھ بھال کر آہستہ آہستہ میرے پیچھے آؤ۔ دیکھو، کسی چیز سے ٹکرا کر گر مت جانا!” اس کے لہجے سے جھلکتی شوخی یہ عندیہ دے رہی تھی کہ وہ اپنی تشویش اور گھبراہٹ پر قابو پاتی جا رہی ہے۔

 

وہ آگے بڑھی تو نذیر بولایا ہوا سا دروازے کو بھیڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔

 

شمیم نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، “سمجھ گئے نا؟ آؤ۔”
نذیر نے چند قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟”

 

یہ بات سن کر اس نے بمشکل اپنے آپ کو ہنسنے سے روکا۔ “ڈرتے ہو تویہاں تک آئے کیوں ہو؟” یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑی جبکہ وہ ہولے ہولے اس کے پیچھے آنے لگا۔

 

دروازے سے کچھ دور جا کر ایک طویل برآمدہ شروع ہوتا تھا جہاں کئی ستون قطاروار کھڑے تھے۔ برآمدے میں ایک طرف تین کمرے واقع تھے جن کے دروازے بند تھے۔ برآمدے سے گزر کر وہ ایک کشادہ صحن میں آ گئے۔ صحن میں سو کینڈل پاور کے ایک بلب کی پھیکی سی روشنی پھیلی تھی۔ نذیر دبے پاؤں چلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے بے ترتیبی سے پڑتے ہوئے قدم آواز پیدا کررہے تھے، جبکہ شمیم اس طرح بے آواز قدم اٹھا رہی تھی جیسے پانی کی سطح پر چل رہی ہو۔

 

کشادہ صحن میں چلتے چلتے داہنی طرف واقع ایک بڑے سے چھپر کے نیچے پہنچ کر وہ دونوں ٹھہر گئے۔

 

“میں نے تمھارے لیے بہت پہلے سے ہی چائے تیار کر لی تھی۔ تم یہاں کھاٹ پر بیٹھو۔ میں چائے لے آتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ کشادہ صحن کے کونے پر واقع باورچی خانے کی سمت چلی گئی۔

 

نذیر اسے بلب کی پھیکی روشنی میں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ اپنے دل و دماغ میں شدید بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ اس وجہ سے اس کے لیے بیٹھ جانا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چھپر کے نیچے دھیرے دھیرے ٹہل کر گھر کا جائزہ لینے لگا۔ یہاں سے اس کی نگاہ پورے گھر کا احاطہ کر رہی تھی۔ اس نے باورچی خانے سے ملحقہ لکڑی کے اونچے سے دروازے کو دیکھا جو شاید گھر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا۔

 

شمیم کو واپس آتا ہوا دیکھ کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں کیتلی اور دوسرے میں دو پیالیاں اٹھا رکھی تھیں۔ چھپر کے نیچے پہنچ کر اس نے پیالیاں کھاٹ پر رکھ دیں اور کیتلی سے ان میں چائے انڈیلنے لگی۔

 

نذیر خوش دلی سے گویا ہوا، “تم نے بہت اچھا کیا کہ اس وقت چائے بنا لی۔”

 

شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے دھیرے سے ہوئے بولی، “رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور پالا بھی گرتا ہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔”

 

“میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے پیوں گا،” نذیر نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اس نے شمیم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی۔

 

“تم جانتے ہو، مہمان نوازی تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے۔”
“بالکل ٹھیک کہتی ہو،” وہ چائے کا گھونٹ لے کر کہنے لگا۔ “درازہ شریف میں ہونے والی ملاقات کے بعد میں سمجھا کہ تم ڈر گئیں اور اب مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔ “

 

وہ ہنسی۔ “میں تم سے نہیں ملنا چاہتی؟ اچھا! تو تم میرے بارے میں یہ سوچتے رہے؟ مجھے تاپ چڑھ گیا تھا۔ پورا ایک ہفتہ میں کھاٹ پر بیمار پڑی رہی۔ نوراں نے تمھارے پیغام مجھ تک پہنچائے تو تھے مگر میں نے ملنے سے منع کر دیا تھا۔”

 

“مگر میں تمھاری بیماری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔”

 

“میں نے اسے کہا تو تھا کہ وہ اس بارے میں تمھیں بتا دے۔” وہ باربار گردن گھما کر برآمدے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

 

“اس روز تمھارے شوہر کو مجھ پر شک تو نہیں ہوا؟”

 

وہ کسمسا کر بولی، “اسے شک نہیں ہوا۔ ویسے قبرستان بہت خوفناک جگہ ہے۔ قبروں کے درمیان پیار کی باتیں کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تم سے ملنے کی خاطر میں وہاں چلی آئی۔” وہ مسکرائی۔

 

“مجھے تم سے وہاں ملنے کے لیے جب کوئی اور جگہ نہیں مل سکی تو قبرستان کا انتخاب کرنا پڑا۔” وہ پہلی بار ہنسا۔ “تمھارے ہاتھوں کی چائے بہت مزیدار ہے۔”

 

اپنی تعریف سن کر وہ مسکرائی، پھر اسے اپنے شوہر اور اپنے سسرال والوں کے بارے میں بتانے لگی۔ اس کی یہ باتیں سنتے ہوئے نذیر جماہیاں لینے لگا۔ وقفے وقفے سے گوٹھ کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چھپر کے کسی کونے میں چھپا ہوا جھینگر بھی مسلسل شور مچا رہا تھا۔

 

اس کی باتوں کے دوران نذیر نے اپنی جیب سے اس کے لیے بنوایا ہوا ہارنکالا اور اسے ہاتھ میں لہرا کر اسے دکھاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے سنارسے تمھارے لیے یہ ہار بنوایا ہے۔”

 

ہار کو دیکھ کرشمیم اپنی خوشی کو دبا نہ سکی۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔ “میرے لیے؟”

 

“ہاں، تمھارے لیے۔ اگر تم اجازت دو تو میں یہ ہارتمھاری گردن میں پہنا دوں۔”

 

اسے جواب دینے کے بجاے وہ شرمانے لگی۔ نذیر اٹھ کر اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہار تھام لیا اور ذراسا جھک کر اپنے یخ بستہ ہاتھ اس کی نرم گردن تک لے گیا۔ اس کی انگلیاں اس کی مخملیں گردن کو چھونے لگیں۔

 

اس نے چہرہ جھکا لیا تھا۔ اس کی انگلیوں کو گردن پر محسوس کرتے ہوئے اسے گدگدی سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ہنسنے سے مشکل سے روکے ہوئے تھی۔ اس کی بنجر اور بیزار زندگی کے لیے یہ لمحات مسرت و شادمانی سے بھرپور تھے، مگر ساتھ ہی اس کے دل کو گھر کے کسی فرد کے جاگ اٹھنے کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی خوشی کا دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا اظہار کر رہی تھی۔
کم روشنی کی وجہ سے نذیر ہار کی زنجیر بند نہیں کر سکا۔ عاجز آ کراس نے ہار شمیم کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ “یہ تم خود ہی پہن لینا۔ اور اب اپنے پیارے پیارے ہاتھ مجھے دکھاؤ۔” وہ اس کے مقابل آ کر زمین پر بیٹھ گیا اور اس کے سمٹے ہوئے نرم ہاتھوں کو اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر انہیں دبانے لگا۔ پھر انہیں اپنے چہرے پر لے جا کر محسوس کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ اس کی ہتھیلیوں کو اپنے ہونٹوں سے چومنے لگا۔

 

“ہار نیچے گر گیا،” شمیم نے سرگوشی سے اسے بتایا۔

 

نذیر فوراً اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر، زمین پر جھک کر مٹی میں ہاتھ مارتے ہوئے ہار ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے مل گیا۔ اس نے اپنی قمیض سے ہار صاف کر کے اسے تھما دیا۔ “تم پہن لو ابھی۔”

 

شمیم نے اس کا کہا مان لیا اور ہار پہن لیا۔ اس کے بعد اس نے کیتلی اٹھائی اوراس میں سے چائے انڈیل کر اسے پینے کے لیے دوسری پیالی پیش کی۔ چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل اس کی تعریف کرنے لگا۔ شمیم نے جب اس سے ہار کی قیمت دریافت کی تواس نے ہار کی جھوٹی قیمت بتائی۔ زیادہ قیمت کا سن کر وہ مرعوب ہوئی اور اسے اپنے پاس پہلے سے موجود زیورات کے متعلق بتانے لگی۔

 

اس کی بات کاٹتے ہوئے نذیر نے کہا، “آج میں صبح تک تمھارا مہمان ہوں۔”

 

“ہاں میرے پیارے۔”

 

اس مرتبہ نذیر اس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کسی مزاحمت کے بغیرشمیم اس سے لپٹ گئی۔ نذیرکے پیاسے اور خشک ہونٹ شمیم کے نازک اور شیریں لبوں سے زندگی کا رس کشید کرنے لگے۔ وہ اس کے بوسوں کی شدت کے سامنے عاجز اور بے بس ہوتی چلی گئی۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں اور خود کو اس کے پیار کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی ندی کے دھارے پر چھوڑ دیا، جو اس کے لبوں سے ہوتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے پورے وجود تک پھیلتا چلا گیا۔ نذیر کا جوش جتنا بڑھتا جا رہا تھا وہ اس کے بازوؤں میں اتنی ہی سمٹتی جا رہی تھی، پگھلتی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں اپنی قباؤں سے بھی یکسر بے نیاز ہو گئے۔

 

پہلی بار کسی عورت کا جسم نذیر کے سامنے پوری طرح کھلا تھا۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود اس کی وحشت بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔

 

شمیم آنکھیں میچے لمبے سانس بھر رہی تھی۔ اس کا ہر سانس، اس کی ہر سسکی، اس کی ہر لذت بھری آہ نذیر کی احسان مند تھی۔ اس کی رگوں میں عرصے سے جما ہوا لہو کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا۔ اس کی نرم و گداز اندام نہانی گلاب کے پھول کی طرح کھلی ہوئی تھی اور عضوِ خاص کے لیے مچل رہی تھی۔

 

چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔ نذیر کا منھ زوردار چیخ کے لیے کھلنے ہی والا تھا کہ شمیم نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، مگر اس بیچارے کی روح فنا ہو چکی تھی۔ بلی کے پنجوں نے نذیر کی پشت کو زور سے رگیدا۔ اس کے بعد وہ اس کی پشت سے اتر کر چھپر کے کونے میں کہیں غائب ہو گئی۔

 

(جاری ہے)
Categories
تبصرہ

Hasan Ki Surat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo

Book Review: Hasan Ki Surat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo
Author: Mirza Athar Baig
Publisher: Sanjh Publications

Hasan-Ki-Surat-e-Haal-title

[blockquote style=”2″]The event happened to Hasan Raza Zaheer after his lifelong exercise of glancing at the state of affairs.

If we want to take the responsibility to know how and when Hasan got into this habit of glancing at the state of affairs we will have to walk further with him in his life… In fact the more important thing is that we will have to ‘see’ with him because everything is about seeing. And we have to experience what it is like to see.

( Hasan Ki Soorat-e-Haal: Khali Jaghain Pur Karo)
[/blockquote]

It rarely happens that a novel comes this close to the word ‘novel’: being absolutely unique in the world it presents to the reader. Mirza Athar Baig’s new novel, Hasan ki Soorat-e-Haal: Khali Jagahain Pur kero is one such piece of fiction which makes one think of the genre not as a description of a world but a world in itself. The novel being a world in itself is very much like what a cosmologist, Andre Lindy proposes in his theory of the inflationary universe according to which our universe maybe just one of many universes each with its own governing laws. These self-created laws of coherence that a novel generates for its life-world are brought together by the dynamic intersection of social, political, psychological and spiritual force fields of this multidimensional entity.

Baig’s new novel is like a cinematic journey into a life densely populated with its multicolored characters and their unique subjectivities. The story of Hasan’s State of Affairs (Hasan ki Surat-e-Haal) is as surrealistic as the film the ‘Sawang Film’ group in the novel tries to produce. The film is called ‘This film can’t be made’. The novel’s frame of reality is mirrored in the film’s screenplay and in the characters who multiply by this mirroring effect into multiple possibilities of Being challenging the reader to keep the thread intact. In Baig’s own words: “…The presence of almost a whole screenplay in the novel about a fictional surrealist film is an integral part of the narrative. The activities of the film group, bordering on burlesque at times, are intended to mirror the multiple layers of the same events. What is happening in ‘reality’ is sort of rediscovered in the screenplay and vice versa.”

The dizzying effect that the narrative technique of reincarnating the same characters, Aneela, Saifi, Saeed Kamal and Safdar Sultan in another stretch of space-time continuum can also be seen as amplifying the novel’s surrealist ambiance reflecting an uncanny juxtaposition of seemingly discordant and irrational images. The abundance of characters and multiple scenarios in which these characters reveal themselves create an incredible human drama which is uncanny and entertaining at the same time.

Mirza Athar Baig reading excerpt from 'Hassan Ki Soorat e haal', in Islamabad Literature Festival.
Mirza Athar Baig reading an excerpt from ‘Hassan Ki Soorat e haal’, in Islamabad Literature Festival, 2014

It may as well be noticed that along with its witty tone and intricate narrative pattern, the novel is written from the point of view of the ghost narrator, who might as well be Hasan’s ghost who narrates the story after the story has actually taken place. However, the question remains: Who is the narrator and why he/she introduces himself/herself as the Editor of Wonder. The enigma continues ad infinitum and as the narrator says: As opposed to a successful story, stories (Kahaniya) where the resolution of an enigma is celebrated, the wonder-narrative (Hairaniya) is a mourning of the continuity of this enigma. And this too is a form of celebration. The interventions of this editor throughout the novel constitute another important perspective of seeing things and talking about them. It may as well be said that the second chapter of the book entitled Hairat ki Idarat (Editing of Wonder) is probably the most important one for anybody who finds him/herself interested in the theoretical aspects of any piece of fiction. The narrator, however, encourages the reader to discard this chapter altogether as a ‘non-writing’ or a disturbing nightmare. However, rather than discarding it for being abstract or ‘philosophical’, this chapter should be read with great focus for herein lies the craft of the entire book and various subtleties of narrative.

Hasan Ki Surat-e-Haal is a remarkable synthesis of Baig’s creative imagination and the contemporary local reality. The novel offers a great potential for examining our historical, cultural and cognitive existence in innovative, scholarly and intellectual perspectives.