Categories
نان فکشن

سپیس کے ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

پانچواں سبق: سپیس کے ذرات
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ابہام، مایوسی اورکچھ سوالوں کے نامکمّل جوابات کے باوجود وہ طبیعیات جو میں نے ابھی تک یہاں بیان کی ہے،ماضی میں کائنات کے بارے پیش کی گئیں تمام وضاحتوں سے بہتر ہے۔ طبیعیات باقی نظریات کی نسبت کائنات کی بہتر تشریح کرتی ہے. لہٰذا ہمیں کافی حد تک مطمئن ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نہیں ہیں۔

طبیعی دنیا کے متعلق ہماری تفہیم کی بنیادوں میں ایک متناقضہ (Paradox) موجود ہے۔ بیسویں صدی نے ہمیں دو علمی گوہر”عمومی اضافیت” (General Relativity)اور”کوانٹم میکانیات” (Quantum Mechanics) فراہم کیے ہیں جن کے متعلق میں نے پچھلے اسباق میں بات کی. آئن شٹائن کی “عمومی اضافیت”کی بنیاد پر کونیات(Cosmology)، فلکیات (Astrophysics)، تجاذبی امواج (Gravitational waves)، بلیک ہولز (Black holes)اور بہت سے دوسرے علوم تشکیل پائے جب کہ “کوانٹم میکانیات” نے جوہری طبیعیات(Atomic Physics)، نیوکلیائی طبیعیات(Nuclear Physics)، مادے کے اساسی ذرات (Elementary Particles) کی طبیعیات، ٹھوس اجسام کی طبیعیات(Condensed Matter Physics) اور بہت ساری دوسری شاخوں کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ ان علوم نے ہمارے طرزِ زندگی کو بدل دیا اور یہی دونوں نظریات موجودہ ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نظریات کم از کم اپنی موجودہ شکل میں مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ دونوں نظریات اپنی اساس میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

اگرایک طالب علم صبح کوعمومی اضافیت اور سہ پہر میں کوانٹم میکانیات کے لیکچر سن رہا ہو اور دونوں لیکچر سننے کے بعد یہ کہے کہ اس کے پروفیسر بے وقوف ہیں یا انہوں نے گزشتہ ایک صدی سے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کیا تواس کو یہ کہنے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔ صبح والےعمومی اضافیت کے لیکچرمیں دنیا ایک منحنی خلا ہے جہاں ہر شئے متسلسل ہے جب کہ سہ پہر کے لیکچر کے مطابق دنیا ایک ہموارخلا ہے جہاں توانائی کے قدریے یا کوانٹا جستیں بھرتے ہیں۔

متناقضہ یہ ہے کہ دونوں نظریات کی فلسفیانہ توجیہات ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے باوجود یہ درست کام کرتے ہیں۔ قدرت ہمارے ساتھ اس بوڑھے پادری سا برتاؤ کررہی ہے جس کے پاس دو لوگ ایک مسئلے کا حل نکلوانے جاتے ہیں۔ وہ پہلے کی بات سنتا ہے اور کہتا ہے آپ صحیح کہتے ہیں۔ دوسرا شخص اصرار کرتا ہے کہ اس کو بھی سنا جائے۔ پادری اس کو سنتا ہےاورکہتا ہے آپ بھی صحیح کہتے ہیں۔ ساتھ والے کمرے میں موجود پادری کی بیوی جب یہ بات سنتی ہے تو پکارتی ہے “لیکن یہ دونوں بیک وقت ٹھیک نہیں ہو سکتے”۔ پادری اس کی بات سنتا ہے اور فیصلہ سنانے سے پہلے سر ہلا کر کہتا ہے “آپ بھی صحیح کہتی ہیں”۔

پانچ برِاعظموں پرموجود طبیعیات دانوں کا ایک گروہ بڑی محنت سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مصروف ہے۔ طبیعیات کی یہ شاخ کوانٹمی تجاذب (Quantum Gravity) کہلاتی ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ایسی مساواتوں کے سیٹ (Set) پرمشتمل ہو کہ دنیا کی ایک جامع تصویر پیش کرے۔ جس کی وجہ سے طبیعیات کی موجودہ شقاق دماغی (Schizophrenia) کو ختم کیا جا سکے۔

طبیعیات میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا جہاں دو انتہائی کامیاب لیکن متصادم نظریات موجود ہوں۔ ماضی میں امتزاج کی کوشش نے دنیا کے متعلق ہمارے ادراک کو ایک نئی فہم سے نوازہ ہے۔ نیوٹن نے گلیلیو (Galileo)کی بتائی ہوئی مکافی اشکال (Parabolas) اور کیپلر(Kepler) کی پیش کردہ بیضوی اشکال (Ellipses)کو یکجا کرکے کائنات میں موجود ہمہ گیر تجاذب یا قوّتِ کشش (Gravity) کو دریافت کیا۔ میکسویل (Maxwell) نے برقی اور مقناطیسی قوّتوں کو یکجا کر کے برقناطیسیت کی مساواتیں دریافت کیں۔ آئن شٹائن نے میکانیات اور برقناطیسیت میں ایک ظاہری تضاد حل کرنے کی کوشش میں نظریہ اضافیت دریافت کیا۔ کسی طبیعیات دان کے لئے دو کامیاب نظریات میں تضاد کی شناخت کر لینا انتہائی خوش کن لمحہ ہوتا ہے۔ ایک سائنس دان کے لیے یہ بہت شاندار موقع ہوتا ہے۔ اب طبیعیات دانوں کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ کیا اس طبعی دنیا کے متعلق کوئی ایسا نظریاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ان دونوں نظریات (کوانٹم میکانیات اورعمومی اضافیت) کے ساتھ منطبق ہو؟

یہاں علم اورانسانی فہم کی سرحدوں سے آگے سائنس اور بھی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ یہ وجدان اور سعی کے نوزائیدہ تصورات کی بھٹی میں دمکتی ہے۔ عقلی جرّات اور جوش کے ان نامعلوم راستوں پر جو اپنائے اور پھر چھوڑ دیے گئے۔ ان تصورات کو عدم سے وجود میں لانے کی کوششں میں جو ابھی تک عالمِ خیال میں بھی پوری طرح نمو پزیر نہیں ہوئے۔

بیس سال پہلےان علمی تصورات کے گرد کہر کافی گہرا تھا۔ اب راستے قدرے نمایاں ہو گئے ہیں جس سے نئے ولولے اور رجائیت نے جنم لیا ہے۔ چونکہ یہ راستے ایک سے زیادہ ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے۔ زیادہ راستے تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن یہ علمی بحث صحت مند ہے۔ جب تک دھند مکمل طور پر چھٹ نہیں جاتی، تنقید اورمتبادل نظریات کا ہونا اچھا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھوس کوششوں میں ایک نظریہ لوپ کوانٹم گریوٹی (Loop Quantum Gravity) کہلاتا ہے جس کو مختلف ملکوں میں موجود طبیعیات کے بہت سے محققین نے اپنایا ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کرنے کی ایک سعی ہے۔ یہ ایک محتاط کوشش ہے کیوں کہ یہ ان مفروضوں کو استعمال کرتی ہے جو پہلے سے دونوں نظریات میں موجود ہیں. ان کو ہم آہنگی پیدا کرنے کی خاطر مناسب طریقے سے دوبارہ لکھا گیا ہے۔ اس سے بنیادی (Radical) نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت کو دیکھنے کی مزید عمیق ترمیم فراہم کرتے ہیں۔

اصل میں لوپ کوانٹم گریوٹی کا تصورنہایت سادہ ہے۔ عمومی اضافیت ہمیں بتاتی ہے کہ سپیس (Space) کوئی جامد ڈبہ نما چیزنہیں بلکہ ایک متحرک شئے ہے۔ ایک بہت بڑے گھونگھے کے خول جیسی شئے جس میں ہم موجود ہیں۔ ایک ایسا خول جس کو دبایا اور مروڑا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کوانٹم میکانیات نے ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح کا ہرمیدان (Field) کوانٹا (Quanta) کا بنا ہوتا ہے اور اس کی ساخت شفاف ذروں کی سی ہوتی ہے۔اس سے فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طبعی سپیس بھی کوانٹا یعنی نہایت چھوٹے ذروں سے مل کر بنی ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ سپیس یا مکاں درحقیقت متسلسل نہیں ہے۔ یہ لامتناہی طور پرناقابلِ تقسیم نہیں ہے بلکہ جس طرح روشنی چھوٹے ذرّوں (فوٹون) سے مل کر بنی ہے، اسی طرح سپیس بھی ذرّوں یا ایٹموں سے بنی ہے۔ سپیس کے یہ ذرّے نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹےایٹم کے مرکزے سے بھی اربوں ارب گنا چھوٹے۔ یہ نظریہ سپیس کے ان ایٹموں کو ریاضیاتی شکل میں بیان کرتا ہے اور وہ مساواتیں فراہم کرتا ہے جو ان کے ارتقاء کے متعلق معلومات دیتی ہیں۔ سپیس کے یہ ذرّے لوپ کوانٹم گریوٹی کی ریاضیاتی زبان میں چھلّے یا کڑیاں (Loops or Rings) کہلاتے ہیں کیوں کہ یہ آپس میں منسلک ہوکر تعلقات کا ایک ایسا جال (Network) بُنتے ہیں جو سپیس کے تار و پود یا ساخت وضح کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بہت بڑی زنجیر کی کڑیاں آپس میں مربوط طریقے سے بُنی ہوتی ہیں۔

سپیس کے یہ کوانٹا کہاں ہیں؟ کہیں بھی نہیں۔ یہ سپیس میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ بذات خود سپیس ہیں۔ سپیس تجاذب کے ذرّات (Quanta of Gravity) کے آپس میں جُڑنے سے بنتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا حقیقی اجسام پر مشتمل ہونے کی بجائے ان اجسام کے محض تعاملات کا مجموعہ لگتی ہے۔

اس نظریے کا ایک دوسرا نتیجہ بھی ہے جو زیادہ بنیادی ہے۔ جس طرح (کوانٹم میکانیات) میں ایک متسلسل سپیس جس میں اجسام موجود ہیں، کا تصور ختم ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک بنیادی اور ابدی وقت جو کائنات میں باقی اشیاء سے بے خبر مسلسل بہتا رہتا ہے، کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ وہ مساواتیں جو سپیس اور مادہ کے ذرّوں کی ماہیت بیان کرتی ہیں ان میں متغّیر وقت (Variable Time) کا تصور موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز ساکت اور غیر متغیّر ہے۔ اس کے برعکس اس کا مطلب یہ ہے کہ تغّیر ہر جگہ موجود ہے لیکن فطرت کے بنیادی مظاہراوراعمال کو وقت یا لمحات کے مشترکہ تواتر میں ترتیب نہیں دیا جاسکتا۔ سپیس کے ذرّوں کے نہایت چھوٹے(کوانٹمی) پیمانوں کی سطح پر فطرت کا رقص آرکیسٹرا کی طرح کسی موسیقار کی چھڑی کے یکسر ردھم کی مانند مخصوص اصول کے طابع نہیں ہوتا بلکہ ہرعمل اپنے ہی ردھم میں ایک دوسرے سے آزادانہ رقص کرتا ہے۔ دنیا میں وقت کا گزرنا داخلی عمل ہے۔ وقت کوئی معروضی و خارجی حقیقت نہیں بلکہ یہ دنیا میں ان کوانٹمی حوادث کے باہمی تعاملات کی بدولت وقوع پذیر ہوتا ہے جن سے دنیا بنی ہے اور وہ بذات خود وقت کا منبع ہیں۔

دنیا کا جو تصور لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ اُس دینا کو ہماری ظاہری دنیا سے مزید بے گانہ کر دیتی ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ اُس دنیا میں ایسے مکاں کا وجود نہیں ہے جس میں ہماری دنیا موجود ہے اور اُس میں ایسی کوئی زمین موجود نہیں ہے جس میں حادثات وقوع پذیر ہوتے ہوں۔ اُس میں صرف وہ بنیادی عوامل ہیں جس میں سپیس اور مادہ کے کوانٹا مسلسل آپس میں تعامل کرتے ہیں۔ اس زماں و مکاں کا فریب جو ہمارے اردگرد موجود ہے انہی بنیادی عوامل کا مبہم سا مظہر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بظاہر شفاف اور شانت پہاڑی ندی حقیقت میں پانی کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے سالموں (Molecules) کی مسلسل حرکت کا مجموعہ ہوتی ہے۔

اگرایک انتہائی طاقتورمحدب عدسے کی مدد سے دیکھا جائے تو سپیس کی ذراتی ساخت ہمیں نیچے دی گئی تصویر کی طرح دکھائی دے گی۔

کیا اس نظریے کو تجرباتی طور پر ثابت کرنا ممکن ہے؟ ہم سوچ رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی تجرباتی تصدیق نہیں ملی۔ بہرحال اس کے لیے بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ان میں سے ایک تجرباتی کاوشں بلیک ہول کے مشاہدے سے اخذ کی گئی ہے۔ اب ہم بلیک ہولز کو دیکھ سکتے ہیں جو ستاروں کے انہدام سے بنتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِاثر ستاروں کا مادہ منہدم ہوکر ہماری نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ درست مان لیا جائے تو اس کے مطابق مادہ منہدم ہو کر ایک لامتناہی چھوٹے نقطے میں مدغم نہیں ہوسکتا کیوں کہ ایسا کوئی نقطہ وجود نہیں رکھتا۔ بلکہ سپیس کے صرف متناہی حصے وجود رکھتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِ اثر منہدم ہو کر کسی ستارے کی کثافت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہاں کوانٹم میکانیات توازن پیدا کرنےکے لیے ایک متبادل دباؤ لگاتی ہے۔

کسی ستارے کی زندگی کی فرضی آخری حالت میں جب وہ منہدم ہو رہا ہو، زماں و مکاں کا کوانٹمی اتارچڑھاؤ مادے کے وزن کو توازن فراہم کرتا ہے۔ انہدام پذیرستارے کی یہ حالت “پلانک ستارہ” (Planck star) کہلاتی ہے۔ اگرآج سورج دہکنا بند کردے اور بلیک ہول میں بدلنے لگے تو اس کا قطرسکڑ کر محض دیڑھ کلومیٹر رہ جائے گا۔ اس بلیک ہول کے اندر سورج کا مادہ مسلسل منہدم ہوتا رہے گا اور بالآخریہ ایک پلانک ستارہ بن جائے گا۔ تب اس کا سائزتقریباً ایک ایٹم کے برابر ہوگا۔ سورج کا تمام مادہ ایک ایٹم کے حجم میں منجمد ہوجائے گا۔ ایک پلانک ستارہ مادہ کی اس شدید ترین منجمد حالت پر مشتمل ہوتا ہے۔

پلانک ستارہ مستحکم نہیں ہوتا۔ جب اس کو آخری حد تک دبایا جاتا ہے تو یہ رّدعمل میں پھر سے پھیلنا شروع کردیتا ہے۔ یہ پھیلاؤ اس بلیک ہول کو پھٹنے کی حد تک لے جاتا ہے۔ اگرایک فرضی مشاہد پلانک ستارے کے اندر بلیک ہول میں بیٹھا ہو تو اس کے لیے یہ پھیلاؤ نہایت تیزرفتاری سے واقع ہوگا۔ لیکن اس مشاہد کے لیے وقت اس رفتار سے نہیں گزرے گا جس رفتار سے بلیک ہول سے باہر موجود شخص کے لئے گزرتا ہے۔

جس طرح نظریہ عمومی اضافیت کی منطق کے مطابق کسی اونچے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے شخص کے لیے وقت سطح سمندر پر بیٹھے شخص کی نسبت زیادہ تیزگزرتا ہے اسی طرح ہمارے اور بلیک ہول کے اندرموجود مشاہد کے لیے بھی وقت ایک سا نہیں گزرے گا۔ اس مشاہد کے لیے جو بلیک ہول میں بیٹھا ہے، طبیعیات کی شدید شرائط کی وجہ سے وقت کا فرق بہت زیادہ ہوگا اور بلیک ہول پر بیٹھے مشاہد کے لیے جو تیز پھیلاؤ ہے وہ بلیک ہول سے باہر موجود مشاہد کے لیےایک طویل دورانیے پر محیط ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک ہول لمبےعرصے تک ایک سی حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بلیک ہول دراصل انتہائی سست رفتاری سے پھیلتا ہوا ستارہ ہے۔

ممکن ہے کہ بلیک ہول قدرت کی بھٹی میں کائنات کے ابتدائی لمحات میں بنے ہوں اوران میں سے کچھ اب پھٹ رہے ہوں۔ اگریہ درست ہے تو بلیک ہول کے پھٹنے کے وقت جوانتہائی توانائی فلکی لہروں کی شکل میں خارج ہوتی ہے، شاید ہم ان کا مشاہدہ کرسکیں۔ اس سے ہمیں کوانٹم گریوٹی کی مدد سے بیان کیے جانے والے مظاہرکا بلاواسطہ مشاہدہ کرنےاوران کے اثرات کو ماپنے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک جرّات مند خیال ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ مثلاً یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدائی کائنات میں اتنے بلیک ہول نہ بنے ہوں کہ ہم ان کے دھماکوں کا مشاہدہ کرسکیں۔ لیکن ان کے اشاروں کی کھوج لگانے کے لیے تجرباتی تحقیق شروع ہو گئی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ آتا ہے۔

اس نظریے کا ایک اورانتہائی شاندار نتیجہ کائنات کی ابتدا کے متعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس نظریے کی مدد سے ہم اپنے سیارے کی طبعی تاریخ کواس کی ابتدا تک تشکیل دے سکتے ہیں جب وہ اپنے حجم میں بہت چھوٹا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ لوپ کوانٹم گریوٹی کی مساواتیں ہمیں تشکیلِ تاریخ میں اس سے بھی پیچھے تک جانے میں مدد دیتی ہیں۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب کائنات بہت زیادہ کثیف ہوتی ہے تو کوانٹم نظریے کے مطابق اس میں ایک مخالف قوت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ انفجارِعظیم یعنی بگ بینگ اصل میں زقندِعظیم یا بگ باؤنس تھا۔ ممکن ہے کہ ہماری کائنات ایک پہلے سے موجود کائنات کے رّدعمل میں وجود میں آئی ہو جو اپنے ہی وزن کے تحت سپیس میں ایک نہایت چھوٹے نقطے میں سکڑی ہو اور پھراس نے پھیلنا شروع کر دیا ہو جسے آج ہم پھیلتی ہوئی کائنات کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

اپنی ابتدا میں جب کائنات ایک نقطے میں سمائی ہوئی تھی، زقند (باؤنس) یا پھیلاؤ کا یہ لمحہ کوانٹم گریوٹی کا دور تھا۔ وہاں زماں و مکاں کا وجود ختم ہو جاتا ہے اور دنیا امکانات کے دھندلے بادلوں میں تحلیل ہو جاتی ہے جسے ریاضی کی مساواتیں بیان کر سکتی ہیں۔ کائنات کی جو تصویر ہم نے پانچویں باب میں پیش کی تھی زقندِ عظیم کے تصور کے بعد اس کی حتمی شکل یوں بنتی ہے۔

طبیعیات ایسے درکھولتی ہےجس میں ہم کائنات میں بہت دورتک دیکھ سکتے ہیں۔ ہم جوکچھ دیکھتے ہیں وہ ہمیں حیران کرتا ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم تعصبات سے بھرے ہوئے ہیں اور ہماری دنیا کی جبّلی تصویر نامکمل، رجعتی اور ناموافق ہے۔ ہم نے جانا ہے کہ زمین چپٹی اور ہموار نہیں ہے اور نہ ہی یہ ساکن ہے۔ آج جب ہم کائنات کو زیادہ واضح طور پر گہرائی اورعمیقیت میں دیکھتے ہیں تو یہ مسلسل تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ ہم نے بیسویں صدی میں طبعی دنیا کے بارے میں جو کچھ دریافت کیا ہے اگر ہم اس کو یکجا کریں توعلمی اشارے ہمیں مادہ اور زماں و مکاں کے بارے میں ہمارے جبّلی فہم سے بھی زیادہ کسی عمیق چیز کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوپ کوانٹم گریوٹی ان اشاروں اورعقلی نشانیوں کا ادراک حاصل کرنے اور مزید گہرائی تک دیکھنے کی ہی کاوش ہے۔

Categories
نان فکشن

ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

چوتھا سبق: ذرات
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اس کائنات میں موجود تمام اشیاء محوِحرکت ہیں۔ روشنی بھی ذرات پر مشتمل ہے جنہیں ہم ضیایئے یا فوٹون (Photon) کہتے ہیں. روشنی کا ذرات پر مشتمل ہونا بظاہر بعید القیاس لگتا ہے. روشنی کے اس ذراتی تصوّر کو آئن سٹائن نے قابلِ فہم بنایا۔ اسی طرح ہمارے ارد گرد موجود تمام چیزیں ایٹموں سے مل کر بنی ہیں۔ ہرایٹم کا ایک مرکز(Nucleus) ہے جو الیکٹرونوں (Electrons) سے گھرا ہوتا ہے. یہ الیکٹرون اس مرکزے کے گرد ہمہ وقت گھومتے رہتے ہیں۔ ہرایٹم کا مرکزہ مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے پروٹونوں(Protons) اورنیوٹرونوں(Neutrons) سے مل کر بنا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایٹم کے مرکزمیں یہ پروٹون اور نیوٹرون بذات خود مزید چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جنھیں ‘کوارکس’ (Quarks) کہا جاتا ہے. یہ عجیب سا نام کہاں سےآیا؟ اس کی حقیقت یہ ہے کو امریکی طبیعیات دان مرّے گیلمن(Murray Gell-Mann) نے ناول نگار جیمز جوائس کی کتاب ٖFinnegans wake میں موجود ایک بے معنی سے فقرے (Three quarks for Muster Mark!) میں موجود اس بے معنی لفظ سے متاثر ہو کراِن چھوٹے ذرات کو کوارکس کا نام دیا۔ لہذٰا اس مادی دنیا میں ہر وہ چیز جس کو ہم چھوتے ہیں الیکٹرونوں اور کوارکس سے مل کر بنی ہے۔

ایک مخصوص طبعی قوت پروٹونوں اور نیوٹرانوں میں موجود ان ‘کوارکس’ کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے. کوارکس کے مابین یہ قوت جن ذرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، طبیعیات دان (قدرے مضحکہ خیزی کی ساتھ) ان ذرات کو گلوآن (Gluon) کا نام دیتے ہیں۔ یعنی گوند نما ذرات۔

الیکٹرون، کوارکس، فوٹون اور گلوآن- یہ چارعناصر(ذرات) ہراس چیز کے بنیادی تعمیری اجزاء ہیں جواس زمین اور ہمارے ارد گرد سپیس (Space) میں گھومتی ہے۔ ذراتی طبیعیات(Particle Physics) میں انہی ” بنیادی ذرات” کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ان میں کچھ مزید ذرات کو بھی شامل کیا گیا ہے جیسا کہ تعدیل نما یا نیوٹرینو(Neutrino) جوکائنات میں ہرجگہ بلا رکاوٹ گھومتے رہتے ہیں لیکن ہم سے بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم بنیادی زرہ ہگز بوزان (Higgs Boson) ہے جسے حال ہی میں جنیواشہرمیں موجود تحقیقاتی لیبارٹری ‘سرن’ (CERN) کے ‘لارج ہیڈران تصادم گر'(Large Hadron Collider) میں دریافت کیا گیا ہے۔ لیکن ان بنیادی ذرات کی کُل تعداد زیادہ نہیں ہے۔ درحقیقت ان کی دس سے بھی کم اقسام ہیں۔ یہ مٹھی بھر بنیادی اجزا ہیں جو اس عظیم الجثہ کائناتی لیگو(Lego) سیٹ میں اینٹوں(Building blocks) کا کام کرتے ہیں۔ انہی چند بنیادی ذرات سے ہمارے اردگرد موجود تمام مادی حقیقت بنی ہے۔

ان ذرات کی ماہیت اورحرکات کو کوانٹم میکانیات کی مدد سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ ذرات کنکریوں کی طرح ٹھوس اور بھاری نہیں ہیں بلکہ جس طرح ضیائیہ یا فوٹون برقناطیسی میدان کا کوانٹا ہے اسی طرح یہ ذرات متعلقہ قوت کے میدان (Field) کے کوانٹا ہیں۔ یہ فیراڈے (Faraday) اور میکسویل(Maxwell) کے برقی مقناطیسی فیلڈ کی طرح مادے میں حرکت کرتے زیرِتہہ (Substratum) فیلڈ کی بنیادی توانائی کی ہیجانی حالتیں (Excited states) ہیں۔ گویا حرکت کرتی ہوئی نہایت چھوٹی چھوٹی لہریں۔ یہ چھوٹے ذرات مشاہدے کے دوران کوانٹم میکانیات کےعجیب وغریب قوانین کے تحت کبھی اوجھل ہوتے ہیں اورکبھی نمایاں ہوتے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے اصولوں کے مطابق کوئی بھی شئے جس کا مادی وجود ہے،کبھی مسلسل مستحکم حالت میں نہیں رہتی۔ مادے کے ان بنیادی ذرات کی حرکت ایک مخصوص مقام سے دوسرے مخصوص مقام کے درمیان محض جست ہے۔ دراصل یہ ایک سے دوسرے تعامل تک ایک ادنیٰ چھلانگ کے سوا کچھ نہیں۔

حتیٰ کہ ہم خلا کے کسی ایسے بالکل خالی حصے کا مشاہدہ کریں جہاں بظاہرکوئی مادی جوہریا ایٹم موجود نہ ہو،تو بھی ہم ان ذرات کے گروہوں کو وہاں موجود پاتے ہیں۔ اس مشاہدے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کائنات میں حقیقی خلا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔ مثلاً بالکل ساکت سمندرمیں بھی قریب سے دیکھنے پراس کی سطح پر خواہ کتنی ہی نحیف سہی، ہلکی ہلکی لہریں موجود ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس مادی کائنات کو تعمیر کرنے والے قوّتی فیلڈز(Fields) میں بھی ایک تھرتھراہٹ موجود ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ یہ بنیادی ذرات اپنے متعلقہ قوت کے میدانوں (Fields) کے ارتعاش سے مسلسل پیدا اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔

یہ کائنات کا وہ تصور ہے جس کو کوانٹم میکانیات(Quantum Mechanics) اورذراتی نظریہ(Particle Theory) تشکیل دینے والے سائنس دان پیش کرتے ہیں۔ کائنات کی اس تشریح تک آتے آتے ہم نیوٹن (Newton)اور لپلاس (Laplace) کی میکانیاتی دنیا(Classical Mechanics) کے تصوّر سے بہت دورنکل آتے ہیں جہاں اجسام ایک غیرتغیرپذیر سپیس(Space) میں جیومیٹری کے اصولوں کے طابع اپنے منتخب رستوں پر ہمیشہ محوحرکت رہتے ہیں جب تک کوئی خارجی قوت ان پر اثراندازنہ ہو۔ لیکن کوانٹم میکانیات اورذراتی طبیعیات کے تحت کیے گئے تجربات نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ دنیا ایک مسلسل اور سکوت سے عاری چیزوں کا ہجوم ہے۔ مسلسل پیدا اور فنا ہوتے اجسام کی دنیا۔ 1960ع کی دہائی میں رونما ہونے والی ہماری ملنگ طبع (Hippy) بے چین دنیا کی طرح ارتعاشات کا مجموعہ۔ واقعات کی دنیا، نہ کہ چیزوں کی۔

ذراتی نظریے (Particle Theory) کی تفصیلات کو 1950، 1960 اور 1970ع کی دہائیوں میں رچرڈ فائن مین(Richard Feynman) اور مرّے گیلمن (Murray Gell-Mann) جیسے عظیم طبیعیات دانوں نے تشکیل دیا۔ تشکیل سازی کے اس عمل میں ایک گنجلک نظریہ سامنے آیا جس کی اساس کوانٹم میکانیات تھی. اس نظریے کو “ذراتی طبیعیات کا معیاری ماڈل”(Standard Model of Elementary Particles) کہا گیا جو قدرے غیررومانوی نام ہے۔ کامیاب تجربات کے نتیجے میں اس نظریے کی پیش گوئیوں کے درست ثابت ہونے کی بنا پر 1970ع کی دہائی میں اس معیاری نمونے (Standard Model) کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اگرچہ اس کی چند نظریاتی پیش گوئیاں ابھی تجرباتی طور پرثابت ہونا باقی تھیں. بالاخر 2013 ع میں “معیاری ماڈل” (Standard Model) کے ایک بنیادی ذرے ہگز بوزون (Higgs-boson) کی دریافت سے اس کی مکمل تصدیق ہو گئی.

کامیاب تجربات کی لمبی فہرست کے باوجود طبیعیات دانوں نے “معیاری ماڈل” (Standard Model) کو مکمل طور پر سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں. یہ نظریہ پہلی نظرمیں پیوند شدہ لگتا ہے۔ یہ کسی واضح ترتیب کے بغیر بہت سارے ریاضیاتی ٹکڑوں اورمساواتوں کو جوڑکربنایا گیا ہے۔ “ذراتی طبیعیات کے معیاری ماڈل (Standard Model of Elementary Particles) کے مطابق مادے کی فطری قوتوں کے میدانوں(Fields) کی ایک خاص تعداد کچھ خاص قوتوں (Forces)کے تحت آپس میں تعامل کرتی ہے. ان تعاملات کو مخصوص مستقل اعداد (Constants) کی مدد سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے. اس کے نتیجے میں خاص قسم کا تناسب یا تشاکل(Symmetries) پایا جاتا ہے۔ یہاں سائنسی اور نظریاتی اعتراض پیش کیا جا سکتا ہے کہ قوت کے یہی خاص میدان، ان کی یہی مخصوص تعداد ہی کیوں اور ان تعاملات کے لیے یہی مخصوص مستقل اعداد ہی کیوں؟ اور نتیجتاً یہی تشاکل کیوں؟ اس نظریہ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics)اورعمومی اضافیت (General Relativity) کی مساواتوں جیسی سادگی اور ترتیب کا فقدان ہے۔

معیاری ماڈل (Standard Model) کی مساواتوں کی بنیاد پرمادی دنیا کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی جاتی ہیں وہ بھی انتہائی پیچیدہ ہیں۔ جب ان مساواتوں کا براہ راست اطلاق کیا جاتا ہے تو کسی بھی ماپی جانے والی طبعی مقدارکی قیمت ناقابلِ فہم حد تک لامتناہی (Infinity) آتی ہے۔ ان مساواتوں سے با معنی نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان میں موجود متعین مقداریں (parameter) بذات خود لامتناہی ہیں تاکہ وہ بے ترتیب نتائج کو متوازن کرکے قابلِ قبول بنائیں۔ اس پیچیدہ اورغیرمعین ریاضیاتی عمل کو “رینارملائزیشن” (Renormalization) کا نام دیا گیا ہے۔ البتہ عملی طور پراِن مساواتوں سے درست جوابات حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہراُس شخص کے منہ کو بدذائقہ کر دیتی ہیں جو قدرت سے سادگی کی امید رکھتا ہے۔ آئن شٹائن کے بعد بیسویں صدی کے سب سے عظیم سائنسدان پال ڈیراک(Paul Dirac)، جو کہ کوانٹم میکانیات کا عظیم معمار اور معیاری ماڈل کی اولین اور اہم مساواتوں کا مصنف بھی ہے، نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں بار بار یہ کہتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ ہم ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے۔

اس “معیاری ماڈل” کی مزید محدودیت (Limitation) کا حال ہی میں ادراک ہوا جب فلکیات دانوں نے مشاہدہ کیا کہ ہر کہکشاں کے گرد کچھ بادل نما مواد موجود ہے جو ستاروں پر کشِ ثقل کی صورت میں اپنی موجودگی کا اظہار کرتا ہے اوریہ روشنی کومنحرف کرتا ہے۔ لیکن یہ بادل نما جس کے تجاذبی اثرات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اس کو براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا. لہٰذا ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ یہ بادل نما مواد کن عناصرسے بنا ہے۔ اس بارے میں بہت سے مفروضے پیش کیے گئے ہیں جن میں سے کوئی بھی اس کی مکمّل وضاحت نہیں کرتا۔ یہ واضح ہے کہ وہاں کچھ ضرورموجود ہے لیکن یہ کیا ہے، ہم ابھی تک نہیں جانتے۔ تاہم اس بادل نما مواد کو”تاریک مادہ” (Dark Matter) کہا جاتا ہے۔ ابھی تک دست یاب سائنسی علم یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ معیاری ماڈل اس تاریک مادے کی توجیح پیش نہیں کرتا وگرنہ ہم اسے اب تک تجربات سے دیکھ چکے ہوتے۔ یہ ایٹموں، نیوٹرینوں (Neutrinos) اور ضیائیوں (Photons) سے مختلف کوئی چیز ہے۔

یہ قطعی حیران کن بات نہیں کہ زمین اور آسمان میں ایسی لاتعداد چیزیں ہوں گی جن کا ہم نے اپنے فلسفے یا طبیعیات میں ابھی خواب بھی نہیں دیکھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہم نے ریڈیائی لہروں (Radio Waves) یا نیوٹرینوں (Neutrinos) کے موجود ہونے کا گمان بھی نہیں کیا تھا جو اس کائنات میں ہر جگہ موجود ہیں. بہرحال اس محدودیت کے باوجود “تاریک مادہ” اور کشش ثقل (جس کو نظریہ اضافیت کے تحت زمان و مکاں کے انحنا کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے) کے علاوہ ہماری قابلِ فہم دنیا کے تقریباً ہر پہلو کی سائنسی توجیح بیان کرنے کے لیے یہ “معیاری ماڈل ” بہترین ہے. اب اس کی تمام سائنسی پیش گوئیوں کی تجرباتی تصدیق ہو چکی ہے۔

متبادل نظریات بھی پیش ہوئے لیکن تجربات نے ان کو رّد کر دیا۔ ایک قابل ذکرنظریہ جو1970ع کی دہائی میں پیش کیا گیا اوراسے SU5 کا نام دیاگیا، نے معیاری ماڈل کی ناموافق مساواتوں کو نہایت سادہ اور خوبصورت ساخت میں بدل دیا۔ اس نظریے کے مطابق یہ احتمال قابل ِقیاس ہے کہ پروٹون(Proton) کا انحطاط ہو سکتا ہے اور یہ انحطاط کرتے ہوئے الیکٹرون اور کوارکس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پروٹون کے انحطاط کو طبعی طور پردیکھنے کے لیے بڑی مشینیں تیار کی گئیں۔ سائنس دانوں نے قابلِ مشاہدہ پروٹونوں کے انحطاط کو دیکھنے کے لیے اپنی زندگیاں صَرف کردیں۔ دراصل ہم ایک پروٹون کے انحطاط کا مشاہدہ نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ انحطاط پذیر ہونے میں بہت وقت لیتا ہے۔ آپ کئی ٹن پانی لیتے ہیں اورپانی کے پروٹونوں کا انحطاط دیکھنے کے لیے اسے حساس سراغ دانوں (Detectors) کے درمیان رکھ دیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس تجربے میں کسی بھی پروٹون کاانحطاط نہیں دیکھا گیا۔ یہ خوبصورت نظریہ (SU5) اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود بھی “خدا” کو پسند نہیں آیا۔

کہانی اب خود کو نئے نظریات کی شکل میں دہرا رہی ہے۔ان نئے نظریات کو “مہا تشاکلی نظریات” (Supersymmetric Theories) کہتے ہیں۔ یہ نظریات نئے ذرات کی موجودگی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ اپنی تمام پیشہ ورانہ زندگی کے دوران میں نے اپنے ہم عصرسائنس دانوں کو مکمل یقین کے ساتھ ان ذرات کے ظہور کا انتظار کرتے دیکھا ہے۔ دن، مہینے، سال اور دہائیاں گزر گئیں لیکن “مہا تشاکلی ذرات” کا ابھی تک ظہور نہیں ہوا۔ فزکس صرف کامیابیوں کی ہی تاریخ نہیں ہے۔

فی الوقت ہمیں معیاری ماڈل (Standard Model)کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا ریاضی اور مساواتیں سادہ اور خوبصورت نہ ہوں لیکن یہ نظریہ ہماری کائنات کی نہایت احسن طریقے سے توجیح کرتا ہے۔ لیکن کُل حقیقت کی کس کوخبرہے؟یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ اس ماڈل میں ریاضیاتی دل کشی موجود ہو اور ہم نے ابھی اسے اس زاویے سے دیکھا ہی نہ ہو جو اس کی خوبصورتی کوعیاں کرتا ہے۔ فی الحال یہی کچھ ہے جو ہم اس مادی دنیا کے بارے میں جانتے ہیں۔

مٹھی بھر بنیادی ذرات کی اقسام جو مخصوص توانائیوں کے ساتھ مسلسل مرتعش ومتغیر ہیں اوروجود اورعدم وجود کے درمیان پیدا اور فنا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ذرات خلا میں وہاں بھی موجود ہوتے ہیں جہاں بظاہر لگتا ہے کو کچھ نہیں ہے. یہ ذرات کائناتی حروف تہجی کے الفاظ کی طرح آپس میں مل کر کہکشاؤں، سورجوں، ستاروں، پہاڑوں، جنگلوں اور کھیتوں کی تاریخ لکھتے ہیں. اسی طرح ضیافتوں اور دعوتوں پر ہنستے مسکراتے نوجوانوں کے چہروں اورستاروں جڑے آسمان کی تاریخ بھی ہمہ اوست موجود مادے کے یہی بنیادی ذرات بیان کرتے ہیں۔

Categories
نان فکشن

کائنات کی ساخت (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)

تیسرا سبق: کائنات کی ساخت
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں آئن سٹائن نے اپنی تحقیق کے ذریعے واضح کیا کہ زمان و مکاں کیسے کام کرتے ہیں جب کہ نیل بوہر(Neil Bohr) اوراس کے شاگردوں نے مادہ کی کوانٹمی (ذرّاتی) ماہیت کو ریاضی کی مساواتوں کی شکل میں بیان کیا۔ ان کے بعد بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں آنے والے طبیعات دانوں نے ان دو بنیادی نظریات کی روشنی میں فطرت کی مزید تشریح کرنےکی کوشش کی۔ سائنسی محققوں نے ان نظریات کو کائنات کی دو مختلف سطحوں یعنی بڑے اجسام (ستاروں اور سیاروں) پرمحیط کائنات اورچھوٹے اجسام (بنیادی ایٹمی ذرات) کی نظر نہ آنے والی کائنات پرلاگو کیا۔ اس سبق میں ہم بڑے اجسام پرمحیط کائنات کے بارے میں بات کریں گےاوراگلے سبق میں چھوٹے اجسام کی کائنات پر۔

اس سبق کا زیادہ تر حصہ سادہ تصاویر پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجربات، پیمائش، ریاضیاتی مساواتوں اوراستخراجیہ سے بالاتر سائنس کا تعلق دراصل بصارت سے ہے یعنی آپ کسی مظہر کا مشاہدہ کیسے کرتے ہیں اوراسے سمجھنے کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تشبیہ بنتی ہے۔ سائنس بصارت سے شروع ہوتی ہے۔ سائنسی تخیل کواس بات سے تقویت ملتی ہے کہ چیزوں کو پچھلی بار کی نسبت ایک نئے زاویے سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ اس لئے میں کچھ تصاویر کی مدد سے آپ کوان سائنسی تصورات کی بصری تشریح پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں یہ تصورات اس طرح واضح ہوجائیں جیسے سائنس انہیں دیکھتی ہے ۔

کائنات کا قدیم تصویر

مندرجہ بالا تصویر بتاتی ہے کہ کیسے ہزاروں سالوں تک کائنات کی ساخت کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا رہا کہ یہ دو حصوں میں اس طرح منقسم ہے کہ زمین ہمارے نیچے جب کہ ہمارے آسمان اوپر ہے۔ پہلا سائنسی انقلاب آج سے چھبیس سو سال پہلے تب رونما ہوا جب ایک یونانی فلسفی اناکسی میندر(Anaximander) نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیسے ممکن ہے کہ سورج، چاند اور ستارے ہماری زمین کے گرد گھومتے ہوں۔ اس نے کائنات کی درج بالا تصویر کو اس تصویر سے بدل دیا۔

ایناکسی میندر کے نقطہ نظر میں کائنات سادہ ہے

اس تصویرمیں کائنات کی ساخت کا مختصر تصور ہے۔ اب آسمان صرف ہمارے اوپرموجود ہونے کی بجائے ہر طرف موجود ہے۔ اس تصور کے مطابق زمین سپیس(Space) میں تیرتی ہے جس کے ہر طرف آسمان ہے۔ اس تصور کے پیش کیے جانے کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک اور یونانی فلسفی، پیرمینڈیس یا شاید فیثا غورث(Parmenides or Pythagoras) نے محسوس کیا کہ سپیس میں مسلسل تیرتی ہوئی زمین کے اس توازن کو سمجھنے کے لئے کُرّہ یا مدار کا تصورزیادہ مناسب لگتا ہے کیوں کہ مدارمیں گھومتا ہوا ایک جسم اپنے اردگرد ہرسمت میں مساوی فاصلے پر رہتا ہے۔ارسطو(Aristotle) نے زمین اور اس کےگرد گھومتے ہوئے دوسرے آسمانی اجسام کی حرکت کے کُروی ہونے کے بارے میں تسلی بخش سائنسی دلائل واضح کیے۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کائنات کی تصویر مندرجہ ذیل ہے۔

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا

یہ کائنات کی وہ تصویر ہے جسے ارسطو نے اپنی کتاب” آسمانوں پر” میں پیش کیا۔ کائنات کا یہی تصوّر بحیرہ روم کی تہذیبوں میں قرونِ وسطیٰ کے اختتام تک قایم رہا ۔ یہ جاننا کس قدر دلچسپ ہے کہ کائنات کا یہ تصوّردانتے اور شیکسپیئرجیسے لوگوں نے اپنے سکول میں پڑھا۔

اس کے بعد کائنات کو سمجھنے میں بڑی جست کوپرنیکس (Copernicus) نے لگائی جس سے اس دور کا آغاز ہوا جس کو اب عظیم سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ کوپرنیکس کی دنیا ارسطو کی دنیا سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن درحقیقت ان دونوں میں ایک بہت اہم فرق ہے۔

کوپر نیکس کے خیال میں کائنات کا مرکز زمین نہیں سورج ہے

زمانہ قدیم کا تصورکائنات جس میں زمین مرکز ہے، کوپرنیکس کے نزدیک درست نہیں تھا۔ اس نے یہ تصور پیش کیا کہ سیاروں کے اس کائناتی رقص میں ہماری زمین اس کا مرکز نہیں ہے بلکہ اس کے مرکز میں سورج ہے۔ اس لحاظ سے ہمارا سیارہ زمین بہت سارے دوسرے سیاروں کے ہمراہ بہت تیز رفتاری سے اپنے محور کے ساتھ ساتھ سورج کے گرد بھی ایک مدارمیں گھوم رہا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی علم بڑھتا رہا اور بہتر پیمائشی آلات کے زریعے جلد ہی یہ دریافت کر لیا گیا کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی بذات خود کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ بلکہ یہ لاتعداد دوسرے شمسی نظاموں میں سے محض ایک ادنیٰ سا نظامِ شمسی ہے اورہمارا سورج بھی بہت سے دوسرے ستاروں کی طرح ایک ستارہ ہے۔ ایک سوارب ستاروں کے اس بادل نما وسیع جھمگٹے (کہکشاں) میں محض ایک معمولی ذرہ۔

ہماری کائنات اربوں کائناتوں میں سے ایک ہے

تاہم 1930ع میں فلکیات دانوں نے ستاروں کے درمیان پھیلے سفیدی مائل بادلوں (Nebulae) کی تفصیلی اور تصحیح شدہ پیمائشوں سے یہ معلوم کیا کہ ہماری کہکشاں دوسری لاتعداد کہکشاؤں کے اس بادل میں محض ایک ذرہ ہے۔ اب تک بنائی گئی سب سے طاقت وردوربینوں کی مدد سے ہمیں یہ معلوم ہوسکا ہے کہ کہکشاؤں کے ان کائناتی بادلوں کا یہ سلسلہ تا حدِ نگاہ پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے اب تک کے تصور کے مطابق دنیا ایک یکساں اورلامحدود وسعت بن چکی ہے۔

ذیل میں دی گئی تصویر ہاتھ سے بنایا ہوا کوئی خاکہ نہیں بلکہ زمین کے گرد خلا میں اپنے مدارمیں گھومتی ہوئی ہبل دوربین (Hubble Telescope)سے لی گئی آسمان کی ایک فوٹو ہے۔ ماضی میں دوسری طاقت وردوربینوں سے لی گئی آسمان کی تصویروں کی نسبت یہ تصویرزمین سے بہت دور خلا کی زیادہ گہرائی میں موجود اجسام دکھاتی ہے۔ جہاں یہ تصویر لی گئی ہے، آسمان کے اس حصّے کو انسانی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ سیاہ آسمان کا ایک چھوٹا سا خالی ٹکڑا نظرآئےگا ۔ ہبل دوربین سے لی گئی اس تصویر کودوبارہ دیکھیں، یہ خلا میں دُوردُور بے ترتیب پھیلے ہوئے نقطوں کی ایک گرد دکھائی دیتی ہے۔ حقیقت میں ہرسیاہ نقطہ ایک کہکشاں کی شبیہہ ہے اور ہر نقطے میں ہمارے سورج کی طرح کے سینکڑوں ارب ستارے موجود ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کی طرح ان ستاروں میں سے بیشتر کے گرد بھی سیارے گھومتے ہیں۔ لہٰذا کائنات میں زمین کی طرح کے اربوں کے اربوں کے اربوں کے اربوں ستارے موجود ہیں۔ ہم آسمان پرجس سمت بھی دیکھیں یہی منظرنظرآتا ہے جیسا اس تصویر میں موجود ہے۔

لیکن یہ ہمہ جہت یکسانیت حقیقت میں ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر مندرجہ بلا تصویر میں نظرآتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے سبق میں وضاحت کی تھی کہ سپیس کاغذ کی طرح مستوی نہیں بلکہ منحنی یعنی خم دار ہے۔ ہمیں کائنات کی ساخت کویوں تصورکرنا چاہیے کہ یہ ستارے اور کہکشائیں ایک خم دارسطح پرچھینٹوں کی طرح ہیں۔ یہ کہکشائیں سمندری موجوں کی مانند لہروں میں حرکت کرتی ہیں جوبسا اوقات اتنی زیادہ شدید ہوتی ہیں کہ کائنات کی اس خم دارسطح میں گڑھے پڑجاتے ہیں جن کو ہم بلیک ہول کہتے ہیں۔ اس معلومات کے بعد ہم ہبل دوربین سے لی گئی تصویرمیں اضافہ کریں تو ان لہروں کی وجہ سے خم دارکائنات کی تصویر کچھ اس طرح نظر آتی ہے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں سے مزین یہ وسیع لچکیلی کائنات جسے بننے میں پندرہ ارب سال لگ گئے، ایک بہت ہی گرم اورانتہائی کثیف بادل نما چھوٹے نقطے میں نمودارہوئی۔ اس نقطے کو بیان کرنے کے لیے ہمیں صرف کائنات کی موجودہ ساخت ہی نہیں بلکہ اس ساخت کی تشکیل کی پوری تاریخ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ارتقائی کائنات کی شکل کچھ یوں ہے:

کائنات ایک چھوٹی گیند نما شکل سے شروع ہوئی اور پھر اپنی موجودہ کونیاتی وسعت تک پھیل گئی۔ بڑے سے بڑے پیمانے پر جو ہم اب تک جانتے ہیں، یہ ہماری کائنات کی موجودہ تصویر ہے۔

کیا اس قابل پیمائش کائنات کے علاوہ بھی کوئی چیزموجود ہے؟ کیا اس سے پہلے کچھ تھا؟ شایدایسا ممکن ہو۔ میں اس بارے میں کچھ اسباق کے بعد بات کروں گا۔ کیا ہماری اس کائنات جیسی یا اس سے مختلف اور کائناتیں وجود رکھتی ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔