Laaltain

اک کسی دن

سوئپنل تیواری: سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے

گیت بنتا رہتا ہے

سوئپنل تیواری: انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے

وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں

امید

سوئپنل تیواری: مجھے یہ پتا تھا
کہ دیوار گھر کی
ندی کی طرح
بہ نہ پائے گی

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی

لیک

سوئپنل تیواری:ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں

کالی رات ہے

سوئپنل تیواری: کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔