Categories
شاعری

ایک معمولی سا منظر اور دوسری نظمیں (سوئپنل تیواری)

ایک معمولی سا منظر

تھمی ہوئی ہے دیر سے بارش
دیر سے اک کاغذ کی کشتی
تیر رہی ہے پانی میں
کشتی جس کاغذ سے بنی ہے
اس پر کوئی پھول بنا ہے
پھول جو اس دنیا کا نہیں ہے
دو چینٹے کشتی کے مسافر بنے ہوئے ہیں
ڈگمگ ڈگمگ
ڈگمگ ڈگمگ
کاغذ اب گلنے بھی لگا ہے
کشتی، سائیڈ اسٹینڈ والی اک سائیکل جیسے
ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے،
ایک بھی جھونکا
اس کشتی پر ایک ایک قیامت لا سکتا ہے

اک تتلی
جو جبر بہار سے بچی ہوئی ہے
پھول دیکھ کر
(پھول جو اس دنیا کا نہیں ہے)
اس کشتی پر آ بیٹھی ہے
جیسے بادباں کھلتے ہیں نا
اس نے اپنے پر کھولے ہیں
ڈوبتی کشتی سنبھل گئی ہے
چینٹوں کی جاں بچی ہوئی ہے

Coffee Cup Reading

اسے میسیج تو بھیجا ہے
کہ کافی پر ملو مجھ سے
وہ آ جائے گی تو اچھا !!
میں پہلے صرف دو کافی منگاؤں گا
میں کیپچینو پیتا ہوں
وہ کیسی کافی پیتی ہے
اس کا اندازہ تو اس کے آنے پر ہو گا۔ ۔ ۔

ہمارے پاس تو باتیں بھی کم ہیں
سو کافی جلد پی لیں گے
جو اس کے کپ میں تھوڑا جھاگ کافی کا بچا ہو گا
میں اس کی ‘شیپ’ کو پڑھ کر اسے ‘فیوچر’ بتاؤں گا
بتاؤں گا اسے میں
کیسے وہ مجھ سے جیسے اک لڑکے کی دنیا کو بدل دے گی۔ ۔ ۔
(اسے معلوم ہوگا کیا؟ کہ کافی کپ کی ریڈنگ کا تریقہ یہ نہیں ہوتا)

میں کیفے آ چکا ہوں۔ ۔
وہ بھی رستے میں کہیں ہو گی
بہت سے لوگ کیفے آ کے پڑھتے لکھتے رہتے ہیں
محمّد علوی کی نظمیں تو میں بھی ساتھ لایا ہوں
یہ ہو گا تو نہیں پھر بھی۔ ۔ ۔ وہ آئی ہی نہیں تو پھر
انہیں لوگوں کے جیسے میں بھی پڑھ کر وقت کاٹوں گا۔ ۔ ۔

اسے آنے میں دیری ہو رہی ہے
میں اک کافی تو تنہا پی چکا ہوں
ذرا سا جھاگ کپ میں ہے جسے دیکھو تو لگتا ہے
کہ اک لڑکا اکیلا بیٹھ کر کچھ پڑھ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔

تسلّی دے رہا ہوں اب میں خود کو
یہ میری شام کا فیوچر نہیں ہے
کہ کافی کپ کی ریڈنگ کا طریقہ یہ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔

Boredom Eating

شام کا وقت ہے اور خالی ہوں میں
دو دو کپ چائے پی کر بھی راحت نہیں خالی پن سے مجھے
خالی پن کو کسی کے جو پُر کر سکے
اب تک ایسا کوئی زائقہ آدمی کو ملا ہی نہیں
ہاں مگر ایسے اک زائقے کی ضرورت تو ہے
ورنہ اُس زائقے کے تعاقب میں ہم
خالی پن کو کسی طرح بھرنے کی اس دائمی کھوج میں
ساری دنیا کو کھا جائیں گے ایک دن
شام کا وقت ہے اور خالی ہوں میں
تیسری چاۓ ہے اب مرے سامنے۔ ۔ ۔ چار نمکین بسکٹ بھی ہیں ساتھ میں۔ ۔ ۔

Categories
شاعری

اک کسی دن

سپاٹ چہروں، اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
یہاں میں برسوں سے ہوں مگر
خود کو اجنبی کی طرح اکیلا ہی پا رہا ہوں
یہاں تو رستے تلک بچا کے نگاہ مجھ سے نکل رہے ہیں
کہ جیسے مجھ سے ہوئے مخاطب تو خندقوں میں پھسل پڑیں گے
عمارتیں دیکھتی ہیں مجھ کو
کہ جیسے میں اشتہار ہوں ایک پھوہڑ ان چاہا اور سستا
کہیں نہیں ہوں نظر میں لوگوں کی آج بھی میں
بس اک خلا ہوں، اگ آئے ہیں ہاتھ پاؤں جس کے
خلاؤں کو کوئی نام کیا دے؟
سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے
پڑا ہی رہتا ہے ایک اجگر کی طرح جی سے
نگل لی ہو بھیڑ اک کسی دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Categories
شاعری

گیت بنتا رہتا ہے

انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے
دور پاس کی چاپیں
تیز دھیمی ہر آہٹ
دستکیں جو دار پہ ہوئیں
اور جو نہیں بھی ہوئیں
بول ہیں جو اس سر میں
وقت بھرتا رہتا ہے
امر چلتی رہتی ہے
گیت بنتا رہتا ہے
Iamge: Duy Huynh

Categories
شاعری

وہ ایک پُل تھا

وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں
مجھے ہمیشہ کی طرح
پُل کے اس اور جانا تھا میں جدھر سے
ندی کو جاتے ہوئے نہاروں
مگر تمہیں عادتاً زیادہ پسند پُل کا وہ حصّہ آیا
جدھر سے تم ڈوبتے ہوئے
آفتاب کو دیکھ سکتی تھی
وہیں پے ڈوبی تھی اپنے رشتے کی آخری نبض
وہ ایک پل جو
ملا رہا تھا
ندی کے اک *تٹ کو دوسرے سے
وہیں میں تم سے الگ ہوا تھا

*تٹ- کنارہ
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

امید

مجھے یہ پتا تھا
کہ دیوار گھر کی
ندی کی طرح
بہ نہ پائے گی پھر بھی
میں تصویر
لے آیا تھا مچھلیوں کی۔۔۔۔۔

Image: Christian Schloevery

Categories
شاعری

وہ خوشبو بدن تھی

وہ خوشبو بدن تھی
وہ خوشبو بدن تھی
مگر خود میں سمٹی سی اک عمر تک یوں ہی بیٹھی رہی
بس اک لمس کی منتظر
اسے ایک شب جوں ہی میں نے چھوا اس سے تتلی اڑی
پھر اک اور اک اور تتلی اڑی، دیر تک تتلیاں یوں ہی اڑتی رہیں
چھانٹی تتلیاں جب کہیں بھی نہ تھی وہ
تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی
۔۔۔۔وہ خوشبو بدن تھی

Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

لیک

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لیک

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہ رستے اور تو کچھ بھی نہیں ہیں
کسی بچے نے بس یوں ہی شرارت میں
بنا کر پونچھ کاغذ کی
دبے پیروں سے پیچھے جا کر اک دن
لگا دی منزلوں کی پینٹ میں
ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کالی رات ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کالی رات ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

کالی رات ہے
کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھتا ہے کوئی
جھلمل جھلمل کرتے تارے
سرخ اگر ہو جائیں بھی تو
کون خویل کرے گا ان کا
چاند ہی ہوتا
سرخ رنگ اس پر پھبتا بھی۔۔۔۔
کالی رات ہے
کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔

Image: Rosella Namok
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]