کب تک۔۔۔۔۔ آ خر کب تک

ثروت زہرا: تمہیں معلوم ہے؟
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
تلاش

ثروت زہرا: مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی
آج چھٹی ہے

ثروت زہرا: میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
ڈی این اے کی خود سے لڑائی

ثروت زہرا: علیشا سب سے پہلے
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی
ماروی + سرمد اور تم

مجھے میری ناف سے نیچے دیکھنے والے
میری ناف کے پہلو میں میری کوکھ بھی موجود ہے
میری ناف کے پہلو میں میری کوکھ بھی موجود ہے