Categories
شاعری

نامکمل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نامکمل

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں رات رات بھر
پوری آنکھیں کھولے
اپنا آدھا دھڑ کہنیوں پر بلند رکھتا ہوں
تاکہ
دانت پر دانت جمائے
ہتھیلیوں میں ناخن گاڑ کر
ایک نظم جن سکوں
میرے ماتھے کا نمک آنکھوں کے پانی سے
لفظ بناتا ہے
جو بھنچے ہوئے جبڑوں کے بیچ سے تھوکے جاتے ہیں
میرے عضلات کا تشنج سطروں کی لمبائی کا فیصلہ کرتا ہے
نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
یہ نظم مجھے ایک اذیت زدہ انتظار میں رکھے
پیروں کے بل پیدا ہو رہی ہے
میں اس کا چہرہ دیکھ سکوں
تو اسے ایک نام دوں
اسی اذیت میں پیدا ہونے والی نظموں سے مختلف
ایک نام
میں اس سے پہلے ایسی نظمیں جن چکا ہوں جن کا چہرہ نہیں تھا
میں نے ان نظموں کو ان کی آنول کے ساتھ کاغذوں میں دفنا دیا

Image: Bobby Becker
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

نوحے کی دھن کوئی کمپوز نہیں کرتا
بین سر میں نا کیے جائیں
تو کسی ماتھے پر شکن نہیں آتی
سسکیاں پچھم سے مدھم پر کب آئیں گی
کوئی نہیں بتا سکتا
پچھاڑیں کھانے کا کوئی قاعدہ ہے نا قرینہ
آنسو قطار بنا کر نہیں نکلتے
موت روز آنے کے باوجود اپنا ٹائم ٹیبل نہیں بناتی
لیکن تعزیت رسم ہے
سو افسردہ ہونے کی ایکٹنگ سکھانے کا سکول کھولنا ہو گا…

Image: Alexis Anne Grant
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]