Categories
شاعری

زنہار (رضی حیدر)

چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے
ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو
سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے
لاکھوں زندوں کی تمناؤں کے ڈھانچوں کا ثمر
لاکھوں مردوں کی نفس بستہ بقا تکنے کے بعد
میں کہ ہوں، ہوں بھی نہیں پھر بھی جیے جاتا ہوں
وہ کہ ہے، ہے تو سہی، پھر بھی کہاں ہے آخر
غم کے رخنوں کو بھرے جاتا ہے تھکتا ہی نہیں
مرگ کا سنکھ بجے جاتا ہے رکتا ہی نہیں

سر پہ یہ نیل کا دریا ہے یا کانا دجال
چاند کی آنکھ سے، تکتا ہے مےٌ ازرق کو
رنگ تاروں کے غٹکتا ہے یہ کانا دجال
برہنہ کر بھی چکا جبہ رہِ ابرق کو
تارکول اُس ہی جہاں تاب پہ گرتا ہے جسے
زعم ہو زرق غلافوں کی ضیا باری کا
سرخ الفت کی سحر تاب سحر کاری کا
چاٹتے چاٹتے قرنوں کے مقید بونے
پھر سے سو جائیں گے، پلکوں کی گراں باری سے
سرد لمحوں کی زمہریری زہرکاری سے
دل کی بے جان زمینوں سے نکالے جائیں
احمریں ہاتھ،
مرمریں جسم، ابابیلوں کا خون
مردہ چڑیوں کے زنخداں،
تانبے کی چیخیں،
گرتے ہاتھی کی فغاں،
(کتنےآزردہ ہیں قریوں کی تباہی کے نشاں)
اشک دریاؤں کو فرمان سنا دو اب کے
سب کے سب بار دفینوں سے بہا لے جایئں
جن کو غاروں کے حزیں کشف نے تصویر کیا
وقت کی سوئی کی تکرار نے تعمیر کیا
Iamge: Corinna Wagner

Categories
شاعری

معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ،
کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں
یا فنا ہو بھی چکے ؟

وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی)

تم : مگر جو قمقمیں جلتی ہیں بھجتی ہیں ، یہ آرزوئیں ہی تو ہیں
امیدیں ہیں صبح نو کی

میں : امیدیں ، آرزوئیں ، خواب! ہاہ !!
ایک اور حیلہ بہانہ
ہم جل رہے ہیں !
سنا تم نے ؟
ہم جل رہے ہیں
یہ قمقمیں نہیں ہیں .. میری تمہاری وردیاں ہیں
سونگھو !!
تمہیں پکتے گوشت کی بدبو نہیں آتی
یہ ہمارا ہے ! میرا تمہارا گوشت
سونگھو!!

تم : مجھے نزلہ ہے چند دن سے ،
کسی بدبو کی خوشبو کی رسائی ممکن نہیں مجھے تک
مگر میں دیکھ سکتا ہوں

میں : تو دیکھو نا !!!
یہ سر کٹے بچوں کے ریلے
یہ نیلی موچھیں
یہ بغلوں میں،مسانوں پے بال
یہی دیکھ کر تو انہوں نے کہا تھا ، یہ بچے نہیں ہیں
یہی دیکھ کر ،

انہوں نے اپنے ایمانِ محکم کو اور پختہ کیا تھا

تم : ہاں ، انہوں نے کہا تھا یہ بچے نہیں ہیں

میں : تو کیوں امیدوں کی رجا، کی بات کرتے ہو

ابھی خون ابلے گا ،
درد دھواں بن کر اس آشفتہ سر سے نکلے گا تو سنو گے ؟

تم : میں سن تو رہا ہوں

میں : مجھے مت سنو !
یہ چیخیں سنو !!

تم : یہ مدھم سی چیخیں ؟

میں : یہ مدھم کہاں ہیں ؟
قیامت کا صور پھونکا جا رہا ہے
اور تم کہ رہے ہو ، یہ مدھم سی چیخیں ؟
بموں کے چھرے اُستخوانوں میں ،
سروں کے کاسوں میں چھید کررہے ہیں
ہم جل رہے ہیں

سنا تم نے
فنا ہو رہے ہیں

تم : اس گرداب ، اس حیلے بہانوں کے گرداب میں ،
جہاں ہم فنا ہو رہے تھے

فنا ہو چکے ہیں
Image: mike el-nazly

Categories
شاعری

خواب کا ڈمرو

ڈارون کی لاش پہ تانڈو ناچ رچانے والا بندر
پوچھ رہا تھا
نیٹشے کے یبھ کو سن کر زرتشت نے آخر بولا کیا تھا
سی ایم ایچ روڈ کی اُترائی پر ایک نیانا
ایک مروڑی تار سے سائیکل ٹائر گھمائے جاتا تھا
کار میں بیٹھا میرا ہیولا
آئنسٹائن کی relativity کی گھمن گھیری پاٹتے پاٹتے
ڈوب چکا تھا
میرے وقت اوراُس کے سمے کے بیچ یہ صد صدیوں کا بندر
سپیس ٹائم کی چادر اوڑے ناچ رہا ہے
آئنسٹائن سہی کہتا تھا
ماس انرجی دونوں ایک ہی ہیں
یہ سب ہندسوں کا چکر ہے
اگنی کے ہاتھ سے لکھے ہندسے
پھر سے نئے ذرے کی کھوج میں نٹ راجا سے نئے کَرَنڑ کا پاٹ پڑھیں گے
اور مرا بیمار ذہن پھر سو جائے گا
زینکس رات کا دیمک بن کر ،
میری نظمیں چاٹ رہی ہے
اور میں اک دیوار پے بیٹھا
خواب کا ڈمرو پیٹ رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کَرَنڑ یا करण

Karanas are the 108 key transitions in the classical Indian dance described in Natya Shastra. Karana is a Sanskrit verbal noun, meaning “doing”

گھمن گھیری۔ بھنور کے معنی میں استعمال ہونے والا پنجابی کا لفظ

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Tandava

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Thus_Spoke_Zarathustra

https://en.m.wikipedia.org/wiki/Karana_(dance)

Categories
شاعری

خواب

زلف کے نرغے میں خواب،
خواب نیرنگِ سراب،
اس کی جبیں پر کھدی، اس کی جوانی کی شام
بوسۂ لب ،خامشی،خواب تذبذب کا جام
صبح کی درخشندگی میں آدمی سارے نبود
خواب کے اندھیر میں مژدۂ راہِ ثبات
باغِ عدن سے تہی، خواب نویدِ بہشت
خواب اک ایسی کنشت،
جس میں خداؤں کو موت ہے اور بشر کی حیات

Categories
شاعری

بلڈ کینسر

یہ نظم ایک مرتے ہوئے بارہ سالہ بچے کی دنیا ہے جس کی رگوں میں کیموتھراپی کے محلول دوڑ رہے تھے پر اس کے خوابوں کے کردار مردنگ کی تھاپ پر ناچتے، وہ سپہ سالار بھی تھا اور ایک خلاباز بھی۔ دور افق پر اس کی موت کے رنگ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔

یہ ان زمانوں کی داستاں ہے
کہ جب خرد کے کثیف پنجوں نے میرے سنبل پروں میں ناخن نہیں کھبوئے تھے
اُن زمانوں میں سپنے سانپوں کے بِل نہیں تھے
اننت ناگا کی جھڑتی چمڑی سپولیوں کا خدا نہیں تھی
گگن کا کیسر گدوں کا لقمہ نہیں بنا تھا
ہمارے صورت گروں نے( الٹی عمیق غاروں کو سیدھ دیتے) پلید چمگادڑوں کا چہرہ نہیں تکا تھا
اگرچہ کینسر کے زرد کیڑے، رجز کی لے پر تھرک رہے تھے
میں اپنی روح کی لگام تھامے ، کُلاہِ خود میں سے جھانکتا تھا
سو میرے گھوڑے کے ہِنہِنانے سے زرد کیڑوں میں خوف قائم تھا ، پر اچانک ۔۔۔۔
سفید کوٹوں میں بند سرنجوں نے میری دھڑکن پہ کان رکھے
یوں مَگر دانتوں سے میرے کولہے کی ہڈیوں میں نقب لگایا
کہ شاہ پورس کے مست ہاتھی نے اس کی فوجوں کو روند ڈالا
سفید خلیوں کے شہسواروں نے المجالی کی پیروی میں
سپر اٹھائی،
نیام سے تیغ کو نکالا،
تو زرد کیڑوں نے اپنے نیزوں پہ خونی صفحے اٹھا لیے تھے
میں مر رہا ہوں ، سسک رہا ہوں
یہ میرا بستر ،
(جہاں میں بےسدھ پڑا ہوا ہوں)
مری چتا ہے
سو میرے ہاتھوں میں میرے بالوں کے جلتے گچھے ہیں
میرے ڈھانچے کے رقصِ آخر کو دیکھنے
یہ سیاہ پوش بڑھیائیں کون ہیں
کیا بڑبڑا رہی ہیں
انھیں اٹھاؤ!!
کھجور کی گٹھلیاں ہٹاؤ!!
یہ خونی تھیلے میں کس کا خوں ہے؟
لہو کے قطروں کا ورد روکو !!
یہ ورد آنتوں کو کاٹ کھاتے ہیں
اور مسانوں کو چاب جاتے ہیں
یہ رقصِ آخر ، آخری نہیں ہے
میں اک جوالا مُکھی کا قصہ ہوں
میں انفجارِ عظیم کی طاقتوں میں ذرَہ ہوں
میں مِلکی وے کی سفید راہوں میں زرد سورج کے آشیانے میں رہنے والا
گو جل رہا ہوں جلا نہیں ہوں
میں مر رہا ہوں مرا نہیں ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المجادلی ۔۔ حیدرِ کرّار کےگھوڑے کا نام
نیزوں پر خونی صفحے ۔۔ جنگِ صفین کا واقعہ
مگر دانت ۔۔ مکر یا مگر ہندو مت کا ایک افسانوی حیوان ہے
المجالی ۔۔ حیدرِ کرّار کےگھوڑے کا نام

Categories
شاعری

مجسمہ ہائے آب

وہ گھڑی آنے کو ہے
ہاں وہ گھڑی آنے کو ہے
تیر سکتے ہو تو تیرو!!
چند خداؤں کے حروف
جبرئیلِ وقت کی زنبیل میں ٹھونسے ہوئے
چونچ میں کنکر لئے ، لاکھوں ابابیلوں کی مثل
ہاتھیوں کی فوج کو مسمار کرنے آئیں گے

ماہی اور کچھوے تو صدیوں سے سرِ تسلیم خم تھے
اب زبانوں پر بھی ان کی قفل باندھے جائیں گے
اُن نے صدیوں میں تراشے تھے مجسمہ ہائے آب
جو نہنگ تاراج کر کے ، بت شکن کہلائیں گے

وہ گھڑی آنے کو ہے جس دم کفِ دریائے وقت
پھر عدم کے اس سمندر میں گرے گی اور یہاں
ناخدا جی اٹھائیں گے

ناخدا جو تب خدا ہوں گے ، لکھیں گے لوح پر
دورِ پارینہ میں جلتی آتشِ نمرود پر
خضر و موسیٰ پھر لڑیں گے ، قتلِ نومولود پر

بھسم ہوں گے جسدِ خاکی جن سے ہو گی پھر نمود
چند نئی اقوام کی

ہم مگر باقی رہیں گے
ہم خداؤں کے حروف
ہم ابابیلوں کی چونچ
ہم ہی ماہی کی زباں
ہم مجسمہ ہائے آب

Categories
شاعری

بلڈ پریشر

بلڈ پریشر
آہ جکڑے ہے رگِ جاں کو یا کیڑوں کا ہجوم، ریشہ ریشہ بنُے ریشم کے رسن طوق کیے؟

پھر سے دُزدانِ ابد، بحرِ فنا کے قزاق
میری راتوں میں تلاطم کے پیالے تھامے
سینے پیٹیں ہیں، لہو روئے ہیں، بتیاتے ہیں

” سچ کی آغوش، اے خرموش، پرتگاهِ عمیق
سچ کی آغوش وہ بے پایاں لحد ہے جس میں
رمزِ ہستی کے کئی لاکھ چھچھوندر مدفون”

“بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی !
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔”
Categories
شاعری

یورینیم کے خواب

یورینیم کے خواب
( سالِ یورینیم کی کیا کہوں ، سات بونوں کی حکومت کو ختم ہونا ہی تھا مگر اس دنیائے فانی پر رذیل مینڈک کی حکومت کا ہونا کسی کابوس سے کم نہیں – مگر اب وہ مالک ہے اور ہم گزیدگانِ روز و شب جو پہلے بھی محکوم تھے ابھی بھی غلام ہیں)

“وہ سات بونے کہاں گئے جو ہماری پلکوں کو نوچتے تھے
جو صبحوں شاموں کے چرخ تھامے ہماری سانسوں کو کاتتے تھے”

نہاں تھئیٹر میں رقص گرداں جو پتلیاں تھیں وہ رک گئی تھیں
خداۓ پنہاں کا ہاتھ تھامے جو رسیاں تھیں وہ کٹ گئی تھیں
عدم کی لوح یقین پہ لکھے حروف معنی تلاشتے تھے
جلے پروں سے فرشتے اپنے ، خداۓ فانی تراشتے تھے
مچان خلیے کی چھوڑ،
—دھواں—
یورینیم کے نحیف پلوں کی زرد چمڑی کو چاٹتا تھا
سلگتی لاشوں کی بوئے بد کا خمیر نتھنوں کو کاٹتا تھا
قرون لمحوں میں منفجر تھے
ہوا میں اڑتے دلوں سے گرتا تھا سرخ ایندھن
سکڑتی چمڑی کو بوٹی بوٹی سے گرم ناخن کھروچتے تھے
جنین ماؤں کے نوک پستاں ، چبا رہے تھے، دبوچتے تھے
جگر سے رستا لعاب چیخوں کے ہاتھ گرتا
وبال زلفوں کے کڑکڑاتے
بدھا کے لاشے پہ بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا​
“رزیل” روحوں کی راس تھامیں “رضائے رندی” کے رجز گاتا
رذیل کیچڑ کا سبز مینڈک، تمام فانی جہاں کا مالک
کبھی پھپھولوں پہ رقص کرتا، کبھی ببولوں پہ گنگناتا

“وہ سات بونے کہاں گئے جو ہماری پلکوں کو نوچتے تھے
جو صبحوں شاموں کے چرخ تھامے ہماری سانسوں کو کاتتے تھے
کہاں ہیں امید کے پیمبر
کہ گر وہ آئیں
تو ہم ذبیحوں کے خون اندر
نہائیں اور پھر ابد کو جائیں…”

“ابد کو جائیں؟”

رذیل مینڈک کے قہقہے گونج اٹھے تھے آسماں میں

“ابد کہاں ہے؟
ابد کہاں ہے!!!!””
Categories
شاعری

کابوس

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/271998399″ params=”color=ff5500&auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false” width=”100%” height=”166″ iframe=”true” /]

کابوس
مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں،
کھلی کھڑکیوں سے، سریع گاڑیاں چیختی تھیں-
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی
کہ جیسے کوئی زور سے اپنے گرانڈیل ہاتھوں سے
ان ساعتوں کا طبل پیٹتا جا رہا ہو
وہ گرانڈیل مجھ کو جگاتا تھا، جاگو!!

(“وہ” سرگوشی کرتے ہوئے، نیم وا سی نظر مجھ پے ڈالے ، یہ کہنے لگی بھیڑیں گن لو)

اور اس ایک لحظے میں بھیڑوں کی جگہ،
سر کٹے بھیڑیے، اپنے نوکیلے دانت
اور کالے مسوڑے نکالے
ہنسے جا رہے تھے
ہنسے جا رہے تھے!
کوئی کھڑکیاں بند کر دے،
کوئی بیٹری اس گھڑی کی نکالے
کوئی مجھ سے کہہ دے میں زندہ ہوں اور
یہ فقط خواب ہے، ایک کابوس ہے
مرے حس کے پنجے،
تنوں میں کھبے،
شجر اوہام پر،
چند لنگوروں کی مانند چڑھے جا رہے تھے
کوئی میرے برزخ کے اس گہرے کںوئیں میں اب ڈول ڈالو
کوئی؟
کوئی ہے؟
سنو؟
کوئی ہے؟
میں زندہ ہوں مجھ کو نکالو!!
کوئی عزرائیلوں سے ان اسرافیلوں سے کہہ دے
کہ اب صور پھونکیں، میری روح کو قبض کر لیں
میں زندہ نہیں، پر مرا بھی نہیں ہوں
میں اس دار پندار پر،
اپنی چند آخری ہچکیاں لے رہا ہوں

Image: Rithika Merchant

Categories
شاعری

اليعازر مر گیا

اليعازر مر گیا
بلب کا جبڑا کھلے، آگ برس جاۓ تو؟
گر یہ استخر ابھی، خون سے بھر جاۓ تو؟

 

یا یہ استخر
(جہاں آب کے منشوروں سے
رنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہے)
،کوئی استخر نہ ہو ، کوکھ ہو میری ماں کی
،اور میں میں نہیں ، شاید وہ اچھالتا پانی
جس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھا
وائے قسمت کے مرے ہاتھ میں رسی نہ رہی!!

 

آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا شکم بھر جاۓ
اس قدر خون کہ سرجن کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
اورتانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھی
میرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں