Categories
نان فکشن

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قرآن

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان قرآن کے کچھ حصوں اور آیات کو لے کر کافی اختلاف تھا۔ حضرت عمر کے نزدیک حضرت ابی بن کعب کچھ ایسی آیات کو قرآن سمجھتے تھے جو کے منسوخ ہو چکی تھیں جبکہ حضرت ابی بن کعب کے نزدیک حضرت عمر کچھ ایسی آیات کو منسوخ سمجھ کر چھوڑ چکے تھے جو ان کے نزدیک قرآن کا ہی حصہ تھیں۔

اس بات کی تفصیل تو آگے آ رہی ہے لیکن یہ بیان کرنے سے پہلے یہ بات یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مشہور صحابی رسول حضرت ابی بن کعب ان چار جلیل القدر بزرگ صحابہ کرام میں سے ایک ہیں، جن سے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سیکھنے و حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔ دیکھئے صحیح بخاری (رقم 4999)۔ نیز ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے کہ خود اللہ نے حضرت ابی بن کعب کا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے سامنے قرآن پڑھیں۔ دیکھئے صحیح مسلم (رقم 6342 دارالسلام)

1) اس تمہید کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت دیکھئے کہ کہتے ہیں: “حضرت عمر نے فرمایا: ابی بن کعب ہم میں سب سے بڑے قاری (قرآن) ہیں لیکن حضرت ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مَیں نے تو قرآن مجید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سُنا ہے، اس لئے مَیں تو اسے کسی کے کہنے پر چھوڑنے والا نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: “ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلاتے ہیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں۔” (صحیح بخاری: رقم 5005)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر خود بھی حضرت ابی بن کعب کو قرآن کا سب سے بڑا قاری مانتے تھے لیکن ان کے نظریہ کے مطابق حضرت ابی بن کعب قرآن کے کچھ حصوں اور آیات کو مانتے میں غلطی پر تھے جو منسوخ تھیں اور اسی طرح اگر حضرت ابی بن کعب کے نظریہ کے مطابق دیکھا جائے تو حضرت عمر قرآن کے کچھ ایسے حصوں اور آیات کو تسلیم نہیں کرتے تھے جو حضرت ابی بن کعب کے مطابق قرآن میں شامل تھیں۔ قرآن کے ان تمام حصوں کے بارے میں مکمل تفصیل تو نہیں ملتی جن پر ان دونوں جلیل القدر اصحاب کا اختلاف تھا لیکن دیگر روایات سے اس اختلاف کے کچھ دیگر حقائق ضرور سامنے آتے ہیں۔

2) چنانچہ تابعی ذر سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے ان سے پوچھا: تم سورۃ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ (مَیں نے) کہا: ستر سے کچھ زائد آیات۔ انہوں نے کہا: مَیں نے اسے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا تو یہ سورۃ بقرۃ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی۔
(مسند احمد: رقم 21525، 21526 / صحیح ابن حبان: رقم 4428 / مستدرک حاکم: رقم 3554)

3) سورۃ بقرۃ کے برابر سورۃ احزاب کی آیات کا تو آج کسی کو علم نہیں لیکن رجم کی آیت کے بارے تو خود حضرت عمر کو بھی تسلیم تھا کہ “بلاشبہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور اپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا۔۔۔۔” (صحیح مسلم: رقم 4418 دارالسلام)

4) اس کے باوجود یہ آیت یا ایسی دیگر کچھ آیات مصحف میں کیوں نہ شامل کی گئیں؟ کثیر بن صلت روایت کرتے ہیں: “حضرت ابن عاص اور حضرت زید بن ثابت مصحف لکھتے تھے۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید نے کہا: مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ یہ آیت بھی پڑھتے تھے (حضرت زید نے آیت رجم پڑھی)۔ حضرت عمر کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔۔۔۔”
(مسند احمد: رقم 21932 / مستدرک حاکم: رقم 8071)

اس روایت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آیت رجم یا ایسی ہی کچھ دیگر آیات جن پر صحابہ کرام میں اختلاف تھا، محض اسی لئے بھی مصحف میں شامل نہ ہو سکیں کہ حضرت عمر یا کسی اور صحابی نے یہ تاثر لیا یا محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ آیت لکھوانا پسند نہ کیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت جیسے جلیل القدر صحابہ کی گواہیوں کے باوجود وہ آیات منسوخ قرار دے کر مصحف قرآن میں شامل نہ کی گئیں۔

5) حضرت ابن عباس سے روایت ہے: “اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: “لو کان لابن آدم وادیان من ذھب لا بتغی الثالث، ولا یملا جوف ابن ادم الا التراب و یتوب اللہ علی من تاب” حضرت عمر نے کہا: یہ کیا ہے؟ مَیں نے کہا: جی حضرت ابی بن کعب نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر حضرت عمر ہمارے پاس سے گزرے اور حضرت ابی کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے ہی یہ آیات پڑھائی تھیں۔ حضرت عمر نے کہا: تو پھر کیا مَیں ان کو برقرار رکھوں؟ پس پھر انہوں ان کو برقرار رکھا۔”
(الفتح الربانی فی ترتیب مسند احمد، رقم 8459 / مسند احمد: رقم 21428)

نوٹ: صحابی رسول حضرت زید بن ارقم نے بھی ایسی ہی آیات کے بارے گواہی دے رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پڑھی جاتی تھی۔ دیکھئے الفتح الربانی فی ترتیب مسند احمد: رقم 8458، مسند احمد: رقم 19495)

حضرت ابن عباس کی درج بالا روایت سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر جیسے جید و بزرگ صحابی تک کو کچھ آیات کا بالکل ہی علم نہ تھا کہ یہ کیا ہیں؟ جبکہ دیگر صحابہ انہیں قرآنی آیات مانتے تھے۔ ایسے میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابی بن کعب کی ہی گواہی پر حضرت عمر نے ان آیات کو تسلیم بھی کیا اور اسے قرآن کا حصہ خود بھی مان کر برقرار و ثابت رکھا لیکن حیران کُن طور پر یہ آیات بھی آج قرآن میں موجود نہیں.

6) حضرت عمر بن خطاب ایک بچے کے پاس سے گزرے، وہ مصحف (قرآن) میں پڑھ رہا تھا: ({النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم} وهو أب لهم)
بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں اور وہ (نبی) تمھارے باپ ہیں۔ (اس پر حضرت عمر نے) کہا: اے بچے! اس کو مٹا دو۔ اس نے کہا: یہ مصحف ابی (بن کعب) ہے تو وہ حضرت ابی کی طرف گئے اور ان سے اس (آیت کے) بارے پوچھا تو انہوں نے کہا: قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے اور تمھیں بازار کا شور و غل (یعنی خرید و فروخت)۔
(سنن کبریٰ للبیہقی: ج7 ص110، رقم 13419 / تاریخ المدینہ المنورۃ لابن شبۃ: رقم 1171)

اس روایت سے تو پتا چلتا ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے مصحب میں قرآن کی موجودہ آیات سے بھی کچھ زائد الفاظ موجود تھے، جنہیں حضرت عمر درست نہ جانتے تھے یا علم نہ رکھتے تھے اور مٹانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر کے استفسار پر حضرت ابی بن کعب نے صاف جواب یہی دیا کہ آپ نہیں جانتے ہوں گے کہ آپ کو تجارت و بازار مشغول رکھتا تھا جب کہ ان کی مشغولیت صرف قرآن سے تھی۔اس کے علاوہ اور بھی کئی مواقع پر ملتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان قرآن کی آیات کو لے کر اختلاف و تلخی کا معاملہ رہا۔

6) چنانچہ ایک ایسے ہی موقع پر قرآنی آیات پر حضرت ابی بن کعب کے گواہی دینے پر حضرت عمر نے فرمایا: “اے ابی! تم کس بنا پر لوگوں کو مایوس کئے جا رہے ہو؟ حضرت ابی نے کہا: اے امیرالمومنین! مَیں نے جوانی اور صحت کے دنوں میں حضرت جبرائیل امین کی جانب سے (اترا) قرآن سیکھا ہے (یعنی میرا قرآن پڑھنا غلط نہیں ہو سکتا)۔ حضرت عمر بولے: تُو احسان ماننے والا نہیں اور مَیں صبر کرنے والا نہیں۔ یہ بات تین دفعہ بولی اور وہاں سے چلے آئے۔”
(مستدرک حاکم: رقم 2890)

7) سورۃ فتح کی آیت (26) کے بارے بھی خود حضرت ابی بن کعب سے روایت موجود ہے کہ وہ اس کے درمیان الفاظ (وَلَوْ حَمَيْتُمْ، كَمَا حَمُوا، لَفَسَدَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ) تلاوت کیا کرتے تھے جو ہمارے پاس موجود مصاحف میں بھی آج موجود نہیں۔ یہ بات حضرت عمر کو پہنچی تو وہ اس بات پر شدید برہم ہوئے۔۔۔۔

پھر حضرت عمر خود ان کے پاس چلے آئے اور ان کے کچھ ساتھیوں کو بھی بلوایا، ان میں حضرت زید بن ثابت بھی تھے۔ حضرت عمر بولے تم میں سے کون سورۃ فتح پڑھے گا؟ تو حضرت زید ہمارے (یعنی حضرت ابی بن کعب کے) طریقے کے مطابق ہی قرات کی، اس پر حضرت عمر ان پر بھی ناراض ہوئے۔ حضرت ابی بن کعب نے حضرت عمر سے کہا: مَیں کچھ بولوں؟ آپ نے کہا کہ بولو۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا: یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب بیٹھا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قرآن سنایا کرتے تھے جبکہ آپ لوگ اس وقت دروازے پر ہوتے تھے۔ اب (بھی) اگر آپ کہتے ہیں کہ مَیں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے، اسی طرح لوگوں کو سناتا رہوں تو مَیں سناتا رہوں گا اور اگر آپ نہیں چاہتے تو مَیں ساری زندگی ایک حرف زبان سے نہ نکالوں گا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ لوگوں کو قرآن سناتے رہیں۔
(مستدرک حاکم: رقم 2891)

حضرت ابی بن کعب کی زندگی کے آخری ایام کے بارے حضرت جندب کی روایت ہے جس میں ان جلیل القدر بزرگ صحابی کی خستہ حالت پر روشنی پڑتی ہے۔ حضرت جندب حضرت ابی بن کعب کے بارے فرماتے ہیں:

“دو کپڑوں میں ملبوس ایک لاغر سا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ مَیں نے ان سے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ لوگوں کے سردار حضرت ابی بن کعب ہیں۔۔۔۔۔ ان کے پیچھے ان کے گھر تک پہنچا تو بہت خستہ حالت تھی، لباس بھی کوئی خاص نہ تھا اور ان کی اپنی حالت بھی پراگندہ تھی۔۔۔۔ (کچھ گفتگو کے بعد) حضرت ابی بن کعب بولے: میرا تیرے ساتھ وعدہ ہے کہ اگر اس جمعہ تک میری زندگی رہی تو مَیں تمھین ایسی بات بتاؤں گا جو مَیں نے خود رسول اللہ سے سُنی ہے اور اس سلسلے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا۔ (حضرت جندب) کہتے ہیں: مَیں واپس آ گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔ جب جمعرات آئی تو مَیں اپنے ایک ضروری کام سے باہر نکلا تو تمام گلیوں بازاروں میں بہت رش تھا۔ مَیں جس گلی میں بھی گیا وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ملی۔ مَیں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ۔۔۔۔۔ لوگوں نے بتایا: سید المسلمین حضرت ابی بن کعب وفات پا گئے ہیں۔”
(مستدرک حاکم: رقم 2892)

Categories
نان فکشن

مسئلہ تقدیر اور خدا

تقدیر کا معاملہ اسلام سمیت بہت سے مذاہب کو درپیش نہایت مشکل معاملات میں سے ایک ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے سب خدا کے علم اور ارادے سے ہے تو انسان کے اچھے بُرے ہونے کا کیا مطلب؟ پھر پہلے سے معلوم افعال پر خدا کا راضی و ناراض ہونا، پہلے سے طے شدہ و متعین نتیجے پر خدا کی تخلیق اور سزا جزا کا یہ سارا معاملہ بھی محض خدا کی اسی صفت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے سو جو چاہے کرے۔

اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو مسئلہ تقدیر کی جو بھی تعبیر مسلمان متکلمین پیش کرتے آئے ہیں، آپس میں اس قدر گنجلک ہیں کہ جو بھی پہلو اختیار کیا جائے خود قرآن و حدیث کے دیگر دلائل اس کے خلاف آن کھڑے ہوتے ہیں۔ مذہبی دانشور و مفکرین جو بھی تفہیم اختیار کرتے ہیں کہیں نہ کہیں آ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ “انسان اپنی محدود سی عقل سے خدا کی لامحدود ذات و صفات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔” اگر نتیجہ حاصل یہی ماننا ہے تو پھر سمجھنے سمجھانے کا تکلف کیسا؟ انسان کو خود ایسی محدود عقل کے ساتھ پیدا کرنا کہ وہ ان معاملات کو سمجھ ہی نہ سکے اور پھر انہی مسائل کو بنیادی ترین ایمان کا حصہ بنانا، کیا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ عقیدہ و نظریہ سمجھ سے بالاتر محض مان لینے کا نام ہے اور اسی کو “غیب پر ایمان لانا” کہا جاتا ہے۔

مگر یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ چیز جو سمجھ سے بالاتر ہو اسے ماننا اور آنکھیں بند کئے تسلیم کرنا یا اس پر سوال نہ اٹھانا ہی خدائی منشاء و ہدایت ہے تو پھر یہ سہولت کیا دیگر مذاہب کو بھی حاصل ہے؟ دیگر مذاہب و قدیم یونانی دیومالائی قصے کہانیاں اور ان پر مبنی عقائد پر ایمان لانا بھی کیا اس بنیاد پر ہدایت ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی محدود عقل و فہم سے ان معاملات کا احاطہ نہیں کر سکتا؟

ان فلسفیانہ مباحث کو چھوڑتے ہوئے آئیے ایک نظر تقدیر سے متعلقہ آیات و احادیث پر ڈالتے ہیں:

قرآن میں ارشاد ہوا: “کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔” (سورة الحديد: 22)

حضرت ابوہریرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو کچھ تمھارے ساتھ ہونے والا ہے اس پر قلم خشک ہو چکا ہے۔”
(صحیح بخاری، کتاب القدر، قبل حدیث: 6596)

ہمارے مذہبی علماء و مفکرین اکثر یہ تعبیر اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد صرف خدا کا علم اور ارادہ ہے نا کہ کسی انسان کو اس علم کی بنیاد پر مجبور کیا جاتا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اکثر نصوص اس تاویل کے خلاف ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ تقدیر ہی انسان پر غلبہ پاتی ہے وہ اعمال کچھ بھی کر رہا ہو، اس کی پہلے سے طے شدہ متعین تقدیر کے مطابق اسے سہلوت دی جاتی ہے اور اس سے وہی عمل کروایا جاتا ہے۔

“پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کر دیتا ہے۔” (سورة الأنعام: 125)

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا جسے خود ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھول دیتا ہے اور اس کے مقابل جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے۔ اب جس کا سینہ خود خدا نے کھولا ہو اسے ہدایت ملنا محض خدا کا اس پر خصوصی و امتیازی فضل ٹھہرا اور جس کا سینہ خود خدا نے تنگ کر دیا ہو کہ خود خدا اسے گمراہی میں ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو بتائیں اسے ہدایت کیسے اور کہاں سے ملے؟

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا کئے، انہیں اس وقت جنت کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور دوزخ کے لئے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2662)

یہ حدیث بھی واضح ثبوت ہے کہ جنتیوں کو پیدا ہی جنت کے لئے کیا گیا اور جہنم میں جانے والوں کو پیدا ہی جہنمی اور جہنم جانے کے لئے کیا گیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6594)

گویا کہ کوئی انسان اعمال کیسے بھی کر لے، آخر میں تقدیر اس پر غلبہ پاتی ہے اور وہ اسی کے مطابق جنتی و جہنمی بنتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے جو بھی عمل کرے۔”
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2141)

حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لئے آسان کیا گیا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6596)

حضرت عمر سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر ایک کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے) چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بد بختوں میں سے ہے وہ بد بختی والا کام کرتا ہے۔” (سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2135)

حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے: “بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ۔۔۔، حدیث: 2645، طبع دارالسلام 6726)

یہ تمام احادیث بھی یہ حقیقت کھول کر بیان کر دیتی ہیں کہ تقدیر پہلے سے متعین نتیجہ ہے اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دے دی جاتی ہے۔ گویا جسے پہلے سے جنتی لکھ دیا گیا اس کے لئے نیک اعمال کو آسان کر دیا اور جسے جہنمی لکھا گیا اسے بدی کی طرف آسانی اور سہولت دی جاتی ہے۔ ہر ایک کرتا ہی وہ ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا اس معاملے کو صرف پہلے سے جانا گیا علم و ارادہ کہا جا سکتا ہے؟

حضرت ابوہریرۃ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے مناظرہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے جب کہا: “پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا۔ حضرت آدم نے جواب دیا: “آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے بھی پہلے میرے لیے لکھ دیا تھا۔” آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے۔
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2134)

صحیح مسلم کی روایت (2652) میں وضاحت موجود ہے کہ یہ مناظرہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خود انبیاء کا عقیدہ و نظریہ بھی یہی تھا کہ ان سے جو اعمال صادر ہوئے وہ سب لکھی ہوئی تقدیر کی وجہ سے ہی تھے۔ یہاں پر ایک اور شبہ کا جواب بھی ضروری ہے کہ شاید کوئی یہی سمجھے کہ اعمال تو چلو تقدیر سے ہیں اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دی جاتی ہے لیکن یہ اعمال کا صدور ہوتا تو انسان کی اپنی چاہت سے ہے تو عرض ہے کہ قرآن کے مطابق تو انسان کا کسی عمل کی طرف رغبت اور چاہت اختیار کرنا تک خود اس کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا: “اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔” (سورة التكوير: 29)

گویا عمل کی توفیق ہے نہ کسی عمل چاہنے کی آزادی بلکہ جو خدا نے لکھ رکھا ہے اسی کے مطابق سب ہو گا کیونکہ وہ مالک و مختار ہے اور مخلوق میں سے جنتی جہنمی سب طے شدہ ہیں اور خدا کی کسی نامعلوم خواہش کے سامنے بے بس و لاچار جو وہ کم عقل انسانوں کو بتانے کا ہرگز پابند نہیں۔

“جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں.” (سورة الإسراء: 16)

اس آیت میں بھی بالکل وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے کہ اللہ خود کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس بستی کے خوشحال لوگوں کو خود حکم دیتا ہے تو وہ نافرمانیاں کرتے ہیں تاکہ اللہ نے ان بستی والوں کے لئے پہلے سے جو تباہی و بربادی کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ ان پر نافذ ہو جائے۔ یہ کہنا پھر کیونکر غلط ہو گا کہ اعمال کی آزادی کا نظریہ کم از کم قرآن کے مطابق ہرگز نہیں؟ بھلا مخلوق کہاں اتنی سکت رکھتی ہے کہ خدا کے اتارے حکم و امر سے منہ موڑے، جہاں ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔

صرف یہی نہیں کہ خدا نے لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اعمال کو پہلے سے طے شدہ نتیجے کے مطابق سہولت دی یا خود جس کو برباد کرنا مقصود تھا انہیں نافرمانی و گمراہی کا حکم دیا تاکہ خدا کا فیصلہ نافذ ہو بلکہ ایسے نصوص بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمال کرنا یا کسی سے کسی عمل کا سرزد ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ محض اللہ کا علم ہی جزا و سزا کا باعث ہو سکتا ہے۔

چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “وہ اپنے آباء میں سے ہیں۔” مَیں نے کہا: عمل کے بغیر ہی؟ فرمایا: “اللہ کو بہتر علم ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔”
(سنن ابو داؤد، کتاب القدر، باب فی ذراری المشرکین، حدیث 4712)

گویا جزا و سزا کا تعلق ہونے والے اعمال سے ہرگز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے پہلے سے طے شدہ علم کے نتیجے پر ہے۔ بھلا جو ہوا ہی نہیں اس کا علم سوائے خدا کی اپنی منشاء و مرضی کی لکھی تقدیر کے کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن میں موجود حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ انتہائی غور طلب ہے کہ جس میں خضرت خضر نے ایک لڑکے کو اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق قتل کر ڈالا۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 74) پھر اس کی وضاحت یہ بتائی کہ اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے ہمیں خطرہ ہوا کہ یہ لڑکا ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 80)

یہاں دیکھئے کس طرح اللہ کے دیے ہوئے علم کی ہی بنیاد پر ایک لڑکے کو قتل کر دیا گیا اور اسے اس جُرم پر سزا دے دی گئی جو محض اللہ کے علم میں تھا ابھی ہوا نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً کافر بھی خود ہی بنایا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔”
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2661، طبع دارالسلام 6766)

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔”
(سنن ابو داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث 4706)

غور طلب ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً پیدا ہی کافر کیا گیا اور پھر اپنے ہی لکھے ہوئے کے مطابق اپنے علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھوں اس عمل پر سزا بھی نافذ کروائی جو ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔

یہ تمام نصوص سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلامی لحاظ سے تقدیر کا معاملہ ہرگز صرف خدا کے علم میں ہونے کا مسئلہ نہیں اور نہ عمل کے لحاظ سے غیرجانبدار آزادی کا اختیار ہے بلکہ یہ محض خدا کی اپنی چاہت اور منشاء پر مبنی ہے۔ یہ امتحان کا معاملہ نہیں کہ جہاں سب کو برابری کے مواقع میسر ہوں بلکہ سیدھا سادا پہلے سے طے شدہ نتیجے پر خدا کی قدرت و اختیار کا مسئلہ ہے، جہاں وہ کسی کو جوابدہ نہیں کہ وہ جسے چاہے پسند کرے تو جنتی لکھ دے اور جسے ناپسند کرے تو جہنمی بنا دے۔ تمام اعمال تو خود اس کی مرضی بلکہ ان اعمال کا چاہنا تک اسی کی مرضی و منشاء پر ہے۔ جنتی و جہنمی طے شدہ ہیں۔

گویا دنیا ایک سٹیج ہے جہاں پہلے سے لکھے اسکرپٹ کے مطابق سب اداکاری کے لئے مجبور ہیں، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس سب کا مقصد و فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا نے جن کو پیدا کیا ان کے اوپر مکمل قدرت صرف اسی کی ہے اور کوئی اس سے جواب طلب نہیں کر سکتا کہ کس کو کس تقدیر کے ساتھ کیوں پیدا کیا؟ وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔

“جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔” (سورۃ القمر: 48-49)

Categories
نقطۂ نظر

صرف ’جہاد‘ ہی کیوں، قرآن کی دیگر آیات کیوں نہیں؟

[blockquote style=”3″]

Institute of Islamic Studies, Mumbai کے جرنل Islam and Modern Age کے ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں اصغر علی انجینئر کا مضمون JIHAD? BUT WHAT ABOUT OTHER VERSES IN QUR’AN? شائع ہوا ہے۔ ’جہاد‘ کی جو تعبیر ان مسلمانوں کے ذہن میں ہے جنھیں ایک انتہائی سوچی سمجھی پالیسی کے تحت دنیا کی بڑی اور ظالم طاقتوں نے بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی ڈگر پر ڈال دیا ہے اور اسی کے نتیجے میں جہاد اور اسلام کے بارے میں دنیا بھر میں دانستہ اور نادانستہ جو غلط فہمیاں پھیلائی اور پھیلتی جارہی ہیں وہ صحیح سوچ رکھنے والے ہر مذہب اور مسلک کے لوگوں کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں اس لیے کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی رشتوں کے مکدّر ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ اس اعتبار سے اصغر علی انجینئر کا یہ مضمون وقت کی ایک اہم ضرورت کے طور پر ہمارے سامنے آیا ہے۔ اصغر علی انجینئر پچھلی تقریباً چار دہائیوں سے انسانی حقوق اور انسان دوستی کے محاذ پر جان کے خطرات مول لیتے ہوئے خالص رضاکارانہ طور پر سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کے مذکورہ بالا مضمون کا اردو ترجمہ’ اسلام اور موڈرن ایج‘ کے شکریے کے ساتھ یہاں شائع کیا جارہاہے۔

[/blockquote]

اصغرعلی انجینئر
انگریزی سے ترجمہ: اسلم پرویز

 

ہندوستان اور باہر کے ممالک میں دہشت گردانہ حملوں نے یہ تاثر قائم کردیا ہے جیسے ’جہاد‘ کو قرآنی تعلیم میں مرکزیت حاصل ہے۔ پہلی بات تو یہ جس کا کہ ہم باربار اعادہ کرتے رہے ہیں، قرآن میں جہاد سے مراد جنگ نہیں، اس لیے کہ جنگ کے لیے تو قرآن میں قِتال اور حرب جیسے دوسرے الفاظ ہیں۔ ’جہاد‘ کا لفظ قرآن میں اپنے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی سخت کوشش کرنا اور سماج کی بہتری کے لیے سخت کوشش کرنا، نیکی پھیلانا، جسے ’معروف‘ کہا گیا ہے اور برائی کو روکنا جسے ’مُنکَر‘ کہا گیا ہے۔

 

’جہاد‘ کا لفظ قرآن میں اپنے بنیادی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی سخت کوشش کرنا اور سماج کی بہتری کے لیے سخت کوشش کرنا، نیکی پھیلانا، جسے ’معروف‘ کہا گیا ہے اور برائی کو روکنا جسے ’مُنکَر‘ کہا گیا ہے۔
لیکن اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ جہاد کے معنی جنگ ہیں جیساکہ بہت سے نادان مسلمان اور خاص طور پر وہ لوگ جو ’جہاد‘ کو اپنے سیاسی اجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بھی قرآنی تعلیمات میں جہاد کو مرکزیت حاصل نہیں۔ جہاد کا لفظ قرآن میں اکتالیس بار استعمال ہوا ہے جب کہ کسی ایک بھی آیت میں یہ جنگ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اقدار کی نمائندگی کرنے والے اور کئی کلیدی الفاظ ہیں۔ قرآن میں چار اہم بنیادی اقدار کا ذکر کیا گیا ہے یعنی عدل، احسان، رحمت اورحکمت۔ قرآن میں ان الفاظ کا ذکر اللہ کے ناموں کی حیثیت سے بھی کیا گیا ہے یعنی اللہ عادل ہے، اللہ محسن ہے، اللہ رحیم ہے، اللہ حکیم ہے۔ اس اعتبار سے قرآن ان اقدار کی دستاویز ہے اور ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام چیزوں پر ان اقدار کو فوقیت دیتے ہوئے ان پر عمل پیرا ہو۔ اور جو شخص بھی ان اقدار کو برتنے میں ناکام ہے وہ سچا مسلمان ہونے کا دعوا نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ اسلامی اصولِ قانون کی رو سے جہاد لازم نہیں ہے جب کہ یہ چہار اقدار ایک مسلم کردار کی شناخت ہیں اور اس لیے بہت اہم ہیں۔ قرآن میں رحمت کو کسی قدر مرکزیت حاصل ہے اور اللہ کے دو نام رحمان اور رحیم سب سے زیادہ اہم ناموں میں سے ہیں۔ ایک مسلمان ’مرد یا عورت‘ اللہ کے ان دونوں ناموں رحمان اور رحیم کا ورد کرتے ہوئے اپنا کوئی کام شروع کرتا ہے۔ لہٰذا غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات میں رحم کو سب سے زیادہ مرکزیت حاصل ہے چناں چہ رحم و کرم کے الفاظ اپنی مختلف شکلوں میں قرآن میں تین سو پینتیس (335) بار آئے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں ’جہاد‘ کا ذکر قرآن میں صرف اکتالیس (41) بار ملتا ہے۔

 

لفظ ’احسان‘ یعنی دوسروں کے ساتھ نیکی قرآن میں ایک سو چورانوے (194) بار آیا ہے۔ یہ تعداد بھی لفظ ’جہاد‘ کے اکتالیس (41) بار سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح لفظ ’حکمت‘ اور اس کے مشتقات کا تذکرہ بھی قرآن میں ایک سو ایک (101) بار ہوا ہے۔ قرآن ’حکمت‘ پر بھی بے پناہ زور دیتا ہے اس لیے کہ ایک اعتبار سے ’حکمت‘ کو حُجّت پر فوقیت حاصل ہے۔ حجّت کو بھی اگرچہ اہمیت حاصل ہے لیکن بسااوقات نوعِ بشر کے ذریعے اس کا غلط استعمال بھی کیا جاسکتا ہے جب کہ ’حکمت‘ حجّت اور اقدار دونوں کا احاطہ کرتی ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو باربار ’حکمت‘ کے استعمال کی تاکید کی ہے۔ قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ کا واسطہ بھی ’حکمت‘ کے ساتھ دیں نہ کہ دھمکیوں اور طاقت سے۔ ہم کسی کو اللہ کے راستے پر آنے کی دعوت دھمکیوں اور زور زبردستی سے نہیں بلکہ حکمت اور شیریں گفتاری کے ساتھ ہی دے سکتے ہیں۔

 

قرآن میں اس بات پر بھی بہت زور دیا گیا ہے کہ ہم تمام سماجی اور سیاسی امور میں عدل کا دامن ہاتھ سے نہ دیں۔ قرآن میں انصاف کے لیے تین لفظ استعمال کیے گئے ہیں یعنی عدل، قسط (داد) اور ’حکمت‘ اور قرآن میں یہ تینوں الفاظ مجموعی طور پر دوسو چوالیس (244) بار استعمال ہوئے ہیں۔ لہٰذا اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف انتہائی ضروری ہے جس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ کسی بھی بے گناہ شخص کو کسی حالت میں سزا نہیں دی جائے گی۔

 

قرآن میں چار اہم بنیادی اقدار کا ذکر کیا گیا ہے یعنی عدل، احسان، رحمت اورحکمت۔ قرآن میں ان الفاظ کا ذکر اللہ کے ناموں کی حیثیت سے بھی کیا گیا ہے یعنی اللہ عادل ہے، اللہ محسن ہے، اللہ رحیم ہے، اللہ حکیم ہے۔
قرآن میں تینتیس (33) بار اللہ کو غفورالرحیم کہا گیا ہے یعنی معاف کردینے والا، رحم فرمانے والا، بدلہ لینے والا نہیں۔ بدلہ لینے کی خواہش انسانی کمزوری ہے کردار کی طاقت نہیں۔ لہٰذا ایک دین دار مسلمان میں خدا کی طرح معاف کردینے کا مادّہ ہوتا ہے اس طرح خدا اپنے ان بندوں کو معاف کردیتا ہے جو اپنی خطا پر نادم ہوتے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں کی شکل میں ’جہاد‘ کرنے والے دراصل بدلہ لینے پر تُلے ہوتے ہیں جب کہ ایک اچھا مسلمان اسی طرح معاف کردینے کو تیار رہتا ہے جیسے اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اللہ ظالموں کو سزا دیتا ہے لیکن کسی ایسے فرد یا افراد کے گروہ کو جسے کسی فرقے یا ریاست کی نمائندگی حاصل نہ ہو، سزا دینے کا کوئی حق نہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ اسلامی اصولِ قانون یعنی شریعت کی رو سے ’جہاد‘ کے اعلان کا حق یا تو صرف ریاست کو ہے یا ان لوگوں کو جنھیں ریاست کی طرف سے اس کا استحقاق حاصل ہو، کسی اور کو نہیں۔ اس کے برعکس دہشت گردانہ حملے منصوبہ بند طریقے سے ایسے افراد کی جانب سے کیے جاتے ہیں جنھیں کسی ریاست یا ریاستی ادارے کی نمائندگی حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان کے حملوں کو اسلامی شریعت کی رو سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسے معصوم لوگوں کے قتل کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ ’جہاد‘ کے اسلامی قوانین کی رو سے بھی کسی بھی ناآمادۂ جنگ پر حملہ نہیں کیا جاسکتا اور عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر تو اور بھی نہیں اور ایسی کسی بھی شہری املاک کو برباد نہیں کیا جاسکتا تاآنکہ وہ فوجی مقاصد یا جنگ کے مقصد کے لیے استعمال نہ کی جارہی ہو۔

 

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جنگ کے اسلامی قوانین جنگ کے جدید قوانین یا جنیوا کنونشن سے کسی بھی طرح مختلف نہیں ہیں۔ دہشت گردانہ حملے اسلامی قوانین کے سراسر منافی ہیں اور ان حملوں کو کسی بھی طرح ’جہاد‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میڈیا ان دہشت گردوں کو جہادیوں کا نام دیتا ہے۔ یہ بھی لفظ ’جہاد‘ کا انتہائی غلط استعمال ہے اس لیے کہ عربی زبان میں ’جہادی‘ جیسی کوئی اصطلاح یا لفظ قطعی نہیں ہے۔ دراصل ایک لفظ ’مجاہد‘ ہے اور مجاہد کا لفظ بطورِ تحسین ایسے فرد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس نے اپنی زندگی سماجی برائیوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے وقف کررکھی ہو۔ بسااوقات ’مجاہد‘ لفظ کا استعمال ایسے بہادر سورما کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو نہ صرف نڈر ہوتا ہے بلکہ جو صرف حق کے لیے جنگ کرتا ہے اور صرف محاذِ جنگ پر ہی لڑتا ہے وہ مارا اور بھاگ لیے (hit and run) قسم کا سپاہی نہیں ہوتا۔

 

اسلامی اصولِ قانون یعنی شریعت کی رو سے ’جہاد‘ کے اعلان کا حق یا تو صرف ریاست کو ہے یا ان لوگوں کو جنھیں ریاست کی طرف سے اس کا استحقاق حاصل ہو، کسی اور کو نہیں۔
میں یہاں اس امر پر بھی کچھ روشنی ڈالنا چاہوں گا کہ اسلامی ادب میں جہاد کی کیاتشریح کی گئی ہے اور اسے کس طرح سمجھا گیا ہے۔ اگر مذکورہ قرآنی اقدار کی کوئی اہمیت ہے جو بلاشبہ ہے تو اصل ’جہاد‘ تو تن دہی کے ساتھ اِن اقدار کی نشوونما اور فروغ ہے اور صوفیوں اور ولیوں نے اصل جہاد اسی کو سمجھا ہے۔ بالآخر اسلام تو پیغمبرِ اسلامؐ کے ذریعے دنیا میں ان تمام سماجی برائیوں کے خلاف لڑنے ہی کے لیے آیا تھا جو تمام عرب سماج میں بالعموم اور مکہ میں بالخصوص پھیلی ہوئی تھیں۔ چوں کہ قرآنی تعلیمات میں بنیادی اہمیت انھی (صالح) اقدار کی ہے اس لیے ایک سچا مسلمان مرد یا عورت وہی ہے جو خود کو اُن تمام برائیوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے وقف کردے جو برائیاں ان اقدار کی نفی ہیں۔ حضورؐ کی تمام زندگی انھی اقدار کو برتنے اور ان کو فروغ دینے میں گزری۔ اسی لیے آپؐ کو بجاطور پر قرآن میں رحمت للعالمین کہا گیا ہے یعنی تمام عالموں کے لیے رحمت، کیوں کہ بدی کے مکمل خاتمے پر ہی دنیا میں رحمت کے دوردورے کا دار و مدار ہے۔

 

پیغمبر اسلامؐ کے دورِ حیات میں اسلامی تاریخ کو اس کے دو اہم ادوار میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت محمدؐ کی رسالت کے پہلے تیرہ سالوں کا اس کا مکّی دور اور دوسرا ان کی ہجرت کے بعد کا دس سالہ مدنی دور۔۔۔ مکّی دور میں پیغمبر اسلامؐ اور ان کے پیرو ایک دبی کچلی ہوئی اقلیت تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے پیرو کاروں کو کسی بھی طرح کے تشدد کی تلقین نہیں کی، اس کے برعکس قرآن نے پیغمبرؐ اور ان کے ماننے والوں کو متواتر اس امر کی صلاح دی کہ وہ تمام سختیوں کو صبر کے ساتھ جھیلیں ا ور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔

 

پیغمبرؐ نے انتہائی صبر کے ساتھ تمام سختیاں جھیلیں یہاں تک کہ وہ بے حرمتی اور ذلتوں کا بھی شکار ہوئے لیکن وہ اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں لگے رہے۔ ان کے پیروکاروں کو انتہائی سخت کوشیوں میں مبتلا کیا گیا، پیغمبرؐ نے انھیں صبر سے کام لینے اور سختیاں جھیلنے کی ہدایت کی۔ اس لیے حضورؐ نے مسلمانوں کی رہ نمائی کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ ایسے نامساعد حالات میں ان کا رویّہ کیا ہونا چاہیے اور ان تمام سخت کوشیوں کے باوجود وہ کس طرح امن بحال رکھیں۔ لیکن جب حالات ناقابلِ برداشت ہوگئے تو انھوں نے اپنے بعض پیرووں کو ای تھوپیا ہجرت کرجانے کو کہا اور اس کے بعد وہ خود بھی اپنے کچھ پیرووں کے ساتھ مدینہ ہجرت کرگئے۔

 

قرآن میں حکمت یعنی دانش پر انتہائی زور ہے اس لیے انسانوں کو اپنے رویے میں حکمت سے کام لیتے ہوئے اپنی بقا کے لیے ایک موزوں لائحۂ عمل وضع کرنا چاہیے نا کہ یہ کہ وہ تشدد کی منجدھار میں چھلانگ لگاکر اپنے لیے خطرات مول لے لیں۔
اسلام کا مکّی ماڈل ان مسلمانوں کے لیے بہت کارآمد ہوسکتا ہے جن کو دنیا میں اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ جیساکہ قرآن میں حکمت یعنی دانش پر انتہائی زور ہے اس لیے انسانوں کو اپنے رویے میں حکمت سے کام لیتے ہوئے اپنی بقا کے لیے ایک موزوں لائحۂ عمل وضع کرنا چاہیے نا کہ یہ کہ وہ تشدد کی منجدھار میں چھلانگ لگا کر اپنے لیے خطرات مول لے لیں۔ قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے … ’اور مت کرو تم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان اور بھلائی کرو دوسروں کے ساتھ بیشک اللہ نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے’ (پارہ۲: آیت ۱۹۵ء)۔ (وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلیٰ التَّہْلُکَۃِ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ)۔

 

آج بھی اس طرح کے حالات میں قرآن کی یہ ہدایت اہم ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان مت کرو۔ دیکھیے نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر 9/11کے حملے کا کیا نتیجہ نکلا۔ کیا القاعدہ نے تمام اسلامی دنیا پر اور خصوصاً افغانستان اور عراق پر ایک عظیم تباہی کو دعوت نہیں دے دی۔ کیا انھوں نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے خود کو جہنم کے عذاب میں نہیں جھونک دیا۔ اس حملے کا کسی کو کیا فائدہ پہنچا۔ کیا اس وحشیانہ اور ظالمانہ حملے کے پیچھے کوئی عقل و دانش کارفرما تھی۔

 

قرآن نے باربار مسلمانوں کو عقل سے کام لینے کی تاکید کی ہے۔ کیا نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر کیا گیا حملہ کسی عقل مندی کا ثبوت تھا؟ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن کی تقلید کے بغیر کیا کوئی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ اس طرح کے بے سوچے سمجھے حملے مسلمانوں اور اسلام کے لیے مہلک ہی ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے برخلاف قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غارت گری کے مرتکب ہونے کے بجائے دوسروں کے ساتھ نیکی کریں۔

 

قرآن نے باربار مسلمانوں کو عقل سے کام لینے کی تاکید کی ہے۔ کیا نیویارک کے ٹریڈ ٹاور پر کیا گیا حملہ کسی عقل مندی کا ثبوت تھا؟
قرآن واضح طور پر مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرکے ان کے دل جیتیں تاکہ ان کے دلوں سے (تمھاری طرف سے) برائی دور ہوجائے۔ صلح حُدیبیہ کے امن معاہدے اور فتحِ مکہ کے بعد حضورؐ کا (مفتوحین کے ساتھ) سلوک ایک عظیم اور فراخ دل لیڈر کے مثالی کردار کی روشن دلیل ہے۔ قرآن نے اسی معنی میں رسولؐ کے کردار کی تعبیر اُسوۂ حَسنہ کی اصطلاح میں کی یعنی تمام بنی نوعِ انسان کے لیے ایک رول ماڈل۔

 

فتح کے بعد حُدیبیہ اور مکّہ میں رسولؐ نے اپنے دشمنوں پر فرمان نازل کرنے یا ان سے انتقام لینے کے بجائے ان کے ساتھ بے پناہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور ان کے دل جیت لیے۔ حُدیبیہ کے محاذ پر رسولؐ کے پاس اتنی طاقت تھی کہ وہ کفارِ مکّہ کے ساتھ اپنی شرائط پر معاملہ کرسکتے تھے لیکن اس کے بجائے انھوں نے خود ان کی بعض ایسی شرائط مان لیں جو ان کے کسرِ شان تھیں۔ بالآخر مسلمانوں کو اس معاہدے کا فائدہ ہوا۔ لیکن اس طرح کے معاہدے کے لیے پیغمبر اسلامؐ جیسی حکمت کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا معاہدہ جو بظاہر ان کے کسرِ شان تھا لیکن جو بعد میں ان کے شایانِ شان ثابت ہوا۔

 

اسی طرح فتحِ مکہ کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے اپنے ان بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا جنھوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور ان کے ماننے والوں پر انتہائی غیر انسانی طریقے پر ظلم و ستم ڈھائے تھے۔ اس طرح انھوں نے اپنے بدترین دشمنوں پر فتح پائی اور ان سب نے اسلام قبول کرلیا۔ اگر عربوں کی روایتی فطرت کے مطابق انھوں نے بدلہ لینے کی ٹھانی ہوتی تو ایک بار اور خون کی ندیاں بہتیں اور اتنے سارے حامیانِ اسلام نہ پیدا ہوئے ہوتے۔ گویا اخلاقی فتح کا درجہ بدلہ لینے سے کہیں بلند ہے۔ بدلے سے صرف ہماری انا کو طمانیت حاصل ہوتی ہے اور دشمن کی انا مجروح ہوتی ہے اور اس طرح پرخاش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

 

دہشت گرد جو کچھ کررہے ہیں وہ دراصل بدلے ہی کی کارروائی ہے اور وہ بھی ایک کمزور مورچے پر۔ چناں چہ ہر حملہ خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں لاتا۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے بدلہ لیتے ہیں۔
دہشت گرد جو کچھ کررہے ہیں وہ دراصل بدلے ہی کی کارروائی ہے اور وہ بھی ایک کمزور مورچے پر۔ چناں چہ ہر حملہ خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں لاتا۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے بدلہ لیتے ہیں۔ امّت کے معاملات کو دانش مندی کے ساتھ سلجھانا مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی زیادہ سودمند ہوگا۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ظالم طاقتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ لیکن انصاف کی لڑائی کس طرح لڑی جائے یہ مجموعی فراست کے ذریعے ہی طے کیا جائے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو کم سے کم خطرہ لاحق ہو۔

 

ایک سوال قرآن کی تفسیر کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔ قرآن حضورؐ پر تیس برس کی مدت میں نازل ہوا اور اس کی بیشتر آیات کسی مخصوص صورتِ حال کے تناظر میں اتریں لہٰذا قرآن کی کسی بھی مخصوص سورت کو اس کے سیاق میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر متن کا کوئی نہ کوئی سیاق و سباق ہوتا ہے اور یہ سیاق و سباق ہی متن کو سمجھنے میں ہماری رہ نمائی کرتا ہے اور متن کو سمجھنے کے لیے یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ کہیں وہ سیاق و سباق تو نہیں بدل گیا ہے یاوہی حالات اب بھی ہیں۔

 

قرآن کی بیشتر آیات کو جن میں ’جہاد‘ کا جواز پیش کیاگیا، انھیں قرآن کے نظام اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے، محض ان کے لغوی معنی میں لے لیاگیا ہے۔ قرآن کی کسی بھی آیت کے ذریعے جو بھی احکام نازل ہوا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے قرآن کے نظام اقدار کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس سیاق کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو معاملے سے تعلق رکھتا ہو۔ جس وقت قرآن نازل ہورہا تھا تو قرآن کا یہ نزول اللہ کی جانب سے تھا اور یہ قرآن نازل ہورہا تھا رسول اللہؐ پر۔ چناں چہ اللہ اور اس کا رسولؐ دونوں ہی قرآن کے نظامِ اقدار سے پوری طرح باخبر تھے لہٰذا وہ جانتے تھے کہ کب جنگ قطعی طور پر ضروری ہے۔

 

یہ بالکل ایک جانی بوجھی حقیقت ہے کہ چاہے وہ اسامہ بن لادن کی القاعدہ ہو یا کوئی دوسری دہشت گرد تنظیم، وہ نہ تو کسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی بڑی مسلم تنظیم کی۔
لیکن پیغمبر اسلامؐ کے علاوہ جب کبھی بھی دوسرے انسان قرآنی احکام کی پیروی کرتے ہیں تو اس کی صورت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ عام مسلمان نہ تو غلطی سے پاک ہوتے اور نہ ہی وہ اسلامی اقدار میں پوری طرح شرابور ہوتے ہیں اس لیے کہ پیغمبرؐ کے مصداق اُسوۂ حَسنہ کے حامل کوئی رول ماڈل نہیں ہوتا اور جب کبھی بھی کوئی شخص اُمّہ کی صلاح کے بغیر کسی بھی معاملے پر ان احکام کا اطلاق کرتا ہے تو وہ سراسر ناقابلِ قبول ہوتا ہے اور دہشت گرد یہی کام کررہے ہیں۔
یہ بالکل ایک جانی بوجھی حقیقت ہے کہ چاہے وہ اسامہ بن لادن کی القاعدہ ہو یا کوئی دوسری دہشت گرد تنظیم، وہ نہ تو کسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی بڑی مسلم تنظیم کی۔ وہ بعض ایسے مشتعل نوجوانوں کو تحریک دلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن میں نہ سمجھ ہوتی ہے اور نہ عقل، اور وہ صرف اسلام کے نام پہ دلائے گئے جوش سے مغلوب ہوکر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں اور بہت سے بے گناہ انسانوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ یہ حملے تمام قرآنی احکام کی خلاف ورزی ہیں۔

 

اس کے علاوہ ساتویں عیسوی کے عرب کے حالات کا موازنہ عصری دنیا کے حالات سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس زمانے میں تشدد کا جواب تشدد ہی تھا۔ عرب قبیلوں کی زندگی میں ’قصاص‘ یعنی جان کا بدلہ جان کی پرانی روایت چلی آرہی تھی اور قرآن نے معاملات کے سیاق میں قصاص کی اجازت سختی سے اس شرط پر دی تھی کہ انصاف کی رو سے اس پر برابری کی سطح پر عمل درآمد ہوگا لیکن ساتھ ہی یہ بھی صلاح دی گئی تھی کہ اگر تم معاف کردو تو یہ بہتر ہوگا۔

 

اس زمانے میں دوسرے کوئی ادارے موجود نہیں تھے اور قرآن نے صرف دفاعی جنگ کی اجازت دی تھی اور دشمن تک کے خلاف تشدد پر پابندی تھی۔ اور جیساکہ حُدیبیہ کے امن معاہدے سے ظاہر ہے ’جہاں کہیں بھی ممکن ہو جنگ سے گریز کیا جائے خواہ دشمن ہی کی شرائط پر کیوں نہ ہو‘ اور مکّے کی مثال سے یہ واضح ہے کہ ’دشمن کا دل جیتنے کے لیے قصاص کے بجائے اسے معاف کردینا بہتر ہے۔‘ یہ دونوں ماڈل پیغمبرِ اسلامؐ کی سنّت کا جزو ہیں اور مسلمانوں کو پیغمبرؐ کی سنّت پر عمل کرنا چاہیے۔

 

آج بیچ بچاؤ، صلح صفائی اور تنازعے ختم کرانے کے لیے دنیا میں بہت سے ادارے موجود ہیں۔ تمام مسلم ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے رجوع کیے بنا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔
اور آج کی دنیا تو ساتویں صدی عیسوی کے عرب سے سراسر مختلف ہے اور ہم کو آج جنگ کے قوانین کے بجائے قرآنی اخلاقیات کی پیروی کرنی چاہیے۔ آج بیچ بچاؤ، صلح صفائی اور تنازعے ختم کرانے کے لیے دنیا میں بہت سے ادارے موجود ہیں۔ تمام مسلم ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی تنظیم سے رجوع کیے بنا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ انتہا پسند تنظیمیں کہہ سکتی ہیں کہ ’بجا سہی لیکن یو این او (UNO) پر امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کا غلبہ ہے اس لیے وہاں سے ہمیں انصاف نہیں مل سکتا‘۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے لیکن پھر اس حقیقت کا بھی برابر پردہ فاش کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پتا چل سکے کہ کس طرح یو این او امریکہ کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ نے عراق کے خلاف تشدد کا رویہ اپنایا جب کہ یو این او نے امریکہ کو عراق کے خلاف جنگی کارروائی کی ممانعت کی تھی۔ اس سے امریکہ کا چہرہ کھل کر سامنے آگیا اور بڑے پیمانے پر آج دنیا یہ جانتی ہے کہ یو این او امریکہ جیسی طاقتوں کے سامنے کتنی بے بس ہے۔

 

اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ فی الحقیقت مسئلے کا پُرامن حل چاہتے ہیں تو پھر تشدد کی کارروائی سے نہ صرف آپ کے مقصد کو نقصان پہنچے گا بلکہ دنیا کی رائے بھی آپ کے خلاف ہوجائے گی۔ آج کی دنیا میں کسی مقصد کی سب سے بڑی طاقت رائے عامہ کا آپ کے حق میں ہونا ہے۔ اس لیے رائے عامہ کو جیتنے کی کوشش کی جانی چاہیے، پُرتشدد کارروائی کے مقابلے عدم تشدد کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنا زیادہ ممکن ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ بے قصور لوگوں کے قتل کا اقدام انتہائی طاقتور دشمن کے خلاف موثر نہیں ثابت ہوسکتا۔ اور اس سے رائے عامہ بھی آپ کے خلاف ہوجاتی ہے۔

 

آج رائے عامہ کو ہموار کرنے میں میڈیا بڑا طاقت ور کردار ادا کر رہا ہے اور عدمِ تشدد کا لائحۂ عمل یقیناً میڈیا کے لوگوں پر اثر انداز ہوگا۔ بدقسمتی سے آج کا نوجوان جمہوری طریقۂ کار کا متحمل نہیں رہا ہے چناں چہ قرآنی روایات کی پیروی کے وہم میں مبتلا ہوتے ہوئے وہ ’جہاد‘ کا نام نہاد راستہ اپنا رہا ہے اور اپنے بارے میں دنیا کی رائے کو خراب کررہا ہے اور یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اس کے اس منفی رویّے کے نتائج دوسرے مسلمانوں اور مسلم ممالک کے حق میں کیسے ثابت ہوں گے۔

 

تشدد کا یہ بے سوچا سمجھا راستہ جو پاکستان کے القاعدہ اور دوسرے دہشت پسند گروہوں نے اختیار کیا ہے اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے
تشدد کا یہ بے سوچا سمجھا راستہ جو پاکستان کے القاعدہ اور دوسرے دہشت پسند گروہوں نے اختیار کیا ہے اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جیسے کہ اسلام ’جہاد‘ ہی کا مذہب ہو جب کہ اسلام کا نظام اقدار انسانی زندگی اور وقار کے ساتھ دردمندی اور احترام کی مثال پیش کرتا ہے۔ آج صورت یہ ہے کہ بجا طور پر بدھ مت کو دردمندی اور عیسائیت کو محبت اور حق کے مساوی قرار دیا جاتا ہے لیکن اسلام کو ’جہاد‘ اور ’تشدد‘ کی علامت قرار دے دیا گیا ہے۔ کیا (دہشت گردی میں مبتلا ہونے والے) یہ مسلمان نوجوان اپنے گریبان میں منہ ڈال کر یہ نہیں دیکھ سکتے کہ انھوں نے اسلام کی تصویر کتنی مسخ کرکے رکھ دی ہے۔ بعض مفاد پرست طاقتوں کے ہاتھوں ان نوجوانوں کے دماغ اتنے مختل کردیے گئے ہیں کہ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ’جہاد‘ مسلمانوں کے لیے لازمی ہوگیا ہے اور یہ کہ ’جہاد‘ کے علاوہ اور کوئی دوسرا چارۂ کار ہی نہیں۔ یہ نوجوان اسلامی نظام اقدار سے یکسر بے بہرہ اور ہتھیاروں کی برتری پر اخلاقی برتری کی فوقیت سے نابلد ہیں۔ حُدیبیہ اور مکّے کی پُرامن فتح کی مثالوں سے یہ حقیقت روشن ہے کہ اخلاقی برتری ہی بالآخر فیصلہ کن ہوتی ہے اخلاقی موقف کی طاقت کے سامنے انتہائی زبردست مخالف بھی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ ہمارے دور میں گاندھی جی نے سچ اور عدم تشدد کی پُرتاثیر طاقت کا مظاہرہ کیا۔ برطانیہ جس کے راج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اس کو گاندھی جی نے سچ اور عدم تشدد کی طاقت سے نیچا دکھایا۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عدم تشدد ایک بزدلانہ رویّہ ہے جو کمزوری کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ یہ بڑا غلط نظریہ ہے۔ عدم تشدد کا راستہ انتہائی جرأت مند اور سچا انسان ہی عمل میں لاتا ہے۔ تشدد کا جنم غصے اور انتقام سے ہوتا ہے نہ کہ سچائی کے موقف سے۔

 

پیغمبرِاسلامؐ نے ایک بار ’جہاد‘ کی تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جہاد نام ہے ظالم حکمراں کے روبرو سچ بولنے کا‘۔ ظالم حکمراں کے روبرو سچ بولنے کے لیے بے پناہ جرأت درکار ہے اور ایک بزدل تو صرف ظالم کے حضور گھٹنوں کے بل کھڑا ہی ہوسکتا ہے۔ سچ جسے قرآن نے ’حق‘ کہا ہے اس کا ماننے والا انتہائی جرأت مندی کے ساتھ اس کی پاس داری کرے گا اور تمام سختیوں کو صبر کے ساتھ جھیلے گا۔ اسلام کے مکّی دور میں مسلمانوں نے انتہائی صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ ناقابلِ تصور سختیاں جھیلیں، ان کے اندر کبھی بھی کسی تشدد آمیز اقدام کی آگ نہیں بھڑکی۔

 

مکّہ کے مسلمان انتہائی نامساعد حالات میں سختیاں جھیلنے کی بہترین مثال ہیں۔ آج دنیا میں کتنے ہی مسلم اکثریت والے ممالک ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو اپنے اپنے ملکوں کے حکمرانوں پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ایک ساتھ مل کر ان ناانصافیوں کے خلاف لڑیں جو ان کے ساتھ امریکہ اور دوسری طاقتوں نے روا رکھی ہوئی ہیں۔ اگر یہ حکمراں امریکہ دوست ہیں اور کوئی اقدام نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف پُرامن طریقے سے پبلک احتجاج کریں۔ اس سے ان حکمرانوں کا پردہ فاش ہوگا جو امتِ مسلمہ کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کی پروا کرتے ہیں۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں سے کوئی فوری نتائج برآمد نہیں ہوتے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا اثر حکمراں طبقے پر کیا ہوگا۔ یہ دلیل جزوی طور پر درست ہے۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردانہ حملے کتنے موثر ہیں؟ کیا وہ مطلوبہ مقاصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہیں؟ ایسی کوئی مثال سامنے نہیں۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ تشدد کس کے خلاف؟ ابھی تک ایسی کوئی مثال سامنے نہیں آئی کہ امریکہ یا کسی دوسری طاقت نے ایسے تشدد آمیز حملوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہوں۔ اس سے اور بھی بڑا جوابی تشدد جنم لیتا ہے اور اس طرح ایک چکرویو سا بن جاتا ہے۔ عراق میں، افغانستان میں، پاکستان میں اور اب ہندوستان میں سینکڑوں بے گناہ موت کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد جاری ہے۔

 

اگر امریکہ نے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو ان ملکوں کی فوجوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ اپنا دفاع کریں یا شکست کی صورت میں کوئی دوسری تدابیر اختیار کریں۔ یہ صورتِ حال کسی بھی گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔
یہ لڑائی کسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض انا کی لڑائی ہوکر رہ جاتی ہے۔ حکمت، جو مقدس قرآن کی سب سے اہم قدر ہے، اس بات کی متقاضی ہے کہ کوئی بھی لائحۂ عمل اختیار کرنے سے پہلے صورتِ حال کا تفصیل کے ساتھ اور معروضی ڈھنگ سے جائزہ لے لیا جائے۔ جو لوگ دہشت گرد قسم کے تشدد کا طریقۂ کار اختیار کررہے ہیں ان کا ان مغربی ملکوں کی زبردست طاقتوں یا ملکوں کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں جن کے خلاف وہ لڑ رہے ہیں۔ اور ہتھیاروں کی لڑائی میں وہ عوام کو اپنے ساتھ لے کر نہیں چل سکتے۔ دوسری طرف تشدد پر آمادہ گروہوں کے بے سوچے سمجھے حملے انھی پُرتشدد اقدامات کی بدولت ان کے اور عوام الناس کے درمیان ایک خلیج پیدا کردیتے ہیں۔ لہٰذا عقل مندی اسی میں ہے کہ رائے عامہ کی حمایت حاصل کرتے ہوئے لڑائی جمہوری طرز پر لڑی جائے۔ اس اعتبار سے اسلام کا مکّی ماڈل کسی بھی دوسرے ماڈل کے مقابلے میں سودمند ہوگا۔ جنگ سے متعلق قرآنی آیات کا نزول مدینہ میں ہوا تھا اس لیے کہ مکّے کے کفاروں (اسلام نہ قبول کرنے والوں) کے حملے ان پر ان دنوں لگاتار جاری رہتے تھے اور مسلمانوں کے پاس سوائے دفاعی تدابیر اختیار کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ نے جتنی بھی جنگیں لڑیں وہ تمام کی تمام دفاعی نوعیت کی تھیں۔

 

اور اگر امریکہ نے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو ان ملکوں کی فوجوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ اپنا دفاع کریں یا شکست کی صورت میں کوئی دوسری تدابیر اختیار کریں۔ یہ صورتِ حال کسی بھی گروپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ اور ان گروپوں کو کسی بھی طرح یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے ہی ملکوں کے معصوم شہریوں کو اپنا نشانہ بنائیں۔

 

جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ان دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے کسی انتقامی جذبے کے تحت بازاروں میں چلتے پھرتے معصوم ہندوؤں اور مسلمانوں پر کوئی فرقہ وارانہ تشدد برپا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ویسا ہی گناہ ہے جس کی مرتکب فرقہ وارانہ طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہوئی تھیں۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ صبر و سکون کے ساتھ جمہوری انداز میں رائے عامہ کو ہموار کرتے ہوئے عام ہندوؤں کے دل جیتے جائیں کہ وہ پبلک کے سامنے فرقہ وارانہ فاشسٹ طاقتوں کا پردہ فاش کریں۔

 

امید کی جاتی ہے کہ وہ گمراہ مسلم نوجوان جو اس طرح کی پُرتشدد کارگزاریوں پر آمادہ ہیں وہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اس حقیقت کو باور کریں گے کہ وہ بے اثر ہیں اور اس طرح کے مجرمانہ اور گنہ گارانہ اقدام سے پرہیز کریں گے اور اس کے بجائے اس بات پر توجہ دیں گے کہ اعلا اخلاقی کردار میں اپنی شخصیتوں کو ڈھالیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں برتر قرآنی اخلاقیات کی پیروی کرسکیں۔ یاد کیجیے پیغمبرؐ نے کہا تھا، اسکالر کے قلم کی روشنائی کا مرتبہ شہید کے خون سے بلند ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

Are Shias Not One of Our Own!

Run, while you can. Run away from this monstrous state that Pakistan is becoming. Run before the denial and ignorance of the citizens of this land of pure devours your soul. Run before you lift a stranger’s lifeless body bathed in blood. Run before that body is of your loved one’s. Run before you are a victim yourself. Run while you can.

We vowed to never forget what happened on the fateful day of 16th December 2014. When we saw images of young children, all pale and drenched in blood, with an anguished soul we committed to never forgive the perpetrators behind this dreadful act. We saw mothers bellowing in agony over coffins of their young sons and we promised that we would stand against the terrorists who stole our future from us. We vowed, we committed, we promised to never forget and less than 2 months later, we have forgotten, we have moved on and we have gone back into our favorite mood, Denial.

We ignore what doesn’t affect us or rather we think it doesn’t. We remain oblivious to a calamity, switch the TV channel and pretend nothing has happened. We are suffering from a self-imposed short term memory loss as we are too stonehearted now and turning our faces away is easier than facing what this country is becoming.

Over 60 Shias lost their lives in a suicide attack on 30th January 2015 while they had gathered in Karbala Maula Imam Bargah in Shikarpur for Friday prayers. Fathers, brothers, sons, grandsons, grandfathers, so many relations wiped out of existence in a matter of seconds.

And how did the people of this land of pure react? By staying silent. A deafening aching silence has been observed by the citizens of this country. Why? Are the Shias not human enough? Is the loss of their lives not a loss? Are the shattered families not real enough? Is their blood less red than ours? Or are they not ‘Muslim’ enough?

This is exactly why Jundallah, who has conveniently claimed the barbarity, carried this attack. For them the people who believe in the Oneness of the Almighty, accept Quran as their sacred book, Prophet PBUH as the Creator’s messenger and Hazrat Ali as Ameer-ul-Momineen, Commander of the faithful, are not religious enough. How can loving Hazrat Ali be a sin? Remember how Prophet PBUH proclaimed loudly and proudly: “Mann Kunto Maula, Fa Haza Ali un-Maula: Whoever accepts me as a master, Ali is his master too.”

How can murdering the devotees of Ali be a religious act? How can murdering anyone be religious? Have we gone blind or have we closed our eyes to what Shias are going through in Pakistan? In fact, what all minorities are facing in this withering state? Why are we comfortable in sitting at home and not protesting on the roads for our fellow citizens?

Or are we still in a delusional state of mind that everything wrong that happens in our country is a conspiracy of the west or our neighbors to weaken us? How long are we going to keep pointing fingers and forgetting that the enemy is indeed one of us? And when we don’t condemn or raise our voices against the enemy, we are in fact supporting them.

We came out in thousands whenever any political leader called out for a jalsa or a sit in. Even if half of those people had the audacity to come out to show solidarity for the lives lost in Shikarpur, our Shia brethren would’ve slept a little in peace.

How many Joseph colonies can we afford to see get burnt? How many Ahmadis will have to be massacred in their mosques? How many Shamas and Sajjads will have to be burnt alive in the kiln? How many dead bodies do we need to see on Alamdar Road to wake up this sleeping nation?

We came out in thousands whenever any political leader called out for a jalsa or a sit in. Even if half of those people had the audacity to come out to show solidarity for the lives lost in Shikarpur, our Shia brethren would’ve slept a little in peace. But we didn’t. We stayed at home. We stayed in our comfort zones. We moved on with our lives. Because why should we protest? Why should we be out on the roads? They were Shias after all; they were not one of our own!