Categories
نان فکشن

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قرآن

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان قرآن کے کچھ حصوں اور آیات کو لے کر کافی اختلاف تھا۔ حضرت عمر کے نزدیک حضرت ابی بن کعب کچھ ایسی آیات کو قرآن سمجھتے تھے جو کے منسوخ ہو چکی تھیں جبکہ حضرت ابی بن کعب کے نزدیک حضرت عمر کچھ ایسی آیات کو منسوخ سمجھ کر چھوڑ چکے تھے جو ان کے نزدیک قرآن کا ہی حصہ تھیں۔

اس بات کی تفصیل تو آگے آ رہی ہے لیکن یہ بیان کرنے سے پہلے یہ بات یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مشہور صحابی رسول حضرت ابی بن کعب ان چار جلیل القدر بزرگ صحابہ کرام میں سے ایک ہیں، جن سے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سیکھنے و حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔ دیکھئے صحیح بخاری (رقم 4999)۔ نیز ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے کہ خود اللہ نے حضرت ابی بن کعب کا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے سامنے قرآن پڑھیں۔ دیکھئے صحیح مسلم (رقم 6342 دارالسلام)

1) اس تمہید کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت دیکھئے کہ کہتے ہیں: “حضرت عمر نے فرمایا: ابی بن کعب ہم میں سب سے بڑے قاری (قرآن) ہیں لیکن حضرت ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مَیں نے تو قرآن مجید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سُنا ہے، اس لئے مَیں تو اسے کسی کے کہنے پر چھوڑنے والا نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: “ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلاتے ہیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں۔” (صحیح بخاری: رقم 5005)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر خود بھی حضرت ابی بن کعب کو قرآن کا سب سے بڑا قاری مانتے تھے لیکن ان کے نظریہ کے مطابق حضرت ابی بن کعب قرآن کے کچھ حصوں اور آیات کو مانتے میں غلطی پر تھے جو منسوخ تھیں اور اسی طرح اگر حضرت ابی بن کعب کے نظریہ کے مطابق دیکھا جائے تو حضرت عمر قرآن کے کچھ ایسے حصوں اور آیات کو تسلیم نہیں کرتے تھے جو حضرت ابی بن کعب کے مطابق قرآن میں شامل تھیں۔ قرآن کے ان تمام حصوں کے بارے میں مکمل تفصیل تو نہیں ملتی جن پر ان دونوں جلیل القدر اصحاب کا اختلاف تھا لیکن دیگر روایات سے اس اختلاف کے کچھ دیگر حقائق ضرور سامنے آتے ہیں۔

2) چنانچہ تابعی ذر سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے ان سے پوچھا: تم سورۃ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ (مَیں نے) کہا: ستر سے کچھ زائد آیات۔ انہوں نے کہا: مَیں نے اسے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا تو یہ سورۃ بقرۃ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی۔
(مسند احمد: رقم 21525، 21526 / صحیح ابن حبان: رقم 4428 / مستدرک حاکم: رقم 3554)

3) سورۃ بقرۃ کے برابر سورۃ احزاب کی آیات کا تو آج کسی کو علم نہیں لیکن رجم کی آیت کے بارے تو خود حضرت عمر کو بھی تسلیم تھا کہ “بلاشبہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور اپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا۔۔۔۔” (صحیح مسلم: رقم 4418 دارالسلام)

4) اس کے باوجود یہ آیت یا ایسی دیگر کچھ آیات مصحف میں کیوں نہ شامل کی گئیں؟ کثیر بن صلت روایت کرتے ہیں: “حضرت ابن عاص اور حضرت زید بن ثابت مصحف لکھتے تھے۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید نے کہا: مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ یہ آیت بھی پڑھتے تھے (حضرت زید نے آیت رجم پڑھی)۔ حضرت عمر کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔۔۔۔”
(مسند احمد: رقم 21932 / مستدرک حاکم: رقم 8071)

اس روایت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آیت رجم یا ایسی ہی کچھ دیگر آیات جن پر صحابہ کرام میں اختلاف تھا، محض اسی لئے بھی مصحف میں شامل نہ ہو سکیں کہ حضرت عمر یا کسی اور صحابی نے یہ تاثر لیا یا محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ آیت لکھوانا پسند نہ کیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت جیسے جلیل القدر صحابہ کی گواہیوں کے باوجود وہ آیات منسوخ قرار دے کر مصحف قرآن میں شامل نہ کی گئیں۔

5) حضرت ابن عباس سے روایت ہے: “اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: “لو کان لابن آدم وادیان من ذھب لا بتغی الثالث، ولا یملا جوف ابن ادم الا التراب و یتوب اللہ علی من تاب” حضرت عمر نے کہا: یہ کیا ہے؟ مَیں نے کہا: جی حضرت ابی بن کعب نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر حضرت عمر ہمارے پاس سے گزرے اور حضرت ابی کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے ہی یہ آیات پڑھائی تھیں۔ حضرت عمر نے کہا: تو پھر کیا مَیں ان کو برقرار رکھوں؟ پس پھر انہوں ان کو برقرار رکھا۔”
(الفتح الربانی فی ترتیب مسند احمد، رقم 8459 / مسند احمد: رقم 21428)

نوٹ: صحابی رسول حضرت زید بن ارقم نے بھی ایسی ہی آیات کے بارے گواہی دے رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پڑھی جاتی تھی۔ دیکھئے الفتح الربانی فی ترتیب مسند احمد: رقم 8458، مسند احمد: رقم 19495)

حضرت ابن عباس کی درج بالا روایت سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عمر جیسے جید و بزرگ صحابی تک کو کچھ آیات کا بالکل ہی علم نہ تھا کہ یہ کیا ہیں؟ جبکہ دیگر صحابہ انہیں قرآنی آیات مانتے تھے۔ ایسے میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابی بن کعب کی ہی گواہی پر حضرت عمر نے ان آیات کو تسلیم بھی کیا اور اسے قرآن کا حصہ خود بھی مان کر برقرار و ثابت رکھا لیکن حیران کُن طور پر یہ آیات بھی آج قرآن میں موجود نہیں.

6) حضرت عمر بن خطاب ایک بچے کے پاس سے گزرے، وہ مصحف (قرآن) میں پڑھ رہا تھا: ({النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم} وهو أب لهم)
بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں اور وہ (نبی) تمھارے باپ ہیں۔ (اس پر حضرت عمر نے) کہا: اے بچے! اس کو مٹا دو۔ اس نے کہا: یہ مصحف ابی (بن کعب) ہے تو وہ حضرت ابی کی طرف گئے اور ان سے اس (آیت کے) بارے پوچھا تو انہوں نے کہا: قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے اور تمھیں بازار کا شور و غل (یعنی خرید و فروخت)۔
(سنن کبریٰ للبیہقی: ج7 ص110، رقم 13419 / تاریخ المدینہ المنورۃ لابن شبۃ: رقم 1171)

اس روایت سے تو پتا چلتا ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے مصحب میں قرآن کی موجودہ آیات سے بھی کچھ زائد الفاظ موجود تھے، جنہیں حضرت عمر درست نہ جانتے تھے یا علم نہ رکھتے تھے اور مٹانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر کے استفسار پر حضرت ابی بن کعب نے صاف جواب یہی دیا کہ آپ نہیں جانتے ہوں گے کہ آپ کو تجارت و بازار مشغول رکھتا تھا جب کہ ان کی مشغولیت صرف قرآن سے تھی۔اس کے علاوہ اور بھی کئی مواقع پر ملتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان قرآن کی آیات کو لے کر اختلاف و تلخی کا معاملہ رہا۔

6) چنانچہ ایک ایسے ہی موقع پر قرآنی آیات پر حضرت ابی بن کعب کے گواہی دینے پر حضرت عمر نے فرمایا: “اے ابی! تم کس بنا پر لوگوں کو مایوس کئے جا رہے ہو؟ حضرت ابی نے کہا: اے امیرالمومنین! مَیں نے جوانی اور صحت کے دنوں میں حضرت جبرائیل امین کی جانب سے (اترا) قرآن سیکھا ہے (یعنی میرا قرآن پڑھنا غلط نہیں ہو سکتا)۔ حضرت عمر بولے: تُو احسان ماننے والا نہیں اور مَیں صبر کرنے والا نہیں۔ یہ بات تین دفعہ بولی اور وہاں سے چلے آئے۔”
(مستدرک حاکم: رقم 2890)

7) سورۃ فتح کی آیت (26) کے بارے بھی خود حضرت ابی بن کعب سے روایت موجود ہے کہ وہ اس کے درمیان الفاظ (وَلَوْ حَمَيْتُمْ، كَمَا حَمُوا، لَفَسَدَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ) تلاوت کیا کرتے تھے جو ہمارے پاس موجود مصاحف میں بھی آج موجود نہیں۔ یہ بات حضرت عمر کو پہنچی تو وہ اس بات پر شدید برہم ہوئے۔۔۔۔

پھر حضرت عمر خود ان کے پاس چلے آئے اور ان کے کچھ ساتھیوں کو بھی بلوایا، ان میں حضرت زید بن ثابت بھی تھے۔ حضرت عمر بولے تم میں سے کون سورۃ فتح پڑھے گا؟ تو حضرت زید ہمارے (یعنی حضرت ابی بن کعب کے) طریقے کے مطابق ہی قرات کی، اس پر حضرت عمر ان پر بھی ناراض ہوئے۔ حضرت ابی بن کعب نے حضرت عمر سے کہا: مَیں کچھ بولوں؟ آپ نے کہا کہ بولو۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا: یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب بیٹھا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قرآن سنایا کرتے تھے جبکہ آپ لوگ اس وقت دروازے پر ہوتے تھے۔ اب (بھی) اگر آپ کہتے ہیں کہ مَیں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے، اسی طرح لوگوں کو سناتا رہوں تو مَیں سناتا رہوں گا اور اگر آپ نہیں چاہتے تو مَیں ساری زندگی ایک حرف زبان سے نہ نکالوں گا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ لوگوں کو قرآن سناتے رہیں۔
(مستدرک حاکم: رقم 2891)

حضرت ابی بن کعب کی زندگی کے آخری ایام کے بارے حضرت جندب کی روایت ہے جس میں ان جلیل القدر بزرگ صحابی کی خستہ حالت پر روشنی پڑتی ہے۔ حضرت جندب حضرت ابی بن کعب کے بارے فرماتے ہیں:

“دو کپڑوں میں ملبوس ایک لاغر سا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ مَیں نے ان سے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ لوگوں کے سردار حضرت ابی بن کعب ہیں۔۔۔۔۔ ان کے پیچھے ان کے گھر تک پہنچا تو بہت خستہ حالت تھی، لباس بھی کوئی خاص نہ تھا اور ان کی اپنی حالت بھی پراگندہ تھی۔۔۔۔ (کچھ گفتگو کے بعد) حضرت ابی بن کعب بولے: میرا تیرے ساتھ وعدہ ہے کہ اگر اس جمعہ تک میری زندگی رہی تو مَیں تمھین ایسی بات بتاؤں گا جو مَیں نے خود رسول اللہ سے سُنی ہے اور اس سلسلے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا۔ (حضرت جندب) کہتے ہیں: مَیں واپس آ گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔ جب جمعرات آئی تو مَیں اپنے ایک ضروری کام سے باہر نکلا تو تمام گلیوں بازاروں میں بہت رش تھا۔ مَیں جس گلی میں بھی گیا وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ملی۔ مَیں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ۔۔۔۔۔ لوگوں نے بتایا: سید المسلمین حضرت ابی بن کعب وفات پا گئے ہیں۔”
(مستدرک حاکم: رقم 2892)

Categories
نقطۂ نظر

صحابہ کرام کی گستاخی پر صحابہ کرام کا اسوہ

[blockquote style=”3″]

مسلمانوں کا اپنے مذہب سے بدقسمتی سے علمی تعلق نہیں رہا۔ زیادہ تر مسلمان اپنے مذہب کے بنیادی ماخذ پڑھے بغیر مذہبی عقائد کو اپنا لیتے ہیں۔ یہ رویہ مسلمانوں میں مذہبی معاملات پر علمی مباحث کے فقدان اور شدت پسندی کی اہم ترین وجہ ہے۔ یہ مضمون صحابہ کرام کی توہین جیسے متنازع معاملے پر ایک علمی کاوش ہے۔ اس مضمون کے مندرجات محض ایک علمی موقف بیان کرنے کے لیے ہیں، کسی بھی فرقے یا مقدس ہستی کی توہین مقصود نہیں۔

[/blockquote]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ صحابہ کرام کی گستاخی و توہین حرام اور ممنوع ہے۔ اس بارے میں احکامات اتنے واضح اور مشہور ہیں کہ ہر مسلمان ان سے واقف ہے۔مگر جس طرح دیگر اسلامی احکامات میں کمی بیشی کی وجہ سے انسان گناہوں کا مرتکب ہو سکتا ہے، اسی طرح بہت ممکن ہے کہ صحابہ کرام کے خلاف بھی زبان سے کچھ نازیبا کلمات ادا ہو جائیں۔ ایسے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے، اس بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ایک گروہ تو وہ ہے جو شاید صحابہ کرام کو گالیاں نکالنا ہی اپنا ایمان سمجھتا ہے تو دوسری طرف حال یہ ہے کہ صحابہ کرام کے حالات و واقعات پر بات کرنا یا ان میں سے کسی کے بارے معتبر ترین کتب میں موجود بات بیان کرنے کو ہی قابل گردن زدنی سمجھا جاتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صحابہ کرام کے نام لیوا اس مسئلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ و برتاؤ کو قبول نہیں کرتے بلکہ بعد والوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں جو خود دیگر احادیث اور طریق صحابہ کے خلاف ہے۔

 

سب سے پہلے تو یہ بات خوب سمجھ لی جانی چاہئے کہ جو دین یہ اصول دیتا ہو کہ “اگر فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے” وہ کسی جرم یا گناہ میں صرف اس لئے کسی کو چھوڑ دے کہ وہ صحابی ہے، سراسر دین اسلام پر بہتان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور صحابہ میں جب بھی کسی سے کوئی جرم ہوا تو اس کی پوری سزا نافذ کی گئی۔ کوڑے بھی مارے گئے، رجم بھی کیا گیا، دیگر سزائیں بھی دی گئیں۔ “میرے کسی صحابی کو بُرا نہ کہو” کا یہ مفہوم کہاں سے نکل آیا کہ دینی و دنیاوی احکامات میں ان کے اعمال کا حساب نہیں لیا جائے گا۔ خوامخواہ بُرا کہنا تو کسی کو بھی غلط ہے لیکن اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ اگر کوئی گناہ یا جرم کسی سے ہوا ہے تو اس کو بیان نہ کیا جائے؟ ایسے تو پھر کبھی کسی صحابی کے خلاف نہ کوئی گواہی دیتا نہ ان پر کوئی سزا ہوتی بلکہ سب کو یہ کہہ کر بری کر دیا جاتا کہ یہ صحابہ ہیں ان کو کچھ نہ کہو۔ اللہ کے ہاں ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہے کہ کون اجر ایک پاتا ہے یا دو لیکن ہر معاملے میں جب ان کو اسوہ مانا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ دنیاوی معاملات میں ان کا ہر صحیح ہر غلط بھی واضح ہو ورنہ غلط کی پیروی بھی دلیل بن جائے، جو ہرگز دین اسلام کا اصول نہیں مانا جا سکتا۔ دوسرا اگر صحابہ کرام کے احوال چاہے کیسے بھی ہوں بیان کرنا جرم ہوتا تو معتبر ترین اسلامی کتب کے لکھنے والے بڑے بڑے آئمہ و محدثین پر اس کی فرد سب سے پہلے عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ سب جمع کر رکھا ہے۔

 

اس تحریر میں دلائل کے ساتھ یہ بیان کرنے کی کوشش ہو گی کہ صحابہ کی گستاخی و توہین سخت حرام ہی سہی لیکن اگر کوئی اس کا مرتکب ہو تو اسوہ صحابہ اس میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے، جس پر چلنے کے ہم دعویدار ہیں۔

 

آئیے ایک نظر دیکھتے ہیں کہ مختلف واقعات میں صحابہ کرام کے خلاف سخت زبان اور گستاخانہ لب و لہجہ اختیار کرنے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خصوصاً خود صحابہ کرام کا اسوہ و رویہ کیا رہا:

 

(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کثیر صحابہ کے سامنے ایک معاملے پر اختلاف کی وجہ سے حضرت اسید بن حضیر نے حضرت سعد بن عبادہ کو مخاطب کر کے کہا: “اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم منافقوں کا کردار ادا کرتے ہو اور ان کے دفاع میں زور بیان صرف کرتے ہو۔” اس معاملے پر انصار صحابہ کے دو گروہ آپس میں بھڑک اٹھے اور قریب تھا کہ لڑ پڑتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کرواتے رہے حتیٰ کہ وہ چپ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ دیکھئے صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4141)

 

(2) حضرت ابو ہریرہ نے خیبر کی غنیمت تقسیم ہوتے وقت حضرت ابان بن سعید کے لئے کہا: اے اللہ کے رسول! انہیں (غنیمت کا مال) مت دیجئے۔ اس پر حضرت ابان نے حضرت ابوہریرہ کے لئے کہا: “او بلے نما جانور! تم یہ (کیا) کہہ رہے ہو اور (کہاں سے) ہمارے پاس ضال (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر آئے ہو۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شدید الفاظ کے باوجود ان سے صرف اتنا فرمایا: ابان بیٹھ جاؤ۔
(سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فیمن جاء بعد الغنیمۃ لا سہم لہ، حدیث 2723)

 

(3) ایک معاملے میں حضرت ابی بن کعب نے خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہا: “آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر عذاب نہ بنیں۔” حضرت عمر نے اپنے معاملے کی توجیہہ ضرور دی لیکن ان سخت الفاظ پر غصہ ہرگز نہ کیا۔
(صحیح مسلم، کتاب الاداب، باب الاستیذان، حدیث 5633)

 

(4) حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ایک اختلاف کے حوالے سے کہا: “میرے اور اس جھوٹے، گناہگار، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں۔”
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب حکم الفی، حدیث 4577)

 

اسی حدیث میں موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے کہا: “تم نے انہیں جھوٹا، گناہگار، عہد شکن اور خائن خیال کیا تھا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک، راست رو اور حق کے پیروکار تھے۔” پھر اپنے حوالے سے بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ان سے کہا: “پھر ابوبکر فوت ہوئے اور مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کا جانشین بنا تو تم نے مجھے جھوٹا، گناہگار، عہد شکن اور خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ مَیں سچا، نیک، راست رو اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔”
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے بارے اس گمان اور ان الزامات کی کوئی تردید نہ کی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح مسلم (کتاب الجہاد و السیر، باب حکم الفی، حدیث 4577)

 

(5) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے واقعہ افک کی وجہ سے ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن حضرت حمنہ کے لئے کہا: “حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئیں۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4141)

 

(6) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دورِ صحابہ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے بارے فرمایا: “وہ عورت اسلام میں (داخل ہونے کے باوجود) علانیہ بُرائی (زنا)کرتی تھی۔”
(صحیح مسلم، کتاب اللعان، حدیث 3758)

 

(7) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کے موقع پر اپنی بہن ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان کے گھر میں کہا: آپ نے دیکھا! لوگوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے تو حکومت کا کچھ حصہ نہیں ملا۔ اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں لوگوں میں بھیجا کہ ان کے رکنے سے اور اختلاف ہو گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت ہو جانے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: “اس موضوع پر جس نے ہم سے بات کرنی ہے وہ اپنا سر اٹھائے، یقیناً ہم اس سے اور اس کے باپ سے خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔”

 

حضرت حبیب بن مسلمہ نے حضرت ابن عمر سے کہا: اس وقت آپ نے اس بات کا جواب کیوں نہ دیا؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ انہوں نے تو جواب دینے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ انہیں جواب میں کہا جائے: “خلافت کا تم سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جس نے تم سے اور تمھارے باپ سے اسلام کی سربلندی کے لئے جنگ لڑی تھی۔ مگر مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا میری اس بات سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف بڑھ جائے اور خونریزی ہو جائے اور میری طرف ایسی باتیں منسوب ہو جائیں جو میں نے کہی نہ ہوں۔ نیز مجھے وہ اجر و ثواب یاد آیا جو صبر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔” حضرت حبیب نے یہ سب سُن کر کہا: اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور فتنوں سے بچ گئے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔۔، حدیث 4108)

 

(8) حضرت ابن عباس نے ایک اختلاف کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن زبیر کے بارے میں کہا: “معاذ اللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں ہی لکھ دیا ہے کہ حرم پاک کی بے حرمتی کریں”
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث 4665)

 

(9) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا اور کہا “آپ کو کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (حضرت علی) کو بُرا بھلا کہیں۔” اس کے جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنے، حضرت علی کے فضائل بیان کئے اور انہی فضائل کی وجہ سے حضرت علی کو بُرا کہنے سے انکار کیا۔ دیکھئے صحیح مسلم (کتاب فضائل صحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6220)

 

(10) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شاگرد تابعی عروہ بیان کرتے ہیں: “مَیں نے حضرت حسان بن ثابت کو بُرا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ کے متعلق بہت کچھ کہا کرتے تھے۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4145)

 

اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دوسرے شاگرد تابعی مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قرآن کی آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے عذابِ عظیم کا مستحق قرار دیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تردید کرنے کی بجائے فرمایا: “اس سے سخت عذاب اور کیا ہو گا کہ وہ دنیا میں اندھا ہو گیا ہے۔” مگر اپنے ان شاگردوں کے سامنے وہ حضرت حسان بن ثابت کی یہ تعریف بھی ضرور کرتی تھیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع اور حمایت کرتے تھے۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، حدیث 4146)

 

(11)مدینہ منورہ میں آل مروان سے جو شخص عامل بنایا گیا، اس کا حال یہ تھا کہ صحابی رسول سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور حکم دیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دیں۔ حضرت سہل نے انکار کیا تو اس نے کہا: “اگر تم اس سے انکار کرتے ہو تو کہو: اللہ ابو تراب (حضرت علی) پر لعنت کرے۔” حضرت سہل بن سعد نے اس قدر شدید توہین کے باوجود اشتعال میں آئے بغیر جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت والی حدیث سُنا دی۔
(صحیح مسلم، کتاب فضائل صحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، حدیث 6229)

 

(12)حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس کوفہ کا ایک شخص آیا اور کسی کو شدید بُرا بھلا کہنے لگا۔ حضرت سعید بن زید بھی وہاں موجود تھے انہوں نے پوچھا: اے مغیرہ! یہ کسے بُرا بھلا کہہ رہا ہے؟ حضرت مغیرہ نے کہا: یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ حضرت سعید بن زید نے اس پر حضرت مغیرہ کا تین دفعہ نام لے کر کہا: “کیا مَیں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔” اس کے بعد حضرت سعید بن زید نے حضرت علی کی دیگر صحابہ کے ساتھ جنتی ہونے کی بشارت والی حدیث بیان کی۔
(الفتح الربانی فی ترتیب مسند احمد، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل العشرۃ المبشرین۔۔۔۔، حدیث 11591)

 

(13) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مروان کو حجاز کا گورنر بنایا۔ اس نے ایک موقع پر خطبہ دیا اور یزید بن معاویہ کا بار بار تذکرہ کیا تاکہ اس کے والد (حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے بعد اس سے لوگ بیعت کریں۔ اس پر صحابی رسول حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعتراض کیا تو مروان نے کہا: انہیں پکڑ لو۔ حضرت عبدالرحمٰن اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلے گئے تو لوگ انہیں پکڑ نہ سکے۔ اس پر مروان نے قرآن کی ایک مذمت والی آیت کا مصداق حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ٹھہرا دیا۔ اس پر حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا: ہمارے بارے میں تو اللہ نے (مذمت کی) آیت کوئی نازل نہیں کی، ہاں میری تہمت سے براءت والی آیات ضرور نازل ہوئی تھیں۔
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث 4827)

 

(14)حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام (حکمران) کی اطاعت کرنے والی حدیث بیان کی تو ان کے شاگرد تابعی عبدالرحمان بن عبدالرب الکعبہ نے کہا: “یہ جو آپ کے چچا ذاد معاویہ ہیں وہ تو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں۔۔۔۔” حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے یہ سننے پر پہلے تو گھڑی بھر خاموش رہے اور پھر کوئی تردید کرنے کی بجائے صرف یہ کہا: “اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔”
(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفاء۔۔۔۔، حدیث 4776)

 

صحابہ کرام کے درمیان پیش آنے والے ان واقعات کو بار بار پڑھئے بلکہ جو احباب شوق رکھتے ہیں، وہ اصلی کتب سے ان واقعات کو مکمل ملاحظہ کریں۔ ان پر تبصرہ اور اسوہ صحابہ میں اس حوالے سے ہماری رہنمائی کے نکات اگلی نشست میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

 

ان حوالہ جات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ خود صحابہ کرام نے اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے پر شدید تیز و تند تنقید کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس طرح کا جب معاملہ آیا آپ نے فریقین کو خاموش تو ضرور کروایا لیکن اگر اختلاف کی وجہ حالات و واقعات کی سنگینی تھی تو کسی کو بھی شدید تنبیہ تک نہ کی گئی۔

 

اسی طرح صحابہ کرام نے آپس میں فروعی و سیاسی اختلافات کی بنا پر سخت ترین جملوں میں ایک دوسرے کی مذمت کی۔ جو سامنے کر سکتے تھے انہوں نے سامنے ہی مذمت کی اور جو کسی فتنے کی وجہ سے سامنے مذمت نہ کر سکتے تھے، انہوں نے علیحدہ ضرور اپنے نزدیک ہونے والی ناانصافی اور غلط طرز عمل پر شدید احتجاج کیا چاہے سامنے کوئی صحابی ہی کیوں نہ ہو۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی صحابی کسی گناہ میں ملوث تھا تو بھی اس کی نشاندہی کی گئی اور یہ لحاظ نہیں کیا گیا کہ صرف شرفِ صحابیت کی وجہ سے اس سے صرفِ نظر کیا گیا ہو۔

 

صحابہ کرام پر تنقید اور مذمت کا معاملہ صرف صحابہ تک ہی نہیں رہا بلکہ بعد والے تابعین کی جانب سے بھی ان کے نزدیک صحابہ کرام کے غلط اور خلاف اسلام معاملات پرکُھلی اور شدید تنقید ہوئی لیکن کسی نے اس بات کو ان کے ایمان کی بربادی قرار نہیں دیا۔ پھر بعد میں آنے والوں کی جانب سے تو صحابہ کرام کے سامنے کئی اصحاب رسول کو گالیاں تک دی گئیں، لعنت بھیجی گئی لیکن صحابہ کرام نے خاموشی اختیار کی یا ان کی فضیلت بیان کر دی۔ یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ صحابہ کرام پر ایسی ناروا تنقید ہونے پر خود ان کی جانب سے کسی اشتعال کا مظاہرہ کیا گیا ہو یا انہیں دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے دیے گئے ہوں۔

 

ہمارے ہاں افسوس کی بات ہے کہ صحابہ کرام کو معیار ماننے کا دعویٰ کرنے والے بھی اس معاملے میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ اس معاملے میں فتوے بازیوں کا ذہن رکھنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی دوسروں کو ایسے معاملات کی وجہ سے گمراہ و کافر قرار دینے کی ذد سب سے پہلے کن کن ہستیوں کے خلاف جا پڑتی ہے۔