Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی

پچھلے تین ہفتے سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ ک دوسرا حصہ اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ آج لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلا جائے گا جس میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔ تماشائیوں کی دلچسپی اور ڈینی موریسن جیسے کمینٹیٹر کے ہونے سے پی ایس ایل کا مزہ دوبالہ ہوا۔ اس ایڈیشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حسبِ وعدہ اس سال فائنل پاکستان کے شہر لاہور میں کرا رہا ہے ۔ یہ اقدام پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے ایک خوش آئند قدم ہے۔

 

لاہور میں فائنل منعقد کرانے کےلیے حکومت اور پی سی بی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ابھی باقی ہیں۔ سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود پی سی بی داد کا مستحق ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی وہ پاکستانی عوام کےلیے کرکٹ واپس لانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بہت سے سیاسی رہنما بشمول عمران خان، آصف علی زرداری اور عوام کی قابلِ ذکر تعداد پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس امید پر پی سی بی کی حمایت کررہے ہیں کہ شاید اس سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔ جس تیزی سے فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوئی ہیں اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کرکٹ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صرف زمبابوے اور افغانستان کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ 2012 میں دو ٹی ٹوینٹی میچز کےلیے کچھ بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑیوں نے سنتھ جے سوریا کی قیادت میں ورلڈ الیون کے نام سے پاکستان کے شہر کراچی کا دورہ کیا جن میں ساوتھ افریقن فاسٹ باولر اینڈرے نیل اور افغانستان کے بلے باز شہزاد قابل ذکر ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور پاکستان اپنی تمام تر ہوم میچز متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں کھیلتا رہا ہے۔ اگر اگلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے کچھ اور میچز پاکستان میں کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے پر راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو عین ممکن ہے کہ جلد بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

 

اس سال کی پاکستان سپر لیگ میں بھی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن لاہورقلندرز کی بدقسمتی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔کراچی کی کارکردگی گزشہ برس سے بہتر رہی۔ اس سال بھی گروپ میچز میں کوئٹہ اور پشاور کی ٹیمیں پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود رہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کراچی اور اسلام آباد کی ٹیمیں موجود تھیں اور لاہور ایک بار پھر پلے آف تک پہنچنے میں ناکام ہوا۔ پلے آف کا پہلا میچ پشاور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا جس میں چھکوں اور چوکوں کی بارش ہوئی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ نے پچھلے سال کی طرح پشاور کو صرف ایک رن سے شکست دےدی اور پی ایس ایل ٹو کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بنی۔ دوسرے پلے آف میں کراچی کا مقابلہ پچھلے سال کی فاتح ٹیم اسلام آباد سے ہوا جس میں کراچی ٹیم کی بہترین بالنگ کی وجہ سے اسلام آباد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ناک آوٹ میچ میں کراچی اور پشاور کی ٹیموں کا مقابلہ ہوا جس میں کامران اکمل نے پشاور کی طرف سے کھیلتے ہوئے پی ایس ایل کی تاریخ کا دوسرا اور اس ایڈیشن کا پہلا سو اسکور کیا۔ اس سو کی بدولت کامران اکمل اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والا بلے باز بن چکے ہیں۔ پشاور کی جارحانہ بیٹنگ کے جواب میں کراچی کے اننگز کی شروعات بہت ہی سست تھی لیکن بعد میں کرس گیل اور کیرن پولارڈ کی بیٹنگ سے یہ لگتا تھا کہ کراچی کی ٹیم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن وہاب ریاض کی بہترین بالنگ کی بدولت کیرن پولارڈ نصف سنچری بنانے سے پہلے ہی آوٹ ہوگئے اور ساتھ ہی کراچی کی تمام امیدیں اپنے ساتھ لے کر پویلین کی طرف لوٹ گئے اور یوں پشاور فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

 

اگر کوئٹہ اور پشاور کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ جیت چکی ہیں ۔ اس سال کا ان کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوا۔ دونوں ٹیموں نے چار چار میچوں میں کامیابی حاصل کی اور دونوں کے گروپ اسٹیج میں نو (9) پوائنٹس تھے۔ البتہ پلے آف میں کوئٹہ نے پشاور کو شکست دی جس کی وجہ سے کوئٹہ ٹیم کے حوصلے بلند دکھائی دیتے ہیں۔ مگر کوئٹہ ٹیم کو سب سے بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور آنے سے انکارکیا۔ کوئٹہ ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کوئٹہ ٹیم کو ان کی شدید کمی محسوس ہوگی۔ کوئٹہ کی ٹیم انگلش گیند باز ٹیمل ملز کی خدمت سے محروم ہوگی جو مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو زیر کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئٹہ ٹیم نے ان کی جگہ پانچ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے لیکن بنگلہ دیش کے انعام الحق، ساوتھ افریقہ کے وین وائیک ، زمبابوے کے الٹن چیگمبورا اور شین اروائن کا موازنہ پیٹرسن، رائٹ، روسو اور ملز سے ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ ان چار نئے کھلاڑیوں میں وین وائیک وہ واحد کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں جو شاید ایک جارحانہ بلے باز کی حیثیت سے کوئٹہ کو فتح دلا سکیں۔ کوئٹہ کے لیے سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ سر ویوین رچرڈز جو ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لاہور میں ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ ویوین رچرڈز کی موجودگی اور سرفراز کی قائدانہ صلاحیت کوئٹہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئےاہم ہے۔
پشاور زلمی کو اگر دیکھا جائے تو کامران اکمل، وہاب ریاض، محمد حفیظ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہونے سے پشاور کو اس سال کا چیمپین بننے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب تک کے اطلاعات کے مطابق پشاور ٹیم کے تین غیر ملکی کھلاڑی لاہور آنے کے لئے راضی ہو چکے ہیں جن میں دو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے والے ڈیرن سیمی پشاور کی قیادت کریں گے۔ ڈیوڈ مالان اور مارلن سیموئیلز بھی لاہور آنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ پشاور کے لئے بری خبر یہ ہے کہ بوم بوم آفریدی زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل پائیں گے۔ آفریدی شاید میدان میں اتنی بہتر کارکردگی نہ دکھا پاتے مگر ٹیم میں ان کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تماشائی بھی آفریدی کو دیکھنے کے لئے کافی زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔

 

بحیثیت کوئٹہ کے رہائشی کے میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی حمایت کررہا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ اس بار کوئٹہ ہی پی ایس ایل کا چیمپین بنے کیونکہ دونوں ایڈیشن میں تسلسل سے کوئٹہ کی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے مگر پشاور کے ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کوئٹہ کو جیتنے کے لئے کافی زیادہ محنت اور قسمت آزمائی کرنی پڑے گی۔ جیت چاہے کسی کے بھی نصیب میں ہو خوشی کی بات یہ ہے کہ کافی عرصے بعد پاکستانی عوام کو پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ میں اس موقع پر دعا گو ہوں کہ فائنل میچ بغیر کسی سانحے کے کھیلا جائے اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام ہوں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنےتھے۔
پچھلے کئی دنوں سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ اس لیگ کا انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کیا گیا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس لیگ میں کل پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ لیگ میچز کے اختتام تک سب سے بہتر اور مستقل کارکردگی کا مظاہرہ جس ٹیم نے کیا ہے وہ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ہے۔ ٹیم کی حیران کن کارکردگی سے نہ صرف لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے کوئٹہ شہر کو بھی پہلی بار اس بڑے پیمانے پر خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن کوئٹہ کی ٹیم اور لیگ کو سراہنے والوں کے ساتھ ساتھ ٹیم اور لیگ کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اعتراض کرنے والوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔

 

کوئٹہ شہر، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ کوئٹہ میں رہنے والوں کا تعلق زیادہ تر پشتون، بلوچ اور ہزارہ برادری سے ہے۔ کوئٹہ بہترین پھلوں کی پیداوار کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے لیکن پچھلی دو دہائیوں سے کوئٹہ صرف اور صرف دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے خبروں کی زینت بن رہا ہے۔ یوں تو کوئٹہ نے کئی مایہ ناز سپوت پیدا کیے ہیں جن میں ابرار حسین باکسر (ایشین گولڈ میڈلسٹ)، کوہ پیما ہدایت اللہ خان درانی، سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد موسیٰ، چیف جسٹس افتخار چوہدری، فلائٹ لیفٹنٹ صمد علی چنگیزی (ستارہ جرات) ناول نگار اور ہدایتکار ہاشم ندیم، شاعر محسن چنگیزی (تمغہِ امتیاز) اور فنکاروں میں جمال شاہ، ایوب کھوسہ، عذرا آفتاب اور حمید شیخ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ مگر کرکٹ کے کھیل سے اس شہر کا تعلق اتنا گہرا نہیں ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اب تک کوئی کرکٹر اس شہر سے منظرِ عام پر نہیں آیا ہے۔ آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنے تھے۔ اس میچ کو اس لئے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ اس میچ میں دنیا کے سب سے کم عمر (متنازعہ طور پر) کرکٹر حسن رضا نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔ پاکستان سوپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مسلسل کامیابی کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے غیر متوقع طور پر کوئٹہ کا نام اچھی اور خوش کن خبروں کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں آ رہا ہے۔ پچھلے میچ میں بسم اللہ خان (جن کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے) کی شاندار بلے بازی سے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئٹہ میں کرکٹ کی جانب رحجان میں مزید اضافہ ہونے والا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

 

دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔
پاکستان سوپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ کی طرح بارونق اور بیگ بیش لیگ کی طرح تماشائیوں سے چکا چک بھری ہوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود کرکٹ کے شائقین بڑی تعداد میں ان میچوں کو دیکھ رہے ہیں۔ لیگ پر سب سے پہلا اعتراض (جس کا نشانہ زیادہ تر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو بنایا گیا ہے) یہ ہے کہ ٹیم حقیقی معنوں میں اپنے شہروں کی نمائندگی نہیں کر رہی۔ اس اعتراض کی ایک وجہ میچوں کا اپنے متعلقہ پاکستانی شہروں میں نہ کھیلا جانا ہے جس کی ذمہ داری ملک میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال پر عائد ہوتی ہے۔ شائقین کے ساتھ ساتھ کھلاڑی اور منتظمین بھی یہ چاہتے ہیں کہ میچز پاکستان کے شہروں میں ہوں لیکن فی الحال ایسا ہوتاممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم چئیرمین پی سی بی اور چیئرمین پی ایس ایل اگلے برس کم از کم ایک سے دو میچ پاکستان میں کرانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں اور اس سے اگلے برس پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان میں کرانے کی امید بھی ظاہر رک چکے ہیں، ہم دعاگو ہیں کہ ایسا ہی ہو اور پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں بحال ہوں۔

 

بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ (تصویر: سعادت صبوری)
بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ تصویر: سعادت صبوری
بہت سے معترضین یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں کوئٹہ کا صرف ایک ہی کھلاڑی (بسم اللہ خان) ٹیم کا حصہ ہے جس سے لوگ کافی ناخوش ہیں۔ ان لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیائے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لیونل میسی کا تعلق ارجنٹائن سے ہے لیکن ان کی مقبولیت میں ارجنٹائن کی قومی ٹیم سے زیادہ بارسلونا فٹبال کلب نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سپین کا ایک کلب ہے۔ اسی طرح رونالڈو کا تعلق بھی پرتگال سے ہیں لیکن ان کی وجہِ شہرت انگلش کلب مانچسٹر یونائٹڈ اور ہسپانوی کلب ریال میڈریڈ ہیں۔ مہیندر سنگھ دھونی بھی آئی پی ایل میں چینائی کی قیادت کرتے رہے ہیں جبکہ ان کا تعلق رانچی، بہار (موجودہ جھاڑکھنڈ) سے ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض سراسر غلط ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور کھلاڑی محمد اصغر بھی اس لیگ میں شامل ہے اور وہ پشاور زلمی کی طرف سے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ محمد اصغر نے بلوچستان کے شہر حب سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا اور پچھلے کچھ عرصے سے کراچی میں قیام پذیر ہے۔

 

پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا
پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام ٹیمیں متوازن طور پر منتخب ہوئی ہیں۔ تمام کھلاڑیوں کو چھ درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں ایک درجہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لئے مختص تھا اور ہر ٹیم کے لئے لازم تھا کہ وہ کم از کم دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کرے (میری محدود معلومات کے تحت یہ دنیا کی پہلا لیگ ہے جس میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب لازمی قرار دیا گیا ہے)۔ اس سے نہ صرف نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ڈریسنگ روم میں سر ویوین رچرڈز، کیون پیٹرسن، کماراسنگاکارا، وسیم اکرم، ڈین جونز جیسے کھلاڑیوں سے مل کر ان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جو اس سے پہلے پاکستان میں ممکن نہیں تھا جس کا اثر محمد اصغر، محمد نواز، بسم اللہ خان، رومان رئیس اور اسامہ میر جیسے نوجوان کھلاڑی نہایت عمدگی سے دکھا رہے ہیں۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لیگ میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے منتظمین کو بہتر لائحہ عمل بنا کر مزید محنت کرنی ہوگی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ مکمل داد کی مستحق ہے جو کئی سالوں سے مشکلات سے دوچارہونے کے باوجود ایک بہتر معیار کی کرکٹ لیگ کے انعقاد میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس قدر جلد کرکٹ بورڈ اس لیگ کو پاکستان میں منعقد کرانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر نہ صرف میری بلکہ تمام پاکستانیوں کی یہی خواہش ہے کہ جلد از جلد پاکستان میں کرکٹ کی بحالی ممکن ہوسکے۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ہیں کیوں کہ وہ اس لیگ کی بہترین ٹیم ہیں۔ میری خواہش یہی ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اس لیگ کو جیت کر کوئٹہ کے رہنے والوں کو خوش ہونے کا ایک نادرموقع فراہم کرے۔

Image Credit: Saa’dat Sabori