Categories
نقطۂ نظر

میانداد اور آفریدی آمنے سامنے

محرم کے پہلےدس دنوں میں عام طور پر لوگ دوسری مصروفیات کو کم یا ترک کرکے مجالس، ماتمی جلوسوں میں شرکت اور واقعہ کربلا کا سوگ منا رہے ہوتے ہیں، ایسے میں سیاسی مصروفیات بھی بہت کم ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی اس سال بھی ہوا اور خاص کر6 محرم کے بعد سےسیاسی بیانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اس اثنا میں پاکستانی میڈیا نے کرکٹ کے دو نامور پاکستانی کھلاڑیوں جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کےآپس میں الجھ جانے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اس خبر کو شہ سرخی بنائے رکھا۔ میانداد اور آفریدی کے آمنے سامنے آنے کا پس منظر یہ تھا کہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران میڈیا کے نمائندوں نے شاہدآفریدی سے یہ سوال کیا کہ جاویدمیانداد کا کہنا ہے کہ آپ پیسوں کے لیے اپنا الوداعی میچ چاہتے ہیں جس پر شاہد آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جاوید میانداد کو ساری زندگی پیسوں کا مسئلہ رہا ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے کرکٹر کو ایسی چھوٹی بات نہیں کرنی چاہیےتھی۔ یہی فرق عمران خان اور جاوید میانداد میں تھا”۔ شاہد آفریدی کے اس بیان کے بعد جاوید میانداد نے ایک نجی ٹی وی چینل پر شاہد آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے ان پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آفریدی اپنی بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ انہوں نے میچ نہیں بیچے۔

 

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جاوید میانداد جو پاکستان کے بہت سینیر اور لیجنڈ کرکٹر ہیں اپنے سے بہت جونیر شاہدآفریدی کے بہت زیادہ خلاف کیوں ہیں۔ مثلاً شاہد آفریدی نے بھارت میں ہونے والے 2016 کے ورلڈ کپ ٹی 20 میں کولکتہ میچ سے پہلے ایک پریس کانفرنس کی اورایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہندوستان کے لوگوں سے ہمیں بہت پیار ملا ہے اور اتنا پیار تو ہمیں پاکستان میں بھی نہیں ملا جتنا یہاں ملا’۔ یہ ایک طرح کا سفارتی بیان تھا لیکن اس بیان پر انہیں پاکستان بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایسا نہیں کہ سب نے ان کی مخالفت کی ہو، لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک تبصرہ پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ جاوید میانداد کا تھا جس میں انہوں نے شاہد آفریدی کے بیان کی مذمت کی تھی۔ انہوں ٹی وی شو میں بیٹھ کر شاہد آفریدی پر لعنت بھیجی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے انہیں ‘صدمہ اور تکلیف’ پہنچی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان اور موجودہ سیاستدان عمران خان نےایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ جاوید میانداد کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔ جاوید میانداد ایک کرکٹر رہے ہیں سیاست دان نہیں لہذا ان کو شاہد آفریدی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بولنا چاہیے تھا۔

 

جاوید میانداد کے شاہد آفریدی پر میچ فکسنگ کے الزام کے بعد شاہدآفریدی نے جاوید میانداد کےبیان پر وکلا سے مشاورت کےبعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ آفریدی نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ ‘جاوید میانداد کے ذاتی حملے کافی عرصہ برداشت کئے لیکن ہرکسی کے برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہے لیکن میانداد کے رویے پر ان کا ردعمل فطری تھا’۔ کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ شاہدآفریدی کو اپنی حیثیت بحال کرنے کےلیے لازمی عدالت میں جانا چاہیے۔ جاویدمیانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان الفاظ کی جنگ کے دوران پی سی بی کے سابق چیئرمین جنرل توقیر ضیاء اور سابق کپتان وسیم اکرم نے دونوں کے درمیان مصحالت کرانے کی کوشش کی تھی۔ ان تمام حالات کے بعد جاوید میانداد کی طرف سے ایک بیان دیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘شاہدآفریدی میرےہاتھوں ہی پروان چڑھاہے، اس کے بیان نے میرادل بہت دکھایاہے، پھربھی بڑا ہونے کے ناطے میں نے شاہدآفریدی کو معاف کردیا ہے’۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔ جاوید میانداد کے الزامات سے انہیں، ان کے گھر والوں اور پرستاروں کو تکلیف پہنچی ہے۔ ان کے دل میں جاویدمیانداد کی بہت عزت ہے، جاوید میانداد نے انہیں معاف کردیا ہے جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، لیکن اگر انہوں نے اپنا الزام واپس نہ لیا تو وہ اپنی حیثیت بحال کرانے کے لیے عدالت جائیں گے’۔ آفریدی کی طرف سے الزامات واپس لینے کے مطالبے پر جاوید میانداد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ابھی کسی معاملے پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتا تاہم کسی سے ڈرنے والا نہیں اور اگر شاہد آفریدی کی جانب سے میچ فکسنگ الزامات پر نوٹس ملا تو اس کا ضرور جواب دوں گا۔ جبکہ ایک اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر ایک سروے میں ایک سوال پوچھا تھا کہ ‘کیا میانداد کی جانب سے آفریدی پرلگایا جانے والا میچ فکسنگ کا الزام درست ہے؟’۔ اس سروئے میں جواب ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ میں دینا تھا، جس کے جواب لوگوں کی ایک معقول تعداد نے دیے۔ رزلٹ کے مطابق 71 فیصد لوگوں نے شاہد آفریدی کی حمایت کی اور ‘نہیں’ میں جواب دیا جبکہ 29 فیصد کا جواب جاویدمیانداد کے حق میں ‘ہاں’ تھا۔

 

جاوید میانداد کے اس بیان کے بعد شاہدآفریدی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ‘اپنے ملک کے لئے کھیلنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے وہ کبھی اپنے ملک کو نہیں بیچ سکتے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے اس سال ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صرف اس شرط پر سونپی گئی تھی کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ جبکہ شاہد آفریدی نے بھی اس سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے ایک بیان میں اپنی کرکٹ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کردی تھی۔ کرکٹ کے بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ شاہد آفریدی اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں مسلسل بیانات تبدیل کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ ان سے خوش نہیں ہے۔ ستمبر 2016کے بیچ میں پاکستانی میڈیا کے حوالے سے شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کے لیے انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے خود کہا ہے جو بالکل غلط ہے۔

 

بقول شاہد آفریدی کہ ابھی ان کی کرکٹ ختم نہیں ہوئی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ان کےلیے کسی الوداعی تقریب کا انتظام نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ اگلے چند ماہ کے بعد کرکٹ بورڈ کو ان کی ضرورت ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاید آفریدی ایک اچھا میچ کھیل کر ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی سوچنا چاہیے کہ شاہد آفریدی 98 بین الاقوامی ٹی ٹونٹی مقابلوں میں97 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور انہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والا پہلا بولر بننے کے لیے صرف تین وکٹیں درکار ہیں، اگر شاہد آفریدی کا یہ ریکارڈ بنتا ہے تو یہ پاکستان کا بھی ریکارڈ ہوگا۔ کم از کم اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کے لیے ہی حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاہد آفریدی کو موقع دینا چاہیے تھا۔آخر میں دونوں مایہ ناز کھلاڑیوں جاوید میانداد اور شاہد آفریدی سے یہ درخواست ہے کہ اپنے آپس کے اختلافات کو ختم کریں، کیونکہ آپ دونوں جو اس وقت ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، اس سے صرف اور صرف پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔ لیکن اگر دونوں اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں تو عدالت کا رخ کریں اور میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں۔
Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی

پہلی پاکستان سوپر لیگ نہایت کامیابی سے اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے درمیان لیگ کا فائنل مقابلہ کھیلا جانے والا ہے۔ پی ایس ایل کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے بہت سے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں بلکہ شائقین کو بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ کی جیت کے لئے دعا گو ہیں اور سننے میں یہ آیا ہے کہ کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں میچ کی سکریننگ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے جو کوئٹہ میں کرکٹ کے فروغ کے لئے سودمند ثابت ہو گا۔

 

کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت کے لئے دعا گو ہیں
لیگ کے شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ کی ٹیم کو ایک کمزور ٹیم قرار دیا جا رہا تھا لیکن ان کی بہترین کارکردگی اور پشاور کی ٹیم کے لیگ سے باہر ہونے کی وجہ سے فائنل کے لئے کوئٹہ کو ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے (پلے آفز تک گراؤنڈ میں سب سے زیادہ پشاور ٹیم کے مداح اور شائقین موجود ہوتے تھے)۔ لیکن اسلام آباد کی ٹیم بھی مسلسل چار میچ متاثرکن انداز میں جیت چکی ہے جس سے ان کے جیتنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ٹی ٹونٹی، محدود اوورز پر مشتمل فارمیٹ ہے اس لیے ایک روزہ مقابلوں اور ٹیسٹ میچز کی نسبت اس میں کھیل کا پانسہ چند گندوں میں بھی پلٹ سکتا ہے، ایک اچھا اوور لمحوں میں میچ کا رخ پلٹ سکتا ہے اسی لئے دونوں ٹیموں کو جیتنے کے لئے میچ کی دونوں اننگز کے پورے چالیس اوورز میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن مصباح الحق کا مداح ہوتے ہوئے میرے دل میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے لئے بھی نیک خواہشات ہیں۔ دونوں ٹیموں کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہاں دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جارہا ہے:

 

مصباح الحق بمقابلہ سرفراز

 

ٹی ٹونٹی کی مقبولیت کی جب بھی بات آئے گی تو پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور مصباح کا نام بھی یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آخری شاٹ دنیائے کرکٹ کے جدید دور کا سب سے معنی خیز لمحہ (مگر پاکسانیوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح) ثابت ہوا اور آئی پی ایل کے آغاز کا سبب بنا۔ گو مصباح ایک بہترین کپتان ہوتے ہوئے بھی پاکستان کو ایک روزہ ورلڈ کپ نہیں دلا سکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان ٹیم کی قیادت اس وقت کی جب ٹیم چاروں طرف سے مشکلات کا شکار تھی اور انہوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

 

پچھلے ایک روزہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے جن دو کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ سراہا گیا ان میں ایک سرفراز احمد تھے (دوسرا کھلاڑی وہاب ریاض تھا)۔ آج کے دور میں سب سے خوبصورت سویپ شاٹ کھیلنا بھی سرفراز کے کھیل کا حصہ ہے۔ ان کی قیادت کے بارے میں کیون پیٹرسن کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی اچھے کپتان ہیں جو دوسری ٹیم کے دیے گئے مواقع اور غلطیوں سے استفادہ کرنا جانتے ہیں اور پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔

 

وسیم اکرم اور ڈین جونز بمقابلہ ویوین رچرڈز اور معین خان

 

سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔
وسیم اکرم کو ان کی بہترین باؤلنگ کی وجہ سے سوئنگ کا سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے دور میں دوسرے گیند بازوں کی رہنمائی کی ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستانی اور غیر ملکی گیند بازوں کو گر سکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ محمد سمیع، محمد عرفان اور آندرے رسل جیسے باؤلر ان کی زیر نگرانی حریف بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ ڈین جونز نے ایک روزہ کرکٹ میں تیز رفتار بلے بازی اور تیزی سے رنز کرنے کی روایت ڈالی۔ بطورِ بلے باز انہوں نے ہمیشہ دباو میں ٹیم کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی مثال مدراس(موجودہ چِنائی) میں بھارت کے خلاف ان کی ڈبل سینچری ہے جس میں وہ ڈی ہائڈریشن کا شکار ہوتے ہوئے بھی اعلٰی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کے بلے بازوں کی بیٹنگ پر کتنے اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

سر ویوین رچرڈز کی تعریف کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وِزڈن (کرکٹ کی بائبل) نے انہیں گزشتہ صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔ ویوین نے پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں تین کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کرکے ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کے نام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور دوسرے ورلڈ کپ کے فائنل میں سینچری سکور کرکے ویسٹ انڈیز کی جیت کو یقینی بنایا۔ سر ویوین رچرڈز کی موجودگی نے کوئٹہ کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کئے ہیں اور جس طرح ہر جیت کے بعد وہ خوشی مناتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ کوئٹہ کی ٹیم کو جتا کر ہی رہیں گے۔ دوسری جانب معین خان بھی ایک اچھے کوچ کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں اگر سرفراز سے بہتر کوئی سویپ شاٹ کھیل سکتا تھا تو وہ معین خان تھے اور اس لحاظ سے انہوں نے نئے بلے بازوں کی کافی مدد کی ہے۔

 

شرجیل خان بمقابلہ احمد شہزاد

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔ انہوں نے پچھلے میچ میں ٹیم کے مجموعی سکور کا تقریباً 70 فیصد اکیلے ہی سکور کیا۔ اب تک لیگ میں سب سے زیادہ چھکے بھی انہوں نے ہی لگائے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں پچاس تک سکور بنا لیتے ہیں تو وہ لیگ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ دوسری جانب احمد شہزاد پچھلے کچھ عرصے سے فارم میں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن سر ویوین رچرڈز کے باعث اس کا اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔ جس رفتار سے وہ بیٹنگ کرتے ہیں اگر وہ پانچ، چھ اوورز تک کریز پر موجود رہے تو کوئٹہ کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے یا ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

 

سنگاکارا اور پیٹرسن بمقابلہ ہیڈن اور سمتھ

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔
سنگاکارا اور پیٹرسن کی موجودگی سے کوئٹہ کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے لیکن ہیڈین اور سمتھ کی بلے بازی کے اندازِ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ فائنل میں کوئٹہ ٹیم کے جیتنے کا دارومدار سنگاکارا اور پیٹرسن کی بیٹنگ پر ہے۔

 

آندرے رسل اور عمران خالد بمقابلہ گرنٹ ایلیٹ اور محمد نواز

 

محمد نواز نے پی ایس ایل کے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ جیت کر اپنے موجودگی کا احساس دلا دیا تھا۔ ایلیٹ نے ذوالفقار بابر کی مدد سے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں دسویں وکٹ کی شراکت میں سب سے زیادہ سکور بنائے ہیں۔ سرفراز نے ان دونوں کا بطورِ باؤلر اچھا استعمال کیا ہے اور بیٹنگ میں بھی دونوں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عمران خالد اور آندرے رسل بھی جمے ہوئے بلے بازوں کی شراکت توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آندرے رسل ایک اچھے بلے باز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

 

ذوالفقار بابر بمقابلہ سعید اجمل
سعید اجمل اور ذوالفقار بابر دونوں ہی نہایت تجربہ کار کرکٹرز ہیں اور دونوں نے ہمیشہ مل کر پاکستان کو ٹیسٹ میچز جتائے ہیں لیکن آج وہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ باولنگ ایکشن رپورٹ ہونے اور فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے سعید اجمل کو پچھلے چند ماہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا، پی ایس ایل کے بھی گزشتہ چند میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ انہیں فائنل میں جگہ مل جائے اور وہ اپنی ٹیم کو جتانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ذوالفقار بابر کی موجودگی بھی اسلام آباد کی ٹیم کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

 

محمد سمیع اور محمد عرفان بماابلہ انور علی اور عمر گل

 

میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
جن لوگوں نے پاکستان کو ٹی ٹونٹٰی ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھا ہے انہیں عمر گل کی شاندار باؤلنگ کا پتہ ہوگا۔ عمر گل ایک اوور میں چھ یارکر کرنے والا شاید دنیا کا واحد باؤلر ہو۔ عمر گل کو پچھلے کچھ میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے مگر میری خواہش ہے کہ اسے فائنل میں موقع دیا جائے تاکہ وہ کوئٹہ کو ٹائٹل جتوانے میں کامیاب ہوجائے۔ انور علی نے بھی شاندار باؤلنگ کی ہے اور حریف ٹیموں کے افتتاحی بلے بازوں کو پریشان کئے رکھاہے۔ دوسری جانب محمد عرفان نے اپنے لمبے قد اور پچ کے باؤنس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری ٹیموں کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔ اور ساتھ ہی محمد سمیع نے جوکہ کافی عرصے بعد منظرِ عام پرآئے ہیں، اچھی باؤلنگ کی ہے اور کراچی کے خلاف پانچ کھلاڑی پویلین بھیج کر اپنے انتخاب کا حق ادا کیا ہے۔

 

ٹیم بمقابلہ افراد

 

پشاور اور اسلام آباد کے میچ کے دوران ٹینس کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق نے ٹینس اور کرکٹ کے فرق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹینس میں صرف ایک فرد کی کامیابی ہی لازمی ہوتی ہے جبکہ کرکٹ میں فتح کے لئے پوری ٹیم کو متحد ہوکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل کا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوگا۔ انفرادی طور پر اسلام آباد کے کھلاڑی کوئٹہ کے کھلاڑیوں سے بہتر ہے لیکن کوئٹہ کی ٹیم نے بطورِ ٹیم کھیلنے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے کھلاڑی زیادہ چھکے مارنے، زیادہ سکور کرنے، بہترین باؤلنگ فیگرز میں پیش پیش ہیں لیکن سب سے کم مارجن سے جیتنے اور مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والی ٹیم کوئٹہ کی ہے۔ آج کے فائنل میں پتہ چل جائے گا کہ ٹیم جیتے گی یا انفرادی کارکردگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔