Categories
نان فکشن

غالب اور موجودہ عہد

موجودہ عہد کیا ہے؟ اور غالب کون ہے؟ یہ دو بنیادی سوال ہیں جن کا جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ غالب ایک اردو کا شاعر ہے جو اس عہد سے دو صدی قبل پیدا ہوا اور دیڑھ صدی قبل گزر گیا۔ اس نے اردو ،فارسی میں شاعری بھی کی اور خطوط بھی لکھے۔ کچھ اس کے علاوہ بھی کیا مثلاً پنج آہنگ ، مہر نیم روز،قادر نامہ اور دعائےصباح وغیرہ کتابیں لکھیں۔غالب کی شہرت ان کے اردو دیوان کے باعث ہے جس میں کل اٹھارہ سو اشعار ہیں یا اس سے کچھ کم زیادہ۔ بادی النظر میں غالب کا یہ ہی تعارف ہےاورموجودہ عہد سے مراد جس زمانے میں ہم سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں یعنی زمانہ حال ہوگا۔ لیکن اصل میں جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ موجودہ عہد واقعتا ً کیا ہے؟ اور اس کا بھرپور ادراک کیوں کر ممکن ہے؟تو ہماری نظر موجودہ دنیا کے مسائل کی طرف جاتی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت جو سیاسی ،سماجی ، تکنیکی ،معاشی ، اقتصادی اورروحانی وغیرہ وغیرہ حالات ہیں ان حالات کا احاطہ کیے بنا موجودہ عہد کی کوئی واضح تصویر نہیں بنتی۔ جس طرح ہم اپنے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کر کے ایک واضح تصویر بنا سکتے ہیں اور اس عہد کے کسی ایک پہلو پر اس مجموعی منظر نامے کے پیش نظر تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ اس طرح موجودہ عہد کی ایک مرتب شکل بنانا ممکن نہیں۔ موجوہ صورت حال چونکہ ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند ہوتی ہے لہذا اس کی کسی ٹھوس شکل کا تعین ممکن نہیں۔ پھر بھی ہم مابعد جدید صورت حال کے پیش نظر اتنا تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ آج ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہ جدید دنیا کے رد عمل کا عہد ہے۔ ایسا عہد جس میں نئی زندگی کے تصورات پرانے ہو چکے ہیں اور کوئی چیز جو نئی سے نئی ہو حیران کن نہیں رہی ہے۔ تکنیک اور کائناتی توضیحات کے اس عہد میں علم کا کوئی جامد تصور نہیں رہاہے ،ہر وہ چیز جو انسان کے مشاہدے میں آتی ہے وہ عین علم ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک دھوبی، پارچہ باف، کرخندار،کسان، کھڑائی،بنائی کرنے والا مزدور اور نیو ٹرونس ،الیکٹرونس اور پروٹونس کے بارے میں بتانے والا شخص سب ایک برابر ہیں۔ علم اور بصیرت کے وہ تاریخی تصورات جس کی بنیاد پر ایک عالم اور جاہل میں فرق کیا جاتا تھااوروہ ہی بنادیں کسی شخص کا طرز زندگی طے کرتی تھیں وہ سب از کار رفتہ ہوچکیں۔لہذاموجودہ عہد میں معاشی استحکام سے انسان کا طرز زندگی اور معاشرت متعین ہوتا ہےاور معاشی استحکام کا علم سے کوئی راست تعلق نہیں۔ ایسے میں اردو زبان جو ہندوستان کے سب سے بڑے تعلیم معاون ادارے U.G.Cکی فہرست میں اٹھائیسویں نمبر پر آتی ہے اس زبان کے ایک شاعر کے فلسفیانہ مباحث کی معنویت کیا ہے؟اس پر غور کرنا ذرا مشکل کام ہے۔مشکل ان معنی میں کہ اگر غالب اتنا بڑا شاعر ہے کہ اس کا ثانی دنیا کی بڑی زبانوں کے پاس نہیں یا کم سے کم درجے میں وہ ہندوستان کا ہی سب سے بڑا شاعر ہے تو اس کا ادراک سوائے اردو والوں کے اوروں کو کیوں نہیں؟ اور اگر دنیا بھر میں غالب کے عاشقین موجود ہیں تو اردو کا گراف اتنا چھوٹا کیوں ہے؟

غالب کا فلسفہ شعر کیا تھا؟ یا وہ کتنا متاثر کن ہے؟ان دونوں باتوں سے قطع نظر غالب موجودہ صورت حال میں کہاں Existکرتے ہیں یہ جاننا زیادہ ضروری ہے۔ میرا مشاہدہ غالب کے تعلق سے یہ ہے کہ غالب ہمارے درمیان موجودہ عہد میں صرف اتنا ہی ہے جتنا وہ ہماری ڈسک پر موجود ہے اور یہ صرف غالب کا ہی المیہ نہیں بلکہ یہ دنیا کے ہر بڑے ادیب و شاعر کے ساتھ موجودہ عہد کا سلوک ہے۔ خواہ اسے مثبت سمجھا جائے یا منفی۔ ہمیں یہ بات اولین صورت میں سمجھنا ہوگی کہ غالب ہوں یا کوئی اور کسی فلسفی کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا یہ موجودہ عہد کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ غالب کے وہ تمام اشعار جو نیٹ پر مختلف حالتوں میں پائے جاتے ہیں آڈیو اور ویڈیو کی یا پھر ٹیکسٹ کی کسی شکل میں اس کو ہی دنیا دیکھتی ہے اور اتنے ہی غالب کو وہ جانتی ہے اور انہیں بنیادوں پر غالب کا تعین ہوتا ہے۔ غالب کے وہ تمام شریک کار جن میں پبلو پکاسو، ولیم شیکسپیر، لیو ٹالسٹائی، مقبول فدا حسین، کارل ماکس، ربیندر ناتھ ٹیگور اور نوم چومسکی وغیرہ شامل ہیں ،ان کا تعین بھی یوٹیوب واچ اور گوگل ہٹس سے ہی طے ہوتا ہے۔ ایسے میں غالب کا فلسفہ شعر کیا ہے ؟اس سے کسی کو بحث نہیں اور غالب ہمارا کتنا بڑا شاعر ہے؟ یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے ،بلکہ غالب کے متعلقین کے لیے اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غالب فرنٹ پر کتنا ہے؟ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں غالب اور اقبال دونوں ایک مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ لہذا اب ہم دنیا کے ان تمام متلاشیوں کو کس طرح یہ سمجھا سکتے ہیں کہ غالب کے متعلقین میں گوگل نے خواہ اقبال اور سیر سید وغیر کو شامل رکھا ہو مگر غالب کا ان سے کسی نو ع کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ہے بھی تو صرف اس میڈیم کا جس میڈیم کی معنی کے جہان میں کوئی خاص اہمیت نہیں۔

غالب اردو کا بڑا شاعر تھا۔ لیکن آج وہ اردو کا سب سے زیادہ مشہور شاعر ہے۔ایسا مشہور کے گوگل نے 27 دسمبر 2017 میں اس کا 220واں یوم پیدائش منایا اور غالب کی تصویر گوگل کے فرنٹ پیج پر اس تعارف کے ساتھ لگائی کہ:

Google on Wednesday celebrated poet Mirza Ghalib’s 220th birth anniversary with a doodle. A poet in Urdu and Persian languages during the Mughal era, Ghalib became famous for his Urdu ghazals. His poems and ghazals have been translated and recited in many languages.

لہذااس سے دنیا کو معلوم ہوگیا کہ غالب کی اہمیت کیا ہے اور اس کا فلسفہ شعر کتنا عمیق ہے۔ کیا ہم تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ہمارے دوسرے شعرا جنہیں ہم مختلف القاب و آداب سے یاد کرتے ہیں وہ اس عزت کے لائق ہیں۔ایسی صورت حال میں مرزا رفیع سودا، خان آرزو، میر تقی میر،مومن خاں مومن ،ناسخ اور مصطفی خاںشیفتہ وغیرہ غالب سے کہیں زیادہ معمولی اور غیر اہم شاعر قرار پاتے ہیں اور غالب اردو کا وہ واحد شاعر ٹھہرتا ہے جو آرٹ کی عالمی منڈی میں اپنا چھوٹا سا دیوان لیے کھڑاہے جس کےبائیں بازو پر انیس ہیں اوردائیں پرمحمد اقبال۔

یو ٹیوب کی ہسٹری بتاتی ہے کہ 29 نومبر 2016 کو ایک نوجوان کنیڈین سنگر جسٹن بیبر کے گانے let me love youکو اپلوڈ کیا گیا تھا ، جسے گزشتہ سوا سال میں ساڑے تریپن کروڑ لوگوں نے دیکھا اور ٹرینی ڈیڈین امیریکن سنگر نکی مناج کے Anacondaکو تین برس میں تقریبا چوہتر کروڑ لوگوں نے۔اس کے بالمقابل جوہن کیٹس کی لائف اینڈ لیگسی کو ایک برس میں بائیس ہزار سات سو لوگوں نے دیکھا۔بائیو گرافی آف لیو ٹالسٹائی کو اکیس ہزار سو لوگوں نے اور غالب پر گلزار کی بنائی فلم کی غزلوں کو جنہیں جگجیت سنگ نے گایا ہے اسےتین برس میں گیارہ لاکھ لوگوں نے سنا ہے اور اگر اس میں سے جگجیت سنگھ کو نکال دیا جائے تو دیوان غالب کے پہلے سیزن کو جسے بنانا پوئیڑی والوں نے اپلوڈ کیا ہے اس کی مختلف غزلوں کو ایک برس میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان دیکھا اور سنا گیا ہےاوراس سیزن میں ان کی صرف آٹھ سے دس غزلیں شامل ہیں۔ ہندوستانی گوگل کی 2017کی ہسٹری بتاتی ہے کہ غالب پوئیٹری ، غالب شاعری،صرف غالب،مرزا غالب شاعری،مرزا غالب شاعری ان ہندی اور مرزا غالب پوئیٹری کو ہر مہینے دس ہزار سے ایک لاکھ اور غالب شعر ،غالب شاعری کو ایک ہزار سے دس ہزار کے قریب سرچ کیا گیا۔جبکہ easycounter.comکے مطابق اگست2016 سے اب تک ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں سنی لیونی کو سوا بیس لاکھ مرتبہ سرچ کیا گیا ہے۔ جس میں صرف ہندوستانیوں نے گیارہ لاکھ مرتبہ سرچ کیا۔ اس ڈیٹا سے ہمیں اس بات کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آجاتی ہے کہ ہمارا غالب رجحان کیا ہے۔

یہ بات ہر طور سچ ہے کہ اچھے اور سچے آرٹ کو پسند کرنے والے لوگ دنیا میں ہمیشہ سے کم ہی رہے ہیں ، مگر ہم آج جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں رونا کمی کا نہیں ہے بلکہ زیادتی کا ہے۔ دراصل اب ہمارے پاس اتنی مقدار میں اچھا اور سچا ادب موجود ہے کہ ہم کسی ایک پر مکمل طور پر ٹک ہی نہیں پاتے۔ کسی شاعر یا آرٹسٹ کی مشکل پسندی بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ مشکل سے مشکل ترین چیزوں سے ہم گزشتہ صدی میں دوچار ہوئے ہیں۔ مثلاً غالب کا کوئی شعر خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مابعد جدید نظریہ سے زیادہ مشکل نہیں ہوسکتا۔ جس کے دونوں سرے کبھی قاری کے ہاتھ میں نہیں آتے۔ مثلاً غالب کا ایک شعر ہے کہ:

افسوس کہ دیداں کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت

اس شعر میں لفظ دیداں اور دنداں میں اختلاف ہے ،بعض نے اسے دیداں لکھا ہے اور بعض نے دنداں۔ اس سے معنی پر فرق تو بہر حال پڑتا ہے مگر مجموعی صورت وہی نکل کر آتی ہے۔یہ غالب کے ایسے کلام کی مثا ل ہے جو مابعد جدید کے بالمقابل مشکل کے قریب بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ غالب کا یہ شعر کہ :

عروج نشہ واماندگی پیمانہ محمل تر
برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں

ایسا ہے کہ اگر سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی پر لطف تو ضرور معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ویسی ثقالت نہیں جیسی پوسٹ ماڈن امیریکن رائٹر ڈونلڈ بارتھیم کی کہانی غبارہ میں ہے۔ اس کے علاوہ غالب کو سمجھنے کے چند اصولوں پر اگر غور کیا جائے تو وہ اپنے اکثر کلام میں مشکل نظر نہیں آئیں گے۔ مثلاً غالب اپنے عہد میں عام نہیں ہونا چاہتے اس لیے لفظ کو غیر مرتب انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے یہاں معنی کی تبدیلی کا نظام ذرا سی حرکت سے واقع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے غریب الفاظ،روز مرہ اور محاورے کا استعمال کر کے شعر کو عام اور سادہ بیانیہ سے الگ کر دیتے ہیں جس سے سامنے کی بات میں بھی لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ رعایت لفظی اور تضاد کا استعمال بھی کثرت سے کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنے اشعار میں ایسے وقفے تراشتے ہیں جس کی وجہ سے ایک مکمل بات بنانے میں پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سامنے تو یہ تمام پریشانیہ بھی نہیں ہیں کہ غالب کے بہت سے شارحین موجود ہیں جہاں کوئی شعر مشکل معلوم ہوا اور ہم نے کسی نہ کسی شارح کو دیکھ لیا۔ جن میں سے زیادہ تر شارحین نے تقریبا ً ایک ہی جیسی باتیں کی ہیں۔ مثلاً نظم طباطبائی، سہا مجددی ،عبدالباری آسی،شاداں بلگرامی،سید اولاد حسن، بیخود موہانی اورحسرت موہانی وغیرہ کی شرحیں تقریبا ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کہیں کہیں کسی نے زیادہ باتیں کہیں اور کسی نے کم۔ اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں۔ البتہ شمس الرحمن فاروقی نے تفہیم غالب میں ہر شعر پر قدر تفصیل سے بحث کی ہے۔

موجودہ عہد میں غالب کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی لغت سے ہم Familiar نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے عہد کی زبان کو جاننا ضروری ہو جاتا ہے۔ پھر اگر اس کے عہد کی لغت کو جان بھی لو تو معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے اپنے زمانے کی لغت کے ساتھ اپنی شاعری میں بھرپور چھیڑ چھاڑ کی ہے۔کوئی لفظ غالب کے یہاں ایسا نہیں جو ایک نوع کی سحر انگیزی کو بننے کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ ان کا سادہ سے سادہ شعر بھی ایسا ہے کہ جس میں ذرا سی کجی ضرور پائی جاتی ہے اور یہ کجی تب نظر آتی ہے جب ہم ان کے اشعار کی معنوی فضا پر غور کرتے ہیں۔ ایسی ژولیدہ معنوی فضا ہمیں غالب کے معاصرین کے یہاں نظر نہیں آتی ،لہذا ہم غالب کو مشکل پسندی کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں۔ غالب کےاردو معاصرین تو خیر اس ژولیدگی سے پاک ہیں ہی عربی، فارسی اور انگریزی کے شاعر بھی اس سے معری ہیں۔مثلا ً علامہ فضل حق خیرآبادی ، منشی ہرگوپال تفتہ، لورڈ بائرن،جوہن کیٹس ولیم ورڈزورتھ،سیموئل کولریج اور میتھیو آرنلڈ وغیرہ کی شاعری غالب کے مقابلے خاصی سلجھی ہوئی ہے۔ لہذا غالب کی ژولیدہ مزاجی نے اسے کم دوسروں کی سہل پسندی نے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں نے موجودہ عہد کے ایک شاعر اسعد محمد خاں کی ایک چھوٹی سی نظم “نےٹوہوسپی ٹالٹی” پڑھی تھی۔یقین جانیے کہ مجھے ذرا بھی سمجھ میں نہیں آئی۔ عین ممکن ہے کسی اور کو آجائے۔بس نظم کے حوالے سے میں اتنا محسوس کر سکا کہ شاعر صاحب نے تاریخ ،جغرافیہ اور تہذیب کا ایک مرقع تخلیق کیا ہے جو قاری کو اپنے ادراک کے لیے ایک خاص صورت حال کی جانب بلا رہا ہے۔ غالب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ اگر آپ غالب کو پڑھنے کے شوقین ہیں اور ان کا کچھ کلام حافظے میں محفوظ بھی ہے تو وہ ایک خاص صورت حال میں من و عن ویسا ہی کھلتا ہے جیسا کہ وہ ہے۔ علاوہ ازیں معنی میں شارحین کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔

غالب کے بہت سے قارئین ان کی زندگی اور شاعری کو ملا کر پڑھتے ہیں ،تاکہ غالب کی شاعری کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہ طریقہ اچھا ہو،مگر میرا خیال ہے کہ غالب کی زندگی ،ان کی شاعری کو سمجھانے کے لیے نا کافی ہے ، لہذا اگر ہم غالب کی حیات کو ان کی شاعری سے الگ کر کے پڑھیں تو وہ ایک موضوع کے طور پر الگ طرح کا مزا دیتی ہے اور ان کے خطوط بھی ایسے ہی ہیں جن کو باقاعدہ ایک موضوع کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ غالب کےمزاج میں لطیف طنز اور لطیف مزاح پایا جاتا تھا۔ اس سے ان کی شخصیت کی زندہ دلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب بات ہے کہ غالب کی زندگی اور ان کی شاعری دونوں کو پڑھ جاو تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے نقصانات اور اپنے زخموں پرہنستا اور مسکراتا ہے۔ جتنا گہرا غم ہوگا غالب اتنے ہی زیادہ پر مسرت نظر آئیں گے۔ لہذا یہ تضاد ان کی شاعری میں ہی نہیں بلکہ ان کی ذات میں گھلا ہوا تھا۔ ایسے شخص کی باتوں کو سمجھنے کے لیے کسی قاعدے کو وضع نہیں کیا جاسکتا اس کے سمجھنے کا راز ہی شخصیت کی بے قاعدگی میں مضمر ہے۔

Categories
شاعری

متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

بہ نالہ دل بستگی فراہم کر
متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

 

نظم

 

اسیری ۔۔۔قدغن و زنجیر، ضبط و جبرو رسن
اسیری۔۔۔زار و زبوں ہونے کی حالت، قدغن
اسیری ۔۔۔عاجزی، تسلیم، بندگی، تسلیم

 

رہائی ۔۔۔فیل ِ بے زنجیر (1)، دوڑ، بھاگ، فرار
رہائی۔۔۔چھوٹ، سبکدوشی، استخلاص،قرار
رہائی ۔۔۔مہلت و برخاست، بریت، اطلاق
ذرائع بندش و دار و رسن سے آزادی!!

 

مگر یہ ‘غل’ جوابھرتا ہے روز رات گئے (2)
(ہر ایک حلقۂ زنجیر کا فرستادہ)
مجھے یہ یاد دلاتا ہے تسمہ پا ہوں میں!

 

متاعِ خانۂ زنجیر اک صدا ہی تو ہے
صدا بھی ایسی کہ اکراہ و حبس بول اٹھیں
مگر یہ قرآتِ خاموش مرگ آسا ہے
شنیدنی ہے یہ بانگِ اسیرِ خود ترسی

 

میں سوچتا ہوں کہ اس میں نہیں کوئی مہلت
رہائی اس سے فقط مرگِ مفاجات میں ہے!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔’فیل ِ بے زنجیر’ اقبال سے ماخوذ
2۔ ‘غل’ ۔۔جب جنوں سے ہمیں توغل تھا ۔۔۔۔ اپنی زنجیر ِ پا ہی کا غل تھا (میرؔ )
Categories
شاعری

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
رو برو کوئی بُتِ آئنہ سیما نہ ہوا

 

نظم

 

سب کو مقبول ہے دعویٰ، مگر ‘سب’ کی تعریف؟
گنجلک ہے کہ یہ ‘ہر ایک’ بھی ہے، ‘کُل’ بھی ہے
اور ‘مقبول’ جو ‘مانا گیا’، پیارا، محبوب
جس کو اللہ، خدا، ہستئ مطلق سمجھیں
بس فقط ایک، فقط ایک، فقط ایک عدد!

 

“دعویٰ” اک لفظ ہے لیکن اسے سمجھے گا کون!
کیا یہ ‘عرضی’ نہیں یا ناصیہ فرسائی نہیں؟
کیا یہ ‘درخواست ‘ نہیں؟
‘استغاثہ’ بھی اسی لفظ کے معنی ہیں، جناب

 

اور ‘نالش’ بھی، اگر کورٹ، کچہری جائیں
دعویٰ فرعون کے لب پر تھا خدا ہونے کا !

 

کون کرتا ہے یہ ‘دعویٰ’، کہ خدا ‘یکتا’ ہے؟
کیا خدا خود ہی یہ کہتا ہے کہ “میں یکتا ہوں!”

 

خود بھی کہتا ہے، سبھی جانتے ہیں
برملا کہتا ہے، میں پہلا بھی ہوں، آخری بھی
احدویکتا ہوں۔۔۔ فقط ایک، وحید الدنیا
‘ شِرک ‘ سے باز رہو، سمجھو یہ میرا فرمان!

 

“رو برو” ؟ کیا مطلب؟
“سامنے” کوئی نہ ہوا ؟
“کوئی” جو ایک “بتِ آئینہ سیما “ تھا۔۔۔ کون؟
آئینہ جیسا کوئی بت؟
جو ہمہ وقت خود اپنا رخِ زیبا دیکھے
اپنے آئینے میں آئینہ پھر اپنا دیکھے

 

آئینہ؟ عالمِ ناسوت ہے کیا؟
آئینہ؟ عالمِ لاہوت ہے کیا؟

 

ہاں، یہی آئینہ ہے دیکھنے والے کے لیے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے!
Categories
شاعری

اسد بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ، ہم تصویرِ عریاں ہیں

 

نظم

 

“اسدؔ” خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید
یہ کوئی اور ہی ہے جو اسے تلقین کرتاہے!
“اسدؔ” خود سے مخاطب ہو بھی سکتا تھا
مگر اک لفظ “ہم” جو مصرعِ ثانی میں آیا ہے
ہمیں گویندہ یا ناطق کی بابت شک میں رکھتا ہے

 

اگر تم حاضر و موجود ہو ’بزمِ تماشا’ میں
(وہ کہتا ہے)
تو اس سے بے مروّت ہو نہیں سکتے
تغافل کیش رہنا، بے رخی، غفلت برتنا تو
اک ایسی ‘پردہ داری’ ہے، کہ جس میں تم
مری بزمِ تماشا سے
تعلق توڑ کر کچھ بھی نہ پاؤ گے!

 

کہ یہ ‘بزمِ تماشا’ تو
اسی اپنے تماشے میں مگن ہے روزِ اوّل سے
اگر تم ایسے نا اندیش ہو جس نے حقیقت سے
خود اپنے آپ کو یوں سینت کر رکھا ہے
آنکھیں بند کر لی ہیں
کہ اب کچھ بھی نہ دیکھو گے
تو یہ سمجھو، وہ کہتا ہے
“اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ۔۔۔۔۔۔ ہم تصویرِ عریاں ہیں”
کہ بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی ’ہم‘ کو دیکھ پاؤ گے!

 

تخاطب تو یقناً اپنے شاعر سے ہے، لیکن غور سے دیکھیں
کہ کہنے والا آخر کون ہے، جو “میں” نہ کہہ کر
“ہم” کے اسمِ معرفہ، یعنی۔۔۔۔
ضمیرِ جمع متکلم کی صورت میں ہی اپنا ذکر کرتا ہے؟

 

صریحاً ایک ہے۔۔۔ اللہ
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
“اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!”
Categories
شاعری

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ
اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

 

نظم

 

غرّہ کیا ہے؟
خود پسندی؟
اینڈنا؟ کج خلق ہونا؟ ادّعا، “میَں پن”
دکھاوا؟
زائد از امکاں بلندی، خود پسندی
اور اس پندار کی تشہیر ۔ “پھُوں پھاں”
طنطنہ، شیخی، دکھاوا
شہروں شہروں، ملکوں ملکوں
اپنی خلعت، کلغی، وردی کی نمائش
بانس کی ٹانگوں پہ چلتا ایک سرکس کا کھلاڑی
لاف زن، مغرور، متکبر، مدّمغ!

 

‘عالمِ امکاں‘ کی گربنیاد یہ ہو
اس بلندی کا اگر میزاب یہ ہو
دیکھئے پھر اس بلندی کا نتیجہ
صرف گرنا اوندھے منہ یا سر کے بل
یا چار زانو منحصر اس بات پر ہے
یہ تنزل، خفّت و ذلت ہے یا پھر
کورنش ہے خود سے اک بالا نشیں کی !!
جو بھی کچھ ہے
خاکساری، سجدہ ریزی، چاپلوسی، چاکری ہے!
ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
Categories
شاعری

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شعر

 

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

نظم

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں؟ یہاں کے کہ وہاں کے؟
دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس و لا محسوس؟
فطری ہیں کہ خاکی ہیں؟ کہ ایتھر (ether) ہیں کہ صوری؟

 

کیا زیرِ فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟
یہ ’دونوں جہاں‘ ہیں بھی کہاں؟ دیکھنا یہ ہے
شاعر کے تصّور میں کہیں
ان کا مکاں اور زماں
حاضر و موجود بھی
اور مخفی و پنہاں بھی ہے اس اپنے جہاں سے؟

 

‘سمجھے’ سے کیا مقصود ہے؟
اک صاف، سیدھی بات؟
یا صرف ’شُبہ‘؟ صرف ’تاثر‘؟
’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟
کیا ایک ہے؟
یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟
(اللہ! مجھے بخش!)
غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے سخن میں
(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)
شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے‘ کا عقدہ!
دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں
”وہ سمجھے ہے“ شاید ہو یہ جملے کا مخفف
اک گردشِ معکوس ہے ”سمجھے“ کی حقیقت !
کیا واقعی یہ صیغہ واحد میں ہے، اللہ!
“گنجینہِ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے!”

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ
جانچیں تو ذرا ”شرم“ یا ”تکرار“ کی قیمت!

 

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا اور بس
تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان
یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر
اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری
اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا
ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت
اللہ کا ہی روپ تھا یہ بھولتا کیسے!

 

وہ چاہتا تو اپنا سرِ عجز جھکاتا
پھر سجدے میں گرتا
تعظیم سے پھر کہتا، “یہ کافی نہیں، مولا
دونوں جہاں؟ ہاں، مگر یہ خاک بصری تو
مجھ آدمِ خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
کچھ ”نور“ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!”

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!”

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

عالم تمام حلقۂ دام ِ خیال ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مصرع

 

عالم تمام حلقہ ٔ دام ِ خیال ہے

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

الفاظ کی فہرست

 

عالم تمام: مافیہا، آفاق، کائنات؟
عالم تمام: تارکا منڈل، نظام ِ شمس؟
عالم تمام: روئے زمیں، زیرِ زمیں، سمک
عالم تمام: فوٹو اسفیّر (Photo sphere ) کرومو زون (chromo zone)
دامِ خیال : کشف و گماں کا فن و فریب
دامِ خیال: خود سے پخت و پزکا چھل کپٹ
دامِ خیال : فکر ِفی نفسہ کا زاد بوم
دامِ خیال : فہم کا اک خوابِ تہی مغز

 

نظم

 

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں کہو
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
کیسی ہے با قرینہ، مرتب یہ تبعیت؟

 

مانا کہ ذہن غیر معروضی ہے اک مقام
مانا کہ اس کی عیینت ہے عالم مثال
مانا کہ ایسٹَرل (Easterl) ہے وہ ایتھرک (Etheric)نظام
جس میں جہان اکبر و اصغر بھی ہیں مقیم
لیکن میاں ، یہ فلکِ اثیر ایٹموں کی اصل
اور آدمی کا ذہن فقط اثریت کا دام
شعری غلو سے بڑھ کے نہیں ہے یہ انضمام !