Categories
شاعری

اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ‘یا رب’ ہا

 

نظم

 

قوافی ’رب‘ و ’تب‘، ‘مطلب’، ردیف اک صوت، یعنی ‘ہا’
عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسمِ واحد ۔۔۔ اور ‘ہا’ اس پر
(برائے ‘جمع’ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی)
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا “ربّ ہا” غلط العام ہو گا یا کہ “یا ربّ ہا”؟
کہ دونوں ہی غلط ہوں گے؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی
دونوں جانب ‘واؤ’ کے دو حرف یا “واوَین” لکھ کر
لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!
چلیں چھوڑیں کہ ‘یا ربّ’ کو
فقط ‘یک صوت’ ہی سمجھا گیا ہے، یک نعرہ
کلمہِ تشہد!
تو “یا ربّ ہا” کو بالّسان ہی سمجھیں!

 

چلیں پیچھے؟

 

“اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے”
یقیناً ہے!
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔۔۔۔
یقیناً مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ ‘درد’ کا؟
‘درد آشنائی’؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغِ نا روا کیا ہے!

 

“غرض” کو بھی ذرا دیکھیں
“غرض” ۔۔۔۔ تخفیف ۔۔۔۔ “غرضیکہ” کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
کہ ‘غرضیکہ’ کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!
“غرض” کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے “نالہ ناقوس” ۔۔۔۔۔۔شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک ’شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
لانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے۔۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرضِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں۔۔۔۔
نمازِ با جماعت کا بلاوا، یااذاں آہنگِ شیریں میں!
تو گویا ‘نالۂ ناقوس’ میں ‘نالہ’
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ ‘یا ربّ ہا’
چلیں، ‘یا ربّ’ سے ‘ہا’ کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں!

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے!

 

“نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
وہی آواز “اللہ ایک ہے”،(دُوجا نہیں کوئی!)

 

تو یہ ناقوس ہو۔۔۔۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نمازِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا، لوگو!

 

(غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ)
Categories
شاعری

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ
اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

 

نظم

 

غرّہ کیا ہے؟
خود پسندی؟
اینڈنا؟ کج خلق ہونا؟ ادّعا، “میَں پن”
دکھاوا؟
زائد از امکاں بلندی، خود پسندی
اور اس پندار کی تشہیر ۔ “پھُوں پھاں”
طنطنہ، شیخی، دکھاوا
شہروں شہروں، ملکوں ملکوں
اپنی خلعت، کلغی، وردی کی نمائش
بانس کی ٹانگوں پہ چلتا ایک سرکس کا کھلاڑی
لاف زن، مغرور، متکبر، مدّمغ!

 

‘عالمِ امکاں‘ کی گربنیاد یہ ہو
اس بلندی کا اگر میزاب یہ ہو
دیکھئے پھر اس بلندی کا نتیجہ
صرف گرنا اوندھے منہ یا سر کے بل
یا چار زانو منحصر اس بات پر ہے
یہ تنزل، خفّت و ذلت ہے یا پھر
کورنش ہے خود سے اک بالا نشیں کی !!
جو بھی کچھ ہے
خاکساری، سجدہ ریزی، چاپلوسی، چاکری ہے!
ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
Categories
شاعری

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شعر

 

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

نظم

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں؟ یہاں کے کہ وہاں کے؟
دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس و لا محسوس؟
فطری ہیں کہ خاکی ہیں؟ کہ ایتھر (ether) ہیں کہ صوری؟

 

کیا زیرِ فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟
یہ ’دونوں جہاں‘ ہیں بھی کہاں؟ دیکھنا یہ ہے
شاعر کے تصّور میں کہیں
ان کا مکاں اور زماں
حاضر و موجود بھی
اور مخفی و پنہاں بھی ہے اس اپنے جہاں سے؟

 

‘سمجھے’ سے کیا مقصود ہے؟
اک صاف، سیدھی بات؟
یا صرف ’شُبہ‘؟ صرف ’تاثر‘؟
’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟
کیا ایک ہے؟
یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟
(اللہ! مجھے بخش!)
غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے سخن میں
(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)
شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے‘ کا عقدہ!
دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں
”وہ سمجھے ہے“ شاید ہو یہ جملے کا مخفف
اک گردشِ معکوس ہے ”سمجھے“ کی حقیقت !
کیا واقعی یہ صیغہ واحد میں ہے، اللہ!
“گنجینہِ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے!”

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ
جانچیں تو ذرا ”شرم“ یا ”تکرار“ کی قیمت!

 

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا اور بس
تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان
یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر
اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری
اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا
ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت
اللہ کا ہی روپ تھا یہ بھولتا کیسے!

 

وہ چاہتا تو اپنا سرِ عجز جھکاتا
پھر سجدے میں گرتا
تعظیم سے پھر کہتا، “یہ کافی نہیں، مولا
دونوں جہاں؟ ہاں، مگر یہ خاک بصری تو
مجھ آدمِ خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
کچھ ”نور“ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!”

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!”

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

عالم تمام حلقۂ دام ِ خیال ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مصرع

 

عالم تمام حلقہ ٔ دام ِ خیال ہے

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

الفاظ کی فہرست

 

عالم تمام: مافیہا، آفاق، کائنات؟
عالم تمام: تارکا منڈل، نظام ِ شمس؟
عالم تمام: روئے زمیں، زیرِ زمیں، سمک
عالم تمام: فوٹو اسفیّر (Photo sphere ) کرومو زون (chromo zone)
دامِ خیال : کشف و گماں کا فن و فریب
دامِ خیال: خود سے پخت و پزکا چھل کپٹ
دامِ خیال : فکر ِفی نفسہ کا زاد بوم
دامِ خیال : فہم کا اک خوابِ تہی مغز

 

نظم

 

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں کہو
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
کیسی ہے با قرینہ، مرتب یہ تبعیت؟

 

مانا کہ ذہن غیر معروضی ہے اک مقام
مانا کہ اس کی عیینت ہے عالم مثال
مانا کہ ایسٹَرل (Easterl) ہے وہ ایتھرک (Etheric)نظام
جس میں جہان اکبر و اصغر بھی ہیں مقیم
لیکن میاں ، یہ فلکِ اثیر ایٹموں کی اصل
اور آدمی کا ذہن فقط اثریت کا دام
شعری غلو سے بڑھ کے نہیں ہے یہ انضمام !
Categories
شاعری

آتش و آب و باد و خاک نے لی

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر
آتش و آب و باد و خاک نے لی
وضعِ سوز و نم و رم و آرام
نظم
آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
ما وطِین و طبیعیاتِ ِ زمیں
عنصری، چار دانگِ عالم میں
غیر شخصی زمین و کون و مکاں
ثقل ہویا سبک، کثیف و لطیف
اپنی بنیادمیں ہیں چار فقط!
اثریت کا نہیں کوئی بھی وجود
صرف اجزائے دیمقراطیسی
“آرکی ٹائپ” ہیں سبھی اجزاء
آتش و آب و باد و خاک سمیت
اِس جگہ، اُس جگہ، یہاں اور وہاں!

 

آب ‘نم’، باد ‘رم’، و آتش ‘سوز’
خاک چسپیدہ ، ٹھس، فقط ‘آرام’
ہاں، مگر غالب حزیں کے لیے
جذبہ و جوش کے ظوا ہر تو
رنج، دکھ، درد کی علامتیں ہیں
آب، آنسو ہیں، جلتے تپتے ہوئے(1)
آب شبنم ہے، لمحہ بھر کی حیات(2)
خاک سے کیا ہوا کا رشتہ ہے
جانئے گا تو رویئے گا، جناب ۔۔۔
‘سوز’ اور ‘رم’ سے ہے یہی مقصود! (3)
‘آب’، ‘آتش’، ‘ہوا’ سے خاک تلک
ہے سبک گام زندگی ہر دم (4) (5)
“ہے ازل سے روانی ءِ آغاز
ہو ابد تک رسائیٔ انجام”!

 

حوالے کے اشعار
1۔ آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے
سر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر
2۔ پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
3۔ مگر غبار ہوئے پر ہوا اُڑا لے جائے
وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
4۔ ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
5۔ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا
روتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا
Categories
شاعری

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
الفاظ کی فہرست
‘بس کہ’ یعنی’ کہ عیاں ہے یہ بات’
‘کام’ یعنی کہ’ کوئی کارِ حیات’
کاروائی کوئی، کارگزاری کوئی فعل
اس کی تکمیل، نیابت نہیں ’آساں‘، یعنی
کوئی بھی کام ہو، ’دشوار‘ سدا ہوتا ہے
نظم
یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
ایک حیوان جو ‘ناطق’ تو ہے، لیکن پھر بھی
‘جیِنز’ میں اپنے وہی علم الابدن رکھتا ہے
جسے ہم عالمِ ناسوت کے اس بخرے میں
‘چلتی پھرتی ہوئی مخلوق’ کہا کرتے ہیں
جسم و خوں، گوشت، تنفس وہی، تجسیم وہی
وہی راحت، وہی تکلیف، وہی سُکھ، وہی دُکھ
تپ وہی، یخ وہی، مرطوب وہی، خشک وہی
فرق، ہاں، ہے تو سہی، سمجھیں تو۔۔۔۔
“آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا”!

 

اِنس کیا ہے؟ فقط ہم وضعی؟
ذات یا شکل میں ملحق ہونا
نسلِ آد م کا ہی نطفہ ہونا؟
جی نہیں۔۔۔۔
“اِنس”، انسان کا وہ خاص توافق ہے، کہ جو
نسلِ آدم کو ہی ’انسب‘ میں بدل دیتا ہے
بہتری، شستگی، تہذیب، ثقافت جس کے
سولہ سنگھار ہیں، زیبائی، دلآرائی ہیں
خیر، انصاف، صدق، صلح صفائی جس کے
لعل، پکھراج ہیں، ہیرے ہیں، کھرے موتی ہیں
نیک پروین کوئی، نابغہ، ابطال کوئی
یہی ‘انسان’ ہے، جس کے لیے شاعر نے یہاں
جزع و فزع میں شاید یہ لکھا ہے مصرع
“آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا”
Categories
نان فکشن

قاری اساس تنقید – ایک وضاحتی نوٹ

پس ساختیاتی اسکول کے مطابق کسی بھی شعری متن کو تنقید کے عمل سے گذارنے کا صحیح طریق کار اس میں اجزاء کے بہم دگر پیوست ہونے کے عمل کی پرکھ ہے، جو اس کے لسانی نظام کو خشت بر خشت عمارت کی طرح پیوستہ رکھتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید (Virtual Textual Practical Criticism) کی ایک جہت، یعنی ہیئتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہو گا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی قرآت کے عمل کی کشید ہے اور زمان اور مکان کے لامحدود فاصلے معنی آفرینی کو کچھ کا کچھ بنا سکتے ہیں تو یہ بات لگ بھگ طے ہو گئی تھی کہ خلق ہونے کے بعد تخلیق نہ صرف ایک آزاد اور خود کفیل اکائی بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسی اکائی معرض وجود میں آتی ہے جس کا تعلق اپنے خالق سے قطع ہو چکا ہے، بلکہ ہر نئے ماحول میں یہ ‘کارگہۂ شیشہ گری’ اپنا الگ وجود رکھتی ہے۔ کسی بھی شعری متن کی “خود مکتفیت” کو تسلیم کرنا قاری اساس تنقید کا بنیادی اصول ہے۔ قاری اِسے اپنے وقت اور ماحول کی عینک سے دیکھ اس میں ریاضیاتی درستگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی بات کر سکتا ہے اور انجانے میں ہی اپنے زمان و مکان سے ماخوذ رسم و رواج، سوچنے اور رہن سہن کے طریقے کو اس متن پر منظبق کر کے اپنے معانی ۔۔ اس پر آویزاں کر سکتا ہے۔ پس ساختیاتی تنقید نے بھی بارتھ کے اس نظریے میں خامیاں تلاش کی تھیں کہ صرف اسٹرکچر (پیاز کے چھلکوں کی تاویل) پر ہی انحصار رکھ کر کسی گٹھلی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس لیے پس ساختیاتی اسکول کے مطابق کسی بھی شعری متن کو تنقید کے عمل سے گذارنے کا صحیح طریق کار اس میں اجزاء کے بہم دگر پیوست ہونے کے عمل کی پرکھ ہے، جو اس کے لسانی نظام کو خشت بر خشت عمارت کی طرح پیوستہ رکھتا ہے۔اس طرح پس ساختیاتی تنقید شرع و تفسیر کے عمل میں قاری اساس تنقید کے طریقِ کار کی اصل شروعات تسلیم کی گئی ہے۔

 

قاری اساس تنقید (Virtual Textual Practical Criticism) وقت کے دریا کو پار کرنے کے لیے اس پُل کا کام کرتی ہے جو کسی بھی متن کو زمانۂ حال کی خارجی دنیا سے براہ راست متعلق کر دیتی ہے۔اس طریق کار میں کسی بھی متن کی معنیات کو “تخلیق” یا “فصل” کا نام دے کر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ کوئی بھی قاری، کہیں رہتا ہوا قاری، کسی بھی زمانے کا قاری، اس ’فصل‘ کو اپنے زمان اور مکان کے ’سابق اور حال‘ سے رشتہ جوڑتا ہوا حق بجانب ہے کہ اس سیاق و سباق میں اسے پرکھ کی کسوٹی پر رکھ کر اپنا کام کرے۔ نظم کا رشتہ جو شاعر سے قائم تھا، اس وقت ہی منقطع ہو گیا تھا جب وہ معرض ولادت میں آئی تھی۔ اس وقت کی حقیقت آج کی فرضیت نہیں، آج کی حقیقت ہے۔

 

تین نئی اصطلاحات جو اس سلسلے کی کڑیاں ہیں، وہ ہیں، (۱)قاری (۲)قرآت کا طریق کار اور (۳) ردِ عمل …اس میں قاری کا قرآتی طریقِ کار اوّلیں اہمیت کا حامل ہے۔اس عمل کے دوران قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متن کی شکست و ریخت کرے، ایسے ہی جیسے کسی عمارت کو ڈھا کر اس کا ملبہ بکھرا دیا جاتا ہے۔ پھرموضوع کی سطح پر اپنے مطالعے، تجربے اور ذاتی ترجیحات کے پیمانوں سے اس کی مناجیات کی قدر و منزلت کو پرکھے اور اس کی نئی تعریف بھی متعین کرے۔ اس کام کے دوران میں دو عوامل کا ظہور ناگزیر ہے۔ پہلا عمل تشکیلی ہے اور اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پرانے متن اور نئے قاری کے مابین معنویت کی مصالحت کا سمجھوتا قرار پا جائے۔ دوسرا موضوع سے متعلق ہے کہ قاری کو یہ کلّی اختیار ہے کہ وہ متن کی تشریح (توسیع کی حد تک) اپنی منشا کے مطابق کرے۔

 

زمان و مکان کی توسیع کا عمل اتنا تیز تر ہے کہ کاغذ کے پرزے پر تحریر کردہ متن کی خود مرتکزیت صرف ادب کے مورخ اور محقق پر انحصار رکھ سکتی ہے، عام قاری پر نہیں۔
ایک پروفیسر کے طور پر میرا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ یہ کام قاری سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا کہ متن کے لسانی اور ہیئتی نظم کو کھنگال کر “آج” کے سیاق و سباق میں اس کے معنی تلاش کرے۔ متن کی معینہ صورت صرف کاغذ کے ایک پرزے پر ہے یا ایک کتاب میں ہے۔ زمان و مکان کی توسیع کا عمل اتنا تیز تر ہے کہ کاغذ کے پرزے پر تحریر کردہ متن کی خود مرتکزیت صرف ادب کے مورخ اور محقق پر انحصار رکھ سکتی ہے، عام قاری پر نہیں۔ تعلیق کے ہر دم رواں دواں عملِ مسلسل سے گذرتے ہوئے اس متن کے معانی دن رات تغیر پذیر رہتے ہیں اور یہ نئے نئے معانی کے غلاف اوڑھتا اور اُتارتا رہتا ہے۔ قرآت کے عمل کی تھیوری الفاظ کے باہم رشتوں کو سمجھ کر، اور انہیں اپنے آس پاس کی سچائیوں سے منسلک کر کے ایک ایسی صورتحال کو کھوج نکالتی ہے جو قاری کی سچائی ہے اور آج کی سچائی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے، جس میں قاری اور متن مصافحہ کرتے ہیں،اور گلے ملتے ہیں۔ قاری متن کے ہاتھ کی گرفت اور اس کے جسم کی لطافت کو محسوس کرتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ کو متن کے جسم پر پھیر کر ہر اس عضو کو ٹٹولتا ہے جو اس کے خیال میں اہم ہے۔ یہ اعضا الفاظ ہیں جو عبارت میں پروئے ہوئے ہیں۔ان میں صرفی، نحوی،تصریفی، ملّخص، منصرف، قواعدی صفات ہیں۔اسی عبارت میں روز مرہ، محاورہ، مرصع انشاء، تلطیف عبارت، ضرب المثل، مصطلحات وغیرہ بھی ہیں، جچے تُلے الفاظ بھی ہیں، ماقل و دل، من وعن تطبیق الفاظ بھی ہے اور ’’مولویت‘‘ بھی….. بقول وہ خصوصیت بھی ہے جسے وہ Intentional Sentence Correlativesکہتا ہے، یعنی جہاں مصنف نے intentionally یعنی جان بوجھ کر (بوجوہ) اپنے متن میں شکست و ریخت یا دوبارہ عمارت سازی کا جتن کیا ہے، گویا کہ ملبے کے اوپر ہی ایک نیا محل تعمیر کر لیا ہے۔ (غالب کے ہاں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے)۔ انگریزی میں سترھویں صدی کے وسط میں میٹا فزیکل شعرا (ڈّنؔ وغیرہ) کے ہاں بھی یہ خوبی بکثرت ملتی ہے۔ ۔۔

 

اب اگر اپنی تخلیق کے وقت ایک نظم یا غزل کا ایک شعر کسی طلسم کدے کی نقاب کشائی کرتا بھی تھا، تو آج وہ نا پید ہے۔ قاری کے حیط ادراک میں اس کا آنا ایسے ہی ہے جیسے آج کے جودھپور میں رہنے والے کسی قاری نے شیلےؔ کے اسکائی لارک کوواقعی اڑتا ہوا دیکھ لیا ہو۔ یا ایک خشک خطے میں بسے ہوئے قاری کو ، جسے سمندر یا سمندری جہاز اور اس کی deck کبھی دیکھی ہی نہ ہو، یہ سطر سمجھنے میں کیا دشواری پیش نہیں آ سکتی ہے اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔The boy stood on the burning deck ….مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ قاری کا فرض قطعاً یہ نہیں ہے کہ وہ علامت اور ایہام کے نقاب میں پوشیدہ اس چہرے کی صحیح (یا کم از کم ’نقل برابر اصل‘) شناخت کرے جو شیلےؔ نے اپنے خوابِ بیداری میں یا افیون کے نشے میں کسی کالریجؔ نے دو صدیاں پہلے اپنے نشہ آور خواب میں دیکھا تھا۔