اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

ستیہ پال آنند: نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!
عالم تمام حلقۂ دام ِ خیال ہے

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں کہو
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
آتش و آب و باد و خاک نے لی

آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
قاری اساس تنقید — ایک وضاحتی نوٹ

قاری اساس تنقید وقت کے دریا کو پار کرنے کے لیے اس پُل کا کام کرتی ہے جو کسی بھی متن کو زمانۂ حال کی خارجی دنیا سے براہ راست متعلق کر دیتی ہے۔