Categories
شاعری

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”
گویا جبیں پہ سجدہ ءِ بت کا نشان نہیں!!

 

نظم

 

لمبی نہیں ہے سرنوشت، روداد عمر کی
قصّہ، کہانی، داستاں، نقشہ حیات کا
فہرست پاپ پُنیہ کے کرموں کی تا حیات
گویا ہو خود نوشت کوئی روزنامچہ!

 

اے منکر و نکیر، جو تم دیکھ رہے ہو
یہ ڈاری نہیں ہے مرے سہو و گناہ کی
خالی ہی اک ورق ہے، کوئی تذکرہ نہیں
میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں، لکھتا بھی تو کیا!

 

ہاں، سامنے زمیں پہ جو گہرے نشان ہیں
(شاید تم ان کو دیکھ نہیں پائے، فرشتو!)
یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
اب بھی زبانِ حال سے کہتے ہیں داستان
اُن سجدوں کی جو کرتا رہا ہوں میں عمر بھر!
کافی نہیں ہے کیا مری سچی یہ سر نوشت؟
(اس نظم میں دو بحور کے امتزاج کا چلن روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!
رحمت کہ عذر خواہ لب ِ بے سوال ہے

 

نظم

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!

 

یہ عذر خواہ لب کہ ہے ہشیار بھی بہت
اور چاہتا بھی ہے کہ وہ تاویل پا سکے
اور دیکھ سکے کون سا پردہ ہے درمیان
مخفی ہے جس کے پیچھے وہ آئینہ ٔ معاد
جو اس کو ‘انت کال’ سے آگاہ کر سکے
‘فرداودی کا تفرقہ’ یک دم مٹا سکے
کل کے طلوع ہونے سے کچھ قبل یہ جواب
گر اس کو مل سکے تو وہ ‘پرواز’ کے لیے
قدر وقضا کے ہاتھ میں اپنی عنان دے!!!

 

رحمت ہو مجھ پہ ،میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب کمال ہے!!
Categories
شاعری

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورَق گردانی ٔ نیرنگِ یک بُت خانہ ہم

 

محفلیں: اجماع، تقریبیں،نشستیں، دعوتیں
عام مجمع؟ خاص مجلس؟ حلقہ ٔ احباب؟ جلسہ؟
کس جگہ پر؟
مندر و مسجد؟ کلیسا ؟
کوئی چوراہا؟ گلی؟ گھر؟ گھر کی بیٹھک؟
جی نہیں! جائے وقوعِ طائفہ باہر نہیں ہے۔۔۔
ذہن میں ہے!

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !

 

اور جب بھی
بے خطا، بے داغ، صالح، بھولا بھالا
شاعرِ محمود غالبؔ
واحد و یکتا خدا کی فردیت کو
سینکڑوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھتا ہے
اور اس نیرنگی ٔ مشہود کو پہچانتا ہے
(تب یہی اک فکرِ فی نفسہ)
زاہدِ سالوس، جوئے باز اس کو
اس ‘ورق گرادنی ٔ نیرنگِ یک بت خانہ’ سے
محدوف کر دیتا ہے، یعنی
کثرت آرائی میں وحدت دیکھنے کی
اس کی عادت میں مخل ہوتا ہے ہر دم !
Categories
شاعری

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتمال روا رکھا گیا)

 

نظم

 

موسیقیت ‘صدا’ بھی ہے اور راگ رنگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی

 

یہ “وہ صدا” ہے جس کی سماعت ہے جاں فزا
لے، تال ، سُرکی نغمگی، لفظوں کا ہیر پھیر
‘کن رس’ ہے، روح و جوع کا شیریں ملاپ ہے
ہو مرثیہ کہ حمدکہ سوز و سلام و نعت
اس کی اساس ‘گت’ ہو کہ ‘استھائی’ ہو کہ ‘کھرج’
ہو ‘لے’ میں یا ‘ولمپت’ و ‘مَدھ’، میں کہ ‘تال’ میں
اصناف میں ہو ‘دادرا’، ‘ٹھُمری’، کہ اک ‘خیال’
سب “ایک” ہیں کہ ان کی صدا “صرف” ایک ہے!

 

جو بھی ہو، یہ ’صدا‘ تو ہے لفظوں کا شعشعہ
کانوں میں رس کو گھولتی، “رس کھان”۔۔۔۔ سحر کار
ایسی صدا تو جان کے ابقا کی ہے دلیل
پھر کیوں نکلنے لگتی ہے آناً دمِ سماع
یہ جان مرے تن کے وجودی حصار سے؟

 

شاعر کا یہ سوال تو سیدھا ہے، صاف ہے
اس کا جواب بھی کوئی ٹیڑھا نہیں، جناب
غالب “خوشی میں مرنے (1) کا مضمون باندھ کر
شاید یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ فرق ہی نہیں
شعر و سخن کے ۔۔۔۔ اور موسیقی کے درمیاں!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Categories
شاعری

اسد بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ، ہم تصویرِ عریاں ہیں

 

نظم

 

“اسدؔ” خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید
یہ کوئی اور ہی ہے جو اسے تلقین کرتاہے!
“اسدؔ” خود سے مخاطب ہو بھی سکتا تھا
مگر اک لفظ “ہم” جو مصرعِ ثانی میں آیا ہے
ہمیں گویندہ یا ناطق کی بابت شک میں رکھتا ہے

 

اگر تم حاضر و موجود ہو ’بزمِ تماشا’ میں
(وہ کہتا ہے)
تو اس سے بے مروّت ہو نہیں سکتے
تغافل کیش رہنا، بے رخی، غفلت برتنا تو
اک ایسی ‘پردہ داری’ ہے، کہ جس میں تم
مری بزمِ تماشا سے
تعلق توڑ کر کچھ بھی نہ پاؤ گے!

 

کہ یہ ‘بزمِ تماشا’ تو
اسی اپنے تماشے میں مگن ہے روزِ اوّل سے
اگر تم ایسے نا اندیش ہو جس نے حقیقت سے
خود اپنے آپ کو یوں سینت کر رکھا ہے
آنکھیں بند کر لی ہیں
کہ اب کچھ بھی نہ دیکھو گے
تو یہ سمجھو، وہ کہتا ہے
“اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ۔۔۔۔۔۔ ہم تصویرِ عریاں ہیں”
کہ بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی ’ہم‘ کو دیکھ پاؤ گے!

 

تخاطب تو یقناً اپنے شاعر سے ہے، لیکن غور سے دیکھیں
کہ کہنے والا آخر کون ہے، جو “میں” نہ کہہ کر
“ہم” کے اسمِ معرفہ، یعنی۔۔۔۔
ضمیرِ جمع متکلم کی صورت میں ہی اپنا ذکر کرتا ہے؟

 

صریحاً ایک ہے۔۔۔ اللہ
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
“اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!”
Categories
شاعری

اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ‘یا رب’ ہا

 

نظم

 

قوافی ’رب‘ و ’تب‘، ‘مطلب’، ردیف اک صوت، یعنی ‘ہا’
عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسمِ واحد ۔۔۔ اور ‘ہا’ اس پر
(برائے ‘جمع’ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی)
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا “ربّ ہا” غلط العام ہو گا یا کہ “یا ربّ ہا”؟
کہ دونوں ہی غلط ہوں گے؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی
دونوں جانب ‘واؤ’ کے دو حرف یا “واوَین” لکھ کر
لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!
چلیں چھوڑیں کہ ‘یا ربّ’ کو
فقط ‘یک صوت’ ہی سمجھا گیا ہے، یک نعرہ
کلمہِ تشہد!
تو “یا ربّ ہا” کو بالّسان ہی سمجھیں!

 

چلیں پیچھے؟

 

“اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے”
یقیناً ہے!
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔۔۔۔
یقیناً مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ ‘درد’ کا؟
‘درد آشنائی’؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغِ نا روا کیا ہے!

 

“غرض” کو بھی ذرا دیکھیں
“غرض” ۔۔۔۔ تخفیف ۔۔۔۔ “غرضیکہ” کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
کہ ‘غرضیکہ’ کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!
“غرض” کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے “نالہ ناقوس” ۔۔۔۔۔۔شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک ’شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
لانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے۔۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرضِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں۔۔۔۔
نمازِ با جماعت کا بلاوا، یااذاں آہنگِ شیریں میں!
تو گویا ‘نالۂ ناقوس’ میں ‘نالہ’
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ ‘یا ربّ ہا’
چلیں، ‘یا ربّ’ سے ‘ہا’ کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں!

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے!

 

“نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
وہی آواز “اللہ ایک ہے”،(دُوجا نہیں کوئی!)

 

تو یہ ناقوس ہو۔۔۔۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نمازِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا، لوگو!

 

(غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ)
Categories
شاعری

جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

ہے وہی بد مستیءِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

 

الفاظ کی فہرست

 

عذر خواہی: حیلہ جوئی، ادعا، کچھ لیپا پوتی
عذر : عذرِ لنگ بھی، تلبیس بھی، تحریف بھی، اور
عذر:کج فہمی، غلط تشریح، ژولیدہ جُگَت، جھوٹا بہانہ!

 

نظم

 

کیسی یہ
تلطیف ہے ؟ اس استعارے کا اشارہ کس طرف ہے؟
کیا ہے وہ ؟ (یا کون ہے؟) ’’ذرّہ‘‘ کہ جس کی
داستاں بد مستیوں کی ایسے دہرائی گئی ہے
جیسے ہر کوئی اسے پہچانتا ہو!

 

ذرّہ، یعنی رائی بھر اک جسمیہ،اک برقیہ، ریزہ، تراشہ
اربوں کھربوں کے تعدد میں فقط اکلوتا خلیہ
ذرّیت، احفاد، آل اولاد، وارث ۔۔۔۔
سلسلہ موروثیت، ابنِ فلاں، ابنِ فلاں
اک فرد، یعنی آب و خاک و ریح کا پُتلی تماشا!

 

کیسی ہیں بدمستیاں یہ؟ جن کی خاطر
عذر خواہی اہم ہے اس کے لیے جو
جلوہ گر خود ہے زمیں تا آسماں ۔۔۔۔۔
جس کا ظہورہ قطعی، بیّن تو ہے پر اشہر و واضح نہیں ہے!
یہ سناتن، جاودانی، امر روپی دائمی اللہ ہے جو عذر خواہ ہے
اِس بشر، پل چھن کے باسی، آدمی کی
شیطنت کا، ناروا بد مستیوں کا!

 

کیوں بھلا؟ پوچھیں براہِ راست غالبؔ سے ہی
آخروجہ کیا تھی؟
اس لیے شاید کہ اس’بد مست‘ کا خالق وہی ہے
“جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے”
غفران کا عادی ہے جو۔۔
اور مغفرت جس کا طریقِ کار ہے۔۔۔۔
پر یہ بشارت
جانے کیوں گنجینہِ معنی کا مالک
غالبِ لفّاظ شاید دیتے دیتے رُک گیا ہے