Categories
شاعری

عشرہ / لونٹھا پولیس

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ان کی سیٹیوں الارموں ہوٹروں شوٹروں کے چلو میں
ٹریفک کا شور ڈوب مرنے کی جگہ ڈھونڈتا ہے

 

ملٹی نیشنلوں کے نیون سانپوں کو سالم نگل جاتے ہیں
ان کی نیلی پیلی چھپکلیاں لال ہرے اژدھے

 

عربی فرنچی داڑھیاں، نیچے سے موثر جرمن رانیں
ڈھیلے ماٹھے لینڈ لارڈ ہو جاتے ہیں انہیں تکتے ہی ہارڈ
ایسوں ویسوں کو اوقات سے بڑھ کے لفٹ نئیں دیتے
ہلکی رشوت پھلکی سفارش گھٹیا گفٹ نئیں لیتے

 

ملین ڈالر مین کے جیسی بائیک ہے ان کے نیچے
بگٹٹ بھاگ نکلتے ہیں کسی ادھیے والے کے پیچھے
Categories
نقطۂ نظر

جنسی استحصال کا شکار مستقبل

یہ معاملہ محض پنجاب حکومت یا پنجاب پولیس کی نااہلی اور عدم تعاون کا نہیں، یہ معاملہ شہباز شریف، میاں محمود الرشید اور سراج الحق کے بیانات اور گنڈا سنگھ والا نامی گاوں پہنچنے والی اہم شخصیات کا بھی نہیں، یہ معاملہ چند روزہ خبری ابال کا بھی نہیں، یہ معاملہ صرف 234 بچوں کا بھی نہیں بلکہ یہ معاملہ پنجاب، پاکستان، جنوبی ایشیا اور اس پوری دنیا کے بچوں کا ہے جنہیں مختلف اوقات میں، مختلف طرح سے مختلف مقامات پر جنسی تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس دنیا کے ان تمام بچوں کا معاملہ ہے جو اپنے گھر، سکول یا علاقے میں غیر محفوظ ہیں۔ یہ ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے جو جنسی تشدد اور جنسی استحصال کا شکار ہورہا ہے۔
قصور واقعہ کی تفصیلات صرف انتظامی نااہلی یا کسی ایک سیاسی جماعت یا پولیس اہلکار کی ناکامی نہیں بلکہ ایک زیادہ پیچیدہ اور سنگین مسئلے کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ جنسی جرائم اور جنسی استحصال کو ایک معمول کا مسئلہ سمجھنا، جنسی جرائم کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کا اس معاملے کو چھپانا اور ان جرائم کے تدارک اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں حائل مشکلات صرف قصور واقعے کے لیے مخصوص نہیں۔ جنسی جرائم سے اغماض کا رویہ صدیوں پرانے سماج کی فرسودہ اخلاقیات کا شاخسانہ ہے اور ہر جگہ موجود ہے۔ یہ معاملہ پاکستان میں جنسی جرائم کے معاملے میں روا رکھے جانے والے غیر انسانی رویے کا بھی اظہار ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کا معاملہ اب محض جنسی تسکین کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار چند جنسیت زدہ افراد یا نفسیاتی مریضوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے جس کی جڑیں پاکستان کے ہر خطے میں موجود ہیں۔ اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا سامنے آنے والا پہلا بڑا واقعہ ہے جس میں جنسی زیادتی کے ارتکاب کے بعد مالی فوائد حاصل کرنے کی اس بڑے پیمانے پر کوشش کی گئی ہے لیکن بچوں سے جنسی زیادتی اور اس عمل کو حاصل تحفظ نیا نہیں ہے۔ عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو نظر انداز کردینے کی روایت نے بچوں اور عورتوں کے لیے اس معاشرے کو غیر محٖفوظ بنادیا ہے۔
جنسی جرائم کا شکار ہونے والے افراد کو بدنامی، ذلت اور تضحیک کے جس تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے وہ انہیں جرائم کو سامنے لانے اور مجرموں کو سزا دلانے کی بجائے واقعہ چھپانے اور درپردہ صلح کرنے پر مجبور کرتا ہے
قصور واقعے کے دو پہلو بے حد اہم ہیں؛ ایک قانون نافذ کرنے والے اداروں اورحکومت کی جانب سے جانبداری، غفلت اور بے حسی کا مظاہر ہ اور دوسرا متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کا ان جرائم کو مختلف وجوہ کی بناء پر چھپانا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ، حکومت، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جنسی جرائم کوروایتی نقطہ نگاہ سے دیکھتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنسی جرائم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد اس معاملے کو دبانے اور متاثرہ فرد اور مجرم کے اہل خانہ کے درمیان صلح کی کوشش نظام انصاف میں ہر سطح پر کی جاتی ہے جو بذات خود ایک سنگین مسئلہ ہے۔ تھانے سے لے کر عدالت تک ہر جگہ جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والون کے پاس خود کو بچانے کے بے شمار راستے ہیں۔ جنسی جرائم کا شکار ہونے والے افراد کو بدنامی، ذلت اور تضحیک کے جس تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے وہ انہیں جرائم کو سامنے لانے اور مجرموں کو سزا دلانے کی بجائے واقعہ چھپانے اور درپردہ صلح کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
جس سنگدلانہ انداز میں ٹی وی چینلز پر ان بچوں اور ان کے اہل خانہ کو اس واقعے کے حوالے سے اپنے تاثرات اور احساسات کے اظہار پر مجبور کیا گیا ہے وہ تکلیف دہ حد تک غیرذمہ دارانہ رویہ ہے
ایسے واقعات کی رپورٹنگ کے دوران اردو صحافت کا رویہ نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔ قصور واقعے کی رپورٹنگ کے دوران انگریزی اخبارات کے سوا کسی چینل یااخبار کے رپورٹر خواتین و حضرات میں اس حوالے سے حساسیت یا انسانیت کی رمق دکھائی نہیں دی۔ ذرائع ابلاغ پر اس واقعے کی رپورٹنگ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہمارے ہاں جنسی جرائم پر بات کرنے اور ان کے خلاف لوگوں میں حساسیت پیدا کرنے کے لیے درکار شعور موجود نہیں۔ جس سنگدلانہ انداز میں ٹی وی چینلز پر ان بچوں اور ان کے اہل خانہ کو اس واقعے کے حوالے سے اپنے تاثرات اور احساسات کے اظہار پر مجبور کیا گیا ہے وہ تکلیف دہ حد تک غیرذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ چند روز میں ہی یہ واقعے ٹی وی چینلز کے نیوز بلیٹن اور ٹاک شوز کے منظرنامےسے اتر جائے گا اور اسے بھلا کر کسی اور مسئلے کو اٹھا لیا جائے گا۔ اس حوالےسے دی نیشن کا کردار تمام دیگر اخبارات اور ٹی وی چینلز کی نسبت بہتر تھا۔ اس معاملے کو بہت سے چینلوں اور سیاسی جماعتوں نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی تاہم کسی جماعت نے تاحال جنسی جرائم کے تدارک اور بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی کوشش شروع نہیں کی۔ کسی سیاسی جماعت نے ان معاشرتی اقدار اور فرسودہ نظریات کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی کوشش نہیں کی جو جنسی جرائم کے ارتکاب اور انہیں چھپانے کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارا مستقبل جنسی استحصال کا شکار ہونے کا شدیداندیشہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

ڈرتے ہیں اے زمیں تیرے آدمی سے ہم

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

متاثرہ بچوں کی تعداد سے قطع نظر گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کر لیاہے، پولیس کے پاس ویڈیو ریکارڈنگ کے شواہد بھی موجود ہیں، ثبوت ، ملزم اور اعتراف جرم کے بعد کاہے کا جوڈیشل کمیشن
لاہور ہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس جناب منظور ملک صاحب نے بالکل درست فیصلہ صادر فرماتے ہوئے قصور میں پیش آئے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے معذرت کر لی ہے۔ قصور واقعے کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد پنجاب حکومت نے فی الفور رجسٹرار ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اس واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد سے قطع نظر گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کر لیاہے، پولیس کے پاس ویڈیو ریکارڈنگ کے شواہد بھی موجود ہیں، ثبوت ، ملزم اور اعتراف جرم کے بعد کاہے کا جوڈیشل کمیشن؟ پاکستان میں جوڈیشل کمیشنزکامیاب ہی کتنے ہوئے ہیں؟ ہاں البتہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل ضرور سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ متعلقہ اداروں کی معاونت سے معاملے کی تحقیقات کی جاسکتی ہیں اور اس کے لیے خلوص نیت درکار ہے اور کچھ نہیں ۔ سچ پوچھیں تو یہ ایک غیر روایتی کیس ہے جسے پولیس اب تک روایتی طریقے سے نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کچھ دانشوروں نے اس مدعے کے فروعی پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے معمول کی کارروائی قرار دے کر حسین خان والا کے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ اس واقعے کےمحرکات زمینی تنازعے سے جڑے ہیں یا یہ کسی سیاسی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔ یہ کہنا بھی نامناسب ہے کہ یہ خبر کسی بھی طرح شہ سرخی بننے کے لائق نہیں ، بحث یہ بھی نہیں کہ بچوں کی تعداد کتنی ہے اور دو سو اسی ویڈیوز کا مطلب ہر گز نہیں کہ یہ دو اسی کرداروں پر مبنی ہیں۔ اصل مسئلہ انتظامی نااہلی اور جنسی جرائم کے تدارک کے لیے درکار سیاسی بصیرت کا فقدان ہے، اصل معاملہ جنسی جرائم کی تفتیش، مقدمات کے اندراج، عدالتی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری قوانین اور انتظامی قابلیت کا نہ ہونا ہے۔
حقیقت فقط یہ ہے کہ درجنوں بچوں کیساتھ زیادتی کی گئی، ان کی فلمیں بنائی گئیں، انہیں اس فعل کا عادی بنانے کی پوری کوشش کی گئی
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ریجنل پولیس آفیسر کے بیانات تضادات سے بھرے پڑے ہیں، مقامی ایم پی اے آج کی تاریخ(11 اگست 2015) تک حسین خان والا کا دورہ کرنے کی ہمت نہیں کر سکے۔متاثرین کہتے ہیں کہ احمد سعید کو دو ہزار تیرہ میں کرمو اوراس کے خاندان کی حمایت حاصل رہی ہے۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ انہی موصوف کی وجہ سے پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی سے گریزاں رہی۔ مقامی ایم این اے شیخ وسیم البتہ متاثرین کے درمیان ضرور دیکھے گئے۔ انتظامیہ اور سیاستدان متاثرین کو اب وزیر اعلیٰ سے لے کر وزیر اعظم تک لے جانے کے وعدے کرتے ہیں، لیکن چند روز پہلے جب ہزاروں متاثرین اور علاقہ مکینوں نے اس ظلم و ستم کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاوس لاہور تک مارچ کرنے کی کوشش کی تو انہیں قصور کی مرکزی شاہرا ہ تک بھی نہ آنے دیا گیا۔
حقیقت فقط یہ ہے کہ درجنوں بچوں کیساتھ زیادتی کی گئی، ان کی فلمیں بنائی گئیں، انہیں اس فعل کا عادی بنانے کی پوری کوشش کی گئی۔ بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے انہیں بلیک میل کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا، ان کی کمر میں مختلف ٹیکے لگائے گئے، انہیں بندوقیں دکھائی گئیں، ان کی گردنوں پر تیز دھار آلے رکھے گئے، ان سے گاوں کی موٹریں چوری کروائی گئیں، انہیں گھر میں موجود طلائی زیورات چرانے کو کہا گیا، گھر کی جمع پونجی بٹور لی گئی، الغرض وہ کونسا مکروہ اور قبیح عمل ہے جس کے ارتکاب پر ان بچوں کو مجبور نہیں کیا گیا۔۔اور آپ فرماتے ہیں کہ دیہاتوں میں یہ سب معمول کی بات ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ یہ ویڈیوز اور ان میں ہونے والا فعل بالرضا ہےیعنی یہ کوئی جرم ہی نہیں کہ کم عمر بچوں کیساتھ بد فعلی کی ویڈیوز بنائی جائیں ؟ ان سے پیسہ بٹورا جائے، ان ویڈیوز کو بیرون ملک پورن سائٹس کو بیچا جائے؟ حد ہے!! سلام ہے آپ کی فہم و فراست کو، ہم تو آپ کے دیوانے رہے ہیں، لیکن یہ کیا کہ آپ معاملہ دبانے کے لیے کج فہمی پر اتر آئے؟
یہ بچے جب بے یارو مددگار اور بے بس ہو گئے تو ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ یہ ان درندہ صفت لوگوں کے احکام کی پیروی کرتے رہتے،اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کا پاس کرتے خاموش رہیں یا پھر گلی محلے میں آکر ننگے ہو جائیں۔
حضور معاملہ سنگین بلکہ نہایت سنگین ہے۔ آپ حسین خان والا جائیے، کوشش کیجیے کہ آپ کے پاس وقت کی قلت نہ ہو، اگر زحمت نہ ہو تو کسی بھی مقامی صحافی کے توسط سے درجن بھر ویڈیوز دیکھیئے، کئی ویڈیوز میں یقناً کرداروں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گا، لیکن آپ ایسی ویڈیوز ضرور دیکھ سکیں گے جن میں چہروں کی شناخت بآسانی ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ معاملہ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئے گا جب تک آپ ویڈیو دیکھنے کیساتھ ساتھ آڈیو سننے کی سکت نہ رکھتے ہوں۔ دل پر پتھر رکھ کر کوشش کیجیے گا کہ آواز بھی سن سکیں اور پھر اس کے بعد اسی گاوں کے گلی کوچوں میں ان کرداروں کو شناخت کرنے کی کوشش کیجیے گا۔ ممکن ہو تو ان سے ملاقات کر دیکھیں، اور ہاں یہ بھی جاننے کے سعی ضرور کیجیے گا کہ اگر کہیں معاملہ باہمی رضامندی کا بھی تھا تو کیوں تھا؟ اس نہج تک آنے سے پہلے ان بچوں پر کیا بیتی؟ وقت ہو تو کھوج لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ ہاں!ایک آٹھ سالہ بچے کی تلاش بھی ضرور کیجیے گا، اس بچے کیساتھ کیا بیتی، میرے لفظ میرا ساتھ دینے سے انکاری ہیں۔
ان گنت کہانیاں ہیں جو گاوں حسین خان والا کے گلی کوچوں میں دفن ہو چکی تھیں، ان گھناونی وارداتوں کے منظر عام پر آتے ہی حسین خان والا کے در و دیوار ان کہانیوں کے عینی شاہد بن چکے ہیں
یہ بچے جب بے یارو مددگار اور بے بس ہو گئے تو ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ یہ ان درندہ صفت لوگوں کے احکام کی پیروی کرتے رہتے،اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کا پاس کرتے خاموش رہیں یا پھر گلی محلے میں آکر ننگے ہو جائیں۔آپ ہی بتائیں کہ کیا دیہات میں بسنے والے ایسے معاملات کا ذکر سرعام کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، بد قسمتی سے رسم و رواج اور خاندانی وقار کی خاطر یہاں اسی معاشرے میں عزتوں کا قتل عام ہوتا رہا ہے،ایسے میں یہ بچے بھلا کس کھاتے میں آتے ہیں؟ زمینی تنازع کسی ایک خاندان سے ہو سکتا ہے، دو سے ہو سکتا ہے، دو چار سے ہو سکتا ہے، درجنوں خاندانوں کیساتھ اسے منسوب کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ، زمین بھی ایسی جو سرکار کی تھی، محکمہ انہار کی تھی، اور اس کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک حکم امتناعی سے تقریباً حل ہو چکا تھا۔ زمین کا تنازع انہی کا ہو گا جو زمینوں کے مالک ہیں، کسی ایسے شخص کو تو ہرگز نہیں ہو سکتا جو اس گاوں میں محض دو وقت کی روٹی ہی بمشکل پوری کرتا ہو۔ ایسے شخص کے بچے کےساتھ بھی پچھلے پانچ برسوں سے یہی سب ہوتا چلا آرہا تھا، یہ بزرگ اور نحیف شخص کرمو کے گھرانے کی خدمت میں پیش ہو کر منت سماجت کرتا ہے کہ میرے بچے کےساتھ آپ کے لڑکے یہ سب کر رہے ہیں، ساڑھے چار تولہ سونا بھی ہتھیا لیا گیا ہے، مجھے اس سے سروکار نہیں، برائے مہربانی میرے داڑھی کا واسطہ، میری شرافت کا واسطہ، اب میرے بچے کو معاف کردیں، جو ہوا سو ہوا، اب ہمیں سکھ کا سانس لینے دیں، کرمو کے بڑوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اپنے بچوں کو سمجھائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اس بزرگ کے گھر کی عورتیں دوپٹے پھیلا کر بار بار فریاد کرتی رہیں کہ خدا را ہمیں جینے دیا جائے، لیکن انسانیت کرمو کے گھرانے سے اٹھ چکی تھی۔ ایک بیوہ اپنے بچے کے ساتھ پیش آئے واقعے پر دل گرفتہ پولیس سٹیشن فریاد کرنے پہنچی تو دادرسی کی بجائے اسے گالم گلوچ سے نوازا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ویڈیو بنا کر اس گروہ کو پیش کی گئی کہ یہ خاتون پولیس اسٹیشن تک کیسے پہنچ گئی، اس کا انتظام کرو۔ یہ بیوہ گاوں واپس پہنچی تو اسے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تا کہ باقی متاثرین اس سے سبق سیکھیں۔ اس خاکسار کو شکوہ تو بہت سے کرتا دھرتا کرداروں سے ہے، لیکن ان ملاوں کا کیا کیجیے کہ جن کے فتوے کی روشنی میں اسی شہر قصور میں کوٹ رادھا کشن کے قریب چک نمبر انسٹھ میں ایک مسیحی جوڑے کو بھٹے کے دہکتے کوئلوں پر زندہ جلا دیا گیا تھا؟ حسین خان والا میں پچھلے پانچ برسوں سے کوئی ایسا فتوی صادر نہ کیا گیا۔
ان گنت کہانیاں ہیں جو گاوں حسین خان والا کے گلی کوچوں میں دفن ہو چکی تھیں، ان گھناونی وارداتوں کے منظر عام پر آتے ہی حسین خان والا کے در و دیوار ان کہانیوں کے عینی شاہد بن چکے ہیں۔ وہ جن کی زبانیں گنگ تھیں اب ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دیہاتوں میں کون اپنا داغ دار دامن آشکار کرنے میں پہل کرتا ہے؟ سب اپنی عزتوں کی خاطر خاموشی میں عافیت جانتے ہیں لیکن اب نہیں، اب معاملہ منظر عام پر آچکا ہے۔ پتھرائی آنکھیں دیکھنے والوں کے ضمیر جھنجوڑتی ہیں۔ صدمہ تو شاید ماضی بن چکا، متاثرین کے چہروں پر غم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسے میں اگر انہیں انصاف نہ ملا تو عین ممکن ہے ان کے لیے ان کی جانیں اپنی تمام قدر و قیمت کھودیں۔ جیتے جی تو یہ بہت پہلے ہی مر چکے ہیں، اب تو فقظ جان کا بوجھ ہے جسے یہ بچے اور ان کے اہل خانہ اٹھائے پھر رہے ہیں؛
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمیں تیرے آدمی سے ہم
Categories
نقطۂ نظر

پولیس گردی اور اس کی اصلاح

پاکستان میں کوئی بھی محکمہ ہو سخت اور ناپسندیدہ کام سرانجام دینے والے زیادہ ترملازمین نچلی سطح کے ہوتے ہیں ،افسر طبقہ عام طور میٹنگز کے نام پر تفریحی دورے کرتے ہیں اور آرام و آسائش کی زندگی کو اپنا مقدر سمجھتے ہیں، اس ضمن میں سب سے بُری صورتحال پنجاب پولیس کی ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک لاکھ اسی ہزار ملازمین اعلیٰ افسران اور سیاسی قیادت کے دباو پر جعلی پولیس مقابلے بھی کرتے ہیں ،چور بن کر عوام کو لوٹتے بھی ہیں، ناکہ لگا کر چندہ بھی اکٹھا کرتے ہیں ، بیس روپے کی سیگریٹ کی ڈبی پر بھی مان جاتے ہیں ، تھانے میں آنے والے مدعی اور ملزم دونوں سے رشوت بھی وصول کرتے ہیں، سفر کریں تو کرایہ بھی نہیں دیتے ، کہیں سے کھانا کھائیں تو پیسے بھی نہیں دیتے،بے جا پوچھ گچھ کر کے عوام کا وقت بھی ضائع کرتے ہیں ،یہ سب باتیں پُرانی ہیں بیشتر عوام اس کے عادی بھی ہو چکے ہیں لیکن اب کی بار پنجاب پولیس نے ایک انوکھا کام کر دکھایا ہے۔ ماڈل ٹاون میں نہتے عوام پر گولی چلانا کسی بھی طرح سے پنجاب پولیس کا عمومی طرز عمل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
تما م تر مشکلات کے باوجود گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنے دھماکہ ہوئے ان میں سے بے شمار میں پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو روکا یا روکنے کی کوشش کی اور اپنی جان بچانے کی بجائے عوام کی جان بچانے کے لیےجانیں قربان کرچکے ہیں، قربانیاں دینے والوں کی طویل فہرست ہے لیکن ہم نے ان کی پذیرائی کرنے کی بجائے انہیں مزید بدنام کیا ہے ۔
سانحہ ماڈل ٹاون کی کوئی بھی توجیہہ کی جائے،عوام مشتعل تھے یا پُر امن لیکن تھے بے گناہ اور وہ عوام جن پر دن دیہاڑے گولیوں کی بارش ہوئی وہ ان چند پاکستانیوں میں سے تھے جو علم حاصل کرنے منہاج القرآن آئے تھے۔ اس واقعہ میں سو کے قریب افراد کو گولیاں لگیں، چودہ مارے گئےاور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ وہ پولیس ہے جو عوام کی ملازم ہے ،عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ان کی تنخواہیں پچھلے دورِحکومت میں دُ گنی کر دی گئیں جس کا مقصد ان کی کارکردگی بہتر بنانا تھا۔ پولیس کی خراب کارکردگی کی بڑی وجہ سیاسی مداخلت ہے ، سیاسی مخالفین کو زیر کرنے اور پرانے جھگڑے چکانے کے لئے پولیس کے استعمال اور سیاسی بھرتیوں نے پولیس کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔پاکستان ہائی وے پولیس، ٹریفک وارڈنز ، موٹروے پولیس اور کچھ دوسرے محکمے سیاسی دباو سے آزاد ہونے کے باعث نسبتاً احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں حالانکہ ان محکموں میں بھی پاکستان کے عام شہری کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں بھی لگ بھگ اُتنی ہی ہیں۔جو محکمے اپنے کام درست طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں ان کا نظام کافی بہتر ہے ان کےسربراہان ہر حکومت اپنی مرضی سے تبدیل کر تی رہتی ہے لیکن محکمے تا حال کام بہتر طریقے سے کر رہے ہیں ان محکموں میں ملازمین کو سہولتیں بھی میسر ہیں ڈیوٹی کے اوقات بھی کم ہیں ان پربدعنوانی کے الزامات بھی کم ہیں۔
پنجاب پولیس کی ناقص کارکردگی کی ایک اور اہم وجہ ناکافی فنڈز اور تربیت ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اسلحہ ، مواصلات اور انتظامی امور کا قدیم بندوبست ابھی تک چل رہا ہے۔پولیس کے زیر استعمال بندوقیں اس قدر پرانی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر چلتی ہی نہیں اور اگر چل جائیں تو ان سے حساب لیا جاتا ہے۔پولیس والوں کی غیر ضروری اور اضافی ڈیوٹیاں بھی پولیس کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہیں۔تھانوں میں ابھی تک ہاتھ سے لکھنے اور ریکارڈ رکھنے کا نظام رائج ہے ،کمپوٹر نہیں ہیں انٹرنیٹ نہیں ہے مرکز سے رابطے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے ، ڈیوٹی کے اوقات بھی غیر معمولی ہیں جو پولیس سپاہی کا مورال کم کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔تما م تر مشکلات کے باوجود گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنے دھماکے ہوئے ان میں سے بے شمار میں پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو روکا یا روکنے کی کوشش کی اور کئی اپنی جان بچانے کی بجائے عوام کی جان بچانے کے لیےجانیں قربان کرچکے ہیں،قربانیاں دینے والوں کی طویل فہرست ہے لیکن ہم نے ان کی پذیرائی کرنے کی بجائے انہیں مزید بدنام کیا ہے ۔
حکومت کو اس محکمہ کی کارکردگی کی بہتری کے لئے پولیس نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی، مواصلات کا جدید نظام، بہتر اسلحہ اور تربیت، موزوں تنخواہیں اور سیاسی مداخلت سے پاک ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ پولیس کو سیاسی دباو سے آزاد اپنے فرائض کی انجام دہی کا موقع ملے تو عوام کے جان و مال کے تحفظ کا بنیادی ریاستی فرض ادا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔