Categories
نقطۂ نظر

یہ پرچم تمہارے حوالے

youth-yell

شہید کیمرامین شہزاد خان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے لئے آنے والے کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جب پہنچے تو شہزاد خان کی ننھی پری کو نہ تو تعزیت کرنے والوں کے آنے کا مقصد سمجھ آیا نہ ہی ان کے منہ سے نکلے روایتی افسوس کے الفاظ۔ ہاں وردی اس کے لئے نئی ہو گی، دھماکہ کے بعد تعزیت کے الفاظ بھی نئے ہوں گے، چہرے نئے، گھر آنے والوں کا رش بھی نیا صرف ایک چیز پرانی دکھائی دی جسے اس نے پہنچانا وہ تھا پاکستان کا جھنڈا جو کمانڈر سدرن کے بازو پر لگا دکھائی دیا۔۔۔۔۔۔ شاید اس بچی کو یاد آیا ہوگا کہ وہ اپنے بابا کے ساتھ جشن آزادی کی ایک تقریب میں آتش بازی دیکھ کر آئی تھی جس پر اس کے بابا مسکراتے ہوئے تصویر بنواتے رہے، شاید اسے یاد آیا ہوگا کہ دھماکے سے دو روز قبل اس کے بابا نے پاکستان کا بہت بڑا پرچم بنانے کے تیاری میں حصہ لیا تھا۔ اسے وہ پرچم یاد رہ گیا باقی سب اس کے لئے نیا سا تھا۔ اس پر چم کو غور سے دیکھنے اور چھونے کی کوشش کرنے پر وردی والے کو سمجھ آ گیا کہ یہ بچی وطن کو پہنچانتی ہے تو اس نے وہ پرچم بازوسے اتار کر بچی کو تھما دیا۔ کاش وہ اس بچی کو یہ بھی سمجھا سکتے کہ وہ وردی سمیت کیوں ناکام ہوئے۔ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے شہید کیمرامین شہزاد خان کی بیٹی کو بہت کم عمری میں اتنی بھاری ذمہ داری دے دی گئی، اپنے جسم سے پرچم اتار کر اسے تھمایا گیا تو میرے ذہن میں آیا۔۔۔ لو بیٹا وطن اب تمہارے حوالے!!!

 

ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ لکھتے وقت دل بہت بھاری ہے، آنکھیں نم ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ بہت کم ہی یہ کیفیت طاری ہوتی ہے کیونکہ میں بھی اس بے حس قبیلے کی ایک فرد ہوں جہاں کوئی مرے تو وقتی افسوس ہوتا ہے، چار دن کا سوگ ہوتا ہے اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، پھر کوئی دھماکہ ہوتا ہے دل زور سے دھڑکتا ہے اور پھر تاریخ بدلتی ہے اور دھیان بٹ جاتا ہے۔ ہماری قوم کی حالت اس مریض کی سی ہوگئی ہے جو جاں بلب ہے لیکن پھر بھی جینا چاہتا ہے۔ وینٹیلیٹر پر پڑی اس قوم کی حرکت قلب کو چیک کر نے کے لئے ایک جھٹکا دیا جاتا ہے تو مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوتی ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ اسی حالت میں واپس چلا جاتا ہے اور حکمران اور ہماری حفاظت کی ضمانت دینے والے، اس قابل ڈاکٹر جیسے لگتے ہیں جو تجربے کا غرور لئے مریض کی دیکھ بھال اسپتال کے انٹرنیز پر چھوڑ دیتا ہے کہ ان کو سیکھنے کو ملے۔ جب مریض مر جائے تو اس شام سب اس ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتے ہیں جو خاندان کے پاس آکر کہتا ہے کہ آئی ایم سوری ہم آپ کے پیارے کو بچا نہ سکے۔۔۔۔ ایوان زیریں میں بھی تو بڑے ڈاکٹر صاحب یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے افسوس ہے آپ کا مریض بچ نہ سکا آپ نے مجھ پر اعتبار کیا اس کا شکریہ لیکن زندگی موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے جو مرے ہیں ان کے نقصان پر مجھے بھی افسوس ہے لیکن اطمینان رکھئے آئندہ کم مریض مریں گے۔ پھر بڑے ڈاکٹر صاحب بیٹھے تو ان کا معاون اٹھا اور اس نے اپنی بات شروع کی اور بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں کیسز خراب ہونے کی تعداد بہت کم ہے اس اسپتال میں جو پہلے معالج تھے وہ تو علاج کی الف ب تک سے واقف نہ تھے ان کے ہاتھوں تو کئی مریض مرے یہاں تک کہ وی آئی پی مریض تک، جن کی سرجری میں 36گھنٹے گزر گئے۔ قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کی سپاٹ تقریر کے بعد رسم پوری کی اور پوری قوم کو جتایا کہ مشرف کے دور حکومت میں روز تین سے چار دھماکے معمول تھے یہاں تک کہ افواج پاکستان کے محفوظ ترین مقامات و تنصیبات بھی دہشت گردی کی زد پر رہیں۔ بہت خوب جناب۔۔۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ تسلیم کیا جاتا کہ نیکٹا اور افواج پاکستان سمیت سبھی ادارے جن کی کامیابیوں کی داستانیں روز سنائی جاتی ہیں وہ سب ناکام ہو کر ایک طرٖف ہو گئے ہی اور مٹھی بھر ٹوٹی کمر والے دشمن سبقت لے گئے ہیں۔ ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا یہ چائیے تھا حکومت، اپوزیشن ایک صفحے پر دکھائی دیتے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی بار بار ماضی کا حوالہ دے کر یہ بتایا جاتا رہا کہ دیکھو تمہارے وقت میں لاکھ مرے ہمارے وقت میں ہزار امن تو قائم ہوا ہے ناں۔

 

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر کسی ایک کی بھی ناحق لاش گرتی ہے تو کیا ریاست کے نزدیک اس ایک کی اہمیت نہیں؟ میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔جب انتخابات قریب ہوں تو یہی حکمران ووٹ پورے کرنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے لئے انگوٹھے کا ایک ایک نشان اہمیت رکھتا ہے لیکن جب دھماکہ ہو جائے تو لاشوں کی گنتی کر کے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ نقصان کم ہوا ہے، دھماکہ بڑی نوعیت کا نہیں تھا محض پانچ یا دس لوگوں کا مرنا ایسے ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

 

میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔
پشاور سانحے میں جب 150 زندگیوں کے چراغ بجھیں تو ایک آواز سنائی دی کہ دشمن اب کمزور پڑ گیا ہے تو آسان ہدف اس کا شکار ہیں یہاں پھر وہی سوال ہے کہ عوام کو اگر آسان ہدف سمجھ کر بھوکے بھیڑیوں اور کتوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا ہے تو جنگل کا بادشاہ شیر آج کل کہاں ہوتا ہے؟ یہ شیر انتخابات میں ہی جنگل کی سیر کو نکلتا ہے یا پھر دوسرے جنگلوں کا دورہ کرنے؟ چلیں جناب ان کو چھوڑیں اس شیر نے ملک کی حفاظت کی کمان جنہیں دے رکھی ہے ان کا جنگل میں کیا کام ہے؟ جنگل میں باہر سے کوئی آ کر حملہ نہ کرے اس مقصد کے لیے خاردار باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، کوئی ہتھیار سے وار نہ کردے تو ہم نے بھی ہتھیار بنا کر دشمن کو جتا دیا۔ لیکن خاردار باڑ لگانے والے جنگل کی تلاشی لینا بھول گئے۔ تلاشی سے یاد آیا کوئٹہ سانحے کے بعد سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا۔ چلیں کوئی بات نہیں جہاں اتنے آپریشن ہوئے ایک اور سہی اب وینٹیلیٹر پر پڑے مریض کو موت سے بچانے کے لئے ایک دوا اور سہی ایک نیا ڈاکٹر آزمانے میں حرج ہی کیا ہے؟ لیکن یاد رہے قاتل اسپتال میں ہی کہیں گھوم رہا ہے آپ دوا ڈھونڈنے نکلیں گے اور وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر اپنا کام کر جائے گا۔ ویسے ٹوٹی کمر والا یہ دشمن کمر سے نہیں دماغ سے کام کرتا ہے، سانحہ پشاور ہو، یا واہگہ بارڈر دھماکہ، سانحہ لاہور ہو یا سانحہ کوئٹہ دشمن نے ٹوٹی کمر کے ساتھ کامیاب سرجری کی اور ہمارے معالجین نے آ کر صرف یہی کہا کہ آئی ایم سوری ہم آپ کو نہیں بچا سکے۔

 

حالیہ اجلاس بھی بلند و بانگ دعووں، افواج کی ستائش، حملہ آوروں کی مذمت، عوام کے لیے ڈھکوسلوں، قرادادوں اور تقاریر کے بعد تمام ہوا، فوج اور ایجنسیوں کی جانب سے کومبنگ آپریشن کا آغاز ہوا اور ایک بار پھر کسی لنگڑے لولے نے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر دھماکہ کر کے بتا دیا کہ ٹوٹی ہوئی کمر کے لوگ اکڑی ہوئی گردنوں سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟ تو صاحب دشمن منصوبہ بندی آپ کی لگائی ہوئی باڑ کے باہر کرتا ہے اور پھر آپ کے دھتکارے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے، ناانصافی کی چکی میں پسے ہوئے دلبرداشتہ ذہنوں کو خریدتا ہے۔ یہ دشمن وہی ذہن اور جسم خریدتا ہے جو جنگل کے اندر موجود ہیں۔ دشمن ان کو جنت کا راستہ دکھا کر عوامی مقامات پر حملے کرواتا ہے اور آپ کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسبان اس کے۔ ڈھونڈنا ہے تو ان کو ڈھونڈیں جو ان لوگوں کے ہاتھوں بک رہے ہیں وہ غیر نہیں آپ کے اپنے ہیں۔ ان کے چارہ گر بنیں ان کے ٹوٹے دلوں کی رفو گری کریں اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ آپ نے کس کا حق چھینا کس کے ساتھ ناانصافی کی؟ کس کو زیادہ نوازا کس کا حق چھین کر اپنے منہ میں نوالہ ڈالا صرف ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کا حوصلہ کیجئے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے، لوگ ملنا شروع ہوجائیں گے ڈھونڈیے اس شخص کو جو اپنے وطن سے پیار کرتا ہوگا اس پر جان نثار کرنے کا متمنی بھی ہوگا مثبت ذہن بھی رکھتا ہوگا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہوگا کہیں اس کو وطن سے محبت کرنے پر ناحق تو نہیں بھینٹ چڑھا دیا گیا؟ کہیں اس کا حق کسی نااہل کو تو نہیں دے دیا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یاد رکھئیے گھر کو آگ لگتی ہے گھر کے چراغ سے۔

 

یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟
شہزاد خان ہو یا اس جیسے ہزاروں سپوت جنھوں نے آگ کو لگتے دیکھا اس میں خود کو جلتا پایا جب ان کی جانیں نکل رہی ہوں گی تو زند گی کے کون کون سے لمحات، اپنے پیاروں کے چہرے ان کی نظروں کے سامنے آئے ہوں گے؟ کئی لمحات تو ایسے ہوں گے جو ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے ہوں گے اس نے اپنی بیٹی کو یاد کیا ہوگا، گھر اور اس کا خیال رکھنے والی بیوی کا بھی آیا ہوگا یا پھر یہ سوچا ہو گا کہ اگر جانے کا وقت آگیا ہے تو میرے اپنے میرے بعد خود کو کیسے سنبھالیں گے میں نے تو ان کی عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں۔ شاید وہی ایک لمحہ ایسا تھا جب شہزاد کی بیٹی نے بابا کی وطن سے محبت کو پہلی بار اپنے شعور میں محفوظ کیا ہوگا تب ہی اس کا ہاتھ بلوچستان کی حفاظت پر مامور سب سے بڑی ملٹر ی کمپنی کے کرتا دھرتا کی وردی پر لگے پرچم کی جانب بڑھا تھا۔ نہ تو اس بچی تو اس وردی نے متاثر کیا نہ شام کو ہونے والی جنگل کے شیر کی تقریر نے، صرف ایک لمحے کو سوچئیے آج یہ ننھا ہاتھ پرچم مانگنے کے لئے آگے بڑھا ہے یہ جو ستر سے زائد خاندان بے سہارا ہوئے ہیں اور ان جیسے لاکھوں اور کل کو ان کے ہاتھ آپ کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائیں ان چراغوں کو کوئی غیر جلنے کے لئے ایندھن ادھار نہ دے ڈالے۔۔۔۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

آکر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر

برصغیر میں دہشت گردی کوئی آج سے نہیں۔ ہمیشہ صرف اورصرف “جنابِ مذہب ” کی خوش دلی کے لیے انسانوں کو مارا گیا۔اور یہ سلسلہ تب سے شروع ہوا جب وادیءِ ٹک شاسیلیہ “ٹیکسلا” میں جین اور بدھ مت کے مذہبی مراکز، “دھرما راجیکا”، “سرکپ” اور “جولیاں” کے علاوہ تخت بھائی کے مذہبی عبادت خانوں پر بیرونی حملہ آوروں “وایٹ ہنوں” نے دھاوا بول دیا۔ جیسے بامیان کے مجسموں کو ڈائنمایٹ سے اُڑیا گیا اُسی طرح بابری مسجد اور ملُتان کے قدم مندر پرہلاد کو منہدم کردیا گیا۔ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر ہوا۔تاریخ مُلتان میں درج ہے کہ پہلے پہل مُلتان میں آدیتہ “سورج” کا مندر ہوا کرتا تھا جسے قرامطیوں نے آکر برباد کر ڈالا۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم سے دہشت گردی کی وہ رسم چلی کہ اندرا گاندھی اور ان کے بچوں تک اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان سمیت سب کو ختم کر ڈالا۔کچھ کو ریاستی دہشت گردی نے نہیں چھوڑا جن میں ذوالفقار علی بھٹو اور بھگت سنگھ کے نام آتے ہیں ۔

 

جیسے بامیان کے مجسموں کو ڈائنمایٹ سے اُڑیا گیا اُسی طرح بابری مسجد اور ملُتان کے قدم مندر پرہلاد کو منہدم کردیا گیا۔
پچھلے دنوں مشہور قوال امجد فرید صابری دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ ناجانے اُن کی کون سی ایسی بات دہشت گردوں کو ناگوار گزری کہ اُن سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ دہشت گرد یہ نہیں سوچا کرتے کے وہ پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ اُن بچوں پر کیا گُزرے گی۔ان کی بیگم، ان کےبہن بھائی عزیز رشتے داراب ان کی پیاری پیاری بھولی باتوں سے محروم ہوجایئں گے اور بچے دستِ شفقت سے۔ امجد صابری نے کیا کیا تھا؟ کیا بگاڑا تھااُن کا؟ وہ تو زخمائے ہوئے غم کھائے ہوئے لوگوں کی جھولی بھرنے کی دعایئں مانگا کرتا تھا۔ تاجدارِ حرم سے نگاہ کرم کی استدعا کرنے والا صوفی درویش صفت آدمی تھا۔ شاید ہارمونیم کے ُسُر اور طبلے کی تھاپ دہشت گردوں کو ناگوار گزرتی ہے۔نسماعتوں سے ہوتے ہوئے دل میں اُتر جانے والی دھنیں اُن سے برداشت نہیں ہوتیں۔ اُن کے دل اس قدر سخت اور پتھر ہو چکے کہ انہیں فقط رونے چِلانے اور دھاڑوں کی آوازیں سکون دیتی ہیں جبکہ پوری دنیا کے ڈپریشن میں مبتلا ازہان انہی سمفنی اور دھنوں کو سُن کر اپنا من بہلاتے ہیں مگر یہ سکون آور ساز دہشت گردوں کی سماعتوں پر گراں گزرتے ہیں۔

 

یہ مقتل گاہ کب وجود میں آئی۔ جہاں علم اور فنونِ لطیفہ کی تمام ہستیوں کو مار ڈالا گیا۔ یا اس بے حس معاشرے میں اہل دماغ خود چل بسے۔ جو باقی ہیں بہت سو نے اپنے کندھوں پر صلیبیں اُٹھا رکھی ہیں اور کچھ نے کفن تک پہن لیا ہے۔اور باقی معاشرہ جو اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے اور ان کے دماغ سُن کر دیے گئے ہیں۔اور وہ سفید پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو یوں دیکھ رہے ہیں جسے پوچھنا چاہتے ہوں کہ کیا ہم زندہ ہں۔ ایک دوسرے سے زندگی کی گواہی مانگ کر زندہ رہنے والے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لگنے والے معاشرے میں جب پیشاور کے ایک فوجی اسکول میں ننھے منھے بچوں کی خون آلود کتابوں اور گولیوں سے چھلنی جسموں پر تتلیاں آ کر بین کرنے لگیں تو اس بے حس معاشرے کو کچھ نہیں ہوا۔ دو دن روئے پھر دل کو تسلی ہو گئی لاہور میں مسیحی جوڑے کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا کہ وہ فقط مسلمان نہیں تھے۔لیکن انسان تو تھے۔

 

اس عرض پاک پر بہتروں بار ناحق خون بہایا گیا۔ جو لوگ آزادی لے کر یہاں آکر بسے ان کو وڈیروں نے اپنا غلام کر دیا۔ جو یہاں سے بھارت جا بسے وہاں شدت پسندوں نے بندھی بنا لیا،غضب دیکھِیے کہ بھارت کے صوبے گجرات میں انسانوں کومسلمان سمجھ کر اور پاکستان کے ہر صوبے میں انسانوں کو غیر مسلم سمجھ کر ان کا قتل عام ہوا۔ آج جس قدر انسانوں کا خون زمین کے لیے ارزاں کیا گیا ہے میں تاریخ دانوں اور اہل علم سے سوال کرتا ہوں ہوں کیا یہ مظالم، یہ کِشت و خون جو اب یہاں ہندوستان پاکستان میں ہو رہا ہے جلیانوالہ باغ سے کم ہے؟ کیا تقسیم میں جب انسانوں کو اپنے گھروں سے نکلال کے مار ڈالا گیا اُن مظالم سے بہنے والا خون آج بہنے والے خون سے زیادہ سرخ تھا؟ کسی طور نہیں۔ زندہ قوموں میں اتنی قتل و غارت گری پر راتوں رات انقلاب جنم لیتے ہیں مگرہم عمران خان کے دھرنوں پر خوش ہونے والے یا نواز شریف کو شیر بنانے والے بے حس، اپاہج اور مفلوج لوگ ہیں۔

 

ریئس امروہوی کی وفات پر اُن کے باکمال بھائی جون ایلیا نے کہا تھا کہ ظالموں کو ان کے دماغ کی افادیت کاعلم تھا اسی لیے ان کے دماغ میں ہی گولیاں گاڑھی گیئں۔
اسی شہر میں جہاں امجد صابری ایسے فنکار کو مارا گیا اسی شہر کی فیوض و برکات کا جائزہ لیں تو بہت پہلے ایک دماغ کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ جس کا نام تھا ریئس امروہوی۔ وہ اس معاشرے کی بہبود کے لئے اپنا فن استعمال کرتے تھے۔ ریئس امروہوی کی وفات پر اُن کے باکمال بھائی جون ایلیا نے کہا تھا کہ ظالموں کو ان کے دماغ کی افادیت کاعلم تھا اسی لیے ان کے دماغ میں ہی گولیاں گاڑھی گیئں۔ وہ سر تا پا دماغ ہی تو تھے۔ ایک اوربڑے نباض ماہر طبیب اور اپنی حمکت آموز تحریروں سے درد مندوں اور طالبانِ علم کو سیراب کرنے والے حکیم محمد سعید بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ اور بعد ازاں نڈر صحافی محمد صلاح دین کو بھی مار ڈالا گیا۔

 

محسن نقوی جیسے شعرا کو بھی مار ڈالا گیا۔ اگر انہیں نا بھی مارا جاتا تو وہ خود کشی کر چکے ہوتے۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اُستاد نصرت فتح علی خان طبعی وفات نہ پاتے تو اب تلک وہ بھی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہوتے۔ یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز مرنے کے لیے ہے۔ وہ خوبصورت دماغ جنہوں نے اپنی ڈگریاں سمیت اپنے بچوں سمیت خود کو حکومتی اداروں کی عمارتوں کے مقابل زندہ جلا دیا ان کا نوحہ کون لکھے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو سمیت وہ بہت سے ادیب جو معاشرے کے ننگے سچ اور زندگی کے زہر میں اپنا قلم بھگو کر لکھ رہے تھےاور پھر اپنی طبعی موت مر گئے؟ ہرگز نہیں یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز قطرہ قطرہ زہر پی کر مرنے کے لیے ہے۔ سقراط نے بھی یہی زہر پیا تھا اور شری شِو شنکر نے بھی۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اہل دماغ نے پہلے سوچ لیاکہ یہ بدن جائے اماں نہیں رہا۔

 

پاکستان کے معروف جواں سال شاعر آنس معین بلّے سے لے کر شکیب جلالی اور ثروت حسین تک سب نے اپنی اپنی زندگیوں کی راہ پر خطِ تنسیخ کھینچا۔ اور بقول شکیب۔

 

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

 

آنس نے کہا
نہ تھی زمین میں وسعت میری نگاہ جیسی
بدن تھکا ہی نہیں اور سفرتمام ہوا۔

 

ثروت کہہ اُٹھے کہ
میں سو ریا تھا اور میری خواب گواہ میں
اک اژدھا چراغ کی لو کو نگل گیا۔

 

یہ معاشرہ جینے کے لیے نہیں روز روز قطرہ قطرہ زہر پی کر مرنے کے لیے ہے۔
موت کو اژدہے کی صورت چراغ کی روشنی کو نگلنے کے استعارے کے طور پر برتا گیا۔ مگر آج وہی اژدہا کبھی سر پر صافہ اوڑھے اور لمبی داڑھی کے ساتھ ہاتھ میں کلاشنکوف اُٹھائے کبھی گیروا رنگ پہنے گلے میں منکے پہن کر ماتھے پر تلک لگائے انسانوں کو بے رحمی سے قتل کرنے میں مذہبی فریضے کی طرح جُتا ہے۔ بدھ مت کو تو سکون محبت و آشتی کا علمبردار کہا جاتا رہا مگر بدھا کے ماننے والوں نے برما میں ایسے رنگ برمائے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ اسے مذہب کہتے ہیں؟ کیا تم صحیفوں سے یہی مطالب نکالتے ہو کہ مذہب کے نام پر مار ڈالا جائے۔ خودکشی نا سہی خود کش دھماکے سہی۔۔۔۔ یہ خود کش دھماکے، حادثے اور شدت پسندی سب موت کی بے رحم تکون سے عکس ریز ہوتی ہوئی تصویریں ہیں وہ منظر نامے ہیں جو سب صداقتوں پر مشتمل حقائق ہیں جو بانسری کی سُر، طبلے کی دھن تا دھن نا اور ستار کے مترنم آہنگ کو لہو لہو کیے ہوئے ہیں۔ ساز ویران ہیں اور شمعیں بُجھی ہوئی اور سُر خاموش ہیں۔ اہل علم کے ساتھ ساتھ اب فنکاروں کو بھی مذہبی دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

 

پاکستانی اور ہندوستانی حکومتیں اور اُن کی آئیڈیالوجی نے بھی معاشرے مین زہر گھولا ہے۔ یہ جملہ گنے چنے سیاسی خاندان اور شدت پسندی کو فروغ دینے والی سبھایئں۔ یہ جنتا پارٹیاں یہ مسلم لیگیاں ذمےدار ہیں اس معاشرے کے۔۔۔۔ جہاں لوگ خود مر جاتے ہیں یا مار دیے جاتے ہیں۔

Image: Mural of Amjad Sabri by S. M. Raza and Aqib Faiz

Categories
نان فکشن

زخم ابھی تازہ ہے

8 نومبر 2006ء کا دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس وقت میں کالج کا طالب علم تھا اور حسب معمول کالج جارہا تھا۔ درگئی (ضلع مالاکنڈ) بازار کے مرکزی چوک پہنچتے ہی ہماری گاڑی کی طرف ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا اور پھر دھماکے کی آواز۔ ہم نے اس وقت تک خودکش دھماکے کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن کالج پہنچنے پر معلوم ہوا کہ درگئی کے پنجاب رجمنٹ سنٹر پر اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب فوجی جوان معمول کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ کالج سے رجمنٹ سنٹر کا راستہ قریباً 10 منٹ میں طے کیا تو دور سے ہی خون آلود لاشیں نظر آنا شروع ہوگئیں، قریب جانے کی ہمت نہیں پڑی، دور ہی دور سے ‘تماشا’ دیکھ کر ہم ہسپتال پہنچ گئے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہسپتال میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں پر قیامت صغریٰ کی کیفیت تھی۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر فریاد کررہے تھے۔ 9 نومبر کو سنا کہ یہ 30 اکتوبر 2006ء کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ میں واقع ایک دینی مدرسے پر اس حملے کا ردعمل تھا جس میں 82 لوگ مارے گئے تھے۔

 

دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی میں شدت نوے کی دہائی میں اس وقت آئی جب تکفیری جہادی تنظیموں کے اراکین نے دیگر مسالک کے پیروکاروں کے خلاف حملے شروع کیے۔ لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ خصوصاً کشمیر جہاد پر پابندی عائد کرنے اور دوسری طرف افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستانی جہادی تنظیموں نے بھی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ تاہم پاکستان بھر میں دہشت گردی کو غیر ضروری عوامل کی بناء پر ‘جائز’ قرار دیا جاتا رہا۔ ہماری اس وقت کی فوجی قیادت (جو ملک پر حکومت بھی کر رہی تھی) یہ ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ طالبان دہشت گرد امریکی حملے سے قبل بھی پاکستانی “اثاثہ” نہیں بلکہ دشمن ہی تھے۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ سال 2000 کراچی اور حیدرآباد میں دو بم دھماکوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اگلے سال (2001ء) میں بہاولپور کے ایک گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سال 2002ء میں کل 14 بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں کم از کم 92 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک امریکی سفارتکار، اس کی بیٹی اور معروف صحافی ڈینئیل پرل بھی شامل ہیں۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔
سال 2003ء میں 8 کے قریب دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں 50 سے زائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اسی طرح سال 2004ء میں 18 دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 200 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔

 

سال 2005ء میں دہشتگردی کے قریباً 11 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 105 کے قریب لوگ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

 

سال 2006 میں 657 مختلف واقعات میں 907 سے زائد لوگ مارے گئے۔ ان واقعات میں 40 فرقہ وارانہ واقعات بھی شامل تھے۔

 

سال 2007ء میں دہشت گردی کے تقریباً 1503 واقعات رونما ہوئے جن میں 20 خودکش دھماکے بھی شامل تھے جن میں سے زیادہ تر میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں 3448 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

سال 2008ء میں 2148 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد 973 بتائی گئی ہے۔

 

سال 2009ء میں 2586 کے قریب واقعات رونما ہوئے جن میں سے زیادہ تر فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر کئے گئے حملے تھے۔ ان حملوں میں 3021 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔

 

پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
سال 2010ء پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں 2000کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

 

سال 2011ء میں بھی پاکستان محفوظ نہ رہا اور قریباً 400 سے زائد افراد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2012ء ایک بار پھر پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں دہشت گردی کے تقریباً 214 واقعات رونما ہوئے۔ اسی سال ایک ہی دن میں کئی حملے پاکستانی عوام نے دیکھے اور ہزاروں لوگ اسی واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2013ء میں قریباً 72 ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو صرف رپورٹ کیا گیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

 

سال 2014ء وہی بدقسمت سال ہے جس میں آرمی پبلک سکول پشاور کے ساتھ ساتھ 8 جون کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ، واہگہ بارڈر، پاکستان نیوی کے پی این ایس ذوالفقار، ایس ایس پی چوہدری اسلم اور کوئٹہ کے پی اے ایف بیس پر حملہ بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس سال 315 سے زائد افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

سال 2015ء ختم ہونے کو ہے لیکن یہ سال بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، اقلیتوں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا ہے جس میں 206 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اب تک دہشت گردی کے ہاتھوں پچاس سے ستر ہزار تک افراد گنوا چکا ہے۔

 

یہ مختصراً وہ واقعات ہیں جو پاکستانی یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اسی تعداد میں لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں بلکہ کئی ایسے علاقے اب بھی ہیں جہاں تک ذرائع ابلاغ کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی وہاں پر ہونے والے واقعات ہم تک پہنچ سکے ہیں۔

 

یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اورپتہ نہیں کب تک جاری رہےگا۔ پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ خٰیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری آپریشن اور اس سے پہلے ہزاروں لوگ اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، لاکھوں بے سر و سامان اور بے یار و مددگار مختلف کیمپوں اور خیموں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہم نے سانحہ پشاور اور ضرب عضب سے پہلے ایسے ہی سنحات کو سازش، غیر ملکی ہاتھ، امن مذاکرات اور مذہب کے نام پر دہشت گردی قرار دینے اور متحد ہونے سے انکار کیا، 16 دسمبر 2014 سے قبل نہ تو پاکستانی میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا اور نہ ہی کسی نے کوئی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا۔ہم ابھی بھی بے گھر افراد کے نام پر وصول ہونے والے فنڈز کے صحیح استعمال پر آمادہ نہیں، فاٹا میں اصلاحات کے لیے فعال نہیں اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف امن پسند بیانیے کی تشکیل و ترویج کے لیے متحرک نہیں۔

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
16 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا اور پاک فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق اس دوران 3400 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، ان کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں اور خفیہ اطلاعات کی بنیا د پر 13200 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں 183 خطرناک دہشت گرد مارے گئے جبکہ 21193 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں 488 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 1914 زخمی ہوچکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کارروائیاں، گرفتاریاں اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں دہشت گردوں سے پاک ایک خوش کن تصویر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن اس آپریشن کی شفافیت پر بھی لوگوں کی طرف سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں تو میڈیا یا عام لوگوں کی نظروں سے کیو ں اوجھل ہیں؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان تفریق کی پالیسی ترک کی گئی ہے یا نہیں؟ اگر دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی گئی ہے اور اب وہ کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو پھر کراچی، کوئٹہ، پشاور، پارا چنار اور لاہور میں دہشت گردانہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اگر ہم اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں سکولوں کو ان کے ناموں کے ساتھ منسوب کررہے ہیں، عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، شمعیں روشن کی جا رہی ہیں، بڑے بڑے سیمینار کرائے جا رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ان بچوں کی شہادت کے بعد ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے قابل ہو گئے ہیں؟ کیا یہ طے کیا جا چکا ہے کہ مستقبل میں ہماری ریاست جہادی تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرے گی؟ یہ سوالات میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں اور درخواست بھی کروں گا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی یاد کرنے کی کوشش کریں جنہوں نے اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔