Categories
نقطۂ نظر

یہ پرچم تمہارے حوالے

youth-yell

شہید کیمرامین شہزاد خان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے لئے آنے والے کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جب پہنچے تو شہزاد خان کی ننھی پری کو نہ تو تعزیت کرنے والوں کے آنے کا مقصد سمجھ آیا نہ ہی ان کے منہ سے نکلے روایتی افسوس کے الفاظ۔ ہاں وردی اس کے لئے نئی ہو گی، دھماکہ کے بعد تعزیت کے الفاظ بھی نئے ہوں گے، چہرے نئے، گھر آنے والوں کا رش بھی نیا صرف ایک چیز پرانی دکھائی دی جسے اس نے پہنچانا وہ تھا پاکستان کا جھنڈا جو کمانڈر سدرن کے بازو پر لگا دکھائی دیا۔۔۔۔۔۔ شاید اس بچی کو یاد آیا ہوگا کہ وہ اپنے بابا کے ساتھ جشن آزادی کی ایک تقریب میں آتش بازی دیکھ کر آئی تھی جس پر اس کے بابا مسکراتے ہوئے تصویر بنواتے رہے، شاید اسے یاد آیا ہوگا کہ دھماکے سے دو روز قبل اس کے بابا نے پاکستان کا بہت بڑا پرچم بنانے کے تیاری میں حصہ لیا تھا۔ اسے وہ پرچم یاد رہ گیا باقی سب اس کے لئے نیا سا تھا۔ اس پر چم کو غور سے دیکھنے اور چھونے کی کوشش کرنے پر وردی والے کو سمجھ آ گیا کہ یہ بچی وطن کو پہنچانتی ہے تو اس نے وہ پرچم بازوسے اتار کر بچی کو تھما دیا۔ کاش وہ اس بچی کو یہ بھی سمجھا سکتے کہ وہ وردی سمیت کیوں ناکام ہوئے۔ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے شہید کیمرامین شہزاد خان کی بیٹی کو بہت کم عمری میں اتنی بھاری ذمہ داری دے دی گئی، اپنے جسم سے پرچم اتار کر اسے تھمایا گیا تو میرے ذہن میں آیا۔۔۔ لو بیٹا وطن اب تمہارے حوالے!!!

 

ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ لکھتے وقت دل بہت بھاری ہے، آنکھیں نم ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ بہت کم ہی یہ کیفیت طاری ہوتی ہے کیونکہ میں بھی اس بے حس قبیلے کی ایک فرد ہوں جہاں کوئی مرے تو وقتی افسوس ہوتا ہے، چار دن کا سوگ ہوتا ہے اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، پھر کوئی دھماکہ ہوتا ہے دل زور سے دھڑکتا ہے اور پھر تاریخ بدلتی ہے اور دھیان بٹ جاتا ہے۔ ہماری قوم کی حالت اس مریض کی سی ہوگئی ہے جو جاں بلب ہے لیکن پھر بھی جینا چاہتا ہے۔ وینٹیلیٹر پر پڑی اس قوم کی حرکت قلب کو چیک کر نے کے لئے ایک جھٹکا دیا جاتا ہے تو مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوتی ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ اسی حالت میں واپس چلا جاتا ہے اور حکمران اور ہماری حفاظت کی ضمانت دینے والے، اس قابل ڈاکٹر جیسے لگتے ہیں جو تجربے کا غرور لئے مریض کی دیکھ بھال اسپتال کے انٹرنیز پر چھوڑ دیتا ہے کہ ان کو سیکھنے کو ملے۔ جب مریض مر جائے تو اس شام سب اس ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتے ہیں جو خاندان کے پاس آکر کہتا ہے کہ آئی ایم سوری ہم آپ کے پیارے کو بچا نہ سکے۔۔۔۔ ایوان زیریں میں بھی تو بڑے ڈاکٹر صاحب یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے افسوس ہے آپ کا مریض بچ نہ سکا آپ نے مجھ پر اعتبار کیا اس کا شکریہ لیکن زندگی موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے جو مرے ہیں ان کے نقصان پر مجھے بھی افسوس ہے لیکن اطمینان رکھئے آئندہ کم مریض مریں گے۔ پھر بڑے ڈاکٹر صاحب بیٹھے تو ان کا معاون اٹھا اور اس نے اپنی بات شروع کی اور بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں کیسز خراب ہونے کی تعداد بہت کم ہے اس اسپتال میں جو پہلے معالج تھے وہ تو علاج کی الف ب تک سے واقف نہ تھے ان کے ہاتھوں تو کئی مریض مرے یہاں تک کہ وی آئی پی مریض تک، جن کی سرجری میں 36گھنٹے گزر گئے۔ قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کی سپاٹ تقریر کے بعد رسم پوری کی اور پوری قوم کو جتایا کہ مشرف کے دور حکومت میں روز تین سے چار دھماکے معمول تھے یہاں تک کہ افواج پاکستان کے محفوظ ترین مقامات و تنصیبات بھی دہشت گردی کی زد پر رہیں۔ بہت خوب جناب۔۔۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ تسلیم کیا جاتا کہ نیکٹا اور افواج پاکستان سمیت سبھی ادارے جن کی کامیابیوں کی داستانیں روز سنائی جاتی ہیں وہ سب ناکام ہو کر ایک طرٖف ہو گئے ہی اور مٹھی بھر ٹوٹی کمر والے دشمن سبقت لے گئے ہیں۔ ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا یہ چائیے تھا حکومت، اپوزیشن ایک صفحے پر دکھائی دیتے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی بار بار ماضی کا حوالہ دے کر یہ بتایا جاتا رہا کہ دیکھو تمہارے وقت میں لاکھ مرے ہمارے وقت میں ہزار امن تو قائم ہوا ہے ناں۔

 

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر کسی ایک کی بھی ناحق لاش گرتی ہے تو کیا ریاست کے نزدیک اس ایک کی اہمیت نہیں؟ میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔جب انتخابات قریب ہوں تو یہی حکمران ووٹ پورے کرنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے لئے انگوٹھے کا ایک ایک نشان اہمیت رکھتا ہے لیکن جب دھماکہ ہو جائے تو لاشوں کی گنتی کر کے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ نقصان کم ہوا ہے، دھماکہ بڑی نوعیت کا نہیں تھا محض پانچ یا دس لوگوں کا مرنا ایسے ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

 

میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔
پشاور سانحے میں جب 150 زندگیوں کے چراغ بجھیں تو ایک آواز سنائی دی کہ دشمن اب کمزور پڑ گیا ہے تو آسان ہدف اس کا شکار ہیں یہاں پھر وہی سوال ہے کہ عوام کو اگر آسان ہدف سمجھ کر بھوکے بھیڑیوں اور کتوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا ہے تو جنگل کا بادشاہ شیر آج کل کہاں ہوتا ہے؟ یہ شیر انتخابات میں ہی جنگل کی سیر کو نکلتا ہے یا پھر دوسرے جنگلوں کا دورہ کرنے؟ چلیں جناب ان کو چھوڑیں اس شیر نے ملک کی حفاظت کی کمان جنہیں دے رکھی ہے ان کا جنگل میں کیا کام ہے؟ جنگل میں باہر سے کوئی آ کر حملہ نہ کرے اس مقصد کے لیے خاردار باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، کوئی ہتھیار سے وار نہ کردے تو ہم نے بھی ہتھیار بنا کر دشمن کو جتا دیا۔ لیکن خاردار باڑ لگانے والے جنگل کی تلاشی لینا بھول گئے۔ تلاشی سے یاد آیا کوئٹہ سانحے کے بعد سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا۔ چلیں کوئی بات نہیں جہاں اتنے آپریشن ہوئے ایک اور سہی اب وینٹیلیٹر پر پڑے مریض کو موت سے بچانے کے لئے ایک دوا اور سہی ایک نیا ڈاکٹر آزمانے میں حرج ہی کیا ہے؟ لیکن یاد رہے قاتل اسپتال میں ہی کہیں گھوم رہا ہے آپ دوا ڈھونڈنے نکلیں گے اور وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر اپنا کام کر جائے گا۔ ویسے ٹوٹی کمر والا یہ دشمن کمر سے نہیں دماغ سے کام کرتا ہے، سانحہ پشاور ہو، یا واہگہ بارڈر دھماکہ، سانحہ لاہور ہو یا سانحہ کوئٹہ دشمن نے ٹوٹی کمر کے ساتھ کامیاب سرجری کی اور ہمارے معالجین نے آ کر صرف یہی کہا کہ آئی ایم سوری ہم آپ کو نہیں بچا سکے۔

 

حالیہ اجلاس بھی بلند و بانگ دعووں، افواج کی ستائش، حملہ آوروں کی مذمت، عوام کے لیے ڈھکوسلوں، قرادادوں اور تقاریر کے بعد تمام ہوا، فوج اور ایجنسیوں کی جانب سے کومبنگ آپریشن کا آغاز ہوا اور ایک بار پھر کسی لنگڑے لولے نے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر دھماکہ کر کے بتا دیا کہ ٹوٹی ہوئی کمر کے لوگ اکڑی ہوئی گردنوں سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟ تو صاحب دشمن منصوبہ بندی آپ کی لگائی ہوئی باڑ کے باہر کرتا ہے اور پھر آپ کے دھتکارے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے، ناانصافی کی چکی میں پسے ہوئے دلبرداشتہ ذہنوں کو خریدتا ہے۔ یہ دشمن وہی ذہن اور جسم خریدتا ہے جو جنگل کے اندر موجود ہیں۔ دشمن ان کو جنت کا راستہ دکھا کر عوامی مقامات پر حملے کرواتا ہے اور آپ کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسبان اس کے۔ ڈھونڈنا ہے تو ان کو ڈھونڈیں جو ان لوگوں کے ہاتھوں بک رہے ہیں وہ غیر نہیں آپ کے اپنے ہیں۔ ان کے چارہ گر بنیں ان کے ٹوٹے دلوں کی رفو گری کریں اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ آپ نے کس کا حق چھینا کس کے ساتھ ناانصافی کی؟ کس کو زیادہ نوازا کس کا حق چھین کر اپنے منہ میں نوالہ ڈالا صرف ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کا حوصلہ کیجئے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے، لوگ ملنا شروع ہوجائیں گے ڈھونڈیے اس شخص کو جو اپنے وطن سے پیار کرتا ہوگا اس پر جان نثار کرنے کا متمنی بھی ہوگا مثبت ذہن بھی رکھتا ہوگا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہوگا کہیں اس کو وطن سے محبت کرنے پر ناحق تو نہیں بھینٹ چڑھا دیا گیا؟ کہیں اس کا حق کسی نااہل کو تو نہیں دے دیا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یاد رکھئیے گھر کو آگ لگتی ہے گھر کے چراغ سے۔

 

یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟
شہزاد خان ہو یا اس جیسے ہزاروں سپوت جنھوں نے آگ کو لگتے دیکھا اس میں خود کو جلتا پایا جب ان کی جانیں نکل رہی ہوں گی تو زند گی کے کون کون سے لمحات، اپنے پیاروں کے چہرے ان کی نظروں کے سامنے آئے ہوں گے؟ کئی لمحات تو ایسے ہوں گے جو ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے ہوں گے اس نے اپنی بیٹی کو یاد کیا ہوگا، گھر اور اس کا خیال رکھنے والی بیوی کا بھی آیا ہوگا یا پھر یہ سوچا ہو گا کہ اگر جانے کا وقت آگیا ہے تو میرے اپنے میرے بعد خود کو کیسے سنبھالیں گے میں نے تو ان کی عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں۔ شاید وہی ایک لمحہ ایسا تھا جب شہزاد کی بیٹی نے بابا کی وطن سے محبت کو پہلی بار اپنے شعور میں محفوظ کیا ہوگا تب ہی اس کا ہاتھ بلوچستان کی حفاظت پر مامور سب سے بڑی ملٹر ی کمپنی کے کرتا دھرتا کی وردی پر لگے پرچم کی جانب بڑھا تھا۔ نہ تو اس بچی تو اس وردی نے متاثر کیا نہ شام کو ہونے والی جنگل کے شیر کی تقریر نے، صرف ایک لمحے کو سوچئیے آج یہ ننھا ہاتھ پرچم مانگنے کے لئے آگے بڑھا ہے یہ جو ستر سے زائد خاندان بے سہارا ہوئے ہیں اور ان جیسے لاکھوں اور کل کو ان کے ہاتھ آپ کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائیں ان چراغوں کو کوئی غیر جلنے کے لئے ایندھن ادھار نہ دے ڈالے۔۔۔۔۔۔۔
Categories
اداریہ

کومبنگ آپریشن بلوچوں کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کا بہانہ ہے

[blockquote style=”3″]

مدیر کے نام خطوط قارئین کی جانب سے بھیجے گئے خطوط پر مشتمل سلسلہ ہے۔ یہ خطوط نیک نیتی کے جذبے کے تحت شائع کیے جاتے ہیں۔ ان میں فراہم کی گئی معلومات اور آراء مکتوب نگار کی ذاتی آراء اور ذمہ داری ہیں جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی قسم کی غلط بیانی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔

[/blockquote]
Letter-to-Editor

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے بیان میں کوئٹہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے واقعات کا رونما ہونا پاکستان کی اُس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت پاکستان مذہبی انتہا پسندوں کی پرورش کرکے بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کھڑا کر رہا ہے۔ کوئٹہ میں طالبان کی مجلس شوریٰ کی موجودگی کے باعث دہشت گردی کے ایسے مزید واقعات ہوتے رہیں گے، اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جواب طلبی کریں۔ جب تک عوام پاکستان کی ان پالیسیوں کے خلاف خوف کی وجہ سے چپ سادھے رکھیں گے، تب تک عام آدمی کے مقدر میں لاشیں اُٹھانا ہی لکھا ہے۔
فوج اور سرکاری حکام کی جانب سے دہشت گردی کے اِس وقعے کی مذمت کرنا عوام کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت اب پوشیدہ نہیں رہی کہ طالبان، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ، لشکر اسلام، لشکر خراسان اور ان جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پاکستانی عسکری ادروں کی مکمل یا جزوی حمایت حاصل ہے۔ پاکستانی فوج ان کے خلاف کارروائی کی بات تو ضرور کرتی ہے، مگر پنجاب میں صرف ایک جرائم پیشہ گینگ کے خلاف فوجی آپریشن ہوتا ہے اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے رہنما آزادانہ گھومتے ہیں۔

 

خاران میں مُلا منیر ملازئی کی سربراہی میں داعش کے پمفلٹ تقسیم ہوتے ہیں اور وال چاکنگ کی جاتی ہے، لیکن انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے کیونکہ وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
ثناء اللہ زہری بھی اِن تنظیموں کے خلاف کارروائی کی بات کرتا ہے مگر خود اُس کے اپنے آبائی علاقے زہری، مشک، سوراب اور گدر میں طالبان مذہبی شدت پسند موجود ہیں جہاں انہیں مکمل سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ زہری مشک اور محمد تاوہ میں داعش کے کیمپ موجود ہیں، جن کی سرپرستی بعض سیاسی رہنما خود کر رہے ہیں۔ خاران میں مُلا منیر ملازئی کی سربراہی میں داعش کے پمفلٹ تقسیم ہوتے ہیں اور وال چاکنگ کی جاتی ہے، لیکن انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے کیونکہ وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ دُنیا کو بیوقوف بنانے کے لئے ایسی نمائشی کارروائیاں کرتی ہے، جس سے اِن کی امداد میں اضافے کا امکان ہو۔

 

ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیں، جو نہ صرف بلوچ قومی جدو جہد کے خلاف ہیں بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لئے بھی خطرے کی نشانی ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے “کومبنگ آپریشن” کرنے کا جو اعلان کیا ہے، وہ نئی بات نہیں۔ یہ محض بلوچوں کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کا ایک بہانہ ہے۔ پاکستانی فوج نے بلوچستان میں جو قتل عام شروع کر رکھا ہے، اس سے یہ عیاں ہے کہ ان کے ہاں انسانیت نام کی کوئی شئے موجود نہیں۔ ریاست اب بھی شدت پسند عناصر کی سرپرستی سے گریزاں نہیں۔

 

بلوچستان کے سیکولر سماجی ماحول کو پراگندہ کرنے کے لئے پاکستان دینی مدرسوں اور شدت پسندوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ دینی تعلیم یا کسی بھی تعلیم کی اسپیشلائزیشن دنیا میں بچپن یا پہلی جماعت سے شروع نہیں ہوتی۔ ہر کوئی بارہ جماعت پاس کرنے کے بعد اپنے شعبے کی تعلیم کا انتخاب کرتا ہے، مگر پاکستان میں پیدا ہوتے ہی مدرسوں میں داخلے دے کر اور سکولوں میں بنیاد پرست نصاب پڑھا کر شدت پسندی کی اسپیشلائزیشن شروع کرائی جاتی ہے۔ اگر اب بھی دنیا نے اِس خطے کو پاکستان کے رحم و کرم پر چھوڑا تو اس سوچ کی آبیاری و تربیت کئی گنا بڑھ کر بے قابو ہوجائے گی۔

 

طالبان، جماعت الاحرار و دیگر جماعتیں پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے ہیں، جنہیں وہ کئی دہائیوں سے ہمسایہ ممالک اور اب بلوچ قوم کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
بلوچستان میں مذہبی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دے کر اُن سے پاکستان کا نعرہ لگوانا اور بلوچ تحریک کے خلاف باتیں کرنے کے ساتھ یہ اعتراف کرنا کہ بلوچستان میں پاکستانی جھنڈا ہماری وجہ سے لہرا رہا ہے، ایک ثبوت ہے کہ اِن کی ڈوریں براہ راست پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں بلوچ اور پشتوں وکلاء پر حملے کی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے بعد ایک اور خونی آپریشن کے منصوبے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

 

طالبان، جماعت الاحرار و دیگر جماعتیں پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے ہیں، جنہیں وہ کئی دہائیوں سے ہمسایہ ممالک اور اب بلوچ قوم کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ یہی مذہبی و دینی جماعتیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر مراعات، کرسی اور دنیاوی آسائشوں کے لئے اسلام و قرآن کی غلط روح پیش کرکے لوگوں کے ذہنوں میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہی جماعتوں کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف صف آرا کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں آرمی کی زیر نگرانی مذہبی انتہاپسندوں کا بلوچ قومی تحریک کے خلاف باتیں سب کے سامنے اور ریکارڈ پر موجود ہیں۔ مکران میں سرکار کی جانب سے لشکر خراسان کو مسلح کرنے سے لے کر زہری میں داعش کی موجودگی اور وال چاکنگ اور مستونگ میں لشکر جھنگوی کے گڑھ کو تحفظ فراہم کرنا کوئی نئی اور پوشیدہ باتیں نہیں ہیں۔ یہی جماعتیں حزب المجاہدین کے کمانڈر کو آزادی پسند اور بلوچ آزادی پسندوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر کی ہلاکت پر سوگ اور مارچ کیا جاتا ہے، اور سرکاری سطح پر احتجاج کیا جاتا ہے مگر عام بلوچ سے لے کر آزادی پسند جہد کار تک کو واجب القتل سمجھا جاتا ہے۔ یہی کرتوت پاکستان کے نام نہاد اسلام کے پیروکاروں کی اصل شکل کو آشکار کرتی ہے۔ قرآن و اسلام ہر قوم کو آزادی کا حق دیتا ہے۔ نام نہاد مولویوں کو بنگلہ دیش میں نسل کشی کو یاد رکھنا چاہئے، جہاں پاکستان نے الشمس اور البدر کے ذریعے اسلام کے نام پر بنگالی مسلمانوں کی نسل کشی کی، بچوں اور خواتین کی عصمت دری کی۔ یہی جماعتیں ایک دفعہ پھر پاکستان کے کہنے پر مختلف ناموں سے بلوچ نسل کشی میں مصروف ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچ اور پشتونوں کے قتل میں بھی انہی مہروں کا ہاتھ ہے۔

 

پشتون قوم کے لئے فیصلے کا وقت آگیا ہے کہ وہ پاکستان کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوکر اپنی ہزاروں برس سے موجود آزادانہ شناخت کی بحالی کی جنگ لڑے۔
پنجاب کے حکمران اور جنرل مگر مچھ کے آنسو بہاکر کسی کو دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔ پشتون قوم کے لئے فیصلے کا وقت آگیا ہے کہ وہ پاکستان کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوکر اپنی ہزاروں برس سے موجود آزادانہ شناخت کی بحالی کی جنگ لڑے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف مذہبی عناصر کے ساتھ نام نہاد قوم پرستوں کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ نیشنل پارٹی کے کئی رہنما ریاستی پیرول پر ڈیتھ اسکواڈ قائم کرکے بلوچ نسل کشی میں پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جن میں راشد پٹھان اور علی حیدر قابل ذکر ہیں۔ دوسری طرف ایک اور مہرے کے طور پر بی این پی کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ نیشنل پارٹی سرکاری سرپرستی اور فوجی گاڑیوں میں لوگوں کو جمع کرکے سرکاری پروٹوکول میں جلسے منعقد کرکے اپنی تقاریر میں صرف بلوچ قومی تحریک کے خلاف زہر اگل کر قابض ریاست کی زبان بول کر ہزاروں بلوچوں کے قتل میں اپنی شراکت داری کا ثبوت خود فراہم کر رہے ہیں۔

 

فقط
بلوچ کارکن