Categories
نقطۂ نظر

ہم اپنے ہی دشمن

ہر مجسمے ،تصویر، اور تاریخ کے پیچھے ایک کہانی پنہاں ہوتی ہے۔ ایسی ہی کچھ تصاویر، مجسمے اور تواریخ میرے ذہن میں گردش کرتے ہیں جب وحشت کی، جنونیت کی، نفرت کی، دہشت کی، خوف اور خون کی بات آتی ہے۔ اگر ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔ شاید وجود کی بنیاد ہی تضاد ہے۔

 

ایک طرف انسانی تاریخ جرات، بہادری اور ذہانت کے کارناموں سے بھری ہے تو دوسری طرف یہ کروڑوں انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی بھی ہے۔ اس میں محبت کی مہک ہے تو نفرت کے شرارے بھی ہیں۔
تاریخ میں یہ پہلی بارنہیں ہے کہ معصوم انسانوں کو خاص کر طلبہ کو جارحیت پسندوں نے اپنے نظریاتی، سیاسی، معاشی یا اختیاراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے موت کے گھاٹ اتاردیا ہو، ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے! اگر آپ کی یادداشت کمزور پڑ رہی ہے تو میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔

 

21اکتوبر 1941 کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوجوں نے سربیا کے شہر کراگوئیواچ کا گھیراو کیا اور 5000 ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے دلدل میں ہمیشہ کے لیے دھکیل دیا۔ اگر بات طلبہ کی ہے تو یہاں یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ جرمن فوجوں نے شہر کے اسکولوں سے طلبہ کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور گولیوں سے چھلنی کردیا۔۔ ان بچاروں کو کیا خبر تھی کہ ان کی زندگی اس طرح رک جائے گی۔

 

سوال یہ ہے کہ ہٹلر نے یورپی ملک سربیا کے شہر کراگوئیواچ کو ہی کیوں اپنی وحشت کا نشانہ بنایا؟ تاریخ کے اوراق میں اس کا جواب یوں درج ہے کہ سربیا یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جہاں نازی جرمنی کی مداخلت کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کی گئی تھی۔ ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا:

 

ہٹلر کو یہ بات گوارا نہ گزری اور اس نے اپنے جنرل کیٹل کو حکم دیا
“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔
“اس جنگ میں اگر ایک جرمن فوجی زخمی ہوتا ہے تو ان کے 50 شہری مارو اور اگر ایک فوجی مرتا ہے تو ان کے 100 شہری مارو”۔

 

ہٹلر کے حکم کی تعمیل ہوئی اور سربیا کے شہر انسانی وحشت کی مثال بن گئے۔

 

کراگوئیواچ میں آج بھی اس دن کے حوالے سے کئی مجسمے کئی تصاویر موجود ہیں جن میں سے پرندے کے پروں کی مانند بنا ہوا ایک سفید مجسمہ ہے جو اس سانحہ میں مارے جانے والے تمام اساتذہ اور طلبہ کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ اسے مونیومینٹ آف انٹررپٹڈ فلائیٹ (Monument of Interrupted Flight)کہتے ہیں۔

 

سربین شاعرہ Desanka Maksimović نے اس منظر کو اپنی نظم میں یوں قید کرلیا تھا۔

It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
They were all born
In the same year
Their school days passed the same
Taken together
To the same festivities,
Vaccinated against the same diseases,
And all died on the same day.
It was in a land of peasants
In the mountainous Balkans,
A company of schoolchildren
Died a martyr’s death
In one day.
And fifty-five minutes
Before the moment of death
The company of small ones
Sat at its desk
And the same difficult assignments
They solved: how far can a
traveler go if he is on foot…
And so on.
Their thoughts were full
of the same numbers
and throughout their notebooks in school bags
lay an infinite number
of senseless A’s and F’s.
A pile of the same dreams
and the same secrets
patriotic and romantic
they clenched in the depths of their pockets.
and it seemed to everyone
that they will run
for a long time beneath the blue arch
until all the assignments in the world
are completed.
It was in a land of peasants
in the mountainous Balkans,
a company of small ones
died a martyr’s death
in one day.
Whole rows of boys
took each other by the hand
and from their last class
went peacefully to slaughter
as if death was nothing.
Whole lines of friends
ascended at the same moment
to their eternal residence.

25 مارچ 1971 یہ تاریخ تو آ پ نہیں بھولے ہوں گے کیونکہ اس تاریخ پر جو خون کے چھینٹے لگے ہیں وہ ہماری ہی گولیوں نے اڑائے تھے۔

 

یہ جنگ ایک ہی گھر کے اراکین میں چھڑی تھی۔ مشرقی پاکستان جو مغربی پاکستان کی برتاو سے تنگ آ کر بٹوارا چاہتا تھا اور مغربی پاکستان کے اراکین کو یہ گستاخی قبول نہ تھی اور انہوں نے جنگ کا اعلان کردیا۔ یہ ذوالفقار علی بٹھو اور جنرل یحیٰی خان کی ملی بھگت تھی جسے آپریشن سرچ لائیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جگن ناتھ ہال سے گزرنے پر ممکن ہے کہ آپ کو ان بھاگتے دوڑتے طلبہ کے عکس دکھائی دیں یا پھر آپ کو ان کی چیخیں سنائی دیں!

 

ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں،کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا
اگر ہم دوسروں کو دہشت گرد، قاتل، جاریت پسند کہتے ہیں تو ہمارے ہاتھ بھی تو انسانی خون سے رنگے ہیں جنہیں ہم نے اب تک نہیں دھویا!

 

16دسمبر2014کو جب آرمی پبلک اسکول پشاور میں کسی کلاس میں بچے ہم آواز ہوکر کوئی نظم پڑھ رہے تھے، کسی کلاس میں انسان اشرف المخلوق ہیں کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو اچانک چند انسانوں نے ایسی چال چلی کہ ان کے مضمون کے سارے الفاظ پھیکے پڑ گئے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں، اساتذہ اور جو بھی ان کے سامنے آیا سب کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنایا!

 

تاریخ خون کے دھبوں سے داغدار ہے۔ ہماری یادداشت تھوڑی کمزور ہے، ہم سب بھول جاتے ہیں، جیسے ہم بہت سی تواریخ اور سانحے بھول چکے ہیں ویسے ہی گزرتے وقت کے ساتھ یہ زخم بھی شاید بھر جائیں اور یہ درد جو ہماری رگوں میں آج ہمدردی کی حرارت پیدا کرتا ہے اور جس کی وجہ سے آ ج ہم اس سانحےکو یاد رکھنے کے لیےنعمے لکھتے ہیں گاتے ہیں یہ حرارت کب تک رہے گی؟؟

 

ہم نے پہلے بھی کئی عزم کیے تھے، آج بھی ہم دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کرتے ہیں لیکن ہمارے تمام عزم وقتی ہیں اور زیادہ تر جذبات پر مبنی ہیں۔ اگرہمیں عزم کرنا ہی ہے تو ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو پاکستانی، ہندوستانی، امریکی، افغانی، ہندو، مسلمان، عیسائی، سندھی، پنجابی، پٹھان، کالا، گورا، امیر، غریب ہونے کے درس کو بھلا کر انسانیت کا درس دیں گے! کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جو تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی دشمن بنتے ہیں، کسی اور سیارے سے کوئی نہیں آتا اور ہماری زمیں کو خون آلود کرتا!! ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ سبھی انسان ان کی طرح سوچیں، ان کے خیالات پر لبیک کہیں اور زندگی ان کے بتائے اسلوب سے گزاریں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ تنوع، گوناگونی اک حقیقت ہے اور ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔
جب تک ہم اپنے آج کو نہیں بدلیں گے تب تک ہمارا کل اسی طرح بلکتا، سسکتا، اور وحشت زدہ رہے گا!

Image: Guernica by Picasso

Categories
نان فکشن

زخم ابھی تازہ ہے

8 نومبر 2006ء کا دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس وقت میں کالج کا طالب علم تھا اور حسب معمول کالج جارہا تھا۔ درگئی (ضلع مالاکنڈ) بازار کے مرکزی چوک پہنچتے ہی ہماری گاڑی کی طرف ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا اور پھر دھماکے کی آواز۔ ہم نے اس وقت تک خودکش دھماکے کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن کالج پہنچنے پر معلوم ہوا کہ درگئی کے پنجاب رجمنٹ سنٹر پر اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب فوجی جوان معمول کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ کالج سے رجمنٹ سنٹر کا راستہ قریباً 10 منٹ میں طے کیا تو دور سے ہی خون آلود لاشیں نظر آنا شروع ہوگئیں، قریب جانے کی ہمت نہیں پڑی، دور ہی دور سے ‘تماشا’ دیکھ کر ہم ہسپتال پہنچ گئے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہسپتال میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں پر قیامت صغریٰ کی کیفیت تھی۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر فریاد کررہے تھے۔ 9 نومبر کو سنا کہ یہ 30 اکتوبر 2006ء کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ میں واقع ایک دینی مدرسے پر اس حملے کا ردعمل تھا جس میں 82 لوگ مارے گئے تھے۔

 

دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی میں شدت نوے کی دہائی میں اس وقت آئی جب تکفیری جہادی تنظیموں کے اراکین نے دیگر مسالک کے پیروکاروں کے خلاف حملے شروع کیے۔ لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ خصوصاً کشمیر جہاد پر پابندی عائد کرنے اور دوسری طرف افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستانی جہادی تنظیموں نے بھی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ تاہم پاکستان بھر میں دہشت گردی کو غیر ضروری عوامل کی بناء پر ‘جائز’ قرار دیا جاتا رہا۔ ہماری اس وقت کی فوجی قیادت (جو ملک پر حکومت بھی کر رہی تھی) یہ ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ طالبان دہشت گرد امریکی حملے سے قبل بھی پاکستانی “اثاثہ” نہیں بلکہ دشمن ہی تھے۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ سال 2000 کراچی اور حیدرآباد میں دو بم دھماکوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اگلے سال (2001ء) میں بہاولپور کے ایک گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سال 2002ء میں کل 14 بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں کم از کم 92 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک امریکی سفارتکار، اس کی بیٹی اور معروف صحافی ڈینئیل پرل بھی شامل ہیں۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔
سال 2003ء میں 8 کے قریب دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں 50 سے زائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اسی طرح سال 2004ء میں 18 دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 200 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔

 

سال 2005ء میں دہشتگردی کے قریباً 11 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 105 کے قریب لوگ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

 

سال 2006 میں 657 مختلف واقعات میں 907 سے زائد لوگ مارے گئے۔ ان واقعات میں 40 فرقہ وارانہ واقعات بھی شامل تھے۔

 

سال 2007ء میں دہشت گردی کے تقریباً 1503 واقعات رونما ہوئے جن میں 20 خودکش دھماکے بھی شامل تھے جن میں سے زیادہ تر میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں 3448 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

سال 2008ء میں 2148 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد 973 بتائی گئی ہے۔

 

سال 2009ء میں 2586 کے قریب واقعات رونما ہوئے جن میں سے زیادہ تر فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر کئے گئے حملے تھے۔ ان حملوں میں 3021 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔

 

پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
سال 2010ء پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں 2000کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

 

سال 2011ء میں بھی پاکستان محفوظ نہ رہا اور قریباً 400 سے زائد افراد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2012ء ایک بار پھر پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں دہشت گردی کے تقریباً 214 واقعات رونما ہوئے۔ اسی سال ایک ہی دن میں کئی حملے پاکستانی عوام نے دیکھے اور ہزاروں لوگ اسی واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2013ء میں قریباً 72 ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو صرف رپورٹ کیا گیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

 

سال 2014ء وہی بدقسمت سال ہے جس میں آرمی پبلک سکول پشاور کے ساتھ ساتھ 8 جون کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ، واہگہ بارڈر، پاکستان نیوی کے پی این ایس ذوالفقار، ایس ایس پی چوہدری اسلم اور کوئٹہ کے پی اے ایف بیس پر حملہ بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس سال 315 سے زائد افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

سال 2015ء ختم ہونے کو ہے لیکن یہ سال بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، اقلیتوں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا ہے جس میں 206 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اب تک دہشت گردی کے ہاتھوں پچاس سے ستر ہزار تک افراد گنوا چکا ہے۔

 

یہ مختصراً وہ واقعات ہیں جو پاکستانی یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اسی تعداد میں لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں بلکہ کئی ایسے علاقے اب بھی ہیں جہاں تک ذرائع ابلاغ کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی وہاں پر ہونے والے واقعات ہم تک پہنچ سکے ہیں۔

 

یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اورپتہ نہیں کب تک جاری رہےگا۔ پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ خٰیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری آپریشن اور اس سے پہلے ہزاروں لوگ اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، لاکھوں بے سر و سامان اور بے یار و مددگار مختلف کیمپوں اور خیموں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہم نے سانحہ پشاور اور ضرب عضب سے پہلے ایسے ہی سنحات کو سازش، غیر ملکی ہاتھ، امن مذاکرات اور مذہب کے نام پر دہشت گردی قرار دینے اور متحد ہونے سے انکار کیا، 16 دسمبر 2014 سے قبل نہ تو پاکستانی میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا اور نہ ہی کسی نے کوئی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا۔ہم ابھی بھی بے گھر افراد کے نام پر وصول ہونے والے فنڈز کے صحیح استعمال پر آمادہ نہیں، فاٹا میں اصلاحات کے لیے فعال نہیں اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف امن پسند بیانیے کی تشکیل و ترویج کے لیے متحرک نہیں۔

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
16 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا اور پاک فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق اس دوران 3400 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، ان کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں اور خفیہ اطلاعات کی بنیا د پر 13200 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں 183 خطرناک دہشت گرد مارے گئے جبکہ 21193 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں 488 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 1914 زخمی ہوچکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کارروائیاں، گرفتاریاں اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں دہشت گردوں سے پاک ایک خوش کن تصویر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن اس آپریشن کی شفافیت پر بھی لوگوں کی طرف سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں تو میڈیا یا عام لوگوں کی نظروں سے کیو ں اوجھل ہیں؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان تفریق کی پالیسی ترک کی گئی ہے یا نہیں؟ اگر دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی گئی ہے اور اب وہ کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو پھر کراچی، کوئٹہ، پشاور، پارا چنار اور لاہور میں دہشت گردانہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اگر ہم اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں سکولوں کو ان کے ناموں کے ساتھ منسوب کررہے ہیں، عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، شمعیں روشن کی جا رہی ہیں، بڑے بڑے سیمینار کرائے جا رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ان بچوں کی شہادت کے بعد ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے قابل ہو گئے ہیں؟ کیا یہ طے کیا جا چکا ہے کہ مستقبل میں ہماری ریاست جہادی تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرے گی؟ یہ سوالات میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں اور درخواست بھی کروں گا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی یاد کرنے کی کوشش کریں جنہوں نے اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔ تنقید اچھی چیز ہوتی ہے، یہ ہمیں اپنی کمزوریاں دکھاتی ہے اور ان کا حل ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے، لیکن سوشل میڈٰیا پر اکثر ناقد شاید فنِ تنقید بھی نہیں جانتے ہیں۔ اچھا ناقد وہ ہے جو تنقید کرے اور پھر کوئی حل بیان کرے، پھبتی کسنے اور تنقید کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نیز ہر چیز میں کیڑے نکال کر ہم خود کو تجزیہ کار یا دانشور ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ تنقید پسندوں کو خود پرتنقید بھی برداشت کرنی چاہیئے اور اگر پیش کیے گئے دلائل پر بہتر رد پیش کیا جائے تو اپنی رائے تبدیل کر لینی چاہیئے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کچھ لوگوں نے افواجِ پاکستان یا کم از کم آئی-ایس-پر-آر کے ساتھ رنج پال رکھا ہے۔

 

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ آئی-ایس-پر-آر کا کام جنگ لڑنا نہیں ہے، یہ ادارہ نوے کی دہائی میں پاسبان نامی پروگرام نشر کیا کرتا تھا، اس نے پاکستان کو کچھ بہترین ڈرامے دیئے، اب فلمیں بھی بنا رہا ہے اور یہ ملی نغمے بھی تواتر سے بناتا ہے۔ پبلک رلیشنز ڈیپارٹمنٹ جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے پروپگنڈا ڈیپارٹمنٹ کہلاتا تھا اور اردو میں دفترِ تریج و ابلاغ کہلائے گا، اس کا کام لوگوں تک معلومات پہنچانا، افواج اور عوام کا مورال بلند کرنا اور دشمن کا مورال گرانا بھی ہوتا ہے۔ رہ گئی بات لڑائی کی تو پچھلے ایک سال سے پاکستانی ہر محاذ پر دہشت گری سے نبرد آزما ہیں، افواج اور عوام دونوں شہید ہو رہے ہیں۔

 

پھر پوچھتے ہیں پہلے خود تو پڑھ لیں، اپنے بچوں کو تو پڑھا لیں پھر کسی اور کے بچوں کو پڑھائیے گا! تو پھر سنئیے، پچھلے دورِ حکومت میں آئین میں آرٹیکل 25 الف کی شق شامل کی گئی تھی۔ یہ شق ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ6 تا 12 سال کے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست ایسا کر نہیں پا رہی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم کا بجٹ 2 فیصد کے لگ بھگ ہے وہ بھی پورا خرچ نہیں ہوتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے، ہر صوبے میں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ مجود ہیں جو ہمارے ٹیکس ڈکارے جارہے ہیں۔ اگر آپ کو اتنا ہی درد ہے تو اپنے علاقے میں قائم سرکاری اسکول پر دھاوا بول دیں جی ہاں! دھاوا! اسکول کی اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بن جائیں، اساتذہ کو پابند کریں کہ غیر حاضر نہ ہوں، علاقے کے مستحق بچوں کو اسکول لایئں، عوام کو آرٹیکل 25اے کے بارے میں بتائیں۔ اور اگر یہ کام کرنے کی ہمت نہیں ہے تو چپ ہوجائیں۔ اگر آپ تعلیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اور اگر بچے یہ عہد کر رہے ہیں تو کم سے کم ان کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

 

پھر سوال کرتے ہیں کون سی تعلیم دیں گے؟ کون سا نصاب پڑھائیں گے؟ کون سے بوڑد کا اطلاق ہوگا؟ ویڈیو غور سے دیکھیں بچے امن کا پرچار کر رہے ہیں۔ امن، انسانی حقوق، انسانیت اور خود شناسی سے قائم ہوتا ہے۔ البتہ یہ مضامین عموماً ہمارے اسکولوں بطور نصاب پڑھائے ہی نہیں جاتے ہیں، لیکن ان کو بڑے آرام سے ڈھونڈا، سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے، جیسے یہ بچے پر امن پیغامات بنا اور دکھا رہے تھے۔ اگر ہمیں موجودہ نصاب سے اختلاف ہے تو خود آگے بڑھنا چاہیئے اور اس میں موجود خامیوں کو اجاگر کر کے ان کا حل پیش کرنا چاہیئے۔

 

یہ نغمہ ‘مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے’ اور اس پہلے آنے والا نغمہ دونوں ایک بچے کی منظر کشی کرتے ہیں جو اپنے والدین اور پورے معاشرے سے ہم کلام ہے۔ پچھلے نغمے میں اس بچے نے اپنے دشمنوں کو آئینہ دکھایا تھا کہ تم نے پھول سے بچوں کو جان بوجھ کر کچلا ہے۔ اور نئے نغمے میں وہی بچہ ایک نئے عزم کا اظہار کر رہا ہے، لیکن یہ بچہ کم ظرف نہیں ہے! یہ ایک معصوم طالبعلم تھا اور اس کا بدلہ بھی بے ضرر اور معصومانہ ہے، یہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے۔ آخر تعلیم کے دشمنوں سے اس سے بہتر بدلہ کیا لیا جا سکتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلوں کو تعلیم دی جائے۔ ہاں تعلیم دینے سے پہلے یہ فیصلہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہو اور ایسی نہ ہو جو ہمارے تعلیمی اداروں میں ہی شدت پسند پیدا کر تی ہے۔

 

http://dai.ly/x3i3vfq

اچھا اگر ناقدین کی بات مان لیں اور یہ جملہ تبدیل کردیں تو، اس کی جگہ یہ بچہ کیا کہے؟
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے!
مجھے دشمن کے بچوں کو سولی چڑھانا ہے؟ یا پھر مجھے دشمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے؟
ہم اپنے بچوں کو کیسا بیانیہ دینا چاہتے ہیں؟

 

اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
بہت سے لوگ شاید بھولے بن گئے ہیں، میڈیا تو شاید ڈر، خوف یا پھر کسی اور مصلحت کے باعث دشمن کا نام نہیں لیتا ہے لیکن دشمن نے خود اس جرم کا اقبال کیا تھا اور اپنے آئندہ عزائم کا بھی عندیہ بھی دے دیا تھا۔ یہی عزم ملالہ یوسف زئی کا بھی ہے جس نے طالبان اور دہشت گردی کو تعلیم سے شکست دینے کی بات کی۔ اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
پچھلے سال جب اس سانحہ کے بعد پہلا نغمہ جاری کیا گیا تھا تو اس کے چند دن بعد ہی طالبان نے اس کا جوابی نغمہ جاری کردیا تھا، اس میں دشمن نے اقرار کیا تھا کے یہ حملہ اس نے کیا ہے اور اس کے بعد اس کا بھائی یہ عمل دہرائے گا (اس موقع پر ایک کم سن بچہ بندوق تھامے نظر آتا ہے)۔ یہ ان کا بیانیہ اور ان کا نظریہ تھا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو امن کا پرچار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں نہ کے خون خرابے کی۔

 

ایک اعتراض بجا ہے، کہ صرف اس سانحہ پر ہی نغمات کا اجرا کیوں کیا گیا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا اعادہ کیوں ہوا؟ تھر میں بھی تو بچے بھوک سے بلک بلک کر جاں بحق ہوگئے تھے، ہزاروں نوجوانان اور بچے امام بارگاہوں، مساجد اور گرجا گھروں میں ہونے والے خود کش حملوں میں جاں بحق ہوئے ہیں، ان کے لواحقین کی بھی دل جوئی ہونی چاہیئے تھی، ان کی بھی ڈھارس بندھانی چاہیئے تھی، ان کی شہادت کو بھی سلام پیش کرنا چاہیئے تھا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہے کہ غیر ضروری پراپیگنڈے اور غیر ضروری تنقید کی بجائے آگے بڑھنے کا راستہ تعلیم اور سب بچوں کی تعلیم ہے۔ بچوں سے ان کی معصومیت نہ چھینیں، اس عزم پر لبیک کہیں اور اگر کوئی کمی بیشی ہے تو مدلل اعتراضات ضرور کیجیے اور اپنا نقطہ نظر غلط ہونے پر تبدیل کرنے کو بھی تیار رہیں۔
Categories
شاعری

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں جنت میں بہت خوش ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت پیارے علی انکل!
میں جنت میں بہت خوش ہوں
یہاں پر میں اکیلا بھی نہیں ہوں
اتےےےے سارے دوست ہیں میرے
مرے اسکول کے تو ھیں
بہت سے اور بھی ھیں
اور پتا ہے کیا علی انکل؟؟
یہاں کوئی کسی سے یہ نہیں کہتا
کہ تم کافر کے بچے ہو!
علی انکل یہ کافر کون ہوتا ہے؟؟
مجھے لگتا ہے
وہ ہوں گے
جنھوں نے ھم کو مارا تھا!!
علی انکل مرے سینے میں جب گولی لگی تھی ناں
تو……
تو ماما یاد آئیں تھیں!!!
یہاں جنت میں سب کچھ ھے مگر ماما نہیں ھیں!!
علی انکل
اگر ناراض نا ہوں تو
میں کچھ پوچھوں؟؟
مری اور میرے سارے دوستوں کی یاد میں بھیگی ہوئی نظمیں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر لکھنے سے کیا ہو گا؟؟
زیادہ سے زیادہ ایک دن کی یاد ہے اور بس؟
پھر اس کے بعد سب کا سب وہی ہو گا
گلی کوچوں کی دیواروں پہ لکھے قتل کے نعرے
وہی اک دوسرے پر کفر کے فتوے؟؟
علی انکل
مجھے اور میرے سارے ساتھیوں کو یہ بتائیں ناں
بھلا یوں فیس بک کی وال پر آنسو بہا لینے سے
کیا وہ سوچ بدلے گی؟
جو اپنے کالموں میں اور خطبوں میں ہمارے قاتلوں کے گیت گاتی ھے؟؟
علی انکل ھمارا خون کیا اتنا ہی سستا تھا؟؟؟
علی انکل!
اگر بس ہو سکے تو میرے جیسے ان ھزاروں پھول چہروں کو خوشی دے دیں
جنہیں روٹی نہیں ملتی
جنہیں سردی میں کپڑے بھی نہیں ملتے!!
علی انکل!!
میں جنت میں بہت خوش ہوں!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہم ستارے بن گئے ہیں

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کے مندرجات بعض قارئین کے لیے تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں۔

[/blockquote]

(آپ سب نے اپنی زندگی میں بہت سے خطوط لکھے ،پڑھے اور ایک دوسرے کو بھیجے ہوں گےایسے خط بھی جنہیں پا کر شادمانی کی کیفیت ملی ہو گی، اور ایسے خط بھی جن سے ملنے والی اندوہناک خبروں سے آنکھوں سے آنسووں کی پھواریں پھوٹ پڑی ہوں گی، ایسے بھی جنہوں نے دیر تک آپ کی سانسوں کو بے ترتیب رکھا ہو گا۔۔۔۔ مگر یہ خط ایسا خط نہیں ہے۔)

 

میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور صبح گھر سے بغیر ناشتہ کیے نکلا تھا کیوں کہ پاپا کو دفتر جانے کی جلدی تھی اور میں حسب معمول لیٹ ہو گیا تھا۔ سکول کھلنے میں پانچ منٹ تھے جب میں سکول پہنچا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ تھوڑا وقت گزرا تو میں اپنے دوست کے ساتھ کلاس روم میں آگیا۔ اسی اثنا میں فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ کئی بچے چیخ رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے کچھ رو رہے تھے۔ ایک بندوق بردار شخص ہماری کلاس میں بھی داخل ہوا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کا قد کافی اونچا تھا، اس کی آنکھوں میں مجھے انسانیت کی ذرا برابر رمق نہیں دکھائی دی۔ اس نے اپنی بندوق میری طرف کردی، میں ایک دم ڈر گیا۔ میں نے پہلے کبھی حقیقت میں بندوق نہیں دیکھی تھی۔ اس نے مجھے کلمہ پڑھنے کو کہا، مجھے ڈر لگ رہا تھا، میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کلمہ نہ سنایا تو یہ ڈانٹے گا۔ لیکن اس نے تو کلمہ بھی نہیں سنا اور ڈانٹا بھی نہیں، اس نے گولی چلا دی۔ میں نے دیوار پر اپنے گوشت کے لوتھڑے چپکتے دیکھے، میرا خون گردن پر لکریں بناتا ہوا میری جرابوں تک پہنچ گیا، اور میرے سامنے رکھی ہوئی کتاب میرے خون سے اپنی پیاس بجھا گئی۔ میں نے اپنی جھولی میں اپنے دوستوں کا لہو پھیلتے دیکھا۔ میں نے گولیوں سے چھلنی لاشے دیکھے۔۔۔۔

 

اس نے مجھے کلمہ پڑھنے کو کہا، مجھے ڈر لگ رہا تھا، میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کلمہ نہ سنایا تو یہ ڈانٹے گا۔ لیکن اس نے تو کلمہ بھی نہیں سنا اور ڈانٹا بھی نہیں، اس نے گولی چلا دی۔
ہمارا خون فرش پر بہتا گیا۔ بندوقوں والے ہمارے کلاس روم میں گھومتے رہے۔ ان کے بوٹ ہمارے جمتے ہوئے خون سے لتھڑ چکے تھے اور خون آلودہ بوٹوں کے نشان سارے کمرے میں ثبت ہوتے جا رہے تھے۔ پھر کسی نے آ کر میرے اور میرے دوست کے جسم کو اٹھایا۔ اٹھانے والا زار و قطار رو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد کسی نے میرے جسم سے لٹکے ہوئے خون آلود لوتھڑوں کو دوبارہ ہاتھ سے اپنی جگہ جمانے کی کوشش کی لیکن وہ دوبارہ لٹک جاتے۔ میں نے دیکھا کہ میری ماں رو رہی ہے۔ میں اسے روتا دیکھ کر مزید پریشان ہو گیا۔ میری ماں بار بار میرے بے حس ہونٹوں کو چوم رہی تھی میرے ہونٹ برف کی طرح ٹھنڈے اور ہلکے نمکیں ہو چکے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی چومتی گئی۔ مگر وہ رو کیوں رہی تھی؟ اس کا مجھے پتہ نہیں تھا پہلے تو وہ جب بھی میرا ماتھا چومتی تھی، تو مسکراتی تھی! میں چلا چلا کر پوچھ رہا تھا امی آپ کیوں رو رہی ہیں؟ لیکن وہ میری طرف دیکھنے کی بجائے، میرے جسم کی طرف کیوں دیکھ رہی تھی۔ میں آوازیں دے دے کر تھک چکا تھا۔ میری ماں روتی جا رہی تھی۔ یہ میرے جسم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ مجھے کہاں لے جایا جا رہا تھا۔ میری امی میرے ساتھ کیوں نہیں۔ میری چھوٹی بہن کدھر ہے ؟ ابو مجھے کہاں لے جا رہے تھے ؟ میں کلمہ سنانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ میں اونچی آواز میں کلمہ پڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ لیکن کوئی بھی نہیں سن رہاتھا۔۔۔ میں روتا گیا لیکن کوئی بھی آنسو نہیں پونچھ رہاتھا۔۔ امی بھی نہیں۔۔ کیوں کہ۔۔۔۔ کیوں کہ میری موت واقع ہو چکی تھی اور میں اپنے والدین سے اپنے بہن بھائیوں سے بہت دور چاچکا تھا جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

اس واقعے کو ایک برس ہو چکا ہے مگر یہ کل ہی کا واقعہ لگتا ہے، جس دن ہم سب آسمان میں ستارے بن گئے۔ اس دن سے ہم سب روزانہ اپنے خاندان والوں کو آسمان سے چمکتے ہوئے ستارے بن کر دیکھتے ہیں۔
اب اس واقعے کو ایک برس ہو چکا ہے مگر یہ کل ہی کا واقعہ لگتا ہے، جس دن ہم سب آسمان میں ستارے بن گئے۔ اس دن سے ہم سب روزانہ اپنے خاندان والوں کو آسمان سے چمکتے ہوئے ستارے بن کر دیکھتے ہیں۔ ہم نے ہر دن اپنے گھر والوں کو آنسو بہاتے دیکھا ہے، میں نے ابو کو سب کو دلاسے دیتے ہوئے اور خود اکیلے میں بارہا روتے دیکھا ہے۔۔۔۔ اور اب جب ایک سال گزر گیا ہے میں اب بھی ہر چہرے کو اداس دیکھ رہا ہوں۔ باجی میرے پرانے عید کے جوتے اور کپڑے اْٹھائے اپنے پلو سے آنسو صاف کر رہی ہے، ماں اب بھی آسمان کی طرف دیکھتی ہے دروازے کی سرسراہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔۔۔۔ شاید وہ مجھے ڈھونڈ رہی ہے۔ ماں میں آپ کے سامنے ہوں آپ آسمان کی جانب دیکھیں وہاں جو سب سے چمکتے ہوئے ستارے ہیں وہ ہم سب دوست ہیں، ہم خون میں لت پت ہوکر آسمان میں ستارے بن گئے ہیں۔۔۔۔ ہم سب ستارے بن گئے ہیں۔

 

فقط
آپ کا بیٹا
Categories
نقطۂ نظر

سانحہ پشاور اور ہمارے آئینے

تڑاتڑ گولیاں ، دھماکوں کی آوازیں، خوف میں بسی چیخ پکار، بھاگ دوڑ، خون آگ، بارود کی بو، انسانی گوشت جلنے کی بو، خون میں بسے بھاگتے ننھے ننھے قدموں کے نشانات، اور پھر بین، آنسو، دھاڑیں مار کر رونا، آہ و بکا، ایمبولینسوں کا شور، بدحواسی، کراہیں، میڈیا کا سیلاب، ٹویٹر فیس بک و دیگر پرسوشل میڈیا ئی آنسو، دکھ درد، سسکیاں، آہیں، بد دعائیں، خدا سے رحم کی پکاریں، ہمدردیاں، مذمتیں، نیز مذمتی بیانات، فارمولہ بیانات، الزام تراشی بیانات، مذہبیانہ بیانات، کمیٹیاں، عبرت ناک سزاوں کے عزم بالجزم، اور کندھوں پر اٹھائے چھوٹے چھوٹے ایک سو اڑتیس جنازے۔

 

اور پھر ایک طویل خاموشی!

 

وہ طویل خاموشی جس میں شور ہوتا ہے ہنگامے بھی رقص و جشن بھی، اور دادعیش و شجاعت بھی، نہیں ہوتی تو وہ آواز نہیں ہوتی جو قوموں کو ایک پکار پر یکجا کرتی ہے، یک دل، ہم آہنگ اور مشترکہ مقصد پر ابھارتی ہے۔ کسی بھی سانحے کی منتظر یہ خاموشی چپ چاپ سب کا منہ تکا کرتی ہے۔ ایک سال پر محیط اس طویل خاموشی کی گود میں بھی کئی قصے اچھلتے کودتے رہے، کہیں جشن و شادی تھا، تو کہیں منی لانڈرنگ کے جلوے، این اے 246 کے دعوے تھے تو بلدیاتی انتخابات کا جشن، کس کی طلاق ہوئی، کس کی بیٹی بھاگی، کس نے کس کی بیگم سے کون سی شادی رچائی اور کس نے کتنے نجی و سرکاری بیرونی دورے کیے، سب ہی تو ہمکتا، کبھی شورو غوغا مچاتا رہا اور یہ خاموشی اداس ملول پڑی سوتی رہی۔

 

آگ اور خون اسی طرح موجود ہے، زلزلے کے تباہ حال سردی کے مارے بچے بھی، دہشت گردی اور اس کے عوامل بھی، چیخ پکار ، سسکیاں، آہیں، کراہیں سب موجود ہیں، اور۔۔۔ ہماری قومی شناختی علامت بے حسی بھی اسی طرح موجود ہے۔ تو وہ عزم بالجزم کیا ہوا؟
اب ایک سال بعد ہلکی ہلکی سرسراہٹوں کے ساتھ اس خاموشی کا سکوت چٹخنا شروع ہوا۔ آہ! ایک سال بیت گیا۔ مذمتوں کے نئے سلسلے شروع ہیں، کھیل میں اک نیا رنگ ہے۔ سیاسی و سماجی اداکار آنکھوں میں پانی لیے (خواہ اصلی ہے یا گلیسرین کا کرشمہ)، سیاہ و سفید لباس زیب تن کیے، نک سک سے درست اپنے اپنے نشتر لیے میڈیا کے منچ پر براجمان ہیں۔ آگ اور خون اسی طرح موجود ہے، زلزلے کے تباہ حال سردی کے مارے بچے بھی، دہشت گردی اور اس کے عوامل بھی، چیخ پکار، سسکیاں، آہیں، کراہیں سب موجود ہیں، اور۔۔۔ ہماری قومی شناختی علامت بے حسی بھی اسی طرح موجود ہے۔ تو وہ عزم بالجزم کیا ہوا؟

 

ہاں ہم نے پشاور سانحے کے شہدا کو یاد رکھا ہے۔ جب بھی ان پھولوں کی معصوم تصاویر ہمارے سامنے آئیں ہمارے دل دکھ سے بھر گئے۔ عید، بقرعید، نیا سال، ہر خوشی کے موقعے پر ہم نے انہیں یاد رکھا۔ اپنی فیس بک کی پروفائل پربھی شہید بچوں کی نت نئی مسکراتی زندگی سے بھرپور تصاویر لگائیں۔ خدا سے رحم بھی مانگا اور مجرموں کے لیے عبرت ناک سزائیں بھی تجویز کیں۔ لیکن اب اس مصروف زندگی میں کس کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ یہ بھی دیکھ سکتا کہ ہماری طلب کردہ عبرت ناک سزائیں عمل میں آئیں بھی یا نہیں۔ وہ بچے ہماری اولادوں کی طرح تھے، ہماری قوم کا مستقبل، ہماری ملت کا سرمایہ تھے نا! میرے لیے بھی وہ میری اولاد کی طرح تھے، کیا واقعی؟ آج جب میں اپنا احتساب کرنے بیٹھی ہوں تو مجھے خود پر شرم آرہی ہے۔ اپنا بےحس ، سیاہ چہرہ اور اپنے قول و فعل کا تضاد میں بخوبی سمجھ چکی ہوں، کاش ہم سب بھی اپنے اپنے بیانات اور لفاظی کے آگے ایک ایک آئینہ ضرور رکھ لیں۔

 

کچھ آئینے پیش خدمت ہیں:

 

کابینہ کمیٹی لااینڈ آرڈر نے صوبے بھر کی سول و پولیس انتظامیہ کے ساتھ مل کر کئی پروگرام تشکیل دیئے ہیں جن میں سیمینارز کا انعقاد، واکس، مشاعرہ، تقریری و مضمون نسویسی کے مقابلے اور تصویری نمائش شامل ہیں۔ یہ تقریبات پورا ہفتہ جاری رہیں گی۔ اسی طرح صوبے کے تمام بڑے شہروں میں سٹی پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ 16دسمبر کو منعقد ہونے والی تقاریب میں شہدا کے خاندانوں کو مدعو کیا جائے گا اور فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ (اور اب سال گزرنے کے بعد بھی یہ کہتے شرم نہیں آتی کہ) آرمی پبلک سکول کے ننھے پھولوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔

 

خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کی پہلی برسی کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دن شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے صوبہ بھر میں سرکاری طورپر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ 16 دسمبر کو پشاور میں دو بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ایک تقریب آرمی پبلک سکول اور دوسری تقریب آرکائیوز لائبریری ہال میں منعقد ہوگی جس میں اعلیٰ سیاسی قیادت، فوج کے اعلیٰ حکام اور شہدا کے لواحقین شرکت کریں گے۔ آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے شہدا کے نام سے منسوب کیاجائے گا جبکہ شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وہاں ایک یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس پر سانحہ پشاور میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کے تصویریں لگائی جائیں گی۔ (اور وہ عبرت ناک سزائیں؟ )

 

ہم نے بھی اس سانحے پر اظہار یکجہتی کیا لیکن بدقسمتی سے ان تمام سرگرمیوں خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کو اتنی بھی کوریج نہیں دی گئی جتنی سول سوسائٹی کے نام پر جمع ہونے والے دس بارہ مرد و زن کو دی جاتی ہے اس پر سوائے افسوس کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے
ایک سیاسی جماعت کے رہنما “دال فے عین” نے ایک سال بعد نیند سے جاگ کر مدھ بھری آنکھوں میں بسے خمار گندم کو جوش خون سے تعبیر کرتے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور بیان داغا:

 


قوم ننھے شہداء کی قربانیوں کو تاقیامت فراموش نہیں کرے گی۔(ان حرکتوں کے باوجود قوم کے تاقیامت باقی رہنے کی گارنٹی آپ دیں گے)۔

 

ایک ملا صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

 


انسانی تاریخ کا المناک، افسوس ناک اور د ل سوز سانحہ جس کی خبر سن کر دل پارہ پارہ ہو گیا، معصوم بچوں، ان کی روتی بلکتی ماوں، ان کے سوگوار والدین اور ان کے غم وحزن میں ڈوبے رشتہ داروں کے بارے میں سوچ سوچ کر دل خون کے آنسو روتاہے۔ ہم نے بھی اس سانحے پر اظہار یکجہتی کیا لیکن بدقسمتی سے ان تمام سرگرمیوں خاص طور پر احتجاجی مظاہروں کو اتنی بھی کوریج نہیں دی گئی جتنی سول سوسائٹی کے نام پر جمع ہونے والے دس بارہ مرد و زن کو دی جاتی ہے اس پر سوائے افسوس کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے(حرف افسوس کس امر پر ہے ملاحظہ کیجیے)
۔

 

ایک محترمہ فرماتی ہیں:

 

ہاں نا مجھے تو بہت دکھ ہے اس سانحے پر، کیا بتاوں جب یہ سانحہ ہوا میرے تو قدموں تلے سے زمین ہی نکل گئی تھی، دہشت گردوں نے تو ہم ماوں کے کلیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ہاں اور کیا میں نے تو میڈیا کے کیمرے کے سامنے اس پر زور انداز میں مذمت کی تھی کہ اس چینل نے مجھے پشاور سانحے کی اپنی خصوصی نشریات میں بھی بلایا ہے۔ سوچ رہی ہوں اپنا وہ برانڈڈ سفید سوٹ پہن کرجاوں جس پر باریک نگینوں کا کام ہے۔ تم بھی دیکھنا وہ پروگرام!

 

اور بھی آئینے ہم میں اور ہمارے اطراف موجود ہیں۔ بس انھیں ڈھونڈنے اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ جس دن ایسا ہوگیا مجھے یقین ہے پشاور سانحے جیسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہ ہوسکے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردی کا تدارک کیسے؟

سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی ریاست کی ایک زبردست انگڑائی نے اگرچہ دہشت گردوں کو ایک بڑی عوامی اکثریت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس میں اِن کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہیں ۔لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں پر ریاست کو اپنے واضح موقف پر مستحکم رہنے کے لیے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکمرانوں کو غیر مقبول ہوجانے کا خدشہ بھی لاحق رہے گا۔اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ اپنی اصلیت میں ابھی تک غیر مقامی ہے اور اس سے فوری تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ ہم غیروں کی جنگ میں اُلجھنے جارہے ہیں جہاں ہماری تباہی ناگزیر ہے۔لیکن اس جنگ میں جتنا نقصان پاکستانی ریاست اور عوام کو اُٹھانا پڑا ہے شاید کسی دوسرے فریق کو نہیں۔اس دوران سرحدوں کے اندر اور باہر کی جنگی پیچیدگی نے پاکستانی ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب نہ چاہتے ہوئے بھی اس ’’متنازعہ‘‘ نعرے کی ملکیت کا دعوی ریاست پاکستان کے سر ہے۔تفصیلات میں اُلجھے بغیر یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں واضح طور پر ایک غیر فعال جنگی فریق کی حیثیت سے پاکستان کو فعال ممالک سے کہیں زیادہ مسائل کا سامنا ہے اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کی صورت حال زیادہ تشویشناک ہو نے کا امکان ہے۔ریاست کے سیکورٹی ادارے دہشت گردی کے پھیلتے ہوئے امکانات کی وجہ سے پہلے سے زیادہ مصروف ہیں اور دفاعی اخراجات کا رخ اپنی افواج کی ضروریات کو پورا کرنے سے زیادہ دہشت گردی کے تدارک کی طرف ہے جس کی وجہ سے ریاست مالی بحران کا شکار ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ اپنی اصلیت میں ابھی تک غیر مقامی ہے اور اس سے فوری تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ ہم غیروں کی جنگ میں اُلجھنے جارہے ہیں جہاں ہماری تباہی ناگزیر ہے۔
یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا صرف ایک پہلو ہے جس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے ریاست کو مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اس جنگ کے لاتعداد پہلووں کی طرف مکمل توجہ کا مرحلہ ابھی آگے کھڑا ہے۔عوامی سطح پر جوں جوں یہ رائے مستحکم ہورہی ہے کہ سفاک دہشت گردوں کا مکمل صفایا کردیا جائے، ایسے ہی ریاستی اداروں پر پڑنے والے دباو میں اضافہ ہورہا ہے اور عوامی توقعات بڑھ رہی ہیں۔واضح رہے کہ ان توقعات اور دباو کا تعلق مقامی ہے جب کہ بیرونی توقعات اور خدشات کی الگ سے فہرست سازی کی جاسکتی ہے۔جیسے مثال کے طور پر ماضی میں ریاست کو ایبٹ آباد واقعہ،حقانی نیٹ ورک ،کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملہ اور اس سے پہلے ممبئی حملوں کے سلسلے میں بیرونی توقعات اور خدشات سے سابقہ پڑا، بلکہ ممبئی حملوں کے الزام میں ایک پاکستانی کی پچھلے دنوں عدالتوں سے ضمانت منظور ہونے کے بعد آج بھی پاکستان پر دباو برقرار ہے۔یہ صرف چند مثالیں ہیں جب کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی بین الاقوامی جنگ کے دوران پاکستان کو جس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بوجھ جہاں پاکستانی سماج پر پڑا ہے وہاں ملکی معیشت اور خارجہ محاذ پر بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑا ہے۔بنیادی طور پر یہ ایک ایسی داستان ہے جس کی جزئیات بہت تکلیف دہ ہیں اورجہاں اس سلسلے میں بیرونی عناصر کا ایک اہم کردار ہے وہاں اندرونی طور پر بھی لاتعداد کوتاہیاں اور غیر ذمہ دارانہ رویے اہم کردار کے حامل ہیں۔
عمومی تصور یہ ہے کہ دینی مدارس کے خلاف اسلام دشمن کمر بستہ ہیں اور مدارس کا خاتمہ اِن کا مقصد ہے۔یہ ایک ایسا نعرہ ہے جو عام لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کرسکتا ہے، لیکن کسی سطح پر بھی اس عزم کا اظہار ریاستی و حکومتی عہدیداروں کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔
اگر ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ طے کرلیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی مقامی طور پر ایسی فضاء قائم ہونے دی جائے گی جس کا فائدہ اُٹھا کر انتہا پسند ریاست کو کمزور کرسکیں ،تو آگے کا راستہ کوئی آسان راستہ نہیں اور نہ ہی اس میں کسی فوری خوشخبری کا کوئی امکان ہے۔ یہ ایک مسلسل اور بہت حد تک بے رحم کوشش کا سفر ہے جس کے ثمرات اگرچہ بہت خوش گوار ہوں گے لیکن تندہی اور مشکل حالات کے بعد ہی ان کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر اس وقت حکومت کو اس مطالبے کا فوری سامنا ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے بہت حد تک غیر منظم اور مبینہ طور پر انتہا پسندی و فرقہ واریت کے فروغ میں معاون مذہبی مدارس کا محاسبہ کیا جائے۔ یہ بظاہر ایک سیدھا اور صاف مطالبہ ہے لیکن اس عمل میں موجود پیچیدگی اور حساسیت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مدارس کی بہت بڑی تعداد نہ صرف سماجی بلکہ طاقتور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کی حامل ہے۔ اسی وجہ سے کئی سابقہ طاقت ور حکومتوں کی کارکردگی اس حوالے سےصفر رہی ہے۔عمومی تصور یہ ہے کہ دینی مدارس کے خلاف اسلام دشمن کمر بستہ ہیں اور مدارس کا خاتمہ اِن کا مقصد ہے۔یہ ایک ایسا نعرہ ہے جو عام لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کرسکتا ہے، لیکن کسی سطح پر بھی اس عزم کا اظہار ریاستی و حکومتی عہدیداروں کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔لیکن مدارس کو کسی سرکاری نظم و ضبط میں لانا اور اِن کو بالکل ہی ختم کردینا دو قطعی طور پر الگ امور ہیں۔اور اگر کہیں ایسا کوئی مدرسہ سامنے آتا ہے جو فرقہ وارانہ قتل و غارت یا ریاست کے خلاف انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ایک جائز قانونی عمل تصور ہوگا۔اس کے لیے مدارس کی انتظامی انجمنوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ مدارس کے تصور کو بحثیت مجموعی نقصان پہنچنے سے محفوظ بنایا جائے اور اِن کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔اگر حکومت اس سلسلے میں مشاورت اور منصوبہ بندی سے کام لیتی ہے تو سنجیدہ دینی طبقات یقینی طور پر اس حوالے سے تعاون کریں گے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت ایسے تمام شہروں اور قصبات میں جہاں دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کی موجودگی کے باعث زندگی معمول پر نہیں رہی، وہاں جامع منصوبہ بندی کے تحت تعمیر نو طرز کے پروگرام شروع کرنا ہوں گے تاکہ متاثرہ اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنایا جائے۔اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی قدرتی آفات سے زیادہ مہلک نقصان کی حامل ہوتی ہے اور جو علاقے اس کی لپیٹ میں آتے ہیں وہاں دیگر نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے شکستہ اعتماد کو بھی بحال کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانا ہی اصل فتح نہیں جب کہ اصل معرکہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے باعث پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ اور اس کی وجوہات کا بہترین تدارک ہے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ اصل امتحان یہی وہ مرحلہ ہے، جو نہ صرف دہشت گردی و انتہا پسندی کے متاثرین کو معمول کی زندگی میں واپس لے کر آتا ہے بلکہ اُن عوامل کا بھی تدارک کرتا ہے جو اس تباہی کا اصل موجب تھے۔خدانخواستہ اگر ریاست اور اس کے ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قسم کی کامیابی حاصل نہیں کرپاتے اور وقتی طور پر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پسپا کرنے میں ہی کامیاب ہوتے ہیں اور مقامی مسائل کا حل نہیں ہوپاتا تو اصل خطرہ پھرموجود رہے گا۔ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انتہا پسندوں کی دوبارہ واپسی پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہوئی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

سانحۂ پشاور، ذمہ دار کون؟

دفاعی اداروں ،سیاسی جماعتوں اور شدت پسند علما کی غلط حکمت عملی کے باعث آج ملک آگ وخون کی دلدل میں دھنس چکا ہے ہر طرف دھماکے ،ٹارگٹ کلنگ اور مخالفین کو گھر بار سمیت جلائے جانے کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پالیسی ساز اداروں کی غلطیوں کی بدولت ساٹھ ہزار سے زائدپاکستانی ناکردہ گناہوں کے جرم میں ابدی نیند سوچکے ہیں لیکن ہم اب بھی ہم ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔ اگر تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ اتنا سفاک،بربریت سے لبریز اور خون آشام کبھی بھی نہیں تھا۔ ایک وہ زمانہ تھا جب دو افراد کی لڑائی اوران کاایک دوسرے پر چاقووں سے حملہ اخبارات کی شہ سرخی بن جاتاتھااور ایک یہ وقت ہے کہ جب دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد کی ہلاکت بھی معمولی خبر بن کر رہ گئی تھی۔
پشاو ر کینٹ جیسے حساس علاقے میں ہونے والا حالیہ حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں لیکن اس سے قبل بھی ایسے بہت سے تباہ کن حملے ہوچکے ہیں؛مہران بیس ،جی ایچ کیو ،پشاور اور کراچی ائیر پورٹ جیسے دفاعی اہمیت کی حامل تنصیبات بھی دہشتگردی کی زد میں آچکی ہیں لیکن آفسو س سے کہنا پڑرہا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کے لیے قومی اتفاق رائے تشکیل نہیں دیا جاسکا۔گزشتہ حملوں کی طرح پشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر ہونے والے حملے کے بعد سیاست دانوں،صحافیوں ،پالیسی سازوں ،علما اور دفاعی اداروں کے سربراہوں کی جانب سے وہی رٹے رٹائے گھسے پٹے بیانات سننے کو ملے جو گزشتہ بارہ سالوں سے سنائی دیتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں اس واقعہ کو ایک خاص رنگ دے کر اصل ذماداران سے توجہ ہٹانے کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں بھی جاری ہیں۔ شدت پسند عناصر کے تحفظ کی یہ کوششیں صرف سوشل میڈیا تک ہی نہیں بلکہ ٹی وی چینل بھی اس کارخیر میں شریک ہیں، ایسے وقت میں جب آہوں او ر سسکیوں سے پشاور کی فضا سوگوار تھی تولال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز المعروف مولانا برقع نے ایک ٹی وی چینل پر آکر اس حملے کی مذمت کرنے کے بجائے اس کے لئے جواز پیش کرنا شروع کر دیے۔
ہمارے سپہ سالار کے افعانستان کاافغان دورےکے تناظر میں اس حملے کے پیچھے افعانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کے ملوث ہونے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
ٹی وی چینلز پر ماضی میں ایسے حملوں کے جواز پیش کیے جانے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ایک معروف عالم دین کے بقول پی ٹی آئی کے جلسے میں ناچ گانوں کی وجہ سے قوم پرطالبان کے حملوں کی صورت میں عذابِ خداوندی نازل کیا گیا ہے۔مولانا طارق جمیل نے بھی نپے تلے انداز میں ساری صورتحال کوہمارے گناہوں سے گڈمڈ کرنے کی کوشش کی۔ ملاؤں کا کردار تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں البتہ وردی والوں اور ان کے پروپیگنڈہ مشینریز کے پھیلائےا ہوئے سازشی مفروضوں سے اس حملے کے محرکات اور سیکورٹی صورتحال سے متعلق وہی بیرونی ہاتھ اور یہودوہنود کی سازش کی کھچڑی پکائی جا رہی ہے ۔ہمارے سپہ سالار کے افعانستان کاافغان دورےکے تناظر میں اس حملے کے پیچھے افعانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کے ملوث ہونے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
سابق کمانڈو صدر جنرل مشرف اور افعانستان ا ور پاکستان کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کے اصل ذمہ دار جنرل حمید گل نے بھی پشاور سانحہ کے بعد ایک بار پھر بھارت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ اگرکسی طرح ان الزامات کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو سوال یہ پیداہوتا ہے کہ پشاور کینٹ جیسے دفاعی اہمیت کے حامل علاقے میں واقع آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا دفاعی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ؟ آٹھ “بھارتی ایجنٹ” افعانستان میں تربیت حاصل کرکے بھاری ہتھیاروں اور گولہ بارود سمیت پاکستان میں داخل ہوئے اورپشاورکے حساس علاقے میں پہنچ کر اتنی بڑی کاروائی کا ارتکاب کیا اوراس دوران قوم پرستوں کو لاپتہ کرنے میں مصروف عقابی نگاہ رکھنے والے خفیہ ادارے ان دہشت گردوں کی بو سونگھنے میں ناکام رہتے ہیں ۔ اگر ایسے ہائی سیکورٹی زون بھی غیر محفوظ ہیں تو عوامی مقامات کی سکیورٹی صورت حال کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
آپریشن خیبرون اور ضرب عضب کے بعد سے ایسی اطلاعات موجود تھیں کہ پشاور میں کسی بھی وقت بڑا حملہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود سکیورٹی اداروں کی ناکامی ایک ایسا اہم سوال ہے جس کا جواب بھارت،اسرائیل اورامریکہ کے ملوث ہونے جیسے سازشی مفروضوں سے نہیں دیا جاسکتا ۔ دفاعی اداروں، حکمرانوں او ر سیاست دانوں کی ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا تھا ۔
آج پاکستان یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وفاقی دارلحکومت کے وسط میں بیٹھ کر طالبانائزیشن کو فروغ دینے اور دہشتگردوں کی مسلسل حمایت کرنے والے مولانا عبدالعزیزاور ان کے ادارے جامعہ حفصہ کے خلاف کاروائی کب عمل میں لائی جائے گی؟
اس سانحے کے بعدپشاور میں ہونے والے ہنگامی پارلیمانی اجلاس کے دوران قومی قیادت کا دہشت گردی کے خلاف عزم قابل ستائش ہے۔ اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل کی تیاری کے لیے سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی اداروں کے نمائندگان پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق ہواکہ طالبان کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے علاوہ پنجاب ، سندھ، بلوچستان،کے پی ،کشمیر،گلگت بلتستان اور وفاقی دارلحکومت میں موجود طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔پاک فوج تزویراتی گہرائی( Strategic Depth)کے نا م پر جن گروپوں کو بھارت اورافعانستان کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے کیا انہیں لگام دی جائے گی؟ کیا تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ لشکرِ جھنگوی،جیش محمد، سپاہ صحابہ ،لشکر طیبہ ،جماعت الدعوۃ سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں (جنہیں پاک فوج اور خفیہ ادارے اسٹریٹجک مقاصد کے لئے استعمال کر تےرہے ہیں اورجو اہلِ تشیع ،اقلیتوں اورانسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں)کے خلاف بھی وزیرستان،سوات یا خیبر طرز کا آپریشن کیا جائے گا ؟ آج پاکستان یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وفاقی دارلحکومت کے وسط میں بیٹھ کر طالبانائزیشن کو فروغ دینے اور دہشتگردوں کی مسلسل حمایت کرنے والے مولانا عبدالعزیزاور ان کے ادارے جامعہ حفصہ کے خلاف کاروائی کب عمل میں لائی جائے گی؟ ملک کے طول وعرض میں پھیلے چالیس ہزار سے زائد دہشت گردپیداکرنے کے کارخانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے سخت گیر اقدامات اٹھانا، پاکستان کے آئین میں موجود مذہبی شقوں(جو شدت پسندی کے فروع میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں) کا خاتمہ کر کے آئین کو سیکولر بنیادوں پر استواکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر پائیدار امن کا قیام صحرا میں سراب سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔