Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مستقبل کیا ہو گا؟

اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہوا ہے، امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور لوگ پہلے کی نسبت زیادہ پرامید ہیں لیکن اس کے باوجود حملوں کی حالیہ لہر نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان ابھی بھی پوری طرح سے اس خطرے سے محفوظ نہیں اور ابھی بہت کیا جانا باقی ہے۔ کوئٹہ کے پولیو سنٹر پر حملہ اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ پاکستانی فیصلہ سازوں کے لیے اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کا ایک نادر موقع ہیں۔ اس وقت ہمیں ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد جیسے اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور اپنی حکمت عملی پر غور کر کے اپنے قلعے مضبوط بنانے ہیں۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور یقیناً ان خطرات کے حوالے پیشگی سدباب کے لیے کوشاں بھی ہیں لیکن پھر بھی یہ ضروری ہے کہ ہم اس جنگ میں اپنی سمت اور اہداف کا زیادہ واضح اور حقیت پسندانہ جائزہ لیں۔ اس وقت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جیتنے کے لیے داخلی اور خارجی محاذوں پر ان گنت چیلنجز کا سامنا ہے جو پاکستان کے استحکام کی جانب سفر کارُخ کسی بھی وقت دوبارہ ایک ناکام ریاست کی جانب موڑ سکتے ہیں، امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی اپنے آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اس جانب اشارہ کیا ہے اور پاکستان کے کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

 

اگر پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق طالبان کو مذاکرات کی میز پر نہ لا سکا جس کا غالب امکان ہے تو پھر پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں مقیم دھڑوں کے مسلسل حملوں کی زد میں رہے گا۔
1۔ ٹی ٹی پی، افغانستان اور حقانی نیٹ ورک

 

ایک زمانے میں افغانستان پاکستان پر جس قسم کے الزامات عائد کرتا تھا آج ہمیں بھی اسی قسم کی شکایات افغان انتظامیہ سے ہیں۔ ماضی قریب میں حامد کرزئی پاکستانی انتظامیہ پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے اور افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، چارسدہ حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی اور افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا منترا پڑھا جا رہا ہے۔ گو پاکستان، افغانستان اور امریکہ کی جانب سے مل کر اس معاملے کو سلجھانے کی جانب پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے اور چین، پاکستان، افغانستان اور امریکہ پر مبنی چہار فریقی (Quadrilateral) مذاکرات ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ امر یقیناً اس ادراک اور شعور کا غماز ہے کہ ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ طالبان اس خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور انہیں سیاسی عمل میں مولیت پر راضی کیے بناء کوئی چارہ نہیں۔ لیکن طالبان کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر میں یہ تبدیلی بے حد تاخیر سے ہوئی ہے اور پاکستان کی جانب سے ماضی میں اپنائی گئی دُہری حکمت عملی کے باعث جو بد اعتمادی افغانستان اور پاکستان اور امریکہ اور پاکستان کے مابین موجود ہے وہ اس راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ اگر پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق طالبان کو مذاکرات کی میز پر نہ لا سکا جس کا غالب امکان ہے تو پھر پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں مقیم دھڑوں کے مسلسل حملوں کی زد میں رہے گا۔

 

2۔ ہمارے جہادی اثاثے

 

پاکستان نے افغانستان میں جہاد کے دوران جو جہادی اثاثے تشکیل دیئے تھے بدقسمتی سے وہ اب پاکستان کے اثرورسوخ میں اس قدر نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے “مفادات” کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں جس قدر ہمارا اندازہ یا توقع تھی۔ طالبان دور حکومت میں ہم انہی طالبان کو اپنا ہمدرد خیال کرتے تھے جب کہ وہ قبائلی علاقوں پر پاکستانی عملدآری قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ہمارے خیال میں جو جہادی اثاثے ہم بعدازاں ہمارے مفادات کے لیے کام کرنے والے تھے وہ اس کے برعکس دنیا بھر کے جہادیوں کے لیے پناہ گاہ بن گئے۔ کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کو الجھانے کی جو حکمت عملی ہم نے اپنائی وہ بھی ہماری افغان حکمت عملی کی طرح ہی غلط ثابت ہوئی، اور اس غلطی کی تمام تر ذمہ داری فوجی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ جہادی اثاثے کسی بھی وقت طالبان ہی کی طرح پاکستان مخالف ہو سکتے ہیں جس طرح ان کے بعض دھڑوں نے ماضی میں پنجابی طالبان اور تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاکستان اسی لیے تاحال ہندوستان کو یقین دہانی کرانے باوجود ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کو تیار نہیں۔ لیکن جلد یا بدیر جیسے پاکستانی طالبان کے خلاف سوات اور فاٹا میں مذاکرات کی حکمت عملی ناکام ہوئی ہے اسی طرح پاکستان کو کشمیر جہاد کے لیے تیار کی گئی تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑے گا اور ہم جس قدر جلد یہ فیصلہ کریں گے اسی قدر جلد ہم امن کی جانب بڑھنا شروع کریں گے۔

 

ہمارے خیال میں جو جہادی اثاثے بعدازاں ہمارے مفادات کے لیے کام کرنے والے تھے وہ اس کے برعکس دنیا بھر کے جہادیوں کے لیے پناہ گاہ بن گئے۔
3- دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے کی کمی

 

آرمی پبلک سکول حملے کے بعد بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں، عسکری قیادت اور عوام دہشت گردوں کے خلاف متحد ہیں لیکن درحقیقت یہ اتفاق رائے بے حد سطحی، عارضی اور محدود نوعیت کا ہے۔ زیادہ تر سیاسی جماعتیں محض فوج کی مخالفت نہ کرنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف ہیں، عمران خان، نواز شریف، فضل الرحمان اور جماعت اسلامی سمیت بیشتر سیاسی قوتیں دہشت گردوں کے یا ان کے چند دھڑوں کے تو خلاف ہیں لیکن دہشت گرد نظریات کے خلاف ان کا اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا یہ جماعتیں کل کلاں کو فوج کی طالبان سے متعلق حکمت عملی تبدیل ہونے کے بعد بھی دہشت گردوں کی مخالفت کو تیار ہوں گے یا نہیں۔

 

اس ضمن میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے کسی ٹھوس نظریاتی اور عملی صورت میں موجود ہے بھی یا نہیں۔ کراچی میں جاری مجرمانہ دہشت گردی، پاکستان بھر میں موجود مذہبی دہشت گردی اور بلوچستان میں جاری مسلح مزاحمت پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کیا اتفاق رائے موجود ہے اور کس حد تک ہماری سیاسی قیادت سنجیدہ ہے، اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ ہر جماعت اور خود فوج بھی صرف اسی قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے جو اسے براہ راست نشانہ بنا سکتی ہے۔ تمام دھڑے صرف اسی قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو تیار ہیں جو ان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔ مثلاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف عرسے سے پرزور آواز اٹھا رہے ہیں لیکن کراچی میں موجود سیاسی جماعتوں کے مسلح جتھوں کے خلاف کارروائی کی مزاحمت کرتے آئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کراچی آپریشن میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن پنجاب میں موجود دہشت گردوں کے مدارس اور پناہ گاہوں کے حوالے سے کچھ خاص سرگرم نہیں۔ عمران خان ایک عرصے تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کرتے چلے آئے ہیں اور این اے 122 کے انتخابات میں کالعدم تنظیموں سے ووٹ مانگنے سے بھی نہیں چُوکے۔ جماعت اسلامی اور مولوی فضل الرحمان بھی افغان طالبان اور مدارس کے خلاف کارروائی کو تیار نہیں۔ حتیٰ کہ فوج بھی لشکر طیبہ یا جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کام کرنے کو تیار نہیں۔ اس حوالے سے بھی معلومات موجود نہیں کہ فوج کے اندر طالبان اور جہاد کے حوالے سے پائے جانے والی حمایت کس حد تک کم ہوئی ہے۔ یہ اتفاق رائے عوامی سطح پر مزید مفقود ہے۔ ابھی بھی پاکستان میں ایک بڑی اکثریت دہشت گردوں کے مقاصد اور نعروں کی مخالفت کو تیار نظر نہیں آتی۔ خلافت، مذہبی حکومت اور شرعی نظام کے خلاف عوامی سطح پر بات کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ حال ہی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران راہ حق پارٹی کے ساتھ مختلف جماعتوں کے سیاسی اتحاد سے بھی پاکستانی سیاستدانوں کے دہشت گردوں کے خلاف عزم کی قلعی کھل جاتی ہے۔

 

آرمی پبلک سکول حملے کے بعد بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں، عسکری قیادت اور عوام دہشت گردوں کے خلاف متحد ہیں لیکن درحقیقت یہ اتفاق رائے بے حد سطحی، عارضی اور محدود نوعیت کا ہے۔
4۔ سول اداروں اور سول قیادت کی عدم فعالیت

 

پاکستانی سیاسی قیادت اور سول ادارے تاحال خود کو اس قدر فعال اور مضبوط ثابت نہیں کر سکے کہ کیا وہ واقعی اس اہل ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کوتیار ہیں اور فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد کراچی، خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کا انتظام سنبھال سکیں گے۔ قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کا ادارہ تاحال فعال نہیں بنایا جا سکا اور اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں اتی، وزیر داخلہ کا رویہ نہایت غیر پیشہ ورانہ ہے اور وہ اس حوالےسے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ عدلیہ اور پولیس کا نظام بہتر بنانے کی بھی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردون کو سول عدالتی نظام کے ذریعے سزا دینے کا کوئی امکان مستقبل قریب میں نہیں ہے۔ تاہم اس ضمن میں پنجاب میں کسی قدر پیش رفت گرفتاریوں اور چھاپوں کی حد تک نظر آتی ہے۔ سیاسی قیادت کا دہشت گردی کے خلاف فوج پر حد سے زیادہ انحصار ایک تشویش ناک امر ہے۔

 

5۔ متبادل مذہبی بیانیے اور مکالمے کا نہ ہونا

 

مذہبی حکومت، شرعی نظام، جہاد اور خلافت کے جو نعرے، مزہبی تشریحات، ایات اور احادیث دہشت گرد پیش کر رہے ہیں پاکستان میں اس کے ارتداد اور نفی کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ محض یہ کہہ دینے سے کہ اسلام پرامن دین ہے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہمیں ایک ایسے متبادل مذہبی بیانیے کی ضرورت ہے جو پاکستان میں ترقی پسند، لبرل، سیکولر اور جمہوری طرز حکومت اور معاشرت کے لیے جگہ پیدا کر سکے بلکہ نوجوانوں کو اپنی جانب راغب بھی کر سکے۔ نصاب کی تشکیل نو، نفرت آمیز تکفیری فکر کے پھیلاو کی روک تھام اور جدید جمہوری، تکثیری اور قومی ریاستوں سے ہم آہنگ مذہبی فکر کی تشکیل کے بغیر اس جنگ کو جیتنا ناممکن ہے۔ مدارس کی سطح پر مذہبی شدت پسند فکر کے خلاف کام ابھی شروع بھی نہیں کیا جا سکا، بہر طور دہشت گردی کی موجودہ شکل اسلام کے بنیاد پرست افکار اور ان کی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اسے رد کرنا مزہبی طبقات کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ہم عوامی سطح پر تاحال دہشت گردوں کے خلاف کوئی ایسا مضبوط بیانیہ رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جو دہشت گرد نظریات کو رد کرنے پر عام آدمی کو آمادہ کر سکے۔

 

6- سول ملٹری تعلقات

 

اگرچہ مسلم لیگ نواز اور تمام سیاسی جماعتیں اس وقت “عسکری بالادستی” کے ساتھ سمجھوتہ کر چکی ہیں لیکن یہ توازن کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔ خصوصاً کراچی، نیکٹا، نیشنل ایکشن پلان اور بلوچستان کے معاملے پر فوج اور سول قیادت کے دوران کسی قدر اختلافات نظر آتے ہیں۔ کراچی کے معاملات پر جس طرح کی کشمکش سول اور عسکری قیادت کے مابین دکھائی دے رہی ہے اسے حل کرنے میں ناکامی نواز شریف کے لیے بے حد بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست فائدہ مجرمانہ اور مذہبی دہشت گردی میں ملوث افراد کو ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں فوجی قیادت کی جانب سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے عوامی اور انتخابی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کا رویہ بھی تشویش ناک ہے اور رینجرز کی جانب سے اپنے اختیارات سے تجاوز، نیب کے ذریعے سیاستدانوں پر دباو اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے کردار کُشی کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عسکری اداروں اور سول قیادت کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا سیکھنا ہو گا وگرنہ ہم دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا موقع گنوا دیں گے۔

 

ابھی بھی پاکستان میں ایک بڑی اکثریت دہشت گردوں کے مقاصد، مذہبی افکار اور نعروں کی مخالفت کو تیار نظر نہیں آتی۔ خلافت، مذہبی حکومت اور شرعی نظام سے متعلق عوامی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔
7۔ توہین رسالت، ممتاز قادری اور دہشت گردی

 

عموماً بریلوی مکتب فکر کو غیر متشدد اور پر امن خیال کیا جاتا ہے لیکن جس قسم کے بیانات، جلوس اور رویہ اس وقت ممتاز قادری کے معاملے پر دیکھے اور سنے جا رہے ہیں وہ خطرے کی گھنٹی ہیں۔ توہین رسالت کے قوانین دہشت گردی کے غیر منظم واقعات کی ایک بڑی وجہ ہیں اور ممتاز قادری کی طرح کے بہت سے نوجوان اس وقت حب رسول کے نام پر کسی بھی شخص کی جان لینے کو تیار ہیں۔ ریاست کو اس خطرے کو اس کی ابتدائی سطح پر ہی ختم کرنے اور سخت پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ممتاز قادری جیسے دہشت گردوں کو رہا کنے، معاف کرنے یا ان کو حوصلہ افزائی کا سوچا گیا تو یہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور برداشت کے خاتمے کا دن ہو گا۔ ماضی میں ہم ختم نبوت کے نام پر ریاست کو گٹھنے ٹیکتے دیکھ چکے ہیں، اگر ممتاز قادری کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا گیا تو پاکستان شاید ایک نئی قسم کی دہشت گردی کا سامنا کرنے پر مجبو ہو جائے گا جس کے تحت ہر فرد کا قتل توہین رسالت کے نام پر جائز ہو جائے گا۔

 

8۔ ایران سعودی تنازعہ

 

ہم بہت خوش اسلوبی سے خود کو مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے علیحدہ رکھنے کی کوشش میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ تنازع زیادہ نہ پھیلے لیکن آل سعود مشرق وسطیٰ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کسی قسم کا معقول رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ ایران سعودی تنازع پاکستان میں بھی شیعہ سنی فساد کو بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے خصوصاً شام اور عراق میں لڑنے کے لیے جانے والے سنی اور شیعہ نوجوانوں کی واپسی یا مزید بھرتیوں کے بعد یہ خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

 

9- فاٹا اصلاحات، جوابدہی اور مستقبل کا لائحہ عمل

 

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نتائج، اثرات اور مستقبل کے حوالےسے منصوبہ بندی کی بھی کمی ہے۔ فوج کا آپریشن ضرب عضب کس حد تک کامیاب ہے، کراچی آپریشن سے دیر پا امن متوقع ہے یا نہیں، فاٹا کا مستقبل کیا ہو گا اور فوجی آپریشن کی کامیابی یا ناکامی کے بعد کی صورت حال سے کس طرح نمٹا جائے گا، ان سوالون کے فی الحال کوئی تسلی بخش جوابات قائم نہیں۔ اگرچہ فاٹا کی اصلاحات کے حوالے سے کام جاری ہے لیکن اس پر مقامی لوگوں کو تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔

 

10- داعش

 

پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی اکثریت کے باعث یہاں شاید داعش اس طرح قدم نہ جما سکے جس طرح انہوں نے عراق اور شام میں اپنی جگہ بنائی ہے لیکن پاکستان کی فرقہ وارانہ تنظیمیں، تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جہادی تنظیمیں افغانستان میں داعش کے ساتھ الحاق کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے امن کے لیے مستقل خطرہ بن سکتی ہیں اور پاکستان میں بھرتیاں اور کارروائیاں کر سکتی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

ہمارے بچوں کو جنگ کا ایندھن مت بنائیے

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے ایک بار پھر نہتے افراد کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ 4 دہشت گرد باچا خان یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور عملے سے جھڑپ کے بعد ان کو ہلاک کرتے ہوئے اساتذہ اور طالب علموں کو بے دریغ نشانہ بنانے لگے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر دیکھی جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر جہالت کے اندھیروں کو ملک پر مسلط کرنے کے درپے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک 29 افراد اس حملے میں جان گنوا چکے ہیں۔ اس بربریت میں کتنے طالب علم اساتذہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان ہلاک ہوئے اب یہ شاید ہمارے لیے محض چند اعدادوشمار بن کر رہ جائیں گے۔ ہم پے در پے ایسے سانحات کو دیکھنے اور سہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لاشوں کی تعداد کتنی ہے زخمی کتنے ہیں یہ سوالات اور تجسس ایسے سانحات کے بعد ہماری گفتگو اور مباحث کا محض ایک نمائشی محور ہوتا ہے۔ سانحات کیوں رونما ہوتے ہیں ان کے پیچھے بنیادی کردار اور عوامل کیا ہیں، سیکیورٹی ادارے اور ان کی معلومات اتنی ناقص کیوں ہیں؟ ان سب سوالات پر پردہ ڈالنے کے لیے لفظی جغادری کے ماہرین میڈیا کے ذریعے عوام کو “ہندوستانی سازش”، “کابل ذمہ دار ہے”، “ہمارے حوصلے بلند ہیں”، “یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی” جیسے رٹے رٹائے بیانات اور مٖروضہ جات کی تکرار میں مصروف ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک اگلا سانحہ رونما نہیں ہوتا۔

 

باچا خان یونیورسٹی اور آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچے ایک ایسی سوچ کا شکار ہوئے جو دنیا کے کسی بھی اسلحے سے زیادہ بھیانک اور خوفناک ہے اور اس فکر پر ایمان رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔
اس ہولناک واقعے کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ عمر منصور جو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا اس نے علی الاعلان یہ زمہ داری قبول کی ہے۔ عمر منصور خود تین بچوں کا باپ ہے نجانے اولاد کے ہوتے ہوئے بھی ایسے درندہ صفت لوگ دوسروں کی اولادوں کو کیسے قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟ یہ سوچ و سمجھ سے عاری روبوٹس ہیں جن کے ذہنوں میں نفرت اور تشدد کا پروگرام فیڈ کیا جا چکا۔ یہ روبوٹ محض طے شدہ پروگرام پر ہی چل سکتے ہیں، وہ انسانوں کی طرح خود سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ لیکن حیرت حکمرانوں، سیاسی و مذہبی رہنماوں اور دفاعی اداروں پر ہے جو اس واقعے میں مرنے والے بچوں اور افراد کی اس المناک موت کو قربانی بنانے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جانے والے یہ طلبہ کسی جنگی محاز پر دشمن سے لڑنے نہیں گئے تھے بلکہ علم کی روشنی حاصل کرنے گئے تھے انہوں نے قربانی نہیں دی بلکہ یہ اس ناکام حکمت عملی کی بلی چڑھ گئے جو آج تک دہشت گردوں کی سرپرستی کے لیے روا رکھی گئی ہے۔ یہ حکمت عملی دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کی بجائے “اپنے” اور “غیر” کی تفریق کرتے ہوئے اپنے اثاثے بچا کر رکھنے پر مصر ہے۔

 

دشمن سے نوے فیصد علاقہ خالی کرانے کے دعوے اب فریب لگتے ہیں۔ “دشمن کی کمر توڑ دی” جیسے بیانات اب سماعتوں میں زہر بن کر گھلتے ہیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے دشمن اب بھی جب اور جہاں چاہے ہم پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی اور آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچے ایک ایسی سوچ کا شکار ہوئے جو دنیا کے کسی بھی اسلحے سے زیادہ بھیانک اور خوفناک ہے اور اس فکر پر ایمان رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ہم میں سے ہی لوگ دہشت گردوں سے یا تو خاموش ہمدردی رکھتے ہیں یا پھر ان واقعات کو ہندوستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کے اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں، ایسے تمام افراد دانستہ یا نادانستہ طور پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ جہاں اوریا مقبول جان، زید حامد، ہارون الرشید اور انصار عباسی جیسے لوگ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ففتھ جنریشن وار فیئر ، غزوہ ہند اور خراسان سے اٹھنے والے لشکروں پر بھاشن دیتے ہوئے نوجوانوں کو جہاد، جنگ، تعصب اور شدت پسندی کی کھلم کھلا ترغیب دیتے ہوں وہاں ایسے سانحات پر غم و غصہ کیسا؟ جہاں کالعدم شدت پسند تنظیموں کے سربراہان بلٹ پروف لینڈ کروزروں میں ریاستی تحفظ کی چھتری کے نیچے دندناتے پھریں وہاں ان بچوں کی اموات پر کیسا ماتم؟ جہاں مذہبی بنیادوں پر نفرت اور مرنے مارنے کا سبق بچپن سے ہی نصاب کے ذریعے بچوں کے ذہنوں میں منتقل کر دیا جاتا ہو وہاں ایسے وحشیانہ سانحات پرتاسف کیسا؟ جہاں بچوں کو پیدا ہوتے ہی دنیا سے لاتعلقی اور زندگی کی قدر و قیمت چھوڑ کر محض آخرت اور حوروں سے محبت کا درس دیا جاتا ہو وہاں خود کش حملوں پر کیسی الجھن؟

 

ایک جانب یہ وحشی درندے مذہب کے نام پر بچوں کے دماغوں میں زہر انڈیل رہے ہیں تو دوسری طرف ریاست انہیں حب الوطنی کے نام پر جنگجو بنانا چاہتی ہے۔
“ان بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی”، جو سیاسی رہنما اس قسم کے بیانات ایسے سانحات کے بعد دیتے دکھائی دیتے ہیں، خود ان کے اپنے بچے یا تو ملک سے باہر رہائش پذیر ہوتے ہیں یا ریاست کے خرچے پر سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز کی حفاظتی چھتری تلے گھومتے نظر آتے ہیں۔ کیا عجیب مذاق ہے کہ ریاست کے وسائل سے تمام مراعات سیاسی رہنما اور بیوروکریٹس حاصل کریں لیکن قربانی سفید پوش یا غریب آدمی کا بچہ دے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے کرنے والا ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قومی سلامتی کی جس خود کش حکمت عملی کے تحت غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کرتا رہا ہے اس کا احتساب ضروری ہے۔ ان بچوں کا فوج کی پالیسیوں سے کوئی لینا دینا نہیں مگر انہیں خطرے میں ڈالنے والے دفاع وطن کے اہل کیوں کر ہو سکتے ہیں؟

 

جنگ میں بچوں اور عورتوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا لیکن ہمارا دشمن وہ ہے جو نہتے انسانوں حتیٰ کہ بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ ایک جانب یہ وحشی درندے مذہب کے نام پر بچوں کے دماغوں میں زہر انڈیل رہے ہیں تو دوسری طرف ریاست انہیں حب الوطنی کے نام پر جنگجو بنانا چاہتی ہے۔ خدارا بچوں کو اس جنگ کا ایندھن مت بنائیے، انہیں ایک پر امن معاشرے کا خواب دیکھنے دیجئے۔ ہمارے بچوں کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا جا رہا ہے، بستے پہن کر جانے والے چھلنی لاشوں کی صورت میں لوٹتے ہیں اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اس بھیانک عفریت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب اس جنگ کا محض ایک معرکہ ہے، یہ جنگ دراصل ایک نظریےکے خلاف جنگ ہے، وہ نظریہ جو زندگی کی خوب صورتی، فرد کی آزادی اور آئین کی بالادستی تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جو تعلیم کے اجالوں کو جہالت کی سیاہی سے مٹانا چاہتا ہے، جو بچوں کے قہقہوں کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے چھیننا چاہتا ہے، جو بندوق کے زور پر اپنی من چاہی شریعت ہم مسلط کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ یہ جنگ سوچ اور نظریات کی ہے جسے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ نظریات کے میدان میں بھی لڑنا ہو گا۔ اس نظریاتی جنگ میں مکالمہ سب سے بڑا ہتھیار ہے، شدت پسند بیانیے پر کھلا مکالمہ ضروری ہے۔ ہمیں اپنی قومی سلامتی کی ترجیحات بھی ازسرنو طے کرنی ہیں۔ دنیا پر غلبہ پانے کی خواہش لشکر پال کر نہیں علم و تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں بہتر کارکردگی کے ذریعے پوری کرنا ہو گی۔ آنے والی نسلوں کو سوال کرنے دیجیے۔ نفرتوں کا پرچار بند کیجیے، بچوں کو پڑھائیے کہ انسان ہونے کے لیے پہلی شرط عالم انسانیت سے محبت کرنا ہے ان میں مذہب، صنف، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق کرنا نہیں۔

 

نفرتوں کا پرچار بند کیجیے، بچوں کو پڑھائیے کہ انسان ہونے کے لیے پہلی شرط انسانیت سے محبت کرنا ہے ان میں مذہب، صنف، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق کرنا نہیں۔
ہمیں جرات مندانہ فیصلے کرنے کے لیے کتنے اور معصوم بچوں کا لہو درکار ہے؟ مزید کتنے سانحات ہمیں اس امر کا ادراک کرنے کے لیے برداشت کرنا ہوں گے کہ ہماری سلامتی کو سب سے زیادہ خطرہ مذہبی جہادی سوچ سے ہے؟ ہمیں سڑکیں اور پل بعد میں دیجئے گا پہلے ہماری اور ہمارے بچوں کی جان کی حفاظت یقینی بنائیے۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم مذہب کو سیاست اور ریاست سے الگ نہیں کریں گے۔ گندگی کو قالین کے نیچے چھپانے سے گندگی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی ماضی کی جانب دیکھنے سے حال اور مستقبل شاندار بنائے جا سکتے ہیں۔

 

ہماری دفاعی ترجیحات اس وقت درست نہیں۔ محض اسلحہ اور فوج نہیں ذہنوں کو تعمیری سوچ دینے پر بھی پیسہ خرچ کرنا ہو گا۔ میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے جدید تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری کیجیے، بے روزگاری، بھوک اور افلاس کے خلاف بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عدم برداشت اور تعصب کی ترویج پر قدغنیں عائد کرنا ہوں گی وگرنہ ہمارے بچے اس جنگ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ اب بھی اگر ریاست اورمقتدر قوتیں انی غلطیوں کا ادراک کرنے کو تیار نہیں اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر باچا خان یونیورسٹی پر حملے جیسے وحشیانہ واقعات کا ہمیں عادی ہو جانا چاہیئے اور یہ بات تسلیم کر لینی چاہیئے کہ ہم اور ہمارے بچے قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں، جنہیں ریاستی ادارے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کو محض اس جنگ کی قیمت سمجھتے ہیں۔ چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں اس دہشت گردی کا شکار ہونے والے طالب علم اور یونیورسٹی کے عملے کے لوگ انسان تھے حیوان نہیں جنہیں قربان ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے کر مقتدر قوتیں اس سوچ اور انداز فکر کو چیلنج کرنے سے ڈر رہی ہیں۔

Image: Umair Vahidy

Categories
اداریہ

یہ جنگ ہماری اور ہم سب کی ہے-اداریہ

کوئٹہ اور چارسدہ میں ہونے والے حملے ان حلقوں کے لیے چسم کشاء ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ملکیت فوجی قیادت کو سونپ کر مطمئن ہو گئے تھے۔ یہ تکلیف دہ حملے ان سیاستدانوں اور سول اداروں کے لیے خود احتسابی کا شاید آخری موقع ہیں جو تاحال محض ‘ضرب عضب’ کو کافی سمجھ رہے تھے اور پاکستان کے شہری علاقوں میں مقیم دہشت گردوں کے حامی افراد ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہمت پیدا نہیں کر سکے۔ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے سہولت کاروں، معاونین اور ہمدردان کے خلاف کارروائی سے گریزاں سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے لیے یہ فیصل کن مرحلہ ہے۔ یہ حملے عسکری قیادت کے لیے بھی جوابدہی کا موقع ہیں، انہیں ان سخت سوالوں کے جواب دینے ہیں کہ کیا وہ افغان طالبان، کشمیر جہاد کے لیے تیار کی گئی تنظیموں کی سرپرستی ختم کرنے کو تیار ہیں یا نہیں؟ اور کیا سول معاملات میں ان کی مداخلت اس جنگ کو جتینے میں روکاوٹ نہیں؟ یہ ہم سب کے لیے بھی ایک دوراہا ہے کہ کیا ہم ان دہشت گردوں، ان کے مذہبی بیانیے اور ان کے لیے حمایت کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم دہشت گردی کو پاکستان کی بقاء کے لیے ایک مسئلہ سمجھنے اور اس کے تدارک کے لیے ریاست کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں؟

 

کوئٹہ اور چارسدہ میں ہونے والے حملے ان حلقوں کے لیے چسم کشاء ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ملکیت فوجی قیادت کو سونپ کر مطمئن ہو گئے تھے۔
یہ جنگ ہماری اور ہم سب کی ہے، فوجی کارروائی اس جنگ کا پہلا مرحلہ ہے، آخری معرکہ نہیں، یہ جنگ سول اداروں کی قیادت میں ہر اس محاذ پر ان تمام عوامل کے خلاف لڑی جانی چاہیئے تھی جو دہشت گردوں کے لیے مالی، افرادی اور تزویراتی معاونت کا باعث بن رہے ہیں۔ محض فوجی کارروائی کو کافی سمجھتے ہوئے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سدباب کیے بغیر اور دہشت گردوں کے مذہبی بیانیے کا متبادل رائج کیے بناء یہ تسلیم کر لینا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیت جائیں گے دیوانے کا خواب ہے۔ اس جنگ میں ہم نے چند معرکے جیتے ہیں، جنگ کا میدان ابھی گرم ہے اور ابھی حوصلہ ہارنے یا مایوس ہونے کا وقت نہیں۔ یہ جنگ اعصاب کی جنگ ہے اور اس جنگ کو حوصلے اور اتحاد ہی سے جیتا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ہمیں عسکری اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے ہیں اور ضرب عضب کی کامیابی کے دعووں کا تجزیہ بھی کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی سول قیادت سے بھی چند مشکل سوال کرنے ہوں گے اور انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کا یہ عفریت عسکری اداروں کی غیرریاستی عناصر کی سرپرستی کی پیداوار ہے، اس میں بھی کلام نہیں کہ ہمارے عسکری اداروں نے اہم مواقع پر غلط فیصلے کیے ہیں لیکن اب اس ادراک سے آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کی جمہوریت پسند قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر اپنی اہلیت ثابت کرنا ہو گی تاکہ ہم عسکری اداروں کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کر سکیں اور ان کا احتساب بھی

 

یہ وقت افواہوں پر یقین کرنے، تفرقہ پھیلانے اور مایوس ہونے کا نہیں یہ وقت عسکری اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ بحث، سول قیادت کی غیر فعالیت پر جوابدہی، عدلیہ کی نااہلی اور معاشرے کے دہشت گردی کے معاملے پر منقسم ہونے پر غور کرنے کا وقت ہے۔ یہ وقت دشمن سے متعلق مغالطہ آرائی کا نہیں بلکہ اس کی پہچان کرنے اور مشکل فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں یہ اتفاق رائے پیدا کرنا ہے کہ مذہبی دہشت گردی، سیاسی اسلام اور ہماری جنگجو خارجانہ حکمت عملی اس مسئلے کی بنیاد ہیں، ہمیں افرادی اور اجتماعی سطح پر یہ تسلیم کرنا ہے کہ قومی ریاست میں قومیت عقیدے سے بالاتر ہے، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کسی قسم کے غیر ریاستی عناصر خواہ ہم انہیں اپنے اثاثے ہی کیوں نہ سمجھتے رہے ہوں وہ ہمارے دوست نہیں، ہمیں یہ تہیہ کرنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہمیں اپنی سمت متعین کرنی ہے کہ پاکستان کا مستقبل ایک مذہبی خلافت یا امارت کے قیام میں نہیں بلکہ ایک لبرل اور جمہوری ریاست کا حصول ہے۔

 

فوجی کارروائی اس جنگ کا پہلا مرحلہ ہے، آخری معرکہ نہیں، یہ جنگ سول اداروں کی قیادت میں ہر اس محاذ پر ان تمام عوامل کے خلاف لڑی جانی چاہیئے تھی جو دہشت گردوں کے لیے مالی، افرادی اور تزویراتی معاونت کا باعث بن رہے ہیں۔
جون 2014 سے اب تک ہم نے بحیثیت مجموعی اس جنگ کی ذمہ داری مکمل طور پر فوجی قیادت کے سپرد کیے رکھی ہے اور ہم نے اب تک سول اداروں کی غیر فعالیت، عدلیہ کی نااہلی اور معاشرے کے غیر ذمہ دار رویے سے متعلق کچھ بھی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مدارس کی رجسٹریشن، فاٹا اصلاحات، انسداد دہشت گردی کے مرکزی ادارے کی فعالیت، دہشت گرد مذہبی بیانیے کا ارتداد اور نصاب میں تبدیلی سمیت کسی بھی محاذ پر ہم نے تاحال اپنی صفوں کو آراستہ نہیں کیا۔ بدقسمتی سے ہم میں سے کوئی بھی آگےبڑھنے اور ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور ہمارا یہی خوف اور بے عملی دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس حملے کے بعد بھی ہندوستان اور کابل کی جانب انگلیاں اٹھانا، سول قیادت اور اداروں کا مسلسل پس منظر میں رہنا اور جہادی افکار کی مسلسل ترویج وہ غلطیاں ہیں جن کا دہرانا کسی بھی صورت اس جنگ میں مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔

 

یقیناً وزیراعظم نواز شریف اس مرحلے پر قومی اتفاق رائے کے قیام کی اہلیت رکھتے ہیں، یقیناً ہمارا معاشرہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو مسترد کرنے کو تیار ہے اور یقیناً اس ملک کے سول ادارے اور جمہوریت دہشت گردی کے خلاف ہماری موثر ترین ڈھال ہے، ہمیں اس وقت اس جمہوری نظام کو مستحکم اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت سول اور عسکری اداروں پر مثبت مگر تعمیری تنقید کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی، اہداف اور سمت اختیار کرنے کا وقت ہے۔ اب وفاقی اور تمام وفاقی اکائیوں کی صوبائی حکومتوں کو آگے آنا ہوگا اور اس جنگ کی قیادت کرنا ہو گی۔ اس جنگ کے اہم ترین مرحلے یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے، تمام طبقات کو مذہبی شدت پسندی کے خلاف متحد کرنے، فوجی کارروائی کے ساتھ مربوط سول حکمت عملی کے قیام اور سول اداروں کو فعال بنانے کا فریضہ سیاسی رہنماوں کو سرانجام دینا ہو گا۔

 

وفاقی وزارت داخلہ کو اس جنگ میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے اور انسے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہے کہ وہ اس جنگ کے خلاف قومی ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی اہل ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے وزیر داخلہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم موجودگی پر کی گئی تنقید اور نیکٹا کو فعال بنانے کی تجویز دونوں غورطلب اور فوری ردعمل کی متقاضی ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کے ذریعے سیاسی مخالفین کو کم زور بنانے کی بجائے اس مرحلے پر قومی اتفاق رائے سے آگے بڑھنے اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔ اس جنگ کو عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سیاسی، انتظامی اور نظریاتی محاذوں پر جیتنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری اداروں کا کردار کلیدی ہے مگر مرکزی نہیں، یہ جنگ طویل مدتی جنگ ہے اور عسکری اداروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ اس جنگ میں سول اداروں کی جوابدہی بھی ضروری ہے۔ اس نازک وقت میں قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری فوج کے سربراہ کی نہیں وزیراعظم کی ہے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی اور معلومات کی فراہمی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈرز کا نہیں وزارت داخلہ اور ایپکس کمیٹی کا فریضہ ہے، شہری علاقوں میں کارروائیاں پولیس کا کام ہے رینجرز یا نیم فوجی دستوں کا نہیں لیکن کیا ہماری سیاسی قیادت اور سول ادارےاس جنگ میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنے اور قومی سلامتی کے معاملات پر رہنمائی کرنے کو تیار ہے؟

Image: India Today

Categories
نان فکشن

زخم ابھی تازہ ہے

8 نومبر 2006ء کا دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس وقت میں کالج کا طالب علم تھا اور حسب معمول کالج جارہا تھا۔ درگئی (ضلع مالاکنڈ) بازار کے مرکزی چوک پہنچتے ہی ہماری گاڑی کی طرف ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا اور پھر دھماکے کی آواز۔ ہم نے اس وقت تک خودکش دھماکے کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن کالج پہنچنے پر معلوم ہوا کہ درگئی کے پنجاب رجمنٹ سنٹر پر اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب فوجی جوان معمول کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ کالج سے رجمنٹ سنٹر کا راستہ قریباً 10 منٹ میں طے کیا تو دور سے ہی خون آلود لاشیں نظر آنا شروع ہوگئیں، قریب جانے کی ہمت نہیں پڑی، دور ہی دور سے ‘تماشا’ دیکھ کر ہم ہسپتال پہنچ گئے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہسپتال میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں پر قیامت صغریٰ کی کیفیت تھی۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر فریاد کررہے تھے۔ 9 نومبر کو سنا کہ یہ 30 اکتوبر 2006ء کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ میں واقع ایک دینی مدرسے پر اس حملے کا ردعمل تھا جس میں 82 لوگ مارے گئے تھے۔

 

دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی میں شدت نوے کی دہائی میں اس وقت آئی جب تکفیری جہادی تنظیموں کے اراکین نے دیگر مسالک کے پیروکاروں کے خلاف حملے شروع کیے۔ لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر 2001 میں امریکہ کی افغان مداخلت اور پاکستانی افواج کی طالبان کے حوالے سے اپنائی گئی دوغلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ خصوصاً کشمیر جہاد پر پابندی عائد کرنے اور دوسری طرف افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستانی جہادی تنظیموں نے بھی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ تاہم پاکستان بھر میں دہشت گردی کو غیر ضروری عوامل کی بناء پر ‘جائز’ قرار دیا جاتا رہا۔ ہماری اس وقت کی فوجی قیادت (جو ملک پر حکومت بھی کر رہی تھی) یہ ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ طالبان دہشت گرد امریکی حملے سے قبل بھی پاکستانی “اثاثہ” نہیں بلکہ دشمن ہی تھے۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ سال 2000 کراچی اور حیدرآباد میں دو بم دھماکوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اگلے سال (2001ء) میں بہاولپور کے ایک گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سال 2002ء میں کل 14 بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں کم از کم 92 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک امریکی سفارتکار، اس کی بیٹی اور معروف صحافی ڈینئیل پرل بھی شامل ہیں۔

 

دہشت گردی کے واقعات پاکستان افواج کی دوسرے ممالک پر دباو ڈالنے کے لیے جہادی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی کی غلط پالیسی اپنانے کے بعد سے ایک تسلسل سے جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں اعدادوشمار اور معلومات کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔
سال 2003ء میں 8 کے قریب دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے جن میں 50 سے زائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اسی طرح سال 2004ء میں 18 دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 200 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔

 

سال 2005ء میں دہشتگردی کے قریباً 11 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 105 کے قریب لوگ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

 

سال 2006 میں 657 مختلف واقعات میں 907 سے زائد لوگ مارے گئے۔ ان واقعات میں 40 فرقہ وارانہ واقعات بھی شامل تھے۔

 

سال 2007ء میں دہشت گردی کے تقریباً 1503 واقعات رونما ہوئے جن میں 20 خودکش دھماکے بھی شامل تھے جن میں سے زیادہ تر میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں 3448 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

سال 2008ء میں 2148 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد 973 بتائی گئی ہے۔

 

سال 2009ء میں 2586 کے قریب واقعات رونما ہوئے جن میں سے زیادہ تر فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر کئے گئے حملے تھے۔ ان حملوں میں 3021 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔

 

پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
سال 2010ء پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں 2000کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

 

سال 2011ء میں بھی پاکستان محفوظ نہ رہا اور قریباً 400 سے زائد افراد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2012ء ایک بار پھر پاکستان کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا جس میں دہشت گردی کے تقریباً 214 واقعات رونما ہوئے۔ اسی سال ایک ہی دن میں کئی حملے پاکستانی عوام نے دیکھے اور ہزاروں لوگ اسی واقعات میں لقمہ اجل بنے۔

 

سال 2013ء میں قریباً 72 ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو صرف رپورٹ کیا گیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

 

سال 2014ء وہی بدقسمت سال ہے جس میں آرمی پبلک سکول پشاور کے ساتھ ساتھ 8 جون کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ، واہگہ بارڈر، پاکستان نیوی کے پی این ایس ذوالفقار، ایس ایس پی چوہدری اسلم اور کوئٹہ کے پی اے ایف بیس پر حملہ بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس سال 315 سے زائد افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

سال 2015ء ختم ہونے کو ہے لیکن یہ سال بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، اقلیتوں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک خونی سال ثابت ہوا ہے جس میں 206 کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اب تک دہشت گردی کے ہاتھوں پچاس سے ستر ہزار تک افراد گنوا چکا ہے۔

 

یہ مختصراً وہ واقعات ہیں جو پاکستانی یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کیے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اسی تعداد میں لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں بلکہ کئی ایسے علاقے اب بھی ہیں جہاں تک ذرائع ابلاغ کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی وہاں پر ہونے والے واقعات ہم تک پہنچ سکے ہیں۔

 

یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اورپتہ نہیں کب تک جاری رہےگا۔ پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن ہم نے سانحہ پشاور سے قبل مذہبی بنیادوں پر جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی جرات مندانہ اور سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ خٰیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری آپریشن اور اس سے پہلے ہزاروں لوگ اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، لاکھوں بے سر و سامان اور بے یار و مددگار مختلف کیمپوں اور خیموں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہم نے سانحہ پشاور اور ضرب عضب سے پہلے ایسے ہی سنحات کو سازش، غیر ملکی ہاتھ، امن مذاکرات اور مذہب کے نام پر دہشت گردی قرار دینے اور متحد ہونے سے انکار کیا، 16 دسمبر 2014 سے قبل نہ تو پاکستانی میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا اور نہ ہی کسی نے کوئی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا۔ہم ابھی بھی بے گھر افراد کے نام پر وصول ہونے والے فنڈز کے صحیح استعمال پر آمادہ نہیں، فاٹا میں اصلاحات کے لیے فعال نہیں اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف امن پسند بیانیے کی تشکیل و ترویج کے لیے متحرک نہیں۔

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
16 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا اور پاک فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق اس دوران 3400 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، ان کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں اور خفیہ اطلاعات کی بنیا د پر 13200 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں 183 خطرناک دہشت گرد مارے گئے جبکہ 21193 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں 488 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 1914 زخمی ہوچکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کارروائیاں، گرفتاریاں اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں دہشت گردوں سے پاک ایک خوش کن تصویر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن اس آپریشن کی شفافیت پر بھی لوگوں کی طرف سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں تو میڈیا یا عام لوگوں کی نظروں سے کیو ں اوجھل ہیں؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان تفریق کی پالیسی ترک کی گئی ہے یا نہیں؟ اگر دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی گئی ہے اور اب وہ کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو پھر کراچی، کوئٹہ، پشاور، پارا چنار اور لاہور میں دہشت گردانہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

 

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد ہرگز کسی کی نیت پر شک کا اظہار کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ 16 دسمبر 2014ء سے پہلے بھی بہت سے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ان کی قربانی بھلانا ان کی ارواح کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اگر ہم اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں سکولوں کو ان کے ناموں کے ساتھ منسوب کررہے ہیں، عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، شمعیں روشن کی جا رہی ہیں، بڑے بڑے سیمینار کرائے جا رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ ان بچوں کی شہادت کے بعد ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے واقعات کو آئندہ روکنے کے قابل ہو گئے ہیں؟ کیا یہ طے کیا جا چکا ہے کہ مستقبل میں ہماری ریاست جہادی تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرے گی؟ یہ سوالات میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں اور درخواست بھی کروں گا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی یاد کرنے کی کوشش کریں جنہوں نے اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔