Categories
نقطۂ نظر

یہ پرچم تمہارے حوالے

youth-yell

شہید کیمرامین شہزاد خان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے لئے آنے والے کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جب پہنچے تو شہزاد خان کی ننھی پری کو نہ تو تعزیت کرنے والوں کے آنے کا مقصد سمجھ آیا نہ ہی ان کے منہ سے نکلے روایتی افسوس کے الفاظ۔ ہاں وردی اس کے لئے نئی ہو گی، دھماکہ کے بعد تعزیت کے الفاظ بھی نئے ہوں گے، چہرے نئے، گھر آنے والوں کا رش بھی نیا صرف ایک چیز پرانی دکھائی دی جسے اس نے پہنچانا وہ تھا پاکستان کا جھنڈا جو کمانڈر سدرن کے بازو پر لگا دکھائی دیا۔۔۔۔۔۔ شاید اس بچی کو یاد آیا ہوگا کہ وہ اپنے بابا کے ساتھ جشن آزادی کی ایک تقریب میں آتش بازی دیکھ کر آئی تھی جس پر اس کے بابا مسکراتے ہوئے تصویر بنواتے رہے، شاید اسے یاد آیا ہوگا کہ دھماکے سے دو روز قبل اس کے بابا نے پاکستان کا بہت بڑا پرچم بنانے کے تیاری میں حصہ لیا تھا۔ اسے وہ پرچم یاد رہ گیا باقی سب اس کے لئے نیا سا تھا۔ اس پر چم کو غور سے دیکھنے اور چھونے کی کوشش کرنے پر وردی والے کو سمجھ آ گیا کہ یہ بچی وطن کو پہنچانتی ہے تو اس نے وہ پرچم بازوسے اتار کر بچی کو تھما دیا۔ کاش وہ اس بچی کو یہ بھی سمجھا سکتے کہ وہ وردی سمیت کیوں ناکام ہوئے۔ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے شہید کیمرامین شہزاد خان کی بیٹی کو بہت کم عمری میں اتنی بھاری ذمہ داری دے دی گئی، اپنے جسم سے پرچم اتار کر اسے تھمایا گیا تو میرے ذہن میں آیا۔۔۔ لو بیٹا وطن اب تمہارے حوالے!!!

 

ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ لکھتے وقت دل بہت بھاری ہے، آنکھیں نم ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ بہت کم ہی یہ کیفیت طاری ہوتی ہے کیونکہ میں بھی اس بے حس قبیلے کی ایک فرد ہوں جہاں کوئی مرے تو وقتی افسوس ہوتا ہے، چار دن کا سوگ ہوتا ہے اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، پھر کوئی دھماکہ ہوتا ہے دل زور سے دھڑکتا ہے اور پھر تاریخ بدلتی ہے اور دھیان بٹ جاتا ہے۔ ہماری قوم کی حالت اس مریض کی سی ہوگئی ہے جو جاں بلب ہے لیکن پھر بھی جینا چاہتا ہے۔ وینٹیلیٹر پر پڑی اس قوم کی حرکت قلب کو چیک کر نے کے لئے ایک جھٹکا دیا جاتا ہے تو مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوتی ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ اسی حالت میں واپس چلا جاتا ہے اور حکمران اور ہماری حفاظت کی ضمانت دینے والے، اس قابل ڈاکٹر جیسے لگتے ہیں جو تجربے کا غرور لئے مریض کی دیکھ بھال اسپتال کے انٹرنیز پر چھوڑ دیتا ہے کہ ان کو سیکھنے کو ملے۔ جب مریض مر جائے تو اس شام سب اس ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتے ہیں جو خاندان کے پاس آکر کہتا ہے کہ آئی ایم سوری ہم آپ کے پیارے کو بچا نہ سکے۔۔۔۔ ایوان زیریں میں بھی تو بڑے ڈاکٹر صاحب یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے افسوس ہے آپ کا مریض بچ نہ سکا آپ نے مجھ پر اعتبار کیا اس کا شکریہ لیکن زندگی موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے جو مرے ہیں ان کے نقصان پر مجھے بھی افسوس ہے لیکن اطمینان رکھئے آئندہ کم مریض مریں گے۔ پھر بڑے ڈاکٹر صاحب بیٹھے تو ان کا معاون اٹھا اور اس نے اپنی بات شروع کی اور بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں کیسز خراب ہونے کی تعداد بہت کم ہے اس اسپتال میں جو پہلے معالج تھے وہ تو علاج کی الف ب تک سے واقف نہ تھے ان کے ہاتھوں تو کئی مریض مرے یہاں تک کہ وی آئی پی مریض تک، جن کی سرجری میں 36گھنٹے گزر گئے۔ قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کی سپاٹ تقریر کے بعد رسم پوری کی اور پوری قوم کو جتایا کہ مشرف کے دور حکومت میں روز تین سے چار دھماکے معمول تھے یہاں تک کہ افواج پاکستان کے محفوظ ترین مقامات و تنصیبات بھی دہشت گردی کی زد پر رہیں۔ بہت خوب جناب۔۔۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ تسلیم کیا جاتا کہ نیکٹا اور افواج پاکستان سمیت سبھی ادارے جن کی کامیابیوں کی داستانیں روز سنائی جاتی ہیں وہ سب ناکام ہو کر ایک طرٖف ہو گئے ہی اور مٹھی بھر ٹوٹی کمر والے دشمن سبقت لے گئے ہیں۔ ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا یہ چائیے تھا حکومت، اپوزیشن ایک صفحے پر دکھائی دیتے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی بار بار ماضی کا حوالہ دے کر یہ بتایا جاتا رہا کہ دیکھو تمہارے وقت میں لاکھ مرے ہمارے وقت میں ہزار امن تو قائم ہوا ہے ناں۔

 

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر کسی ایک کی بھی ناحق لاش گرتی ہے تو کیا ریاست کے نزدیک اس ایک کی اہمیت نہیں؟ میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔جب انتخابات قریب ہوں تو یہی حکمران ووٹ پورے کرنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے لئے انگوٹھے کا ایک ایک نشان اہمیت رکھتا ہے لیکن جب دھماکہ ہو جائے تو لاشوں کی گنتی کر کے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ نقصان کم ہوا ہے، دھماکہ بڑی نوعیت کا نہیں تھا محض پانچ یا دس لوگوں کا مرنا ایسے ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

 

میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔
پشاور سانحے میں جب 150 زندگیوں کے چراغ بجھیں تو ایک آواز سنائی دی کہ دشمن اب کمزور پڑ گیا ہے تو آسان ہدف اس کا شکار ہیں یہاں پھر وہی سوال ہے کہ عوام کو اگر آسان ہدف سمجھ کر بھوکے بھیڑیوں اور کتوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا ہے تو جنگل کا بادشاہ شیر آج کل کہاں ہوتا ہے؟ یہ شیر انتخابات میں ہی جنگل کی سیر کو نکلتا ہے یا پھر دوسرے جنگلوں کا دورہ کرنے؟ چلیں جناب ان کو چھوڑیں اس شیر نے ملک کی حفاظت کی کمان جنہیں دے رکھی ہے ان کا جنگل میں کیا کام ہے؟ جنگل میں باہر سے کوئی آ کر حملہ نہ کرے اس مقصد کے لیے خاردار باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، کوئی ہتھیار سے وار نہ کردے تو ہم نے بھی ہتھیار بنا کر دشمن کو جتا دیا۔ لیکن خاردار باڑ لگانے والے جنگل کی تلاشی لینا بھول گئے۔ تلاشی سے یاد آیا کوئٹہ سانحے کے بعد سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا۔ چلیں کوئی بات نہیں جہاں اتنے آپریشن ہوئے ایک اور سہی اب وینٹیلیٹر پر پڑے مریض کو موت سے بچانے کے لئے ایک دوا اور سہی ایک نیا ڈاکٹر آزمانے میں حرج ہی کیا ہے؟ لیکن یاد رہے قاتل اسپتال میں ہی کہیں گھوم رہا ہے آپ دوا ڈھونڈنے نکلیں گے اور وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر اپنا کام کر جائے گا۔ ویسے ٹوٹی کمر والا یہ دشمن کمر سے نہیں دماغ سے کام کرتا ہے، سانحہ پشاور ہو، یا واہگہ بارڈر دھماکہ، سانحہ لاہور ہو یا سانحہ کوئٹہ دشمن نے ٹوٹی کمر کے ساتھ کامیاب سرجری کی اور ہمارے معالجین نے آ کر صرف یہی کہا کہ آئی ایم سوری ہم آپ کو نہیں بچا سکے۔

 

حالیہ اجلاس بھی بلند و بانگ دعووں، افواج کی ستائش، حملہ آوروں کی مذمت، عوام کے لیے ڈھکوسلوں، قرادادوں اور تقاریر کے بعد تمام ہوا، فوج اور ایجنسیوں کی جانب سے کومبنگ آپریشن کا آغاز ہوا اور ایک بار پھر کسی لنگڑے لولے نے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر دھماکہ کر کے بتا دیا کہ ٹوٹی ہوئی کمر کے لوگ اکڑی ہوئی گردنوں سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟ تو صاحب دشمن منصوبہ بندی آپ کی لگائی ہوئی باڑ کے باہر کرتا ہے اور پھر آپ کے دھتکارے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے، ناانصافی کی چکی میں پسے ہوئے دلبرداشتہ ذہنوں کو خریدتا ہے۔ یہ دشمن وہی ذہن اور جسم خریدتا ہے جو جنگل کے اندر موجود ہیں۔ دشمن ان کو جنت کا راستہ دکھا کر عوامی مقامات پر حملے کرواتا ہے اور آپ کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسبان اس کے۔ ڈھونڈنا ہے تو ان کو ڈھونڈیں جو ان لوگوں کے ہاتھوں بک رہے ہیں وہ غیر نہیں آپ کے اپنے ہیں۔ ان کے چارہ گر بنیں ان کے ٹوٹے دلوں کی رفو گری کریں اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ آپ نے کس کا حق چھینا کس کے ساتھ ناانصافی کی؟ کس کو زیادہ نوازا کس کا حق چھین کر اپنے منہ میں نوالہ ڈالا صرف ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کا حوصلہ کیجئے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے، لوگ ملنا شروع ہوجائیں گے ڈھونڈیے اس شخص کو جو اپنے وطن سے پیار کرتا ہوگا اس پر جان نثار کرنے کا متمنی بھی ہوگا مثبت ذہن بھی رکھتا ہوگا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہوگا کہیں اس کو وطن سے محبت کرنے پر ناحق تو نہیں بھینٹ چڑھا دیا گیا؟ کہیں اس کا حق کسی نااہل کو تو نہیں دے دیا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یاد رکھئیے گھر کو آگ لگتی ہے گھر کے چراغ سے۔

 

یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟
شہزاد خان ہو یا اس جیسے ہزاروں سپوت جنھوں نے آگ کو لگتے دیکھا اس میں خود کو جلتا پایا جب ان کی جانیں نکل رہی ہوں گی تو زند گی کے کون کون سے لمحات، اپنے پیاروں کے چہرے ان کی نظروں کے سامنے آئے ہوں گے؟ کئی لمحات تو ایسے ہوں گے جو ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے ہوں گے اس نے اپنی بیٹی کو یاد کیا ہوگا، گھر اور اس کا خیال رکھنے والی بیوی کا بھی آیا ہوگا یا پھر یہ سوچا ہو گا کہ اگر جانے کا وقت آگیا ہے تو میرے اپنے میرے بعد خود کو کیسے سنبھالیں گے میں نے تو ان کی عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں۔ شاید وہی ایک لمحہ ایسا تھا جب شہزاد کی بیٹی نے بابا کی وطن سے محبت کو پہلی بار اپنے شعور میں محفوظ کیا ہوگا تب ہی اس کا ہاتھ بلوچستان کی حفاظت پر مامور سب سے بڑی ملٹر ی کمپنی کے کرتا دھرتا کی وردی پر لگے پرچم کی جانب بڑھا تھا۔ نہ تو اس بچی تو اس وردی نے متاثر کیا نہ شام کو ہونے والی جنگل کے شیر کی تقریر نے، صرف ایک لمحے کو سوچئیے آج یہ ننھا ہاتھ پرچم مانگنے کے لئے آگے بڑھا ہے یہ جو ستر سے زائد خاندان بے سہارا ہوئے ہیں اور ان جیسے لاکھوں اور کل کو ان کے ہاتھ آپ کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائیں ان چراغوں کو کوئی غیر جلنے کے لئے ایندھن ادھار نہ دے ڈالے۔۔۔۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کیسے مان لے حملہ “را” نے کیا تھا؟

کوئٹہ شہر میں سیکیورٹی کے نام پر ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، کم و بیش شہر کے تمام علاقوں میں کئی کئی چوکیاں لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے قائم ہیں۔ یہاں پر کھڑے اہلکار کسی کو بھی روک کر اس کی تلاشی لیتے ہیں، اس سے سوالات پوچھتے ہیں۔ اگر کسی سرپھرے اہلکار کی وطن پرستی جاگ جائے تو یہ اہلکار کسی بھی شخص کو حراست میں لے لیتے ہیں۔کوئٹہ واقعہ سے قبل ظاہر ہے بلال کاسی نے فورسز کے چیک پوائنٹس پر رک کر اپنی پہچان بتائی ہو گی۔ اپنے مقدمات کی فائلیں بھی دکھائی ہوں گی۔ قتل ہونے کے بعد بلال کاسی کی لاش کو شعبہ حادثات اور جائے وقوعہ کے درمیان آنے والی چیک پوسٹوں پر حفاظتی انتظامات کے پیش نظر “را” کا سراغ لگانے والے اہلکاروں نے روک کر چیکنگ کے بعد شعبہ حادثات تک پہنچانے کی اجازت دی ہو گی۔ بغیر کسی روکاوٹ کے ہپتال تک پہنچنے والے حملہ آور کے حملے میں مرنے والوں کی لاشیں بھی انہیں چیک پوسٹوں پر “را” کے خطرے کے پیش نظر روک کر چیک کی گئی ہوں گی اور پھر اپنے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی ہوں گی۔ ان “را” زدگان میں مکران سے تعلق رکھنے والے شہدا کے ہمراہ جانے والے لوگ فورسز کی احسان مندانہ تفتیش کا کچھ زیادہ ہی شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ سی پیک کا تعلق ہی مکران کے ساحل سے ہے۔ ان جنازوں میں شرکت کرنے والے سوختہ دل و سوختہ بخت بھی اسی طرح کے “حفاظتی ظلم” کا شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ “را” کسی کے بھی روپ میں کہیں پر موجود ہو سکتی ہے بشرطیکہ بلکہ لازمی شرط یہ کہ سیکیورٹی ادارے خود “را” کی موجودگی سے راضی ہوں۔

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔
حملے کے بعد فورسز نے چابکدستی سے چند لوگوں کو گرفتار کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، پھر پلک جھپکتے ہی ذرائع ابلاغ پر انہیں “مبینہ” دہشت گرد بھی قرر دے دیا گیا۔ اب ان کے لواحقین اس مرگ ناک امید میں مبتلا ہیں کہ جانے کب کس معلوم مقام سے ان لاپتاؤں کی لاشیں ملیں گی۔ کیوں کہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ لاپتہ لوگوں کی بازیاب شدہ لاشوں کی داستان پر مشتمل ہے۔ اس داستان نے لواحقین کو اپنے پیاروں کی زندہ بازیابی کی امید سے زیادہ مسخ شدہ لاش کی شکل میں وصولی کے لیے ذہنی طور پر پہلے ہی تیار کر دیا ہے۔

 

بلوچستان میں ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ میں خود کئی ایسے افراد کی گمشدگی کا گواہ ہوں جنہیں سیکیورٹی ادروں نے غیر قانونی حراست میں لیا ہے۔ لیکن سی پیک چونکہ تعمیر کے مراحل میں ہے اس لیے لوگ جب لاپتہ ہوجائیں تو اس کا سرکاری مطلب یہ ہے کہ لاپتہ شخص” نامی شخص” کہیں پر تھا ہی نہیں۔ اور اگر کوئی مارا جائے تو پلک جھپکتے ہی اسے سی پیک کے خلاف “را” کے ہاتھوں میں کھیلنے والا دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر لاپتہ شخص کے زبان دراز رشتہ دار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کریں تو ان کی آواز کا گلا گھونٹنے کے لیے فورسز کے پاس کئی حربے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔ کیوں کہ لاپتہ شخص کا وجود ایک واہمہ تھا۔ جو سالوں سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا اور اچانک ایسے گیا کہ۔۔۔ اس کا صرف خیال ہیولہ ہی باقی رہ گیا۔

 

بلوچستان میں ایسی ہزاروں داستانیں موجود ہیں جنہیں سننے کے لئے حساس دل چاہیے۔ بات حساس ذہنوں کی ہوتی ہے تو بلوچستان کے وکلاء ظاہر ہے باقی تمام طبقات سے زیادہ حساس ہیں۔ حساس اداروں کی حساسیت سے بھی زیادہ حساس۔ اتنے حساس کہ انہیں موت ہی بے حس کرے تو کرے۔ لیکن یہ سوال کسی غریب الحس شخص کو جھنجوڑ نے کے لئے بھی کافی ہے کہ ایک بارود بردار شخص کوئٹہ کی ہر گلی کے شروع، درمیان اور آخر میں تعینات “را” پر نگاہ رکھنے والی عقابی نظروں سے بچ کر کیسے سول ہسپتال تک پہنچ گیا؟ ایک ایسی جگہ جہاں تک پہنچنے میں چیک پوسٹوں میں اپنی شناخت کراتے کراتے کئی ملازموں کی ڈیوٹیاں قضا ہو جاتی ہیں وہاں تک خود کش حملہ آور کیسے پہنچ گیا۔ میں بلوچستان سے دو سال قبل ہی نکل چکا ہوں لیکن میرا خیال اُدھر ہی ہے۔ روز معلوم کرتا ہوں، اور روز یہ سنتا ہوں کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور چوکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہیں۔ اس کے باوجود وہاں تک “را” کا پہنچ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے واقعات کی وجہ سے ہی بلوچستان میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ یہ حملہ ریاستی اداروں کی مرضی سے ہوا ہے۔

 

ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔
یہ سوال میں خود سے کرتا ہوں کہ ایک کتاب رکھنے والا نوجوان فورسز کی پہلی چیک پوسٹ پر ہی گرفتار ہو جاتا ہے لیکن ہزاروں میل دور سے ہدایات لینے والا ایک ایجنٹ کیسے اطمینان سے اتنی منصوبہ بندی کرسکتا ہے، اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے؟ بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے بلوچستان میں “را” اب کسی بیرونی خفیہ ایجنسی کا نام نہیں بلکہ سوال کرنے والے لوگوں کی پہچان بن چکا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی سے کئی ایسے “را ایجنٹ” اسلامی قلعہ کے محافظوں کے ہاتھوں قلی کیمپ منتقل ہو چکے ہیں، اور وہاں سے مسخ شدہ لاش کی شکل میں کسی گلی یا ویران علاقے سے دریافت کیے جا چکے ہیں۔

 

ہماری روایت ہے کسی گھر میں کوئی واقعہ ہوجائے تو سارا محلہ اس کی دلجوئی کے لیے اکٹھا ہو جاتا ہے اور اس گھر میں آنے والے مہمانوں کے کھانے پینے کا بندوبست ہمسایے کرتے ہیں۔ کسی مقتول کے گھر ایسی باتیں نہیں کی جاتیں جن سے لواحقین کی دل آزاری ہو۔ لیکن چونکہ راحیل ہوں کہ نواز، ہمارے لئے دونوں شریف یکساں ہیں اس لئے ہمارے معاشرے کے روشن دماغوں پر حملہ کرکے اسے سی پیک پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ پشتونوں کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہمری ریاست کے لیے اس راہداری کی اہمیت ہماری جانوں سے زیادہ ہے۔ ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔ چیف آف “شریف” صاحب اسے کسی سڑک یا کاروباری کمپنی پر حملہ قرار دے سکتے ہیں، ان کے ساتھ یہ گردان دہرانے کے لیے کئی کاکڑ ، مالک اور سرفراز بگٹی بھی ان کی تان میں تان ملا سکتے ہیں لیکن جن خاندانوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں انہیں اس کے بدلے کچھ بھی دیا جائے وہ اپنے بچھڑے ہوؤں کو ہی روئیں گے۔

 

بلوچستان در حقیقت ایک جنگ زدہ خطہ ہے جہاں کے لوگ پاکستان سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں، لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بلوچستان کے لوگوں کو یوں دکھایا جاتا ہے گویا اگر وہ کسی دن کے شدت سے منتظر ہیں تو وہ 23مارچ اور 14اگست ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی بلوچستان کے زمینی حقائق سے واقف ہے تو اسے پاکستان کے جھنڈے اور تقریبات صرف وہاں نظر آئیں گے جہاں نقاب پوش مسلح اہلکار موجود ہوں۔ کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔ ان چیک پوسٹوں پر تضحیک کے لیے گالیاں اور دھمکانے کے لئے ہتھیار بھی موجود ہوتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف عام لوگ روزانہ سی پیک کے محافظوں کے ہاتھوں تلاشی کے عمل سے گزرتے ہیں مگر دوسری طرف مذہبی شدت پسندوں کی ایک پوری فوج جس علاقے میں چاہے اپنا کیمپ قائم کرسکتی ہے۔ پاکستان کی نظر میں “را” کے نشانے پر موجود پسنی اور گوادر کے ساحل جیسے “حساس” علاقے میں بھی ملا میران اپنے گروہ کے ساتھ بلوچوں کو قتل کرکے غزوہ ہند شروع کرنے کی بات کرتے ہیں۔

 

کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔
پسنی کے ساحل میں لشکر خراسان کے امیر اپنے کئی مجاہدوں کے ساتھ سمندر میں مستیاں کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس حساس علاقے میں یا حساس ادارے جا سکتے ہیں، یا انہیں حساس اداروں کے لشکر خراسان جیسے مردم کُش اور بے حس ہرکارے۔ یہ لوگ ایک جانب گوادر میں سی پیک کا دفاع کرنے اور بلوچوں کو قتل کرنے میں فورسز کے ہم کار ہیں اور دوسری جانب بقول شریف اور زہری صاحب ایسے لوگ ہی سی پیک پر حملہ بھی کر رہے ہیں۔ اس سفید جھوٹ اور عجلت میں دیے گئے بیان کو فرض کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن پاکستانی تجزیہ کاروں نے اسی بیان کی بنیاد پر فتویٰ بازی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کی۔ اس بات کو بلوچستان میں بسنے والوں کا ذہن کبھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ مذہبی شدت پسندوں اور پاکستانی فوج کے نکتہ نگاہ میں کہیں کوئی فرق موجود ہے۔خواہ وہ سی پیک کا معاملہ ہو، بلوچستان کی تحریک کو ختم کرنے کا معاملہ یا پھر افغانستان پر پھر قبضے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی لاحاصل کوشش۔۔۔۔ طالبان اور ہمارے عسکری اداروں کی سوچ ایک ہی ہے۔ اگر سادہ لفظوں اور آسان لفظوں میں کوئٹہ واقعے کو بیان کیا جائے تو یہ بلوچستان کے بلوچ اور افغانوں کے دماغ پر پاکستان کا حملہ تھا۔

 

ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں پاکستان کے شریفوں کو صرف سی پیک ہی نظر آتی ہے۔ ان کا تکیہ کلام ہی سی پیک بنا ہوا ہے۔اس سڑک کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور کاروبار کی توسیع کے لئے استعمال کرنے کے لالچ میں پاکستانی فوج بلوچ سرزمین کو بلوچوں کے لہو سے ہی سرخ کر رہی ہے۔ بلوچستا ن میں جہاں جہاں سے اس سی پیک کو گزرنا ہے ان علاقوں میں تو اب کوئی بلوچ بھولے سے بھی نہیں جا سکتا۔پنجاب کی ممکنہ خوشحالی کی قیمت لاکھوں بلوچ خاندانوں نے نکل مکانی، قتل عام اور اغواء کی صورت میں پہلے سے ہی ادا کرنا شروع کر دی ہے۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔ میرے خاندان کا شماربھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سی پیک کے “تقدس” کا خیال کرتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ دئیے۔ کئی ایسے خاندان جو اس مقدس سی پیک کی حفاظت کی شرائط پر پورا نہ اتر سکے زندہ لاپتہ ہوکر مسخ چہروں کے ساتھ واپس آئے۔ کولواہ ایسے کئی مجرموں کا گواہ ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکلنے میں دیر کرنے کی جرم کی اور سزا کے طور پر نشانِ عبرت بنا دئیے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظتی دہشتگردی کے لاکھوں چشم دید گواہ کیسے “شریف” صاحب کی اس بات کا یقین کرسکتے ہیں کہ کوئٹہ میں ہونے والا حملہ سی پیک پر حملہ تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ کوئٹہ کا حملہ در اصل اُس کتاب پر حملہ تھا جو جائے واقعہ پر کسی عاشق کے خون سے سرخ و سفید ہوکر ایک خاموش پیغام دے رہی تھی۔

 

۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔
پاکستان آرمی کی نظر میں ہر کتابی مشکوک ہوتا ہے اور اگر یہ کوئی بلوچ نوجوان ہوتو اس کا قتل عین وطن پرستی ہے۔ اندرونِ بلوچستان سیکیورٹی چوکیوں پر ایسے لوگوں کی تفتیش کچھ زیادہ ہی کی جاتی ہے جنہوں نے جیب میں قلم یا ہاتھوں میں کتاب اٹھارکھی ہو۔ میرے والد صاحب مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو پڑھایا کہ آپ ہمارے لئے کچھ اچھا کرسکیں لیکن آپ کی وجہ سے ہم بے گھر ہو رہے ہیں (میری تعلیم بھی میٹرک تک ہے)۔ ظاہر ہے کوئٹہ کے وہ وکیل جو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں مجھ سے کئی گنا زیادہ علم رکھتے ہیں۔ یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں عِلم رکھتے ہیں جہاں پورا معاشرہ قاتلوں کا علمبردار ہے۔انہیں اس معاشرے میں جینے کا کوئی حق نہیں۔

 

کتابوں کے عاشق ہی معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو قریب لاتے ہیں اور اعتماد اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کتابوں کے عاشق اگر وکیل ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق معاشرے کے تمام طبقات سے ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی بلوچستان میں وکیل ہو تو یقینی طور پر “را” کو ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کی جانب سے اغواء کیے گئے کسی مغوی کے مقدمے کو یہی وکیل نہ لڑیں اس لئے کہیں سے کوئی خودکش بمبار خاردار تاروں، ریاستی خفیہ ایجنسیوں، ہزاروں چوکیوں اور چیک پوسٹوں سے بچتا بچاتا ایک وکیل کو قتل کرتا ہے۔ اور پھر یہی شخص اس انتظار میں دام بچھاتا ہے کہ باقی وکیل اس کی لاش لینے آئیں گے تو سب کو خود سمیت ہلاک، شہیداور جاں بحق کردے۔ بلوچستان میں “را” کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے، کیوں کہ یہ سہولت صرف ان کے لئے ہے جو کبھی وجود رکھتے تھے بقول سرکار، لاپتہ لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں۔ اگر کہیں کسی نے غلطی یا مجبوری کے تحت کوئی ایف آر درج کرائی ہو تو ہر روز کوئی نہ کوئی “را” والا اس خاندان کے سربراہ کو شفیقانہ انداز میں مرنے اور لاپتہ ہونے کے لئے تیار رہنے یا ایف آئی آر واپس لینے میں سے کسی ایک کے انتخاب کی تجویز دیتا ہے۔

 

بلوچستان میں “را” کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے
“را” نے جو کرنا تھا اس نے کیا۔ ایک پورے معاشرے کو ماتم پر بٹھانے کے بعد شریف صاحب فرما رہے تھے کہ کومبنگ آپریشن کیا جائے۔ یعنی کہ یہ ماتمی تھوڑے کم ہیں، اس موقع کو غنیمت جان کر سی پیک مخالفین کو ختم کیا جائے۔ اس سی پیک کے مخالفین بھی عجیب ہیں، مرتے رہتے ہیں لیکن مخالفت نہیں چھوڑتے، ان چرواہوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اپنے وطن سے زیادہ کسی دوسرے ملک کی سڑک کو اہمیت کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ انہیں نہ لڑاکا طیارے سمجھانے میں کامیا ب ہوئے ہیں، نہ مسخ شدہ لاشیں اور نہ ہی طارق جمیل کا نظریہ جنت۔۔۔۔ اب جب کومبنگ آپریشن ہوگا تو ظاہر ہے اس کا رخ سی پیک کے مخالفین کی جانب ہوگا کیوں کہ کوئٹہ کا حملہ سی پیک پر جو تھا۔ ایک مرتبہ پھر اعلان کیا جارہا ہے کہ “را” کو سبق سکھایا جائے گا۔ بقول شخصے پاکستان تو ہمیشہ سے “را” کو ہی سبق سکھاتا آرہا ہے خود کچھ نہیں سیکھتا۔ بہرحال بلوچستان اس اعلان کے بعد منتظر ہے پہلے سے جاری آپریشن میں آنے والی شدت کا، لاپتہ افراد کے لواحقین بھی منتظر ہیں کہ کب کسی جعلی مقابلے میں ان کا سالوں سے لاپتہ لخت جگر مارا جائے۔لیکن اس لختِ جگر کو اب کون یہ سمجھائے کہ “را” سے تمہارا تعلق کسی دفتر میں جوڑ دیا گیا ہے، اب تمہاری قتل سے کسی فوجی کے رینک میں اضافہ ہوگا، حب الوطنی میں وہ اپنے جونیئرز سے ایک نمبر آگے ہوگا۔ ظاہر ہے اتنے بلند و بالا مرتبے کے لئے کسی خاندان کے پیارے کا چھن جانا کوئی “گھاٹے” کا سودا نہیں۔

 

کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے
کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے
مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں کوئی طالب علم ایک کتاب لے کر کسی چوکی سے نہیں گزر سکتا، ہر شخص اپنے گھر جاتے ہوئے دسیوں بار یہ سوال روزانہ سنتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو؟ ان سب کے باوجود اس شہر میں ایک منصوبہ بند قتل کیسے کامیا بی سے سرانجام پا سکتا ہے؟جواب نہایت سادہ ہے، یہ ریاست کی جانب سے بلوچ اور افغان معاشرے کی دماغ پر حملہ ہے۔ یہ اِن معاشروں کے مستقبل پر ضربِ کاری کی کوشش ہے۔ بزرگ بلوچ کا یہ مقولہ بالکل سچ ثابت ہورہا ہے کہ “غلامی کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے، اتنی زیادہ نقصان اُٹھاؤ گے”۔