Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب چہارم)

سائنسی نظریات، خاص کر نیوٹن کے نظریہِ تجاذب کی روشنی میں فرانسیسی سائنسدان مارکس لپلاس(Laplace) نے یہ دلیل دی کہ کائنات کلی طور پر جبریتی (deterministic)ہے۔ اور سائنسی قوانین کا ایک سیٹ ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ہمیں اس کی ماضی کی حالت پتا ہو تو وہ ہمیں کائنات کی مستقبل کی حالت کے بارے میں بتا سکے ۔ یہ بات نیوٹن کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے سورج اور دوسرے سیاروں کی مستقبل کی حالت کی پیش گوئی تک تو ٹھیک ہے لیکن لپلاس نے اس سے بھی آگے جا کر یہ کہا کہ ایسے قوانین نہ صرف نیوٹن کے نظریے بلکہ، بشمول انسانی رویے کے، کائنات میں موجود ہر شئے پر لاگو ہونے چاہیے۔

سائنسی جبریت کے نظریے کو ایسے لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں اس سے خدا کی دنیا میں دست اندازی کی آزادی میں روکاوٹ آتی ہے۔ پھر بھی یہ موجودہ صدی کے آغاز تک ایک میعاری مفروضہ رہا۔ اس چیز کا پہلا اشارہ کہ ہمیں اس عقیدے کو ترک کرنا پڑے گا، رے لی اور جیمز جینز (Rayleigh and James Jeans) کی کی گئی کیلکولیشنز سے ملتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کسی گرم جسم سے خارج ہو نیوالی شعاعوں کی توانائی لامحدود ہوتی ہے۔اس وقت کے یقین کردہ قوانین کے مطابق کسی بھی گرم جسم سے خارج ہونیوالی برقناطیسی شعاعوں کی توانائی تمام تعددات پر ایک جیسی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک جسم ایک سیکنڈ میں دس سے بیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی توانائی ایک ایسے ایسے جسم کی خارج کردہ توانائی کے برابر ہو گی جو ایک سیکنڈ میں بیس سے تیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے۔ اب اگر فی سیکنڈ خارج کردہ لہروں کی تعداد لا محدود ہے تو خارج کردہ توانائی بھی لامتناہی ہو گی۔

اس مضحکہ خیز نتیجے سے بچنے کے لیے 1900 میں جرمنی کے ایک سائنسدان میکس پلانک نے یہ فرض کیا کہ گرم اجسام سے خارج ہونے والی شعاعیں پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتی ہیں جن کی توانائی تعدد کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تعدد پر جا کر پیکٹوں کی توانائی مہیا کردہ توانائی سے بھی زیادہ ہو جائے گی لہٰذا خارج ہونیوالی شعاعوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

کوانٹمی مفروضے نے گرم اجسام سے خارج ہونیوالی سعاعوں کا مسلہ تو حل کر دیا لیکن جبریت پر اس کے مضمرات 1926 میں کھلے جب وارنر ہائزنبرگ نے اصولِ غیر یقینیت پیش کیا۔اس کے مطابق اگر آپ کسی ذرے کی مستقبل کی سپیڈ اور مقام معلوم کرنا ہے تو آپ کو اس کی حال کی سپیڈ اور مقام نہایت درستگی سے معلوم ہونے چاہیے۔ کسی ذرے کا مقام معلوم کرنے کے لیے آپ اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جب روشنی اس پر پڑنے کے بعد منتشر ہو گی تو اس کے مقام کا پتہ لگا لیا جائے گا۔کسی ذرے کے مقام کی زیادہ درست پیمائش تب ہو گی جب ہم کم طولِ موج کی لہر استعمال کریں۔ لیکن کم طولِ موج کی لہر استعمال کرنے سے اس کی توانائی زیادہ ہو جائے گی اور وہ اتنا ہی زیادہ ذرے کی رفتار کو بدل دے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذرے کا مقام جتنی زیادہ درستگی سے معلوم ہو گا اس کی رفتار اتنی ہی نادرست ہو جائے گی۔یہی ہائزنبرگ کا اصولِ غیر یقینیت ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی اچھے آلات استعمال کر لیں آپ کسی ذرے کا مقام اور رفتار(یا مومینٹم) ایک خاص حد سے زیادہ درستگی سے معلوم نہیں کر سکتے۔ اس حد کو پلانک کا مستقل کہتے ہیں۔

اصولِ غیر یقینیت نے دنیا کے متعلق ہمارے تصور کو یکسر بدل دیا۔ ااور اس کے ساتھ ساتھ لپلاس کا ایک جبریتی کائنات کے نظرے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔ چونکہ مستقبل کی صحیح صحیح حالت کا پتہ لگانے کے لیے آپ کے پاس حال کی رفتار اور مقام کی صحیح صحیح معلومات ہونی چاہیے جو کہ اب اصولِ غیر یقینیت کے لگائے گئے قدغن کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔اصولِ غیر یقینیت کو بنیاد بنا کر ڈیراک، شروڈنگر اور ہائزنبرگ نے 1920 کی دہائی میں ایک نئی میکانیات کو جنم دیا جو کوانٹم میکانیات کہلاتی ہے۔اس کے مطابق ذرات کی کوئی وضع شدہ رفتار یا مقام نہیں ہے بلکہ ان کی کوانٹمی حالتیں ہیں جو کہ رفتار اور مقام کا امتزاج ہیں۔

کوانٹم میکانیات کسی مشاہدے کے ایک قطعی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتی بلکہ یہ اس کے بہت سارے ممکنہ نتائج بتاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کسی ایک نتیجے کے حاصل ہونے کا کتنا امکان ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایک نظام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں بتائے گی کہ کتنے فیصد الف نتیجہ اور کتنے فیصد ب نتیجہ حاصل ہونے کے امکان ہیں لیکن کس مشاہدے میں کون سا نتیجہ حاصل ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔آئن سٹائن کو کوانٹم میکانیات کے اس طرح امکانی ہونے پر سخت اعتراض تھا۔ اس کو اُس کے اس مشہور معقولے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “خدا چوسر نہیں کھیلتا “(God does not play dice)۔ لیکن باقی بہت سارے سائنسدان اس سے متفق تھے کیوں کہ ان مشاہدات سے جو نتائج حاصل ہوتے وہ تجربات کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔درحقیقت یہ ایک بہت ہی زبردست نظریہ ہے جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ روشنی موجوں سے بنی ہوئی ہے لیکن پلانک کا نظریہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات ان کو ذرے گمان کرنا مناسب ہے۔ اسی طرح ہائزنبرگ کا اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ روشنی کے ذرات کو بعض اوقات موجوں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے جن کا نہ تو کوئی خاص مقام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی رفتار۔کوانٹم میکانیات کی بنیاد ایک نئی قسم کی ریاضی پر ہے جو دنیا کو موجوں یا ذروں کی صورت میں بیان نہیں کرتی بلکہ صرف مشاہداتِ عالم کو ان اصطلاحوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔کوانٹم میکانیات میں موجوں اور ذروں میں ایک دوہریت موجود ہے۔ کچھ مقاصد کے لیے ذورں کو موجوں کی صورت میں اور کچھ مقاصد کے لیے موجوں کو ذروں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے۔ اس مظہر کا ایک اہم نتیجہ ذروں یا موجوں کے دو سیٹوں کے درمیان تداخل(interference) کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تداخل کی ایک مثال صابن کے بلبلے پر مختلف رنگوں کا نظر آنا ہے۔ صابن کی تہہ کے اوپر ی اور نچلی سطح سے روشنی کا انعکاس ہوتا ہے۔ یہ روشنی جب آنکھ میں پڑتی ہے تو تداخل کی وجہ سے کچھ رنگ غائب ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ہمیں صابن کی سطح پر مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔

کوانٹم میکانیات کی دوہریت کی بدولت تداخل ذرات میں بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اس مظہر کو ذیل میں دی گئی دائیگرام میں دکھایا گیا ہے۔اس کو دو درزی تجربہ(double slit experiment) کہتے ہیں۔ شکل میں نظر آنے والی دیوار میں دو تنگ درزیں بنائی گئی ہیں اور اس کے ایک طرف روشنی کا ایک منبع رکھا گیا ہے۔ دسری جانب ایک سکرین موجود ہے۔ روشنی درزوں سے گزر کر سکرین پر پڑتی ہے۔ سکرین پر موجود کسی بھی ایک نقطے پر ہمیں فرنجیں(Fringes) نظر آتی ہے۔ ایسا تداخل کی وجہ سے ہوتا کیوں کہ دونوں درزوں سے نکلنے والی روشنی اس نقطے تک پہنچنے کے لیے مختلف فاصلہ طے کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس نقطے پر آنے والی لہروں میں تداخل ہوتا ہے۔ اگر ہم روشنی کے منبعے کو الیکٹرانوں کے منبعے سے بدل دیں تو بھی فرنجیں ہی نظر آئیں گی۔

تداخل ایٹم کے متعلق ہماری فہم میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔جوہر کے کلاسیکی نظریات یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی برقیہ مرکزے کے گرد چکر لگائے گا تو اسکی توانائی ختم ہوتی جائے گی اور وہ بالآخر مرکزے میں گر جائے گا ۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ کوانٹم میکانیات یہ کہتی ہے کہ جب کوئی برقیہ جوہری مرکزے کے گرد چکر لگاتا ہے تو وہ ساکن امواج بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی مدار، جس میں برقیہ چکر لگائے گا، کی لمبائی طولِ موج کا صحیح عددی ضعف ہو گی۔ یعنی ہر بار جب برقیہ ایک چکر پورا کرے گا تو اس کے ساتھ منسلک موج تعمیری تداخل کرے گی۔ باالفاظ دیگر الیکٹران صرف وہ مدار وجود رکھیں گے جن کے لیے تعمیری تداخل ہو۔

اسی مظہر کو حاصلِ تواریخ(Sum of histories) کی صورت میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے جس کو فائن من(Feynman) نے متعارف کرایا۔ اس کے مطابق جب کو ذرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو وہ صرف ایک راستے پر نہیں چلتا بلکہ ہر ممکنہ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے راستے ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ الیکٹرانی مدار ہوتے ہیں۔

ان تصورات کی ریاضیاتی اشکال کی مدد سے ہم مزید پیچیدہ جوہروں اور سالموں کی ساخت معلوم کرنے کے قابل ہو گئے۔ سالمے دو یا دو سے زیادہ جوہروں سے مل کر بنے ہوتے ہیں اور تمام حیاتیاتی اجسام کا بنیادی جزو ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کوانٹم میکانیات ہمیں ہمارے ارد گرد موجود تمام اشا کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے قابل بناتی ہے۔

آئن سٹائن کا عمومی نطریہ اضافیت کائنات اکبر کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی نظریہ ہے۔ایک کلاسیکی نظریہ ایسا نظریہ ہوتا ہے جس میں اصولِ غیر یقینیت کو شامل نہیں کیا جاتا۔لیکن پھر بھی یہ ہمیں صحیح نتائج دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجاذبی میدان نہایت ہی نحیف ہے۔ تاہم کچھ مقامات ایسے ہیں، جیسا کہ بلیک ہول اور بگ بینگ، جہاں تجاذبی میدان اتنا قوی ہو جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کو شامل کیے بنا گزارہ نہیں۔ ہمارے پاس ابھی ایسی کوئی تھیوری نہیں ہے جس میں عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کیا جا سکے لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا اندازہ ہے کہ یہ تھیوری کیسی ہو گی۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

پھیلتی ہوئی کائنات

کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔

اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔

جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔

1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔

1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔

نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔

فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔

حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔

اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔

دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔

پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔

پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔

پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔

بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔

اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔

پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔

چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)

باب دوئم
زمان اور مکان

کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔

ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔

گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔

ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔

مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔

ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔

ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔

ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔

ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔

اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔

کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔

اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔

عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔

نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب اول)

[blockquote style=”3″]

وقت کی مختصر تاریخ ان کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے کائنات سے متعلق عمومی فہم کے خدوخال متعین کیے ہیں۔ اردو قارئین تک اس کتاب کو پہنچانے کے لئے فصی ملک نے اس کی تلخیص شروع کی ہے۔ ہم فصی ملک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ یہ اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔

[/blockquote]

باب اول
کائنات کے متعلق ہماری تصویر

340 قبل مسیح میں یونانی فلسفی ارسطو نے زمین کے کُروی ہونے کے بارے میں دو دلائل پیش کئے۔
اول یہ کہ چاند گِرہن کے دوران جب زمین کا سایا چاند پر پڑتا ہے تو وہ ہمیشہ ہی دائروی ہوتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب زمین گول ہو۔ اگر زمین مستوی ہوتی تو اس کا سایا لمبوترہ یا بیضوی ہوتا ۔یا پھر ایسا ہو کہ جب بھی گرہن لگے اس وقت سورج عین اس مستوی طشتری (زمین) کے مرکز کے نیچے ہو۔

دوئم یہ کہ یونانی اپنی سیاحتوں سے جانتے تھے کہ شمالی ستارے کو جب جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو وہ آسمان میں نیچے نطر آتا ہے بہ نسبت اس کے جب اسے شمالی علاقوں سے دیکھا جائے۔ چونکہ شمالی ستارہ قطب شمالی کے اوپر موجود ہے اس لیے جب اسے شمال سے دیکھا جائے تو یہ مشاہد کے اوپر دکھائی دیتا ہے جب کہ جب اسے جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو یہ افق پر نظر آتا ہے۔ ارسطو نے شمالی ستارے کے مقام میں ظاہر تبدیلی سے زمین کا قطر بھی معلوم کیا جو کہ موجودہ قیمت سے دوگنا تھا۔

ارسطو کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر موجود ہے اور ستارے زمین کے گرد دائروی مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ارسطو کے اس تصور کو بطلیموس(Ptolemy) نے ایک مکمل کونیاتی ماڈل میں ڈھال دیا۔ بطلیموس کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر ہے جب کہ اس کے گرد چاند، سورج ،پانچ سیارے ،جو اس وقت معلوم تھے(عطارد، وینس، مریخ، مشتری اور یورینس)، اورجامد ستارے آٹھ مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ جامد ستاروں کا آپس کا درمیانی فاصلہ تبدیل نہیں ہوتا جب کی زمین کے لحاظ سے ان کی جگہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان ستاروں کے باہر کیا ہے اس سوال پر کبھی نہیں سوچا گیا۔ یہی ہماری کائنات کی حد تھی۔

بطلیموس کا ماڈل ستاروں کے مقامات کی پیش گوئی کرنے کے لیے ایک مناسب ماڈل تھا۔ لیکن ان کا صحیح مقام بتانے کے لیے بطلیموس کو یہ فرض کرنا پڑا کی چاند زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے کبھی کبھی بہت قریب آ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جسامت کافی بڑی نظر آتی ہے۔ بطلیموس کو اس غلطی کا احساس تھا لیکن پھر بھی عمومی طور پر اس ماڈل کو اپنا لیا گیا۔ مزید اس کو کلیسا (چرچ )کی بھی حمایت حاصل ہوئی کیوں کہ جامد ستاروں کے باہر جنت اور جہنم کے لیے کافی جگہ تھی۔

کائنات کاایک نسبتاً سادہ ماڈل کوپر نیکس نے 1514 میں پیش کیا۔ اس کے مطابق سورج ساکن ہے جب کہ زمین اور دوسرے سیارے اس کے گرد چکرلگاتے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ بدعتی نہ کہلایا جائے کوپر نیکس نے یہ ماڈل اپنے نام سے شائع نہ کیا۔ تقریباً ایک سو سال بعد دو ہئیت دانوں، گلیلیو گلیلی اور جوہانس کیپلر نے کھل کر کوپر نیکس کے نظریے کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ بطلیموس کی تھیوری کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب گلیلیو نے دور بین نے مشتری کا مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھا کہ اس کے گرد مزید سیارے یا چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ زمین مرکز پر ہو اور یہ چاند زمین کے گرد چکر لگائیں جو بظاہر مشتری کے گرد گھومتے ہوے نطر آتے ہیں؟

اسی دوران کیپلر نے کوپرنیکس کے نظریے میں ترمیم کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ساروں کے مدار دائروی نہیں بلکہ بیضوی ہیں۔ اس سے بطلیموس کا نظریہ مکمل طور پر رد ہو گیا۔ تاہم کیپلر بیضوی مداروں سے مطمئن نہیں تھا۔ دائروں میں تشاکل زیادہ تھا اور وہ زیادہ خوبصورت تھے۔

1687 میں آئزک نیوٹن نے اپنی کتاب اصولِ فطری فلسفہ شائع کی۔ اس میں اس نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ سیارےزمان و مکان میں کیسے گھومتے ہیں بلکہ ان کی حرکات اور مقامات کو معلوم کرنے کے لیے ریاضی بھی ایجاد کی۔ نیوٹن نے قانونِ تجاذب پیش کیا جس کی رو سے دو اجسام جتنے بھاری ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی زیادہ ہو گی اور وہ جتنے دور ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی کم ہو گی۔ نیوٹن نے یہ بھی ثابت کیا کہ اجسام زمین کی طرف اسی قوت کی وجہ سے گرتے ہیں اور چاند زمین اور زمین سورج کے گرد اسی قوت کی وجہ سے چکر لگاتی ہے۔

نیوٹن کے نظریے کے مطابق ایک محدود کائنات میں تمام اجسام باہمی کشش کے تحت ایک دوسرے پر گر جائیں گے۔ نیوٹن نے اس سوال کا جواب ایک لامحداد کائنات کی صورت میں دیا۔ فرض کریں کائنات لامحدود ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی نقطہ کائنات کامرکز کہلا سکتا ہے۔چونکہ اب کسی بھی جسم پر ہر طرف سے مساوی قوت لگے گی اس لیے وہ اپنی جگہ پر رہے گا۔

لیکن یہ ایک غلط دلیل ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم لامحدودیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک محدود خطہ فرض کریں۔ اب نیوٹن کی تھیوری کے مطابق اس خطے میں موجود اجسام ایک دوسرے کی طرف گریں گے۔ اب اگر ہم فرض کریں کہ اس خطے کے باہر مزید اجسام کو مساوی فاصلے پر رکھ دیاجاتا ہے تو ایسا کرنے سے پہلے والے اجسام کی حرکت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ اسی طرھ مرکز کی طرف گریں گے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ کائنات کا کوئی بھی ایسا لامحدود ساکن ماڈل بنانا ممکن نہیں ہے جس میں گریوٹی ہمیشہ کشش کی قوت ہو۔

نیوٹن کی تھیوری نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ایک لامحدود ساکن کائنات کا وجود ممکن نہیں ہے پھر بھی کسی نے اس طرف نہ سوچا کہ ہو سکتا ہے کائنات پھیل رہی ہو؟ بلکہ انہوں انہوں نے اس کے ساکن ہونے کے حق میں دلائل پیش کئے۔ایک دلیل یہ تھی کہ گریوٹی کم فاصلوں پر کشش جب کہ زیادہ فاصلوں پر دفع کی قوت کے طور پر عمل کرتی ہے۔ لہٰذا قریبی ستاروں کے درمیان کشش کی قوت دور کے ستاروں کے درمیان دفع کی قوت کو منسوخ کرتی ہے اور اس طرح سارا نظام توازن میں رہتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام غیر مستحکم ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک خطے میں ستارے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں تو کشش کی قوت دفع کی قوت پر حاوی آجائے گی اور ستارے ایک دوسری کی طرف گرنے لگیں گے وقص علیٰ ہذا۔

لامحدود ساکن کائنات پر ایک اور اعتراض 1823 میں جرمن فلسفی ہنرخ اولبرز نے اٹھایا۔ اس کے مطابق ایک لامحدود ساکن کائنات میں آپ جس طرف بھی دیکھیں گے آپ کی نطر کسی ستارے پر جا کر پڑے گی۔اور اس طرح سارا آسمان سورج کی طرح روشن دکھے گا۔ اولبرز نے اس کی جو ضد دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ دور دراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی درمیان میں آنے والے مادہ میں جذب ہو رہی ہو۔ لیکن اس طرح وہ مادہ روشنی جذب کر کے ستاروں کی طرح چمکنے لگے گا۔ اس مسلے سے راہِ فرار ایک ہی تھی کہ یہ فرض کیا جائے کہ ستارے ہمیشہ سے نہیں چمک رہے بلکہ انہوں نے کسی خاص وقت پر چمکنا شروع کیا ہو۔ ایسی صورت میں درمیانی مادے نے ابھی اتنی تپش جذب نہیں کی ہو گی کہ سورج کی طرح روشن ہو سکیں۔ لیکن اس سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس علت نے ابتدا میں ستاروں کو چمکنے پر مجبور کیا ہو گا؟

آغازِ کائنات کا سوال ہمیشہ سے ہی زیرِ بحث رہا ہے۔ بہت ساری کائنات کے نظریات اور مذہبی صحیفوں کے مطابق اس کا آغاز کسی خاص مقام پر ہوا۔ ایسے نظریے کی ایک وجہ علتِ اولٰی کا ہونا ہے۔ کائنات میں ہرحادثے کو آپ ماضی میں ہوئے کسی واقعے سے جوڑتے ہیں۔ایسی صورت میں کائنات کے وجود کی توضیح صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے کہ کسی خاص مقام پر اس کا آغاز ہوا ہو۔ ایک اور دلیل سینٹ اگسٹین نے اپنی کتا ب خدا کا شہر میں دی۔ اس نے یہ دلیل دی کہ تہذیب ارتقا پا رہی ہے اور ہم یاد رکھتے ہیں کہ کس نے کون سا کام کیا یا کس نے کون سی تیکنیک متعارف کرائی۔ اس لیے انسان اور کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں رہے۔لہٰذا کائنات کا کسی نقطے پر آغاز ہوا ہے۔ اس نے پیدائش کی کتاب (Book of Genesis) سے اس کی عمر 5000 سال بتائی۔

ارسطو اور بہت سارے دوسرے یونانی فلسفیوں نے تخلیق کے تصور کو پسند نہ کیا کیوں کہ اس میں سماوی مداخلت کا عنصر کافی زیادہ تھا۔یونانیوں نے پہلے ہی اوپر بیان کیے گئے ارتقا والی دلیل پر غور و خوض کیا تھا اور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمین پر اکثر سیلاب اور اس طرح کی آفتیں آتی رہی ہیں جن کی وجہ سے تہذیب کا خاتمہ ہو جاتا اور پھر یہ دوبارہ سے شروع ہوتی۔

اس سوال کو کہ آیا کائنات کا آغاز وقت میں کسی خاص نقطے پر ہوا یا یہ زمانے تک محدود ہے کو امینوئل کانٹ نے 1781 میں چھپنے والی اپنی کتاب تنقیدِ عقلِ محض (Critique of pure reasom)میں کافی تفصیل سے زیرِ بحث لایا ہے۔ اس کے مطابق یہ دلائل عقلِ محض کے تضادات ہیں۔ کیوں کہ اس کے خیال میں یہ دعوٰی، کہ کائنات کا آغاز ہوا تھا یا اس کا جواب دعوٰی کہ یہ ہمیشہ سے موجود تھی ، ایک جیسے وزنی دلائل ہیں۔ دعوٰی کے لیے اس کی دلیل تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہوتا تو کسی بھی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت ہوتا اور جواب دعوٰی کے لیے دلیل یہ تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہو تب بھی کسی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت موجود ہو گا۔اصل میں دعوٰی اور جواب دعوٰی ایک ہی دلیل ہے اور یہ اس غیر بیان کردہ مفروضے پر مبنی ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ آیا کائنات کا آغاز ہوا ہے یا نہیں، وقت ہمیشہ سے ہی موجود رہا ہے۔ بعد میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کائنات کے آغاز سے پہلے وقت لایعنی ہو جاتا ہے۔

1929 میں ایک سائنسدان ایڈون ہبل نے دیکھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ماضی میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب رہی ہوں گی اور ایک ایسا وقت بھی ہو گا جب سارا مادہ ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو گا۔اس وقت کائنات کی کثافت لامتناہی ہو گی۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ ہبل کے مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ اس نقطے پر کائنات لامتناہانہ چھوٹی اور کثیف ہو گی۔ اس مقام پر طبیعیات کے تمام قوانین بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح کسی بھی چیز کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت بھی صفر ہو جاتی ہے۔ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ہوں گے ا ن کامستقبل میں ہونے والے حوادث پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ ہی وقت کاآغاز ہے۔ایک غیر تغیر پذیر ساکن کائنات میں وقت کسی بیرونی قوت کا محتاج ہوتا ہے۔کوئی بھی یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدا نے ماضی میں کسی بھی وقت پر کائنات کو پیدا کیا ہو گا۔ دوسری جانب اگرکائنات پھیل رہی ہے تو طبیعی لحاظ سے وقت کا نقطہ آغاز ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے کائنات کو بگ بینگ پرپیدا کیا یا اس کے بعد کسی بھی نقطے پر اس طرح پیدا کیا کہ یوں لگے کہ ماضی میں کہیں بگ بینگ ہوا تھا۔ایک پھیلتی ہوئی کائنات خالق کا انکار نہیں کرتی لیکن اس چیز پر حد مقرر کر دیتی ہے کہ اُس نے اِس کو کب پیدا کیا ہو گا۔

کائنات کی ماہیت کو جاننے کے لیے ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے کہ سائنسی نظریہ کیا ہوتا ہے۔میں اس کا ایک سادہ ورژن لوں گا کہ یہ ایک ماڈل ہوتا ہے جس میں کچھ اصول ہوتے ہیں جو ماڈل میں موجود مقداروں کو ان مشاہدات سے جوڑتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ کسی بھی نظریے کے اچھا ہونے میں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے سے موجود تمام مشاہدات سے ہم آہنگ ہو اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرے۔ مثال کے طور پر ارسطو کی تھیوری کہ مادہ آگ، پانی ، ہوا اور مٹی سے مل کر بنا ہے اتنا سادہ ہے کہ اس کو تھیوری قرار دیا جا سکے لیکن یہ مزید کسی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس نیوٹن کا تجاذب کا نظریہ بھی اتنا ہی سادہ ہے اور تمام مشاہدات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ مزید نتائج کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔یعنی یہ چاند ،سورج اور دوسرے سیاروں کی حرکات کی پیش گوئی کرتا ہے۔

کوئی بھی طبیعی نظریہ عارضی ہوتا ہے، ایک لحاظ سے یہ ایک مفروضہ ہی ہوتا ہے۔آپ اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ اس چیز سے بالائے نظر کہ کتنی مرتبہ کسی تجربے کے نتائج صحیح آتے ہیں آپ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگلی بار بھی صحیح نتائج آئیں گے۔اس کے برعکس آپ کسی بھی نظریے کو صرف ایک ایسے مشاہدے سے رد کر سکتے ہیں جو پیش گوئی پر پورا نہ اترتا ہو۔ جیسا کہ سائنسی فلسفی کارل پاپر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تھیوری کو یہ چیز ممیز کرتی ہے کہ یہ ایسی پیش گوئیاں کرتی ہے جن کو عمومی طور پر غلط ثابت کیا جا سکتا ہو۔ جب بھی تھیوری کسی پیش گوئی پر پورا اترتی ہے تو ہمارا عقیدہ اس پر اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ عمومی طور پر جب بھی کوئی نئی تھیوری کسی پرانی کی جگہ لیتی ہے تو وہ اسی کی ہی تصحیح شدہ شکل ہوتی ہے، مثال کے طور پر نیوٹن کی تھیوری کی بنا پر عطارد کے مدار کی توضیح نہیں کی جا سکتی لیکن آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لیکن ابھی بھی نیوٹن کی تھیوری مستعمل ہے کیوں کہ اس کا آئن سٹائن کے نطریے سے فرق اتنا کم ہے کہ عام حالات میں ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور ویسے بھی نیوٹن کا نطریہ آئن سٹائن کے نظریے سے استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔

سائنسدانوں کا اصل مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ساری کائنات کو بیان کر سکے۔ زیادہ تر سائنسدان اس کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ پہلے میں وہ قوانین آتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کائنات وقت کے ساتھ کیسے تبدل پذیر ہوتی ہے۔ یعنی اگر ایک وقت پر ہمیں کائنات کی حالت کا پتا ہو تو یہ قوانین یہ بتائیں گے کہ کسی اور وقت پر اس کی حالت کیا ہو گی۔ دوسرے نمبر پر کائنات کی ابتدائی حالت (Initial state) کا سوال آتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سائنس کا فیلڈ نہیں بلکہ فلسفے یا مذہب کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ خدا ہر شئے پر قادر ہے تو اس کی مرضی ہے کہ اس نے کائنات کو موجودہ حالت میں شروع کیا۔ لیکن یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت سارے چوائس تھے تو اس نے یہی حالت کیوں چنی۔چنانچہ یہ سوچنا کافی عقلی ہے کہ ایسے قوانین موجود ہوں جو کائنات کی ابتدائی حالت کو بھی بیان کریں۔

کائنات کا کوئی ایک یکساں نظریہ بنانا ایک نہایت ہی مشکل کام ثابت ہوا ہے۔ ہم اب یوں کرتے ہیں کہ اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کا نظریہ بنا لیتے ہیں جو کسی محدود حد میں مشاہدات کی وضاحت کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ راستہ غلط ہو لیکن یہی وہ طریقہ ہے جس کو استعمال کر کے ہم نے ماضی میں ترقی کی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن کی تجاذب کی تھیوری یہ کہتی ہے کی کشش کی قوت دو اجسام کی کمیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اب ہمیں اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اجسام کس شئے کے بنے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

سائنسدان کائنات کو دو نظریات کی مدد سے بیان کرتے ہیں۔ آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات۔ نظریہ اضافیت کائنات کی ساخت کو بڑے پیمانے پر بیان کرتا ہے جو کہ کچھ میل سے لے کر اربوں میل تک ہو سکتا ہے جب کہ کوانٹم میکانیات کائنات کو بہت چھوٹے پیمانے پر بیان کرتی ہے جو کہ ایک انچ کے بھی ایک اربویں حصے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے ساتھ یکساں نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ ان دونوں کو ملا کر ایک ایسا نظریہ بنایا جائے جو ساری کائنات کو بیان کرتا ہو۔ سائنسدان اسے کوانٹم تجاذبی نظریہ کہتے ہیں۔ہمارے پاس ابھی ایسا نطریہ نہیں ہے لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نظریہ کس طرح کی پیش گوئیاں کرے گا۔