کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے

نصیر احمد ناصر: کتابوں میں چھپے ہوتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
الاؤ

نصیر احمد ناصر:
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے
سفید بادل

نصیر احمد ناصر: سفید بادل دلوں کے اندر اتر رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
رگوں میں بہتے پلازما میں اچھل رہے ہیں
خود کُش

نصیر احمد ناصر:
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی
جن کے لیے تُو نے
خود کو مٹانے کی ٹھانی
برزخ دھندلے خوابوں کا

نصیر احمد ناصر: اک عمر کا سارا قصہ ہے
دکھ درد خوشی کا حصہ ہے
دکھ درد خوشی کا حصہ ہے
مجھے اک خواب لکھنا ہے

نصیر احمد ناصر: مجھے اک نام لکھنا ہے
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر
پرانی یادگاروں میں
کسی بے نام کتبے پر
مرگ پیچ

نصیر احمد ناصر: مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے
دوڑتا پھرتا ہوں
سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے
دوڑتا پھرتا ہوں
سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے
روح کے پاؤں نہیں ہوتے

نصیر احمد ناصر: روح بادلوں کی طرح بے آواز چلتی ہے
روح کے پاؤ ں نہیں ہوتے
روح کے پاؤ ں نہیں ہوتے
ایک دن بارش کے ساتھ

نصیر احمد ناصر: بارش اے بارش!
کتنی اچّھی ہے تُو
مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا
کتنی اچّھی ہے تُو
مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا
جنگ جُو کرد عورتوں کا گیت

نصیر احمد ناصر: ہم صدائے کوہ ہیں
دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے
ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے
دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے
ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے
میں تمہارے لیے نظم نہیں لکھ سکتا

نصیر احمد ناصر:اگر میں تمہارا لفظ بن سکتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا
وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

نصیر احمد ناصر: ایک عام آدمی کی طرح
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں
خواب اور نیند کے درمیان صدائے مرگ

نصیر احمد ناصر: ہوا سرسرائی
کہیں دُور۔۔۔۔۔
بارُود اُڑنے کی آواز آئی
کہیں دُور۔۔۔۔۔
بارُود اُڑنے کی آواز آئی
ساگردیوتا

نصیر احمد ناصر: میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں
سٹی ہائٹس

نصیر احمد ناصر:زمیں ماں ہے، زمیں کا خواب تھا لیکن
زمیں زادوں کی آنکھوں میں
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے
زمیں زادوں کی آنکھوں میں
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے