Categories
شاعری

روہنگیا جاگتا رہ

شدودھن کا بیٹا ابھی سو رہا ہے
کسی پیڑ کی خامشی اوڑھ کر
بس وہی جانتا ہے کہ مٹی کو جب
آ گ تسخیر کر لے
تو نَم خوردگاں، آئنوں کے میاں
گریہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں
کم بولتے ہیں
زرا پَو پھٹے توزمیں پر بھڑکتی ہوئی آگ اوپر اُٹھے
اور اُچک لے سیاہی سے لتھڑے ہوئے سبز شانے
وہ شانے جو نروان کا بار سہنے کے قابل نہیں تھے
بہرکیف پہلے پہل تو بہت زرد تھے
شدودھن کا بیٹاابھی سو رہا ہے
روہنگیا جاگتا رہ
ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی
لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے
اور سرخروئی میں سرسبز ہونا ہے

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!
معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ آج کل تمہاری جانب سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی، پہلے یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ تحا کہ کبھی کوئی اچھی خبر سنائی نہیں دیتی تھی۔ میری حالت اس مریض جیسی ہے جو کسی مہلک باور لاعلاج یماری میں مبتلا ہو اور اس کا کوئی قریبی عزیز، دوست یا شناسا بھی اسی بیماری کا شکار ہوجائے تو نہ وہ کچھ کرسکتا ہے، نہ تسلی دے سکتا ہے اورنہ دعا کرسکتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ کل پڑھا کہ تمہاری طرف کسی محمد اخلاق کو گھر سے گھسیٹ کر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ مجھے یوں لگا کہ تمہاری طرف بھی جوزف کالونی آباد ہو گئی ہے۔ یہ بھی سنا کہ کشمیر میں سوسال پرانے قانون کے تحت اب گائے ذبح کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سے بھی یہی خبریں آئی ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے پر سزا ہو گی۔ یقین جانو وہ دن یاد آ گئے جب مال روڈ سے شراب خانے اور پی آئی اے کی پروازوں سے شراب ہٹا لی گئی۔ ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔ مجھے لگتا ہے مودی صاحب ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں جیسا ہماری تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے۔ وہ اپنے آباء کی مذہبی رواداری، وضع داری اور برداشت کی تعلیمات بھلا دینا چاہتے ہیں۔
ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔
یہ جان کر پہلے تو ہنسی آئی اور پھر رونا آیا کہ تمہارے پردھان منتری جی نے اعضاء کی پیوندکاری کو دیدوں سے ثابت کیا ہے اور تمہاری طرف کے وگیانک اب طیارے کی ایجاد سے لے کر کائنات کے اسرارورموز تک سبھی کچھ اپنی مذہبی کتابوں سے برآمد کررہے ہیں۔ مجھے مودی صاحب کی باتوں میں ضیاءالحق کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ہمارے ہاں جنات سے بجلی پیدا کرنے اور نمازوں کا ثواب ماپنے کے کلیے بنانے والوں نے اپنی دکانیں تمہارے دیس میں بھی کھول لی ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اب چن چن کر تمہاری کتابوں سے بھی ناپسندیدہ تاریخ ویسے ہی نکال دی جائے گی جیسے ہماری کتابوں میں سے وہ سب حقائق نتھار لیے گئے تھے جو کسی بھی برح یہاں کی مذہبی اکثریت کو ناگوار گزر سکتے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری طرف بھی مسلمان بچوں کو اسی طرح وید پڑھائے جائیں گے جیسے ہمارے ہاں غیر مسلم بچوں کو اسلام سکھایا جاتا ہے۔
یقین جانو مجھے تو ڈر آنے لگا ہے کہ کہیں تمہاری طرف کے حافظ سعید اور لشکر طیبہ تمہارے ہی گلے کاٹنے پر نہ اتر آئیں۔ یہ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے کہ تمہاری طرف بھی یہ بحث شروع ہوجائے کہ جمہوریت ہونی چاہیئے یا مذہبی حکومت۔ کل کلاں کو تمہار ے ہاں بھی عورت کو مرد کی دسترس میں دینے کی مذہبی تبلیغ شروع ہوجائے۔ تمہارے ہاں بھی تنقید اور اختلاف رائے ہمارے ہاں کی طرح جرم نہ قرار دے دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی ہمارے ہاں کی اقلیتوں کی طرح غیر محفوظ ہو جائیں ۔ ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔
سنا ہے مودی صاحب نے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کردیا ہے اور اب وہ ہماری غلطیاں دہرانے کے موڈ میں ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران دی گئی چار تجاویز ماننا بھی گوارا نہیں کیا۔ہمارے وزیراعظم جتنے بھی برے سہی مگر ان کے آنے سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اجمیر شریف کی زیارت کو جاسکوں گا ۔ بنارسی ساڑھی منگانا آسان ہو جائے گا۔ کرکٹ بھی کھیلا کریں گے اور کبڈی بھی ہو گی، تم سری پائے کھانے یہاں آسکو گے اور میں حیدرآبادی دال کھانےوہاں جاسکوں گا۔ تمہیں انارکلی اور مجھے چاندنی چوک آوازیں دیتا ہے۔ مگر تمہاری جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی، یوں سمجھو کہ ڈر آنے لگا ہے کہ تم بھی وہی غلطیاں دہرانے والے ہو جو ہم نے کی تھیں اور پھر تم بھی اتنا ہی پچھتاو گے جتنا ہم پچھتا رہے ہیں۔
سنو بھائی ویسے تو میں تمہیں نصیحت کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا مگرپھر بھی جان لو کہ ایک بار مذہب کا اونٹ ریاست کے خیمے میں گھس جائے تو پھر کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک بار یہ انتہا پسند کھل کر کھیلنے لگے تو پھر کوئی بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا، ایک مرتبہ یہ بنیاد پرست دندنانے لگے تو پھر کسی کو بولنے نہیں دیں گے، مذہب کے نام پر اکٹھے ہونے والے ہمیشہ خون بہاتے ہیں، مجھ سے سیکھو مجھ سے عبرت پکڑو۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس ناسور کو پھیلنے سے روک لو ورنہ دیر ہو گئی تو کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔
فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ
Categories
نقطۂ نظر

روہنگیا بحران کے سیاسی و مذہبی محرکات

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن(UNHCR) کی رپورٹ کے مطابق برما کی ریاست راکھائن میں 800,000روہنگیا برادری رہتی ہے ۔روہنگیا مسلم برادری کئی برسوں سے ریاستی اور معاشرتی جبر، تشدد اور مذہبی منافرت کا شکار ہے ۔روہنگیا تحریک پر گذشتہ 10برسوں سے گہری نظر رکھنے والے کرس لیواکے مطابق اس خطے میں بدھ مت کے پیروکار شرپسندوں کے فرقہ وارانہ حملوں اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کے باعث گذشتہ 3برسوں میں 100,000روہنگیا مسلمان نزدیکی ہمسایہ ریاستوں کی طرف نقل مکانی یافرار اختیار کرچکے ہیں ۔حالیہ ہفتوں کے دوران 3500 سے زائد تارکین وطن تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں پر وارد ہوئے ہیں جب کہ سینکڑوں ، ہزاروں تارکین وطن اب بھی کشتیوں پر سوار کھلے سمندر میں بے یارومددگار پھنسے ہوئے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔2012ء سے روہنگیا مسلم کمیونٹی اور راکھائن بودھوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں 100,000روہنگیا مسلمان بے گھر ہوکرجبراً خیموں میں اپنی زندگیا ں گذارنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔
جکارتہ میں تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار سٹیو ہملٹن کے مطابق انڈونیشیاکی بحری سرحد پر پہنچنے والے متاثرین کو شمالی آچے کے ایک سپورٹس اسٹیڈیم میں رکھا گیا ہے ۔2ماہ سے زائد عرصہ سمندر میں گزارنے کی وجہ سے اکثریت کی تعد اد شدید کمزور اور بیمار ہو چکی ہے ۔100خواتین خستہ حال بچے گود میں اٹھائے بے یارومددگار سمندر میں مدد کے انتظار میں بیٹھی ہیں ۔سٹیو ہملٹن کے مطابق 573روہنگیا مسلمان رجسٹرڈ کیے گئے جن میں 98عورتیں اور 51بچے ہیں جبکہ کئی مسافر ساحل کے قریب کشتی پہنچنے کے بعد وہاں سے فرار ہو کر نزدیکی گنجان آبادی میں روپوش ہوگئے اور کئی قریبی مسجدوں میں پناہ گزیں ہوگئے ہیں ۔کرس لیواکے مطابق اس وقت آبنائے ملاکا میں 7سے 8ہزار روہنگیا ، بنگلہ دیشی کمیونٹی امتیازی سلوک کی وجہ سے سمندر کی سرکش موجوں سے نبردآزما ہیں ۔تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی حکومتی مشینری کے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے یہ تارکین وطن کسی بھی نزدیکی وطن کے ساحل پر اترنے سے قاصر ہیں ۔ فروری 2009ء میں تھائی فوجیوں نے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے والے تارکین وطن سوار 5کشتیوں میں سے 1کشتی کو ساحل سمندر کے قریب پہنچنے کے بعد باقی 4 کشتیوں کو زبردستی سمندر کی طرف دھکیل دیا تھا جن میں عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں کی اکثریت سمندر میں ڈوب کر بے رحم لہروں کی نذر ہو گئی تھی ۔ماضی میں بھی تھائی لینڈ کے جنگلوں میں روہنگیا برادری پناہ گزینو ں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے عوض 2ڈالر تاوان جبراً لیا جاتا تھا۔تھائی لینڈ انسانی سمگلروں کی جنت ہے ۔اسی طرح خلیج بنگال میں کئی روہنگیا مسلمان امن و سکون اور دیگر ضروریات زندگی کی آس میں سفر کرتے ہیں ۔
روہنگیا تحریک پر گذشتہ 10برسوں سے گہری نظر رکھنے والے کرس لیواکے مطابق اس خطے میں بدھ مت کے پیروکار شرپسندوں کے فرقہ وارانہ حملوں اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کے باعث گذشتہ 3برسوں میں 100,000روہنگیا مسلمان نزدیکی ہمسایہ ریاستوں کی طرف نقل مکانی یافرار اختیار کرچکے ہیں
دوسری طرف میانمار کے حکام کے مطابق روہنگیا بحران کی ذمہ دار ی انسانی سمگلنگ کے ایجنٹو ں اور اسمگلر وں پرہے جنہوں نے روہنگیا مسلمانوں کو روشن مستقبل کے سنہرے خواب دکھا کر گہرے سمندروں میں دھکیل دیا ہے۔برما میں سیاسی محاذ پر بھی روہنگیا بحران کوئی خاص اثر انداز نہیں ہو سکا کیونکہ جمہوریت و آمریت زدہ سیاسی جماعتیں مسلم مخالف جذبات کو استعمال کر کے بدھ مت کے تحفظ اور ترویج کے نام پر انتخابی کامیابیاں سمیٹنا چاہتی ہیں ۔میانمار حکام کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا بحران کی وجہ مذہبی تفریق یا مسلمانوں سے امتیازی سلوک نہیں ہے بلکہ اس ساری صورتحال کے ذمہ دار وہ انسانی سمگلرز ہیں جو عوام کو بیرون ملک سہانے خوابوں کا لالچ دے کر سمندر میں دھکیل رہے ہیں ۔
اس ساری صورتحال پر بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا ہے کہ لندن اور چیک سلواکیہ میں روہنگیا بحران پر نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی سے درخواست کی تھی کہ اس انسانی المیے کا فوری کوئی حل تلاش کیا جائے ۔جس پر انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والی برما کی رہنما نے کہا ہے کہ یہ اتنا آسان اور سادہ مسلہ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت میں بے حد پیچیدہ اور مشکل معاملہ ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق روہنگیا کمیونٹی پر ظلم وستم کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے ۔1978ء سے برمامیں فوجی حکومت کی پر تشدد کاروائیوں اور روح فرسا مظالم کی وجہ سے روہنگیا مسلمان کی کثیر تعداد فرار ہوکر بنگلہ دیش کی سرحدی علاقوں کی طرف ہجرت کر چکی ہے ۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے حق ملکیت سے بے دخلی ، شرح پیدائش پر پابندیاں ، جبری مشقت ، امتیازی سلوک اور مذہبی منافرت کی ایسی فضا بن چکی ہے جس کی وجہ سے روہنگیا برادری وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ ماضی میں برما کے قانون کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو 2سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہ تھی ۔ ہر روہنگیا مسلمان کو ہفتہ میں ایک مرتبہ فوجی تربیت حاصل کرنا لازم تھا۔ تعمیراتی منصوبوں کے دوران روہنگیا برادری سے بیگار کے طور پر جبری مشقت بھی لی جاتی تھی ۔حتیٰ کہ روہنگیا برادری کی قابل کاشت زمینوں پر بھی سرکا رکے حکم سے بدھ مت کےپیراکاروں کے لیے رہائشی عمارات تعمیر کی گئیں ۔کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق برما میں مسلمانوں کی آبادی میں تیز ی سے ہوتے ہوئے اضافے کے پیش نظر بودھ شدت پسند وں نے مسلمانوں کی نسل کشی کے ذریعے خطے میں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ میانمار میں رائج ایک قانون کے تحت ہر بودھ عورت کودوسرے مذہب کے مرد سے شادی کرنے کے لیے سرکار سے اجازت لینا پڑتی ہے بصورت دیگر مرد کو بھی بدھ مت مذہب اختیار کرنا ہوگا۔
برما میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے حق ملکیت سے بے دخلی ، شرح پیدائش پر پابندیاں ، جبری مشقت ، امتیازی سلوک اور مذہبی منافرت کی ایسی فضا بن چکی ہے جس کی وجہ سے روہنگیا برادری وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہے
سری لنکا میں بودھو بالا سنہا (BBS)نامی تنظیم بھی مسلم اقلیتی آباد ی کی شرح پیدائش میں اضافے کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے میں پیش پیش ہے ۔بودھو بالا سنہا (BBS)کی تنظیم کے ایک اعلیٰ رہنما گالا گوڈا کے مطابق “یہ ایک سنہالا ریاست ہے ۔ہم اپنی سنہالا بدھی ریاست رکھتے ہیں ۔یہ سعودی عرب نہیں ہے ۔آپ کو اس سنہالا تہذیب کو اپنانا ہوگااور اس کے لیے انتہائی مہذب اور قابل قبول رویہ اپناناہوگا”۔بودھو بالا سنہا تنظیم خوراک کے ڈبوں ، پیکٹوں پر لکھے گئے لفظ “حلال ” کے خلاف بھی اسلام مخالف تحریک جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنی تنظیم کے ارکان کو مسلم ملکیتی دکانوں اور مسلم مساجد پر پر تشدد حملے کرنے پر اکساتی ہے ۔بودھو بالا سنہا (BBS)تنظیم میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف نسلی و مذہبی امتیاز کو جائز قرار دیتی ہے اور مسلم کش متشدد کاروائیوں کو “دفاع بدھ مت “قرار دیتی ہے ۔انڈونیشیا ایک طرف روہنگیا برادری کے لیے دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف انڈونیشیا میں شدت پسند ابوبکر سے متاثر ایک دہشت گرد تنظیم کے ارکان کو میانمار ایمبسی پائپ بم کے ذریعے اڑانے کی سازش تیار کرنے پر بھی زیر حراست لیا گیا تھا۔جکارتہ میں تجزیہ نگار سڈنی جونز کے مطابق روہنگیا اتحاد تنظیم آر ایس او (Rohingya Solidarity.Org)مستقبل میں بدھ انتہاپسندوں کے خلاف ایک مسلح تنظیم کو روپ دھار سکتی ہے ۔
Categories
نقطۂ نظر

سائنس،مذہب اور ہمارا رویہ

ایک سوال بہت سے ذی شعور لوگ خود سے اور اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ آخر مسلمان علمی میدان میں اتنے پسماندہ کیوں ہیں، آخر تمام علمی وسائنسی حقائق مغرب کی طرف سے ہی کیوں آتے ہیں،کیوں ہم صدیوں سے جہالت کے اندھیروں میں ڈ وبے ہوئے ہیں، ہمارے ہاں علمی ترقی کے بجائے مردہ تقلید اور اپنے اپنے مکتبہ فکر کی اسیری کیوں ہے۔ تقلید اور قدامت پسندی صرف دنیاوی علوم تک ہی محدود نہیں بلکہ مذہبی و روحانی علوم کے معاملے میں بھی مسلمانوں کا دامن خالی ہے۔ حسین بن منصور حلاج ہماری روحانی تاریخ کا اہم ترین نام ہے، ان کی زندگی اور تصانیف پر واحد تنقیدی اور علمی کام فرانس میں ہوا ہےاور ایک ضخیم کتاب کی شکل میں چھپ چکا ہے اس کے برعکس ہمارے ہاں ان کی زندگی پر ” دشت سوس” جیسے جذباتی ناول لکھے گئے ہیں۔ مسلمانوں کا اپنی مذہبی کتاب قرآن کی جانب رویہ بھی غیر علمی ہے، مسلم دنیا میں اسلام کے معاخذپر کام تابعین کے بعد سے رک چکا ہےلیکن امریکہ کی میک گل یونیورسٹی کے شعبہ دینیات میں ایسے غیر مسلم سکالر موجود ہیں جو پچھلے تیس سال سے قرآن کی زبان پر علمی کام کررہے ہیں اور ان کی تحقیق گاہے گاہے شائع ہوتی رہتی ہے۔اسی طرح فقہ، اور حدیث کے علم کو بھی محض روایات کی ذہن نشینی تک محدود کر دیا گیا ہے۔
ہمارے ہاں جو شخص بھی سائنسی مضامین پڑھتا یا پڑھاتا ہے اس کی دلی کوشش ہوتی ہے کہ یہ ثابت کرے کہ ساری سائنس قرآن سے ہی نکلی ہے اور مغربی سائنس دان صرف قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق کی تصدیق کررہے ہیں۔
مسلمانوں کی علمی پسماندگی کی تازہ ترین مثال معروف سعودی عالم دین شیخ الخیباری کا زمین کو ساکن قرار دینا ہے،یہ عالم دین اکیلے نہیں ہیں ان سے پہلےسعودیہ کے معروف مفتی اعظم شیخ ابن باز ایک مکمل کتاب اس موضوع پر لکھ چکے ہیں جس میں انھوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے اور سورج زمین کے گرد گھومتا ہے( 1)۔اسی طرح ترکی کے مشہور عالم دین ہارون یحیٰ نے حال ہی میں نظریہ ارتقاء کے رد میں ایک پوری کتاب لکھی ہے(2)۔ ہمارے ہاں جو شخص بھی سائنسی مضامین پڑھتا یا پڑھاتا ہے اس کی دلی کوشش ہوتی ہے کہ یہ ثابت کرے کہ ساری سائنس قرآن سے ہی نکلی ہے اور مغربی سائنس دان صرف قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق کی تصدیق کررہے ہیں۔ یہ کوششیں اگرچہ بہت خلوص اور مذہبی جذبے سے کی جاتی ہیں لیکن اس کوشش کے پیچھے ایک طرح کا علمی کمتری اور محرومی کا احساس موجود ہے جسے چھپانے کے لیے قرآن کا سہارا لیا جاتا ہے اور ایک سطحی اور مصنوعی احساس برتری پیدا کیا جاتا ہے۔ ایسی کوششوں سے نہ تو اسلام کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی سائنس کو، کیونکہ یہ کوششیں سائنسی رویے اور تحقیق کی نفی کرتی ہیں، اور ہمارے ایسے ہی غیر عقلی رویے ہمیں سائنسی علوم میں پسماندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مذہبی کتابوں سے سائنس کو ثابت کرنے کےعمل میں ہم اکیلے نہیں ہیں ، مسلمانوں سے قبل ہندو، عیسائی، اور یہودی بھی ایسی کوششیں کرچکے ہیں اور کررہے ہیں۔پچھلے دنوں بھارتی وزیراعظم نے ایک تقریر میں کہا کہ انڈیا میں ہزاروں سال پہلے پلاسٹک سرجری کی ٹیکنالوجی موجود تھی جس کی ایک مثال ہندو بھگوان گنیش کو انسان کے بجائے ہاتھی کا سر لگایا جانا ہے۔ انڈین سائنس کانفرنس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ انڈیا میں جیٹ ٹیکنالوجی ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھی اور اسی جیٹ پر بیٹھ کر رام نے لنکا پر حملہ کیا تھا، کانفرنس کے دوران ان قدیمی علوم سے استفادہ کرنےپربھی زور دیا گیا۔ اس سے پہلے عیسائی علماء بھی بائبل سے سائنسی حقائق ثابت کرتے رہے ہیں۔ ایک زمانے تک چرچ کے دباو پر زمین کی عمر سوا چار ہزار سال قرار دی جاتی رہی ہے اور زمین کی تخلیق پہلے اتوار کو صبح نو بجے ثابت کی جاتی رہی ہے۔ چرچ بائبل کی رو سے سورج کا زمین کے گرد گھومنا اور زمین کامرکزِ کائنات ہونا ثابت کرتارہاہے۔ مسلم علماء بھی ایک عرصے تک ایسے ہی نظریات کی ترویج کرتے رہے ہیں، حق تو یہ ہے کہ عقل دشمنی میں تمام مذہبی علماء ایک جتنے شدت پسند ہیں۔
ہود بھائی لکھتے ہیں کہ کانفرنس میں ایک صاحب نے یہ تجویز کیا کہ توانائی کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے “جنوں” سے بجلی پیدا کرنی چاہیے کیونکہ وہ آگ سے بنے ہوتے ہیں
پرویز ہود بھائی کی کتاب “مسلمان اور سائنس”(3) میں پاکستان میں ہونے والی ایک یادگار کانفرنس ” اسلامی سائنس کانفرنس” کا ذکر کرتے ہیں ۔ 1983 میں ہونے والی کانفرنس میں قرآن پر تحقیق کے ذریعےکائنات کی رفتار معلوم کی گئی جو روشنی کی رفتار کے برابر نکلی ۔ہود بھائی لکھتے ہیں کہ کانفرنس میں ایک صاحب نے یہ تجویز کیا کہ توانائی کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے “جنوں” سے بجلی پیدا کرنی چاہیے کیونکہ وہ آگ سے بنے ہوتے ہیں، اسی طرح باجماعت نماز کے ثواب کا تخمینہ لگانے کا طریقہ بھی بیان کیا گیا ۔ مارکیٹ میں متفرق کتابیں موجود ہیں جن میں ہندو ازم اور سائنس، اسلام اور سائنس، بائبل اور سائنس وغیرہ کو موضوع بنایا گیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کتابیں سائنسدانوں کے بجائے مذہبی لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں اور ٹھوس تحقیق کے بغیر لکھی گئی ہیں۔ سائنس کے بنیادی اصولوں سے عدم شناسائی کے باعث ان کتابوں کو سائنسی نہیں مذہبی سائنسی کتابیں کہنا چاہئے جن کی کوئی علمی وقعت نہیں ہے۔ زیادہ تشویش ناک امر پاکستان میں پڑھائے جانے والے نصاب میں سائنس کی تدریس کے لیے مذہب کا استعمال ہے۔
1
مذہب اور سائنس کے تعلق اور موازنے سے قبل یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،یہ صرف حقائق کی کھوج اور آگہی کا علم ہے۔سائنس صرف یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی عمل ، یاواقعہ کیسے ہوا۔ اس کا کام کسی بھی نظریے یا عقیدے کی بنیاد پر تحقیق نہیں اور نہ ہی یہ کسی شے کے ہونے کا مقصد واضح کرتی ہے۔ ایسے وجودی سوالوں کا جواب سائنس کے دائرہ کار میں نہیں آتا یہ فلسفہ اور مذہب کا میدان ہے، مثال کے طور سائنس یہ بتاسکتی ہے کہ کائنات کیسے بنی، انسان کیسے وجود میں آیا ،لیکن اس کائنات کا مقصد کیا ہے اور انسان کیوں پیدا کیا گیا، یا اخلاقیات پر کیوں عمل کیا جائے وغیرہ سائنس کا موضوع نہیں ہیں۔ ان سوالات کے جواب کے لیے ہمیں مذہب اور فلسفہ کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ سائنس کو مذہب کی آنکھ سے پڑھنے کی کوشش کا مقصد حقائق جاننا نہیں بلکہ مذہبی عقائد کی تصدیق کے لیے سائنسی تشریح ڈھونڈنا ہے۔ مذہب کو سائنس کی مدد سے ثابت کرنے سے دلی تسلی تو مل جاتی ہے لیکن علمی ترقی نہیں ہوتی۔
سائنس اور مذہب کے تعلق پر کتب لکھنے والے مذہبی علماء مذہب کو سائنس پر مقدم اور برتر خیال کرتے ہیں حالانکہ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی مذہبی کتاب نے کوئی سائنسی پیش گوئی کی ہو اور سائنس نے اس پر عمل کرکے نئی تحقیق کی ہو، اس کے برعکس سائنسدانوں کی تحقیق مذہبی لوگ اپنے عقائد کے ثبوت کے لیے پیش کرتے آئے ہیں۔ اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ انیسویں صدی تک مسلمان یہ مانتے رہے کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے تاوقتیکہ جدید فلکیات نے ٹالمی کے تصور کائنات کو رد کردیا(یہ تحقیق ٹالمی نے یونان میں کی تھی اور اس تحقیق کو ساری دنیا دو ہ ہزار سال تک مانتی رہی)۔ ماضی کے علماء کے برعکس آج ہارون یحی جیسے لوگ سورہ یٰس کی آیات کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہر چیز اپنے مدار میں گھوم رہی ہے، یعنی 1300 سال تک مسلمانوں نے اپنا قرآن ہی غور سے نہیں پڑھا ۔
مذہبی کتابوں کے ساتھ معاملہ یہ بھی ہے کہ ان کی کسی ایک تشریح پر کبھی اتفاق نہیں ہوسکا، اب کس لفظ کا کیا مطلب لیا جائے اور مطلب کو کس پیرائے میں سمجھا جائے یہ ایک نہایت مشکل کام ہے ،اس لیے اکثر لوگ سائنسی حقائق کو ثابت کرنے کے لیے متعددمفاہیم میں سے اپنی مرضی کا مفہوم استعمال کرلیتے ہیں جس سے ان کا مقصد پورا ہوجائے۔
اس عمل میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ سائنسی تحقیقات تو روز ہوتی ہیں اور نت نئے نظریات سامنے آتے رہتے ہیں جو قدیم سائنسی تصورات کا ابطال کرتے ہیں۔ آج کسی سائنسی نظریے کو قرآن سے ثابت کرنے والے بعدازاں اس نظریہ کے غلط ثابت ہونے پر خود کو کسی جوابدہی کا مستوجب خیال نہیں کرتے۔ مذہبی کتابوں کے ساتھ معاملہ یہ بھی ہے کہ ان کی کسی ایک تشریح پر کبھی اتفاق نہیں ہوسکا، اب کس لفظ کا کیا مطلب لیا جائے اور مطلب کو کس پیرائے میں سمجھا جائے یہ ایک نہایت مشکل کام ہے ،اس لیے اکثر لوگ سائنسی حقائق کو ثابت کرنے کے لیے متعددمفاہیم میں سے اپنی مرضی کا مفہوم استعمال کرلیتے ہیں جس سے ان کا مقصد پورا ہوجائے۔
ایک نہایت اہم بات جو مذہبی کتب خصوصا قرآن کے بارے میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہ اپنے اصل مفہوم اور مقصد میں سائنس کی کتاب نہیں ہے اور اسی لیے اکثر شارحین نے اس کا اخلاقی اور مابعد الطبیعاتی مفہوم ہی لیا ہے۔ جاوید احمد غامدی کے خیال میں بھی قرآن سائنس سکھانے کے لیے نازل نہیں کیا گیا تھا بلکہ انسانی کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کے لیے اتارا گیا تھا(4) ۔تاہم بہت سے مذہبی علماء قران سے سائنس اخذ کرنے میں کوشاں ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں عباسی دور کے مسلم سائنسدانوں کی کامیابی بھی قرآن ہی کی بدولت ہے تاہم عظیم مسلم سائنسدانوں کے حالات زندگی ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کرتے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سائنس کبھی بھی مسلمانوں کی علمی سرگرمیوں کا محور نہیں رہی ۔ مسلمانوں کی علمی سرگرمیاں فلسفہ اور مابعد الطبیعات تک محدود تھیں اور جو چند نام ہم فخر سے پیش کرتے ہیں ان کو کبھی بھی عوام میں مقبولیت نہیں ملی ۔زیادہ تر مسلم سائنسدانوں کا تعلق معتزلہ سے تھا اور ان میں سے اکثر کو زندگی میں یا بعد میں کافر قرار دیا گیا،کئی کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی کتابیں جلائی گئیں۔ امام غزالی کی تحافتہ الفلاسفہ ان معروف سائنسدانوں اور فلسفیوں کی سوچ اور تعلیمات کو کفر قرار دیتی ہے کیونکہ ان سائنسدانوں کی تحقیقات قرآن سے نہیں تھیں بلکہ یونانی فلسفہ اور عقلی استدلال کی مرہون منت تھیں۔ ان مسلم سائنسدانوں میں سے بعض شاہی دربار سے بھی وابستہ رہے تاہم عام مسلمان ان تحقیقات سے لاتعلق ہی رہے۔ ابن رشد کے ذریعے اہل مغرب یونانی فلسفہ پر مسلم تحقیق سے واقف ہوئے اور انہوں نے مسلم سائنس دانوں کے کام سے فائدہ اٹھایا لیکن ہم نے اپنی غلطیوں کا ادراک نہیں کیا اور ایک جھوٹے احساس تفاخر میں مبتلا ہوگئے کہ سارا علم ہمارے ہی پاس تھا اور ہے۔
تاریخ اور باقی قوموں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ مذہب اور سائنس کو اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے اپنے اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوگا اور ان دونوں کے بیچ کوئی پل قائم کرنے کی کوشش سود مند نہیں کیونکہ یہ پل نہ تو مذہب کی کوئی خدمت کرتا ہے اور نہ ہی سائنس کی ۔مذہب کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے اور سائنس کو مذہبی عقائد کی مدد سے پرکھنے سے ہمارے اندر سائنسی رویہ کبھی پنپ نہیں پائے گا اور جہالت کا یہ دور طویل ہوتا جائے گا۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

Refrence:
1. “Al-adilla al-naqliyya wa al-ḥissiyya ʿala imkān al-ṣuʾūd ila al-kawākib wa ʾala jarayān al-shams wa al-qamar wa sukūn al-arḍ (“Treatise on the textual and rational proofs of the rotation of the sun and the motionlessness of the earth and the possibility of ascension to other planets”) by Ibn-e –Baaz
2. “The Evolution Deciet” By Haroon Yahya
3. Musalman aur Science By Prof Pervez Amirali Hoodbhoy
4. Javed Ahmed Ghamdi

Books that were helpful in writing this article:
1. Closing of muslim mind by Robert R Reilly
2. Musalman aur Science By Prof Pervez Amir Ali Hoodbhoy

Categories
فکشن

بھاگ مسافر میرے وطن سے

(گاوں کے ایک تھانے کا منظر، تھانیدار صاحب کے کمرے کے باہر چند کانسٹیبل اونگھ رہے ہیں، ایک جانب سپاہیوں کی میلی وردیاں دیوار پر ٹنگی ہیں۔ تحانیدار صاحب بنیان اور خاکی پتلون پہنے چارپائی پر مالش کرا رہے ہیں۔ عبداللہ دہائی دیتا تھانے کی حدود میں داخل ہوتا ہے)
عبداللہ: فریاد کرتا ہوں تھانیدار صاحب، میں لٹ گیا! برباد ہوگیا میں!
تھانیدار : او بابے کیوں رونا دھونا مچا رکھا ہے؟
عبداللہ: (روتے ہوۓ) صاحب دو روز پہلے فصل کو پانی دینے پر چھوٹے زمیندار کے آدمیوں سے جھگڑا ہوا تھا۔ کل وہ لوگ میرے بیٹے احمد کو اٹھا کے لے گۓ تھے۔
تھانیدار: ہاں تو آیا وہ واپس؟
عبداللہ: نہیں سرکار آج نہر کے کنارے اسکی کٹی پھٹی لاش ملی ہے ۔ ظالموں نے مار دیا میرے جوان جہان بیٹے کو ! صاحب میں پرچہ کٹوانے آیا ہوں۔
تھانیدار: پر بابا پرچہ کس ک خلاف کاٹوں؟
عبداللہ : صاحب، چھوٹے زمیندار اور اس کے بندوں کے خلاف ۔
تھانیدار: (بھنویں سکیڑتے ہوۓ) بابا بات سنو یہ قتل کا الزام بہت بڑا ہوتا ہے،ایسے کیسے کسی کے خلاف 302 کاپرچہ کاٹ دوں؟کوئی گواہ ہے تمھارے پاس؟
عبداللہ : ہے سرکار یہ شریف الدین ہے، اس کے سامنے ہوا سب۔
شریف الدین: او بابا جی!! مینو کیوں پھنسا رہے ہو؟ میں نے کچھ نہیں دیکھا، سرکار میں تو دور کھڑا تھا اور میری تو پیٹھ بھی احمد کی طرف تھی ۔
تھانیدار: ابے تو آیا کیوں ہے یہاں؟
شریف الدین: جناب میں تو بابے کا ساتھ دینے آگیا تھا ہمدردی میں، یہ تو میرے ہی گلے پڑ گیا، نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں۔
عبداللہ : جھوٹ نہ بول شریفے تو نے کل تو کہا تھا تیرے سامنے ہوا تھاسب۔
شریف الدین: بابا جی میں بہت دور تھا، میں نے کچھ نہیں دیکھا۔
تھانیدار: بابا نہ تمھارے پاس کوئی گواہ نہ ثبوت، اب پرچہ کیا ہوا میں کاٹوں؟
عبداللہ : صاحب میں سچ کہہ رہا ہوں، میں تو کل بھی آپ کے پاس آیا تھا اورآپ نے مجھے بھگا دیا تھا، اگر کل آپ کچھ کر لیتے تو آج میرا جوان بیٹا زندہ سلامت ہوتا!
تھانیدار: ابے سالے بڈھے مجھے میرا کام بتاۓ گا تو؟ نکل باہر اب واپس نہ آئیو، نکل ! نکل !!!


مائی: دہائی ہے جی سرکار دہائی ،انصاف چاہیے مجھے !! ظالمو نے کہیں کا نہیں چھوڑا!
تھانیدار: بول مائی کیوں رو رہی ہے؟
مائی: صاحب، میرے جیٹھ کا لونڈا کچھ غنڈوں کے ساتھ کل رات میرے گھر میں گھس گیا اور میری بیٹی کی عزت لوٹ لی۔
تھانیدار: او امّاں ایسے ہی کوئی گھس گیا تیرے گھر میں؟ جوان بیٹی ہے، گھر میں تالا لگا کر نہیں رکھتی کیا؟
مائی: صاحب رکھتی ہوں، وہ دیوار پھلانگ کر آیا اور سب کچھ لوٹ کر لے گیا- کسی کو مونہہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا ہمیں۔ رسوا کردیا ہمیں۔
تھانیدار: او امّاں کوئی یونہی اس طرح کی کارروائی نہیں ڈالتا کسی کے گھر، تیری بیٹی نے کچھ تو کیا ہوگا نا ، اس نے خود ہی بلایا ہوگا۔
مائی: نہیں سائیں میری بیٹی نے قرآن پڑھا ہے حافظہ ہے ، پردہ کرتی ہے وہ۔
تھانیدار: ارے تو پردے کے پیچھے کیا کیا کرتی ہے ہم کیا جانیں؟ ثبوت ہے تمہارے پاس ؟
مائی: سب میرے سامنے ہوا ہے،ان بوڑھی آنکھوں کے سامنے۔تھانیدار جی میں انصاف لینے آئی ہوں، پرچہ کٹوانے آئی ہوں اپنے جیٹھ اور اس کے بیٹے کے خلاف۔
تھانیدار: کیسے پرچہ کاٹ دوں امّاں ؟ قانون ثبوت مانگتا ہے گواہ مانگتا ہے، کوئی میڈیکل کراو اس کا پھر آنا۔ تمہاری گواہی تو آدھی بھی نہیں بنتی۔ چار گواہ ہیں تمھارے پاس ریپ کے؟
مائی: چار گواہ؟
تھانیدار: ہاں مائی چار گواہ لاؤ ریپ کے لئے پھر پرچہ کٹے گا، اب جاؤ!


(مسجد سے سائرن کی آواز آرہی ہے)
تھانیدار: اوے الله بخش یہ سائرن کیوں بج رہا ہے؟ چل ذرا پیٹی کس دیکھیں کیا ہوا-
(مسجد کے سامنے نمبردار کے ڈیرے کے پاس لوگوں کی بھیڑ ہے، فضا میں چند چیلیں منڈلا رہی ہیں۔ مٹی میں جذب ہوئے خون کے نشان ابھی تازہ ہیں جن پر مکھیاں منڈلا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں لاٹھیاں ہیں مسجد کا موذن فون کان سے لگائے کھڑا ہے)
تھانیدار: اوئے! کیا ہوا؟ کیوں بھیڑ لگائی ہے؟
مولوی علم دین: جناب اسلام علیکم، گاؤں والوں نے ایک گستاخ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پکڑا ہے جی۔
تھانیدار: اچھا! کدھر ہے؟
لوگ: تھانیدار صاحب ادھر زمین پہ پڑا ہے کافر، پلید!
تھانیدار: اوے یہ تو بَلّی سقہ ہے، کیا کیا ہے اس نے؟
لوگ: نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شان میں گستاخی کی ہے جناب اس کافر نے !
تھانیدار: کس نے بتایا تم لوگوں کو؟
لوگ: وہ جی مولوی صاحب نے بتایا آج مسجد میں نماز کے بعد۔
مولوی علم دین: (گڑبڑا کر) وہ جی مجھے آج ظہر سے پہلے صدیق نے بتایا تھا بَلّی نے اس کے سامنے گستاخانہ کلمات کہے ہیں۔
تھانیدار: اوے صدیق سامنے آ ذرا۔ صحیح کہہ رہے ہیں مولوی صاحب؟
صدیق: ہاں جی صحیح کہہ رہے ہیں میرے سامنے ایسی گندی گندی گالیاں دی ہیں اس نے، کہہ رہا تھا میں تیرے ہاتھ سے پانی نہیں پیوں گا تو پلید ہے، ( بَلّی کو ایک لات جماتے ہوۓ) سالا کافر ۔
تھانیدار : اوے بس بس، اور کوئی گواہ تھا وہاں؟
مولوی: جناب صدیق نے میرے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے- اس ملعون نے گستاخی کی ہے۔ یہ واجب القتل ہے۔
لوگ: (اشتعال میں نعرے لگاتے ہوئے)گردن کاٹ ڈالو اس گستاخ کی، جلا ڈالو اسے۔
(گستاخ رسول کی ایک سزا۔۔۔ سر تن سے جدا)
بَلّی: (ہوش میں آکر کراہتے ہوے) سرکار بچا لو مجھy، میں نے تو اپنے ہزار روپے واپس مانگے۔۔۔۔۔
صدیق: (ایک اور لات جماتے ہوۓ) مار اس گستاخ کو۔
(ہجوم ایک بار پھر بَلّی پر پل پڑتا ہے- کچھ اور دیر لاتیں کهانے کے بعد بالآخر بَلّی دم توڑ دیتا ہے )
تھانیدار: ابے مار دیا تم لوگوں نے اسے، اب کیا ہوگا؟ پرچہ کس کے خلاف کاٹوں گا میں ؟
مولوی: (تقریر کرتے ہوئے)جناب نبی پاک(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شان میں جو گستاخی کرے گا اسکا وہی حشر ہوگا۔ آپ بیچ سے ہٹ جائیں ہم نمٹ لیں گے ان سے۔ یہ سب کافر واجب القتل ہیں، ان کو نیست و نابود کردو! تاریخ گواہ ہے بھائیو جب جب ان کفار نے سر اٹھایا ہے انہیں سبق سکھانے اور ان کی گردنیں کاٹنے کے لئے کسی غازی رحیم الدین، کسی امتیازقادری نے جنم لیا ہے، آج وہ رحیم الدین وہ امتیاز قادری ہمارے درمیان صدیق کی شکل میں موجود ہے۔عاشقان رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا فرض ہے کہ ایسے ملعونوں سے اس پاک دھرتی کو محفوظ رکھیں، یاد رکھو تم سب قیامت کے دن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے ساتھ اٹھاۓ جاؤ گے۔
(لوگ مزید مشتعل ہوکر )چلو چلو، آگ لگا دو! نعرہ تکبیر ! الله اکبر!!!


تھانیدار: سر میں کیا کر سکتا تھا ہجوم مشتعل تھا، اتنے بڑے ہجوم کو قابو کرنا مشکل تھا، ہمارے پاس نفری بھی کم تھی۔ اور نبی پاک(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نام پر ہر مسلمان قدرتی طور جذباتی ہوجاتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات اچھے خاصے گواہ موجود تھے اس کے خلاف۔
افسر: بات تو ٹھیک ہے۔ اور پھر یہ کوئی ریپ یا قتل کا معاملہ ہے بھی نہیں کہ ایک گھرک سنا کر بھگا دو ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا معاملہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔


روزنامہ ‘الباکستان’، شہ سرخی:
مملکت خداداد کے ایک دور افتادہ گاؤں میں کل دوپہر عاشقان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ایک گستاخ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو جہنم واصل کردیا۔ ملکی قانون رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شان میں گستاخی کرنے والے کو واجب القتل قرار دیتا ہے چناچہ ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حرمت ہر مسلمان اپنا فرض سمجھتا ہے۔
حکومت سے گزارش ہے کہ صوبہ ‘نیا خواہ مخواہ ‘ کی مثال سامنے رکھتے ہوۓ دیگر صوبوں کے تدریسی نصاب میں ‘غازی رحیم دین شہید، جیسے ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کےمحافظوں سے متعلق ابواب لازمی قرار دیں۔ اس موقع پر ایک شاندار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے جناب ‘امتیاز قادری ‘ کی رہائی اور ان کے نام سے ناموس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خاطر جہاد کرنے والے امت کے سپوتوں کے لیے ایک ایوارڈ کے اجراء کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کا مطالبہ بھی کیا۔