Categories
فکشن

پارینہ لمحے کا نزول

سولہ برس – سات ماہ – پانچ دِن – دو گھنٹے – اِکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے – اَپنے لیے اُس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اُتار سکا تھا۔

 

ایسے جملوں پر فوری یقین کے لیے کچی عمر کی جو نرم گرم زمین چاہیے ہوتی ہے وہ دائرہ دردائرہ گزرتے گھومتے ایک سے یخ بستہ دِنوں کی تہ در تہ برف تلے کب کی گَل کر نیچے بہت دُور کھسک چکی تھی – ایسے میں وہ جملہ جو سماعت بیچ جلترنگ بجا گیا تھا – پکی عمر کی پتھریلی سطح کے کرخت پن سے پھسل کر بدن کی کھنکتی مٹی پر جھنکار چھڑکنے لگا تھا ۔ کیوں کہ بدن کی تنی کمانوں کی تانت جو کب کی ڈِھیلی پڑنے لگی تھی – پھر سے تن گئی تھی۔

 

یقین نہ تھا – ہاں گماں تھا۔ گُماں بھی یوں تھا کہ اِنتظار کی ڈِھیلی ڈور کے اُس سرے پر اُوپر کی بے آبرو ہوا میں جھولتی پتنگ اَبھی تک بہ ہرحال تھی‘ اگرچہ نہ ہونے کے برابر تھی کہ ہتھیلی پر کشید لکیروں سے لگی ڈور اُنگلیوں کی پوروں کو تو کاٹتی تھی مگر کوئی بھی تُنکا بے حیثیت ہوا میں ڈولتی پتنگ تک منتقل نہ ہونے دیتی تھی ۔

 

میں اُوپر دیکھتی تھی اور جھولتی پتنگ کے سنگ خودبھی جھول جاتی تھی کہ آنکھ چندھیاتی تھی اور اُوپر سے برستی دُھوپ بارش سارا بدن بھگوتی تھی۔ کچھ خبر نہ تھی کہ ڈور کے اس سرے پر پتنگ بندھی تھی یا اُس سرے پر میں خود۔ ایسے میں یقین دل کے بیچ کیوں کر اُترتا مگر اِنتظار کی ڈُور سے لگا اُمید کا مانجھا تھا اور لپٹتی چرخی – جو مسلسل لپیٹے جا رہی تھی …. تاہم جھول تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ اِنتظار دَھاگے کو دُھوپ بارش میں کھنچتے کھنچتے سارا بدن پاؤں کی اس اِیڑی جیسا ہو گیا تھا جس کی جلد تڑخ کر منھ کھول دِیتی ہے اور تب تک کھولے رَکھتی ہے جب تک مرہم اُس کے بیچ نہ اُترے۔

 

اَیسے ہی دِنوں میں سے ایک دِن تھا جب میرا باپ اَپنی حویلی کے طویل آنگن کو پاٹتا – بارہ دری طے کرتا – گھمن گھیری ڈالتے زِینے چڑھتا وہاں آیا جہاں مجھ پر دُھوپ کی عجب بارش برس رہی تھی۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ تو پہلے ہی روز سے مجھے بھلائے ہوئے تھا‘ پھر وہ یہاں تک چل کر کیسے آیا۔ مگر جب میں نے اُس کے ہاتھ میں تھمی ہوئی وہ لاٹھی دِیکھی جو اس کا سارا وجود سہارے ہوے تھی تو میں نے حیرت کی پھیلی چنی سمیٹ لی کہ اس کی ساری مجبوری سمجھ آنے لگی تھی۔

 

اس کی پہلی مجبوری یہ تھی کہ پہلی دو میں سے ایک کی کوکھ خالی بھڑولے کی طرح نکلی تھی جب کہ دوسری سے میں برآمد ہوئی تھی حالاں کہ وہ کچھ اور اُمید باندھے بیٹھا تھا۔ پھر اِنتظار کے طویل برآمدے سے گزر کرکئی اور کوکھیں اُس نے قدموں تلے کچل ڈالی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ لڑکھڑا گیا اور اَب اِس لڑکھڑاہٹ کے خوف نے وجود کو سہارے کے لیے اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھما دی تھی؛ جو اس کی دوسری مجبوری تھی۔

 

یوں تو میرا وجود بھی محبوری کی بِیل بَن کر اُس کے خالی خولی آنگن میں اس کے اندیشوں کی دیوار پر چڑھتا چلا جاتا تھا مگر میرا یہ وجود اُسے تب نظر آیا جب اس کے ہاتھ دوسری مجبوری لگی تھی۔ اُس نے گھوم کر پہلے اَپنی حویلی کے طول و عرض کو دیکھا۔
ایسا کرتے ہوے اُس کا ہاتھ اُس کے دِل پر تھا۔

 

پھر اُس نے کلف لگے شملے کو تھام کر بے توقیر ہوا میں ڈولتی پتنگ کو دیکھا اور نفرت سے منھ موڑ کر حدِ نظر تک پھیلے سرسبز قطعات کو دیکھنے لگا جنہیں دیکھنے سے نظر نہ بھرتی تھی۔ اُس کی نظر ابھی تک نہ بھری تھی مگر اس کے کلف لگے شملے کا بوجھ اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ اُس کی نگاہ خود بخود اس لاٹھی پر جا پڑی جو کچھ عرصے سے اُس کے بدن کا حصہ بن گئی تھی۔ میں نے اُس لاٹھی کو دِیکھا جو میرے باپ کے بدن سے کوئی مَیل نہ کھاتی تھی مگر اُس کے پورے وجود کو سہارے ہوے تھی۔

 

میرے باپ کے رَعشَہ زَدہ ہاتھوں نے میرے ہاتھوں سے ڈور تھام لی اور پتنگ بے توقیر ہوا سے اُتر کر اُس کے قدموں میں لوٹنے لگی‘ پھر وہیں ڈھیر ہو گئی؛ اس زمین پر کہ جس پر فقط میرے باپ کا نام لکھا تھا۔ ایسے میں – مَیں نے اُسے دِیکھا تھا – جو میرے باپ کی لاٹھی بن کر آیا تھا اور اُس کا وہ جملہ سنا تھا جو میرے چٹختے وجود کے بیچ پوری طرح سما گیا تھا۔
یوں نہیں تھا کہ اس کے صدق کی ایسی آنچ مجھ تک نہ پہنچ پائی تھی جو بدن میں یقین اُتارتی۔
اور یہ بھی نہیں تھا کہ میرے دِھیان کا دَھاگہ سپنوں کی کوئی اور پوشاک بن رہا تھا۔

 

وہ اَپنے پورے مگر کچے بدن کی پوری سچائیوں کے ساتھ میرے مقابل تھا اور میں اَپنے سارے مگر کرخت وجود کی مکمل صداقت کے ساتھ اُس کے سامنے تھی۔ تاہم بیچ کے نامعلوم پانیوں میں یقین کی ایسی سنہری مچھلی تھی‘ جو گرفت میں نہ آتی تھی۔

 

شاید یہی وجہ ہے کہ وہ لمحہ میری حیات کے عناصر منتشر ہونے تک میرے پلّو سے بندھا رہے گا اور مجھے اپنے پلّوسے باندھے رکھے گا۔

 

میں نے جس لمحے کو ایک خاص مُدّت سے ماپ کر نشان زدّ کیا ہے (اس میں آپ اب مزید سترہ سیکنڈ کا اِضافہ کر سکتے ہیں) میرے بدن کی کھنکتی ٹھیکری کے بیچ یوں جھنکار چھڑکتا رہا ہے کہ مجھے گزری مُدّت کو ماپنے کے لیے اب تک کوئی کلینڈر نہیں دیکھنا پڑا؛ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر نہیں ڈالنا پڑی۔ نہ اُسے دِیکھنا پڑتا ہے اور نہ ہی آئینے میں خود کو ……اَندر ہی اَندر ٹک ٹک ہوتی رہتی ہے اور وقت ساعت ساعت پہلے سے موجود حاصل جمع کا حصّہ بنتا رہتا ہے۔ یوں کہ جیسے ہر مظہر کی لہر شعور کے پانیوں کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔

 

ایک خاص لمحہ عجب طور پر میرے اَندر ٹھہر سا گیا تھا جو اگرچہ ایک ساعت کی کئی ہزارویں تقسیم کی رفتار سے پرے کھسک رہا تھا مگر اپنے حوالے کی ڈور مضبوطی سے لمحہ موجود سے باندھے ہوے تھا۔ بہت پہلے کہ جب مجھے اوپر کی بے توقیر ہوا سے سابقہ نہ پڑا تھا تاہم مہکتے پھولوں کا طواف کرتی تتلیوں کو پوروں سے چھو لینے اور کچے رنگوں کی ملائمت کو اُنگلیوں کے بیچ مسلنے کا عرصہ گزر چکا تھا‘ تب مجھ پر لفظوں کے گہرے پانیوں میں غوطہ زَن ہونے اور پہروں سانس روک لینے کاخبط سا ہو چلا تھا ۔ اُن ہی دِنوں میں نے مارکیز کو پڑھا تھا اور وہاں کہ جہاں اُس نے وقت کوایسے ماپا تھا جیسے بعد ازاں میں ایک خاص لمحے کو ماپتی رہی ہوں تو مجھے حیرت ہوتی تھی …. مگر اب مجھے حیرت نہیں ہوتی۔

 

یہ سارا عمل ابھی چند سکینڈ پہلے تک حیرت کے پانیوں سے پَرے عین یقین کی دَھرتی پر یوں ہوتا رہا ہے جیسے سانس لی جاتی ہے – دیکھا جاتا ہے – سونگھا جاتا ہے۔ غیر محسوس طریقے سے – جانے بوجھے بغیر – بے خبری میں…. یوں‘ کہ جیسے میرا بیٹا میری نظر کے سامنے اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ میرے ہی ہونٹوں اور گالوں پر بوسہ دینے سے جھجکنے لگا تھا۔

 

میں معمول کی طرح آنکھیں بند کیے چہرہ اُس کے سامنے کیے بیٹھی رہی۔ منتظر تھی اور پریقین بھی کہ ابھی میرے بیٹے کے ہونٹ تتلیوں کی طرح میرے ہونٹوں اور گالوں پر اُتریں گے اور اپنے لمس کی خُوشبو اور نمی کے دھنک رنگوں سے مجھے نہلا ڈالیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ گذشتہ سارے عرصے میں کرتا آیا تھا اور جس کی سرشاری میں – مَیں اس لمحے کی جھنکار کو بدن ہی کے بیچ سمیٹے ہوے تھی۔
میں منتظر تھی…. منتظر رہی۔

 

اور وہ جھجک کر دور کھڑا سراسیمہ نظروں سے دیکھتا رہا۔

 

اگرچہ میری آنکھیں بند تھیں مگر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اُلٹے قدموں دُورہو رہا تھا۔
مجھے یوں لگا جب وہ دور ہو رہا تھا تو اس کے ننھے منے ہاتھوں میں پارینہ لمحے کے بوکے سے بندھی رَسی تھی جو بدن کی چرخی سے گھوم کر سارے درد کاپانی باہر نکال لائی تھی۔

 

درد کا یہ پانی رُکا کب تھا؛ اَندر ہی اَندررِستا رہا تھا مگر اَب کے یوں لگا کہ میرے بیٹے کی جھجک نے بوکا بھر کر اس پڑچھے میں ڈال دیا تھا جو سیدھا بدن کے باہر گرتا تھا۔
میں نے آنکھیں پوری طرح کھول کر پَرے کھڑے دِیوار سے لگے بیٹے کو دیکھا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ‘جیسے وہ میرا بیٹا نہ تھا – وہ تو وہ تھا جس نے کبھی میرے بدن کی کمانوں کی ڈھیلی تانت تن دِی تھی۔

 

میں بھاگ کر وہاں گئی جہاں ایک کونے میں وہ بیٹھتا تھا جس کا عکس میں نے اپنے بیٹے کے چہرے پر دیکھا تھا؛ وہ وہیں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا تھا۔ کتابوں کے ڈِھیر کے بیچ بیٹھا کچھ لکھتا رہتا۔ اُس کے اِرد گرد کاغذ ہی کاغذ تھے یا پھر بس کتابیں۔ ہاں‘ ملنے والے آ جاتے (جو اکثر آتے رہتے) تووہ ان سے باتیں کرتا رہتا۔ حکمت کی باتیں – دانش بھری باتیں – بڑی بڑی باتیں ….ایسی باتیں کہ جو اس کا قد میری نظر میں اور پستہ کرتی رہتیں۔ تاہم یہی وہ باتیں تھیں جو اُس سے ملنے والے اُسی جیسے لوگوں میں‘ اس کے لیے عقیدت بڑھاتی رہتی تھیں۔

 

میں دیکھتی ہوں…. مگر…. وہ نہیں دیکھتا ۔

 

یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔ حالاں کہ اس سے پہلے میں سارے گھر میں تھی ۔ اس سارے گھر میں کہ جس کے باہر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی اور وہ خود کہیں نہیں تھا۔ اس کونے میں‘ کہ جہاں وہ بیٹھا رہتا‘ شاید وہاں بھی نہیں تھا۔

 

اس نے میرے وجود کے اجنبی پن سے گھبرا کر جہاں پناہ لی تھی ‘وہاں تخلیق کی دِیوی اس پر مہربان ہوئی…. یوں کہ وہ اَپنے اندر اور باہر دونوں سمت پھیلتا چلا گیا۔ جب کہ وہ نہ تو میرے اندر تھا اور نہ ہی میرے باہر۔

 

نہیں – شاید وہ میرے اَندر بھی تھا اورمیرے باہر بھی – اپنے اس جملے کی طرح جو بہت پہلے میرے بدن کی تنی کمان کی تانت بن گیا تھا۔

 

بس میں ہی اَپنی آنکھیں بند کیے ہوے تھی – اندر کی بھی اور باہر کی بھی۔

 

وہ میرے لیے ناکارہ – بے حیثیت وجود کی طرح تھا جو ایک کونے میں پڑا‘ ایسے لفظ جنم دیتا رہتا تھا جو اسے میری نظر میں معتبر نہ کر سکتے تھے۔

 

مجھے اس کے لفظوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔
مجھے اس سے بھی کوئی سروکار نہ تھا۔

 

بس اتنا تھا(اوریہ کافی تھا) کہ وہ تھا اور میرے بیٹے کے لیے اس کا نام تھا۔ ایک ایسانام جو اس گھر کی چاردیواری سے باہر بہت محترم تھا۔ اس کا اپنا وجودمیرے لیے بے حیثیت تھا – بے مصرف‘ کاٹھ کباڑ جیسا ‘جس پر دھول جمتی رہتی ہے۔

 

وہ پہلے پہل مجھ سے محبت جتلاتا رہا ۔ میں اس کی محبت کے دعووں کو قہقہوں میں اڑاتی رہی۔

 

پھر وہ میرے وجود کے گلیشئر سے لگ کر یخ بستہ ہو گیا۔

 

اور بیچ میں وہ خاص مُدّت گزر گئی جس میں اب آپ کو مزید اکیس سکینڈ جمع کرنے ہوں گے۔
اِس سارے دورانیے میں ہم دونوں کے بیچ کچھ نہ رہا۔

 

محبت نہ نفرت
بے حسی نہ گرم جوشی
عزت نہ تحقیر
نہ وہ میرے لیے تھا اور نہ میں اس کے لیے تھی۔

 

جب کوئی اُس سے ملتا اور میرے لیے تعریف کے کچھ جملے کَہ دِیتا تو اُسے خُوش ہونا پڑتا حالاں کہ یہ اس کے لیے نہ تو کوئی خُوشی کی بات ہوتی نہ دُکھ کی خبر۔

 

جب اُس کا نام اخبارات میں چھپتا – اس کی تخلیقات کے ساتھ – اس کے اعزاز میں تقاریب ہوتیں یا دوست احباب اس کے بہت اچھا ہونے کی اطلاع دیتے تو میرے چہرے پر خُوشی آ جاتی – اطلاع دینے والے کے لیے‘ حالاں کہ میرے اندر اس کے لیے کوئی جذبہ نہ تھا۔

 

مگر اَبھی اَبھی – چند لمحے پہلے ‘مجھے بھاگ کر وہاں آنا پڑا تھا کہ میرا بیٹا جھجک کر پرے کھڑا ہو گیا تھا اور اُلٹے قدموں دور چلا گیا تھا اور اس کے چہرے سے اس کا چہرہ جھلک دینے لگا تھا۔

 

وہ ایک کتاب پر جھکا ہوا تھا…. میں اُس پرجُھک گئی۔

 

اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ اِس حیرت پر اُن سارے لمحوں کے جالے تنے تھے جن میں اب آپ کو مزید اِتنی صدیاں جمع کرنا ہوں گی جن کی گنتی میں اَب بھول چکی ہوں۔

 

میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پورا وجود اس کے سامنے کر دیا۔ یوں کہ بہت مُدّت پہلے ادا کیا گیا جملہ دوسرے سیارے سے آٹھ ہزار سال کے بعد پہنچنے والے سگنل کی طرح میرے بدن کے فلک کا پارچہ پھاڑتا عین میرے دِل کے بیچ اُترا‘ اور سنگلاخ چٹانوں کو توڑتا اندر کی مہکتی سوندھی مٹی کے قطعے میں بیج کی طرح دفن ہو گیا۔

 

میں نے آنکھیں بند رکھیں…. اس لمس کے اِنتظار میں‘ جس میں مہک تھی اور اُس نمی کے لیے‘ جس سے دَھنک رَنگ پھوٹتے تھے۔

Image: Ali Azmat

Categories
فکشن

برف کا گھونسلہ

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔

 

اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔

 

بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔

 

”اِس سے بہتر تھا ہم اُسی دور افتادہ مَقام پر پڑے رہتے کم از کم آپ شام کو تو وقت پر گھر پلٹ آیا کرتے تھے۔“

 

بچیاں مسکراتی رہیں۔۔۔۔ وہ پیچ و تاب کھاتی رہی۔۔۔۔. اور میں اپنے حق میں وہ دلیل جو مسلسل کئی روز سے دہرا رہا تھا‘ ایک مرتبہ پھر دہرانے سے ہچکچا رہا تھا۔

 

جس وقت مجھے مری میں تعینات کیا گیا تھا وہ بہت خُوِش تھی۔ اسے ہنی مون والے دن یاد آرہے تھے جن کے سحر سے وہ ابھی تک نہ نکلی تھی۔ وہی گہرے بادلوں کا زمین پر اُترنا‘ ٹھنڈی ہواﺅں کا بَدن چوم کر گزرنا‘ گیلی سڑک پر پھسل کر گرنا‘ چوٹ لگنا اورچوٹ سہلانے کے لیے ہیئر ڈرائر کا اِستعمال کرنا۔ محض ایک گرم بالٹی پانی کا ملنا اور دونوں کا نہانے کو اکٹھے باتھ روم میں گھس جانا کہ کہیں ایک کو ٹھنڈے پانی سے نہ نہانا پڑے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مال روڈپر چہل قدمی کرنا۔ پہروں Lintottsمیں یا پھر پوسٹ آفس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کا نظارہ بھی وہ نہ بھول پائی تھی۔

 

مگر اب اکتاہٹ اُس کے بَدن کے خلےے خلےے میں اتر رہی تھی۔ میں جانتا تھا‘ ایسا کیوں تھا۔ مگر میں کیا کرتا؟ سیزن ختم ہونے کو تھا‘ لیکن لوگ تھے جو پھر بھی جوق در جوق چلے آرہے تھے۔ دفتر سرکاری مہمانوں سے بھرا رہتا تو گھر دوستوں اور عزیزو اقارب سے۔۔۔۔. جو بھی آتا اس خواہش کے ساتھ آتا کہ ایک تو اس کے قیام و طعام کا بندوبست کیا جائے گا اور دوسرا اسے گھمانے پھرانے لے جایا جائے گا۔ اور یوں نہ چاہتے ہوے بھی‘ میں گھر وقت پر نہ پلٹ سکتا تھا۔ جب کہ وہ بے چاری صبح صبح مہمانوں کے بستر سنبھالتی‘ صفائیاں کرتی‘ پانی گرم کر کے باتھ روم میں رَکھتی‘ ناشتہ تیار کرتی‘ دن بھر کبھی کھانا پکاتی‘ دستر خوان پر سجاتی‘ تو کبھی چائے اور سموسوں سے مہمانوں کی تواضع کرتی۔ اُن کے بچوں کے منھ صاف کرتی‘ اَپنی بچیوں کو سمجھاتی بجھاتی‘ مہمانوں کے جوٹھے برتن دھوتی‘ پھر جب شام کے دراز سائے چھتنار درختوں سے اُتر کر رات کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو جاتے تو وہ بستر بچھا دیتی اور مہمانوں کی واپسی کا بیٹھے بیٹھے انتظار کرتی کہ وہ سیر سے پلٹیں تو اُسے بھی کمر سیدھی کرنے کو موقع ملے۔۔۔۔ ایسے میں اس کی اکتاہٹ اور چڑچڑا پن بجا تھا۔

 

اسے ہول آرہے تھے کہ ہواﺅں میں یخ بستگی بڑھ گئی تھی اور یہ سن سن کر‘ کہ یہاں کی برفانی سردیاں تو ناقابل برداشت حد تک سرد ہوتی ہیں‘ بہت زیادہ متفکر تھی۔

 

”دیکھے ہیں لحاف آپ نے‘ جگہ جگہ سے روشن دان بن گئے ہیں۔۔۔۔.اوڑھو نہ اوڑھو ایک برابر۔۔۔۔ دسمبر ہے کہ بھاگا چلا آرہا ہے۔۔۔۔. اِن کا کچھ کرو جی ‘ان کا۔۔۔۔.“

 

اُن دنوں مری میں بنے بنائے لحاف نہیں ملتے تھے اور نہ ہی دھنیا یا ایسا فرد ملتا جو ان کو ادھیڑ کر روئی نکالتا‘ اسے دھنکتا اور پھر لحاف بھر کر سی دیتا۔ پھر ہمارے پاس اتنے لحاف بھی نہ تھے جو اپنے اور مہمانوں کے لیے انہیں اِستعمال کرتے اور یہ میں اس مقصد کے لیے پنڈی دے آتا۔

 

”لکڑیوں کا بندوبست کرو جی۔۔۔۔. خشک لکڑیاں نہ ہوں گی تو ان ننھی جانوں کو سردی سے کیسے بچاﺅ گے؟ دیکھو ساتھ والوں نے لوہے کی انگیٹھی بنوائی ہے‘ بارہ سو میں۔ اس کے اوپر پائپ لگوا کر روشن دان سے ایک سرا باہر نکال دیا ہے کہ دھواں کمرے میں نہ بھر جائے۔ میرے مانو تو ویسی ہی بنوالو کہ برفیلی راتوں میں لکڑیاں نہیں جلائیں گے تو کمرا گرم نہیں ہوگا۔۔۔۔“

 

وہ ٹھیک کہتی تھی۔۔۔۔ مگر بارہ سو روپئے! مہمانوں نے بجٹ اس قدر متاثر کر دیا تھا کہ انگیٹھی بنوانے کی تجویز کو میں نے سنا اَن سنا کر دیا۔ رات ایسی بے شمار تجاویز کے ساتھ شروع ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ نہ میں اس کے بَد ن کے گداز پن کو محسوس کر سکتا‘ نہ وہ میرے بازو پر سر رَکھتی‘ نہ ہی میرے سینے کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ۔۔۔۔ وہ بولتے بولتے تھک جاتی اور میں’ہاں‘’ہوں‘ کرتا رہتا۔ وہ غصے سے پہلو بَد ل کر سو جاتی اور میں دیر تک اس کے بَد ن کی جاگتی مہک سونگھتا سونگھتا بَد ن توڑ بیٹھتا۔۔۔۔ پھر نہ جانے کب مجھے نیند آتی تو صبح ہونے تک رات کی ساری تجاویز اور باتیں بھول چکا ہوتا۔

 

ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ میری آنکھ چڑیوں کی چہکار سے کھلتی۔ میں نے ایسی چڑیا میدانی علاقے میں نہ دیکھی تھی۔ لمبوترا سا بَدن‘ دل کش رنگت‘ سر پر سیاہ کلغی‘ گردن گانی سے مزین‘ لمبی دُم‘ مٹکتی آنکھیں۔۔۔۔ میری آنکھ کھلتی تو وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ میرے بستر پر ہی پھدک رہی ہوتی۔

 

”یقینا انہیں بھوک لگی ہو گی۔۔۔۔. راتیں بھی تو لمبی ہو رہی ہیں“

 

میں سوچتا اور اٹھ کر کچن سے ان کے لیے چوگا تیار کر کے کمرے میں ہی ایک طرف رکھ چھوڑتا۔ کچن کا ایک دروازہ صحن میں کھلتا تھا اور دوسرا اسی سونے والے کمرے میں۔۔۔۔ اور میری بیگم اس پر گھر بنانے والے کو داد دیتی کہ یوں وہ کچن میں رہتے ہوے بھی بچیوں اور گاہے گاہے مجھ پر نظر رکھ سکتی تھی۔ کچن کے دونوں دروازوں والی دیواریں جہاں چھت سے جا ملتیں‘ بالکل وہیں اس چڑیا نے ایک گھونسلا بنا رکھا تھا۔ ادھر میدانی علاقوں میں‘ میں نے ایسا گھونسلا بھی نہیں دیکھا۔ گندھی ہوئی مٹی‘ جو چڑیا اَپنی چونچ میں بھر کر لاتی رہی تھی‘ اس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو ایک ترتیب سے باہم چپکا کر‘ اس نے ایک مضبوط سا گھر چھت اور دیواروں کے سنگم پر بنا لیا تھا۔

 

ابھی صبح صادق کا وقت ہوتا اور ثوبیہ دونوں بچیوں کو بازوﺅں میں سمیٹے خواب کے مزے لے رہی ہوتی کہ چڑیااپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ چوںچوں کرتے ہوے میرے سرہانے آبیٹھتی۔ میں مسکرا کر آنکھیں کھول دیتا۔ یوں یہ چڑیا میری محسن بھی تھی کہ جب سے میں اس گھر میں آیا تھا میری فجر کی ایک بھی نماز قضا نہ ہوئی تھی۔ ایک دن بھی میں نے سیر کا ناغہ نہ کیا تھا۔ فجر کی نماز اور صبح کی سیر اور وہ بھی مری جیسے پر فضا مَقام پر‘ یہ وہ دو عوامل تھے کہ جن کے لیے میں اَپنی حیات کے عناصر منتشر ہونے تک مری میں رہ سکتا تھا۔

 

پھر یوں ہوا کہ پتوں نے رنگ بَد لنے شروع کر دئیے۔ قرمزی‘ جامنی کلیجی‘ پیلے‘ سرخ۔۔۔۔ غرض عجب عجب رنگ تھے جو ان پر آرہے تھے۔ جب یہی رنگ شاخوں سے ٹوٹ کر قدموں تلے چر مر کرنے اور یخ بستہ ہواﺅں کے سنگ اِدھر اُدھر ڈولنے لگے تو مہمانوں کی آمد میں بھی وقفے پڑنے شرو ع ہو گئے۔

 

اگرچہ اب وہ میرے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے نکل سکتی تھی‘ مال پر شاپنگ کر سکتی تھی‘ میری مصروفیات بھی کم ہو گئی تھیں اور میں اس کے لیے وقت نکال سکتا تھا۔ لہٰذا مزاجوں سے چڑچڑاپن نکل رہا تھا اور زِندگی معمول پر آرہی تھی۔ مگر برا یہ ہوا کہ دونوں بچیاں یکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔۔۔۔

 

اور یہ اُس وقت ہوا‘ جب پہلی برف پڑ چکی تھی۔ برف پڑنے کا عمل بچیوں کے لیے بالکل نیا تھا۔ خود میں بھی مسحور ہو رہا تھا۔ ثوبیہ کی خُوِشی تو دیدنی تھی۔ وہ بچیوں کے ساتھ برف پر دوڑتی‘ ہنستی‘ ان کے پھسل پھسل کر گرنے پر قہقہے لگاتی ہوئی خود پھسلتی اور چیخیں مارتی۔ وہ اس قدر خُوِش تھی کہ خُوِشی اس کے سارے بَدن سے چھلک رہی تھی۔ ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو امنڈ آتے‘ بَدن ہلکورے کھانے لگتا اور سرخ ناک رگڑ رگڑ کر مزید سرخ کر لیتی۔ اور مجھے یوں لگ رہا تھا مری کا حسن ثوبیہ کے حسن کی آمیزش سے مکمل ہو گیا تھا۔۔۔۔ مگر برا ہو‘ یخ بستہ ہواﺅں کا کہ دونوں بچیاں یکے بعد دیگرے بیمار پڑ گئیں۔

 

اس سے پہلے کہ ثوبیہ پر پھر چڑچڑے پن کا دورہ پڑتا‘ میں لوہے کی انگیٹھی بنوا لایا۔ لکڑیوں کا بندوبست کیا‘ لحاف پنڈی سے بھروا لایا۔ مگر کمرا تھا کہ رات کے کسی پہرپھر بھی گرم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ بچیاں شروع ہی سے علیحدہ بستر پر سونے کی عادی تھیں مگر اب وہ بھی ہمارے بستر میں گھس آتی تھیں اور یوں ہم پہلو بہ پہلو ایک دوسرے سے لپٹ کر سو جاتے اور رات بھر پہلو بَدلنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا کہ پہلو بَدلنے سے یوں لگتا‘ جیسے برف کے یخ بستر پر ننگا بَدن دھر دیا ہو۔

 

یہ وہ دن تھے جب کئی کئی فٹ برف پڑ چکی تھی۔ شاخساروں سے پتے ٹوٹ کر کب کے برف تلے دب چکے تھے۔ حدِ نظر تک دودھ جیسی سفیدی تھی۔ مکانوں کی ڈھلوان چھتوں پر‘ آنگنوں میں‘ پتھروں اور گھاس پر‘ درختوں کی ننگی شاخوں پر۔۔۔۔ اور سارا منظر یوں لگتا تھا‘ جیسے مر مر میں تراشا گیا ہو۔۔۔۔ ایسے میں مجھے اس چڑیا اور اس کے بچوں پر رحم آرہا تھا جو مجھے اپنے گیتوں سے ہر سحر اسی طرح جگاتی آرہی تھی۔ حالاں کہ اس ٹھٹھرے ہوے ماحول سے ان کے ساتھ بھرا مار کر اڑنے والے سبھی پرندے ہجرت کر گئے تھے۔

 

بچیاں سارا سارا دِن کمرے کے اندر گھسے رہنے پر مجبور ہو گئیں۔ ثوبیہ انگیٹھی میں لکڑیاں ٹکڑے کر کے گھسیڑتی رہتی‘ پھکنی سے آگ دہکاتی اور بچیوں کو کھینچ کھینچ کر آگ کے پاس بٹھاتی رہتی۔ اگرچہ دھواں پائپ کے ذریعے باہر پھینکنے کا بندوبست تھا مگر پھر بھی کمرے میں دھواں بھر جاتا اور اسے نکالنے کے لیے وہ دروازے کھول دیتی۔ ادھر کمرے سے دھواں نکلتا‘ ٹھنڈی مرطوب ہوائیں اندر آگھستیں۔ پھر انگیٹھی دہکتی اور کمرا گرم کیا جاتا۔

 

پھر یوں ہوا کہ مصروفیات کے اسی سلسلے میں سے ایک کالی صبح طلوع ہوگئی۔۔۔۔
وہی کہ جسے میں ابھی تک بھلا نہیں سکا۔

 

مجھے مری چھوڑ دینا پڑی۔ نہ چھوڑتا تو راتوں کو یوں ہی ہڑبڑا کر اٹھتا رہتا‘ سانس گھٹتی رہتی۔ وہ خواب مسلسل دیکھتا رہتا کہ مری نے برف کا سفید کفن لپیٹ رکھا ہے اور اس کفن میں ثوبیہ بچیوں کو بازوﺅں میں لپیٹے سو رہی ہے۔۔۔۔ یہ تھا وہ خواب‘ جو اس کالی صبح کے بعدآنے والی کئی راتوں کو میں نے مسلسل دیکھا تھا‘ ہڑبڑا کر اٹھا تھا اور سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس کی تھیں۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔ اس سے چھٹکارپانے کے لیے مری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس کالی صبح کو میں حسب معمول بہت پہلے جاگ چکا تھا۔ چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ چوگا چگ کر اپنے گھونسلے میں جا چکی تھی اور مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ ثوبیہ کیوں نہیں اٹھ رہی؟ جب بچیاں بھی اٹھ گئیں اور ننھّی مُنّی ناکوں کو رگڑ رگڑ کر انہیں سرخ تر کرنے لگیں تو ثوبیہ نے پہلو بَدلا۔ کہنے لگی:

 

”میرا بَدن ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔“

 

میں نے تشویش سے اسے چھوا‘ جسم بخار میں تپ رہا تھا۔۔۔۔. کہا:

 

”تمہیں تو بخار ہے۔۔۔۔“

 

وہ اٹھ کھڑی ہوئی‘ کپڑے دُرُست کئے‘ دوپٹے سے ناک کو رگڑتے ہوے شوں شڑاک کی آواز نکالی اور کہنے لگی:

 

”بس معمولی سا ہے‘ اللہ کرے بچیاں ٹھیک ہو جائیں“

 

جب میں ناشتہ کر چکا اور دفتر جانے کے لیے باہر نکل کھڑا ہوا تو وہ دوڑتے دوڑتے میرے پیچھے آئی‘ میں رکا‘ پلٹ کر پوچھا:

 

”خیریت تو ہے نا؟“

 

کہنے لگی:

 

”وہ کچن کے صحن والا دروازہ ہے نا‘ اس کے اوپر والے روشندان کا ایک شیشہ‘ جب سے ہم آئے ہیں‘ ٹوٹا ہوا ہے۔ پہلے تو خیریت رہی مگر اب رات بھر ایسی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں کہ کمرا ٹھنڈا ٹھار ہو جاتا ہے۔ آج ہو سکے تو وہاں شیشہ لگوا دیں۔۔۔۔“

 

میں نے اس کی جانب دیکھا‘ بخار سے اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔

 

”کیوں نہیں‘ کیوں نہیں‘ شیشہ آج ہی لگ جائے گا۔۔۔۔“

 

میں نے اس کے چہرے کو انگلی کی پوروں سے چھوتے ہوے کہا اور آگے بڑھ گیا۔
اگلی صبح مری کی وہ پہلی صبح تھی جب میں فجر کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکا تھا۔ پھر جب میں ہڑبڑا کر اٹھا تو صبح کا اجالا کمرے کے اندر کونے کھدروں تک گھس آیا تھا۔ میں جلدی سے بستر سے نیچے اترا۔ ثوبیہ بچیوں کو بازوﺅں میں لیے ویسے ہی سوئی ہوئی تھی۔ اِدھر اُدھر دیکھا چڑیا اور اس کے بچے نظر نہ آرہے تھے۔

 

”خدا کرے سب ٹھیک ہو“

 

میں بڑبڑاتا لپک کر کچن تک گیا۔ گھونسلے سے بھی کوئی آواز نہ آرہی تھی۔ دفعتاً نگاہ اس روشن دان پر پڑی جس میں کل ہی نیا شیشہ لگوایا گیا تھا۔ اس پر باہر کی جانب برف کے گالے جمے ہوے تھے۔ دل زور زور سے دھڑک اٹھا کچن کا دروازہ کھول کر جَھٹ باہر نکلا۔ مَری سفید دوشالہ اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔ نظریں پھسلتے پھسلتے کچن کی دہلیز کے پاس ابھری ہوئی سطح پر ٹھہر گئیں۔ میں وہیں دوزانوں بیٹھ گیا اور انگلیوں سے برف کی ڈھیری کھرچنے لگا ۔۔۔۔ اور جب میں برف کھرچ چکا تو مجھے لگا‘ مری نے دوشالہ نہیں سفید کفن لپیٹ رکھا تھا اسی کفن میں چڑیا کے پر کھلے ہوے تھے اور دو ننھے منے بچے اس کے پروں تلے دبے کب کے اَپنی ماں کی طرح زِندگی کی سانسیں ہار چکے تھے۔

 

میرا سر گھومنے لگا۔ وہی انگلی کہ جس سے اگلی صبح میں نے ثوبیہ کے تپتے چہرے کو چھوا تھا اور جس سے ابھی ابھی برف تلے سے تین بے جان لاشوں کو برآمد کیا تھا‘ میرے چھاتی میں گھسی چلی جاتی تھی۔۔۔۔ اندر بہت ہی اندر۔۔۔۔ میں تیزی سی کمرے میں بھاگا۔ ثوبیہ اسی طرح بچیوں کو بازوﺅں میں لیے سو رہی تھی ۔۔۔۔اور۔۔۔۔ جب میں اسے دیوانہ وار زور زور سے جھنجھوڑ رہا تھا تو میری آنکھیں ابل پڑی تھیں اور حلق ہچکیوں سے بھر گیا تھا۔