Categories
نقطۂ نظر

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری نے ملک نہیں توڑا تھا، ملک آپ کی حب الوطنی نے توڑا ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کوئی مسخ شدہ لاش نہیں ملی، کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا گیا اور کسی پر غداری کے فتوے نہیں لگائے گئے یہ آپ کی حب الوطنی ہے جو اپنے ہی ملک میں رہنے والوں اور اپنے آئینی حقوق مانگنے والوں کے خلاف عقوبت خانے کھولے بیٹھی ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کبھی کسی منتخب حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا، میں نے کبھی ملک کاآئین معطل نہیں کیا اور میں نے کبھی خود کو آئین و قانون سے ماورا نہیں سمجھا۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری آپ کی حب الوطنی کو آئینہ دکھاتی ہے۔ میری غداری اس جبر، استحصال اور بربریت کو بے نقاب کرتی ہے جو آپ اپنی حب لوطنی کے نام پر روا رکھتے ہیں۔ میرے جیسے ہی غدار ہیں جو اس ملک میں آپ جیسے طاقت ور اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر چھوٹے موٹے مظاہرے کرتے ہیں، کبھی ان ڈیڑھ سو عورتوں کی شکل میں جو مال روڈ پر آپ کے بنائے غیر انسانی مذہبی قوانین کے خلاف نکلتی ہیں، کبھی اوکاڑہ میں آپ کی دہشت اور بربریت کے خلاف مقدمے برداشت کرنے والے مزارعوں کی شکل میں، کبھی ایم آر ڈی کے بھیس میں، کبھی ماما قدیر بن کر تو کبھی عاصمہ جہانگیر کی شکل میں۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ ہم غداروں نے اس ملک میں نفرت کی وہ دکانیں نہیں کھولیں جہاں سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں، دوسرے ملکوں میں رہنے والوں، دوسرے صوبوں میں رہنے والوں اور وردی کے بغیر سانس لینے والوں سے نفرت کی پڑیاں لپیٹ لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔ مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق احمدی اس ملک کے مساوی شہری ہیں اور انہیں آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، مجھے اپنی غدری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان میں رہنے والوں کا ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میرے غدارانہ افکار کے مطابق فلاح و بہبود سیکیورٹی پر مقدم ہے۔ میں دفاعی اخراجات میں کمی کا حامی ہوں، ہندوستان سے جنگ کا قائل نہیں، عسکری اداروں کی پراکسیز کا خاتمہ چاہتا ہوں، سول بالادستی کا حامی ہوں اور مذہب کو سب کا ذاتی معاملہ خیال کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میری غداری توہین مذہب کے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتی ہے، تحفظِ پاکستان ایکٹ کے تحت کی جانے والی زیادتیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور جتھے بنا کر شریعت کے نفاذ کو غلط قرار دیتی ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ یہ غداری ان کی میراث ہے جو پاکستان بننے کے فوراً بعد غدار قرار پائے، جن کی منتخب حکومتیں معزول کی گئیں، جن کے اخبار ملکی سلامتی کی خاطر بند کیے گئے، جنہیں سرعام کوڑے لگائے گئے، جنہیں لاپتہ کیا گیا اور جنہیں اندھی گولیوں سے چھلنی کر کے پھینکا گیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں غدار ہوں آپ کی طرح محبِ وطن نہیں۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

یہ چار عناصر ہوں تو۔۔

[blockquote style=”3″]

پاکستان میں شناخت کے موضوع پر بحث عرصہ دراز سے جاری ہے۔ تاہم ستر برس کے دوران ایک ایسی شناخت وجود میں آ چکی ہے جو اگرچہ علمی حلقوں میں متنازع ہے مگر اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے معاملات میں اس کی واضح چھاپ موجود ہے۔ عبدالمجید عابد کی یہ تحریر اس سے قبل ‘ہم سب’ پر بھی شائع ہو چکی ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

شناخت (Identity) کا قومیت (Nationalism) کی تعمیر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستانیت اور پاکستانی شناخت کے متعلق بحث تقسیم ہند کے بعد سے جاری ہے۔ اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔ اس سلسلے میں دائیں بازو (اور ریاستی اداروں) کی جانب سے دو قومی نظریہ اور نظریہ ء پاکستان کی اختراع کی گئی۔ بائیں بازو نے سندھ ساگر اور مقامی شناختوں کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ایوب اور یحییٰ دور میں پاکستانیت کے نظریاتی معیار کا چرچا رہا تو بھٹو صاحب کے دور میں ثقافت اور تہذیب کو پروان دی گئی۔ ضیاء دور میں مذہبی شناخت کو حرفِ اول اور حرف آخر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ بعدازاں جمہوری حکومتوں نے اس بحث میں قابل قدر حصہ نہیں ڈالا اور موجودہ دور میں ہم شناخت کے معاملے پر ایک تذبذب (confusion) کا شکار ہیں۔

 

اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔
ابن انشاء نے سنہ 69 ء میں ’ہمارا ملک‘ نامی فکاہیے میں پوچھاتھا:’یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے، اس میں پاکستانی قوم رہتی ہو گی؟‘ اور جواب میں لکھا:’اس میں سندھی قوم رہتی ہے، اس میں پنجابی قوم رہتی ہے، اس میں بنگالی قوم رہتی ہے، اس میں یہ قوم رہتی ہے، اس میں وہ قوم رہتی ہے‘۔ سبط حسن نے سوال اٹھایا تھا:’تہذیب عبارت ہے کسی قوم کی ہر نوع کی تخلیقات کی نچوڑ سے۔ہماری تہذیبی روایات کیا ہیں، ان کی پہچان کیا ہے، ہمیں اپنے تہذیبی ورثے میں سے کن کن چیزوں کو مسترد کرنا ہے، کن کن کو فروغ دینا ہے، قومی تہذیب اور علاقائی تہذیبوں کا کیا رشتہ ہے اور اس رشتے کو کس طرح اور مضبوط کیا جائے؟ ابھی تک ہم یہ تصفیہ نہیں کر پائے کہ ہماری تہذیب کا نشان امتیاز کیا ہے اور اس کی شناخت کا طریقہ کیا ہے۔’

 

اس موضوع پر تجاویز پیش کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر پاکستانی شناخت کیا ہے؟ہماری ناقص رائے میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پراب ایک مخصوص پاکستانی شناخت وجود میں آچکی ہے(چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں)۔ اقبال مرحوم سے معذرت کے ساتھ لیکن ہمارے ناقص خیال میں یہ شعر مروجہ پاکستانی شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

مذہبی، حب الوطن، فوج کا حامی،پدر سری نظام کا پیروکار
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے (پاکستانی) مسلمان

 

1۔ مذہب پسندی-پہلا عنصر

 

مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔
مذہبی شناخت رکھنے کا تعلق مذہب کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے نہیں، انسان مذہبی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ’غیر مذہبی‘ بھی ہو سکتا ہے (چاہے یہ بات بھائی عامر ہاشم کو سمجھ آئے یا نہ آئے)۔ مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔ عقیدے کی حد تک مذہب کی بات سمجھ میں آتی ہے، سیاست، معاشرت اور معیشت کے میدان میں دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور معاشی طور پر خوش حال ممالک میں ان موضوعات کے ماہر ہی ان پر رائے دے سکتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کے احکامات پر عمل کرنے کا اختیار انسان کو حاصل ہے (اور ہونا بھی چاہئے)۔ دستور کے مطابق پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ آبادی کا بیشتر حصہ مسلمان ہے۔ ان حالات میں غیر مسلموں سے تفریقی رویہ رکھنا اور اپنی حیثیت پر فخر کرنا تکبر کی نشانی ہے۔ پاکستان کا مطلب بنتے وقت تو جانے کیا تھا، اب لا الہ الا اللہ ہو چکا ہے(یا کیا جا چکا ہے)۔جب پہلی سے سولہویں جماعت کی درسی کتب ’پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے‘ کی گردان کریں گی تو طلبہ اسے ایمان مجمل کی طرح ہی تسلیم کریں گے۔ اس پاکستانی مذہبیت کا ایک پہلو قطعیت بھی ہے، یعنی خود کو ہی درست سمجھنا اور صرف خود کو ہی جنت کا حقدار قرار دینا۔ اس مذہبیت کی بنیاد مذہب سے ایک غیر علمی اور جذباتی تعلق رکھنا ہے۔ پاکستان میں سماجی سطح پر اس مذہبی قطعیت کا اظہار فرقہ وارانہ شکلوں میں بھی عام ہے، جس کی ایک واضح مثال تکفیری دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ اسی مذہبی شناخت کے باعث پاکستانی مسلمان دنیا بھر کے جہادیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، عربوں سے زیادہ عرب بننا چاہتے ہیں اور اپنی مقامی ثقافتی روایات کو تکفیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 

2۔ پدرسری-دوسرا عنصر

 

پدر سری نظام پاکستان کا خاصہ نہیں بلکہ عورت مخالف رویے دنیا کے بیشتر ممالک میں پنپ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں انسانی جان کی قیمت دیگر ممالک کی نسبت ارزاں ہے لہٰذا عورتوں کی جان کی اہمیت اس لحاظ سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔ مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ اس نظام کی بقا اور استحکام میں عورتیں اور مرد برابر کے شریک ہیں۔ پدرسری نظام تقسیم سے قبل بھی ان علاقوں میں صدیوں سے رائج تھا جو موجود پاکستان میں شامل ہیں۔ پدرسری اقدار اب ریاست کے انتظامی بندوبست میں بھی سرایت کر چکی ہیں۔ گو آئین صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ دینے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاہم قانون سازی، انتظامی بندوبست اور سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت اور انہیں شامل کرنے کی خواہش نایاب ہے۔ بہرطور گزشتہ ایک دہائی میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے جو پدرسری اقدار کے تحت روا رکھے جانے والے عورت مخالف رویوں کی حوسلہ شکنی کرتی ہے مگر معاشرے اور ریاست کے عملی بندوبست پر اس قانون سازی کے اثرات ابھی نظر نہیں آتے۔

 

3۔ فوج سے محبت- تیسرا عنصر

 

فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔
فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔ فوج سے محبت امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ فرق صر ف یہ ہے کہ وہاں کمانڈر انچیف کی رخصتی سے قبل ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے‘ کے پوسٹر نہیں لگوائے جاتے، اور نہ ہی وہاں ہر دس سال بعد مارشل لاء نافذ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فوج سے متعلق پائی جانے والی محبت گو تمام صوبوں میں یکساں شدت سے موجود نہیں مگر قومی سیاسی منظر نامے میں سول قیادت عسکری بالادستی کو عملاً قبول کر چکی ہے۔ عوامی سطح پر فوجی سربراہان یا آمروں کے خلاف اگر بعض حلقوں میں نفرت پائی بھی جاتی ہے تو فوج کے ادارے کی عوامی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ فوج سے عوامی محبت کا یہی جذبہ ہے جس کی وجہ سے آج تک فوج کی ناکامیوں، غیر پیشہ ورانہ طرزعمل اور آئین کی خلاف ورزی پر کبھی کسی آمر کا محاسبہ نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ پاکستان کے علاقے تقسیم سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فوجی مہیا کرتے تھے۔

 

4۔ حب الوطنی- چوتھا عنصر

 

حب الوطنی بھی کوئی بری بات نہیں اور اپنے وطن سے الفت رکھنا ایک فطری سی بات ہے۔ اس محبت میں ’وہ قرض چکانا جو واجب بھی نہیں تھے‘ قابل تقلید روش نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کا مطلب دوسرے ممالک سے نفرت کے مترادف نہیں ہونا چاہئے۔ حب الوطنی کا پاکستانی تصور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک سے نفرت کی بنیاد پر استوار ہے۔ اسی طرح حب الوطنی کے تحت غیر حقیقت پسندانہ اور جذباتی طرزعمل جس شدت کے ساتھ پاکستان میں ہے کہیں اور نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے شہری بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ان کے خاندان ہیں، نوکریاں ہیں، ضرورتیں ہیں، ان سے صرف اس صفت کی وجہ سے نفرت کرنا کہ وہ فلاں ملک میں پیدا ہوئے، اول درجے کی حماقت ہے۔ دیگر ممالک سے نفرت کو حب الوطنی کا لازمی جزو بنا لینا، اُس جذباتیت، بیمار نرگسیت اور دیگر اقوام سے الگ تھلگ ہونے کے طرزِ عمل کی بھی بنیاد ہے جو ہمیں عالمی تنہائی کا شکار کر رہے ہیں۔ حب الوطنی کا یہی غیر حقیقت پسندانہ تصور ہمارے ہاں پائے جانے والے سازشی مفروضوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔

 

پاکستانی شناخت کا ارتقاء

 

اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، وہاں جمہوریت کے ارتقاء کی کہانی موجودہ غیر جمہوری رویوں کی داستان سناتی ہے۔ انگریز راج سے سنہ 1970ء تک ووٹ ڈالنے کا حق ایک مخصوص طبقے کو حاصل تھا جو تعلیم یافتہ، نوکری یافتہ یا زمین داری طبقہ تھا۔ انہی لوگوں کے ووٹوں سے پاکستان بنا۔ عام شہری کے لئے جمہویت، ملک صاحب یا شاہ صاحب کی خاطر مدارت سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ ووٹ کی طاقت حاصل کرنے کے بعد بھی یہ تماشا جاری رہا۔ جمہوریت کے فضائل اگر دینو کمہار کو سکھائے جاتے تو چوہدری صاحب کو ووٹ کون ڈالتا؟ جمہوریت کو ووٹ ڈالنے تک محدود کر دیا گیا اور حقیقی فضائل ہمیشہ اشرافیہ کے حصے میں آئے۔70ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کے ساتھ جو لوگ پہلی دفعہ منتخب ہوئے تھے، وہ اس اشرافیہ کا حصہ بن گئے اور ان میں سے بیشتر 85ء کے غیر جماعتی انتخابات میں امیدوار بنے۔جمہوری رویوں سے اجتناب کا نتیجہ نجی سطح پر پدر سری نظام اور سماجی سطح پر آمریت کی شکل میں نکلتا ہے۔

 

اس شناخت کی تعمیر میں بہت سے عوامل شامل رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نالائقی، فوجی قیادت کی مہم جوئی(اور خوش فہمی)، ملائیت کو سرکاری تحفظ عنایت کیا جانا، سماجی تحاریک کی ناکامی، ہمسایہ ممالک کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی، سرکاری موقف کے ذریعے طلباء کی ذہن سازی اور ہر دور حکومت میں ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کئے جانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔تقسیم کے دوران بربریت پر آواز اٹھاؤ تو دو قومی نظریے کی دہائی پڑتی ہے، جناح صاحب کے اقدامات پر تنقید کرو تو حب الوطنی مشکوک قرار دی جاتی ہے، کشمیر میں دخل اندازی کی جانب توجہ دلاؤ تو قومی مفاد کی لال جھنڈی لہرائی جاتی ہے، ’اسلامی تشخص‘ پر تبصرہ کرو تو ایمان کی کمزوری کا رونا رویا جاتا ہے۔

 

یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟ کیا ہم اس شناخت کے ساتھ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں؟ کیا ان خصوصیات کے ساتھ ہم دنیا کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ کیا نوع انسانی کے لئے ہماری یہ شناخت تخریب کا باعث بنے گی یا ملی نغمے کے الفاظ میں ’جہاں تک وقت جائے گا، ہمیں آگے ہی پائے گا‘؟ کیا ہم اس شناخت کی موجودگی میں ’محبت، امن اور اس کا پیغام پاکستان‘ بنا سکیں گے؟
Categories
نقطۂ نظر

سنی تحریک بھی اب شُکر منائے

کتنی ساری باتیں اور خبریں آس پاس آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھ رہی ہیں۔ سمجھ میں آنا دشوار ہو رہا ہے کہ کس کو بڑی خبر سمجھوں اور لفظوں کے پانی میں مدھانی ڈال دوں، کہ شاید اپنے گھسے پِٹے شعور کی ٹِیسوں کا کچھ تو بوجھ ہلکا ہو جائے۔
اس لمبی خبری قطار میں قندوز میں اسپتال پہ امریکی طیاروں کی بمباری پہ اپنے اثر میں “گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ” قسم کی بارک اوبامہ کی معافی؛ بھارت میں مقدس گائے پہ فرضی پھرنے والی چھری کے بعد انسانوں سے ایسا سلوک کہ جو جاں بحق حاجیوں کے جسد ہائے خاکی سےسعودیوں کے “اعلیٰ سلوک” کو بُھلانے باعث بن جائے ؛ این اے 122 لاہور میں چائے کی پیالی میں طوفان؛ کراچی پولیس کی جانب سے گمشدگان کی بازیابی پہ چھپا “افسری معطلی والا اشتہار”، کہ یہ بھی اہم ہے کہ “نا معلوم” کا ایڈیشن 2.0 اشتہاری طور پر ریلیز ہوگیا اور اگر بات گہری ہے تو کتنے ہولے اور ہلکے انداز سے “گہرائی” کھودی گئی؛ اور سپریم کورٹ کا قبلہ غازی ممتاز قادری مدظلہ کی ابدی حیات کے پروانے پہ ایک واضح فیصلہ!
حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا
بہ روایتِ اردو کالم نگاری، منبر آرائی، عشق کی مفت کی لاٹری اور حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو آسانی سے مل سکتا ہے کہ اوبامہ اور امریکہ کی قندوز پہ “زود پشیمان” معافی کے آس پاس اتنی مثالیں جَڑ دوں کہ انسانی حقوق کی امریکی خلاف ورزیاں اور جنگی جرائم ابو غریب جیل کی دیواریں پھلانگ کے گوانتانامو بے جا کے دھوپ سینکیں۔ ایسا ایمان افروز مضمون لکھوں کہ امریکیوں کو یاد آ جائے کہ اونچے ٹاوروں میں لگ بھگ تین ہزار اچھے پیارے انسانوں کی جانیں اپنے ہی ایک وقت کے بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پالے ہوئے سنپولیوں اور طاقت کی لاشریکیت کی خاطر روح فروشی کی سرمستی میں پالے اژدھوں کے ہاتھوں گئی تھیں۔ پر اسی اژدھے کے نام سے کچھ اور دوسرے رنگوں کی چمڑی والے انسانوں کے “ذیلی نقصان” یا آپ کی اپنی نرم گوئی میں کہیں تو “Collateral Damage” کو آپ نے اپنی اندھی اور کانی حد تک غیر حسابی مساوات کے مطابق دسیوں، سینکڑوں اور ہزاروں سے ضرب دے چکے ہیں۔ اب تو جُھرجُھری سی آنے لگتی ہے کہ کب آئے گا وہ ٹھنڈا موسم کہ آپ کو لاکھوں سے ضرب دئیے بغیر شانتی ہو جائے گی؟
حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا، بس اتنا ذہن میں رکھوں کہ لاہور کے بادامی باغ میں صرف بسوں کا اڈا ہی ہوتا ہے اور ہر اڈے کا مینیجر کوئی مجید بٹ ہی ہوتا ہے، باقی وہاں کچھ نہیں ہوا تھا۔ اس پُرخار یاد کو دفع دور کروں کہ گوجرانوالہ میں ماں کے پیٹ میں ہی ماں سمیت بچہ جلا دیا گیا تھا، لاہور میں “جماعت خانہ” کے ساتھ ایمان کی حرارت والوں نے کیا حرکت فرمائی تھی، کوٹ رادھا کشن میں دو انسانوں کے لئے دوزخ کس نے برپا کی تھی۔ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، رمشا کنول کس گڑیا کا نام ہے؟ حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ جب ہی کہ ملے گا کہ ان معاملات پہ میں اپنے ضمیر اور اپنے گریبان کے نالے نہ سنوں، ایک گُل بن جاؤں، بس ہمہ تن گوش رہوں۔ البتہ شیوسنا کی کرکٹ کی پچوں کو اکھاڑنے، ہمارے فنکاروں کے گائیکی کے پروگراموں کو “ہندو توا” کے بل بل لے جانے کا ڈھنڈورا پیٹوں؛ مودی کے گجرات کی خوفناک فلم کا احمد قریشی چوعرقہ بناؤں! لیکن یہ مانتے ہوئے کہ آپ سائبر سپیس کے قاری ہیں اور دماغ پہ زور دینا گوارا نہیں کرتے، بالواسطہ کہی بات کو مشکل طرز تحریر جان کے ردکرتے ہو تو کھلے بندوں کہے دیتا ہوں کہ میرے اپنا دیس میری اپنی روح اور میرا اپنا جسم ہے۔ مجھے پہلے اس کے رِستے نا سوروں کا ادراک کرنا ہے کہ کبھی تو علاج اور دوا کا بندوبست ہوسکے۔ مجھے کہیں اور کی، آر پار کی غلاظتیں اور بدبو ئیں سونگھ کے اپنے آس پاس کی بدبو اور تعفن کے احساس کو گہری نیند نہیں سلانا!
ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔
رہی بات منبر آرائی اور “عشق” کی مفت کی لاٹری کی تو جناب قادری کو میں غازی لکھوں، حضرت جانوں، ان کے سائے تک کو زمیں پے نا پڑنے دوں! کہ عاشق کا تو جنازہ بھی دھوم سے نکالنے کے منشور دیئے گئے ہیں۔ پر فوراً غلط ہو جاؤں جو یہ بولوں کہ شہادت اگر ہے مطلوب و مقصود مومن تو پھر یہ ایڈووکیٹ نذیر اختر صاحب اس عاشق بامراد، غازی ممتاز قادری کو گناہوں بھری اس دنیا میں مزید رکھنے پہ مُصر کیوں ہیں؟ کاہے کو اپیلیں دائر کرتے ہیں کہ “سزا” کم کی جائے۔ بھلا یہ خود سے ایک بلاسفیمی نہیں ہے کہ اس “جزا” کو سزا کہا جا رہا ہے؟ بلکہ عرض ہے کہ جو قبلہ ممتاز قادری کو بذریعہ تقاریر جمعہ اس “سعادت” کی طرف لے کے آئے، اور عدالتوں کی پیشی کے دوران پھول کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ہیں انہیں بھی ساتھ ہی مطلوب و مقصودِ مومن کی خوبصورت دنیا کی طرف مراجعت کی دعوت دی جائے۔ لیکن ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔ اس تحریک کے پاس فراغت تھی باقی تو کچھ افغانستان کے کلمے سیدھے کرانے، کچھ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے، کشمیر کو پاکستان بنانے، غزوہ ہند برپا کرنے کے مشن پر مامور ہیں اور کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا بنانے کی لیے دن کو رات کئے ہوئے ہیں، کچھ بھارت کو سیکولر اور پاکستان کو عمامہ پہنانے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور سر کھجانے کی فرصت نہیں ان کے پاس، اور اب بچی کھچی سنی تحریک کو بھی کام مل گیا ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے۔