Categories
نقطۂ نظر

حب الوطنی کا جھوٹا احساس

فرانز اوپن ہائیمر (Franz Oppenheimer) کے مطابق انسان کے پاس اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے صرف دو متضاد ذرائع ہٖیں، پہلا کام (Work) اور دوسرا لوٹ مار (Robbery)؛ یعنی یا تو وہ اپنی محنت (labour)سے یا وہ دوسروں کی محنت (labour) چھین کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ جے سی لیسٹر کے مطابق، لوٹ مار انسان کے لئے سب سے پر کشش پیشہ رہا ہے اور ہزار ہا برس گزر جانے کے باوجود انسان کی اس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اسی لوٹ مار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ نے ریاست کے ارتقاء میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ریاست کے جواز پر موجود فلسفیانہ مخاطبے (Discourse) میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاست لوٹ مار روکنے اور لوگوں کے تحفظ کے لیے وجود میں آئی ہے یا ریاست لوٹ مار کو مستقل اور آئینی بنانے کے لیے وجود میں آئی ہے؟

 

جے سی لیسٹر کے مطابق، لوٹ مار انسان کے لئے سب سے پر کشش پیشہ رہا ہے اور ہزار ہا برس گزر جانے کے باوجود انسان کی اس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
تھامس ہابس، روسو اور جان لاک کے مطابق ریاست عوام اور حکمران کے درمیان ایک سماجی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ بقولِ تھامس ہابس state of nature یعنی ریاست بننے سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو لوٹتے تھے، ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرتے تھے وہ سب حالتِ جنگ میں تھے تو اس حالت سے نکلنے کے لیے انہوں نے ایک سماجی معاہدے کے مطابق ایک حکمران (sovereign power) کو اختیارات دیے تا کہ وہ سماج میں order law andکے ذریعے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرے۔ تھامس ہابس حکمران کو absolute powers دیتاہے کیونکہ لوگوں کو حکمران کی ضرورت ہے۔ دوسرے الفاظ میں ریاست کا وجود انسانوں سے زیادہ اہم ہے کیونکہ ریاست لوگوں کی بقا کا ضامن ہے۔

 

روسو کے مطابق جب state of nature میں جب لوگو ں کے درمیان حقِ جائیداد پر جھگڑے شروع ہوئے تو لوگوں نے عمومی رائے (general will) سے ایک حکمران منتخب کیا تا کہ وہ قانوں کی حکمرانی قائم کرے۔ روسو کا نظریہ اگرچہ واضح نہیں ہے لیکن روسو کی عمومی رائے کو دانشور سوشلسٹ ڈیموکریسی خیال کرتے ہیں کیونکہ روسو کے عمرانی معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ جن لوگوں نے زمینوں/جا ئیدادوں پر قبضہ کیا تھا ان سے انہیں دستبردار ہونا پڑے گا۔ جان لاک کا خیال ہے state of nature میں انسان آزاد تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کوئی ایسی سیاسی مقتدرہ نہیں تھی جوکسی کی جان، مال اور آزادی کے خلاف جارحیت کرنے والوں کو روکتی۔ جان لاک کا فلسفہ موجود جمہوری فلاحی ریاستوں کی بنیاد ہے جس کے مطابق حکمران کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کے انسانی حقوق (جان، مال اور آزادٖی) کو یقینی بنانا ہے اور اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو لوگوں کو حق حاصل ہے کہ انہیں سے تبدیل کریں۔

 

جان لاک کا فلسفہ موجود جمہوری فلاحی ریاستوں کی بنیاد ہے جس کے مطابق حکمران کی بنیادی ذمہ داری لوگوں کے حقوق کو یقینی بنانا ہے اور اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو لوگوں کو حق حاصل ہے کہ انہیں سے تبدیل کریں۔
مندرجہ بالا فلاسفہ گر چہ مختلف states of nature کی تصویر کشی کرتے ہیں اور مختلف طرزِ حکومت تجویز کرتے ہیں لیکن ان تینوں فلسفیوں کے نظریات سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ریاست لوگوں کی مرضی سے وجود میں آئی تا کہ آپس میں جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے اور قانون کی بالادستی کے ذریعے انسانوں کی جان، مال اور آزادی کو محفوظ بنایا جائے۔ اس کے بر عکس نراجیت پسند (Anarchist) اورآزادی پسند (libertarian) فلسفی چونکہ کسی بھی قسم کے تشدد کے خلاف ہیں اور ریاست کا وجود تشدد کے بغیر ممکن نہیں اس لئے ان کا خیال ہے کہ ریاست لوگوں کی مرضی سے نہیں بلکہ لوگوں پر مسلط کی گئی ہے۔ ڈیوڈ ہیوم (1826) کے مطابق دنیا کی تقریباً تمام موجودہ ریاستیں فتح (Conquest) یا غصب (Usurpation) یا دونوں کے ذریعے وجود میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایسی کوئی ریاست نہیں جو لوگوں کی رضا کارانہ مرضی سے وجود میں آئی ہو۔ انتھونی ڈی جاسے (Anthony de Jasay) کے مطابق زیادہ تر انسان جو مختلف ملکوں میں ہیں وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ان کے آباواجداد کو حملہ آور نے شکست دی تھی یا انہوں نے Hobson’s choice کی وجہ سےکسی ایک بادشاہ کی اطاعت کر لی تا کہ دوسرے بادشاہ کی بربریت سے محفوظ رہ سکے۔ اسی طرح کلیرنس ایس ڈارو بھی دلیل دیتے ہیں کی ریاست کا آغاز جار حیت (aggression) سے ہوا ہے اور صرف تشدد (violence) کے ذریعے ہی اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے جس کے لئے فوج، پولیس اور عدلیہ کی ضرورت ہوتی ہے، یہ امر مثالی امن کے بنیادی اصول کے خلاف ہے جو تشدد سے نہیں بلکہ انصاف اور آزادی کی بنیاد پر ہو۔ فوج اور پولیس کی ضرورت ہی اس لیے پیش آئی تا کہ ان کو جبری بھرتی (conscription) کروایا جائے ؛ ان سے جبری کام (Slavery)کام کروایا جائے اور لوگوں سے جبری ٹیکس وصول کیا جائے۔
فرانز اپن ہائیمر کا خیال ہے ریاست اس لئے وجود میں آئی تا کہ لوگوں کو ماضی کی طرح بیک وقت ہر چیز سے محروم نہ کیا جائے بلکہ ان کو باقاعدگی سے اس طرح لوٹا جائے کہ ان سے مال بھی بٹورا جائے اور وہ اس قابل بھی رہیں کہ مزید مال بھی پیدا کر تے رہیں۔ یعنی ایک بار سب کچھ لوٹنے کی بجائے عوام کے تھوڑا تھوڑا اور بار بار یا مستقل پر لوٹا جائے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہوا جب انسانی سماج شکار کے زمانے (جب انسان شکار پر گزارہ کرتا تھا) اور گلہ بانی کے زمانے (جب انسان نے جانوروں کو خانگی بنانا شروع کیا)سے نکل کرزرعی دور میں داخل ہوا،کیونکہ زراعت کی دریافت اور ایجاد (ٹیکنالوجی) کے بعد انسان نہ صرف مستقل طور پر آباد ہونا شروع ہوا بلکہ کام کی تقسیم (division of labour) اور کام میں تخصیصی مہارت (specialisation) کے نتیجے میں معاشی پیداوار میں اضافہ بھی ہونے لگا جس سے تجارت (Commerce) بھی وجود میں آئی (ایڈم سمتھ)۔ ریاست کے نام پر اس مستقل لوٹ مار کو جے لیسٹر agriculturalization of predation جبکہ مینکراولسن stationary banditry کا نام دیتے ہیں۔

 

جدید ریاستی نظام (nation-state system) میں بھی ریاست اور جنگ ساتھ ساتھ (hand in hand) آگے بڑھ رہے ہیں۔ جے سی لیسٹر کے مطابق یورپ میں مسلسل جنگوں کی وجہ سے حکمرانوں نے غیرمعمولی مقصد (extraordinary purpose) یعنی جنگ کے لئے عوام پر مستقل ٹیکس نافذ کیا تا کہ بڑی تعداد میں عسکری قوت (mass military) کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی افسرِ شاہی بھی قائم کی جائے۔ اس کا مقصد لوگوں کے درمیان ایک مشترک عمومی شناخت (common identity) پیدا کرنے کے لئے زبان، قانون اور روایات کی یکسانیت (یعنی، ایک تعلیم، ایک قانون، ایک زبان ) کا حصول تھا تاکہ ایک قومی شعور (national consciousness) اجا گر کیا جا سکے جسے تعلیمی اداروں کے ذریعے منتقل کی جانے والی ثقافت بھی کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں عوام میں قومی جذبہ پیدا ہو گا۔ پھر اسی جذبے کی بنیاد پر دیگر اقوام کے ساتھ مسابقت اور نفرت کو ہوا دی جائے اور عوام کے اندر یہ خوف پیدا کیا جائے کہ ان کے وجود کو دوسری اقوام سے خطرہ ہے۔

 

فرانز اپن ہائیمر کا خیال ہے ریاست اس لئے وجود میں آئی تا کہ لوگوں کو ماضی کی طرح بیک وقت ہر چیز سے محروم کرنے کی بجائے ان کو باقاعدگی سے اس طرح لوٹا جائے کہ ان سے مال بھی بٹورا جائے اور وہ اس قابل بھی رہیں کہ مزید مال بھی پیدا کر تے رہیں۔
مثال کے طور پر ایک محتاط اندازے کے مطابق طور پر 98 فیصد سے پاکستانیوں نے زندگی میں کبھی بھی کسی ہندوستانی سے بات نہیں کی لیکن زیادہ تر لوگ ہندوستان کو پاکستا ن کا دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ ان کو ایک یکساں تعلیمی نظام اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہندوستان سے دشمنی سکھائی گئی ہے۔ ورنہ اگر ان میں سےکسی کو ہندوستانیوں سے ملنے اور رابطے کا موقع ملے گا تو ممکن ہے شعیب ملک کی طرح وہ بھی کسی ہندوستانی مرد یا عورت سے شادی کر لیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے جھگڑے عوامی سطح پر نہیں ہوتے بلکہ ریاستی سطح پر پیدا کیے جاتے ہیں۔ جے سی لیسٹر کے مطابق صرف بیسویں صدی میں ریاستی جنگوں اور جھگڑوں میں سترہ کروڑ سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ اس کے بر عکس دوسرے جرائم میں اسی لاکھ لوگ مارے گئے ہیں۔ جنگوں کی وجوہات ریاستیں خود پیدا کرتی ہیں تاکہ بڑی افواج اورافسرِشاہی رکھنے اور بھاری ٹیکسوں کو جواز فراہم کیا جاسکے۔ محب وطن شہری بن کر جنگوں کی بھاری قیمتیں عوام ادا کرتے ہیں جبکہ قومی ہیرو حکمران اور افواج کے سربراہان ہوتے ہیں۔دوسرے الفا ظ میں غلامی حب الوطنی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ جو لوگ قومی بیانیے سے اختلاف کریں یا قومیتوں کے ادغام سے یکساں قومیت کے قیام (homogenisation) کی مزاحمت کریں تو انہیں قومی مفاد کے لئے خطرہ قرار دے کر غدار کا لقب دیا جاتا ہے تا کہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے جواز قرار فراہم کیا جائے۔ ریاست جب ناکام ہوتی ہے تو لوگوں کی نفسیات اور جذبات کو بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً پاکستان جیسی ریاست میں اگر بچے بھی دہشت گردی میں مارے جائیں تو اسے شہادت کا رنگ دیا جاتا ہے اور خوبصورت ملی نغموں سے عوام کو جذباتی بنایا جاتا ہے تاکہ وہ صورت حال کا منطقی اور تنقیدی جائزہ نہ لے سکیں۔

 

ریاست پر اس فلسفیانہ بحث کے تناظر میں اگر پاکستانی ریاست کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایک نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ریاست نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات کے مطابق پاکستان تھامس ہابس کی بیان کردہ state of nature کی منظر کشی کر رہا ہے یعنی کسی کی جان، مال اور نہ ہی آزادی محفوظ ہے لوگ حالت جنگ میں ہیں۔ اور اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ موجودہ پاکستان ایک ریاست ہے کیونکہ اس کا اپنا آئین او رادارے ہیں اور حکمران بھی ہیں تو بھی پاکستان جان لاک اور روسو کی فلاحی یا سوشلسٹ ڈیموکریسی پر مبنی ریاست کے بر عکس تھامس ہابس کی ریاست ہے جس میں حکمرانوں بشمول سیاسی قیادت، بیوروکرسی اورا فواج کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں اورعوام بے بس ہیں کیونکہ ان کو اس خوف میں رکھا گیاہے کہ ریاست کے بغیر ان کے وجود کو خطرہ ہے۔ دوسرے الفا ظ میں شہری ریاست کے لیے ہیں اور ریاست شہریوں کے لئے نہیں ہے۔

 

جنگوں کی وجوہات ریاستیں خود پیدا کرتی ہیں تاکہ بڑی افواج اورافسرِشاہی رکھنے اور بھاری ٹیکسوں کو جواز فراہم کیا جاسکے۔
اگرنراجیت پسند اور آزادی پسند نظریات کے تناظر میں دیکھا جائے کہ ریاست انسانی پر مسلط کی گئی ہے تا کہ لوٹ مار کو مستقل اور آئینی حیثیت دی جا سکے تو پاکستانی ریاست واقعی لوگوں پر مسلط شدہ ریاست لگتی ہے۔ مسخ شدہ تاریخ، خود ساختہ دشمن، قومی مفاد، دفاع وطن اور دوسرے کھو کھلے نظریات کی بنیاد پر لوگوں میں حب الوطنی کا جھوٹا احساس (false sense of patriotism) پیدا کر کے سیاسی اورعسکری اشرافیہ کی لوٹ مار کے لئے راہ ہموار کیا گیا ہے۔ عوام غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں، معیاری تعلیم، صحت، بجلی، صاف پانی اور روزگار سے محروم ہیں لیکن دفاعی بجٹ میں ہر سال اضافہ کیا جاتا ہے اورعام لوگوں کے برعکس مقتدر اشرافیہ امیر سے امیر تر ہوتی جا رہی ہے۔
عوام کو اگر واقعی محب وطن بننا ہے تو وہ اس بار یوم آزادی کو جذباتی تقریروں اور ملی نغموں کے ساتھ منانے کی بجائے حکمرانوں کے سا تھ عمرانی معاہدے کی تجدید کر یں کہ ریاست لوگوں کی فلاح کے لیے ہے۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کو یقینی بنائے اورحکمران اگر یہ فرائض انجام نہیں دے رہے تو ان کو حکمرانی کا کوئی حق نہیں اور یہی آ ئین کی سادہ ترین تشریح ہے۔ بہتر یہی ہے کہ لوگ پرامن احتجاج کریں اور اپنے آئینی مطالبات پرامن جلوسوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکمرانوں تک پہنچائیں، ریاست کو بھی خود ساختہ دشمنوں کے مقابلے کے لیے ہتھیار سازی اور لشکر سازی پر بے دریغ خرچ کی بجائے اپنے بنیادی مقصد یعنی فلاح و بہبود کے لیے وسائل مختص کرنے چاہیئں۔
Categories
نقطۂ نظر

یہ چار عناصر ہوں تو۔۔

[blockquote style=”3″]

پاکستان میں شناخت کے موضوع پر بحث عرصہ دراز سے جاری ہے۔ تاہم ستر برس کے دوران ایک ایسی شناخت وجود میں آ چکی ہے جو اگرچہ علمی حلقوں میں متنازع ہے مگر اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے معاملات میں اس کی واضح چھاپ موجود ہے۔ عبدالمجید عابد کی یہ تحریر اس سے قبل ‘ہم سب’ پر بھی شائع ہو چکی ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

شناخت (Identity) کا قومیت (Nationalism) کی تعمیر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستانیت اور پاکستانی شناخت کے متعلق بحث تقسیم ہند کے بعد سے جاری ہے۔ اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔ اس سلسلے میں دائیں بازو (اور ریاستی اداروں) کی جانب سے دو قومی نظریہ اور نظریہ ء پاکستان کی اختراع کی گئی۔ بائیں بازو نے سندھ ساگر اور مقامی شناختوں کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ایوب اور یحییٰ دور میں پاکستانیت کے نظریاتی معیار کا چرچا رہا تو بھٹو صاحب کے دور میں ثقافت اور تہذیب کو پروان دی گئی۔ ضیاء دور میں مذہبی شناخت کو حرفِ اول اور حرف آخر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ بعدازاں جمہوری حکومتوں نے اس بحث میں قابل قدر حصہ نہیں ڈالا اور موجودہ دور میں ہم شناخت کے معاملے پر ایک تذبذب (confusion) کا شکار ہیں۔

 

اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔
ابن انشاء نے سنہ 69 ء میں ’ہمارا ملک‘ نامی فکاہیے میں پوچھاتھا:’یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے، اس میں پاکستانی قوم رہتی ہو گی؟‘ اور جواب میں لکھا:’اس میں سندھی قوم رہتی ہے، اس میں پنجابی قوم رہتی ہے، اس میں بنگالی قوم رہتی ہے، اس میں یہ قوم رہتی ہے، اس میں وہ قوم رہتی ہے‘۔ سبط حسن نے سوال اٹھایا تھا:’تہذیب عبارت ہے کسی قوم کی ہر نوع کی تخلیقات کی نچوڑ سے۔ہماری تہذیبی روایات کیا ہیں، ان کی پہچان کیا ہے، ہمیں اپنے تہذیبی ورثے میں سے کن کن چیزوں کو مسترد کرنا ہے، کن کن کو فروغ دینا ہے، قومی تہذیب اور علاقائی تہذیبوں کا کیا رشتہ ہے اور اس رشتے کو کس طرح اور مضبوط کیا جائے؟ ابھی تک ہم یہ تصفیہ نہیں کر پائے کہ ہماری تہذیب کا نشان امتیاز کیا ہے اور اس کی شناخت کا طریقہ کیا ہے۔’

 

اس موضوع پر تجاویز پیش کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر پاکستانی شناخت کیا ہے؟ہماری ناقص رائے میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پراب ایک مخصوص پاکستانی شناخت وجود میں آچکی ہے(چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں)۔ اقبال مرحوم سے معذرت کے ساتھ لیکن ہمارے ناقص خیال میں یہ شعر مروجہ پاکستانی شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

مذہبی، حب الوطن، فوج کا حامی،پدر سری نظام کا پیروکار
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے (پاکستانی) مسلمان

 

1۔ مذہب پسندی-پہلا عنصر

 

مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔
مذہبی شناخت رکھنے کا تعلق مذہب کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے نہیں، انسان مذہبی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ’غیر مذہبی‘ بھی ہو سکتا ہے (چاہے یہ بات بھائی عامر ہاشم کو سمجھ آئے یا نہ آئے)۔ مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔ عقیدے کی حد تک مذہب کی بات سمجھ میں آتی ہے، سیاست، معاشرت اور معیشت کے میدان میں دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور معاشی طور پر خوش حال ممالک میں ان موضوعات کے ماہر ہی ان پر رائے دے سکتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کے احکامات پر عمل کرنے کا اختیار انسان کو حاصل ہے (اور ہونا بھی چاہئے)۔ دستور کے مطابق پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ آبادی کا بیشتر حصہ مسلمان ہے۔ ان حالات میں غیر مسلموں سے تفریقی رویہ رکھنا اور اپنی حیثیت پر فخر کرنا تکبر کی نشانی ہے۔ پاکستان کا مطلب بنتے وقت تو جانے کیا تھا، اب لا الہ الا اللہ ہو چکا ہے(یا کیا جا چکا ہے)۔جب پہلی سے سولہویں جماعت کی درسی کتب ’پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے‘ کی گردان کریں گی تو طلبہ اسے ایمان مجمل کی طرح ہی تسلیم کریں گے۔ اس پاکستانی مذہبیت کا ایک پہلو قطعیت بھی ہے، یعنی خود کو ہی درست سمجھنا اور صرف خود کو ہی جنت کا حقدار قرار دینا۔ اس مذہبیت کی بنیاد مذہب سے ایک غیر علمی اور جذباتی تعلق رکھنا ہے۔ پاکستان میں سماجی سطح پر اس مذہبی قطعیت کا اظہار فرقہ وارانہ شکلوں میں بھی عام ہے، جس کی ایک واضح مثال تکفیری دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ اسی مذہبی شناخت کے باعث پاکستانی مسلمان دنیا بھر کے جہادیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، عربوں سے زیادہ عرب بننا چاہتے ہیں اور اپنی مقامی ثقافتی روایات کو تکفیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 

2۔ پدرسری-دوسرا عنصر

 

پدر سری نظام پاکستان کا خاصہ نہیں بلکہ عورت مخالف رویے دنیا کے بیشتر ممالک میں پنپ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں انسانی جان کی قیمت دیگر ممالک کی نسبت ارزاں ہے لہٰذا عورتوں کی جان کی اہمیت اس لحاظ سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔ مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ اس نظام کی بقا اور استحکام میں عورتیں اور مرد برابر کے شریک ہیں۔ پدرسری نظام تقسیم سے قبل بھی ان علاقوں میں صدیوں سے رائج تھا جو موجود پاکستان میں شامل ہیں۔ پدرسری اقدار اب ریاست کے انتظامی بندوبست میں بھی سرایت کر چکی ہیں۔ گو آئین صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ دینے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاہم قانون سازی، انتظامی بندوبست اور سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت اور انہیں شامل کرنے کی خواہش نایاب ہے۔ بہرطور گزشتہ ایک دہائی میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے جو پدرسری اقدار کے تحت روا رکھے جانے والے عورت مخالف رویوں کی حوسلہ شکنی کرتی ہے مگر معاشرے اور ریاست کے عملی بندوبست پر اس قانون سازی کے اثرات ابھی نظر نہیں آتے۔

 

3۔ فوج سے محبت- تیسرا عنصر

 

فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔
فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔ فوج سے محبت امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ فرق صر ف یہ ہے کہ وہاں کمانڈر انچیف کی رخصتی سے قبل ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے‘ کے پوسٹر نہیں لگوائے جاتے، اور نہ ہی وہاں ہر دس سال بعد مارشل لاء نافذ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فوج سے متعلق پائی جانے والی محبت گو تمام صوبوں میں یکساں شدت سے موجود نہیں مگر قومی سیاسی منظر نامے میں سول قیادت عسکری بالادستی کو عملاً قبول کر چکی ہے۔ عوامی سطح پر فوجی سربراہان یا آمروں کے خلاف اگر بعض حلقوں میں نفرت پائی بھی جاتی ہے تو فوج کے ادارے کی عوامی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ فوج سے عوامی محبت کا یہی جذبہ ہے جس کی وجہ سے آج تک فوج کی ناکامیوں، غیر پیشہ ورانہ طرزعمل اور آئین کی خلاف ورزی پر کبھی کسی آمر کا محاسبہ نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ پاکستان کے علاقے تقسیم سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فوجی مہیا کرتے تھے۔

 

4۔ حب الوطنی- چوتھا عنصر

 

حب الوطنی بھی کوئی بری بات نہیں اور اپنے وطن سے الفت رکھنا ایک فطری سی بات ہے۔ اس محبت میں ’وہ قرض چکانا جو واجب بھی نہیں تھے‘ قابل تقلید روش نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کا مطلب دوسرے ممالک سے نفرت کے مترادف نہیں ہونا چاہئے۔ حب الوطنی کا پاکستانی تصور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک سے نفرت کی بنیاد پر استوار ہے۔ اسی طرح حب الوطنی کے تحت غیر حقیقت پسندانہ اور جذباتی طرزعمل جس شدت کے ساتھ پاکستان میں ہے کہیں اور نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے شہری بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ان کے خاندان ہیں، نوکریاں ہیں، ضرورتیں ہیں، ان سے صرف اس صفت کی وجہ سے نفرت کرنا کہ وہ فلاں ملک میں پیدا ہوئے، اول درجے کی حماقت ہے۔ دیگر ممالک سے نفرت کو حب الوطنی کا لازمی جزو بنا لینا، اُس جذباتیت، بیمار نرگسیت اور دیگر اقوام سے الگ تھلگ ہونے کے طرزِ عمل کی بھی بنیاد ہے جو ہمیں عالمی تنہائی کا شکار کر رہے ہیں۔ حب الوطنی کا یہی غیر حقیقت پسندانہ تصور ہمارے ہاں پائے جانے والے سازشی مفروضوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔

 

پاکستانی شناخت کا ارتقاء

 

اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، وہاں جمہوریت کے ارتقاء کی کہانی موجودہ غیر جمہوری رویوں کی داستان سناتی ہے۔ انگریز راج سے سنہ 1970ء تک ووٹ ڈالنے کا حق ایک مخصوص طبقے کو حاصل تھا جو تعلیم یافتہ، نوکری یافتہ یا زمین داری طبقہ تھا۔ انہی لوگوں کے ووٹوں سے پاکستان بنا۔ عام شہری کے لئے جمہویت، ملک صاحب یا شاہ صاحب کی خاطر مدارت سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ ووٹ کی طاقت حاصل کرنے کے بعد بھی یہ تماشا جاری رہا۔ جمہوریت کے فضائل اگر دینو کمہار کو سکھائے جاتے تو چوہدری صاحب کو ووٹ کون ڈالتا؟ جمہوریت کو ووٹ ڈالنے تک محدود کر دیا گیا اور حقیقی فضائل ہمیشہ اشرافیہ کے حصے میں آئے۔70ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کے ساتھ جو لوگ پہلی دفعہ منتخب ہوئے تھے، وہ اس اشرافیہ کا حصہ بن گئے اور ان میں سے بیشتر 85ء کے غیر جماعتی انتخابات میں امیدوار بنے۔جمہوری رویوں سے اجتناب کا نتیجہ نجی سطح پر پدر سری نظام اور سماجی سطح پر آمریت کی شکل میں نکلتا ہے۔

 

اس شناخت کی تعمیر میں بہت سے عوامل شامل رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نالائقی، فوجی قیادت کی مہم جوئی(اور خوش فہمی)، ملائیت کو سرکاری تحفظ عنایت کیا جانا، سماجی تحاریک کی ناکامی، ہمسایہ ممالک کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی، سرکاری موقف کے ذریعے طلباء کی ذہن سازی اور ہر دور حکومت میں ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کئے جانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔تقسیم کے دوران بربریت پر آواز اٹھاؤ تو دو قومی نظریے کی دہائی پڑتی ہے، جناح صاحب کے اقدامات پر تنقید کرو تو حب الوطنی مشکوک قرار دی جاتی ہے، کشمیر میں دخل اندازی کی جانب توجہ دلاؤ تو قومی مفاد کی لال جھنڈی لہرائی جاتی ہے، ’اسلامی تشخص‘ پر تبصرہ کرو تو ایمان کی کمزوری کا رونا رویا جاتا ہے۔

 

یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟ کیا ہم اس شناخت کے ساتھ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں؟ کیا ان خصوصیات کے ساتھ ہم دنیا کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ کیا نوع انسانی کے لئے ہماری یہ شناخت تخریب کا باعث بنے گی یا ملی نغمے کے الفاظ میں ’جہاں تک وقت جائے گا، ہمیں آگے ہی پائے گا‘؟ کیا ہم اس شناخت کی موجودگی میں ’محبت، امن اور اس کا پیغام پاکستان‘ بنا سکیں گے؟