Categories
تبصرہ

کسی ایک شاعر کے لفظ ۔۔۔ (عدنان بشیر)

مسعود دانیال : دانیال طریر
۲۴ فروری ۱۹۸۰ء۔۔۔۳۱ جولائی۲۰۱۵ء
( ۳۵ سال ۵ ماہ ۷ دن )
اردو ادب میں ایم۔اے کیا اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ میں تدریس کے فرائض سرا نجام دیتے رہے۔
۲۰۰۵ء آد ھی آتما
۲۰۰۹ء بلوچستانی شعریات کی تلاش(جلد اول)
۲۰۱۲ء معنی فانی
۲۰۱۲ء معاصر تھیوری اور تعینِ قدر
۲۰۱۳ء جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب
۲۰۱۳ء خواب کمخواب
۲۰۱۳ء خدا مری نظم کیوں پڑھے گا (طویل نظم)


زمین پر ہر کھلنے والا پھول ہمیں امید، خوشی اور تازگی کے احساس سے ہم کنار کرتا ہے ایسے ہی شاعری بھی۔۔۔ لیکن غضب ہوا کہ ہم نے شاعری کو ایسے کھردرے لفظوں سے بھر دیا جنھوں نے گلستان ِ سخن میں کانٹوں کا مقا م جا سنبھالا۔ یقیناً شعروں کے پھول بھی حفاظت کے متقاضی ہوں گے۔

جڑواں شہروں میں آئے دوسال ہوگئے۔ برادر رفاقت راضی اکادمی ادبیات اور تمام دوستوں سے فرداََ فرداََ ملواتے پھرے۔ اکادمی میں جب بھی گیا اور حامد محبوب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ہمیشہ کہا کہ آپ کا نام ذہن میں دانیال ہی آتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دانیال طریر ایک عرصہ ان شہروں میں رہے۔ مئی ۲۰۱۴ء میں ہی دانیال سے ملاقات ہوئی۔ ماشااللہ ہوٹل اسلام آباد میں جو ایک چھپر ہوٹل ہے اور ہر شام اختر عثمان صاحب کے دم سے وہاں شاعروں ادیبوں کی محفل جمتی ہے۔ دانیال اور میں اتنے شاعروں میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے یوں مسکراتے رہے ’’جوں گفتگو کرتا ہے ستارے سے ستارہ‘‘۔ دانیال سے ملاقات کی سرشاری ابھی تک رگ و پے میں ہے۔ سو ایسے میں دانیال پہ لکھنا ایسے ہی جیسے کوئی اپنے ہی بارے میں لکھے۔

’’ آدھی آتما‘‘ دانیال طریر کی شاعری کا اولین مجموعہ تھا جو آدھا بارش میں بھیگاہوا حماد نیاز ی نے مرے سپرد کیا۔ کتاب پڑھ کے شک ہوا کہ شاید بارش نہیں آنسوؤں سے بھیگا ہوگا۔ اور پھر حماد نیازی کی دانیال طریر کے لیے آنسوؤں میں بھیگی نظم فیس بک پر پڑھی۔ اس کتاب نے ایک نئے ذائقے سے آشنا کیا۔ اجنبیت اور غرابت کا احساس تھا جو ’’معنی فانی‘‘ اور’’ خواب کمخواب‘‘ نے بدل دیا۔ ’’ خدا مری نظم کیوں پڑھے گا‘‘نے تو سارا منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا۔ وہ جسے اجنبیت پہ محمول ٹھہرا رہا تھا وہ تو اپنے مفہوم کے ساتھ یوں در وا کرتا چلا گیا کہ خو د کو بمشکل شعر کہنے سے روکا۔ شعر کہنے والے جانتے ہیں کہ اہم شاعر وہ ہوتا ہے جسے سن کے یا پڑھ کے خود بھی شعر کہنے کو دل چاہنے لگے۔ دانیال طریر کی خوبی بھی یہی ہے کہ اسے پڑھ کے لکھنے کو دل چاہتا ہے۔

’’خد امری نظم کیوں پڑھے گا‘‘ نظم کا عنوان ایک بار تو ہم میں موجود مردِ مومن کو ہلا کے رکھ دیتا ہے کہ یہ کیا؟؟ اپنی مرضی سے بیان پیش کرکے فتوی صادر کرنے کی بجائے نظم کے پہلے حصے کی آخری تین لائنیں دیکھتے ہیں۔

’’یہ نظم کا من گھڑت فسانہ
وہ اس سے بہتر ہزار قصے پلک جھپک وقت میں گھڑے گا
خدا مری نظم کیوں پڑھے گا۔‘‘

یہ نظم خدا کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ اس کے مخاطب زمین کے ہی لوگ ہیں۔یہ عنوان اپنے اندر ایک شدید طنز لیے ہے۔ بلوچستان ہی کے ایک شاعر کی طویل نظم میں دو لائنوں نے اس احساس کو مزید ابھارا کہ ہم بغیر پڑھے یا صرف عنوان دیکھ کر ہی اپنے اپنے فتووں کی پٹاریاں کھول لیتے ہیں۔

’’خدا کو نظمیں پڑھانے والو
زمین کا مسئلہ تو سمجھو‘‘

شاعر کا یہ اعتراض دانیال کے علاوہ اور کس کی طرف ہو سکتا ہے۔ لازم ہے کہ دانیال کی نظم کے عنوان کو ہی اگر سمجھ لیا جائے تو ایسے مغالطے پیدا نہ ہوں۔اس نظم کوپڑھنے کے لیے دانیال زمین کے لوگوں سے ہی شاکی تھے۔یہ نظم انھی کے لیے ہی تو لکھی گئی ہے، خداسے گفتگو کے لیے تو ہمارا شاعر خود جا چکا ہے۔ نظم کے مختلف حصوں میں سے بالترتیب کچھ لائنیں نظم کے مخاطب کا تعین کرنے کے لیے۔۔۔
’’زمیں کی مخلوقِ بے خبر کو جمال اورجنس کے علومِ ہزار در کا سبق پڑھانے، ؍ہوا کو طرزِ جنوں سکھانے، یہ روشنی اوڑھ کر نہانے۔۔؍مگر زمیں زادگاں نے اس کو نہ اسم جانا نہ جسم سمجھا؍اسے کسی دیو کے صلاح کار سامری کا طلسم سمجھا‘‘
’’بانسری کون بجا رہا ہے؍وہ تمام بھیدوں کی طرح یہ بھید بھی جانتا ہے؍اس لیے وہ میرے ساتھ اسے تلاش نہیں کرے گا ؍خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟‘‘

اس کے پاس شاید ایک دن ہی تھا۔ جوانی میں ہی ہر لمحہ اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کی آہٹ مسلسل اس کے کانوں میں تھی اور زمین پاؤں کے نیچے پیہم کسی زلزلے کی زد میں محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے میں زندگی کا ایک دن،ایک صبح سے اگلی صبح تک یا ایک رات سے اگلی رات تک۔ اردو شعراء کی اکثریت نے اس ایک دن کی زندگی کو رات سے شروع ہو کر رات میں ہی بدلتے ہوئے دیکھا او ر دکھایا ہے۔داغ داغ اجالہ ہو یا شب گزیدہ سحر اور رات کے گزرنے پر رات ہی جنم لے گی کا اعلان اور ایسے ہی یاسیت اور قنوطیت پسندی کے رجحانات ہمیں اپنی شاعری میں ڈھونڈنے کے لیے بہت تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ رویہ ہی ہمارے درد و غم جمع کر کے دیوان بنانے کی خواہشات کا ترجمان ہے۔ دانیال طریر کی یہ طویل نظم اسی ایک دن کے چوبیس گھنٹو ں کی طرح چوبیس حصوں پر مشتمل ہے لیکن ہمارے مذکورہ رجحان کے برعکس موت کے درندے کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر بھی دانیال نے امید پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
میں مر جاؤں گا
اور دنیا لفظوں سے نہیں بھر سکوں گا
لیکن جس طرح میں اپنے ابو کا ادھورا کام پورا کر رہا ہوں
بالکل اسی طرح
میرا ادھورا کام میرے طالب علم پورا کریں گے
جو نظمیں میں نہ لکھ سکا میری اولاد لکھے گی
دنیا کو لفظوں سے میری جذبیہ بھرے گی
دنیا کو لفظوں سے میرا جذلان بھرے گا
خدا مری نظم کیوں پڑھے گا

خدا کے اس کارخانے میں یہ نظم دنیا کو بارود سے بھرتے ہوئے لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ وہ جنھوں نے عورت کو انسان نہیں رہنے دیا بلکہ مرد کی مخالف بنا کر اسے بازار کی زینت بنا دیا۔ نظم کا اکیسواں حصہ اسی مادی سوچ پر گہرا طنز ہے۔ دنیا کو بازار بنا دینے اور اس بازار کو گھروں کا حصہ بنا کر ہمارے ہاتھوں میں ہر دم تھما دینے کی اذیت کونظم کا یہ حصہ ہم پر آشکار کر تا ہے۔جب نظم کو بھی بازار کی زینت بنا دیا گیا۔ یہ نظم دراصل ہمارے تہذیبی انحطاط اور لفظوں سے دوری کے کرب پر لکھی گئی جدید زندگی کی کتھا ہے۔ یہ زندگی جس میں ہر سمت صرف بارود کی بو ہے۔ جس میں سے پھولوں کی خوشبو اور لفظوں کی مہک چھین لی گئی ہے۔اس مصنوعی پن نے تو کاغذی پھولوں یا کاغذی پیرہن سے آگے کی نارسائی اور المیے کو جنم دیا ہے۔ برقی رابطے کے منقطع ہوتے ہی ساری دنیا سے کٹ جانے والا فرد جو ابھی اپنے سامعہ اور باصرہ سے ہی لامسہ، شامہ اور ذائقہ کو بھی تسکین دے رہا تھا فوراََ ہی بالکل بے دست و پا ہو جاتاہے۔اگرچہ لمس، باس اور پیاس تینوں کی پیاس محض ایک التباس تھی جوبرقی آواز اور لباس کے محو ہوتے ہی زیادہ شدت سے بھڑک اٹھتی ہے اور جدید معاشرت کا جدید ترین فرد اپنے کانپتے ہاتھوں اور دھندلائی آنکھوں کے ساتھ سامنے کا منظر دیکھنے اور قریب کی آواز سننے کی صلاحیت بحال ہونے میں بھی چند ثانیوں تک بے حس رہتا ہے۔ اسی بے حسی کی کیفیت کے مسلسل طاری ہوجانے کا المیہ اس نظم کے عنوان میں پوشیدہ ہے۔دانیال ہماری اجتماعی ناخواندگی کے گلہ گزار بھی ہوئے اور نظر انداز کر دینے کے تجاہلِ عارفانہ کی وجہ سے دکھی بھی۔
’’مجھے نظم لکھنے سے پہلے ہی سوچنا چاہیے تھا ؍کہ نا خواندگی واقعہ ہی نہیں المیہ بھی ہے‘‘
۔۔۔ ’ علینہ ‘ بھی جب وہا ں ابھی زیرِ التوا ہے؍تو پھر مری نظم پر کوئی غور کیا کرے گا؍خدا مری نظم کیوں پڑھے گا‘‘

زمین والوں کے توکئی تعصبات اوربہت مصروفیات ہیں۔ مجید امجد کی پنواڑی، کنواں چل رہا ہے اور بندہ جیسی نظموں کے حوالے دینے والوں کو اس بات سے دکھی نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ تو’ کنگن ‘نامی نظموں کو یادکرتے اور ان کے لکھنے والوںکو شاعر جانتے ہیں۔ایسے میں دانیال کی یا ان سے پہلے والوں میں سے علی محمد فرشی کی ’’علینہ‘‘ اور انوار فطرت کی ’’آبِ قدیم کے ساحلوں پر‘‘ کو پڑھنے کے لیے ہماری مصروف زندگی میں کیاکوئی پل ہیں؟یہ دانیال طریر کا رقم کیا گیا استغاثہ ہے۔ وہ نظم کے ابتدائیے میں ہی اپنی میراث کو میرو غالب، نظیر و اقبال اور ان کے بعد میرا جی، ن۔ م راشد، مجید امجد، فیض احمد فیض، منیر نیازی اور آفتاب اقبال شمیم سے موسوم کرتے ہیں۔ نظم کے اخیر میں اپنے ان پیش روؤں کی شاعری کو خراجِ پیش کرتے ہوئے وہ ان جیسی کوئی ایک نظم لکھنے کے لیے اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ظرف کی بات ہے جس میں شاعر اپنے ماضی کی شاندار تخلیقات سے اپنی نظم کے سلسلے کو بھی جوڑ رہا ہے اور اپنے سینئرز کے کام کو بھی اسی منظر نامے کا حصہ بناتا ہے۔

ن۔ م۔ راشد کی ’ حسن کوزہ گر ‘ نے اردو نظم نگار وں کو طویل نظم لکھنے کی تحریک دی۔ راشد کے ہم عصر میرا جی اور مجید امجد کی نظموں نے آزاد نظم لکھنے والوں کے لیے راستے آسان کر دیے۔آفتاب اقبال شمیم کی زید سے مکالمہ، احمد شمیم کی اجنبی موسم میں ابابیل، افضال احمد سید کی نوجوبنا اور ثوبیہ،انوار فطرت کی آب ِ قدیم کے ساحلوں پر، علی محمد فرشی کی علینہ کے ساتھ ساتھ اور بہت سے شاعروں نے طویل نظم لکھنے کی کامیاب مثالیں پیش کیں۔ شہزاد نیر نے برفاب اور نوحہ گر، عامر سہیل نے مشہدِ عشق، احمد فواد نے’یہ کوئی کتاب نہیں ‘ اور دل ورق ورق تیرا ‘ میں طویل نظمیں لکھیں۔

مری طرف سے یہ چند لفظ صرف خود کو یاد دہانی ہیں کہ ابھی بے انتہا پڑھنا اور بہت سا لکھنا رہتا ہے اور پھر دانیال نے بالکل سچ ہی تو کہا کہ

’دنیا وہ گھاؤ ہے جسے کسی ایک شاعر کے لفظ نہیں بھر سکتے۔‘

Categories
شاعری

ٹہنیوں کے ہاتھ (کلام: ثروت حسین، انتخاب: عدنان بشیر)

ثروت حسین ادبی دنیا کا وہ نام ہے جسے پچھلی تین دہائیوں میں بے انتہا محبوبیت نصیب ہوئی ہے۔ ان کا غیر مدون کلام جو ان کے کسی مجموعے میں نہیں عدنان بشیر نے تحقیق و تدوین کے مراحل سے گزار کر اکٹھا کیا ہے۔ ‘فاتح کا گیت’ کے عنوان سے یہ مجموعہ بہت جلد کولاج پبلی کیشنز لاہور سے شائع کیا جائے گا۔
آپ میں سے جو دوست ایڈوانس بکنگ کرانا چاہیں وہ رابطہ کر سکتے ہیں
03214036980
کولاج، لاہور حماد نیازی
(تعارف اور انتخاب: عدنان بشیر)

 اس مجموعہ کلام کا کچھ حصہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کرنے کی اجازت دینے پر ہم محترم عدنان بشیر کے شکر گزار ہیں۔

[divider]ثروت حسین(9 نومبر 1949ء تا 9 ستمبر 1996ء)[/divider]

ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ثروت حسین کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا تو کراچی کی ہنگامہ خیز ادبی دنیا میں سلیم احمد اور قمر جمیل کی محفلیں عروج پر تھیں اور نثری نظم کی تحریک نے سرحد کے دونوں طرف ایک ہنگامہ برپا کیا ہواتھا۔کالج کی طرف سےبین الکلیاتی مقابلوں میں متعدد انعامات حاصل کرنے والے ثروت حسین نے جامعہ کراچی سے ایم۔اے اردو (1971ءتا 1973ء)کیا۔ تب جامعہ کراچی میں پروین شاکر، ایوب خاور، صغیر ملال، عذرا عباس، انور سن رائے اور اقبال فریدی بھی زیرِ تعلیم تھے اور جامعہ کراچی سے باہراحمد ہمیش، رئیس فروغ، احمد جاوید، افضال احمد سید،سید ساجد، شوکت عابد اور سارہ شگفتہ ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے جن کے ساتھ پاکستان ریڈیو کراچی کے مشاعروں میں شرکت کا دل چسپ احوال پروین شاکر نے بھی ” آثار” اسلام آباد میں اپنی آپ بیتی میں کیا۔یہ نوجوان شعرا نثری نظم کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ثروت حسین کا کلام فنون، سویرا، شب خون، افکار، آج، پہچان، دنیا زاد، تحریر، روایت اور دیگر اہم ادبی رسائل میں ستر اور اسی کی دہائی میں شائع ہو کر سرحد کے دونوں طرف اپنے مقلدین ومتاثرین کی ایک بڑی تعداد بنا چکا تھا۔
؎ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں

موت کی اس کشش نے ثروت کو کئی بار اپنی طرف کھینچا، کبھی پانی کے ذریعے، کبھی ریل سے ٹکراتے ہوئے اور کبھی رگوں کو کاٹ کھانے والی ادویات کے ساتھ۔ آگ اور لوہے کے دیو یعنی ریل کا مقابلہ کرنے کرتے ہوئے ستمبر 1993ء میں وہ اپنے دونوں پاؤں سے محروم ہو چکے تھے لیکن تین برس بعد ستمبر 1996ء میں وہ دوبارہ اس سے ٹکرائے تو جانبر نہ ہو سکے۔شاعری کی طرح ان کی خودکشی نے بھی ادبی دنیا میں دور رس اثرات ڈالے۔ذیشان ساحل، عتیق جیلانی، سعید الدین، شوکت عابد، عامر سہیل،ادریس بابر،کاشف مجید،فیصل ہاشمی،دانیال طریر،شمشیر حیدر، سلمان ثروت، احمد جہاں گیر،علی زریون،رحمان فارس،حماد نیازی، تہذیب حافی،عرفان شہود، شاہد بلال،مشتاق احمد،سانی سید،ضیا مذکور،توقیررضا، مدثر عباس، محمد علی منظر، امیر حسین اور راقم کے علاوہ دیگر بہت سے شعرا نے ثروت حسین اور ن کی خودکشی پر بہت سی نظمیں اور اشعار لکھے۔(ثروت حسین پر لکھے گئے کلام کو یکجا کرنے کی ایک کوشش” دوستی کا ہاتھ” زیرِ تکمیل ہے)

اک دوپہر بہار تھی پٹری پہ ریل کی
انجن نے آ کے پھول ہمارے کچل دیے
سوئے ہوئے تھے گھاس میں تارے کچل دیے
تتلی کے پر، دلوں کے کنارے کچل دیے
ایسا لگا کہ گیت بھی سارے کچل دیے
لیکن کسی کو چیخ سنائی نہ دے سکی
تصویر زندگی کی دکھائی نہ دے سکی
سبزے سے پھول خاک کی آغوش میں گیا
پانی کا شور وادئ خاموش میں گیا
ٹکڑوں میں خواب ہم سے سجایا نہ جا سکا
گلدستۂ بہار بچایا نہ جا سکا
(ذی شان ساحل)

اردو ادب میں خودکشی کی روایت کا سراغ انیسویں صدی سے ملتا ہےجب 25 اپریل 1886ء کو رونق بنارسی نے اپنے ہی لکھے ہوئے ڈرامے “عاشق کا خون” میں اداکاری کرتے ہوئے سٹیج پر ہی اپنے گلے پہ استرا پھیرلیا۔شکیب جلالی، سارہ شگفتہ،ساغر دہلوی، شبیر شاہد،مقبول تنویر، احسن فارقلیط، آنس معین، قمر بشیر احمد،زوار فاطمی اور اسامہ جمشید کے نام بھی بدقسمتی سےثروت حسین کے ساتھ اسی فہرست میں شامل ہیں۔
؎ شکیب و ثروت و سارا و آنس و عدنان
جو دیوِ آہن و آتش سے جنگ جیت گئے

ثروت حسین کی پہلی کتاب “آدھے سیارے پر ” قوسین لاہور سے 1987ء میں ان کی زندگی میں ہی شائع ہونے والی واحد کتاب ہے۔ان کی موت کے ایک سال بعد خود ان کی طرف سے ترتیب دی گئی دوسری کتاب”خاکدان” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 1997ء میں شائع ہوئی۔”ایک کٹورا پانی کا” دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے 2012ء میں اور “کلیاتِ ثروت حسین ” آج پبلی کیشنز کراچی سے 2015ءمیں شائع ہوئی۔

ثروت حسین اپنا کلام پاک و ہند کے رسائل میں تواتر سے بھیجتے رہتے تھے۔ان رسائل میں بہت سا کلام ایسا ملا جو کلیات میں شامل نہ ہو سکا تھا۔ستر کے قریب یہ تخلیقات کولاج پبلی کیشنز لاہور سے ” فاتح کا گیت” کے عنوان تلے کتابی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ان تخلیقات میں غزلیں، نظمیں، حکایتیں، بچوں کے لیے نظمیں، دو خاکے اور ایک ناول کا خاکہ شامل ہیں۔کلام کے بعد فہرست کے نمبر شمار کے مطابق تمام تخلیقات کے حوالہ جات اور ماخذ کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی کلام کے استناد پر اٹھنے والے سوال کا جواب موجود ہو۔

کسی ادیب کے کیے ہوئے کام کو یکجا کرتے ہوئے ملنے والے تمام آثار کو یکجا کر دینا ہی اصل مقصد ہوتا ہے۔ ان میں شاعر، ادیب کے طرزِ احساس سے یکسر مختلف تخلیقات بھی شامل ہو سکتی ہیں لیکن ثروت حسین کے غلام حسین ساجد کو لکھے گئے خط کے ایک اقتباس کے مطابق اسے شاعر انہ کل کا ایک جزو ہی جان لینا چاہیے۔

“زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ہزار ذائقے، کہیں آمیز اور کہیں الگ الگ۔ اور پھر یہ مختلف رنگ اور ذائقے سب کے لیے یکساں کشش نہیں رکھتے۔۔۔کیا ہم صرف پھولوں اور پتیوں کو درخت کہہ سکتے ہیں، کھردری چھال، ٹہنیاں، کانٹے اور بد ہئیت جڑیں اور برگ و بار یہ سب مل کر ایک کُل بناتے ہیں۔ سو تم ان غزلوں کو میرے شاعرانہ کُل کا ایک جزو جانو، پھول نہ سہی، ٹہنیوں کے پر خراش ہاتھ سہی۔”(ثروت حسین)

نگار خانے میں بیل
نگار خانے میں بیل ہے اور سورماؤں کے پاؤں پتھر کے ہوگئے ہیں
کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں ہے جو رنگ و الواح کی صدا پر مبارزت کا چراغ لے کر ہوا میں نکلے
ہوا میں نکلے کہ رات گہری ہے بیل بپھرا ہوا ہے
اطراف کی صفوں کو پیوندِ خاک کرتا گزر رہا ہے
تمام آئینے، موقلم، رنگ کے پیالے
جو آج سینگو ں کی نوک پر ہیں
دعا تھے، آواز تھے،بدن تھے
مگر یہ کرچیں
مگر یہ کرچیں جو میری آنکھوں میں،میرے ہاتھوں میں
۔ ۔ ۔ میرے تلووں میں چبھ رہی ہیں
حروف و اشکال کے جہنم گواہ رہنا
گواہ رہنا کہ کس کے نیزے کی نوک چمکی تھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے سینے کی ڈھال دیوار بن گئی تھی
٭٭٭

[divider]وہ تین تھے[/divider]

وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں پر صبح ہو رہی تھی
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور ان کے پیر ننگے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور لوگ گزر رہے تھے
مذہب‘ سیاست اور گھریلوقضیے
عورت کی چوٹیاں
صبر اور انتقام سے گندھی ہوئیں
بچہ عورت کو دیکھ رہاتھا
عورت اپنے مرد کو
مرد کی آنکھیں عدالت کے دروازے پر
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ اور دوپہربیچ عدالت کی عمارت خالی ہو رہی تھی
مجسمے سیڑھیوں پر رکھے تھے
وہ تین تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عدالت کی سیڑھیوں سے رات اتر رہی تھی
٭٭٭

[divider]بچپن[/divider]

جنوب کے ساحلی علاقوں میں دور بچپن کی تاب ناکی
کے ریت ذرے دمک رہے ہیں، ہزار ہا خوش گوار یادیں
ہمارا دامان کھینچتی ہیں، سفید اور ملگجے پرندے
جھلک دکھا کر فضا میں روپوش ہو گئے ہیں، زمیں کے اوپر
وہ بیر شہتوت کے جزیرے، گیاہ سر سبز جیسے پانی
کہ پھوار بن کر برس رہی ہے اوائلِ عمر کی کہانی

[divider]دوپہر[/divider]

تیز جھکڑ میں ہلتی ہوئی جھاڑیوں پر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سپاہی کے ملبوس کی دھجیاں
اور سفر۔۔۔دھوپ دیوار ہے
۔ ۔ ۔ ناخنوں سے کھرچتے ہوئے بیت جانے میں لذت نہیں
بارشیں، ٹہنیاں، پھول، بادل، پرندے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہرے کوس، چٹیل
پون چکیوں کے پروں پر ابھرتے، بگڑتے مناظر کے اس پار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ندی کے پھیلاؤ میں کشتیاں ریت ہیں

اگر کسی روز۔۔۔

اگر کسی روز یہ سمندر
ہماری بستی پہ پاﺅں رکھ دے
تو کاٹھ گودام اور گلیاں
عدالتیں اور دھوپ گھڑیاں
سپاس ناموں، معاہدوں سے بنے ہوئے یہ تمام منظر
ہمارے جسموں پہ آر ہیں گے

[divider]بھکشا پارتر[/divider]

اب سیارے پر شام ہوئی
سورج کے پروں کی چھایا ہے
اک ان دیکھی تنہائی نے
پوجا کا اگر سلگایا ہے
اے دیوی تیری چوکھٹ پر
یہ کون مسافر آیا ہے

میں بادل ہوں میں سایا ہوں
اور تیرے در پر آیا ہوں
اے دیوی آن کے دیکھ ذرا
یہ بھکشا پاتر خالی ہے
اور نگر نگر دیوالی ہے
٭٭٭

[divider]وائی[/divider]

۔ ۔ ۔ آیا ہوں لاڑ سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے
۔ ۔ ۔ ہاتھوں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گر پڑی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورج کی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنکھڑی
دیکھ مجھے! ۔ ۔ ۔ دیکھ مجھے!!
ظ۔ ۔ ۔ تیشوں سے
ظ۔ ۔ ۔ کٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رستے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہٹ جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن یہ پہاڑ سے
دیکھ مجھے!دیکھ مجھے !!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منہدی کی باڑ سے

[divider]حکایت[/divider]

میرے پاس دو ہاتھ ہیں لیکن چیزیں جو میرے ہاتھ میں ہیں وہ چار ہیں: قلم، جس سے میں شاعری لکھتا ہوں، تیشہ جس سے میں پہاڑ کاٹتا ہوں، چپو جس سے میں سمندر کاٹتا ہوں اور یہ آخری چیز تلوار میرے حکمران ہونے کی دلیل ہے اور جو حکمران ہے اسے ہی زیب دیتا ہے خوش پوشاک ہونا اور کہنا کہ تم نے اتنی دیر کہاں لگادی اور جو ملاح ہے وہ چاہتا ہے سمندر کی طرف جانا جہاں ایک جل پری مونگے کی چٹان پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ مرجان کا ایک پنکھا اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ جس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں وہ انتظار کر سکتی ہے یہاں تک کہ ملاح آئے اور اس کا نصف بدن جو مچھلی کا ہے عورت میں بدل جائے اور جو تیشہ بدست ہے وہ زمین ایک روزن بنانا چاہتا ہے، روزن جس سے وہ دیکھ سکے۔ پاتال کو اور اس کے خزانوں کو اور کھینچ سکے خوشیاں جو زمین کی تہہ میں اس کے لیے رکھ دی گئی ہیں اور جو شاعر ہے وہ کچھ نہیں چاہتا سوائے ایک سفید کاغذ کے جو ایک ازلی انتظار ہے اور انتظار تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ خدا ہے اور خدا وہ ہے جو انسانوں کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں موجزن ہے اور جو موجزن ہے اسے سمندر تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

٭٭٭

[divider]متفرقات[/divider]

اے جنگل! ان گلیوں، ان بازاروں کو
چھوڑ آئے ہیں تیرے ایک اشارے پر
بہنے والی کشتی کو معلوم نہیں
دو آنکھیں جلتی ہیں دور کنارے پر
٭٭٭
بہتے بادل کیسے دیکھیں کیسے جانیں
جلتی دیواروں کا باطن، گزر گیا دن
خوابوں کی آواز پہ جھاگ اڑاتے جائیں
شام سبھا میں سب کچھ ممکن گزر گیا دن
٭٭٭
باغوں چراغوں میں جلتا ہے کون
گیتوں کی گلیوں میں چلتا ہے کون
جلتی ہوئی مشعلوں سے پرے
سبز آئنوں میں پگھلتا ہے کون
٭٭٭

مفتوح ستارے مٹی میں
جیتا ہوا لشکر آگ میں ہے
میں اپنے گماں میں زندہ ہوں
وہ اپنی میسر آگ میں ہے
کیا بیس برس، کیا تیس برس
اک شخص برابر آگ میں ہے
٭٭٭
دیکھ یہ دن پھر نہیں چڑھے گا، ایسی شام نہیں ہوگی
اے مری دوست، مری محبوبہ جاگیروں سے باہر آ
گرم زمیں پر سایہ کرنا مذہب گھنے درختوں کا
اے مرے شاعر، اے مرے ساتھی تحریروں سے باہر آ
٭٭٭
تم کہاں اس کنجِ آزار میں کھوئی ہوئی ہو
تم کو تو میرے بچے کی ماں ہونا تھا
آئینے کو سبز کیا میری آنکھوں نے
مجھ سے ہی یہ کارِ شیشہ گراں ہونا تھا
٭٭٭
دوری ہے بس ایک فیصلے کی
پتوار چنوں کہ پر بناؤں
بہتی ہوئی آگ سے پرندہ
بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں
٭٭٭
زندہ رکھتا ہوں اپنے ساتھ اسے
اپنے دشمن کو تھام رکھتا ہوں
آگ ہوں اور اس اندھیرے میں
آئنے سے کلام رکھتا ہوں
٭٭٭
شبِ ستارہ و ساحل کو خیر باد کہو
کہ اس سے پہلے سمندر نے یوں بلایا نہ تھا
٭٭٭
کوئی صورت نئی دیکھوں تو یہ وحشت کم ہو
تیری کھینچی ہوئی دیوار میں در چاہتا ہوں

مجھ سے ناراض بہت ہیں یہ خدایانِ زمیں
جرم اتنا ہے کہ حصے کو ثمر چاہتا ہوں
٭٭٭
یا آئینہ جھوٹ کہہ رہا ہے
یا میں ہی عجیب ہو گیا ہوں
چاہت میں کسی کرن کی ثروت
سورج سے قریب ہو گیا ہوں
٭٭٭
لہلہاتی خواہشوں کے رنگ دھیمے پڑ گئے
بادلوں کے شور سے دیوار ہی کالی نہیں
کچھ تو ہم بھی جھومتے رہتے ہیں ان کے دھیان میں
اور کچھ وہ لڑکیاں بھی بھولنے والی نہیں
٭٭٭
یہ موج موج تلاطم، یہ شورِ ہم نفساں
اب اس ہجوم میں کیا ہم سا کم سخن اُترے
٭٭٭
اُس دستِ ناز پر کبھی بیعت نہ کر سکے
اپنے سوا کسی سے محبت نہ کر سکے
ہفت آسمان سیر کیے اور کنجِ دل
اک حرف تھا کہ جس کو حکایت نہ کر سکے
٭٭٭
زوالِ زردمیں رہتا ہوں اور سوچتا ہوں
یہ میرے چار طرف عہدِ ابتلا کیا ہے
٭٭٭
ہم اس کو بھول گئے تھے کہ ناگہاں کل پھر
ہوئی جو شام تو یاد آ گیا وہ کاجل پھر
٭٭٭
جہانِ تیرگی میں شاعری کا نام لیتا ہوں
یہ میری روشنی ہے روشنی سے کام لیتا ہوں
٭٭٭

ردائے سقفِ آسماں بچھانے والے ہاتھ نے
کہیں کہیں پہ روزنِ دعا رکھاہے کس لیے
٭٭٭
زمین بیٹھتی جاتی ہے اور اک حصہ
جہاں پہ پاؤں ہیں میرے وہاں سے اونچا ہے
٭٭٭
اگرچہ سر پہ کڑی دھوپ تھی مگر ثروت
کسی کے قرب کا سایہ بہت گھنیرا تھا
٭٭٭
میری ادائیں وہی اور وہی دشت وبن
آج بھی سایہ فگن، خوف ہیں مجھ پر ترے
راحت و رنجش وہی اور وہی بارشیں
خشت و خرابات میں خوش ہیں گداگر ترے
٭٭٭
آشنائے لب و رخسارہوں مجھ سے پوچھو
وہ پری گھر میں اتر آئے تو کیا لگتی ہے
٭٭٭٭
طاق، اندھیرا اور سیارے رہ جائیں گے
جائے نماز پہ میرا سایہ پھر نہیں ہوگا
٭٭٭
یہ کیا کہ آج بڑھے آ رہی ہے میری سمت
ہر ایک موجِ سب گام سیلِ آب لیے
٭٭٭
جلتے ہیں اب بھی ہونٹ دھڑکتا ہے اب بھی دل
ثروت وہ ایک رات تو کب کی گزر گئی
٭٭٭
جھلک اٹھا ہے کنارِ شفق سے تا بہ افق
ابد کنار ہوا خون رائیگاں نہ گیا
٭٭٭
گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے
٭٭٭