Categories
شاعری

اصل و نسب

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اصل و نسب

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف
جس نے بنائے پَر
جس نے بنائی ہڈی
جس نے بنایا سنگِ گرانِیت
جس نے اگایا بنفشہ
جس نے بنایا گیتار
جس نے تخلیق کیا پسینہ
جس نے جَنا آدم
جس نے جَنی مریم
جس نے جنا عیسٰی
جس نے بنائی نِیستی
جس نے کبھی نہیں جنا تھا
ہر گز نہیں، کبھی بھی نہیں، بالکل بھی نہیں
جس نے جنا کوا
واسطۂِ خون رونے دھونے کے لیئے
کیڑوں مکوڑوں کے لئے، روٹی کے چُورے کے لئے
ہر ایسی ویسی چیز کے لئے
بے بال و پَر گھونسلےکی آلائیشوں میں کپکپاتے رہنے کے لئے

Image: Hans Kanters
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

تنہا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تنہا

[/vc_column_text][vc_column_text]

مایا اینجلو
ترجمہ: رابعہ وحید

 

پچھلی رات میں لیٹی سوچ کے تانے بانے بنتی رہی
کہ میں اپنی روح کے لیے کس طرح ایک گھرتلاش کروں
جہاں پانی کی پیاس نہ ہو
اور روٹی کا پھلکا پتھر جیسا سخت نہ ہو
میں اس نتیجہ پر پہنچی
اور میں تذبذب کا شکار ہوں کہ میں غلط نہیں
کہ کوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس گھر کاسُراغ نہیں لگا سکتا

 

تنہا، بالکل تن تنہاکوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا

 

دنیا میں ایسے کروڑ پتی لوگ بھی ہیں
جو دولت رکھتے ہیں لیکن استعمال نہیں کرتے
ان کی بیویاں بھاگتی پھرتی ہیں
اُن روحوں کی طرح
جو قریب آتی ہوئی موت سے متنبہ کرتے ہوئے ماتم کر رہی ہیں
جن کے بچے اداسی بھرے گیت گاتے ہیں
جن کے پاس مہنگے ڈاکٹروں کی سہولت ہے
اپنے پتھر جیسے دلوں کا علاج کرانے کے لیے
لیکن کوئی شخص
نہیں نہیں بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے ، تنہا اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا
تنہا بالکل تنہا
کوئی شخص بھی نہیں
بلکہ کوئی بھی نہیں
اکیلے اس کا حل ڈھونڈ سکتا

 

اب اگر تم توجہ سے میری بات سنو
تو میں تمہیں وہ کچھ بتاﺅں گی جو میں جانتی ہوں
طوفانی کیفیات سے بادل اکٹھے ہو رہے ہیں
ہوا چلنا ہی چاہتی ہے
نسلِ انسانی ایک کرب سے گزر رہی ہے
اور میں یہ کراہیں سُن سکتی ہوں
کیوں کہ کوئی شخص نہیں
بلکہ کوئی بھی شخص
تنہا اس کا حل ڈھونڈ نہیں سکتا

 

تنہا، تن تنہا
کوئی شخص نہیں ، بلکہ کوئی بھی شخص نہیں
اکیلے اس کا حل ڈھونڈ سکتا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

اپنی راکھ، چنگاریوں اور جلی ہوئی لکڑیوں کو ہِلاتے جُلاتے

 

ایک غازہ مَلی ہوئی آنکھ، ایک بار آدھی پگھلی، بعدازاں جم گئی ہوئی
سوچتے بچارتے
ان خیالات کے متعلق، جو چکنا چور ہو جاتے ہیں
توجہ کی نظر کے پہلی ہی بار مٓس کرنے سے

 

کھڑکی پہ پڑنے والی روشنی، کتنی مربع شکل اور عین پہلے ہی جیسی
بالکل ہمیشہ جیسی، پوری طرح توانا، اور اس کھڑکی کا قالب
خلا میں باندھی ایک مچان جوکہ آنکھوں کے اوپر جھکنے کے واسطے ہے

 

جسم کے آسرے کے واسطے، اپنے پرانے کام کرنے کی شکل میں ڈھلے
سُرمئی ہوا میں چھوٹی چھوٹی مسافتیں کرتے
سُن شُدہ اس دھندلائے سے حادثے سے
اس مہلک، حقیقی گھاؤ کی کیفیت کے اندر سے گذر آنے کے
نِسیان کی لاچاری کے زیرِ اثر

 

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

 

بڑھاپا آہستگی سے ملبوس ہو جاتا ہے
موت رات کی بھاری خوراکِ دوا پر
بستر کے ایک کونے پہ بیٹھتی ہے

 

اپنا ریزہ ریزہ چُن کے اکٹھا کرتی ہے
اور اپنی قمیص میں ٹانک لیتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

الٰہیات

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

الٰہیات

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

نہیں، یہ سانپ تو بالکل ہی نہیں تھا”
جس نے حوا کو سیب خوری کے لئے بہکایا تھا
یہ تو سراسر حقائق کی توڑموڑ ہے۔

 

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت۔

 

اب بھی سانپ
جنت میں پیٹ بھرے مستِئ خواب میں ہے
اور خدا کی طعن و تشنیع کا منتظر ہے۔”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

غیر معمولی عورت

[blockquote style=”3″]

اس نظم میں مایا اینجلو کا اپنی ذات پر اعتماد اور یقین واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور عام عورت کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ عورت کواُس کے غیر معمولی پن اُس کی شخصیت کے سحر، پُر اسراریت اور خوبصورتی کا احساس دلانا چاہ رہی ہیں۔ عورت جسے مردانہ حاکمیت پر استوار معاشروں میں دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔ اس نظم میں حد سے زیادہ پُر اعتماد اور اپنی شخصیت کی خوبیوں سے آشنا دکھائی دے رہی ہے اور شاید مایا اینجلو ہر عورت کو ایسا ہی غیر معمولی طور پُر اعتماد دیکھنا چاہتی ہیں۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غیر معمولی عورت

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا ایجلو
تعارف و ترجمہ: رابعہ وحید

 

حسین عورتیں حیرت زدہ ہیں کہ میری (سحر زدہ شخصیت) کا راز کس چیز میں ہے
میں نہ تو پُر کشش ہوں اور نہ ہی میرے خد و خال
کسی ماڈل (گرل) سے مطابقت رکھتے ہیں
لیکن جب میں اپنی (سحر زدہ شخصیت) کا راز انہیں بتانا شروع کرتی ہوں
وہ سوچتی ہیں کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری بانہوں کی دسترس میں ہے
یہ میرے کولہوں کے احاطے میں ہے
یہ میرے اٹھتے ہوئے قدموں میں ہے
میرے ہونٹوں کے کٹاؤ میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر یقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

میں بھی کمرے میں جاتی ہوں
ایک مرد کے پاس
اُسی پُر سکون انداز میں جیسے تم مطمئن کرنے جاتی ہو
اُن محبوبوں کو جو تمہارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
یا گھٹنوں کے بَل جھکے ہوتے ہیں

 

پھروہ میرے گرد اشتیاق سے جمع ہو جاتے ہیں
جیسے شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے کے گرد

 

میں کہتی ہوں
یہ میری آنکھوں کی دہکتی ہوئی آگ ہے
اور میرے دانتوں کی چمک ہے
میری بَل کھاتی ہوئی کمر ہے
اور میرے پیروں میں بھری مستی ہے

 

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

خود مرد بھی حیرت زدہ ہیں
کہ ان کو مجھ میں کیا دکھائی دیتا ہے
وہ بہت کوشش کرتے ہیں
لیکن وہ میری ذات کی پُر اسرایت کو نہیں چھو پاتے
جب میں ان پر اپنی (ذات) آشکار کرتی ہوں
تو وہ کہتے ہیں
ہم پھر بھی کچھ نہیں دیکھ پائے

 

میں کہتی ہوں
یہ (سحر) میری کمر کے خَم میں ہے
میری مسکراہٹ کے چمکتے سورج میں ہے
میرے پستانوں کے اُبھار میں ہے
میرے پُر وقار نازو ادا میں ہے
میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیریقینی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

 

اب تم سمجھ سکتی ہو
صرف اسی وجہ سے میرا سر کبھی نہیں جھکا
میں چیختی چلاتی نہیں
یا ادھر ادھر اچھلتی نہیں پھرتی
یا مجھے کبھی حاکمانہ انداز میں بات نہیں کرنا پڑتی
تمہیں تو اس بات پر ہی نازاں ہو جانا چاہیے
جب تم مجھے اپنے پاس سے گزرتا ہُوا دیکھو

 

میں کہتی ہوں
یہ(سحر) میری ایڑیوں کی ٹک ٹک میں پوشیدہ ہے
مرے گھنگریالے بالوں میں ہے
میری ہاتھ کی ہتھیلی میں ہے
میری نوک پلک سنوارنے کی ضرورت میں ہے
کیوں کہ میں ایک عورت ہوں
غیر معمولی_______
وہ غیر معمولی عورت_______
میں ہی ہوں

Image: Amy Toensing
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: یاسر چٹھہ

 

چوسر، لانگلینڈ، ڈگلس، ڈنبر ساتھ تمہارے
باقی کے قدماء، تم کیسے کامیاب رہے،
درد سلانے کی دواؤں یا غم غلط کرنے کے آسروں کے بغیر،
روزانہ کے بغلی خطروں میں گِھرے جادو ٹونے کرنے والوں اور والیوں سے،

 

جذامیوں سے، اہلِ کلیسا سے، سرحد پار کے بھاڑے کے فوجیوں سے،
جیسے جلے بُھنے سے وہ آتے، کیسے لکھتے رہے آپ اتنے رہ کے پُرمسرت، ترحمِ خودی میں چہرہ پر شکنیں لائے بغیر؟
پیچ در پیچ آپ کی عبارتیں گو کہ تھیں لیکن بیہودہ نا ہر گِز ہوئیں،

 

کار ہائے جنس سے تمسخرانہ برت کی لیکن صفحات کو متعفّن نا کیا، تمہاری گُلو گرفتہ پروازیں، لاجواب عالی مرتبت خوشمزگی، جب کہ ہمارے عہد کے تخلیق کار،
جسمانی سکون کے بازوؤں میں محصور
مامون ہیں بہ انداز خود تمام خرافات سے

 

اپنی افضل ترین حالت میں بھی اکثر کج خلق،
الجھے ہوئے، سنگ بنے اپنی کریہہ اناؤں کے ہاتھوں۔
ہم سب پوچھتے ہیں، پر شاید ہی کوئی ہے جو یہ بتائے کہ سب عَہدوں میں سے
ہمارے وقت کو ہی کیوں پاتے ہیں سب باقی زمانوں والے

 

ایک ایسا عہد جو ہو شدید تنفّر آور۔
بغیر اس کے بے حس انجنوں کے، تم ہرگز مکین ہو سکتے نہیں میری کتابوں کی شیلفوں کے،
عین ممکن ہے یہ میرے کان اُچک لیں اور میرا اُداس گوشت چپکے سے ہڑپ کر جائیں۔
میں اب بخوشی صرف ایسا بنوں گا

 

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔

Image: Ford Madox Brown
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شہر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شہر

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ڈبلیو ایچ آڈن
مترجم: فیاض احمد

 

گاوں میں جہاں سے ان کے لڑکپن آئے
ضررت کی تلاش میں
اُنہیں سکھایا گیا تھا
ضرورت فطرتاََ ایک سی ہوتی ہے
اِس سے قطعٔ نظر کہ اسے کیسے اور کس سے پورا جائے۔

 

شہر، اگرچہ ایسا کوئی یقین نہیں رکھتا
سب کو خوش آمدید کہتا ہے، جیسے وہ اکیلا آیا ہے۔
ضرورت کی فطرت دکھ کی طرح
بالکل ہر ایک کے اپنے مُطابق ہوتی ہے

 

اور (شہر) انہیں بہت کچھ پیش کرتا ہے
ہر کوئی اپنی حالت کے موافق ترغیب لیتا ہے
اور ساری کاریگری میں مہارت حاصل کرنے کو رُک جاتا ہے

 

عدم وجود کے با وصف،
کھانے کے وقت دھوپ میں، فوارے کے بنیرے پربیٹھے
گاؤں سے آتے بچوں کو دیکھا
اور قہقہ لگایا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں پھر اٹھوں گی

[blockquote style=”3″]

مایا اینجلو ایک سیاہ فام شاعرہ ہیں جوصیغہ واحد متکلم میں بات کرتی ہیں لیکن سیاہ فام عورت کی اجتماعی آواز بن جاتی ہیں جو غلامی سے نجات پانے، زندگی میں حق حاصل کرنے اور باوقار مقام پانے کی خواہش رکھتی ہے۔ مایا نے ساری زندگی عورت کی تانیثیت کی جنگ لڑی۔ وہ بےک وقت سیاہ فارم عورت اور پوری دنیا کی اُس عورت کی نمائندگی کرتی ہیں جو مرد معاشرے میں ایک دوسرے درجے کی جنس تصور کی جاتی ہے۔”میں اٹھوں گی“ مایاکی وہ نظم ہے جو ان کے پختہ عزم کا احاطہ کرتی ہے جس میں مایا کی زندگی کے کچھ سوانحی(Autobiographical) نقوش بھی جلوہ گر ہیں

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں پھر اٹھوں گی

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: مایا اینجلو
مترجم: رابعہ وحید

 

تم تاریخ میں میراذکر کر سکتے ہو
اپنے تلخ اور من گھڑت جھوٹے انداز میں
تم مجھے مٹی میں رَول سکتے ہو
لیکن اسی مٹی سے میں ایک بار پھر اٹھوں گی

 

کیا میری حد سے بڑھی پُر اعتمادی تمہیں پریشان کرتی ہے؟
تم کیوں مایوسی سے بھرے ہوئے ہو!
کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں
کہ میں یوں چلتی ہوں جیسے میں نے
تیل کے کنویں حاصل کر لیے ہوں
جو میرے رہائشی کمرے سے نکل رہے ہوں

 

بالکل چاند اور سورج کی طرح
لہروں کے یقین کے ساتھ
بالکل اُن امیدوں کی طرح
جو بہت اونچی اڑانیں بھر رہی ہیں
میں بھی اڑان بھروں گی

 

کیا تم مجھے شکست خوردہ دیکھنا چاہتے تھے؟
خمیدہ سر اورجھکی آنکھوں کے ساتھ
آنسوﺅں کے قطروں کی طرح، بے حوصلہ کاندھوں کے ساتھ
اپنی روح میں بھری ہوئی چیخوں سے کمزور ہوتا ہُوا

 

کیا میرا پُر اعتماد رویہ تمہیں غصہ دلاتا ہے؟
کیا یہ تمہارے لیے ایک انتباہ نہیں
کیوں کہ میں اس طرح ہنستی ہوں
جیسے میں نے سونے کی کانیں حاصل کر لی ہوں
جو میرے(گھر کے) پچھلے صحن میں کھودی جا رہی ہیں

 

تم چاہو تو مجھے اپنے لفظوں (کی کرواہٹ) سے مار دو
تم مجھے اپنی نظروں سے زخمی کر دو
تم مجھے اپنی نفرت سے قتل کر دو
لیکن اس سب کے باوجود میں ہوا کی طرح اڑان بھروں گی

 

کیا تم میری جنسی خواہش سے مضطرب ہوتے ہو؟
کیا یہ بات تمھارے لےے باعثِ حیرت ہے؟
کہ میں اس طرح رقص کرتی ہوں جیسے میں نے ہیرے جواہرات پا لیے ہوں
عین اُس مقام پر جہاں میرا چست پاجامہ(آپس میں) ملتا ہے

 

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے

 

خوف اور دہشت کی سیاہ راتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے
میں اڑان بھروں گی
دن کی پہلی کرن بن کر
جو حیران کن حد تک واضح اور چمک دار ہوتی ہے
میں اٹھوں گی
وہ تحائف لے کر جو میرے آباﺅ اجداد نے دیے
میں ایک غلام کی اُمید اور اُس کا خواب ہوں
میں اڑان بھروں گی
میں اٹھوں گی
میں اٹھوں گی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ ہمہ تن چشم ہوا اور دیکھے
شاہ زادوں کے قدم اٹھانے کے انداز، ازواج و طفلان کے بیان؛
مکرّر کھولِیں پرانی مرقدیں اپنے قلب کے دُروں سے سیکھنے کو
کہ کون سے قانون تھے وہ جن کی نا خلفی سے جاں سے گئے سب مرحومین؛

 

اور بعد بہتیرے تذبذب آیا اس نتیجہ پر:
“سب اسیرانِ کُرسی فلسفی غلط ہیں،
کسی اور سے محبت خلجان جَنتی ہے،
سب نوحے ہیں شیطان کا رقص۔”

 

اور دو زانو ہوا بَر رُوئے تقدیر، اور کامران ہوا، اس طرح
کہ جلد سرفراز ہوا بادشاہی پہ سب مخلوقوں کی:
مگر، جھٹکا کھائے خزاں کے بُرے خواب سے، دیکھا،

 

نیچے اترتا خالی صحن میں
عین اُسی کے مسخ نین و نقوش کا اک سایہ
جو رویا، پھر دیو ہیکل ہوا، اور بھرّائی آواز میں گویا ہوا، ہائے وائے۔

Image: Mark M Mellon
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ساکت زندگی (آوازیں)-پیڈرو سیرانو کی ایک نظم

[blockquote style=”3″]

پیڈرو سیرانو مونٹریال، کینیڈا، میں 1947 کو پیدا ہوئے۔ نیشنل آٹونومس یونیورسٹی میکسیکو میں فلسفہ و ادب کی فیکلٹی میں پروفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں تازہ ترین 2009 میں شائع ہوئی ہے۔ شاعری کے متعدد مجموعہ جات میں ان کی نظمیں شامل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے خود بھی کئی شاعری کے مجموعوں (anthologies) میں بطور مدیر اور معاون مدیر کام کیا ہے۔ کئی معتبر جرائد کے مدیرِ اساسی ہیں۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ساکت زندگی (آوازیں)

[/vc_column_text][vc_column_text]

پیڈرو سیرانو: پیڈرو سیرانو
مترجم: یاسر چٹھہ

 

سب جُزئیاتی فرق ہی میں ڈھکا ہے
سب روشنی کے کھیل ہی کا باسی ہے
سب شاہد کے ارادے کی معطلی سے ہی جُڑا ہے۔

 

آپ دنیا پہ ایسے نظر گاڑتے ہیں
کہ جیسے یہ قائم رہنے کے واسطے ہے
کہ جیسے عملوں کی بار بار کرنی تخم کی
بار آوری کر دے گی
کہ جیسے گلیاں چُھونے کی حس سے معمور
حوالے ہوں۔
آپ ایسے دیکھتے ہیں جیسے آپ یہاں دائم موجود رہیں گے۔
آپ اسی انداز ہی سے تو دیکھتے ہیں، بغیر کسی دلیل کے سہارے کے،
بے گانے ہو کر ہر برپا ہوتی ہونی سے، پس یہی ہے
انداز آپ کے دیکھنے کا،
آپ خود کو ہی دیکھتے ہیں، آپ اپنی ہی پشت کو دیکھتے ہیں۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: ٹیڈ ہیوز
انگریزی سے ترجمہ: رابعہ وحید
ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو

 

ایک مکڑی کا جالا
شبنم کے قطروں کے
چھوئے جانے کے خوف سے تن گیاہے
اُٹھا کے لے جانے والی بالٹی میں
لبالب بھرا ہُوا پانی
شام کے پہلے ستارے کا جھلملاتا عکس دکھا رہا ہے
ٹیلوں کے گرد اپنی سانس کے
گرم ہالے بناتی ہوئی گائیں
اپنے گھر جا رہی ہیں

 

جن کے بڑے بڑے وجود
خون کا بہتا ہُوا
گہرا دریا لگ رہے ہیں
جو سنبھال رہی ہیں
کہ اُن کا دودھ چھلک نہ جائے

 

“چااااند_____چاند، چاند”
تم چلّانے لگی_____
چاند ایک مصوّرکی طرح خود کو دیکھتے ہوئے
____چونکتے ہوئے پیچھے ہٹا
اپنے وجود کے فن پارے کی
داد وصول کرنے کے لیے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں اگر تمہیں بتا پایا

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں اگر تمہیں بتا پایا

[/vc_column_text][vc_column_text]

وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا
وقت تو بس اتنا جانے کہ ہمیں کس بھاؤ پڑے گی
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

جب مسخرے اپنے کرتب شروع کریں تو کیا ہم رو لیں
جب سازندے اپنے ساز چھیڑیں تو کیا ہم لڑکھڑا لیں
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا

مجھے ہر گز ناکامیوں، کامرانیوں کی کِتھائیں نہیں سنانی ہیں
کہ مجھے تم سے میرے بیان کی حدوں سے پرے کی کیفیتی محبت ہے
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

ہوائیں جب چلتی ہیں، وہ کہیں سے تو آتی ہوں گی
کیوں پتّے گلتے سڑتے ہیں، کچھ وجہیں تو ہوں گی
وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا۔

 

شاید گُلاب دل سے اُگنے کی آشا رکھتے ہیں
منظر نیت باندھے سنجیدہ ہے ساکت رہنے کو
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

 

پل بھر کو فرض کرو کہ سب شیر بھاگ نکلتے ہیں
سب ندیاں اور سپاہی کہیں دُور فرار ہو جاتے ہیں
کیا وقت پھر بھی کچھ نہیں کہے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا؟
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

[blockquote style=”3″]

انگریزی شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد اور اوپیرا نگار ڈبلیو ایچ آڈن (1907-1973) نے بیسویں صدی کی انگریزی شاعری پر ایک بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ برمنگھم، انگلستان میں پلے بڑھے آڈن اپنی غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے باعث مشہور تھے۔ پہلی کتاب “پوئیمز” سنہ 1930 میں ٹی ایس ایلیٹ کی رفاقت میں شائع ہوئی۔ 1928 میں پولٹزر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی بیشتر شاعری اخلاقی مسائل پہ کلام کرتی ہے اور یہ اپنے عہد کے ایک توانا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گوکہ ان کی اوّلین شاعری مارکس اور فرائیڈ کے خیالات سے لدی پڑی ہے لیکن بعد ازاں ان افکار کی جگہ مذہبی اور روحانی اثرات براجمان ہو گئے۔ بعض نقاد انہیں ردِ رومان پرور بھی کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا شاعر جو ستھرا نتھرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کے ناتے ایک نظم و نظام اور انسانی وجود پر ایک ہمہ دم قابلِ عمل کُلیے کی دریافت میں سرگرداں رہا۔ ان کی شاعری اپنے ہی انداز کی حامل ہے جس میں جدت طرازی کا عمل کارِ فرما رہتا ہے: اگر کہیں اشعار چھوٹی چھوٹی ضرب المثلی کیفیت میں ہیں تو کہیں کتاب بھر کی طوالت کی نظمیں ہیں۔ البتہ ان سب میں ایک گہرے اور وسیع تر سائنسی علم و شعور کی رنگا رنگیاں جا بہ جا موجود ہیں۔

[/blockquote]

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

[/vc_column_text][vc_column_text]

اس طرح کی ایک چھٹے بادلوں والی صاف آسمان کی رات
روح کو آزاد اونچا اڑانے کو کافی ہوتی ہے
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد
گھنٹہ گھر کا منظر کافی متاثر کرتا ہے
ہلکے سے بور کرنے والے
اٹھارہویں صدی جیسے احساس کی مانند

 

بڑی ٹھنڈ سی پڑتی تھی احساسِ نو بلوغیت کو
کسی شرم سے تہی نظر کی ٹکٹکی سے
جو کام میں نے کیئے، نہیں ہوسکتے تھے
اتنے صدمہ دینے والے کہ جس قدر وہ لوگ مدعی ہیں
اگر وہ آج بھی یہیں موجود ہوتے
صدمے زدہ لوگوں کے مرنے کے اتنے عرصے بعد بھی

 

اب، مرنے کو تیار ہوں
لیکن پہلے ہی اس مرحلے پہ ہوں
جب بندے کو نوجوانوں سے بیزاری شروع ہوجاتی ہے
میں خوش ہوں کہ آسمان میں موجود وہ نقطے
بھی گِنے جائیں گے
مخلوقاتِ عہدِ وسطٰی میں

 

رات کے بارے سوچنا ایک نرم گرم احساس ہے
جیسا کہ سوچنا ایک اولڈ ہوم کے متعلق
نا کہ کسی رواں مشین کے شَیڈ کے بارے فکر مند ہونا
انتہائی پرانے عہد سے بھی پہلے کی سرخ روشنی
جا چُکی عظیم تر سلطنتِ روما کی طرح
یا پھر سترہ برس کی میری عمر کی طرح

 

بھلے ہم جتنا بھی اچھا جانیں
وہ متین انداز کہ جس میں
لکھا کلاسیک لکھاریوں نے
پر پھر بھی صرف جوانوں اور امیروں
ہی میں دم ہے کہ وہ چھیڑیں سُر
حادثات و المیاتِ حیات کے

 

وقتِ موجود بھی باہر کی جانب کِھسکتا جا رہا ہے
عین ماضی کے عمل کی طرح، یہ پھر سےایک غلط کاری ہے
اس کی سسکیوں پہ کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں
اور سچ تو چھپا کبھی رہ نہیں سکتا
کسی نے اپنے درد کو چُنا
وہی ہوا جو نا ہوتا تو اچھا ہوتا

 

عین اس رات کو ہوتی ایک ایسی چیز سے
جو کسی جانے مانے ضابطے کی ضبط سے پرے ہے
کسی وقوعہ نے پہلے ہی دے مارا ہے
اپنا پہلا سا “نا” کا شبد سیدھا ان ضابطوں کے چہروں پر
جو ہم نے حق جانے تھے اسکول میں
بابت اپنی حیاتِ ما بعد طوفانِ نوح کے

 

لیکن ستارے اوپر دمکتے ہیں
اپنی اخیر کو جانے اور فکر میں گِھرے بغیر
میں گھر واپس بستر کو لوٹتا ہوں
یہ پوچھتے پچھاتے، کیا فیصلے ہونے کو ہیں
میری ذات کے متعلق، میرے احباب کی بابت
اور ان ریاست ہائے متحدہ کے متعلق

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

ننھی ماچس فروش

وہ شام بھی کیا سرد شام تھی ، معلوم ہوتا تھا کہ سرد ہواوں نے سورج کو بھی بجھا دیا ہو ، آہستہ آہستہ سرد ہوتے کوئلے جیسے سیاہ پڑتے ہیں بالکل ویسے ہی یہ شام بھی سیاہ ہوتی جا رہی تھی سال کی یہ آخری شامیں آج سردی سے کچھ نیلگوں نظر آتی تھیں ایسے میں جب شہر کے رہنے والے امراء آتشیں انگیٹھیوں کے سامنے لیٹے ، گرم شالیں اوڑھے اپنے بچوں کو مسیح کی غریب پروری کی داستانیں بیان کر رہے تھے تب ایک بچی لڑکھڑاتی ،ڈگمگاتی اس سڑک پر آ نکلی جہاں یہ پوش مکانات واقع تھے ، اسکے سر پر اس سرد ہوا سے بچنے کے لیے کوئی مفلر بھی نہ تھا ، پیر بھی جوتوں سے محروم تھے … ہاں جب وہ گھر سے نکلی تو اسکے پیر میں ایک چپل ضرور تھی مگر شاید وہ اس کے کچھ کام نہ آ سکتی تھی ، اول تو وہ چپل اسکی ماں کی تھی ، بھلا ایک جوان عورت کی چپل اس سات سال کی بچی کے پیروں میں کیونکر آتی ؟ پھر وہ چپلیں اس قدر کاٹتی تھیں کے اسکے پیروں میں چھالے پڑ چکے تھے ۔۔ چھالوں میں درد تو چلو سردی میں جسم سن ہونے کی بنا پر اسے کچھ محسوس نہ ہوتا ہو گا مگر برا ہو ان بگھیوں کا، جو شہر کی مرکزی شاہراہ پر دوڑ لگاتی آ رہیں تھیں، یہ بچی اس شاہراہ پر دیا سلائی بیچا کرتی تھی ، گھوڑے جو قریب آ کر ہنہناے تو بچی خوف سے بھاگ اٹھی ،اور بھاگتے بھاگتے اسکا ایک جوتا اسکے پیروں سے نکل گیا۔۔۔ بھاگتے بھاگتے وہ شہر کے اس پوش حصے میں آ نکلی تھی ، برف کے نرم و گداز گالوں نے اسکے گھنگریالے بالوں پر خوشنما نقش بنا ڈالے تھے ایسا لگتا تھا جیسے چنبیلی کے سفید پھولوں کے ساتھ اسکے بالوں کو گوندھا گیا ہو ، اس امید پر کہ شاید واپسی پر اسے اپنی ماں کا کھویا چپل مل جاے اس نے دوسرا جوڑا پیر سے اتارا اور اپنے ہاتھ میں اٹھا کر چلنے لگی ، آج تو کسی نے بھی اس سے دیا سلائی نہیں خریدی تھیں ، سب ڈبیاں اس کے کمر کے ساتھ بندھے تھیلے میں رکھیں برف کی ڈالیوں کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔مگر معلوم ہوتا تھا یہ بچی اس سب سے بے غرض تھی ،اب شہر کے اس کوچے میں اس نے اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو سونگھی تو اسے یاد آیا کہ صبح منہ اندھیرے ہی وہ گھر سے نکل کھڑی ہوئی تھی اور اب اس وقت شام میں خالی پیٹ جو آنتوں میں درد اٹھا تو بیچاری کی حالت ہی غیر ہو گئی، سخت سردی میں کانپتی ، وہ بھوک سے بلبلاتی ایک حویلی کی دیوار سے لگ کر اکڑوں بیٹھ گئی ، سامنے حویلی میں کھڑکی کے پار اسے ایک میز نظر آیا جس پر موم بتیاں جل رہیں تھیں ، اس پر رکھے بھنے گوشت کے پارچے ، تلی ہوئی مچھلیاں ،سوپ اور پھر ان سے نکلتی گرم بھاپ۔۔یہ سب منظر دیکھنے کے بعد تو بھوک اور سردی کا احساس کچھ اور ہی بڑھ گیا سو اس نے اوٹ بدلی اور دیوار کے پاس پڑے کچرے کے ڈھیر میں بیٹھ کر اپنے آپ کو گرم رکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی کچھ دیوار کے ساتھ مس ہوتا جسم ،کچھ کوڑے کے ڈھیر میں پڑا کچرا۔۔۔مگر دسمبر کی برفانی ہواؤں کا مقابلہ بھلا اس طور کیونکر ہو ؟پھر جب مقابلہ بھی اس قدر غیر مساوی ہو۔۔۔ ایک طرف سرما کی دیوی جو اپنی خنک سانس سے سورج دیوتا کو برف کر دے دوسری جانب ایک سات سال کی نحیف،بھوکی بچی جس کے بدن پر لباس کے نام پر چند بوسیدہ چیتھڑے لٹکے ہوں۔۔۔ سردی نے اب اس کی ٹانگوں کو بھی سن کر رکھا تھا، اس نے گھر واپس جانے کا سوچا تو ایک لمحے کے لیے اس کے باپ کا کرخت چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ جب وہ سنے گا کہ آج یہ کمبخت ایک بھی دیا سلائی نہ بیچ پائی تو اس کا باپ اس کو کس بری طرح پیٹے گا ؟یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔ پھر وہ گھر بھی تو اسی طرح ٹھنڈا تھا ، گیلی دیواریں اور ٹوٹی پھوٹی چھت۔۔جب سنسناتی ہوا چنگھاڑتی ہوئی چلتی تو اس کی ہڈیاں تک برف ہو جاتیں۔۔ سردی نے اس کی انگلیاں بھی سن کر دی تھیں۔۔ کیا ہی اچھا ہو اگر یہ دیا سلائی جلائی جائے ، شاید اس نحیف شعلے کی حدت انگلیوں میں تکلیف کو کم کر دے ، کچھ دیر کے لیے ہی سہی۔۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے تھیلے سے دیا سلائی کی ڈبی نکالی دیوار کے ساتھ مسالا رگڑا تو تیلیاں جل اٹھیں۔۔ تیلیوں میں جلتی آگ اسے کتنا لطف دے رہی تھی ، وہ جلتی تیلیوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیتی ہے ، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی آتشیں الاؤ کے سامنے بیٹھی ہو۔۔۔مگر یہ تیلیاں بھی آخر کب تک جلتیں ؟ اس نے اپنے پیروں کو جلتی تیلیوں کے پاس لانا چاہا مگر اب تو وہاں صرف راکھ کے ڈھیر میں چند بجھتے شعلے تھے۔۔۔بچی نے دوسری ڈبی تھیلے سے نکالی اور دیوار سے دوبارہ رگڑا تو وہ بھی جل اٹھی۔۔ مگر یہ کیا ؟! آگ کا عکس جب دیوار پر پڑا تو وہ تو ایک شفاف شیشے کی طرح دکھائی دینے لگی جس کے پار بھی دیکھا جا سکتا ہو۔۔ اور اس نے دیکھا کہ ایک کمرہ ہے جس میں ایک خوبصورت لکڑی کی میز رکھی ہے اور اس میز پر ایک بھنا ہوا ہوا مرغ رکھا ہے۔۔ چٹنییوں اور سیبوں کے مربے کے ساتھ ،پھر اس سے بھی اچھا یہ ہوا کہ اس مرغ نے میز سے چھلانگ ماری اور آہستہ آہستہ اس بچی کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔ مگر یہ کیا وہ دھندلا کیوں رہا ہے ؟ اب بچی کے سامنے صرف ایک اینٹوں کی دیوار تھی،تیلیاں دوبارہ بجھ چکی تھیں ۔بچی نے تیسری ڈبیا نکالی اور دوبارہ تیلیوں کو آگ لگائی اب کے دوبارہ دیوار پر عکس بنا۔اس مرتبہ بچی نے اپنے آپ کو ایک کرسمس ٹری کے نیچے پایا ۔ یہ کتنا خوبصورت سجایا گیا تھا بالکل ویسے جیسے اس نے شیشوں کے پیچھے سے امیر تاجر کے گھر دیکھا تھا۔۔۔ مگر یہ والا کرسمس ٹری کچھ زیادہ خوبصورت تھا ، اس پر کیسے حسین ستارے لٹکے تھے ، اس قدر دلنشیں تصویریں اور ٹمٹماتی موم بتیاں بھی جگمگا رہی تھیں ، بچی نے ہاتھ بڑھا کر ستاروں کو پکڑنا چاہا مگر ایک مرتبہ پھر منظر دھندلا گیا۔۔۔تیلیاں پھر بجھ چکی تھیں ، اسی اثنا میں بچی نے آسمان پر ایک ٹوٹتا ہوا تارا دیکھا۔”شاید کوئی مر رہا ہے” ۔۔اس کی دادی اماں نے اسے بتایا تھا کہ جب کسی کی موت واقع ہونے لگتی ہے تو آسمان سے ایک تارہ ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے۔گھر میں ایک دادی ہی تو تھی جو اس ننھی سی پری سے پیار کرتی تھی مگر اب تو وہ بھی فوت ہو چکی تھی۔ بچی نے پھر دیا سلائی جلائی تو ایک مرتبہ پھر آگ کی روشنی دیوار پر منعکس ہوئی۔ دیوار کے اس پار اس کی دادی کھڑی تھی ،ایک محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اپنی پوتی کی جانب دیکھتے ہوئے؛ “دادی ماں”، بچی چلائی۔ “مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو دادی ماں”۔ “دیکھو یہ تیلیاں بوجھ گئیں تو تم بھی مرغ اور کرسمس ٹری کی طرح مجھ سے روٹھ کر چلی جاؤ گی”۔ اس خوف سے کہ دادی روٹھ کر واپس نہ چلی جاے بچی نے اپنے تھیلے سے سب دیا سلائی کی ٹکیاں نکال کر انکو جلتی تیلیوں پر ڈال دیا۔ ایک اونچا شعلہ بلند ہوا۔۔دادی کا چہرہ اپنی پوتی کو دیکھ کر اتنا دمک رہا تھا۔ اب دادی اس کے قریب آئی اور اسے اپنی گود میں اٹھا کر اوپر کی جانب اڑنے لگی۔ حویلیوں کی چھتوں سے اوپر۔۔ آسمانوں سے پرے، بلندی کی جانب۔۔ اب بچی کو بھوک ستاتی تھی نہ ہی سردی۔۔ نہ اسے کوئی اور غم تھا۔ وہ اڑتی اڑتی خدا کی آغوش میں جا پہنچی۔
سورج کی کرنیں کوڑے میں ایک سات سال کی بچی کے سرخ رخساروں سے ٹکرا رہیں تھیں۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگاے لگتا تھاجیسے سو رہی ہو۔۔ سرخ گال اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ “بیچاری بچی مر گئی۔۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔” وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے کہا۔ “یہ دیکھو تیلیوں کی راکھ پڑی ہے ، بیچاری نے ٹھنڈ سے بچنے کے لیے جلائی ہوں گی”۔ وہاں کھڑے لوگوں میں سے یہ کوئی نہ جان سکتا تھا کہ مرتی ہوئی بچی کے چہرے پر یہ مسکراہٹ کیسی ہے۔۔ آخر وہ کیسے جان سکتے کہ اس نے اپنی دادی کے ساتھ کتنی شاندار کرسمس منائی ہے اور کتنے آسمانوں کی سیر کی ہے۔

 

ہینس کرسٹین اینڈرسن
ترجمہ: فہد رضوان