Categories
نقطۂ نظر

شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

زید حامد، جاوید چوہدری اور حسن نثار کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

youth-yell

آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔
شاہد آفریدی ڈریسنگ روم میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں تیز تیز ہل رہی تھیں۔ آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔ کریز پر حفیظ اور عمر اکمل بیٹنگ کر رہے ہیں کہ تماشائیوں میں سے کوئی ڈیل سٹین کا نام لیتا ہے اور حفیظ فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں۔ اب آفریدی کی باری ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ آفریدی جلدی سے اپنے سر سے دماغ اتار کر ہیلمٹ پہن لیتے ہیں۔ وہ جب باہر نکلنے لگتے ہیں تو کوچ وقار یونس انہیں کہتے ہیں “ٹیک یور ٹائم”۔ آفریدی اثبات میں سر ہلا کر کہتے ہیں: “وقار بھائی آپ فکر ہی نہ کریں”۔ مصباح الحق اپنی بھاری بھر کم آواز میں آفریدی کو سمجھاتے ہیں کہ ابھی بہت اوورز پڑے ہیں آرام سے کھیلنا۔ اس طرح فرداً فرداً تقریباً ہر اہم کھلاڑی، ٹیم مینجر اور ٹیم کا فزیو تھراپسٹ بھی آفریدی کو اپنے مشوروں سے نوازتا ہے۔ آفریدی سب کے مشورے سن کر ان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ آفریدی فیلڈ کی جانب بڑھتے ہیں، پیچھے سے دبی دبی آواز میں ڈریسنگ روم سے کوئی بولتا ہے: “وی سال ہو گئے نے سمجھا سمجھا کے، اینوں عقل نئیں آئی” (بیس سال ہو گئے سمجھاتے ہوئے لیکن اسے عقل نہیں آئی)۔

 

آفریدی رسی عبور کر کے گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوچ اور کپتان، اور ان کا اپنا بیٹنگ پلان گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ کچھ بولرز کواحتیاط سے کھیلنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اننگز کے آغاز میں پل شاٹ نہ کھیلنے کا تہیہ کرتے ہیں، پہلی پندرہ بیس گیندیں سنگل ڈبل کرنے کا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی آفریدی گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں، اسٹیدیم، “بوم بوم” اور “لالہ لالہ” کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ ہر کوئی آفریدی کو چھکا مارنے پر اکسا رہا ہوتا ہے۔ کوئی تماشائی کہتا ہے “لالہ اگر پٹھان کا خون ہے تو پہلی بال پر چھکا مارنا ہے”۔ کوئی اور منچلا چلاتا ہے، “بوم بوم بھائی، میں نے اپنے محلے میں شرط لگائی ہے کہ شاہد بھائی پہلی گیند پر ہی چھکا ماریں گے”، ایک نسوانی آواز آتی ہے، “شاہد بھائی آج آپ نے ہی جتانا ہے، عزت کا سوال ہے”۔ آفریدی دل میں کہتے ہیں میں تمہاری ناک نہیں کٹنے دوں گا (چاہے، پاکستان کی ناک کٹ جائے )۔۔۔۔۔ اور تمام منصوبہ بندیاں، تمام نصیحتیں آفریدی کریز پر پہنچنے سے پہلے ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔

 

کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔
آفریدی کریز پر آتے ہیں تو عمر اکمل ان کے منہ کے اوپر گھس کر کہتا ہے، “شاہد بھائی، یہ باؤلر آپ کو گالی دے رہے تھا، اسے نہیں چھوڑنا”۔ آفریدی کا خون اور کھولنے لگتا ہے۔ سٹرائیک پر عمر اکمل ہوتے ہیں۔ عمر ایک چوکا لگاتے ہیں، سینہ مزید چوڑا کرتے ہیں، آفریدی کے اوپر چڑھ کر گلوز پر گلوز مارتے ہیں، پورے گراؤنڈ میں چاروں طرف فخریہ انداز میں دیکھتے ہیں، جیسے ایک گیند پر ایک ہزار رنز بنا لیے ہوں۔ کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔ اگلے بلے باز شعیب ملک ہیں۔ ملک آفریدی کے قریب آتے ہیں تو آفریدی انہیں سمجھداری سے بلے بازی کا مشورہ دیتے ہیں (ملک دل ہی دل میں اس ستم ظریفانہ مشورے پر ہنستے ہیں)۔ ملک اپنی دوسری گیند پر خوب صورت چوکا لگاتے ہیں تو آفریدی انہیں کہتے ہیں، “ملک ہیلمٹ اتار”۔ شعیب ملک سوال کرتے ہیں، “کیوں لالہ کیا ہوا ہے؟” آفریدی جواب دیتے ہیں “اتنا پیارا چوکا مارا ہے میں تجھے شاباش دوں گا”۔ ملک ہنستے ہوئے کہتے ہیں، “لالہ جی ایسی باتیں آپ اپنے اشتہارات میں ہی کیا کریں۔” اگلی گیند پر شعیب ملک ایک اور چوکا لگاتے ہیں، آفریدی اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔ ملک کہتا ہے،”شاہد بھائی اتنا پیار تو کبھی ثانیہ نے بھی مجھے نہیں کیا جتنا آج آپ کو مجھ پر آ رہا ہے۔” آفریدی کہتا ہے “ملک میں تیرا بڑا بھائی ہوں، ثانیہ کون سی تیرا بڑا بھائی ہے؟” ملک فورا جواب دیتے ہیں، “لیکن لالہ وہ ڈانٹتی تو بڑے بھائی کی طرح ہی ہے”۔ آفریدی جواب میں ہنس کر کہتے ہیں اس کی بات مانا کر وہ دنیا میں ہر جگہ پرفارم کرتی ہے اور تو صرف ایشیا میں چلتا ہے۔” اس پر ملک آفریدی کو ایک گھوری دیتے ہیں۔

 

اب آفریدی سٹرائیک پر آتے ہیں۔ سٹیڈیم میں موجود تمام تماشائی اور ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے لاکھوں ناظرین متوجہ ہو جاتے۔ توقعات اور خدشات ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ گیند باز عرفان پٹھان ہیں۔ وہ آفریدی کو ایک باؤنسر کراتے ہیں جو آفریدی کے بلے پر نہیں آتا۔ آفریدی گیند چھوٹ جانے پر دو چار گالیاں اپنے آپ کو اور درجن بھر باولر کو دیتے ہیں۔ عرفان پٹھان کہتے ہیں “لالہ تیری بیٹنگ ختم ہو گئی ہے اب تمہاری کارکردگی پہلے جیسی نہیں ہے”۔ آفریدی جواب دیتے ہیں، “مجھے تم سے ایسی ہی گھٹیا بات کی توقع تھی”۔ عرفان دوبارہ اپنے رن اپ کی جانب چل پڑتے ہیں۔

 

کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔.
اگلی گیند آفریدی کے منہ کے سامنے پڑتی ہے۔ آفریدی اسے اٹھا کر باونڈری سے باہر تماشائیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ آفریدی کودتے پھاندتے شعیب ملک کے پاس جاتے ہیں اور اسے تیز تیز بول کر کچھ سمجھانے لگ جاتے ہیں۔ ملک ساری بات سنتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں،” جسے بیس سال میں کبھی کسی کی سمجھ نہیں آئی وہ بھی مجھے سمجھانے پر تُلا ہوا ہے”۔ آفریدی اب اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اب لاکھوں تماشائی، ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑی، کپتان اور کوچز اسی خدشے کا شکار ہوتے ہیں کہ اب آفریدی کہیں گیند آسمان پر نہ چڑھا دے۔ عرفان پٹھان کو بھی خوب معلوم ہوتا ہے کہ اب آفریدی ایک اور چھکے کی کوشش کرے گا۔ عرفان پٹھان ایک نسبتاً آہستہ گیند کراتے ہیں آفریدی کا سر آسمان کی جانب ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری توانائی سے بلا گھما دیتے ہیں۔ گیند آسمانوں کی بلندیوں پر چڑھ جاتی ہے اس دوران آفریدی پہلے سے ہی اپنی قسمت بھانپ کر ڈریسنگ روم میں واپسی کے لیے قدم بڑھا دیتے ہیں۔ کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔

 

آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ
آفریدی، ڈریسنگ روم میں جا کر بیٹھتے ہیں۔ احمد شہزاد بھاگ کر ان کے لیے پانی لاتے ہیں۔ آفریدی پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ سامنے ٹی وی پر محمد یوسف اور شعیب اختر براہ راست تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں، اور آفریدی کے آوٹ ہونے اور اس کے آوٹ ہونے کے انداز پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آفریدی کے کان میں دو جملے پڑتے ہیں، یوسف کہہ رہے ہوتے ہیں “یہ تو ہے ہی ٹلہ” اور شعیب کہہ رہے ہوتے ہیں “اس کا دماغ جو ماشاللہ ہے، کوپتان۔۔۔۔۔” آفریدی غصے سے کہتے ہیں بند کرو یہ یاجوج ماجوج کے تبصرے۔۔۔۔۔ اتنے میں خشکی ختم کرنے کے مشہور برانڈ کا اشتہار چل پڑتا ہے جس میں آفریدی اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔ اور اس کے بعد ایک چیونگم کا جس میں وہ فن کو پھلاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر ایک ہاوسنگ سوسائٹی کا اور پھر ایک ہاضمے دار چورن کا اور پھر ایک کولا مشروب کا۔۔۔۔۔۔اور آفریدی اپنا غصہ کم کرنے کو گیند چبانا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Khaliq Khan

Categories
نقطۂ نظر

جرم ناتمام

آج کل پاکستان میں جہاں بلدیاتی انتخابات کا شوروغوغا ہے وہیں دنیائے کرکٹ میں محمد عامر کو قومی ٹیم میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث جاری ہے۔ سابق کھلاڑی اور ماہرین طرح طرح کی آراء کا اظہار کر رہے ہیں کچھ کا خیال ہے کہ محمد عامر نے اپنے کیے کی سزا بھگت لی ہے تو اسے اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق ہے جبکہ دوسری طرف کچھ سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ محمد عامر نے ملک و قوم کو بدنام کیا ہے تو اسے ملک کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں محمد عامر کی شمولیت سے ایماندار کھلاڑیوں سے زیادتی ہوگی، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ محمد عامر اور اس کے ساتھ ملوث دوسرے کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے اور ان پر تا حیات کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جانی چاہیئے۔ کچھ ماہرین اس سلسلے میں یہ منطق بھی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کرکٹ کا اتنا ٹیلنٹ موجود ہے تو ان سزا یافتہ کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے کا کیا جواز؟ اور بعض کا خیال ہے کہ اس سے قومی ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض لوگوں کے خیال میں محمد عامر کے علاوہ ملک میں اس قدر ٹیلنٹ موجود ہے اور ان نئے کھلاڑیوں کو کھلایا جانا زیادہ ضروری ہے۔

 

کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟
خیر ان سب باتوں کو چھوڑ کر پہلے تو میں اس بات پر پریشان کن حد تک ششدر و حیران ہوں کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے جس بے پناہ ٹیلنٹ کا غلغلہ ہے وہ کہاں ہے؟ یہ نہ کبھی ہمیں قومی ٹیم میں نظر آیا نہ ہی کہیں ڈومیسٹک سطح پر۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والوں میچوں میں وہی پرانے عمر رسیدہ کھلاڑی ہی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، ٹیلنٹ ہے تو رفعت اللہ مہمند کو 40 سال کی عمر میں کھلایا جاتا؟ حالیہ برسوں میں جتنے کھلاڑیوں کا مواقع ملے ان میں سے کون بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنا پایا؟ یا کون تکنیکی لحاظ سے اس قدر اچھا تھا کہ ہم اسے بلند پائے کا بلے باز کہہ سکیں؟ اگر ٹیلنٹ ہے تو آج تک انضمام الحق، محمد یوسف، وسیم اکرم، وقاریونس، عبدالرازق، شعیب اختر، سعید انور، عامرسہیل کے متبادل میسر نہیں آ سکے؟ کیوں آج تک ہمیں مستقل افتتاحی بلے باز نہیں مل سکے؟ کیوں ہماری ٹیم میں کسی بلے باز کی جگہ مستقل نہیں ہے۔ کیوں ٹیلنٹ کے نام پر عمر اکمل جیسا ‘بلے باز’ گزشتہ 7 سال سے قومی ٹیم کے ہمراہ ہے جس کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں اوسط محض 35 اور 34 ہے اور ہم نے اسے 111 ایک روزہ میچ کھلا دئیے۔ کیوں ہم آل روانڈرکے نام پر سہیل تنویر کے نازو نعم اٹھا رہے ہیں جس کی بیٹنگ اوسط ناقابل ذکر اور اور باؤلنگ اوسط بھی 63 اور36 کے قریب ہے اور صاحب کا اکانومی ریٹ بھی کوئی خاص متاثر کن نہیں۔ جونیئرز اور نئے آنے والوں کا تو حال ہی کیا ہمارے سنیئر بلے باز محمد حفیظ 173 ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط محض 32 ہے جبکہ 73 ٹیسٹ میچوں میں موصوف کی اوسط 40 ہے۔

 

ایک وقت تھا کہ پاکستان کا تیز گیند بازی میں نام تھا، اس ملک نے عالمی معیار کے کئی تیز گیند باز دنیائے کرکٹ کو دیئے مگر اب موجودہ ٹیم میں سوائے وہاب ریاض کے کوئی اس قابل نہیں کہ وہ تسلسل سے 135 کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گیند بازی کر سکے۔ صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے تیز گیند باز ڈھونڈنے کا پروگرام شروع کیا اور پورے ملک سے 15 بولر چنے مگر بد قسمتی سے ایک بھی گیند باز 135 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی نہیں کر سکتا تھا۔ اور ہم رو رہے ہیں کہ یہاں بہت ٹیلنٹ ہے اور محمد عامر اگر ٹیم میں آگیا تو اس ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی۔ کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟

 

رہی بات محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت کی تو وہ اپنے جرم کی سزا کاٹ چکا ہے اور اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بناء پر قومی ٹیم میں شمولیت کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ میں کردار کے ان “اعلٰیٰ و ارفع” نمونوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کو ایک جرم کی دو سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک جرم کی سزا 5 سال ہو اور آپ اسے عمر قید کی سزا سنا دیں؟ یہ کو نسی کردار کی بلندی ہے کہ اگر ایک آدمی سے کوئی جرم سرزد ہو جائے اور وہ اس کی سزا بھی کاٹ لے اور اپنے کیے پر نادم بھی ہو تو پھر بھی اسے عبرت کا نشان بنانے کے لیے معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جائے۔

 

عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ہرشل گبز جن پر میچ فکسنگ کی وجہ سے ایک سال کی پابندی لگی ہمارے سابقہ کرکڑ ان کے ساتھ قومی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر کرکٹ پر تبصرے اور خوش گپیاں کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ شرمندگی اور عار ہے تو محمد عامر کے کرکٹ کھیلنے سے کہ وہ اگر پھر سے کرکٹ کے میدانوں میں آگیا تو ان کی نیک نامی پر دھبہ لگ جائے گا۔

 

اور جہاں تک کھلاڑیوں پر منفی اثرات کا تعلق ہے تو یہی کھلاڑی آئی پی ایل میں جانے کو ترستے پھرتے ہیں جہاں چنائے سپر کنگ اور راجھستان رائلز کے کئی کھلاڑی بشمول مالکان میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پائۓ گئے۔ بنگلہ دیش جہاں پاکستان کی ہوری قومی ٹیم اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کو چھوڑ کر بی پی ایل کھیل رہی ہے اس میں ڈھاکہ گلیڈیڑ، چٹاگانگ کنگ اور بیرسال برنر کے کھلاڑی سپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ اس طرح مارلن سموئیل پر 2007 میں میچ فکسنگ کی وجہ سے 2 سال کی پابندی لگائی گئی اور وہ اب ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم سمیت پوری دنیا کی لیگز میں کھیل رہا ہے اور کریبئین لیگ میں ہمارے سٹار کھلاڑی شاہدی آفریدی اور سہیل تنویر St Kitts and Nevis Patriots کی ٹیم اور ان کی کپتانی میں فخر سے کھیلتے ہیں۔ اسی طرح ورلڈ کپ 2003 میں منشیات کے استعمال پر شین وارن کو ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر بھی ہمارے کھلاڑی فخر سے بتاتے ہیں کہ جناب محترم سے ہم ملے اور ان سے گینگ بازی کے گر سیکھے۔ میرے خیال سے اگر اوپر بیان کردہ حقائق سے ہمارے ملک کے کھلاڑیوں کو فرق نہیں پڑتا تو ایک محمد عامر کے ٹیم میں موجود ہونے سے بھی ان کے اعلیٰ کردار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

 

محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔
جہاں تک ملک کی بدنامی کی بات ہے تو ہاں محمد عامر کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے کیونکہ وہ ‘پہلا شخص’ ہے جس نے اس نیک نام ملک کو بدنام کیا۔ ورنہ شاہد آفریدی نے 21 کیمروں کے سامنےکرکٹ کی گیند کھانے کا شاندار کرتب دکھا کر ملک کا بہت نام روشن کیا تھا، وقار یونس، وسیم اکرم، مشتاق احمد، سعید انور اور دیگر پر میچ فکسنگ پر جرمانے ہوئے تھے اور وہ ان میں سے وقار اور مشتاق احمد قومی ٹیم کے کوچ ہیں اور وسیم اکرم پاکستان سپر لیگ کے سفیر۔ یہ بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا۔ محمد آصف کو منشیات کیس میں دبئی بدر کیا گیا وہ پھر بھی ہماری ٹیم کا حصہ رہا۔ پا کستان کا نام تو 1993 کے دورہ ویسٹ انڈیز میں بھی بہت روشن ہوا تھا جب، وسیم، وقار، عاقب اور مشتاق نے منشیات رکھنے کے جرم میں ایک رات جیل کاٹی اور اس وجہ سے ٹیسٹ میچ ایک دن بعد میں شروع کرانا پڑا۔ ہمارے محترم ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے لیے ملک کو بدنام کرنے کا حقیقی اور واحد مجرم صرف محمد عامر ہی ہے، کیوں کہ وہ اپنے شرمناک ماضی کا سامنا نہیں کر سکتے اسی لیے اسے عبرت کا نشان بنا کر کرکٹ کے میدانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جانا چاہیے۔۔۔ محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔