Categories
نقطۂ نظر

ہمارے بچوں کو جنگ کا ایندھن مت بنائیے

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے ایک بار پھر نہتے افراد کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ 4 دہشت گرد باچا خان یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور عملے سے جھڑپ کے بعد ان کو ہلاک کرتے ہوئے اساتذہ اور طالب علموں کو بے دریغ نشانہ بنانے لگے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر دیکھی جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر جہالت کے اندھیروں کو ملک پر مسلط کرنے کے درپے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک 29 افراد اس حملے میں جان گنوا چکے ہیں۔ اس بربریت میں کتنے طالب علم اساتذہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان ہلاک ہوئے اب یہ شاید ہمارے لیے محض چند اعدادوشمار بن کر رہ جائیں گے۔ ہم پے در پے ایسے سانحات کو دیکھنے اور سہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لاشوں کی تعداد کتنی ہے زخمی کتنے ہیں یہ سوالات اور تجسس ایسے سانحات کے بعد ہماری گفتگو اور مباحث کا محض ایک نمائشی محور ہوتا ہے۔ سانحات کیوں رونما ہوتے ہیں ان کے پیچھے بنیادی کردار اور عوامل کیا ہیں، سیکیورٹی ادارے اور ان کی معلومات اتنی ناقص کیوں ہیں؟ ان سب سوالات پر پردہ ڈالنے کے لیے لفظی جغادری کے ماہرین میڈیا کے ذریعے عوام کو “ہندوستانی سازش”، “کابل ذمہ دار ہے”، “ہمارے حوصلے بلند ہیں”، “یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی” جیسے رٹے رٹائے بیانات اور مٖروضہ جات کی تکرار میں مصروف ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک اگلا سانحہ رونما نہیں ہوتا۔

 

باچا خان یونیورسٹی اور آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچے ایک ایسی سوچ کا شکار ہوئے جو دنیا کے کسی بھی اسلحے سے زیادہ بھیانک اور خوفناک ہے اور اس فکر پر ایمان رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔
اس ہولناک واقعے کی ذمہ داری بھی تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ عمر منصور جو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا اس نے علی الاعلان یہ زمہ داری قبول کی ہے۔ عمر منصور خود تین بچوں کا باپ ہے نجانے اولاد کے ہوتے ہوئے بھی ایسے درندہ صفت لوگ دوسروں کی اولادوں کو کیسے قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟ یہ سوچ و سمجھ سے عاری روبوٹس ہیں جن کے ذہنوں میں نفرت اور تشدد کا پروگرام فیڈ کیا جا چکا۔ یہ روبوٹ محض طے شدہ پروگرام پر ہی چل سکتے ہیں، وہ انسانوں کی طرح خود سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ لیکن حیرت حکمرانوں، سیاسی و مذہبی رہنماوں اور دفاعی اداروں پر ہے جو اس واقعے میں مرنے والے بچوں اور افراد کی اس المناک موت کو قربانی بنانے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جانے والے یہ طلبہ کسی جنگی محاز پر دشمن سے لڑنے نہیں گئے تھے بلکہ علم کی روشنی حاصل کرنے گئے تھے انہوں نے قربانی نہیں دی بلکہ یہ اس ناکام حکمت عملی کی بلی چڑھ گئے جو آج تک دہشت گردوں کی سرپرستی کے لیے روا رکھی گئی ہے۔ یہ حکمت عملی دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کی بجائے “اپنے” اور “غیر” کی تفریق کرتے ہوئے اپنے اثاثے بچا کر رکھنے پر مصر ہے۔

 

دشمن سے نوے فیصد علاقہ خالی کرانے کے دعوے اب فریب لگتے ہیں۔ “دشمن کی کمر توڑ دی” جیسے بیانات اب سماعتوں میں زہر بن کر گھلتے ہیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے دشمن اب بھی جب اور جہاں چاہے ہم پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی اور آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچے ایک ایسی سوچ کا شکار ہوئے جو دنیا کے کسی بھی اسلحے سے زیادہ بھیانک اور خوفناک ہے اور اس فکر پر ایمان رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ہم میں سے ہی لوگ دہشت گردوں سے یا تو خاموش ہمدردی رکھتے ہیں یا پھر ان واقعات کو ہندوستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کے اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں، ایسے تمام افراد دانستہ یا نادانستہ طور پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ جہاں اوریا مقبول جان، زید حامد، ہارون الرشید اور انصار عباسی جیسے لوگ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ففتھ جنریشن وار فیئر ، غزوہ ہند اور خراسان سے اٹھنے والے لشکروں پر بھاشن دیتے ہوئے نوجوانوں کو جہاد، جنگ، تعصب اور شدت پسندی کی کھلم کھلا ترغیب دیتے ہوں وہاں ایسے سانحات پر غم و غصہ کیسا؟ جہاں کالعدم شدت پسند تنظیموں کے سربراہان بلٹ پروف لینڈ کروزروں میں ریاستی تحفظ کی چھتری کے نیچے دندناتے پھریں وہاں ان بچوں کی اموات پر کیسا ماتم؟ جہاں مذہبی بنیادوں پر نفرت اور مرنے مارنے کا سبق بچپن سے ہی نصاب کے ذریعے بچوں کے ذہنوں میں منتقل کر دیا جاتا ہو وہاں ایسے وحشیانہ سانحات پرتاسف کیسا؟ جہاں بچوں کو پیدا ہوتے ہی دنیا سے لاتعلقی اور زندگی کی قدر و قیمت چھوڑ کر محض آخرت اور حوروں سے محبت کا درس دیا جاتا ہو وہاں خود کش حملوں پر کیسی الجھن؟

 

ایک جانب یہ وحشی درندے مذہب کے نام پر بچوں کے دماغوں میں زہر انڈیل رہے ہیں تو دوسری طرف ریاست انہیں حب الوطنی کے نام پر جنگجو بنانا چاہتی ہے۔
“ان بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی”، جو سیاسی رہنما اس قسم کے بیانات ایسے سانحات کے بعد دیتے دکھائی دیتے ہیں، خود ان کے اپنے بچے یا تو ملک سے باہر رہائش پذیر ہوتے ہیں یا ریاست کے خرچے پر سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز کی حفاظتی چھتری تلے گھومتے نظر آتے ہیں۔ کیا عجیب مذاق ہے کہ ریاست کے وسائل سے تمام مراعات سیاسی رہنما اور بیوروکریٹس حاصل کریں لیکن قربانی سفید پوش یا غریب آدمی کا بچہ دے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے کرنے والا ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قومی سلامتی کی جس خود کش حکمت عملی کے تحت غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کرتا رہا ہے اس کا احتساب ضروری ہے۔ ان بچوں کا فوج کی پالیسیوں سے کوئی لینا دینا نہیں مگر انہیں خطرے میں ڈالنے والے دفاع وطن کے اہل کیوں کر ہو سکتے ہیں؟

 

جنگ میں بچوں اور عورتوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا لیکن ہمارا دشمن وہ ہے جو نہتے انسانوں حتیٰ کہ بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ ایک جانب یہ وحشی درندے مذہب کے نام پر بچوں کے دماغوں میں زہر انڈیل رہے ہیں تو دوسری طرف ریاست انہیں حب الوطنی کے نام پر جنگجو بنانا چاہتی ہے۔ خدارا بچوں کو اس جنگ کا ایندھن مت بنائیے، انہیں ایک پر امن معاشرے کا خواب دیکھنے دیجئے۔ ہمارے بچوں کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا جا رہا ہے، بستے پہن کر جانے والے چھلنی لاشوں کی صورت میں لوٹتے ہیں اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اس بھیانک عفریت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب اس جنگ کا محض ایک معرکہ ہے، یہ جنگ دراصل ایک نظریےکے خلاف جنگ ہے، وہ نظریہ جو زندگی کی خوب صورتی، فرد کی آزادی اور آئین کی بالادستی تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جو تعلیم کے اجالوں کو جہالت کی سیاہی سے مٹانا چاہتا ہے، جو بچوں کے قہقہوں کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے چھیننا چاہتا ہے، جو بندوق کے زور پر اپنی من چاہی شریعت ہم مسلط کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ یہ جنگ سوچ اور نظریات کی ہے جسے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ نظریات کے میدان میں بھی لڑنا ہو گا۔ اس نظریاتی جنگ میں مکالمہ سب سے بڑا ہتھیار ہے، شدت پسند بیانیے پر کھلا مکالمہ ضروری ہے۔ ہمیں اپنی قومی سلامتی کی ترجیحات بھی ازسرنو طے کرنی ہیں۔ دنیا پر غلبہ پانے کی خواہش لشکر پال کر نہیں علم و تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدانوں میں بہتر کارکردگی کے ذریعے پوری کرنا ہو گی۔ آنے والی نسلوں کو سوال کرنے دیجیے۔ نفرتوں کا پرچار بند کیجیے، بچوں کو پڑھائیے کہ انسان ہونے کے لیے پہلی شرط عالم انسانیت سے محبت کرنا ہے ان میں مذہب، صنف، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق کرنا نہیں۔

 

نفرتوں کا پرچار بند کیجیے، بچوں کو پڑھائیے کہ انسان ہونے کے لیے پہلی شرط انسانیت سے محبت کرنا ہے ان میں مذہب، صنف، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق کرنا نہیں۔
ہمیں جرات مندانہ فیصلے کرنے کے لیے کتنے اور معصوم بچوں کا لہو درکار ہے؟ مزید کتنے سانحات ہمیں اس امر کا ادراک کرنے کے لیے برداشت کرنا ہوں گے کہ ہماری سلامتی کو سب سے زیادہ خطرہ مذہبی جہادی سوچ سے ہے؟ ہمیں سڑکیں اور پل بعد میں دیجئے گا پہلے ہماری اور ہمارے بچوں کی جان کی حفاظت یقینی بنائیے۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم مذہب کو سیاست اور ریاست سے الگ نہیں کریں گے۔ گندگی کو قالین کے نیچے چھپانے سے گندگی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی ماضی کی جانب دیکھنے سے حال اور مستقبل شاندار بنائے جا سکتے ہیں۔

 

ہماری دفاعی ترجیحات اس وقت درست نہیں۔ محض اسلحہ اور فوج نہیں ذہنوں کو تعمیری سوچ دینے پر بھی پیسہ خرچ کرنا ہو گا۔ میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے جدید تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری کیجیے، بے روزگاری، بھوک اور افلاس کے خلاف بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عدم برداشت اور تعصب کی ترویج پر قدغنیں عائد کرنا ہوں گی وگرنہ ہمارے بچے اس جنگ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ اب بھی اگر ریاست اورمقتدر قوتیں انی غلطیوں کا ادراک کرنے کو تیار نہیں اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر باچا خان یونیورسٹی پر حملے جیسے وحشیانہ واقعات کا ہمیں عادی ہو جانا چاہیئے اور یہ بات تسلیم کر لینی چاہیئے کہ ہم اور ہمارے بچے قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں، جنہیں ریاستی ادارے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کو محض اس جنگ کی قیمت سمجھتے ہیں۔ چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں اس دہشت گردی کا شکار ہونے والے طالب علم اور یونیورسٹی کے عملے کے لوگ انسان تھے حیوان نہیں جنہیں قربان ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے کر مقتدر قوتیں اس سوچ اور انداز فکر کو چیلنج کرنے سے ڈر رہی ہیں۔

Image: Umair Vahidy

Categories
اداریہ

یہ جنگ ہماری اور ہم سب کی ہے-اداریہ

کوئٹہ اور چارسدہ میں ہونے والے حملے ان حلقوں کے لیے چسم کشاء ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ملکیت فوجی قیادت کو سونپ کر مطمئن ہو گئے تھے۔ یہ تکلیف دہ حملے ان سیاستدانوں اور سول اداروں کے لیے خود احتسابی کا شاید آخری موقع ہیں جو تاحال محض ‘ضرب عضب’ کو کافی سمجھ رہے تھے اور پاکستان کے شہری علاقوں میں مقیم دہشت گردوں کے حامی افراد ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہمت پیدا نہیں کر سکے۔ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے سہولت کاروں، معاونین اور ہمدردان کے خلاف کارروائی سے گریزاں سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے لیے یہ فیصل کن مرحلہ ہے۔ یہ حملے عسکری قیادت کے لیے بھی جوابدہی کا موقع ہیں، انہیں ان سخت سوالوں کے جواب دینے ہیں کہ کیا وہ افغان طالبان، کشمیر جہاد کے لیے تیار کی گئی تنظیموں کی سرپرستی ختم کرنے کو تیار ہیں یا نہیں؟ اور کیا سول معاملات میں ان کی مداخلت اس جنگ کو جتینے میں روکاوٹ نہیں؟ یہ ہم سب کے لیے بھی ایک دوراہا ہے کہ کیا ہم ان دہشت گردوں، ان کے مذہبی بیانیے اور ان کے لیے حمایت کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم دہشت گردی کو پاکستان کی بقاء کے لیے ایک مسئلہ سمجھنے اور اس کے تدارک کے لیے ریاست کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں؟

 

کوئٹہ اور چارسدہ میں ہونے والے حملے ان حلقوں کے لیے چسم کشاء ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ملکیت فوجی قیادت کو سونپ کر مطمئن ہو گئے تھے۔
یہ جنگ ہماری اور ہم سب کی ہے، فوجی کارروائی اس جنگ کا پہلا مرحلہ ہے، آخری معرکہ نہیں، یہ جنگ سول اداروں کی قیادت میں ہر اس محاذ پر ان تمام عوامل کے خلاف لڑی جانی چاہیئے تھی جو دہشت گردوں کے لیے مالی، افرادی اور تزویراتی معاونت کا باعث بن رہے ہیں۔ محض فوجی کارروائی کو کافی سمجھتے ہوئے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سدباب کیے بغیر اور دہشت گردوں کے مذہبی بیانیے کا متبادل رائج کیے بناء یہ تسلیم کر لینا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیت جائیں گے دیوانے کا خواب ہے۔ اس جنگ میں ہم نے چند معرکے جیتے ہیں، جنگ کا میدان ابھی گرم ہے اور ابھی حوصلہ ہارنے یا مایوس ہونے کا وقت نہیں۔ یہ جنگ اعصاب کی جنگ ہے اور اس جنگ کو حوصلے اور اتحاد ہی سے جیتا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ہمیں عسکری اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے ہیں اور ضرب عضب کی کامیابی کے دعووں کا تجزیہ بھی کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی سول قیادت سے بھی چند مشکل سوال کرنے ہوں گے اور انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کا یہ عفریت عسکری اداروں کی غیرریاستی عناصر کی سرپرستی کی پیداوار ہے، اس میں بھی کلام نہیں کہ ہمارے عسکری اداروں نے اہم مواقع پر غلط فیصلے کیے ہیں لیکن اب اس ادراک سے آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کی جمہوریت پسند قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر اپنی اہلیت ثابت کرنا ہو گی تاکہ ہم عسکری اداروں کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کر سکیں اور ان کا احتساب بھی

 

یہ وقت افواہوں پر یقین کرنے، تفرقہ پھیلانے اور مایوس ہونے کا نہیں یہ وقت عسکری اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ بحث، سول قیادت کی غیر فعالیت پر جوابدہی، عدلیہ کی نااہلی اور معاشرے کے دہشت گردی کے معاملے پر منقسم ہونے پر غور کرنے کا وقت ہے۔ یہ وقت دشمن سے متعلق مغالطہ آرائی کا نہیں بلکہ اس کی پہچان کرنے اور مشکل فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں یہ اتفاق رائے پیدا کرنا ہے کہ مذہبی دہشت گردی، سیاسی اسلام اور ہماری جنگجو خارجانہ حکمت عملی اس مسئلے کی بنیاد ہیں، ہمیں افرادی اور اجتماعی سطح پر یہ تسلیم کرنا ہے کہ قومی ریاست میں قومیت عقیدے سے بالاتر ہے، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کسی قسم کے غیر ریاستی عناصر خواہ ہم انہیں اپنے اثاثے ہی کیوں نہ سمجھتے رہے ہوں وہ ہمارے دوست نہیں، ہمیں یہ تہیہ کرنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہمیں اپنی سمت متعین کرنی ہے کہ پاکستان کا مستقبل ایک مذہبی خلافت یا امارت کے قیام میں نہیں بلکہ ایک لبرل اور جمہوری ریاست کا حصول ہے۔

 

فوجی کارروائی اس جنگ کا پہلا مرحلہ ہے، آخری معرکہ نہیں، یہ جنگ سول اداروں کی قیادت میں ہر اس محاذ پر ان تمام عوامل کے خلاف لڑی جانی چاہیئے تھی جو دہشت گردوں کے لیے مالی، افرادی اور تزویراتی معاونت کا باعث بن رہے ہیں۔
جون 2014 سے اب تک ہم نے بحیثیت مجموعی اس جنگ کی ذمہ داری مکمل طور پر فوجی قیادت کے سپرد کیے رکھی ہے اور ہم نے اب تک سول اداروں کی غیر فعالیت، عدلیہ کی نااہلی اور معاشرے کے غیر ذمہ دار رویے سے متعلق کچھ بھی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مدارس کی رجسٹریشن، فاٹا اصلاحات، انسداد دہشت گردی کے مرکزی ادارے کی فعالیت، دہشت گرد مذہبی بیانیے کا ارتداد اور نصاب میں تبدیلی سمیت کسی بھی محاذ پر ہم نے تاحال اپنی صفوں کو آراستہ نہیں کیا۔ بدقسمتی سے ہم میں سے کوئی بھی آگےبڑھنے اور ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور ہمارا یہی خوف اور بے عملی دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس حملے کے بعد بھی ہندوستان اور کابل کی جانب انگلیاں اٹھانا، سول قیادت اور اداروں کا مسلسل پس منظر میں رہنا اور جہادی افکار کی مسلسل ترویج وہ غلطیاں ہیں جن کا دہرانا کسی بھی صورت اس جنگ میں مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔

 

یقیناً وزیراعظم نواز شریف اس مرحلے پر قومی اتفاق رائے کے قیام کی اہلیت رکھتے ہیں، یقیناً ہمارا معاشرہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو مسترد کرنے کو تیار ہے اور یقیناً اس ملک کے سول ادارے اور جمہوریت دہشت گردی کے خلاف ہماری موثر ترین ڈھال ہے، ہمیں اس وقت اس جمہوری نظام کو مستحکم اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت سول اور عسکری اداروں پر مثبت مگر تعمیری تنقید کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی، اہداف اور سمت اختیار کرنے کا وقت ہے۔ اب وفاقی اور تمام وفاقی اکائیوں کی صوبائی حکومتوں کو آگے آنا ہوگا اور اس جنگ کی قیادت کرنا ہو گی۔ اس جنگ کے اہم ترین مرحلے یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے، تمام طبقات کو مذہبی شدت پسندی کے خلاف متحد کرنے، فوجی کارروائی کے ساتھ مربوط سول حکمت عملی کے قیام اور سول اداروں کو فعال بنانے کا فریضہ سیاسی رہنماوں کو سرانجام دینا ہو گا۔

 

وفاقی وزارت داخلہ کو اس جنگ میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے اور انسے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہے کہ وہ اس جنگ کے خلاف قومی ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی اہل ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے وزیر داخلہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم موجودگی پر کی گئی تنقید اور نیکٹا کو فعال بنانے کی تجویز دونوں غورطلب اور فوری ردعمل کی متقاضی ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کے ذریعے سیاسی مخالفین کو کم زور بنانے کی بجائے اس مرحلے پر قومی اتفاق رائے سے آگے بڑھنے اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔ اس جنگ کو عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سیاسی، انتظامی اور نظریاتی محاذوں پر جیتنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری اداروں کا کردار کلیدی ہے مگر مرکزی نہیں، یہ جنگ طویل مدتی جنگ ہے اور عسکری اداروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ اس جنگ میں سول اداروں کی جوابدہی بھی ضروری ہے۔ اس نازک وقت میں قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری فوج کے سربراہ کی نہیں وزیراعظم کی ہے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی اور معلومات کی فراہمی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈرز کا نہیں وزارت داخلہ اور ایپکس کمیٹی کا فریضہ ہے، شہری علاقوں میں کارروائیاں پولیس کا کام ہے رینجرز یا نیم فوجی دستوں کا نہیں لیکن کیا ہماری سیاسی قیادت اور سول ادارےاس جنگ میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنے اور قومی سلامتی کے معاملات پر رہنمائی کرنے کو تیار ہے؟

Image: India Today