Categories
شاعری

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے
کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے
مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا،
یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں
میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ
میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ
چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے
میری آنکھیں بس میری رہن دے
میں نے اپنی ماں کا رستہ تکنا ہے

میں ایک بودا درخت ہوں
جسے سبزا دیکھے اسی سال ہو گئے ہیں
مائے وے مائے!
تیرے کہن پر
میں اپنی انتڑیاں پھیلائے
پانی ڈھونڈتے، ہزاروں فٹ نیچے آ گیا ہوں
مائے وے مائے !
یہ کدھر جنا تو نے مجھے؟
جدھر انّے دریا، پتھر ٹٹولتے رستہ بھول جائیں
کوے بھوک سے اپنے موئے ساتھیوں کے
ڈھانچوں کا سُکھا گوشت چابتے ہوں۔

کوئل موت کی تسبیح پڑھتی ہے مائے!

مائے وے مائے !
یہ کدھر جنا تو نے مجھے؟
جدھر سانپ زہر کی دوات میں اپنی زبان ڈوب کے شعر کہتے ہوں
جدھر مچھیوں کے آنسووں کا کھارا پانی یاد کرتے کشتیاں بودی ہو گئی ہوں
مائے میں ان کشتیوں سے بھی زیادہ بودا ہوں
ریت کے جھکڑ میں جو تیری تصویر بنتی ہے
اس سے ہر روز کہتا ہوں،
میں اس سال کے سوکھے میں
اور نیچےنہیں کھود سکتا
اسی سال ہو گئے یہ کہتے کہتے
میں اب اور نہیں کھود سکتا مائے!
مجھے اپنے خشک ہونٹوں میں داب لے
میرے ٹھنڈے پیر اپنے گرم پیٹ سے لگا لے
مجھے اپنے بوڑھے سینے میں بھر لے
میں تھک گیا ہوں
قسمے مائے
میں تھک گیا ہوں

Categories
فکشن

آخری درخت

وہ جنگل کا سب سے پرانا، سب سے طاقتور اور آخری درخت تھا۔۔۔ ریت کے بڑھ آنے ، جنگل کے ختم ہونے، موسموں کی شدتوں اور پانی کے کم ہونے کے عذاب سے لڑتا آخری درخت۔ وہ ہر رات اس عزم کے ساتھ سوتا کہ میں ہار نہیں مانوں گااور ہر صبح لق و دق صحرا اور ریت میں ڈوبتی اُبھرتی ، اپنے دیرینہ دوستوں کی لاشوں کا سامنا مضبوط دل سے کرتا۔”نہیں میں اس بے رحم ریت سے ہار نہیں مانوں گا” وہ ان عزیزلاشوں سے کِیا گیاعہد دہراتا۔اس کا زیادہ وقت یہی سوچتے گزر جاتا تھا کہ کبھی جنگل ہرا تھا اور تمام وقت پرندوں اور جانوروں کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔ اُس کی اپنی شاخوں میں اب تک لا تعداد گھونسلے موجود تھےجن میں سے زیادہ تر کو تو اُجڑے بھی مدتیں بیت گئی تھیں مگر چند اسی جیسے ضدی پرندے آخری سانس تک ساتھ نبھانے پر مصر تھےاور وہ خود بھی پُر امید تھا کہ بارشیں برسیں گی، ریت بھیگ کر سر اٹھانے کے لائق نہیں رہے گی، ایک بار پھر سبزہ سر اٹھائے گا اور تا حدِنظر ہریاول ہو گی۔ جس میں پرندے چہچہائیں گے ، ہرن چوکڑیاں بھریں گےاور وہ اپنے اجداد کی طرح بھرے پُرے جنگل کو اگلی نسل کے سپُرد کر کےاطمینان اور عزت کے ساتھ آنکھیں موند لے گا تب تک یہ ریت کےعذاب کا یہ دور ماضی کا قصہ بن چکا ہو گا۔
اچانک کچھ محسوس کر کے وہ دھک سے رہ گیا، اُس کی جڑوں کا آخری سرا بھی پانی کو چھو نہیں پا رہا تھا۔ اُس کا مضبوط دل اِس ناموجود پانی میں ڈوبنے لگااور وہ تمام دن سوچ میں گم رہا
مگر پرندوں اور درخت کی اس امید کے نیچے وہ سیاہ خوف ہلکورے لیتا تھا جس سے وہ نظر چرائے بیٹھے تھے۔ آخری تباہی کا خوف۔۔۔ جس کے بارے میں کوئی بات نہ کرتا۔ صرف ماضی کے قصے تھے جو انھیں زندہ رکھے ہوئے تھے۔
پھر بیم و رجا کی کی ایک عام سی صبح جب پرندوں کی آوازوں سے درخت کی آنکھ کھلی اور وہ مسکراتا ہوا جاگا اور اپنے ارد گرد نگاہ کی تو دیکھا کہ ریت اُس سے کچھ فاصلے پر آٹھہری ہے، اتنی قریب کہ درخت کی شاخیں اس پر سایہ کرتی تھیں۔اچانک کچھ محسوس کر کے وہ دھک سے رہ گیا، اُس کی جڑوں کا آخری سرا بھی پانی کوچھو نہیں پا رہا تھا۔ اُس کا مضبوط دل اِس ناموجود پانی میں ڈوبنے لگااور وہ تمام دن سوچ میں گم رہا۔
شام ہوئی تو اس کی پناہ میں رہنے والے تمام پرندےاس کی طرف لوٹے اور چیخ چیخ کر ایک دوسرےکو دن کا احوال سنانے لگے۔ تب ہی انھیں احساس ہوا کہ آج درخت بہت خاموش ہے۔وہ بھی ایک ایک کر کے چُپ ہوتے گئے مگر درخت کو بلانے کا حوصلہ کسی کو نہ ہوا۔ جنگل کو ختم ہوئے تو مدتیں بیت گئی تھیں مگر اتنا ہولناک سناٹا اس جگہ نے پہلی بار دیکھا تھا۔جب پرندوں کی چپ لمبی ہونے لگی تو درخت نے انھیں پکارا۔وہ سب کان لگا کر سننے کو تیار ہوگئے مگر کوئی کچھ نہ بولا۔ انھیں لگا کہ کسی نئی مرگ کی خبر ان کی منتظر ہے۔ موت جو زندگی جتنی قدیم ہے مگرکوئی ذی روح اس کا عادی نہیں ہو پایا۔ سو زندگی ایک بار پھر اپنے منطقی انجام سے خوفزدہ تھی۔
درخت بولا ،” میرے دوستو!میرے دکھ سکھ کے ساتھیو! ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ میری شاخیں اب تمہارے آشیانوں کا بار نہیں اٹھا پائیں گی۔ میں جلد ہی بے برگ وبار ہو جاؤں گا۔ وقت آگیا ہے کہ تم اڑ کر کسی بہتر ٹھکانے کے ہو جاؤ۔ اگر میں چل سکتا تو تمھارے لیے اپنی جگہ چھوڑ دیتا۔ مٹی کی محبت تمھارے چہچہوں پر قربان کرنے کی ہمت مجھ میں ہے لیکن ایسا کر سکنا میرے بس میں نہیں مگر تم جا سکتے ہو۔ لیکن جہاں بھی جاؤ ایک بات یاد رکھنا،” میں مارا گیا ہوں ہرایا نہیں جا سکا”۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ان کے گلوں میں سوکھ گئی۔
اگلی صبح جب درخت کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ سب پرندے اپنی جگہ بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ محبت کا ناگ ان کے ذرا ذرا سے سانس پی گیا تھا۔ درخت بغیر کسی آندھی، طوفان کے ،جڑوں سمیت اکھڑا اور زمین پہ آ رہا۔
Categories
نقطۂ نظر

انسان اور درخت

youth-yell-featured

سنہری ڈائری میں تقدیر کے کیےایک اور ستم کو دفناتے وہ شاید بہت تھک چکا تھا اسی لیے فرار چاہتی نگاہوں کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے درختوں کو تکنے لگا،تکتے تکتے گھورنے لگا اور گھورتے گھورتے سوچنے لگا، “یہ درخت کس قدر قابل رحم ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ان کے استاد نے انہیں سبق یاد نہ کرنے پرہاتھ اوپر کر کے کھڑا ہونے کی سزا دی ہو اورپھر یہی سزا ان کی تقدیر بنا دی گئی ہو۔۔۔ یا پھر شاید یہ سب منگتے ہیں، اپنی ہر خواہش ہر ضرورت کی تکمیل کےلیے فریاد کرتے، ہاتھ پھیلا ئے آسمان کو تکتے ‘منگتے’۔”
یوں بھی انسان اور درخت کا تعلق اتنا پرانا ہے جتنا انسان کا پہلا درد،اس کی پہلی خطا۔ شاید اسی لیے پتوں کی چیخ و پکار انسان کو انتقامی تسکین دیتی ہے۔
اکثر درخت تو اُسے باقاعدہ پریشان اور تھکن زدہ شکل و صورت بنائے نظرآتے، یوں جیسے وہ اپنے سر پر مسلط کیے گئے بوجھ کو پالتے پالتے تھک گئے ہوں اوراپنی جگہ، اپنی مٹی کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے ہوں (شاید اپنی دلی اور ذہنی کیفیات کے ہاتھوں وہ یہی سب دیکھنے پر مجبور تھا)۔ کچھ دیر وہ یہی سوچتا رہا پھر اچانک اس کے ہونٹ کپکپائے اور دو آنسو بے انت پانیوں کے ذخیرے سے نکل کر اس کے رخسار پر بہنے لگے۔ وہ جھلا کر بڑ بڑایا، “میں بھی تھک گیا ہوں،ان درختوں کی طرح تنہا، ساکت اور جامد کھڑے،اپنا بوجھ اٹھائے، ایسی زندگی گزارتے جو میں نے کبھی مانگی ہی نہیں، میں بھی تو قابل رحم ہوں۔ مجھے زندگی دے کر اپنی ہی زندگی سے ہاتھ جھاڑ لینے کی سزا سنا دی گئی ہے،اس ان چاہی دنیا میں چند مخصوص لوگوں کے درمیان ان چاہے رشتے پالنے کے لیے پھینک دیا گیا ہے۔ خدا نے مجھے قوت ارادی دے کراور بھی مجبور کردیا ہے۔میرے پاس اس نام نہادآزاد ارادے اور انتخاب کی آزادی کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں، کوئی راہ فرار بھی نہیں، میں اپنی ہی منتخب کردہ راہوں میں قید کر دیا گیا ہوں۔اس قید سے رہائی بھی میرے اختیار میں نہیں دی گئی۔ اگر میں اپنی مرضی سے اس قید سے نکل بھی جاوں تو بھی ایک ازلی قید میرا مقدر بنا دی جائے گی جس میں صرف جلن ہے،ازلی جلن۔۔۔۔ اور اگر میں خدا کی مرضی سے بھی اس قید سے نکلوں تو بھی میرے لیے قید ہی ہے؛ جنت یا دوزخ کی قید سے تو انسان مرنے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوتا۔اس پہ ستم یہ کہ اپنی ہر کجی، ہر خامی، ہر خواہش کی تکمیل کے لیے ہمیں آسمان کو تکتا “منگتا” بنا دیا گیا ہے۔ یہی بڑ بڑاتے،ایسی ہی سوچیں لیے وہ اٹھا اور زمین پر بکھرے خزاں رسیدہ پتوں کو پیروں تلے کچلنے لگا۔ پتے اپنے کچلے جانے پر درد سے چلا ا ٹھے۔ چر۔۔ چررر۔۔۔۔ چرررر۔۔۔۔ ہر بار یہ آواز اسے عجیب سا سکون دیتی، یوں جیسے اس کے اس عمل سے اس کے اپنے دکھ درد آہ و زاری کے بعد دم توڑ رہےہوں۔
یوں بھی انسان اور درخت کا تعلق اتنا پرانا ہے جتنا انسان کا پہلا درد،اس کی پہلی خطا۔ شاید اسی لیے پتوں کی چیخ و پکار انسان کو انتقامی تسکین دیتی ہے۔ پھر جوں ہی پتوں کی سسکیاں تھمیں تو ہر طرف ایک سناٹاچھا گیا۔اتنی خاموشی ہوگئی کہ اس خاموشی نے اس کی روح میں کہرام مچا دیا۔اس کہرام سے نجات کی ہر کوشش جب ناکام ہوئی تو وہ جڑ پکرنے لگا اور اس کے ہاتھ آسمان کی جانب اٹھ گئے۔