Categories
خصوصی

پاکستانی ادب کے ستر سال

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کی خصوصی ہفتہ وار نشست19ستمبر2017 کو کانفرس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز، پاکستان سیکریٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔’’پاکستانی ادب کے ستر سال ‘‘ کے نام سے معنون اس تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار زاہدہ حنا صاحبہ نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں انہوں نے ایک قراردا د پیش کی کہ آج کے اجلاس کو پنجابی کے مشہور ناول نگار افضل احسن رندھاوا کے نام کیا جاتا ہے،تمام حاضرین نے قرارداد کی تائید کی۔صدر محفل کی اجازت سے سید کاشف رضا نے اپنا مضمون ’’قومی زبانوں کا ادب ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ اردو کی بنسبت پاکستان میں دیگر زبانوں کے ادیبوں کی عوام اور جمہوریت سے کمٹمنٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اگر ہم صرف آج انتقال کرجانے والے معروف پنجابی ناول نگار افضل احسن رندھاوا کی مثال سامنے رکھیں تو انہوں نے ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیا۔کاشف رضا نے افضل احسن رندھاوا کی طرف سے مارکیز کے ایک ناول کے پنجابی ترجمے کا اقتباس پیش کیا اور ان کی پنجابی شاعری کے اشعار بھی سنائے۔کاشف رضا نے بات بڑھاتے ہوئے بتایا کہ پنجابی میں نجم حسین سید، منیر نیازی اور احمد راہی نے بھی بہترین تخلیقات پیش کیں۔ سندھی زبان کے ادیبوں نے عوام کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کی، شیخ ایاز نے مختلف اصناف میں نام پیدا کیا۔ پشتو ادب میں ولی خان، عبداللہ جان جمالدینی اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ انہوں بتایا کہ ہندکو اور بلتی زبان کا ادب ہمارے سامنے نہ آسکا جبکہ کتنی ہی ایسی زبانیں ملک میں موجود ہیں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ہیں۔

سید کاشف رضا کے مضمون پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فاطمہ حسن نے کہا کہ اردو کے ادیبوں نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں،ضروری نہیں کہ اردو ادیب اسے ہی کہا جائے جس کے والدین اردو بولتے ہوں،مشتاق احمد یوسفی، فیض، اقبال اور ن م راشد اس کی بڑی مثالیں ہیں۔زاہدہ حنا نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں،ہم زبانوں سے نفرت نہیں کرسکتے اور ان کو رد نہیں کرسکتے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ کے ساتھ کیا کیا؟اورہمیں اُ س کی بھاری قیمت اداکرنا پڑی۔

فاطمہ حسن نے اپنا مضمون ’’پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اور خواتین قلمکار۔۔۔۔ایک جائزہ ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے مضمون میں وضاحت کی کہ بیسویں صدی ادب کے حوالے سے خواتین کی شناخت کی صدی ہے، پاکستان بننے کے بعد خواتین کو لکھنے کے لئے بہت سازگار ماحول ملا،انہوں نے قرۃ العین حیدر، زاہدہ حنا، خالدہ حسین،ادا جعفری، زہرا نگار،فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، پروین شاکر،ممتاز شیریں اور دیگر متعدد قلمکاروں کے ادبی کا کارناموں کا مختصراً اور جامع طور پر ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ خواتین نے ستر سالوں میں ادب کی مختلف اصناف افسانہ نگاری، ناول نگاری، شاعر ی اور سفرناموں تک میں اپنا ایک منفر د نام پید اکیا۔مضمون پر گفتگو کاآغاز کرتے ہوئے عقیل عباس جعفری نے ایک سوال اٹھایا کہ ہم پاپولر ادب لکھنے والی خواتین کو کس درجے میں رکھیں گے؟ فاطمہ حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاپولر ادب دنیا بھر کے ادب میں موجود ہے، لکھنے والے پاپولر ادب سے بھی سیکھتے ہیں۔فاطمہ حسن نے کہا کہ وہ پاپولر ادب کو ادب عالیہ نہیں سمجھتی اس لئے انہوں ان خواتین ادیبوں کا ذکر اپنےمضمون میں نہیں کیا۔کاشف رضا نے کہا کہ کچھ ادیب خواتین کے ماہر بنے پھرتے ہیں،خواتین کو اپنے مسائل اٹھانے کےلئے خود آگے بڑھنا چاہئے۔فاطمہ حسن کا کہنا تھا کہ مرد ادیب بھی نسائی شعور کے ساتھ ادب تخلیق کررہے ہیں۔

محترم آصف فرخی نے اپنی گفتگو کا آغار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اردو ناول نگاری کی موجودہ اور پچھلی دودہائیوں کی صورتحال پر اظہار خیال کریں گے۔ انہوں نے افضل احسن رندھاوا کو ادبی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل رندھاوا نے عالمی ادب کو مقامی ادب میں ٹرانسفارم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ناول کم لکھے گئے اور ناول پر تنقید اُس سے بھی کم لکھی گئی۔اہم ناول نگار نثار عزیز بٹ کے تخلیقی عمل کا نہایت کم جائزہ لیا گیا،انتظار حسین کے ناول بستی پر اعتراض کیا گیا کہ یہ ناول ہی نہیں ہے۔حسن منظر نے افسانہ نگاری سے اپنے ادبی زندگی کا آغاز کیا، سویرا کے ایک شمارے میں منٹو کے ساتھ ان کا افسانہ بھی شائع ہوا۔العاصفہ، دھنی بخش کے بیٹے اور حال ہی میں شائع ہونے والا ناول حبس ان کے بہترین ناول کہے جاسکتے ہیں۔اکرام اللہ ایک منفرد ناول نگار ہیں ان کے ناول گرگ شب پر پابندی لگادی گئی۔ ’’آنکھ اوجھل ‘‘ میں پہلی مرتبہ بھرپور انداز میں نفر ت کے موضوع کو بیان کیا گیا۔مصطفیٰ کریم کا ناول ’’راستہ بند ہے‘‘ ملک کے تین بڑے اداروں کے آپسی گٹھ جوڑ اور اس کے ذریعے عوام کے استحصال کو بخوبی اجاگر کرتا ہے۔موجودہ دور کا ذکر کرتے ہوئے آصف فرخی نے کہا کہ رفاقت حیات نے اپنے ناول ’’میرواہ کی راتیں ‘‘ میں چھوٹے شہر کی اکتاہٹ کو عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ مرزا اطہر بیگ اپنے قارئین سے سخت مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے بعد زاہدہ حنا نے خواتین افسانہ نگاروں کے متعلق اپنا مضمون پیش کیا۔ انہوں اپنے مضمون میں مختلف خواتین افسانہ نگاروں کے معروف افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے معاشرے اور عوام پر اس کے اثرات کاجائزہ لیا، انہوں نے بتایا کہ افسانہ نگاروں نے اپنی زبردست تخلیقی صلاحیتوں سے عوامی شعور کی آبیاری کی اور آمریت کے دور میں اہم کردار ادا کیا۔زاہد حنا نے اپنے مضمون کے بعد خصوصی اجلاس کے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے خاتمے کا اعلان کیا۔

Categories
خصوصی

افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ واراجلاس مورخہ 04 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزارتِ اطلاعات کے زیرِ انتظام ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشنز کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اس نشست کی صدارت محترمہ تنویرانجم نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس نام ور شاعرمحترم افضال احمد سید کی ستر ویں سال گرہ پر منعقد کیا گیا۔

 

اجلاس شروع ہونے سے پہلے افضال احمد سید صاحب نے اپنی سال گرہ کا کیک کاٹا۔ عذرا عباس نے اپنی اور انور سن رائے کی جانب سے افضال صاحب کو پھول پیش کیے اور باقی حاضرین نے با آواز بلند افضال صاحب کو سال گرہ کی مبارک باد دی۔ محترمہ نگت مجید صاحبہ نے تمام حاضرین کو کیک پیش کیا۔

 

اس کے بعد افضال صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یا داشتوں کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، جس میں 1947 میں ان کے خاندان کے یو پی سے ڈھاکہ منتقل ہونے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کی خود نوشت سوانح سنتے وقت حاضرین کی اکثریت پر گہرا تاثر غالب رہا۔ سوانح کی قرات کے بعد تقریباً سب نے اس پر اظہارِ رائے کیا۔ خود نوشت سوانح میں بھی افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا تھا۔ بچپن کے اکثر واقعات کا متن ان کی غزلیات کے مجموعے “خیمہء سیاہ” کے مصرعوں کی طرح اختصار اور ابہام لیے ہوئے تھا مگراس کا تاثر بہت بھر پور اور گہرا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے پڑھا۔ “ہم سے پہلے جو لوگ اس مکان میں رہتے تھے، ان میں سے کبھی کوئی لوٹ کر اس مکان کو دیکھنے نہیں آیا، کن حالا ت میں چھوڑا ہو گا اس مکان کو، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ، افراتفری میں قیمتی اشیاء سنبھال کر فرار ہوتے ہوئے، سب کچھ لٹ جانے کے بعد یا وہ کہیں نہیں گئے یہیں ان کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔ “اور یہ حصہ “ڈھاکہ میں جس گلی میں ہمارا مکان تھا اس میں با لکل عام سے لوگ رہتے تھے پتہ نہیں عام رہ جانا ان کی تقدیر تھی یا ترجیح “۔ ایک اور جگہ وہ رقم طراز تھے۔ “پرانے ڈھاکہ میں طوائفوں کے لئے مشہور بادام گلی سے میری آشنائی ان رکشہ چلانے والوں نے کرائی، جو متبادل راستوں کے ہوتے ہوئے بھی ادھر سے ہی گزر کر جاتے، کبھی کبھی گلی میں کھڑی کوئی طو ائف جسے عرفِ عام میں خانگی کہا جا تا تھا، اس سے کچھ چھیڑ چھاڑکر لیتی تھی، تو رکشے والے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ رہتا، اگر خانگی، شرارت سے اس کے عُضوء تناسل کو پکڑ لیتی تو یہ ایک محنت کش کے لئے ایک جسم فروش کا ایثار ہوتا جو دو ٹکے کی طوائف کے پاس بھی جا نے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔”

 

afzal-ahmed-syed-2

خود نوشت سوانح کی قرأت کے اختتام پر اس کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نگہت مجید نے کہا کہ اس نسبتاً مختصر باب میں اس قدر تنوع اور گہرائی دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ واقعات کی کثرت اور تیز رفتاری قاری کو پریشان کن حد تک متجسس رکھتی ہے۔ کاشف رضا نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو تحریر ہم نے سنی اس کا بیانیہ بہت مختلف اور انوکھا ہے۔ جس میں افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا ہے۔ ایک مشکل جو اس حصے میں قاری کو محسوس ہوتی ہے، وہ بہت سے زمانوں کا ایک ساتھ چلنا ہے۔ یہ سوانح مکمل حالت میں سامنے آئے تو پتا چلے کہ انہوں نے زمان و مکان کو کس طرح تقسیم کیا ہے۔ بہر حال پوری تحریر پڑھ کر ہی تمام جزئیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خالد معین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ عمر کا تعین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور واقعات میں تفاصیل کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے لیکن یہ طے ہے کہ جزئیات نگاری اور تفاصیل کی حد کا تعین آپ نے کرنا ہے اور اسی طرح اسٹائل کے حولے سے بھی آپ کو پابند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خالق داد اُمید کے اس سوال پر کہ بہت سے سوانحی نکتے، جیسا کہ اپنے خاندان کے بارے میں تفصیل کو آپ نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور بچپن کے جن واقعات کو شامل کیا ہے ان کی بھی جائز تفاصیل موجود نہیں، بس اشارہ اور صرف دلچسپ اشارہ کرکے گز رنے کا تاثر کیوں مل رہا ہے؟ اس کے جواب میں افضال صاحب نے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوانح لکھنے کی وجہ اس باب کے بعد شروع ہونے والے قیامت خیز واقعات ہیں، جن کے بارے میں، میں تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ بچپن کا ذکر تو ان جھلکیوں پر مشتمل ہے جو میرے لاشعور میں رچ بس گئی ہیں اور جن کے ذکر کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ آج بھی میں خواب دیکھتا ہوں تو اکثر اپنا پچپن ہی خواب میں دیکھتا ہوں۔ افضال صاحب کے اس جواب پر سعدیہ بلوچ نے کہا، جیسا افضال صاحب نے بتایا کہ آگے چل کر وہ کچھ قیامت خیز واقعات پر لکھنا چاہ رہے ہیں لہٰذا یہ تعارف اس کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ عذرا عباس نے کہا کہ خود نوشت کے راوی کی عمر اور واقعات کا زمانہ جو کہ ایک ہی چیز ہے، اس کی عدم وضاحت بیانیہ کوسمجھنے کے >لئے مشکل بنا رہی ہے، گر ایسا ہے تو راوی کی عمر اور واقعات کے زمان کے حوالے سے وضاحت پیدا کی جائے۔ عبدالصمد نے کہا کہ بہت سی کمینوٹیوں کے مذہبی اور لسانی حوالوں کا ذکر ہے اور اس مختصر باب میں واقعات کا کثیر الجہت مشاہدہ پیش کیا گیا ہے جس سے تحریر بظاہر گُنجلک لگنے لگی ہے مگر ایسا حقیقت میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز واضح ہے۔

 

رفاقت حیات نے کہا کہ ڈھاکہ کاجتنا ذکر اس باب میں سنا، اسے سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ کرچی کا ذکر چل رہا ہے۔ مقامی بنگالیوں، بہاریوں، یو پی، سی پی کے اُردو بولنے والوں کشمیریوں حتیٰ کہ پٹھانوں کا ذکر بھی ڈھاکہ کو کراچی بنا رہا ہے۔ علی ارقم نے بتایا کہ جس رقص کا ذکر پٹھانوں کے حوالے سے کیا گیا اور جسے گفتگو میں دوستوں نے اتنڑ کہا، در اصل خٹک ڈانس کی ایک خاص صورت ہے جس میں تلواروں کو لہراتے ہوئے رقص کیا جاتا ہے اور جو اب بہت کم دیکھنے میں آ تا ہے۔ محترمہ تنویر انجم نے اجلاس کے اس حصے کے اختتام پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میرا تاثر بھی اس تحریر کو سن کر یہی ہے کہ بہت سے واقعات کا بہت ہی کم ٹائم فریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ہر واقعے کی تفصیل سے بھی اجتناب برتا گیا ہے جس سے تحریر گنجلک ہو گئی ہے۔ اگر ہر واقعے کو اس کی مطلوبہ تفصیل دے دی جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی الگ الگ کہانیاں ہیں جو اس آپ بیتی کو بہت سپورٹ دے سکتی ہیں بہر حال یہ سب کچھ طے کر نا لکھنے والے پر منحصر ہے کہ کس چیز یا واقعے کو کتنی تفصیل اور وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ صدرِ نشست کی گفتگوکے بعد افضال صاحب نے اپنی کلیات “مٹی کی کان” کے بعد کی نثری نظمیں “جواہرات کی نمائش میں شاعرہ”، “مٹی میں تیرا رنگِ حنا اور بھی چمکے” سنائیں اور اس کے بعد خیمہء سیا ہ کے بعد تخلیق پانے والی غزلیں سنائیں۔ جن میں سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:

 

اک رنجِ من و تو کو ہمہ وقت اٹھائے
پھرتا ہوں یہی مطلعِ دولخت اٹھائے
آتش کدہ ءِ یزدِ محبت میں ملے تو
اک شمع بنامِ دل و زرتشت اٹھائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری وحشت سے جو اس حسن پہ تشدید آئی
دل یہ کہتا ہے کہ اب ساعتِ تمہید آئی
روبرو اس کے جو اس دل سا خطاکار آیا
اس کی آ نکھوں میں بھی اک شوخیِ تائید آئی
ایک آئینہ میں ایسا بھی لیے پھرتا ہوں
جس میں جب دیکھا نظر صورتِ امید آئی
اس نے سن کر یہ غزل بوسہِ لب تک نہ دیا
اس کی جانب سے بڑی سخت یہ تنقید آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عکسِ معدوم سہی میں تیری آنکھوں میں مگر
دل مرا تجھ پہ تو اے آئینہ رُو روشن ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دست برداری ہے اب تیغِ ستم سے تیری
یا ہماری سرِ وحشت سے سبک دوشی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزر کے منزلِ ہر خوب و زشت سے اس کی
ملیں گے جا کے بہارِ بہشت سے اس کی
جہاں سے صورتِ تنویم میں گزرتا ہوں
خیالِ چشمِ ستارہ سرشت سے اس کی

 

حاضرین کی اکثریت کے لیے جو کہ افضال صاحب کی غیر مطبوعہ غزلیں خاصے کی چیز تھیں۔ شرکائے اجلاس نے افضال کی غزلوں پر انہیں خوب خوب داد دی۔

afzal-ahmed-syed

Categories
نان فکشن

شامِ مطالعات

[blockquote style=”3″]

حلقہ ارباب ِذوق،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس مورخہ 30اگست 2016 ،وفاقی وزارت ِاطلاعات پاکستان کے ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشن کے کانفرنس ہال میں معروف شاعر، نثر نگار اور مترجم سید کاشف رضا کی صدارت میں منعقد ہوا۔

[/blockquote]

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رپورٹ: خالق داد امید (جوائنٹ سیکریٹری)
شامِ مطالعات کے عنوان سے منعقدہ اس اجلاس میں سب سے پہلے نوجوان نقاد رفیع اللہ میاں نے درہ سحر عمران کے شعری مجموعے “ہم گناہ کا استعارہ ہیں” اور عارفہ شہزاد کے شعری مجموعے “عورت ہوں نا” پر اپنے تحریری مطالعات و تجزئیات پیش کیے۔ رفیع اللہ کے مطالعات پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شبیر نازش نے کہا کہ دونوں کتابوں پر شاعری کے معیار کے حوالے سے مضمون نگار کی مفصل رائے سے متفق ہوں۔ مضامین اچھے ہیں ۔ ان مضامین میں انگریزی اور ہندی کے الفاظ کے بارے میں میری رائے ہے کہ ان کا استعمال مجبوری میں اورانتہائی ضرورت میں کرنا تو جائز ہے مگر جو الفاظ اُردو میں مو جود ہیں اور عام فہم ہیں ان کے ہم معنی الفاظ دوسری زبانوں سے لے کر استعمال کرنادرست نہیں ۔نعیم سمیر نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مضامین دو نوں خوب ہیں البتہ مضمون کے آخر میں نظمیں سنانے سے بہتر ہو تا کہ مضمون کے دوران اپنے تجزیئے کی دلیل کے طور پر نظم کے ٹکڑے لائے جاتے۔ جہاں تک شا عرات اور شاعری کی بات ہے تو سدرہ سحر کی نظمیں مجھے نثری نظم کی خصوصیات سے عاری نظر آئیں یعنی نثری نظم کا جو مخصوص ٹریٹمنٹ ہے وہ ان نظموں میں با لکل ناپید ہے ۔عارفہ شہزاد نے اپنی نظموں میں عورت کو جینڈر بریکٹ کیا ہے اور اسی کو نسائی شاعری کا نام دیا ہے جو کہ اس سے بہت بڑھ کر اور کچھ مختلف چیز ہے ۔ ظہیر عباس نے کہا کہ جو مضامین ہم نے سنے، انہیں بنیادی طور پر مضمون کہنا مناسب نہیں بلکہ ایک تاثر ات تھے، جو مطالعے کے نتیجے میں تحر یر کیے گئے اور مضمون نگار کی رائے اور نظموں کے جو نمونے ہم نے سنے ان میں ہم آہنگی ہے۔ دونوں شاعرات اپنی فکر کا بہت اچھی طرح سے ابلاغ نہیں کر پائی ہیں۔ جس کے باعث ہم نظموں سے وہ حظ نہیں اُٹھا پائے ہیں جو کہ نثری نظم اور اس کے اچھے شاعروں کا خاصہ ہے ۔ رفاقت حیات نے گفتگو آگے بڑھائی کہ دونو ں مضامین اور شاعری کے نمونے سن کر شدت سے یہ احساس ہو ا کہ دونوں شاعرات اپنے تخلیقی سفر کے ارتقائی مرحلے میں ہیں۔ دونوں کی شاعری میں گہرائی اور پختگی کی کمی ہے اور دونوں چونکہ نسائی نظریہ ادب سے متاثر لگتی ہیں اور اپنے کلام میں اس کا اظہار کرتی ہیں تو وہاں بھی وہ نسائی شاعری کی بڑی آوازوں فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، نثری نظم کی سطح پر تنویر انجم اور عذرا عباس کو چیلنج کرتی نظر نہیں آتیں۔اور نا ہی کوئی تازہ فکر شامل کرتی نظر آتی ہیں۔ بہر حال مضامین اس بات پر ابھارتے ہیں کہ ہم سدرہ سحر عمران اور عارفہ شہزادکی اس شعری کاوش یعنی ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

 

سلمان ثروت نے مضامین سے متعلق کہا کہ یہ کتابوں اور شاعرات کے حوالے سے تعارفی اور تجزیاتی انداز میں لکھے مضامین ہیں۔ ان کے آخر میں پوری پوری نظمیں پیش کرنے سے مضامین کے ساتھ انصاف ہوتا نظر نہیں آتا ۔مناسب ہو تا کہ جہاں جہاں جس نقطہ شاعری پر تاثر پیش کیا گیا ہے وہاں اس تاثر کے حق میں شاعری یعنی نظم کا کوئی ٹکڑا یا ٹکڑے پیش کیے جاتے جس سے ہم سننے والے بھی مضمون نگار کے تاثرپر کوئی سیر حاصل تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں ہو تے ۔جہاں تک شاعری کاتعلق ہے دونو ں شاعرات کی نسائی فکر اس قدیم قضّیے تک ہی محدود ہے کہ عورت کا مقا م کیا ہے چونکہ ان کی فکر میں کوئی نیا پن نہیں لہٰذا طرز اظہار سے توقع رکھی جاتی ہے کہ اس میں کوئی تازگی ہو، اچھوتا پن ہو یا گہرائی ہو مگر اس کی بھی کم از کم نمونوں کی حد تک شاعری میں کمی پائی گئی۔ بہر حال مضامین اس لحاظ سے خوش آئند تھے کہ اپنا فیصلہ صادر کرنے کے بجائے مضمون نگار نے شاعر ات کی فکر کو تجزیا تی انداز میں قاری تک پہنچایا ہے ۔کاشف رضانے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ رفیع اللہ میاں نے سدرہ سحر عمران کے مجموعے “ہم گناہ کا استعارہ ہیں” کے بارے میں دو تین اہم باتیں کہی ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر اس کتاب کے حوالے سے احباب کا لکھا ہوا بھی پڑھ چکا ہوں ۔رفیع اللہ کے مطابق ایک تو ان کے تصور مذہب اور ادبی فکر کے بارے میں، کہ وہ مذہبی تعلیمات کی تو قائل ہیں مگر مذہبی ٹھیکیداروں کے خلاف ایک واضح سوچ رکھتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایک خاتون ہو کر بھی ان کی شاعری میں رومانیت کے بجائے شدت پسندانہ مذہبیت پائی جاتی ہے اور تیسرا یہ کہ سدرہ کی شاعری میں جو احتجاج ہے، وہ بہت لاؤڈ ہے۔ وہ ان کے ڈکشن سے ابھرنے والا التباس ہے۔ میری ذاتی رائے سدرہ کی imagesبنانے کی صلاحیت کے بارے میں بہت اچھی ہے اور جو نیا شاعر اپنی شاعری میں imagesبنا سکتا ہے اس سے بہتر شاعری توقع رکھی جا سکتی ہے ۔عا رفہ شہزاد کے یہاں مجھے مو ضوعات کے حوالے سے ایک نیا پن ملتا ہے پھر ہم خواتین تخلیق کا روں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انسانی سوچ کہ کچھ ایسے منطقے دریافت کریں گی جن تک تاحال ہماری پہنچ نہیں ہو سکی۔ دونوں سدرہ اورعارفہ نوجوان اورپڑھی لکھی ہیں لہٰذا انہیں اُردو میں اپنی سینئر خواتین تخلیق کا روں اور دوسری زبانوں کی نسائی ادب کی تخلیق کاروں کے خیالات اور کام سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور ایک بہتر اور وسیع ذہن کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

 

شبیر نازش نے “ماہ ِنو”کے جوش نمبر کے حوالے سے اپنے زبانی تاثرات پیش کیے۔ جس پر گفتگو کرتے ہوئے نعیم سمیر نے کہا کہ شبیر نازش کے تاثرات چونکہ تحریری شکل میں نہیں ہیں لہٰذا کچھ چیزیں گفتگو میں رہ گئیں ہیں جیسا کہ “یادوں کی بارات “جو جوش صاحب کا ایک اہم مضبوط حوالہ ہے۔ پھر ان کی شاعری کا ان کے عہد یعنی جنگ عظیم اول اور دوئم اور تقسیم کے تناظر میں بھی جائزہ نہیں لیا گیا کہ بہر حال ان کا عمدہ کلام ابتدائی دور کی تخلیق ہے۔غزلیں جوش صاحب نے بہت کم لکھی بلکہ وہ غز ل کے خلاف تھے۔ نظمیں بہت کہیں مگر مرثیہ ہی قادر الکلامی کے حوالے سے ان کی پہچان ہے ۔کاشف رضا نے شبیر نازش کے مطالعے کے حوالے سے کہا کہ جوش کی اُٹھان ان کی شاعری کے ابتدائی دور یعنی 1920سے 25میں بہت تیز تھی اور وہ اپنے ہم اثر اقبال کے مقابلے کے شاعر سمجھے جاتے تھے مگر بعد میں ان کی شاعرانہ طرز فکر میں کوئی فکری یا تکنیکی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جو کہ ہر دس بیس سال بعد کی شاعری میں ضرروری ہونی چاہیے۔اس وجہ سے ان کے بعد کے شاعر اُن سے زیادہ متاثر نظر نہیں آتے ۔جبکہ ن ۔م ۔راشد اقبال کے خلاف ہونے کے با وجود ان کے زیر اثر نظر آتے ہیں اور ایسے بہت سے دوسرے شاعر بھی، مگر جوش صاحب کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔

 

ظہیر عباس نے سبطِ حسن کی کتاب “سخن در سخن “کے حوالے سے اپنی تحریر”سبطِ حسن اور فیض شناسی” اور افلاطون کے مکالموں پر مشتمل اکرام الرحمن کے ترجمے “سُقراط کے آخری ایام” پراپنا تحریری تاثر پیش کیا جس پر گفتگو کرتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ فیض پر سبطِ حسن کی رائے اور اس رائے پر ظہیر عباس کا تبصرہ دونوں شاندار ہیں جبکہ مکالماتِ افلاطون پر ظہیر عباس کی تحریرنے ان مکالمات کا احاطہ کیا گیا ہے جو سقراط کے آخری ایام کے نام سے اکرام الرحمن نے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ سقراط سے متعلق اور خصوصاً ان کے آخری ایام سے متعلق بہترین اور مستند کاوش ہے ۔سقراط اپنے دور کے سوفسطائی حکماء کی طرح گھوم پھر کر اور لوگوں سے سوالات کر کے ان کے ذہن میں موجود خیالات کی خوبیاں، خامیاں اُن پر عیاں کرتا اور ان کی ذہنی اور فکری تربیت کرتا تھا۔ وہ ایک بڑھ مکھی کا ذکر کرتا تھا کہ وہ اسے ہر وقت کاٹتی ہے اور لوگوں سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس دعوے کی روشنی میں کچھ لوگ انہیں پیغمبر بھی کہتے تھے مگر سقراط ایک فلسفی تھا منطقی طرز فکر کا جسے سرخیل سمجھا جاتا ہے جبکہ فکری دنیا میں سقراط ایک ایسی مِتھ بن گیا ہے، اصولوں پر سمجھوتے کی جگہ جس نے زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دی۔ کاشف رضا نے ظہیر عباس کے مطالعے پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ مکالماتِ افلاطون ہر نو جوان کو پڑھنے چاہئیں۔ یہ جو سقراط کے آخری ایام کے نام سے افلاطون کے مکالمات ہیں یہی یا ایک آدھ اور مکالمہ سقراط سے متعلق یا سقراط کا بیان کردہ ہے باقی جتنے بھی افلاطون کے مکالمے ہیں وہ ان کی اپنی فکر اور خیالات پر مشتمل ہیں ۔کم ازکم یہ چا ر مکالمے اور اگر ممکن ہو تو افلاطون کے تمام مکالمے ہر نو جوان کو پڑھنے چائیں اور پہلی فرصت میں پڑھنے چاہیں کہ ایک تو یہ ہمارے اذہان میں مذہب کے جو ٹھونسے ہوئے تصورات ہیں ان پر سوال اُٹھاتے ہیں دوسرا یہ عمومی طور پر بھی ہم میں سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں ۔جبکہ فلسفے کی دو بڑی شاخوں افلاطون کا آئیڈیلزم یا تصوریت پر محیط فلسفہ اور ارسطو کا تجربیت پر مبنی فلسفے میں سے ایک کی بھر پور وضاحت سے آگہی اور دوسرے کی بنیادی فہم عطاء کرتے ہیں ۔

 

آخر میں سید کاشف رضا نے بھیشم ساہنی کے ناول “تمس”اور اوم پرکاش والمیکی کی آپ بیتی “جوٹھن” پر اپنا زبانی مطالعاتی تاثر پیش کیا اور کہا کہ تمس کو میں تقسیم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے تو اہم سمجھتا ہی ہوں مگر اسے پنڈی ِ اور اس کے آس پاس کے علاقوں،جہاں تقسیم سے قبل ہندو اور خصوصاً سکھ بہت بڑی تعداد میں رہتے تھے پر ایک شاندار ادبی اور تاریخی دستاویزبھی سمجھتا ہوں ۔جبکہ جوٹھن اس خطے کی ایک بہت بڑی حقیقت “دلِت” کمیونیٹی پر ایک جامع اور بولڈ کتاب ہے جس کی مدد سے ہم پاکستان میں بھی اپنے موجودہ لسانی ،فرقہ وارانہ اور مذہبی مسائل کو نہ صر ف سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس کتاب کے اندراجات کی روشنی میں ان کا حل بھی نکا ل سکتے ہیں ۔کا شف رضا کے مطالعے پر گفتگو کرتے ہوے رفاقت حیات نے کہا کہ میں نے تمس اور جوٹھن پڑھ رکھی ہیں تمس کی بڑی خوبیاں جو میں نے محسوس کی وہ ایک تو بھیشم ساہنی نے اس میں تقسیم کی تمام جہتوں کو بیان کیا ہے حتی کہ انگریز کے کردار کو بھی اور پھر تمام مذاہب اور لسان کے کردار کہانی میں انسان کی سطح پر عمل کرتے اور کردار نبھاتے نظر آتے ہیں نا کہ ہیرو اور ولن کے طور پر۔ہم سب جانتے ہیں کہ پنڈی، حسن ابدال اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں سکھ صدیوں سے آباد تھے مگر کتنی بڑی تعداد میں آباد تھے اور کس طرح کی زندگی گزارتے تھے اس حوالے سے ہما را علم نا ہونے کے برابر ہے ۔حا لا نکہ میں پنڈی میں بہت عرصہ رہائش پزیر رہا ہوں اور تعلیم حاصل کی ہے لہٰذا کاشف کا یہ کہنا کہ یہ ایک ادبی اور تاریخی دستاویز ہے بالکل درست ہے بلکہ میں اسے ادبی، تاریخی، سماجی، سیاسی اور جغرافیائی دستاویز کہوں گا ۔” جو ٹھن” اوم پرکاش والمیکی کی بڑی شاندار آپ بیتی ہے جسے پڑھتے ہوئے اکثر مقامات پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو کس طرح سماجی، معاشرتی اور مذہبی طور پر الگ کیا گیا ہے، دھتکارا گیا ہے بلکہ رد کیا گیا ہے۔خالق داد اُمید نے کہا کہ دلِتوں پر ہونے والے مظالم بیشک ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہیں مگر میں اس میں برصغیر کے حکمرانوں مغل، انگریز اور بعد از تقسیمِ ہندوستان کی ریاستوں کو زیادہ قصور وار نہیں سمجھتا کہ ہندو مذہب کے نظریے اور تعلیمات میں ہی یہ تفریق بہت نمایا ں ہے ۔جس پر غالب آنے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر حکومت، ریاست اور حکمران نے کو شش کی اس کے مقابلے میں پاکستان میں جو 70 سال میں دوسرے مذاہب اور اپنے فرقوں کے لئے جارحیت اور نفرت پران چڑھی ہے اس کی بڑی حد تک یا شاید مکمل طور پر ذمہ دار پاکستانی ریاست، اس کے مذہبی فکر اور اس سے متاثر حکمران ہیں۔ کاشف رضا نے ان جملوں پر کہ ہماری ریاست کو اپنی جغرافیائی حدود کے اندر مذہبی، فر قہ ورانہ اور لسانی مسائل کے حل کے لئے دلِتوں کے مسئلے اور اس کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے نشست کی برخاست کا اعلان کیا۔