لکن میٹی

اسد رضا:برگد کے درخت کے نیچے سے سائیکل اٹھاتے وقت مجھے ایک فکر نے آن گھیرا۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی خط میز کے اوپر چھوڑ آیا ہوں۔ کیا “میں آج تمام خط پہنچا پاوں گا میں نے خود سے سوال کیا”۔ ہوا میرے اندر رقص کر رہی تھی بیگ میں موجود تمام خط پھڑپھڑا رہے تھے۔
وہ آنکھیں

محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کرلاہٹ

اسد رضا: مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔
نوح، فاختہ اورکبوتر باز

ممتاز حسین: خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔
فیصلہ

اسد رضا: میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔
مفتی

جیم عباسی: مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔
فنِ گزشتگان

اسد رضا: ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔
سوال

اسد رضا: اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔
ریفری

جنید الدین: وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔