Categories
فکشن

لکن میٹی

میں جب ساتویں مرتبہ خواب سے بیدار ہوا تو خود کو میز پر جُھکے پایا۔ کلاک مسلسل بارہ بجائے جا رہا تھا۔ میں کافی لمبی چھٹی گزار کر آرہا تھا۔ میں نے دراز کھولا اور بنڈل نکال کر میز پر رکھا۔ “آج کام کافی زیادہ ہو گا” میں نے سوچا۔ کُل ایک کم سو خط تھے جنہیں میں نے اپنی منزل تک پہنچانا تھا۔ آج سے اٹھائیس برس پہلے میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اس شہر میں آیا تھا تو سولہ سترہ سال کا جوان لڑکا تھا۔ میں محکمہ جاسوسی میں بھرتی ہونا چاہتا تھا مگر شہر میں داخل ہوتے وقت ایک حادثے میں میری دائیں آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ وہاں سے مایوس ہو کر میں ڈاک کے محکمہ میں بھرتی ہونے چلا آیا۔ انہوں نے میری ایک آنکھ سے نظر بچا کر میری متجسس جبلت کی تعریف کرتے ہوئے فوراً بھرتی کر لیا۔ میرا کام اُن خطوں کو منزل تک پہنچانا تھا جن کہ اوپر کسی بھی قسم کا پتہ درج نہ ہوتا تھا۔ ان اٹھائیس سال میں ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں کسی خط کو منزل تک نہ پہنچا پایا ہوں۔ محکمہ میری کارکردگی سے بہت خوش تھا وہ مجھے ترقی دے کر ٹکٹ شماری کے شعبے میں بھیجنا چاہتے تھے مگر مجھے گمنام خطوں کے قاصد بننے کے علاوہ کچھ بھی آتا نہیں تھا سو میں اسی شعبے میں ٹکا رہا۔ مجھے ٹھیک سے یاد تو نہیں کہ میں نے اب تک کتنے خطوں کو منزل تک پہنچا پا ہو گا مگر وہ یقینا ہزاروں میں ہوں گے۔

 

ان اٹھائیس سالوں میں ہمارا وطن دو جنگوں سے گزرا تھا، چار آمرانہ اور ایک جمہوری دور بھی آیا تھا، چھ سیلاب اور دو زلزلے بھی آئے تھے۔ ایک بار طاعون کی وبا اور قحط سالی بھی آئی جس میں آدھا شہر ختم ہو گیا مگر میرے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ عام طور پر مہینوں میں چند ہی خط موصول ہوتے تھے لیکن کبھی کبھی تو ایک دن بھی سینکڑوں خط پہنچانے پڑتے۔ میں ہمیشہ آفس آتے ہی نیچے کا دراز کھولتا، تمام گمنام خطوں کو ترتیب لگاتا، انہیں چمڑے کےبستے میں ڈالتا اور دفتر کی پچھلی طرف کی سیڑھیاں اُتر کر برگد کے درخت کے نیچے کھڑی اپنی پرانی بائسکل (یہ ہمیشہ سے پرانی ہی تھی)اُٹھاتا اور گمنام خطوں کی منزل کی طرف چل پڑتا۔ یقین جانئیے میں نے آج تک کسی سے راستہ نہیں پوچھا تھا۔ جیسے میں پہلے سے ہی جانتا تھا کہ کس خط کو کہاں پہنچانا ہے۔

 

میں نے اپنی اکلوتی آنکھ کو پیشانی پہ درست کیا اور تمام خطوں کو میز پر پھیلا کر ترتیب دینے لگا۔ سب سے پہلے وہ خط الگ کئے جن کے کونے بائیں طرف سے مُڑے ہوئے تھے۔ اُن کو میں نے بستے کی سب سے اوپر والی جیب میں ڈالا۔ پھر ان خطوں کو الگ کیا جن پر کچھ بھی تحریر نہیں تھا لیکن ان کے ورق پھر بھی کورے نہیں تھے یہ خط تعداد میں سب سے زیادہ موصول ہوتے تھے۔ ان کو میں نے بستے کی انتہائی اندرونی جیب میں رکھا۔ کچھ ایسے خط بھی تھے جن میں محض اخباری تراشے چسپاں تھے۔ اُن خطوں کو بیگ کی عقبی جیب میں رکھا۔ دو گیلے خط بھی موصول ہوئے تھے جن کو تقدس کے ساتھ میں نے بیگ میں پھیلا کر رکھ دیا۔ ایک خط میں گلاب کی سوکھی ہوئی پتیاں تھیں۔ جن کو میں نے سب کے اوپر رکھ دیا۔ ابھی میں خطوں کو ترتیب دینے میں مشغول تھا کہ سامنے کے دروازے سے وہ داخل ہوا۔ سورج کی تیز روشنی میں پہلے تو اُس کا چہرہ ٹھیک سے نظر ہی نہیں آ رہا تھا لیکن وہ ایک ٹانگ سے لنگڑا رہا تھا تب میں نے اُسے پہچانا۔یہ خوش شکل لڑکا جب بھی دفتر آتا تو چائے کی دوپیالیاں لے کر میرے پاس آجاتا۔ یہ بہت عجیب لڑکا تھا میں نے اسے ہمیشہ خوش ہی دیکھا تھا۔ اُس نے مجھے آتے ہی بتایا کہ اُس کی ماں پچھلے ہفتے مر گئی تھی۔ اُس کی ماں کو کینسر اور انتظار کا مرض عین جوانی میں لگ گیا تھا۔ اس لڑکے نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کچھ لوگوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ اس کی ماں ایک رقاص کی محبت میں مبتلا ہو گئی تھی جو روز برگد کے درخت کے نیچے ٹھیک بارہ بجے رقص کیا کرتا تھا۔ رقاص کے قدم کہاں ٹھہرتے ہیں ایک دن ایسے ہی ناچتے ناچتے وہ گم ہو گیا تھا۔ مجھے لوگوں کی باتوں سے کیا، مجھے یہ نوجوان بہت اچھا لگتا تھا۔ درحقیقت میں اس کی محبت میں مبتلا ہو چکا تھا۔ میں اور وہ اُس کی ماں کی موت کے سوگ میں دو منٹ خاموش رہے۔ لیکن اُس کے لئے خاموش رہنا بہت مشکل تھا۔ اُس نے فورا اپنا نیا خط پڑھ کہ سُنانا شروع کر دیا۔ وہ جب بھی آتا اپنا نیا خط مجھے پڑھاتاجو اُس نے اپنی محبوبہ کےنام لکھا ہوتا تھا۔ چائے کا تو بہانہ ہی ہوتا تھا اُس نے دراصل مجھے اپنا خط سنانا ہوتا تھا۔ میں اکثر اُسے کہتا کہ وہ یہ خط مجھے دے دے تا کہ میں اس کو منزل تک پہنچا دوں گا لیکن اُس نے مجھے کبھی خط نہیں دیا تھا۔ کبھی کبھی تو مجھے گمان ہوتا کہ اُس کی محبوبہ ایک فرضی کردار ہے اور وہ محض خط لکھنے کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ لیکن میں نے اُس سے یہ بات کبھی نہیں کی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ اُس کا جواب مجھے کسی گمشدہ خط کی طرح اداس کر دے گا۔ مجھے احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ کب کا جا چُکا ہے۔ جب میں تنہا ئی کو پڑھتے پڑھتے اکُتا گیا تو اپنا بیگ سمیٹتے ہوئے باہر نکل آیا۔ برگد کے درخت کے نیچے سے سائیکل اٹھاتے وقت مجھے ایک فکر نے آن گھیرا۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی خط میز کے اوپر چھوڑ آیا ہوں۔ کیا “میں آج تمام خط پہنچا پاوں گا میں نے خود سے سوال کیا”۔ ہوا میرے اندر رقص کر رہی تھی بیگ میں موجود تمام خط پھڑپھڑا رہے تھے۔
Categories
نان فکشن

وہ آنکھیں

تقریباً روز ہی صبح آفس جاتے ہوئے جب میں سٹاپ پراپنی گاڑی کا انتظار کررہا ہوتا ہوں تو پولیس والے قیدیوں سے بھری گاڑیاں لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ آج کل پولیس کو قیدیوں کو لے جانے کے لیے جو نئی گاڑیاں ملی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے مرغیوں کا ڈربہ یاد آ جاتا ہے

 

آپ نے چھوٹے چھوٹے مرغیوں کے ڈربے تو دیکھ رکھے ہوں گے جن کے اوپر ایک چھوٹا سا روشندان بھی بنایا جاتا ہے جو روشنی کا کام دیتا ہے۔ اور مرغیاں زیادہ تر اسی روشندان کے پاس ہی کھڑی ہوتی ہیں۔

 

ذیادہ تر قیدیوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسی روشندان کے پاس ہی کھڑے ہوں شاید ہر شے آزادی کی خواہش مند ہے چاہے انسان ہو کہ جانور۔

 

میں نے کبھی یہ کھڑکی کہ جس کے اوپر لوہے کی سلاخیں لگی ہوتی ہیں، خالی نہیں دیکھی۔ کوئی نہ کوئی آنکھ باہر ضرور جھانک رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ روشندان تقریباً پانچ فٹ اونچائی پر ہے لیکن پھر بھی شاید قیدی اس ڈربے میں بیٹھتے نہیں اور سلاخوں پر آکر چمٹ جاتے ہیں۔

 

یہ گاڑیاں قیدیوں کو صبح جیل سے کچہری لے کر جارہی ہوتی ہیں۔ مجھے اصل میں قیدیوں کی آنکھوں سے ڈر لگتا ہے مجھے انکی آنکھیں دیکھی نہیں جاتیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے محکمے کی گاڑی پہلے آجائے اور میں یہاں سے چلاجاوں آپ کہیں گے آنکھوں سے بھلا کون ڈرتا ہے۔ ہاں بات سچ ہے لیکن آنکھوں آنکھوں میں فرق ہوتا ہے شاید۔ ہر آنکھ ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی ہے۔اب ایسی درد بھری، داستان گو آنکھوں سے وحشت نہ ہو تو کیا ہو۔

 

بعض آنکھیں ایسی وحشت ذدہ سی ہوتی ہیں کہ ایک بار آپ کی نظر پڑ جائے تو آپ کانپ جائیں ایسے قیدیوں کو شاید بڑی سزا ہونے والی ہوتی ہے اور وہ آپ کو یوں دیکھیں گے کہ گویا آپ ہی وہ جج ہیں جس نے ان کی سزا لکھی ہے سو جیسے ہی میری آنکھیں ان آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو وہ آنکھیں چیخ چیخ کر سوال کرنے لگتی ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ سزا، میرا قصور کیا تھا، سارے ثبوت اور گواہ میرے حق میں تھے پھر بھی فیصلہ میرے خلاف کیسے آ گیا۔ میں سوچتا ہوں شاید دوسری پارٹی بہت مضبوط ہوگی یا جج نے پیسے لے لیئے ہونگے۔ ایسے سوالوں کے جواب میں میرا دل کرتا ہے پولیس بس کے ساتھ ساتھ بھاگتا جاوں اور عین کھڑکی کے نیچے پہنچ کر کہوں کہ فیصلہ میں نے نہیں سنایا تم نے جو کہنا ہے جج کو کہو لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا۔اور نظر چرا کر سڑک کے دوسری طرف دیکھنے لگ جاتا ہوں۔

 

کچھ قیدی ایک ہی نظر میں سارا باہر کا منظر اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں پلک جھپکانا بھی بھول جاتے ہیں ایسے قیدیوں کو شاید لگتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہونگے اور اس قید میں ہی باقی زندگی گزرے گی سو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی جتنے منظر دیکھ لو بہت ہیں، ایسی آنکھیں کوئی سوال نہیں پوچھ رہی ہوتیں، شاید پہلے والی آنکھیں جب سوال پوچھ پوچھ کر تھک جاتی ہیں تو وہ ایسی ہو جاتی ہوں، لالچی آنکھیں سارے منظروں کو اپنے اندر سمو لینی کی خواہش میں ڈوبی آنکھیں۔

 

لیکن کچھ آنکھیں بے حد اداس ہوتی ہیں ایک نظر باہر کا منظر دیکھا اور پھر آہ سر دکھینچ کر آنکھیں نیچے جھکا لیں ایسے قیدی شایدعادی مجرم نہیں ہوتے۔ یونہی کبھی کبھار جذبات میں یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ پکڑے بھی جاتے ہیں پھر ضمیر انہیں ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ ایک پچھتاوے کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں۔

 

صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب بھی وہ سامنے سے گزرتی ہیں تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر اٹھا کے دیکھ لیتا ہوں۔

 

اور آج بھی میں یہی سوچ رہا ہوں کہ میرا سامنا نہ ہو لیکن محکمے کی گاڑی آج لیٹ ہے سو انتظار کرنا پڑے گا۔ اور وہ دیکھیں پھر پولیس کی گاڑیاں آ رہی ہیں آج تو میں نہیں دیکھوں گا،پہلی گاڑی گزر گئی میں دوسری جانب دیکھنے لگا، ایسا بھی کیا ڈر مجھے دیکھ لینا چاہیئے میں نے سوچا اور جب دوسری بس نزدیک آئی تو میری نظر فورا کھڑکی کی طرف اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔

 

میری آنکھیں کھڑکی پر کیا کررہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
Categories
فکشن

کرلاہٹ

اُس نے میرے سامنے اپنی کلائی کاٹ کر خودکشی کر لی تھی کیونکہ اُس کے بارہ دروازوں میں سے کوئی بھی کھلا نہیں تھا جس سے وہ فرار ہو سکتا۔ لیکن ٹھہرئیے کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔ میں پندرہ سال کی تھی جب ایک رات میرے بالوں کو سنوارتے ہوئے میری ماں مجھے اپنے وجود کے اُس تہ خانے میں لے گئی تھی جہاں سوائے گھٹا ٹوپ اندھیرے کے کچھ نہیں تھا میں آنکھیں کھول کھول کر اُس میں راہ ڈھونڈنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ میری ماں اپنا شوہر ڈھونڈنے نکلی تو ساس کی نفرت میں مبتلا ہو گئی اور انجام کار ساس سے ایسا انتقام لیا جو ایک عورت ہی لے سکتی ہے۔ یہ میری پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے جب وہ اپنے شوہر کی تصویر پرس میں ڈالے اپنے سسسر کے ساتھ گھر سے فرار ہوئی۔ اور اُس کا سسر بھی ایک ہاتھ سے تہبند سنبھالے دوسرے ہاتھ میں میری ماں کی کلائی تھامے نکلا۔ اُس نے میری ماں کی طرح بیٹے کی تصویر نہ اُٹھائی لیکن یہ تصویر تو میری ماں کے وجود پہ چسپاں تھی۔ میری ماں مجھے بتاتی ہے کہ وصل کہ انتہائی لمحوں میں وہ اُٹھ بیٹھتا اور لائٹ بند کرنے کو دوڑتا اور اُس کے ہاتھ کپکپانے لگتے۔۔ ٹھیک دو سال بعد اُس نے کھڑکی سے کود کے خودکشی کر لی۔ میں کس کی بیٹی ہوں؟ اس کا جواب میری ماں کے پاس نہیں تھا یا وہ مجھے دینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ پہلا دن تھا جب میرے وجود پر نا معلوم کی چھاپ لگی۔

 

صبح میں اُٹھی تو میں نے دیکھا کہ بستر پر میری ماں پہلے سے کہیں زیادہ عریاں لگ رہی ہے۔ بالوں کی ایک لٹ اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے اس کی گردن کر گرد لپٹی ہوئی تھی۔ کاش وہ ایک پھندہ ہوتا مٰیں نے سوچا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک پھندہ ہی تھا۔ میرا سر تپ رہا تھا اور پیٹ میں عجیب سا درد اُٹھ رہا تھا۔ میں ٹکٹکی باندھے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی رات کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بالاخر میں تیزی سے بیڈ کے پاس آئی جھٹکے سے بیڈ کے اوپر سے ہوتی ہوئی ماں کے پیٹ پر چڑھ گئی۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا اور حلق خشک ہو رہا تھا۔ وہ ہربڑا کر اُٹھنے لگی میں نے اُسے بازوں سے پکڑا اور لٹا دیا اور اسے جھنجھوڑنے لگی۔ میں ٹھہر ٹھہر کر چیخ رہی تھی۔ پہلے وہ گبھرا گئی پھر وہ مسکرائی۔ اُس نے مجھے زور سے بھینچ لیا اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔ کمرے میں پسینے، گیلی مٹی اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو پھیلنے لگی۔

 

مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔ رات میں نے اُسے درخت سے لٹکتے ہوئے دیکھا وہ بڑھتے بڑھتے آسمان تک پہنچ گئی اور زمین پر گھاس کی طرح اگنے لگی وہ تیزی سے میری طرف بڑھ رہی تھی میرے پاوں اُس گھاس میں الجھنے لگے اور میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنے عکس کو شکست دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ میری اُس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اُس کی ہنسی بہت وحشت ناک تھی میں گبھرا کر پیچھے ہٹ گئی۔ پھر وہ ہر جگہ ہی نطر آنے لگا۔ایک دن میں ٹیبل پہ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی کہ وہ ایک لال بیگ کی پشت پر سوار ہو کر نیچے سے گزرا اس نے کسی سورما کی طرح جنگی سامان سینے پہ سجا رکھا تھا۔ مجھے ہنسی آ گئی۔ میری ماں نے جُھک کر نیچے دیکھا اور لال بیگ کو پیر کے نیچے کچل دیا اس کا سب خون کھانے میں پھیل گیا۔ مجھے کراہت محسوس ہونے لگی اور میں کھانا چھوڑ کر واش روم بھاگ گئی۔ وہ ٹونٹی کے اندر سے نکلا۔ میں نے دیکھا اُس کی پسلیاں زخمی تھیں اور اس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ میں نے اُس کی مرہم پٹی کی۔ ایک دفعہ میں کمرے میں آئی تو میں نے دیکھا کہ سارا فرش شیشے کا ہو گیا ہے جس پر اس نے تیل گرا دیا ہے اور خود کنارے پہ کھڑا مجھے آوازیں دے رہا ہے۔ میں اُس کو پکڑنے بھاگی لیکن پھسل کر گر پڑی۔ وہ کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے پر پھسلتا جا رہا تھا اور مجھے پیچھے بلا رہا تھا۔ میں بھاگ بھاگ اور پھسل پھسل کر تھک سی گئی تھی پر وہ مجھے رُکنے نہیں دیتا تھا۔ میرا پورا وجود چپ چپا اور لیس دار ہو رہا تھا۔ میری ماں کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کی حالت دیکھ کر غصے سے مجھے کوسنے لگی وہ جلدی سے ایک بل میں چھپ گیا تھا۔ میری ماں مجھے پکڑ کر شاور کے نیچے لے گئی۔ وہ مجھے نہلا رہی تھیں پر میری ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی۔

 

وہ جرمن زبان بولتا تھا پھر بھی مجھے اُس کی ہر بات سمجھ آتی تھی۔ وہ مجھے جرمن زبان کے شعر سناتا تھا۔ کچھ کچھ شعر مجھے اب بھی یاد ہیں

 

“ہاں اب میں ایک چکنا پتھر ہوں لیکن میرے اندر وہ لمحہ فوسلز کی طرح قید ہے جب میں نے خود میں روح پھونکی
تھی۔ تم کسی نوک دھار آلے (تمہاری آنکھو ں سے زیادہ نوک دار کیا ہو سکتا ہے) سےمجھے عین دل کے پاس سے چیروں تو اولین بوسے کو پڑھ سکتی ہو “

 

” میں عدم میں سو رہا تھا کہ میرے اندرچیخ بھر دی گئی۔ پھر میں شیشے کی طرح ٹوٹا اور میری آگ اور چیخ کرچیوں کی طرح ہر سو پھیل گئی”

 

“جس نے بھی سورج سے آگے نکلنے کی کوشش کی اُس کے سائے نے خود کشی کر لی، اب وہ آسمان کے متوازی غروب ہو رہا ہے”
” اگر تم کرب سے نکلنا چاہتے ہو اور تمہیں ہمیشگی کی تلاش ہے (جیسے تمہارے پہلوں کو تھی) تو تمہیں نہ ختم ہونے والے خواب کا حصہ بننا پڑے گا”

 

وہ مجھے شعر سناتا رہتا اور میں گھنٹوں اُن کی دھنیں ترتیب دیا کرتی تھی ایسے میں میری ماں مجھے حیرت سے دیکھتی رہتی۔ ایک رات میں چھت پہ کھڑی اُس کی شاعری کو سوچ رہی تھی اور وہ نیچے ٹیبل میں بیٹھا تصویر بنا رہا تھا۔ میں نے گنگنانا شروع کر دیا۔ میری آواز لبالب اندھیرے میں بہتی چلی جا رہی تھی پھر وہ سیلاب کی طرح منہ زور ہو گئی پھر وہ پھن اٹھا کر کھڑی ہو گئی پھر ایک چیخ بن گئی جو آسمانوں تک جا رہی تھی پھر وہ ناخنوں سے آسمانوں کُھرچتی ہوئی واپس آنے لگی پھر اُس کے سانس بے ترتیب ہونے لگے یہاں تک کہ پوری فضا ایک نامعلوم اداسی میں ڈوب گئی۔ اب صرف ایک دھیمی سی نا سمجھ میں آنے والی دھُن گونج رہی تھی جو کائنات کے سبھی کناروں سے باہر نکل رہی تھی۔ میں نے نڈھال ہو کر ریلنگ پر سر رکھ کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ اس دوران وہی تصویر بنا رہا تھا جس میں ایک کلی کو درمیان سے کاٹا گیا تھا جس کی ڈنڈی سلگ رہی تھی اور اُس کا دھواں پوری تصویر میں پھیل رہا تھا کٹی ہوئی کلی سے پتیاں بے جان ہو کر تصویر کے پیندے میں گر رہی تھیں ایک انگارہ کلی کے اندر سے طلوع ہو رہا تھا جس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ڈنڈی کے اندر گر رہے تھے اور وہ مزید سلگتی جا رہی تھی۔ اُس کی پوری تصویر کو آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اپنے اندر بھڑکتی ہوئی آگ محسوس کی اور بھاگ کر بستر میں گھس گئی۔ میرے اندر کا سب پانی لاوہ بن کر بہہ رہا تھا۔

 

میری امی کو لگتا تھا کہ میرے اوپر کوئی سایہ ہو گیا ہے وہ سورتیں پڑھتی اور مجھ پر پھونکتی رہتی۔ اس دوران وہ پاس کھڑا مسکراتا رہتا اور مجھے شعر سناتا اور میں بے خود ہو کر ان کی دھنیں بنانے میں کھو جاتی۔ ایسے میں میں بہت استغفار کرتی پر دھنیں کہیں میرے اندر سے پھوٹ رہی ہوتی تھیں اور میں بے قابو ہو کر ناچنے لگتی اور ماں کی باہوں سے نکل نکل جاتی تھی۔ایک دن میری ماں نے مجھ سے پوچھا”تمہاری اُس سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی”۔ “ آئینے میں” میں نے جواب دیا۔ “ بیٹا وہ تیرے عکس کے قید خانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نکل آ اُس سے باہر میری جان” وہ کچھ کھوجتے ہوئے بولی۔ مجھ سے رہا نہ گیا میں پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی “آئینے میں تو ہم سب ہیں امی جان، ایک وہی تو آئینے کے باہر ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں آئینے کے اندر آزادی ڈھونڈتے ہیں۔ ہم ایک پرچھائی ہیں جو خود سے بڑھ جانے کی جستجو میں مبتلا ہیں۔ ہم آئینے کے کسی خانے میں پوشیدہ ہونا چاہتے ہیں پر وہ ہمیں ڈھونڈ لیتا ہے۔ وہ جب آئینے کے سامنے آتا ہے ہمیں باہر آنا ہی پڑتا ہے۔ تم خود سوچو تم نے جو کچھ بھی کیا وہ آئینے سے باہر نکلنے کی سعی کے سوا کیا تھا۔ تم مجھے اُس سے بچانا چاہتی ہو؟ تم تو مجھے خود سے بھی نہ بچا پائی۔ ہمارے بارہ دروازوں میں کوئی بھی تو کھلا نہیں ہے۔ ”۔ میں روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولتی چلی جا رہی تھی۔ میری ماں کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔

 

آج پھر جب وہ مجھے ملا تو اس کے ہاتھ میں ایک خالی کاغذ تھا۔وہ مجھے آزار پہنچانے پر شرمسار تھا۔ مجھے تو اُس سے کوئی شکایت نہیں۔ وہ مجھے اپنے شیش محل میں لے گیا۔ وہ کسی کہانی کے دیو کی طرح آئینوں میں اپنا عکس دیکھ کر غُرا رہا تھا۔ اُس نے ایک ایک کر کے سارے آئینے توڑنا شروع کر دئیے۔ فضا میں ہر طرف کرچیاں اُڑ رہی تھیں۔ سبھی عکس زروں میں تقسیم ہوتے چلے جا رہے تھے۔ میں نے اونچی آواز میں opera گانا شروع کر دیا۔ جب میں شہزادی کے بین پر پہنچی میری آواز اتنی بلند تھی کہ میں اندر سے چیری جا رہی تھی۔ وہ کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اُٹھائے کھڑا تھا۔ ہمارا لہو ہمارے عکس کو دُھندلا رہا تھا۔ میری ماں نے بال کھول لئے تھے اور سر پیٹنا شروع کر دیا تھا

Image: Morteza Loghmani

Categories
فکشن

نوح، فاختہ اورکبوتر باز

خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔ خدا کے عذاب سے اْن بے گناہوں کو بچانے کا۔ اس زمین کو دھودیا جائے۔ گناہوں کی میل کو نکال نچوڑ پھینک دیا جائے۔خدا کا ایک فیصلہ تھا۔حضرت نوح علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور خدا کے فرمان کے ایک ایک لفظ کو جمع کرنے لگ گئے جیسے کسی ملک کا وزیرخزانہ غلے کی ذخیرہ اندوزی کرلیتاہے۔ کسی بہت بڑے طوفان کی آمد سے پہلے ایک محفوظ جگہ پر اکٹھا کر لیتا ہے۔

 

خدا نے مشورہ دیا سفینہ حیات عمل میں لاؤ۔ ایک بڑی کشتی کو وجود دو۔ حضرت نوح علیہ السلام شش و پنج میں کھو گئے۔ اتنی بڑی کشتی کیسے بناوں گا؟ خدا نے حضرت نوح کی پشیمانی کو سمجھتے ہوئے کہا۔ ہم نے تجھے جس کام کے لیے چناہے ہم وسیلہ بھی مہیا کردیں گے۔ یہ کشتی ساگوان کے درخت سے تشکیل دینا۔ ساگوان اور زمین کے کان کھڑے ہوئے۔ اور اسی وقت زمین نے حضرت نوح علیہ السلام کے ارد گرد اپنے جسم پر گھاس کپاس کی جگہ ساگوان کو پلک جھپکتے اُگا کر بہت بڑا جنگل کھڑا کر دیا۔

 

خدا نے کہا ساگوان کی لکڑی سے پرندے کا پیٹ بنا لینا۔ یہ اس لیے پیٹ کو سب سے محفوظ جگہ بنادیا گیا ہے کہ ماں اپنے بچے کو اپنی زندگی سے زیادہ محفوظ کر لیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔انسانوں کے گناہ کی سزا معصوم جانوروں کو کیوں ملے۔ انسان نے لالچ کیا طمع کیا اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی جنے ہوئے بچوں کو چبانے لگی۔

 

تو پھر سب کچھ مٹادیا جاتا ہے۔ تباہی ایسی تباہی جو جنم دے۔ اتحاد کی ماں کو اور وہ ما ں پھر جنم دے محبت کو، امن کو، سکون کو، خوشحالی کو، صلح کو، پناہ کو۔

 

حضرت نوح نے کالی پہاڑی کوے کو زیتون کی ٹہنی دی اور کہاکہ امن کا یہ پیغام تم لے جاؤ اور دنیا کو بتادو۔ اس دنیا میں گناہ اور گناہ گار کو مٹا دیا جائے گا۔ پھر نئے سرے سے یہ دنیا گناہوں سے پاک ہو کر اُٹھے گی۔
اورحضرت نوحؑ خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے کام میں جت گئے۔ ایک بہت بڑی کشتی بنانے لگے۔ اتنی بڑی کہ جس میں تمام چرند پرند انسان حیوان سماسکیں۔ اور اپنے آپ کو قہر خدا سے بچاسکیں۔

 

پرندے کے شکم نما وجو بنانے میں مصروف ہوگئے۔ تاریخ کے سب سے بڑے طوفان جو قہر غضب ہے اس سے لڑ سکے۔ پرندے کے شکم نما بیڑے کو تین بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کی تین مشترکہ عمارتیں نما کشتی کی ایک منزل میں جنگلی اور خونخوار کے لیے وقف کیا۔ دوسرے حصے میں پالتو جانوروں کا قیام کابندوبست کیاگیا۔ دوسری منزل انسانوں کے لیے وقف کردی گئی۔ اور تیسری منزل پر پرندوں کابسیرا طے پایا گیا۔ سب سے اوپر والے حصے پر حضرت نوح کے اگلے حصے میں انکے بیٹے اوج کو جگہ دے دی گئی۔ اوج واحد جن تھے جن کو سفینہ نوح میں پناہ ملی۔ تینوں حصوں کو تین پیغمبروں کے نام سے منسوب کردیاگیا۔ حضرت آدم نے انسانوں کے لیے کشتی کے درمیانی حصے کو چنا۔ جو تقسیم کردیا دو حصوں میں۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک راستہ نکال دیا۔

 

اللہ کے نام سے ہی سفینہ نوح اپنی زندگی کے سفر کاآغاز کرے گااور اسی کے نام سے اختتام۔
حضرت نوح ؑ نے پانچ سے چھ مہینے اس سفینہ حیات میں گزارے۔

 

زندگی کے اس سفر کے اختتام پر جب حضرت نوح ؑ نے کوے کوواپس سفینہ نوح پر آتے دیکھا تو جس کی چونچ میں زیتون کی ٹہنی کی بجائے مردار گیدڑ کے گوشت کے ریشے تھے۔ غصے سے آگ بگولا ہوئے۔ ’’لعنت ہو تم پر، تم لالچی ہو، حرصی ہو۔ تم میرا امن کاپیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ تم نےراستے میں مردہ گیدڑ دیکھا اور امن کانشان زیتون کی ٹہنی کو چھوڑ کر اپنی پیٹ کی بھوک مٹانے لگ گئے۔ “

 

حضرت نوح علیہ السلام نے فاختہ کوبلایا اور کہاکہ تم انسانوں سے محبت کرنے والا پرندہ ہو۔ ا ور یہ لو۔ زیتون کی اک ٹہنی جو پتوں سمیت تھی کو توڑ کر فاختہ کو دیتے ہوئے کہا۔

 

جاؤ تم امن کا پیغام دنیا کو پہنچانا خدا تمہارا حامی و ناصر ہو گا۔

 

فاختہ کے لیے اصل سفینہ نوح تو اب شروع ہواتھا۔ اس کے ذمے ایک پیغام تھا جو اس نے دنیاکو پہنچاناتھا۔ یہ پیغام اس کی زندگی سے زیادہ اہم تھا۔ اسے فخر محسوس ہو رہاتھا۔ مجھےچنا گیاہے کہ میں انسانیت کی بقا کے لیے ایک امن کا پیغام لے کر انسانوں سے دوستی کا حق ادا کرسکوں۔ مجھے سب پرندوں میں سے افضل اور چنا گیاہے کہ میں اس عظیم عمل کو پورا کروں۔

 

فاختہ کو یوں لگ رہاتھاکہ دنیا میں سب صوفیاؤں نے اپنے درباروں کے دروازے اس کے لیے کھول دیے ہیں۔ اپنے گنبدوں کو اجازت دے دی ہےمیرے فاختالی رنگوں کو اپنے سبز رنگ میں نمایاں کرنے کی۔

 

ننھی سی فاختہ امن کے زہتونی پرچم کو چونچ میں دبائے پھڑپھڑاتی اڑتی چلی گئی۔ سمندری طوفانوں کے منہ زور تھپیڑے اس کی ہمت کے آگے کچھ بھی نہ تھے۔ وہ اڑتی رہی اڑتی رہی۔ طوفان اور ہوا کی کچھ ایسی قاری ضرب لگی کہ نہ جانے یورپ کے اس حصے میں جا پہنچی جہاں فوجی وردی میں ایک چھوٹے قد کاانسان۔ قدآور خدا سے مقابلہ کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ ٹینک اور فوجی مشقیں اس کے حکم کے انتظار میں انسانوں کو کچلنے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ قوم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ خود اپنی موت خودہی مرگیا۔

 

فاختہ اڑتی ہوئی جاپان جا پہنچی جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت نے دوسری طاقت کو سبق سکھانے کہلیےایٹم بم پھینکے۔ فاختہ دیکھ رہی تھی۔ ایک طوفان ا ٹھا تھا برقی شعاعوں کا جو مقناطیسی موجوں کی مدد سے مادے کو ذروں میں منقسم کر تا ہو انسان چرند پرند نباتات کو بے جان ذروں میں منتقل کر رہی تھیں اور چند لمحوں میں ایک نفرین کی بوچھاڑ اور ایک بڑے جکھڑ نے فلک بوس عمارتوں کو ایک چٹیل میدان بنا دیا۔لیکن پھر بھی وہ طوفان نوح جیسا طافان نہ تھا۔ پھر بھی لوگ بچ گیے تھے۔

 

پھر فاختہ زیتون کی ٹہنی دبائے اُڑتی اُڑتی نہ جانے ایشیا کے ایسے خطے میں آن پہنچی جہاں سینکڑوں، ہزاروں دس ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے کے چھوڑے ہوے گھروں میں بسنے کے لیے ہجرت کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ سرحد کی کھینچی ہوئی خار دار تار پر بیٹھ کر فا ختہ کا رونے کو اس کا دل چاہا۔ لیکن اسے اپنا مقصد یاد تھا۔ اوپر آسمان کی طرف اڑنا شروع کردیا۔ اپنے سفید رنگ کے امن کا پرچم پھڑپڑھاتا نظر آیا۔ وہ جھنڈے کی چوٹی پر بیٹھ کر گوں، گوں، گوں کرکے حضرت نوح کا دیا ہوا پیغام پہچانا چاہتی تھی۔ ابھی جھنڈے کی جانب اڑ ہی رہی تھی کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے جھنڈ ا زمین پر آن گرا۔ چھریوں، برچھیوں نے جھنڈے کا ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ اپنے منہ میں دبائے ہوئے زیتون کی ٹہنی جو امن کی ٹہنی تھی۔ منہ میں دباتی کبھی اپنے پنجے سے امن کا ایک ہر ابھرا پتہ سکون پناہ صلح کا سندیسہ ساتھ لیے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کے ساتھ تیرتی کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ہوائیں ہمیشہ اسے وہاں دھکیل دیتی جہاں اس کو امن کا پیغام پہنچانا ہوتاتھا۔ وہ اس مقام پر پہنچی جہاں انسانیت ظلم کے تیز دھار تلوار کی نوک پر دم توڑ رہی تھی۔ جہاں حاملہ ماؤں کو ٹینکوں کے آہنی تیشے کچل رہے تھے۔ فلسطین کے گھروں کو روندتے ہوئے اسرائیلی ٹینک کی چڑھائی کا تماشہ دنیا تو دیکھ رہی تھی لیکن اس فاختہ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان ٹینکوں سے گولے برساتی نالیوں کے منہ پر اپنا پنجہ رکھ دے۔ فاختہ ایک ٹینک کی نالی پر جا بیٹھی۔ ٹینک نے جب گولہ برسایا تو ٹینک کی نالی بارو کی تپش سے دیکھتے ہوئے کوئلے کی طرح سرخ ہوگئی۔ بیچاری فاختہ کے دونوں پنجے جل گئے اور چیخ سے اس کے منہ سے امن کی ٹہنی گر گئی۔ اس کے لیے جان دینا تو آسان تھا لیکن جان بچا کر پیغام پہنچانا زیادہ ضروری تھا۔ وہاں سے اڑتی اڑتی مشرق وسطی کی کسی عرب امارات کی ریاست میں ایک بہت بڑی مسجد کے تالاب سیے اپنے جلے ہوئے پنجوں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کے لیے تالاب کے پانی میں اتر کر تیرنے لگی۔

 

کھلو اس زخمی فاختہ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس بیچاری کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ کھلو کا اصل نام خالد تھا۔ وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتاتھا۔ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہاں محنت مزدوری کرنے آیا ہواتھا۔ کام سے فارغ ہو کر مسجد کے تالاب پر آکرکبوتروں کو دانہ ڈالتا، ان کی دیکھ بھال کرتا۔ کھلو اپنے شہر کامشہور کبوتر باز تھا۔ کبوتربازی کے شوق میں وہ بالکل نہ پڑھ سکا۔ اکیلے سارا سارا دن کوٹھے کی چھت پر اپنے پالتو کبوتروں کی ٹولی کو آسمانوں سے اڑاتا۔ اس کی کبوتروں کی ٹولی دوسرے کبوتروں میں گھل مل کر کئی کبوتروں کو اپنی ٹولی میں ساتھ لے آتے۔ جبھٹ کر کھلو اجنبی کبوتروں کو پکڑ کر ان کے پر دھاگے سے باندھ دیتا۔ ہمیشہ فخر سے کبوتربازوں کو نسخہ بتاتااگر کبوتر کو گردان کرنا ہو تو اسے ہر روز موتی چور کے لڈوکے دانے کھلا دو۔ تمہارا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اپنے بیمار کبوتروں کا علاج بھی کرلیتا۔ اسی وجہ سے جو کبوتر اس کی ٹولی میں شامل ہوتا کبھی وہاں سے نہ جاتا۔ اس کے گھر کی مٹی سے بنے ہوئے کبوتروں کے کُھڈے میں جنگلی کبوتروں سے لے کر جھونسے۔چنیے۔لکے۔کل سرےٹیڈی قصوری کبوتر تھے۔ اسے کبوتروں سے عشق تھا۔ وہ کبوتروں کے کبوتروں کے پاوں میں سونے اور چاندی کے گھنگرو باندھتا۔ایک دفعہ تو کبوتر خریدنے کے لیے اپنی بیوی کے زیور تک بیچ دئیئے۔ اس عشق میں میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا۔ لیکن کبوتربازی سے اسے اتنی آمدنی تھی وہ آرام سے گزر بسر کر لیتا تھا۔ کیونکہ وہ جو بھی کبوتر بیچتا وہ کچھ دنوں بعد اُڑکر اس کے گھر آجاتا۔ جب اس نے زخمی فاختہ کو دیکھا تو فوراً اس نے فاختہ کے پیچھے سے جاکے جھپٹ کر پکڑ لیا۔ اپنے منہ کے لعاب سے زخمی فاختہ کے پنجوں پر لگادیا اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا کمرے میں دروازہ بند کرکے ہلدی اورشہد کے ملاپ سے مرہم بنا کر فاختہ کے پنجوں پر لگا کر اپنی پرانی قمیض کی چھوٹی سی پٹی پنجوں پر باندھ کر اس کاعلاج کرنا شروع کردیا۔

 

وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو کہا کرتا تمہاری آنکھیں فاختہ کی طرح ہیں۔جب تم چلتی ہو تو جیسے فاختہ گنگنا رہی ہو۔جو غصے اور شدت سے عاری ہےجو محبت اور خوبصورتی سے بھرپور ہیں۔ جو مجھے چاہت اور معصومیت سے دیکھتی ہیں۔سرِ تسنیم خم خم کرتی رکھتی ہے۔

 

وہ اپنی بیوی کو کہتا تم فاختہ کی طرح شرمیلی ہو۔ جب تم بولتی ہو تو لگتاہے فاختہ جنگل کے سائے میں ہوں ہوں کر رہی ہے۔ تمہاری آواز ٹھنڈ ک بخشتی ہے۔ وہ ننھی فاختہ کو دیکھتا رہتا اور فاختہ بھی اسے حیرانی سے پیاربھری نگاہوں سے سر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جنبش دے کر تکتی رہتی۔ فاختہ بالکل کھلو سے نہیں ڈرتی تھی۔اسے محسن کے ہاتھوں گرمائش میں اسےایک سکون ملتاتھا۔

 

وہ اس کے منہ کو تکتی رہتی اس کی مسکراہٹ کھلو محسوس کرلیتا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔ مجھے ایک بہت اہم فرض سونپاگیاہے۔ مجھے ہر حالت میں بھی اپنا فرض پوراکرناہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو سب کچھ تو نہیں لیکن کھلو کو ا تنا سمجھا سکے کہ فاختہ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ کھلو اسے کہتا تمہارے پنجے ٹھیک ہوجائیں میں تمہیں تالاب میں چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس کی آنکھوں کے تر آنسوؤں نے کھلو کو مجبور کردیا کہ میں اسے اسی حالت میں تالاب پر لے جآئے ۔ کھلو نے ویسا ہی کیا اور فاختہ کو پنجوں پر پٹیاں بندھے ہوئے تالاب پر لے گیا۔ اور اسے وہاں چھوڑ دیا۔ اپنی نوکری کو بھی خیر باد کہہ کر سارا دن فاختہ کی دیکھ بھال کرتا۔ تالا ب کے سب کبوترکھلو کے اردگرد جمع رہتے۔ جیسے وہ ان کا بہت اچھا دوست ہو۔ مالک شیخ نے کھلو کا والہانہ عشق دیکھ کر اسے مسجد میں کبوتروں کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھ لیا۔

 

ایک بہت ہی خوبصورت کبوتر فاختہ کو دیکھتا رہتا کہ یہ بیچاری چل نہیں سکتی ایک جگہ بیٹھی رہتی ہے ہر روز اس کے پاس جا کر بیٹھ جاتاہے۔ ایک دن اس نے اسے کہہ ہی دیا کہ کچھ حسین حادثات ستاروں سے لٹک کر نیچے اُتر آتے ہیں۔ لیکن کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے اس زمین کو اس کی تپش برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ کیا زمین نےتیرے حسن کی گرمائش سے تیرے ہی پنجوں کو جلا دیا۔ فاختہ شرماکے مسکرانے لگی۔ ہنستے ہوئے بولی میں تو خود برفیلی فاختہ کو وں کے غول میں پھنس گئی ہوں۔ جلتی زمین میرے پیار سے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ مشعل کی جلتی روشن آگ جلے بھی تو چمک دیتی ہے۔ اس میں نفرت کے لیے اتنا کچھ دیا جاتاہے کبھی کسی نے محبت اور امن کے لیے بھی کچھ کیا؟۔ کبوتر نے کہا میرے پنجوں کو ہونٹ سمجھ اور اس نے اپنے پنجے فاختہ کے پٹی سے لپٹے پنجوں پر رکھ دیے۔ دونوں بہت دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے سروں کو ہلکے سے جھٹکوں سے مختلف زاویوں پر رکھ کر دیکھتے رہے اور فاختہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی میرے ہونٹ میرے دل کی طرح زخمی ہیں۔ یہ دنیا ہر روز اپنے ظلم وستم سے میرے دل کو زخمی کرتی رہتی ہے۔ کبوتر نے اپنی چونچ کو فاختہ کی چونچ کے ساتھ یوں ملایا جیسے دونوں ایک دوسرے کے رخساروں کو چھو رہے ہوں۔ آج سے مجھے اپنے غموں میں شریک سمجھنا۔ دونوں نے مل کر عہد کیا کہ ہم دونوں امن کاپیغام جو حضرت نوح علیہ السلام نے میرے ذمے سونپا تھا پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔ لیکن فاختہ کی آنکھیں پھر تر ہوگئیں۔ مجھ سے امن کا جھنڈ ا زیتون کی ٹہنی کھو گئی ہے۔ کبوتر نے اسے تسلی دی تم فکر نہ کرو میں ڈھونڈ نکالوں گا۔ فاختہ کو محسوس ہواکہ یہ کبوتر اس کی روح کاساتھی ہے۔ کبوتر اور کھلو اس کابہت خیال کرتے۔ کھلو باقاعدگی سے اس کی پٹی بدلتا اور اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مرہم اس کے جلے ہوئے تلوؤں پر لگاتا۔

 

کھلو جیسے ہی مسجد میں داخل ہوتا سب کبوتر اس کے اردگرد جمع ہوجاتے کوئی اس کے کندھے پر بیٹھ جاتےکوئی اس کے سر پر۔ کھلو بھی اپنا منہ پھلا کر اوں اوں کی آوازیں نکال کبوتروں سے باتیں کرتا۔ نومولود کبوتروں کے بچوں کو اپنے منہ میں گندم کے دانے بھر کر انہیں ماں کی طرح چوگا چوگاتا۔ فاختہ سے اسے والہانہ محبت تھی۔ اسے ایسے دیکھتا جیسے اپنی بیگم کو دیکھتا ایک دن اس نے دیکھا کہ فاختہ اپنی چونچ سے پنجوں پر بندھی ہوئی پٹی کو کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔ کھلو نے بھاگ کر پٹی کھول دی تو خوشی کی انتہانہ رہی۔ فاختہ کے پنجے بالکل ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ چوکڑیاں بھرتی چھم چھم کرتی مورتی کی طرح ناچ رہی تھی، گا رہی تھی، بہت سارے کبوترفرداً اپنااپنا منہ پھلا ے سینہ تانے فاختہ کے گرد ٹہلتے اور محبت کا پیغام سرکو جھکا کر دیتے۔ لیکن فاختہ سب کے پیغاموں کو رد کردیتی جب کوئی بدمعاش کبوتر فاختہ کو بہت تنگ کرتا تو کھلو بدمعاش کبوتر کو بھگا دیتا۔
“بدمعاش کہیں کے جب وہ تمہیں پسند نہیں کرتی کیوں اسے تنگ کرتے ہو۔ ویسے بھی وہ فاختہ ہے کبوتری تھوڑی ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری چچا زاد ہے۔ تمہارا تعلق جائز ہے لیکن اس میں فاختہ کی رضا مندی بہت ضروری ہے۔ لیکن فاختہ کو اس دوست چینا کبوتر بہت پسند تھا۔ کھلو سمجھ گیا۔ فاختہ اس چینے کبوتر کو پسند کرتی ہے۔ کھلو نے دونوں کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ دونوں کواپنے ہاتھوں سے پیار کرنے لگا۔ جیسے وہ اپنے بچوں کو گود میں اٹھایا کرتا تھا۔ بہت دیراوں اوں کرتا رہا۔ جیسے دونوں کواشیرواد دے رہاہو یا دونوں کا نکاح پڑھا رہا ہو۔

 

کھلو نے دونوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ دونوں اڑتے اڑتے ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کبوتر نے دوسرے کبوتروں کی سینہ پھلاکر سرکو جھکا یا فاختہ سے رضامندی پوچھی تو فاختہ نے اپنی خوبصورت مخمور آنکھیں بند کرکے سرجھکا لیا۔ فاختہ نے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ دونوں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے۔ کھلو نے جب دونوں کو اکٹھے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور سمجھ گیاکہ فاختہ کو اس کا ساتھی مل گیا ہے۔ کھلو کو اپنے بیوی بچے بہت یاد آتے۔ یا تو خدا نے اس کے بچوں اور بیوی کی دعاسن لی تھی کیونکہ اگلے ہی دن مسجد کے شیخ نے اسے کہاتمہارا نوکری کامعاہدہ ختم ہوگیا ہے تمہیں واپس جانا ہوگا۔ لیکن کھلو نے شیخ سے التجا کی کہ مجھے فاختہ اور کبوتر کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دو۔ جسے شیخ نے باخوشی قبول کر لیا۔

 

کبوتر کو اپنا فاختہ سے کیا ہوا وعدہ اچھی طرح یاد تھا۔ وہ روز زیتون کے درخت ڈھونڈتا۔ لیکن اس ریگستان میں پتھروں کی عمارتوں کا جنگل تو تھا لیکن زیتون کے درخت کا دور دور کہیں نشان نہ ملتا۔ لیکن ایک پرچون کے بہت بڑے گودام میں اسے ایک زیتون کےبیجوں کی بوری کی خوشبو نے کبوتر کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ اڑتاپھڑپھڑاتا گودام میں جاپہنچا اور اپنی چونچ سے بوری کو پھاڑنے لگا۔ چھوٹی سی چونچ پٹ سن کے موٹے دھاگوں سے بنی ہوئی بوری پر لگی ہوئی ضربیں اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتی تھیں۔ لیکن فاختہ سے عشق نے اس میں بہت سی طاقت انڈیل دی تھی۔ اور وہ لگاتا چونچ کے پے درپے واروں سے بوری کو پھاڑنے میں جتا رہا۔ تھک ہارکر ہانپنے لگا۔ سانس لے کر پھر بوری کے اسی خاص مقام چونچ کو ہتھوڑا بنائے ضربوں کی بوچھا ڑ کردی۔ اور وہ بوری کو پھاڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرنے کے بعد اس نے زیتون کے بیجوں کو چگنا شروع کردیا۔ کھا کھا کر اپنے گردن کے نیچے پوٹے کو پھلا لیا۔ جیسے اس کی سانس بندہونے لگی ہو۔

 

وہاں سے اڑکر فاختہ کے پاس آیا۔ فاختہ اس کاپھولا ہوا پیٹ دیکھ کر حیران ہوئی تم کہاں تھے۔ کہیں نہیں بس زیتون کے درخت ڈھونڈ رہا تھا۔

 

فاختہ ہنسنے لگی یہاں ریگستان میں تمہیں درخت کہاں ملیں گے۔ اسی لمحے کھلو دونوں کے پاس آیا دونوں کو پیار کرنے لگا۔ پیار کے بہانے دونوں کو پکڑ کر ایک تاروں کے پنجرے میں بند کردیا۔ دونوں کو بہت غصہ آیا۔ تم بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہو۔ جو آزادی کو سلب کرکے خوش ہوتے ہو۔ تمہاری فطرت میں ہی ہے۔ فاختہ بہت چلائی مجھے تو پیغام پہنچانا ہے دنیا کو مجھے پنجرے میں قید نہ کرو۔

 

لیکن کھلوبے زبانوں کو کیا سمجھاتا کہ میں تو تم سے محبت کرتاہوں، تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔ کھلودونوں کو ہوائی جہاز میں اپنے ساتھ لے آیا۔

 

لیکن سفر میں کبوتر کی حالت ٹھیک نہ تھی وہ بالکل بیمار ہوگیا۔ پیٹ میں زیتون کے بہت زیادہ بیج اس کی قوت برداشت سے زیادہ تھے۔ جس نے اسے بیمار کرنا شروع کردیا۔ کھلو جیسے ہی گھر پہنچا تو وہ اپنے بیوی بچوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ غیر دیار سے اپنی محنت مزدوری سے کمائے ہوئے کافی سارے پیسے اس کے لیے خاصی تھے۔ اس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے اپنے شہر کے سب سے اعلیٰ سکول میں اپنی بیٹی اور بیٹے کو داخل کروا دیا بیٹی کو فاختہ کی کہانیاں سناتا۔ فاختہ اور مکھی کی کہانی سن کے بیٹی پوچھتی کیا کہانیاں سچی ہوتی ہیں۔ کھلو کہتا۔کہانی جو بھی ہو سبق اچھا ہونا چاہیے۔اس نے فاختہ اور کبوتر دونوں کو پنجرے سے نکال کر آزاد کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ دونوں میرے اسی گھر میں رہیں گے۔ کیونکہ پرندے تو انسانوں کے وفادار ہوتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر نے اردگرد کی دیوار پر بیٹھے کھلو کے خاندان کو پیار سے تکتے رہے۔ کھلو جب بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا دونوں کھلو کا پیچھا کرتے سکول کی دیوار کے ساتھ لگے درخت پر بیٹھ کر بچوں کو دیکھتے دونوں نے فیصلہ کیا۔ کیوں نہ ہم اپنا گھونسلہ اسی درخت پر بنالیں دونوں نے تنکے جمع کرکے اسی درخت پر گھونسلہ بنا لیا۔ لیکن کبوتر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے پیٹ میں پڑے ہوئے زیتون کے بیج اس کے معدے کو موافق نہ آئے۔ اس نے ایک قے کی اور سارے بیج نکال دیے اور کبوتر نے اپنی بے بس آنکھوں سے اپنی محبوب فاختہ کو دیکھتے دیکھتے اس نے اپیی آنکھوں کو موند لیا۔ فاختہ بہت روئی۔ اس کا جیون ساتھی رخصت ہوگیا تھا۔ اس نے محسوس کیاکہ اس کے پیٹ میں اس کے جیون ساتھی کی نشانی سانسیں لے رہی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ وہ دن رات اپنی محبت کی نشانی کی پرورش کرنے لگی۔ آخر ایک فاختہ نے اپنے رنگ جیسا ایک ننھا سا انڈا اپنے جسم سے باہر دھکیل دیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وہ ہر طوفان اور برے اور بڑے پرندے سے اس کی حفاظت کرتی اپنے جسم کی حرارت سے زمانے کی حرارت سے اسے محفوظ رکھتی۔اسی گھونسلے کے اوپر ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا ان میں سے ایک مکھی سے فاختہ کی دوستی ہوگیئ۔ ہر روز پھولوں سے شہد اکٹھا کر کےاپنے چھتے کو بھر کے فاختہ سے ملنے چلی آتی۔اسی درخت کے سامنے کھلو کی بیٹی کا سکول تھا۔ کچھ مذہبی جنونیوں نے کھلو کو پیغام بھیچا کہ وہ اپنی بیٹی کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ اکھلو نے ان کے پیغام کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کوسنے لگا۔ تعلیم یافتہ ماں ہی تو قوم کو بناتی ہے۔ مذسی جنونیوں نے تمام لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے فیصلہ کیاکہ وہ سکول سے نکلتی ہوئی کھلوکی بیٹی کو گولی کانشانہ بنادیں گے تاکہ کوئی بھی آئندہ جرأت نہ کرسکے۔ سکول سے کچھ فاصلے پر ایک دہشت گرد نے اپنی بندوق کی نالی پر چپکی ہوئی دور بین کو فوکس کیا۔ سکول کے دروازے پر شست باندھی۔ فاختہ ہمیشہ بچوں کاانتظار کرتی۔ اس نے جب دیکھاکہ دہشت گرد نشانہ باندھے کھڑا ہے تو فاختہ پریشان ہوئی۔ پھڑُپھڑانے لگی۔ شہدکی مکھی کو سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ باہراڑ کر دہشت گرد کے ہاتھ ہی پر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی کھلوکی بیٹی سکول سے باہر نکل رہی تھی دہشت گرد نے بندوق سیدھی کرکے نشانہ باندھا۔ انگلی کو لبلبی پر رکھ کر گولی چلانے ہی والاتھا کہ مکھی نے اس کے ہاتھ پر ایسے زور سے کاٹا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔ نشانہ تو چوک گیا لیکن گولیوں کی بوچھاڑ سے سکول کے گیٹ پر لگے بورڈ پر کئی چھید ہوگئے۔ ایک بھگڈر مچ گئی کھلو کی بیٹی کے بستے سے ایک کتاب زمیں پر گری جس میں شہد کی مکھی اور فاختہ کی کہانی جیسے فاختہ کے پروں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی اور سکول کو بند کردیاگیا۔

 

کھلونے سر کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا مانگی۔ آئے خدا جب ظلم حد سے بڑھ جائے انسان کو اپنے پیدا کیے ہوئے بچوں کو ہی نگلنے لگےان پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جایئں اور ظالم مذہب استعمال کرکے ظلم کی انتہاکردے تو پھر تمہیں اس دھرتی کو گناہوں سے پاک کرناہوگا۔ جب کوئی بھی تدبیر پر نہ آئے تو طوفان لاناہوگا۔ظلم سے پاک دنیا پھر سے بسانی ہوگی۔ جیسے خدا نے اس کی سن لی ہو۔ بارش کا ایک قطرہ جب کھلو کے منہ پر گرا تو وہ سمجھ گیا۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے والاہے۔ اس نے فوراً قدرت کے فیصلے پر عمل کیا۔ ایک بہت بڑے درخت کے تنے کو صاف کرکے ایک کشتی بنائی۔ کشتی میں اپنی بیوی بچوں کو بٹھایا۔ فاختہ اور اس کے ننھے بچے کو ساتھ لیا۔ بارش تیز ہونی شروع ہوگئی۔ شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پانی بن کر دریاؤں میں بندھ توڑتی ہوا تھوڑی ہی دیر میں اسی طرح طوفان کا حصہ بن گیا۔ طوفان اتنے زور کاتھا بڑی بڑی مضبوط عمارتیں گرنے لگیں۔ کھلو کی کشتی تیزی سے طوفان کامقابلہ کرتی بہتی جارہی تھی۔ فاختہ نے کیا دیکھاکہ کشتی کے کنارے اس کی دوست شہد کی مکھی بارش سے بھیگی ہوئی محفوظ جگہ پر چڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ فاختہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن اسی لمحے پانی کے زور دار تھپیڑے نے مکھی کو اپنے ساتھ بہا کے لے جانے لگی۔ فاختہ بہت پریشان ہوئی۔ اس کو تدبیر سوجھی اور اس نے درخت کے چھوٹے پودے سے ٹہنی کو اپنی چونچ سے توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ کھلو نے دیکھاتو کچھ سمجھنے کی کوشش میں چلتی ہوی کشتی سے ٹہنی کو توڑ کر فاختہ کو دے دیا۔

 

فاختہ ٹہنی لے کر مکھی کے قریب پہنچی اور اس کے آگے پھینک دی۔ شہد کی مکھی بڑی مشکل سے ٹہنی پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئی۔ فاختہ نے ٹہنی اٹھائی اور کشتی میں واپس آگئی۔ شہد کی مکھی کو بحفاظت چھوڑ کر کھلو کے منہ کی طر ف دیکھا۔ کھلونے ٹہنی کو فاختہ کو دیتے ہوئے کہا جاؤ امن کاپیغام دنیا کو پہنچا دو۔فاختہ نے ٹہنی کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہزیتون کے درخت کی نہیں تھی۔

 

کشتی میں پڑے ہوے فاختہ کےننھے بچے اور سکولوں پر پڑے تالوں کے ساتھ انسانوں کے لٹکتے سروں کو کو دیکھ کر کھلو کہہ رہا گا۔شاید صدیوں کا نوح مر گیا ہےاتنا ظلم دنیا کی تایخ کبھی نہیں ہوا جتنا اب ہو رہا ہے۔اب کبھی طوفان نوح نہیں آئے گا۔

 

پورا خاندان واپس گھر پہنچا۔ ساری زمین پر نئی مٹی چڑہئ ہوی تھی۔ سکول کے سامنے والے درخت پر لگا ہو سیلاب
اپنے قد کا نشان چھوڑ گیا تھا۔ساتھی کبوتر یاد آنے لگا۔ اس نے اسی درخت پر اپنا گھونسلہ بنانا شروع کر دیا فاختہ کو اپنے بیتے دنوں کی یاد ستانے لگی۔

 

دل کے درد نے دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے دھکیل دیے۔آنسو زمین پر گرنے کی بجآئے ایک پتے پر گرے۔ جس کی چھن سی آواز نے فاختہ کہ نیچے دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ گردن کو ایک طرف جھکا کے دیکھا تو درخت کے نیچے جہان اس کے محبوب کبوتر نے قے کی تھی۔ ایک ننھا سا پودا اپنا سر نکالے کھڑا تھا۔ فاختہ درخت سے نیچے اتر آئی۔ پودے کے پتوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے دو اورآنسو نکل آئے۔ کیونکہ وہ پودازیتون کا تھا۔
Categories
شاعری

فیصلہ

“تم نے یہاں آنے کا فیصلہ ہی کیوں کیا”

 

بالااخر شوذب نے چپ توڑتے ہوئے سوال داغ دیا۔ پچھلے کتنے سالوں سے میں اور شوذب ساحلِ سمندر پر اکٹھے ہوتے اور دیر تک خاموش سمندر کو خاموشی سے گھورتے رہتے۔ ہم کوئی بات نہ کرتے اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس خاموشی میں بہت سے سوال سرگوشیاں کرتے رہتے۔ لہریں آتیں اور ہمارے نیچے سے آہستہ آہستہ ریت پھسلتی رہتی ہمارے سوال اور نیچے کی زمین اُسی طرح رہتی یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہم چپ چاپ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ آج پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ شوذب نے یکایک ایک غیر متوقع سوال کر دیا۔ میں بہت دیر تک چپ رہا کہ شاید لہریں یہ سوال بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں۔ لیکن جب یہ سوال لنگر انداز ہو گیا اور اس کے بطن سے مسافروں کی طرح بہت سے سوال قطار بنا کر اُترنے لگے تو میں گویا ہوا:

 

“اس سمندر کے تیسرے کنارے پر اندھیرے میں ڈوبا ایک ویران اور بے آباد جزیرہ ہے۔ سنا ہے کہ وہاں ٹھیک آدھی رات ادھ جلی ہزاروں روحیں صف بنا کر ماتم کرتی ہیں اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی مکمل جل کر سمندر کا حصہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے بین میں اتنی نحوست ہوتی ہے کہ چمگادڑیں بھی اس جزیرے کا رخ نہیں کرتیں۔ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ یہ آج سے لاکھوں سال پہلے کا قصہ ہے کہ اُس جزیرے پر ایک وحشی قوم رہتی تھی۔ یہ لوگ ننگ دھڑنگ رہتے اور اپنے مُردوں کا کچا گوشت کھاتے، انہیں کوئی بھی زبان بولنی نہ آتی تھی۔ ہزراوں سال وحشت، ننگ،بھوک و افلاس کی اس جزیرے پر حکمرانی رہی۔ پھر ایک شام بستی والوں نے دیکھا کہ سورج کہ غروب ہونے سے محض ایک ساعت پہلے سمندر کی لہروں کے فرش پر چلتا ہوا ایک شخص اس جزیرے کے ساحل پر اُترا اور وہیں چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ اُسی رات سمندر نے سینکڑوں مچھلیاں ساحل پر اُگل دیں۔ وہ مچھلیاں اتنی لذیذ تھیں کہ بستی کہ ہر فرد کی صدیوں کی بھوک مٹ گئی۔ پھر اس بستی پر اتنا ہن برسا کہ جل تھل ہو گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ سب لوگ خوشحال ہو گئے، وحشی مہذب ہو گئے اور ہزاروں سال تک اُس بستی میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔ ان ہزاروں سالوں میں وہ درویش ساحل پر کھڑا رہا۔ وہ جس شخص کی سمت دیکھتا خوشحالی اس گھر کی باندی ہو جاتی، وہ جس کو چھو لیتا اسے کوئی مرض نہ چھو سکتا، اس کے قدموں کا بوسہ لیتے پانی کا اگر ایک گھونٹ بھی کوئی بانجھ عورت پی لیتی تو اس کے گود ایسی ہری ہوتی کہ خوش جمال اور دلیر فرزند پیدا ہوتے۔ لوگ کون و مکاں کے ہزاروں سوال اس کہ پاس لے کر آتے اور وہ ریت پر چند لکیریں کھنچتا اورسب مسئلے اور سوال یوں حل ہو جاتے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ یہاں تک کہ بستی کے لوگوں نے سوال کرنا چھوڑ دئیے۔ لوگ اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُس بزرگ کے پاس لاتے اور وہ ان میں دو دو کا جوڑا بنا دیتا۔ پھر ان گھروں میں کبھی لڑائی نہ ہوتی۔

 

اُسی بستی میں ایک عورت تھی جس کے حُسن کی تاب کوئی نہ لاتا۔ اُس کا خاوند ایک وفا شعار اور محنتی کسان تھا۔ ایک رات کہ پچھلے پہر چاند کو دیکھتے ہوئے اُس عورت نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور ایک عجیب سی خواہش میں مبتلا ہو گئی۔ اب کوئی پل اسے چین نہ پڑتا۔ ایک رات انتہائی بے چینی کے عالم میں وہ بستر سے اُٹھی اور آنکھیں بند کئے ساحل کی طرف جانا شروع ہو گئی، وہ ساحل سے چند قدم دور تھی کہ اُس نے دیکھا کہ چاند کی چاندنی میں سینکڑوں پریاں اُس بزرگ کہ گرد طواف کر رہی ہیں۔ اس نور نے پھیلتے ہوئے اُس کے وجود کو حصار میں لے لیا وہ اس کی تاب نہ لا سکی اور غش کھا کر گر گئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابھی رات اُسی طرح باقی ہے اور درویش کے گرد پریوں کا رقص جاری ہے اُس نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور دوڑتی ہوئی گھر واپس آگئی۔ اگلی بہت سی راتوں میں وہ اپنے پیٹ اور خواہش کو دباتی رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس عورت کہ ہاں ایک بچے نے جنم لیا جس کی زبان اُس کے ہونٹوں کے آگے لٹکتی رہتی اور اُس کی پیاس کبھی نہ بجھتی تھی۔ اس بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس گھر میں زوال آنا شروع ہو گیا۔ وہ جتنی بھی محنت کرتے پر برکت نہ ہوتی۔ خوشحالی کے لئے کئی سال تک اُس عورت کا شوہر باقاعدگی سے درویش کے لئے کھانا بھیجتا مگر وہ اُس میں سے ایک نوالہ بھی نہ کھاتا۔ ایک شام جب اُس کا گونگا بیٹا کھانا لے کرجا رہا تھا کہ اُس نے تھال کا ڈھکن اُٹھا کر دیکھا اور بھوک سے نڈھال ہو کر چند نوالے کھا لئے۔ اُس کے بعد وہ روز ہی ایسا کرنے لگا۔ گھر کی بھوک تو نہ مٹنا تھی نہ مٹی،پر اُس کی بھوک کا سامان ہو گیا تھا۔ جوں جوں وہ جوان ہوتا جا رہا تھا اُس کو عجیب سے دورے پڑنے لگے تھے وہ آدھی راتوں کو گلیوں میں روتا دوڑتا پھرتا رہتا اور اکثر ساحل کی طرف نکل پڑتا جس طرف جانا سب کے لئے ممنوع تھا۔ وہ ساحل کہ کنارے کھڑی کشتوں میں چھپ چھپ کر روتا رہتا۔ ایک رات وہ رو ہی رہا تھا کہ اُس کی نظر ساتھ والی کشتی پر پڑی جہاں ایک نہایت حسین لڑکی زاروقطار روتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنے درد بھول گیا اور وہ بے خود ہو کر ساتھ والی کشتی میں اُتر گیا۔ پھر ایسا روز ہونے لگا۔ ایک صبح جب ان دونوں کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے دیکھا کہ کشتی کے اوپر بستی کے لوگوں کہ سر جُھکے ہوئے تھے وہ انہیں حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کو پکڑ کر درویش کے پاس لے گئے کہ وہ ان دونوں کے ہاتھ تھما کر انہیں جوڑا بنا دیں۔ لیکن راستے میں ہی میں اس نے زور سے لڑکی کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ یہ ناقابل معافی جرم تھا۔ درویش کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ اُس نے لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر ایک اور نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ چلایا، گڑگڑایا اور گونگی زبان میں لاکھوں مناجات کیں، لیکن درویش کسی نہ ختم ہونے والی عبادت میں مصروف ہو گیا۔

 

اُسی رات ہزاروں سال بعد پھر اُس بستی میں قتل ہوا۔ گونگا اُس لڑکی کے شوہر کو قتل کر کے اپنی محبوب کو اُٹھائے کشتی کے پاس پہنچا۔ اُن کی کشتی چلنے ہی والی تھی کہ اسے کچھ خیال آیا اور کود کر کشتی سے نیچے اُترا اور دوڑ کر درویش کی طرف گیا جو کسی گہرے مراقبے میں تھا۔ درویش نے آنکھیں کھولیں اُس کی سمت ایک نگاہ دوڑائی اور بولا
“بالک، بیٹھو آج میں تمیں سنسار کا انت سمجھاتا ہوں، ہر کرم ایک جیون ہے، اس ساگر کا ہر دھارا پچھلے کی راکھ اپنی ادھ کھلی باہوں میں لئے پھرتا ہے، تم اگر چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

 

ابھی درویش اتنا ہی بول پایا تھا کہ اُسے اپنے دل میں خنجر کی دھار محسوس ہوئی۔ خنجر اُس کے دل کو کاٹ چکا تھا۔ لڑکا بھاگم بھاگ کشتی میں پہنچا۔ کشتی لہروں پر دھیری دھیرے چلنے لگی۔۔۔ ساحل پر خون بکھرتا رہا۔ سُنا ہے کہ رات اُس بستی پر آگ برسی اور ہر ذی روح، ہر شجر جل کر راکھ ہو گیا”

 

میری کہانی ختم ہو چکی تھی۔ شوذب حیرت سے میرٰی طرف دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

 

“ اُسس کش۔۔۔کشتی کا ک ک کیا بنا”

 

میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

 

“ آج کی شام کتنی لمبی تھی” میں نے سوچا۔ شوذب جیب میں سے شاید سگریٹ تلاش کر رہا تھا۔

Image: Jason de Caires Taylor

Categories
فکشن

مفتی

مفتی سجاد حسین پھر نماز پڑھاتے ہوئے بھول پڑے۔ فجر کی نماز میں پہلی رکعت مکمل کرکے تشہد میں بیٹھ گئے۔۔مسجد کے قدیمی نحیف وناتواں مؤذن گل محمد نے مفتی صاحب کو خبردار کرنے کے لیے پہلے تو اپنی بلغمی آواز میں کھگاریں ماریں۔مگر مفتی صاحب لاتعلق و بے خبر رہے۔تب گل محمد کو “اﷲاکبر” کی آواز بلند کرنی پڑی۔۔لیکن مفتی صاحب نے التحیات ،درود اور دعا پڑھ کے سلام پھیرا اور مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئے۔ مقتدیوں کی صف سے بھنبھناہٹ ابھرنے لگی۔ گل محمد چانڈیو آگے ہوکر مفتی صاحب سے مخاطب ہوا
“مفتی صاحب آپ نے ایک رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ نماز دوبارہ ہو گی۔” الفاظ سماعت تک پہنچے تو مفتی صاحب کو جھٹکا لگا۔ “اچھا! واقعی؟” انہوں نے خفت بھری آواز میں حاجی نزاکت علی سے استفسار کیا جو مؤذن کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔

 

“جی مفتی صاحب ایسا ہی ہے۔ جلدی نیت باندھیں اور تکبیر کہیں۔” حاجی نزاکت نے ترشی بھرا جواب دیا۔ حاجی کو اب یہ خیال ستائے جارہا تھا کہ پھر مفتی صاحب کے پیچھے کھڑے ہوکر سست رفتار نماز پڑھنی پڑے گی۔یعنی دس بارہ منٹ اور لگ جائیں گے۔ مفتی صاحب مجرمانہ احساس لیے نظریں نیچی کیے اٹھے اور تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔ تب پہلی رکعت کے بعد پہنچنے والے وہ نمازی اپنی نماز توڑکر نئی جماعت میں شامل ہوئے جو ابھی تک قیام میں کھڑے کن انکھیوں سے یہ ماجرا دیکھے جارہے تھے۔یہ کچھ عرصہ پہلے ہی شروع ہوا تھا کہ مفتی سجاد حسین سے نماز پڑھاتے ہوئے تواتر سے غلطیاں سرزد ہو رہی تھیں۔ کبھی وہ ظہر یا عصر میں بلند آواز سے قرأت شروع کردیتے کبھی مغرب اور عشاء میں چپ سادھے کھڑے رہتے۔ کبھی تو یوں بھی ہوتا کہ تشہد میں بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنا بھول جاتے پیچھے کھڑا گل محمد کھگاریں مارتا رہتا اور حاجی نزاکت پیچ و تاب کھاتا رہتا۔ حاجی نزاکت شہر کی گڑ منڈی کا مشہور بیوپاری اور مسجد کمیٹی کا نائب صدر تھا۔ روپے پیسے کے معاملے میں بخیل اور اپنے وقت کو بھی پیسوں میں تولنے کا عادی۔ جب نماز میں مفتی صاحب لمبی صورت شروع کرتے یا اب کے دنوں مفتی صاحب سے ہوجانے والے سہو کی وجہ سے دوبارہ نماز پڑھنی پڑ جاتی تو حاجی نزاکت کو لگتا کہ جیسے بہت مہنگی نماز اس کے پلے پڑ گئی ہو۔وہ ضبط کئے نماز میں دھیان لگانے کی کوشش کرتا رہتا مگر اس کا من طے کردہ سات منٹ کے بعد دوڑا دوڑا دوکان کی طرف جاتا رہتا۔ مفتی عبدالجبار کے پرتقدس شخصیت کی وجہ سے وہ اپنی زباں پر تالا لیے رہتا حتیٰ کہ پیٹھ پیچھے خیال آرائی کی ہمت بھی ٹوٹتی رہتی۔ مفتی عبدالجبار نہ صرف مسجد میں امامت کرواتے تھے بلکہ ساتھ واقع جامعہ دارالاحسان میں درجہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کے ساتھ دارلافتاء کے نگران کی حیثیت سے فتویٰ نویسی کی ذمہ داری بھی نبھاتے تھے۔یہ فرائض وہ پچھلے پچیس سالوں سے مسجد کمیٹی کے صدر اور جامعہ دارالاحسان کے مہتمم علامہ روح الامین کے والد اور جامعہ کے بانی مولوی عبداﷲ فاضلی المعروف “بڑے میاں جی” کے دور سے ادا کر رہے تھے۔ اس کے عوض وہ تنخواہ یا مشاہرہ کچھ بھی نہ لیتے تھے۔ بس عید شبرات پر ان کا کوئی عقیدت مند کپڑوں کا جوڑا لے آتا۔ محلے کے گھر سے ان کا تین وقت کھانا آجاتا اور اﷲ اﷲ، خیر صلا۔ انہوں نے اپنی ضروریات محدود کرنے کو زندگی کا جز بنائے رکھا تھا۔ حتیٰ کہ بشری تقاضوں کو بھی انہوں نے نفسانی خواہشات کا نام دے کر اپنے آپ سے پرے رکھا تھا۔ شادی اس لیے نہیں کی کہ کہتے تھے کہ بیوی اور اولاد ایسی آزمائشیں ہیں جو بندے کا ایمان خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ شہر بازار کو شیطانی گھر سمجھتے اس لیے اس طرف کا کبھی رخ نہیں کیا۔ وہ نماز کے وقت مسجد میں اور بقیہ سارا وقت جامعہ کی لائبریری میں بیٹھے رہتے۔ تدریس اور فتویٰ کا کام بھی وہیں انجام دیتے۔ بس آرام کرنے اپنے حجرے میں جاتے۔ دو منزلہ مسجد کے وسیع صحن کے دائیں جانب، صحن سے متصل ہی جامعہ کی نصف دائرے میں پھیلی ہوئی عمارت تھی۔ جو اب زبوں حالی کی علامت نظر آتی۔ تدریسی کمروں کے بیچ میں ہال نما لمبا کمرہ تھا جو اندر کتابوں سے بھری بے ترتیب الماریاں لیے لائبریری بنا ہوا تھا۔ لائبریری کے ہمیشہ کھلے رہنے والے شیشم کے دروازے کے سامنے مفتی صاحب مشرقی دیوار سے پشت لگائے اپنی نشست گاہ پر بیٹھے پڑھتے یا پڑھاتے رہتے۔ نشست گاہ کے سامنے اور جنوبی طرف ڈیسک پڑے رہتے تھے جن پر مفتی صاحب کے زیر مطالعہ کتابوں کا ہجوم جما رہتا تھا۔ اسی نشست گاہ پر مفتی صاحب کی عمر کا تقریباً دو تہائی حصہ گذرا تھا۔ پڑھ کر جوں ہی افتا کا نصاب مکمل کیا تو بڑے میاں جی نے انہیں جامعہ دارالاحسان میں مدرس مقرر کردیا۔اور وہ کچھ بولے بنا سعادت مندی سے پڑھانے بیٹھ گئے تھے۔گھر والوں سے پوچھنا تو درکنار خبر بھی نہ کی تھی۔ خود مفتی صاحب کا پڑھنے کے لیے جامعہ میں آنا بھی ایک عجب داستان تھی جسے بڑے میاں جی ہر محفل چاہے خطاب میں فخریہ بیان کرتے تھے۔کہتے

 

“جب میں درس نظامی مکمل کرکے دین کی خدمت کے لیے یہاں آیا تو لوگوں کی دین سے دوری دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ مسجدیں ویران اور اوطاقیں آباد تھیں۔ کوئی نماز پڑھنے، اذان کہنے والا نہیں تھا۔اس مسجد میں تو کتیا نے کتورے جن رکھے تھے”۔ یہ جملہ سن کر سامعین کے منہ سے توبہ توبہ کی آواز نکل جاتی اور بعض تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگ جاتے۔ “یہ بے دینی دیکھ کر ارادہ کیا کہ یہیں رہ کر اس مسجد کو دین کی روشنی سے منور کرنا ہے۔ میں نے مسجد کو صاف کرکے کتیا کو باہر نکالا اور عصر نماز کی اذان کہی۔ اذان کی آواز سن کر محلے والے متحیر ہوکر باہر نکل آئے۔ میں نے انہیں نماز کی دعوت دی تو اکثریت بڑبڑاتی رخصت ہوگئی۔ایک دو نیک دل باوضو ہوکر نماز کے لیے آئے۔ نماز کے بعد ان سے بات چیت ہوئی۔انہوں نے میری آمد پر خوشی ظاہر کی۔کہنے لگے کہ “ہمارے ہاں تو کوئی اسلامی تعلیم رکھنے والا ہے ہی نہیں۔ خدا کا احسان ہے اس نے آپ کو رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ اب آپ ہم پر احسان کریں۔یہاں ٹھہریں اور ہمیں گمراہی سے بچائیں۔” ان کی یہ بات سن کر میرا جی بہت خوش ہوا۔ کیونکہ میں تو پہلے ہی یہ نیت کیے بیٹھا تھا کہ اس شہر کو آباد کرنا ہے۔ جو دین سے بے بہرہ اور برباد ہے۔ پس میں نے اس مسجد میں ڈیرا جمایا اور بازار، اوطاقوں میں جاکر لوگوں کو دین کی دعوت دینے لگا۔ انہیں آخرت سنوارنے کی رغبت دلاتا۔ غیرت ایمانی جگانے کے جتن کرتا۔ آہستہ آہستہ مسجد خوب آباد ہونے لگی۔ تب میں نے دینی شعور بیدار کرنے کے لیے یہاں مدرسہ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ جمعہ کے دن خطبہ میں میں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں۔ یہی علم حقیقی ومنفعت ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے بچوں کو بلکہ آپ کو بھی آخرت کے عذاب اور جہنم کی بھڑکتی آگ سے نجات دلائے گا۔ میری بات پر لوگوں نے لبیک کہا اور بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔ مگر یہ معاملہ صرف قاعدہ اور قرآن کی تعلیم تک رہا۔ اکثریت اسکولوں میں پڑھنے والی اورکھیتوں میں کام کرنے والی تھی۔ لہٰذا علم حدیث و علم فقہ کی ابتدا نہ ہوسکی۔ مسافر طلبا کی رہائش کی سہولت نہ تھی لہٰذا شہر کے نیک پرور لوگوں کو جمع کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ اگر مسجد کے ساتھ ہی مدرسہ تعمیر ہو جائے تو مسافر طلبہ آکر دینی تعلیم حاصل کریں گے اور قرآن و حدیث کا درس سیکھیں گے۔ پھر جب تک مدرسہ قائم رہے گا اور درس و تدریس ہوتی رہے گی آپ کے لیے آخرت کے چھٹکارے کا ثمر جمع ہوتا رہے گا۔ فوراً ہی مدرسہ کی عمارت کھڑی ہوئی اور میں دیہاتی علاقوں سے طلباء کے حصول کے لیے دورہ پر نکل کھڑا ہوا۔ ایک گاؤں سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں دیہاتی لوگ ویسے بھی روشن قلب ہوتے ہیں۔تو اس دورہ میں کئی بچے اسلام کے لیے وقف کئے گئے اور یہاں مدرسہ میں زیر تعلیم ہوئے اور آج ان میں سے کئی الحمدﷲ ملک کے مختلف حصوں میں بے دین لوگوں کو دین کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔”

 

یہاں بڑے میاں جی توقف کرتے۔ مفتی سجاد حسین کا نام پکارتے جو ان کے ساتھ ہی بیٹھا ہوتا اور اسے کھڑے ہوجانے کا کہتے “سب سے بڑی مثال ‘جناب مفتی’ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔” وہ مفتی صاحب کو ہمیشہ جناب مفتی پکارتے تھے۔ “یہ وہ بچہ تھا جس کا والد صوبیدار اور گاؤں کا چودھری تھا۔ اس بچے نے میری دینی باتیں سن کو خود کو دین کے لیے وقف کردیا تھا۔ حالانکہ اس کا والد راضی نہیں تھا۔ ماں نے بھی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ مگر ہزار آفرین اس بچے پر جس نے ماں باپ کو بھلا کر دین و شریعت کو اختیار کیا۔ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آج یہ آپ کی شہر کی ظلمت کو اپنی نورانیت سے منور کر رہا ہے۔” لوگوں میں سبحان اﷲ کا شور اٹھتا۔ اور یہ حقیقت بھی تھی کہ مفتی صاحب سارے رشتے ناتے بھلا آئے تھے۔ گاؤں جانے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔عیدین تک جامعہ میں کرتے تھے۔ جب ماں کا دل بے تابی کی باڑیں پھلانگنے کو آتا تو وہ ملنے آجاتی۔ کچھ لمحے بیٹے کو دیکھ کر، کچھ باتیں بول کر روتی سسکتی واپس چلی جاتی۔ مفتی صاحب پر کچھ اثر نہ آتا۔ چند ایک مرتبہ ہی گاؤں گئے۔والد صاحب کے وصال کے بعد کبھی کبھار ماں کے بلاوے پر چلے جاتے کہ اب ضعف اور بیٹے کی جدائی نے ماں کو سفر کے قابل نہ چھوڑا تھا۔ والدہ کی جہاں سے رخصتی کے بعد وہ کبھی کبھار کا جانا بھی چھوٹ گیا۔۔چھوٹا بھائی یا اس کے بیٹے ملنے کو آتے اور گاؤں چلنے پر زور بھی دیتے مگر مفتی صاحب کا جواب ناکار میں ہی ہوتا تھا۔کہتے “بھائی تمہیں پتا ہے وہاں کے ماحول کی وجہ سے میرا دل آنے کو نہیں کرتا۔اور اللہ تمہیں یہاں ملنے کے لیے بھیج بھی دیتا ہے تو میں یہیں اچھا ہوں”۔علاوہ ازیں مفتی صاحب چونکہ نفس کشی پر سدا کار بند رہے تو اگر کبھی دل نے گاؤں جانے کی تمنا بھی کی تو اسے نفسانی خواہش قرار دے کر کچل ڈالا۔ انہوں نے جا معہ ہی کوگھر بنایا تھا اور دینی علوم پڑھناپڑھانا مقصد حیات۔بڑے میاں جی کے وفات کے بعد ان کے فرزند ارجمند روح الامین نے جب مسجد اور جامعہ کو سنبھالا تو مفتی صاحب کی درجہ عزت میں کوئی کمی نہ کی بلکہ روح الامین خود مفتی صاحب کے شاگرد بھی رہ چکے تھے، لہٰذا اس نے مسجد کی امامت کا اعزاز بھی مفتی صاحب کو بخشا۔ مفتی صاحب نے خود کو مسجد کے ساتھ ساتھ لائبریری تک ہی محدود کر رکھا تھا۔اس لیے شہر بھر کے لوگ یا عام مولوی بھی فقہی مسائل کے حل یا فتویٰ کے پوچھنے کے لیے مفتی صاحب کے ہاں لائبریری میں حاضر ہوتے جہاں مفتی صاحب سارا دن میسر رہتے۔ خواتین بھی دینی معلومات یا خانگی جھگڑوں کے حل کی خاطر ان کے پاس بلا جھجھک آتی رہتیں۔ روز مرہ کی زندگی مفتی صاحب کے اختیار کیے ہوئے طریقے پر جاری تھی کہ زیب النساء نے آکر ان کے معمولات میں خلل ڈال دیا اور مفتی صاحب کے خیالات اور رجحانات کے مرکز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ سویرے سویرے ابھی مفتی صاحب تسبیحات اور اشراق نماز پڑھ کر لائبریری میں داخل ہی ہوئے تھے کہ زیب النساء آپہنچی۔ زیب النساء جو ٹھسے کی عورت تھی۔۔ بیالیس،پینتالیس سال کی عمر میں بھی لمبے قد کے ساتھ بھرا بھرا جسم اور وہ بھی گٹھیلا۔ جب وہ مردوں طرح سینہ نکال کر چلتی تو گریبان کے بٹن ٹوٹنے کو آتے۔ محلے بھر کی عورتیں اسے اپنا امام مانتی تھیں۔ کسی نے خریداری کے لیے بازار جانا ہو، بچہ ڈاکٹر کو دکھاناہو، رشتہ کرنے کے لیے مشورہ لینا ہو۔ سلائی کڑھائی کا کوئی ڈیزائن سمجھنا ہو، گھر میں کوئی دینی محفل کروانی ہو سب کا رخ زیب النساء کی طرف ہوتا۔ اور وہ بھی بلاحیل وحجت ہر ایک کی مدد کے لیے تیار بیٹھی ہوتی۔ کچھ ماہ پہلے جب اس کے شوہر ماسٹر رمضان نے اسے طلاق دے دی تو محلے بھر کو سکتہ چھا گیا تھا۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرنے والی اور اتنی خدمت گذار کو طلاق کیسے ملی؟ وہ تو بعد میں بھانڈا پھوٹا کہ ماسٹر رمضان گرلزاسکول کی ایک ماسٹرنی کے عشق میں باؤلا ہوا پھرتا تھا۔اور اس کی فرمائش پر اس نے گھر برباد کرنے کی ٹھان لی تھی۔بعد میں خاندان کے بڑوں، دوستوں اور محلے والوں کی لعنت ملامت اور اپنے جوان بچوں کے تیرآنکھوں نے اسے ہوش میں لایا تھا اور اب وہ مائی زیبن کے آگے پیچھے گڑگڑاتا اور معافیاں مانگتا رہتا تھا۔ مگر مائی زیبن کی موت جیسی گہری چپ ٹوٹنے میں نہ آتی تھی۔ مایوس ہونے کے بعد ماسٹر رمضان کو مفتی صاحب کی ذات میں امید کا چراغ نظر آیا۔ اسے یقین تھا کہ مائی زیبن اپنے والد سمیت کسی کی بات مانے یا نہ مانے مگر مفتی صاحب کی بات نہیں ٹالے گی۔

 

ماسٹر رمضان مائی زیبن کے مفتی صاحب سے روحانی تعلق سے بخوبی آگاہ تھا۔ ماسٹر رمضان نے مائی زیبن کے ساتھ وقت بتاتے ہوئے دیکھا تھا وہ مفتی صاحب کو جیسے اپنا مرشد مانتی تھی۔۔ اگر بھولے سے بھی کسی کی زبان سے مفتی صاحب کے لیے احترام بھرا لفظ نہ نکلا تو وہ سامنے والے سے لڑائی پے تل جاتی۔بارہا ماسٹر رمضان نے نظارہ کیا کہ مفتی صاحب کا کھانا لے جانے میں اس سے یا اس کے بیٹوں میں سے کسی سے ذرا تاخیر ہوئی ہو تو مائی زیبن بے چین ہو جاتی۔ ماسٹر رمضان سے تو ذرا سی رعایت ہو جاتی مگر اپنے دونوں بیٹوں کے وہ لتے لے ڈالتی۔ اسی امید کے پیش نظر ماسٹر رمضان نے مفتی صاحب کی لائبریری کی چوکھٹ جاپکڑی۔ مفتی صاحب نے پہلے تو اسے سخت سست کہا، جائز کاموں میں سے خدا تعالیٰ کا سب سے ناپسندیدہ کام کرنے پر اسے شرم دلائی اور انجام کار اسے مائی زیبن کے والدین سے رابطہ کرنے کو کہا۔ تب ماسٹر رمضان زارو قطار رو پڑا

 

“مفتی صاحب میں سب حیلے بہانے آزما کر پھر یہاں آیا ہوں۔آپ مجھے مایوس مت کریں۔”

 

“ماسٹر توبہ نعوذبااﷲ۔ تمہیں فکر آخرت ہے یا نہیں؟ یعنی کہ میں مسماۃ زیب النساء کو کہلواؤں کہ وہ حلالہ کے لیے راضی ہوجائے؟ تمہیں علم ہے کہ شریعت میں موجودہ حلالہ کا تصور جو کہ مروج ہوگیا ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ شریعت نے یہ کہا ہے کہ ایک مطلقہ عورت تب اپنے طلاق دینے والے شوہر سے دوبارہ نکاح میں آسکتی ہے جب وہ کسی اور کے نکاح میں آجائے۔ اس بات سے یارلوگوں نے یہ جزی نکالی ہے کہ مطلقہ عورت کا نکاح اس بندے سے کرواتے ہیں جس سے شادی کی پہلی صبح پر طلاق دینے کی شرط عائد کی جاتی ہے۔ یہ اگر چہ غلط نہیں مگر غلط رواج ضرور ہے۔ میں ایسا عاقبت نااندیش نہیں کہ ایسے کام کا حصہ بنوں۔” مفتی صاحب کی اس بات کے بعد ماسٹر رمضان جیسے جی ہار بیٹھا۔ وہ مفتی صاحب کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گیا۔

 

“مفتی صاحب میں شیطان کے بہکاوے میں بہہ گیا۔ میری خطا ہے۔میں اس گناہ کی کب سے زیب النساء سے معافی مانگ رہا ہوں۔ مجھے میرے کئے ہوئے پر بہت سزا مل چکی ہے۔گناہ سے توبہ کرنے پر خدا بھی معاف کردیتا ہے۔آپ ہی زیب النساء سے میری خطا معاف کرواسکتے ہیں۔کسی کے گھر بسانے کے لیے کوشش کرنا بھی تو کار ثواب ہے۔ اب بس آپ میرا سہارا ہیں۔ خدا کے لیے میری امداد کریں۔” وہ روتا ہوا مفتی صاحب کے سامنے جھک گیا۔

 

“میاں کفر نہ بکو۔ خدا ہی سب کا سہارا ہے اور اسی کا سہارا قائم ودائم ہے۔تم جاؤ۔ میں استخارہ کرتا ہوں۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو تمہارے لیے سعی کی جائے گی۔” اس جواب کے بعد ماسٹررمضان کی کچھ ڈھارس بندھی اور وہ رخصت ہوگیا۔ مفتی صاحب کی اس خاندان سے دلی وابستگی بھی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس میں پڑنے والی دراڑ یں دو کنارے بن جائیں۔ انہوں نے استخارہ کیااور مثبت جواب آنے کے بعد انہوں نے مائی زیبن کو پیغام بھیجا “انسانی نفس شیطان کا ہمنوا ہے۔ انسان سے غلطیاں سرزد کروا دیتا ہے۔ آپ اگر ماسٹر رمضان کو معاف کر دیں اور اس کی دوبارہ گھر بسانے والی بات پر غور کریں تو بندہ ناچیز آپ کے لیے دعا گو رہے گا۔ میں نے استخارہ کیا ہے اس میں بھی مثبت جواب آیا ہے۔” مفتی صاحب کا پیغام ملنے کے پانچویں صبح زیب النساء لائبریری میں مفتی صاحب کی نشست گاہ پر ان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ مفتی صاحب نے زیب النساء کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا’”وعلیکم السلام آپ اتنی صبح صبح؟”مفتی صاحب کو زیب النساء کی آمد کی وجہ کا اندازہ تو تھا مگر انہوں نے استفسار بہتر سمجھا۔
“مفتی صاحب ماسٹر جی سے دوبارہ ناتا جوڑنے کے لیے جب آپ کا حکم آیا تو میں نے اسی وقت ہی فیصلہ کر لیا تھا۔۔مگر میرا اندر پتا نہیں کیوں مان ہی نہیں رہا تھا۔ میری اتنی ساری عمر کے رشتے کو ماسٹر نے چند لفظوں سے دو کوڑی کا کردیا۔میرے وجود کو نکاح کے ذریعے اس سے جوڑا گیا تھا۔ جب اس نے اس کی پاسداری نہ کی تو اب میں دوبارہ خود کو اس سے جڑنے پر کیسے آمادہ کرلوں؟ بس خود سے منواتے منواتے کچھ دن لگ گئے۔میں تو اسی دن آپ کے پاس حاضر ہوکر ماننا چاہتی تھی مگر میں نے سوچا کہ اندر ابھی نہیں مان رہا تو ظاہر باہر سے کہہ کر میں مفتی صاحب سے منافقت کیسے کروں۔ اسی لیے کچھ دن دیر کی معافی چاہتی ہوں۔”‘زیب النساء کے الفاظ سن کر مفتی صاحب کو محسوس ہوا جیسے ہر لفظ کورے گھڑے کی طرح کھنکتا اور مٹی کی طرح خالص ہو۔

 

“دراصل میں نے صرف اس لیے پیغام بھیجا کہ میں اس گھر کو اور مکینوں کو آباد دیکھنا چاہتا تھا۔ اللہ میری نیت کو جانتا ہے۔”

 

“نہیں نہیں مفتی صاحب آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔میں آپ کی ذات کو جانتی ہوں۔” زیب النساء یہ الفاظ کہہ کر خاموش ہوگئی۔ مفتی صاحب زیب النساء کا اگلا جملا سننے کے انتظار میں رہے۔ لائبریری کے بڑے سے ہال میں سناٹا پیدا ہوگیا اور گذرتے لمحوں کے ساتھ اس کی عمر بڑھنے لگی۔تب مفتی صاحب کے نظر زیب النساء کے چہرے پر گئی اور انہیں یوں لگا جیسے جھکڑوں بھرا زوردارطوفان ان کی طرف بھاگا چلا آرہا ہو۔ تب زیب النساء بولنے لگی اور کمرے میں جامد سناٹا ریزہ ریزہ ہوگیا۔ “مفتی صاحب میں ماسٹر سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ بس میری ایک درخواست ہے کہ حلالہ کا نکاح مجھ سے آپ کریں گے” زیب النساء کے ان الفاظ نے مفتی صاحب کے جڑوں کو ہلا ڈالا۔
“مائی صاحب یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔” مفتی صاحب بے اختیاراپنی نشست گاہ سے کھڑے ہوگئے۔

 

“مفتی صاحب میں نے کوئی گناہ کا کام تو نہیں بولا، میں نے تو بس نکاح کا کہا ہے۔”

 

“مائی صاحبہ میں نے زندگی بھر نکاح، عورت سے دور رہنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ میں کبھی بھی یہ کام نہیں کرسکتا۔ آپ نے سوچا بھی کیسے؟”

 

“مفتی صاحب میں نے تو وہ بات کہی ہے جسے نبی نے اپنی سنت بتایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ اس دنیا میں میری تین پسندیدہ اشیاء میں سے نماز، خوشبواورعورت ہے۔” مفتی صاحب کو یہ سنتے ہی چپ لگ گئی۔زیب النساء مفتی صاحب کو چپ دیکھ کر پھر بول پڑی۔ “مفتی صاحب آپ تو صاحب علم ہیں۔ آپ تو لوگوں کو نبی کی راہ پر لگانے والے ہیں۔ آپ کیسے بھول پڑے؟نبی کی سنت، ان کی پسند سے دور ہوگئے؟” زیب النساء کے لہجے میں وحشت تھی۔ مفتی صاحب کو یوں لگا جیسے ان کے وجود کے انیٹیں گرتی جارہی ہوں وہ خود کو سمٹتا ہوا محسوس کرنے لگے۔ “میں تو وہ کام کر رہی ہوں جو حضرت خدیجہ نے کیا تھا۔ میں تو ان کے نقش قدم پر آپ کو نکاح کا پیغام دے رہی ہوں۔” آہستہ آہستہ اس کے لہجے میں بے خودی، بے ربطی اور وحشت انگیزی بڑھنے لگی۔ “مفتی صاحب میں تب سے آپ کو من میں بسائے ہوئے ہوں جب میں بارہ تیرہ سال کی عمر میں مسجد میں قرآن شریف پڑھنے آتی تھی۔ پتا نہیں کیسے آپ کی تصویر میرے من میں چھپ گئی۔میں نے اسے گناہ سمجھ کر مٹانے کی بڑی کوششیں کی ہیں مگر میں کامیاب نا ہوئی۔ پوری عمر اسی کشمکش میں گذری۔اب میں خود کو گناہ گار نہیں سمجھتی۔ جس بات پر میرا بس ہی نہیں چلتا، میری قدرت ہی نہیں میں اس معاملہ میں گناہ گار کیسے ہوسکتی ہوں؟ خدا جانتا ہے جب میرے والدین نے ماسٹر رمضان سے میری شادی کی میں اس کے کھونٹے سے بندھی رہی۔میری تمام تر توجہ محبت، خوشیوں کا مرکز ماسٹر رہا۔ میں نے اس کو جی جان سے چاہا۔مگر میں آپ کو نکال نہیں پائی۔چاہنے کے باجود میں ناکام رہی۔ میں نے خود کو بچوں میں، محلے والوں کے کام کاج میں مصروف رکھ کر بھی کوشش کی مگر خدا کے راز خدا ہی جانتا ہے۔ اب اس جاتی عمر میں اگر قسمت نے یہ موقعہ دیا ہے تو میں اسے حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ خدا کے لیے مجھ سے نکاح کرلیں۔ چاہے ایک رات کے لیے سہی مگرمیں آپ کے نکاح میں آنا چاہتی ہوں۔” بات کے اختتام پر زیب النساء کا چہرہ آنسوؤں نے گھیر رکھا تھا۔ مفتی صاحب نے وجود میں کمزوری پھیلتی محسوس کی۔ خود کو کھڑے ہونے کے قابل نہ پاکر نشست گاہ پر ڈھے گئے۔
“مائی صاحبہ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میرے دل میں آپ کا بہت احترام ہے۔”

 

“مجھے نہیں چاہیے عزت۔ نہیں چاہیے احترام۔ اگر آپ نے دینا ہے تو وہ دیں جو میں چاہتی ہوں۔ اور شریعت بھی مجھے اس کی اجازت دیتی ہے۔” وہ بپھر گئی۔ “ آپ شادی نہ کرکے کوئی نیکی کا کام نہیں کر رہے بلکہ آپ سوچنے لگیں توآپ گناہ گار بن رہے ہیں۔ ” اس بات کے اختتام پر پھر عاجزانہ انداز اور آنسو لوٹ آئے۔ “مفتی صاحب خدا رسول کے لیے مجھے قبول کرلیں۔”

 

“مجھے معاف کیجئے گا۔ میں یہ نہیں کرسکتا۔” مفتی صاحب کے پاس بجز ان الفاظوں کے کوئی جواب نہیں تھا۔
“آپ یہ کریں یا نہ کریں۔لیکن یاد رکھیے گا آپ خود کو شادی سے دور رکھ کر کوئی نیکی کا کام نہیں کر رہے بلکہ گناہ در گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔” زیب النساء ہسٹریائی انداز میں چلائی۔ “ میں جارہی ہوں لیکن پھر آؤں گی اور آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔” وہ جملے کے اختتام تک تیز تیز قدم اٹھاتی لائبریری سے نکل چکی تھی۔

 

زیب النساء کے جانے کے بعد لائبریری میں خاموشی اتری اور مفتی صاحب کے وجود پر بھی چھانے لگی۔ اس کے اثرات مفتی صاحب کے اندر تک پہنچنے لگے۔ مفتی صاحب نے برداشت کرنے کے لیے زور لگایا مگر خود کو بے بس پاکر اٹھے اور نوافل کی ادائیگی میں لگ گئے۔ طلبا جب کتب احادیث اٹھاکر درس لینے کو پہنچے تو مفتی صاحب نوافل میں مشغول تھے۔ سبق پڑھاتے ہوئے آج ان کی یکسوئی مفقود تھی۔ حدیث کی عبارت پڑھتے ہوئے زیب النساء کے الفاظ ذہن میں آتے تھے۔ بار بار” لاحول ولا” پڑھ کر ذہن کو عبارت اور معنیٰ میں لگانے کی کوشش کرتے تھے مگر خیالات انکے قابو میں نہیں آتے۔ دو اسباق سے زیادہ پڑھا نہ پائے۔ اٹھ کر اپنی اقامت گاہ میں چلے گئے۔ تین تسبیحیں پڑھنے کے بعد ذرا جی ہلکا ہوتا محسوس کیا۔ چاردن کے بعد جب جمعے کی صبح مفتی صاحب داڑھی کو مہندی لگانے کی تیاری میں تھے تو زیب النساء پھر نازل ہوگئی۔ زیب النساء پر نظر کیا پڑی مفتی صاحب کو محنت سے پیدا کی ہوئی طمانیت رخصت ہوتی محسوس ہوئی۔ وہ پریشان خیالی میں آگئے۔ زیب النساء بنا کچھ کہے مفتی صاحب کے سامنے بیٹھ گئی۔اس کا چہرہ یوں تھا جیسے اس پر مرگ واقع ہوچکا ہو۔ ہمیشہ سے اس کا اٹھا ہوا چہرہ آج اٹھتا نہ تھا۔ٹھسا غائب اور آنکھیں بے روح تھیں۔مفتی صاحب کو کبھی کوئی میت بھی اس قدر زرد نہ دکھائی دی تھی۔ مفتی صاحب زیب النساء کی مرگ صورت کو وقفے وقفے سے اپنی گری ہوئی آنکھیں اٹھاکر دیکھتے رہے مگر وہ چپ سادھے آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی۔تادیر جب مفتی صاحب محسوس کرنے لگے کہ اتنا زمانہ بیت چکا ہے گویا قیامت کا اذن آنے والا ہے۔ زیب النساء نے آنکھیں کھول کر مفتی صاحب کو دیکھا۔ آہستہ آہستہ ان نگاہوں کی گہرائی بڑھتی گئی۔مفتی صاحب کو یوں محسوس ہونے لگا وہ نظریں ان کے گوشت، رگوں اور ہڈیوں کو چیرنے لگی ہیں۔تب زیب النساء اٹھی اور “میں پھر آؤں گی۔” کہہ کر چلتی گئی۔ زیب النساء کے جاتے ہی مفتی صاحب کا جسم جھرجھرایا اور ان کی کمر کمان کی طرح تن جانے کے بعد پیچھے پڑے تکیے پر جا پڑی۔ اس دن مفتی صاحب بہت کچھ بھول گئے۔ مہندی لگانا بھولے۔ زوال کے بعد صلوٰۃ الستبیح پڑھنا بھولے۔ جمعہ نماز پڑھاتے ہوئے بھولے۔ انہیں صرف زیب النساء کی اٹھتے وقت کی برمے کی طرح سوراخ بناتی آنکھیں یاد رہیں۔ رات کو بے چینی بلاتی رہی اور نیند کے کچھ پل ہی ان کے ہاتھ آئے۔ اگلی صبح کو جب وہ شل دماغ کے ساتھ مفلوج بیٹھے تھے تو زیب النساء پھر آن پہنچی۔ آج مفتی صاحب اس کی زبان حال کی شدت سہا ر سکے۔ چیخ پڑے۔ “مائی صاحبہ آپ کیوں میرے ایمان کے درپے ہو گئی ہیں؟ جب میں بتا چکا ہوں کہ میں یہ نہیں کرسکتا، آپ سے نکاح نہیں کرسکتا تو آپ کیوں روز روز آکرمیرے سکوں میں خلل ڈالتی ہیں؟” تب زیب النساء کی کنویں سے آتی آواز ابھرنے لگی۔
“مفتی صاحب آپ نے تو سالوں سے میری حیاتی میں خلل ڈالا ہوا ہے۔ مگر میں نے تو اس کو کبھی آپ کا قصور نہیں سمجھا۔ یہ تو رنگی رب کے رنگ ہیں۔ شکوے کرنے ہیں تو اس سے کریں۔ میں بھی اس سے کرتی ہوں۔ اس نے میرے دل کو بدل دیا تو میں کیا کروں۔ میں نے تو بہت کوششیں کی چھٹکارے کی۔”

 

“مائی صاحبہ یہ نفس کی چال ہے۔ آپ شیطان کے ورغلانے میں نا آئیں۔” مفتی صاحب نے اتنا کہا تھا کہ زیب النساء پہلے دن کے روپ میں آگئیں۔ “مفتی صاحب آپ نے کیا دین پڑھا ہے جو نبی کی سنت کو شیطان کا ورغلانااور نفس کی چال کہتے ہیں؟”زیب النساء کے گرجتے الفاظ مفتی صاحب پر کوڑے کی طرح پڑے۔ “استغفار کریں ایسے الفاظ پر۔” زیب النساء کے الفاظ سن کر مفتی صاحب کے فکر کے زنگ آلود کواڑ جیسے دھڑام سے جا گرے۔ ان کا دل صدق سے استغفار کرنے لگا۔ “مائی صاحبہ خدارا آپ مجھے بخش دیں۔ میں آپ کو ہاتھ جوڑتا ہوں۔” مفتی صاحب کی بے بسی انتہا تک جا پہنچی تھی۔ یہ جملہ کہہ کر وہ تیر کی طرح لائبریری سے باہر نکل جانا چاہتے تھے۔ مفتی صاحب میں پھر آؤں گی۔ ” زیب النساء کا جملہ تعاقب کرتا ان تک پہنچا۔ مفتی صاحب کا وجودجھکڑوں کی زد میں تھا۔ اپنی اقامت گاہ کے فرش پر لیٹے انہیں چین نہ آتا تھا۔ وقفے وقفے سے زیب النساء کا جملہ ” مفتی صاحب آپ نے کیا دین پڑھا ہے جو نبی کی سنت کو شیطان کا ورغلانا اور نفس کی چال کہتے ہیں؟” ان کے دماغ میں کسی توپ کے دھماکے کی طرح گونجتا تھا۔ انہوں نے خواہشوں کے ترک کرنے کو جو اسلام کا جز بنا رکھا تھا اس فکر کی سد سکندری کی طرح موٹی دیوار آج زلزلے کی زد میں تھی۔ وہ پوری کی پوری لرزتی گرتی جا رہی تھی۔ مفتی صاحب کو سمجھ نہ آتی تھی کہ ان سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟ انہوں نے کیوں نفس کشی کو ہی نیکی وتقویٰ کا معیاربنا لیا؟ انہیں یاد آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا اسلام میں رہبانیت نہیں۔ پھر حدید سورۃ کی آیت بھی آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔” رہبانیت ان لوگوں نے خود شروع کی۔ ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی۔”

 

مفتی صاحب کو اپنی جہالت پر رونے کی سوا کوئی راہ نظر نہ آئی۔ وہ عمر بھر کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے خود کو پیستے رہے۔ وہ روتے ہی رہے۔ دل ودماغ ماتم میں مصروف تھے۔ اس دن تدریس پر بھی نہیں گئے۔ اندر کا مفتی انہیں گناہ گار ٹھہراتا، تفسیر وحدیث کے پڑھانے کا قابل نہیں مانتا تھا۔ تب قاری نورالحسن ان کے پاس چلے آئے۔ وہ مفتی صاحب کے دوست اور جامعہ میں شعبہ حفظ سنبھالتے تھے۔ دو بیویوں اور گیارہ بچوں کے باپ قاری نور الحسن درمیانہ سے ذرا کم قد رکھتے تھے۔ ہلکی پھلکی جسامت۔ چہرے پر شرعی داڑھی۔ تسبیح پھرو لئے ہوئے قاری صاحب مفتی سجاد حسین کی اقامت گاہ میں داخل ہوئے۔ مفتی صاحب مصلے پر دو زانو قبلہ رخ ہچکیوں میں تھے۔ نورالحسن ٹھہر گئے کہ مفتی صاحب دعا سے فارغ ہولیں۔ مگر دعا اور ہچکیاں لمبی ہوتی رہیں۔ بالآخر مجبور ہوکر قاری نور الحسن نے بلند آواز سے مفتی صاحب کو پکارا۔مفتی صاحب کو اندازہ ہوا کہ کمرے میں کوئی اور بھی ہے۔ کچھ لمحوں تک وہ آنکھیں بندے کیے ضبط کرتے رہے۔پھر مصلے سے اٹھے۔ قاری نورالحسن نے ان کے چہرے پر گریہ کے واضح آثار دیکھے۔ “کیا بات ہے مفتی صاحب آج آپ تدریس کے لیے بھی تشریف نہیں لائے۔ کوئی پریشانی لاحق ہے؟” قاری نور الحسن کے استفہام کے باوجود مفتی صاحب قاری نورالحسن کو ابھی واقعات سے آگاہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔ مگر پچھلے دنوں سے ان کے اندر میں جو تلاطم تھا اس کی کیفیت اتنی اذیت خیز تھی کہ وہ زبان پر قابو کھوبیٹھے اور انہوں نے ماسٹر رمضان کی آمد سے لیکر زیب النساء کی شدت بھری تقاضا اور اس کی باربار آمد کا تذکرہ کردیا۔ بات کے اختتام تک قاری نورالحسن کی گھنی بھویں آپس میں جا ملی تھیں اورخشونت سے پیشانی بھر آئی تھی۔ “مفتی صاحب یہ آپ پر شیطان کا حملہ ہے۔ وہ آپ کی عمر بھر کی کمائی تباہ کرنا چاہتے ہے۔ چھوڑیں اس کو۔ اس بات سے دور بھاگیں۔” “قاری صاحب میں خود اس سے بھاگ رہا ہوں۔لیکن مائی زیب النساء میرے پیچھے پڑگئی ہے۔ میری جان ہی نہیں چھوڑتی۔” بات ختم کی تو مفتی صاحب کو ایسے لگا جیسے ایسا کہہ کر انہوں نے غلطی کردی ہو۔ “مفتی صاحب وہ تو ہے ہی ایک فاحشہ عورت۔ بدذات۔ کیسی بے حیائی سے خود کو پیش کررہی ہے۔۔آپ نے کبھی دیکھا سنا کہ کسی عورت نے خود کوبے حیاؤں کی طرح جاکے پیش کیا ہو؟ کوئی پاکباز عورت ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کسبی عورتوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے۔” قاری نورالحسن کا غضب ناک لہجہ تھوکیں اڑا رہا تھا۔ مفتی صاحب کے سامنے زیب النساء کی صورت شکوہ سے آکھڑی ہوئی۔ “مفتی صاحب یہ آپ نے بھری بازار میں میری چادر کو تارتار کرکے رسوائی میں ڈبو دیا۔ میری سالوں کی اطاعت، نیکی، پاکیزگی یوں ایک لمحے میں ملیا میٹ ہوگئی۔” تب مفتی صاحب بول پڑے “ قاری صاحب کچھ دھیان کریں۔ کسی نیک عورت پر ایسے الزام آپ پر زیب نہیں دیتے۔ اور حضرت خدیجہؓ نے بھی رسول اﷲ کو دعوت نکاح بھیجی تھی۔آپ الفاظ کے انتخاب میں محتاط رہیں۔” “استغفراﷲ۔استغفراﷲ” قاری نورالحسن اچھل کر کھڑے ہوگئے۔ “ ایسی پاک ہستی سے آپ ایک بدکردار کو تشبیہ دے رہے ہیں۔ توبہ کریں مفتی صاحب توبہ کریں۔ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس بدذات کو تو شوہر نے بھی طلاق دے رکھی ہے۔ اگر اتنی پاک پوتر ہوتی تو طلاق کیوں ملتی اسے؟ آپ خدا سے معافی مانگیں اور اس عورت سے دور ہو جائیں ورنہ آپ کا دین ایمان لے جائے گی۔” قاری نور الحسن ناراض ناراض سلام کیے بغیر چلے گئے۔

 

دن مفتی صاحب کے لیے دشوار ہوتے چلے گئے۔ان کی سوچیں دائرے میں سفر کرتی رہتیں۔ نکلنے کا راستہ نہ ملتا تھا۔بے چینی جسم کے ارد گرد ہی پھرا کرتی۔کوشش کے باوجود دور نا جاتی تھی۔عبادت میں یکسوئی ختم ہوگئی۔ تدریس میں دھیان نہ لگتا تھا۔ یہی وہ دن تھے جب مفتی صاحب سے نمازیں پڑھاتے سہو سرزد ہونے کی کثرت ہونے لگی۔ ہفتہ ایک بعد زیب النساء نے لائبریری میں پاؤں رکھا تو مفتی صاحب نتیجے تک پہنچ چکے تھے۔ “آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے جہالت سے نکال لیا۔ مجھے خود پر شرمندگی ہے کہ میں اندھیرے کو روشنی مانتا رہا۔ میں عمر بھر رہبانیت کی سوچیں خود پر سوار کیے یہ سمجھتا رہا کہ یہی دین کی اصل روح ہے۔ میں نکاح سے دور رہ کر فخر کرتا رہا کہ میں نیکی، تقویٰ کا صاحب ہوں۔ مجھے پتا ہی نہیں لگا کہ میں تارک سنت بن گیا ہوں۔ مجھے خود پرشرمندگی ہے۔ بہت شرمندگی۔” مفتی صاحب آج بولتے ہی جارہے تھے۔ “مگر میں یہ عرض کروں کہ میں حلالہ کا نکاح کرنے سے معذور ہوں۔ یہ شرع میں پسندیدہ فعل نہیں ہے۔میں نکاح کروں گا۔ نبی کی سنت کی تابعداری کروں گا۔لیکن میں آپ سے حلالہ کے نکاح کرنے سے معذور ہوں۔”

 

“ مفتی صاحب میری تویہ آرزو ہے کہ میں روز محشر آپ کی منکوحہ بن کر اٹھائی جاؤں۔ میں آپ کے نکاح میں مرنا چاہتی ہوں۔ مجھ سے آپ عقد کرلیں۔ میں حلالہ کا نکاح نہیں چاہتی۔”زیب النساء کی آواز تھرتھرارہی تھی۔ “ آپ کاگھر اور بچے ہیں۔ آپ کا شوہر آپ سے محبت رکھتا ہے۔۔ وہ دوبارہ گھر کو آباد کرنا چاہتا ہے۔ میں اس گھر کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ ” میرا کون سا گھر ہے مفتی صاحب؟ کیا کسی عورت کا گھر بھی ہوتا ہے؟ وہ تو دوسروں کے در پر گذاراہ کرتی ہے۔ باپ کا گھر کچھ اس کا اپنا ہوتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھائی کا بن جاتا ہے۔ بھلا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی عورت باپ کے جانے کے بعد اس گھر کی مالکہ ہوئی ہو؟ اور شادی کے بعد تو وہ شوہر کے رحم وکرم پر گذارتی ہے جو کسی بھی لمحے لات مار کر اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ اور پھر شوہر کے گھر کے مالک بھی بیٹے بن جاتے ہیں۔ گھر کا عورت سے کیا کام مفتی صاحب؟ میرا کوئی گھر نہیں۔ اس لیے آپ اس بات کی فکر چھوڑدیں۔” زیب النساء کی باتوں سے عورت کی بے گھری نمایاں تھی۔ “ مگر لوگ کیا تو یہی کہیں گے کہ مفتی نے ماسٹر رمضان کا گھر اجاڑ دیا۔”

 

“مفتی صاحب لوگ تو خدا اور رسول کے بارے میں بھی کہتے رہتے ہیں۔ آپ لوگوں کی بات نہ کریں۔” زیب النساء یہ بات کہنے کے بعد مفتی صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے لگی۔ مفتی صاحب نے جواب سے خود کو معذور پایا۔ “میں روح الامین صاحب سے مشورہ کے بعد آپ کو بتا سکوں گا۔ فی الوقت میں کچھ کہنے کی راہ نہیں پا رہا۔” اس واقعے کے چوتھے دن جب مفتی صاحب پراگندہ خیال سے عاجز ہو گئے۔ دماغ سوچوں کا انبار اٹھانے سے قاصر ہوگیا۔تب اس دن نماز عصر کے بعد مفتی صاحب نے روح الامین سے تخلیہ میں بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ “آپ کے والد گرامی مرحوم حضرت کے مجھ پر صدہا احسانات ہیں کہ انہوں نے مجھے راہ دکھائی اورحیوان سے انسان بنایا۔ خدا انہیں اپنے مقربین کے قرب وجوار میں جگہ عنایت کرے۔ بیشک وہ اسلام کے داعی، مصلح اور کامل شخص تھے۔انکے مجھ پر بے پایاں عنایات رہیں کہ انہوں نے میرے سر پر ہمیشہ اپنا دست شفقت تھامے رکھا۔ حالانکہ اس کا نہ میں اہل تھا نہ حقدار۔ ان کی رحلت کے بعد جس طرح نوجوانی میں آپ کے کندھوں پر بار ذمہ داری ومنصب آیا آپ نے اسے بطریق احسن نبھایا ہے۔ یقیناً آپ کے والد گرامی کی روح کو اس بات پر فخر محسوس ہوتا ہو گا۔ اللہ آپ کی عزت ومرتبے میں اضافہ کرے میں ایک ذاتی مسئلے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔” مفتی صاحب یہ بات کہہ کر خاموش ہوگئے۔ “حضرت میں تو صرف کوشش کرتا ہوں۔ اﷲقبول فرمائے۔ آپ حکم فرمائیں۔ “ “ ماسٹر رمضان اور اس کی بیوی کی علیٰحدگی کا تو آپ کو علم ہے۔ اب زیب النساء خاتون مجھ سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہیں۔ آپ مجھے مشورہ دیں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ اور آپ کا مشورہ میرے لیے محترم ہیں۔ “

 

مولانا روح الامین مفتی صاحب کی بات سن کر اچھنبے میں آگئے۔ “حضرت آپ کی پاکبازی ونیکی تقویٰ کی لوگ قسم کھاتے ہیں آپ اتنی بزرگ ہستی ہیں۔ اگر آپ نے زیب النساء سے عقد کیا تو کل کلاں لوگ زہر اگلتے پھریں گے۔صرف آپ کی ذات پر نہیں بلکہ اس دینی ادارے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ لوگ تو ویسے ہی دین سے دوری کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور اگر انہیں یہ بات ہاتھ آگئی تو دعوت و تبلیغ کو بڑا نقصان پہنچے گا۔بالخصوص ہمارا مخالف پیر برکت علی ہر جگہ ہر محفل میں ٹھٹھے اڑاتا پھرے گا۔” “مگر میں تو سنت نکاح کرنا چاہتا ہوں۔کوئی غیر شرعی عمل تو نہیں کرنا چاہتا۔” مفتی صاحب نے کمزور لہجے میں مدافعت کی۔ “آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر حالات اور معاشرے کو بھی دیکھ کر چلنا پڑے گا۔ ورنہ والد گرامی کی محنت اکارت چلی جائے گی۔ کیونکہ آپ کی ذات اور ارادہ الگ الگ نہیں ہیں۔ اس لیے میرے نزدیک یہ بات مناسب نہیں۔ باقی آپ کے عقد کا خیال صائب اور مناسب ہے۔ کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر یہ سنت جلد پوری کی جائے گی۔میں خود بھی اس بارے میں کوشش کرلیتا ہوں۔” مولانا روح الامین کی اس بات کے بعد گفتگو کی گنجائش نہ رہی تھی۔ مفتی صاحب کو ان کی باتوں میں وزن بھی نظر آیا۔ لہٰذا وہ کہہ کر اٹھ پڑے “بہت بہتر مشورہ ہے۔۔آپ نے صحیح فرمایا ہے۔ یہی ٹھیک رہے گا کہ عقد کے لیے کوئی اور رشتہ دیکھا جائے۔” مفتی صاحب کی بات کے بعد روح الامین نے بھی راحت محسوس کی۔ “آپ بے فکر رہیں۔ لوگ تو نیک رشتوں کی تلاش میں پریشان رہتے ہیں۔ جلد ہی کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈ کر آپ کو اطلاع کروں گا۔”

 

مفتی صاحب کو اب زیب النساء کو جواب دینے کا مشکل مرحلہ عبور کرنا تھا۔مگر روح الامین کی باتوں کے بعد وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے کسی فعل کی وجہ سے ادارہ پرایسا وقت آئے جس میں ان پر اتہام آئے یا دین کو بدنام کیا جائے۔ چند ایک دن کے بعد انہوں نے زیب النساء کو پیغام بھیجا۔ زیب النساء گویا اڑتی آپہنچی۔ “مائی صاحبہ میرا خاندان دنیادار اور ظاہر پرست تھا۔ عزیز رشتہ داروں بشمول والد صاحب کا دین ایمان سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ بلکہ میں یہاں تک کہوں کہ وہ صرف کلمہ گو تھے اور روایات کو ایمان کا درجہ دیتے تھے۔ حضرت عبداﷲ فاضلی مرحوم کو اﷲ غریق رحمت کرے انہوں نے مجھے روشن راہ دکھائی۔ شرعی علوم سے آراستہ کیا ورنہ میں بھی آج بھنگ افیون کا چسیارا ہوتا اور سور وں، کتوں کی لڑائیاں کرواتا ہوتا۔ مرحوم حضرت عبداﷲ نے مجھے دینی کام میں اپنا شریک کیا اور جامعہ ہٰذا میں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔۔ میری جو بھی عزت وحیثیت ہے وہ اس ادارے کی وجہ سے ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے ادارے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہو۔ میں اگر آپ سے عقد کرتا تو مخالفین کو ایک ذریعہ ہاتھ لگ جائے گا جس کے بعد وہ اس ادارے کو بد نام کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لیے میں خود کو معذور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی مجھے معذور سمجھیں گی۔”

 

مفتی صاحب نے بات ختم کی تو زیب النساء کو یوں لگا کہ جیسے اس کی رگوں شریانوں میں دوڑتا خون منجمد ہوگیا ہو۔ اس نے اپنے دماغ میں گھپ اندھیرا پھیلتا محسوس کیا۔۔ چاروں اطراف روشنیاں خستہ اور کمزور ہو کر رہ گئیں۔ “مگر مفتی صاحب۔” زیب النساء نے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ مفتی صاحب نے اس کی بات قطع کرکے قطعی لہجے میں مخاطب ہوئے۔ “دیکھئے آپ میرے نزدیک بہت معتبر ہیں۔ مگر ادارے کے تقدس وعظمت پر کچھ گوارا نہیں کرسکتا۔ اور اگر میری ذات کی وجہ سے دین پر کوئی حرف آئے میں اس سے پہلے مرنا پسند کروں گا۔ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔آپ مجھے معذور سمجھیں۔” مفتی صاحب نے زیب النساء کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ “ نہیں مفتی صاحب نہیں۔ خداکے لیے نہیں۔” زیب النساء نے مفتی صاحب کے جڑے ہاتھوں کو بے اختیار تھام کر کھولتے ہوئے کہا۔۔ “آپ مجھے اتنا ذلیل نا کریں کہ میں زندہ ہی رہ نہ پاؤں۔ بس جیسے آپ کی مرضی۔” زیب النساء اٹھی اس کے چہرے پر مقتل گاہ کی طرف جاتے ہوئے سزائے موت کے قیدی کی طرح ناامیدی واضح تھی۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں کے چلتی اوجھل ہو گئی۔ مفتی صاحب نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر اپنے اندر اذیت کی لہر جسم میں چمکتی بجلی کی طرح پھیلتی محسوس کی۔ زیب النساء کے لوٹ جانے کے بعد مفتی صاحب پر بے کلی ہر وقت سوار رہنے لگی۔ وقت بے وقت زیب النساء کی یاد آجاتی اور دل سے ٹیسیں اٹھنے لگتیں۔ انہیں زیب النساء کو چھوڑ دینا غلط محسوس ہونے لگتا۔ مگر پھر دماغ تسلی دینے لگتا اور ان کے فیصلے کے نتائج سے آگاہ کرتا مگر دل دماغ پرحاوی ہوتے ہوئے بغاوت کا علم بلند کرنے لگتا۔ راتوں کی نیند روٹھی ہی رہتی اور انہیں تنہائی گلا گھونٹ کر مارنے کو آجاتی۔ اس صورتحال پر نجات کا ایک ہی راستہ انہیں سوجھتا کہ جلد عقد کرلیا جائے۔ مولانا روح الامین کے پاس مجبور ہو کر جا پہنچے” میں بے وقت تکلیف پر شرمندہ ہوں مگر کافی دن بیت چکے تھے۔میں نے سوچا ملاقات کے ساتھ آپ سے اس عاجز کے عقد کے متعلق دریافت کر لیا جائے۔ اس لیے حاضر ہو گیا۔”

 

“قبلہ آپ کی مہربانی کی آپ نے شرف زیارت بخشا۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ مناسب رشتہ مل سکے۔ ایک دو احباب سے بھی کہا ہے۔ جیسے ہی کوئی ایسی مثبت بات ہوگی میں خود عرض کروں گا۔” مولانا روح الامین کی بات سے مفتی صاحب کو تسلی نہ ہوپائی مگر حضور شرم کے مارے واپس ہو گئے۔ بے چینی تھی کہ انتہا کو چھوتی رہتی۔ چین کا کہیں نام نہ تھا۔ نماز پڑھتے ہوئے تو غلطیاں ہوتی رہتیں مگر اب تدریس وعبادات بھی چھوٹنے لگیں تھیں۔ مفتی صاحب خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہتے مگر قوت ضبط ان کے اختیار سے نکلتی جارہی تھی۔ دو دن کے بعد مفتی صاحب خود کو روکتے روکتے پھر مولانا روح الامین کے پاس جا نکلے۔ “مولانا صاحب میرے معاملے میں کچھ پیش رفت ہوئی؟” روح الامین تب تک اپنے تئیں اچھی خاصی کوشش لے چکا تھا مگر صورتحال مایوس کن تھی۔ بھلا مفتی صاحب کی پچاس پچپن کی عمر۔ نہ اپنا گھر ناہی کوئی بہتر معاشی حالت۔ ایسے میں جن سے بھی بات کی گئی کوئی امید افزا جواب نہیں ملا تھا۔ روح الامین مفتی صاحب کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ “حضرت کوشش لے رہے ہیں۔ انشاء اﷲ کوئی تدبیر نکل آئے گی۔” مفتی صاحب کے جانے کے بعد مولانا روح الامین نے قاری نور الحسن کو مشاورت کے لیے بلا لیا۔ “ قاری صاحب حضرت مفتی صاحب عقدمسنونہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ان کے رشتے کے لیے جن سے بھی بات کی ہے وہ مفتی صاحب کی بڑی عمر اور گھر گھاٹ نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ کوئی مثبت جواب نہیں مل رہا۔میں پریشان ہوں کہ مفتی صاحب کے معاملے کو کیسے حل کیا جائے۔؟ “

 

“ آپ پریشانی نہ لیں۔مفتی صاحب کو اس عمر میں اب اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ نجانے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ اب دنیا میں گھر بسانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب تو انہیں اخروی دائمی گھر کی توجہ کرنی چاہیے۔ آپ ہی انصاف کریں کوئی اپنی بچی کا مستقبل خراب کرے گا؟” “قاری صاحب کہتے توآپ ٹھیک ہی ہیں مگر جب مفتی صاحب مجھ سے معلوم کرنے آئیں تو میں کیا جواب دوں؟ میرے تووہ محترم اور استاد بھی ہیں۔”

 

“جناب آپ دلاسہ دیتے رہیں۔ یہ شادی کا بھوت کچھ ہی عرصہ میں اتر جائے گا۔” قاری نور الحسن کی بات مولاناروح الامین کو بھی ایک حل دے گئی۔ جب پھر مفتی صاحب مولانا روح الامین کے پاس آئے تو انہوں نے قاری نورالحسن کی بات ذہن میں لاتے ہوئے انہیں دلاسہ دیدیا۔ “جی حضرت کچھ رشتے ہیں میں جلد آپ کو آگاہ کردوں گا۔ “ مگر یہ جلد نہ آنا تھا۔ دن گذرتے گئے۔مفتی صاحب صبر حوصلہ ہارتے گئے۔۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ مفتی صاحب آنے جانے والے اورعام ملاقاتیوں سے بھی اپنی شادی کے لیے رشتہ دیکھتے کی تقاضہ کرنے لگے۔۔ لوگوں کے اندر مفتی صاحب کی پرتقدس شخصیت کا پرتو آہستہ آہستہ اترنے لگا۔۔ لوگ جہاں بھی مفتی صاحب کو دیکھتے آپس میں معنی خیز نظروں کا تبادلہ کرتے۔ طلبا کو جس دن مشکل سبق درپیش ہوتا وہ مفتی صاحب کے رشتے کی بات نکال لاتے اور پھر سارا وقت مفتی صاحب کے لیے رشتے دیکھے جاتے۔ بحث ومباحثہ ہوتا۔۔ شریر طلبا تو طنز بھی کر دیتے مگر مفتی صاحب طنز وطعنوں سے بے خبر اپنی دنیا میں مست رہتے۔ نماز کے دوران غلطیوں کی کثرت ہوگئی۔پہلے جو لوگ مفتی صاحب کے ادب میں زبان دانتوں تلے رکھتے تھے اب ان کی زبانیں گز بھر لمبی ہوگئیں تھیں۔ خصوصاً حاجی نزاکت پیٹھ پیچھے تو چھوڑیے سامنے بھی کبھی گستاخی بھرا جملہ نکال دیتا۔۔

 

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ بعض منچلوں نے مفتی صاحب کی دل میں یہ بات ڈال دی کہ شوکت تاجر، رانا جلال الدین، ذاکر اﷲ خان اور قاری نورالحسن کے گھروں میں جوان رشتے موجود ہیں مگروہ ان کا رشتہ کروانے میں تساہل برت رہے ہیں اور مولانا روح الامین نے تو رانا صلاح الدین اور قاری نورالحسن کو مفتی صاحب کے رشتے کے لیے کہا بھی مگر انہوں نے صاف جواب دے دیا۔ مفتی صاحب جونہی جمعہ کے خطبے کے لیے منبر پر بیٹھے انہوں نے بیٹیاں گھر بٹھا کے ان کے رشتے نہ کروانے والوں کی خوب مذمت کی اور ایسے افراد کو نار جہنم کا مستحق قرار دیا۔ دوران خطابت انہوں نے صرف نام لینے سے گریز کیا باقی ایسے افراد کی طرف واضح اشارات کیے جو ہر ایک سمجھ سکتا تھا۔ مزید انہوں نے صالح بندوں کے رشتے ٹھکرانے والوں کو بھی وعید سے نوازا۔ رانا صلاح الدین، شوکت تاجر، دوران تقریر بل کھاتے رہے اور ذاکراﷲ خان تو اٹھ کر لڑائی لینا چاہتا تھا مگر قاری نور الحسن نے اسے روکے رکھا۔ جمعے کے بعد غصے سے بھرے یہ افراد مولانا روح الامین کے پاس جا پہنچے۔ “مولانا صاحب ہم مسجد ومدرسے کی قدیمی زمانہ سے خدمت کر رہے ہیں۔ ہم یہاں دین حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔مفتی صاحب کی باتیں آج آپ نے بھی سن لیں۔ اس نے سربازار ہماری پگڑیاں اچھالی ہیں۔ اس نے یہ تک کہا کہ مسجد کے پڑوس میں آباد زمیندار اپنی چار بیٹیوں کے رشتے نہیں کرتا اور اپنی ذات برادری کے باہر رشتہ کرنے کو بے غیرتی سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ سن لیں کہ نبی آخرالزماں ذات پات رنگ ونسل کو ختم کرنے آئے تھے۔ یہ بات ہے جمعے کے خطبے میں کرنے کی؟ یہ ہے مفتی آپ کا جو مسجد میں بیٹھ کر ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اگر اس کو آپ نے امامت وخطابت سے نہ ہٹایا تو میرا اس مسجد میں پاؤں رکھنا حرام ہے۔”رانا صلاح الدین نے بات ختم کی تو ذاکر اﷲ خان شرع ہوگیا۔ “مولانا صاحب یہ مفتی ہماری بچیوں پر خراب نظر رکھتا ہے۔ خدا کی قسم ہم نے اسے اس کی داڑھی کی وجہ سے بخش دیا۔ ورنہ گولی مارنے کو دل کرتا ہے۔ آپ اس کا بندوبست کرو۔”

 

مولانا روح الامین ان کے چہروں کے بگڑے زاویے اور بدلتے لہجوں سے پریشان ہوگئے۔ یہ لوگ مخیرین کی صف اول میں سے تھے لہٰذا روح الامین کو فیصلہ کرنے میں دقت پیش نہ آئی۔ “ آپ سے معذرت کرتا ہوں کہ آپ نیک دوستوں کو ذہنی اور روحانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مفتی صاحب کی صحت بھی اب ٹھیک نہیں رہتی۔ نماز پڑھانا بھی ان کے لیے دشوار لگتا ہے۔ آپ بے فکر رہیں۔اب امامت کی ذمہ داری قاری نورالحسن کو تفویض کیے دیتے ہیں۔ اور خطابت میں خود نبھاؤں گا۔” “آپ مفتی کو سمجھائیں بھی۔ آج کل جس طرح کی باتیں ان کے بارے میں سننے کو ملتی ہیں وہ نیک لوگوں کا شیوہ نہیں۔ جہاں بھی بندہ بشر دیکھتے ہیں اسے پکڑ کر اپنا رشتہ کروانے کی التجائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہ تو کوئی تک ہے؟ ہم تو ان کو نیک و کار پرہیزگار سمجھتے تھے یہ کیا نکلے؟ “رانا صلاح الدین کا غصہ کم ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔ “میں انہیں ضرور سمجھادوں گا۔ آپ کو آئندہ شکایت نہیں ہوگی۔” اسی روز ہی مفتی صاحب سے امامت و خطابت واپس لے لی گئی مگر انہیں کوئی دکھ تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ ان کی ساری توجہ اسی طرف ہی تھی کہ کسی بھی طرح ان کے عقد نکاح کا بندوبست ہوپائے۔ایک طرف تو وہ سنت کی تکمیل کرنا چاہتے تھے دوسری طرف ان کے اندر فطری جنسی خواہش بہت شدت سے ابھرتی تھی۔ یہ خواہش پہلے بھی ان کے اندر سر اٹھاتی رہتی تھی مگر وہ اس کو نفسی کشی کے ہتھیار سے کچل ڈالتے تھے۔ مگر اب معاملہ دوسرا تھا۔ ان کو اپنی راتیں محرومی سے بھری دکھائی دیتیں۔ خالی پہلو ان کو نیند نہ کرنے دیتا تھا۔ آدھی آدھی رات کو وہ اٹھ کے نلکے کے نیچے جا بیٹھتے اور کئی گھنٹے بیٹھے نہاتے رہتے۔ اچانک ایک دن زیب النساء کی موت ہوگئی۔ صحت مند، تندرست، گھومتے پھرتے اچانک گریں اور رخصت ہوگئیں۔ مفتی صاحب جو والد اور والدہ کے انتقال پر بھی رونے سے پرہیز کرتے رہے تھے۔ وہ تڑپ تڑپ کر روئے۔ کوئی انہیں حال دل سننے والا ہمراز نہ ملا تھا جس کے ساتھ وہ اپنا غم بانٹ سکتے۔ زیب النساء کی موت کے بعد وہ اس صدمے سے بیمار پڑے۔بیماری سے اٹھے تو بلکل کمزور اور نقاہت سے بھرا جسم لے کر اٹھے۔ خود کلامی کی وصف ان میں پیدا ہوگئی تھی۔ لائبریری ہو، مسجد یا اقامت گاہ۔ وہ بیٹھے خود سے باتیں کرتے رہتے۔ ایک دو اسباق ہی پڑھا پاتے اور پھر بیٹھے خلاؤں میں گھورتے رہتے یا لائبریری میں پڑی چٹائی کے تنکے نکال کر سامنے ٹیبل پر خیالی انداز میں لکھتے رہتے۔ اگر ان دو کاموں سے علیحدگی ہوتی تو بیٹھے کتابوں، الماریوں سے مخاطب ہوکر ان کو نصیحتیں کرتے رہتے۔ مفتی صاحب کی تقدس بھری قدر آور شخصیت نے لوگوں کے دلوں میں بونے کا روپ دھار لیا تھا۔

 

ان کی ذات ٹھٹھے مذاق اڑانے کے ہی کام آتی تھی۔ مولانا روح الامین اب ان سے تنگ آچکا تھا مگر وہ انہیں ادارے سے نکال باہر کرنے کا راستہ نہ پاتا تھا۔ زیب النساء کے جانے کے بعد اب مفتی صاحب کے کھانے میں بھی فرق آگیا۔ پہلے جو وقت مقررہ پر کھانا پہنچتا تھا اب مدرسے کا کوئی طالب مدرسے میں پکنے والا کھانا پہنچا کے جاتا۔ کبھی دیر کبھی سویر۔ مفتی صاحب کو اب اشتہا بھی باقی نہ رہی تھی۔ کبھی کھاتے کبھی یونہی رکھا ہوا کھانا صبح کو طالب سمیٹ کر لے جاتا۔کھانے میں بے اعتدالی نے جسم کو نقاہت سے جکڑ لیا۔ مفتی صاحب دنوں میں بوڑھے ہونے لگے۔ اعضاء نے جواب دینا شروع کیا۔ مگر مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔ زیب النساء کے جانے کے چھٹے ماہ جب مفتی صاحب کا جسم فکرات اور صدموں میں بوسیدہ ہوچکا تھا۔تب وقت ظہر وضو کرنے کے لیے جاتے وضوخانہ کے فرش پر لڑکھڑاتے جا گرے۔ ابھی ادھر سے بھاگتے طلباء نے جب تک انہیں سنبھالا وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔ اس بار بیماری کی شدت بلا کی تھی۔ ہفتہ دس دن کے بعد بھی مفتی صاحب کا سنبھلنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ مولانا روح الامین نے مفتی صاحب کے گاؤں ان کے چھوٹے بھائی کو پیغام کیا۔ سکیلدھو جو گاؤں میں ہی رہتا اور زمینداری کرتا تھا، جب پہنچا تو مفتی صاحب کو کمزوری اور ضعف کے عالم میں بے سروسامانی کے ساتھ کمرے میں چٹائی پر پڑے دیکھ کر سکیلدھو کے آنسو ٹپک کر اس کی بڑی بڑی مونچھوں پر آرکے۔ اس نے کسی سے بات کیے بغیر مفتی صاحب کو اٹھوایا اور گھر لے کر چلا گیا۔ دوماہ کے مسلسل علاج معالجے کے بعد مفتی عبدالجبار اس قابل ہوئے کہ خود اٹھ بیٹھ سکیں اور چل سکیں۔ ان دو ماہ میں سکیلدھو دن رات مفتی صاحب کی خدمت میں مشغول رہا۔ اس کی بیوی بچوں نے بھی مفتی صاحب کی بہت خدمت کی۔ انہی دنوں میں جب مفتی صاحب نیم بے ہوشی میں ہذیاں بولتے رہے تو سیکیلدھو ان کی زبانی شادی کی تیاریاں اور زیب النساء کا ذکر سنتا رہا۔ جس دن مفتی صاحب کی تندرستی کا یقین ہوا سکیلدھو مفتی صاحب کے سامنے آ بیٹھا۔ “بھائی صاحب مولا کا شکر ہے اب آپ ٹھیک ہیں۔یہ میں آپ کی زبان سے زیب النساء اور شادی کے قصے سنتا رہا۔ یہ کون ہے اور شادی کی کیا بات ہے؟ “ مفتی صاحب کو پہلی بار کوئی دکھ درد سننے والا ملا تھا۔ انہوں نے اپنی سارے دکھ تکلیفیں دل سے نکال کر سکیلدھو کی جھولی میں رکھ دیں۔مفتی صاحب کی محرومیوں نے سکیلدھو کے دل پر بھاری سل دھر دی۔ اندرونی کیفیت بیابانی سے بھر گئی۔ اسے یوں لگا جیسے مفتی صاحب تپتے صحرا میں پیاس سے نڈھال بے دم ہونے والا ہو۔

 

سکیلدھو بول پڑا۔ “ بھائی صاحب یہ گھر یہ زمینیں ان میں آپ کا برابر کا حصہ ہے۔ آپ کے لیے ہزاروں رشتے۔آپ یہیں رہیں اور میں آپ کی شادی کرواؤں گا۔ سکیلدھو کی پر عزم آنکھیں اور صادق لہجہ سن کر مفتی صاحب کی دل میں امید کی کونپل اگ آئی۔ سکیلدھوجی جان سے اپنے بھائی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے میں جت گیا۔ گاؤں، رشتے دار، آسے پاسے۔ ہر طرف اس نے کوششیں کرلیں مگرکوئی امید آسرا نہ ملا۔مفتی صاحب اپنے فرقے کی وجہ سے عزیز واقارب کے لیے غیر بن چکے تھے۔ ہر دروازے، ہر چوکھٹ سے سکیلدھوکو مایوسی ملی۔لوگ کہتے “سکیلدھو تو تو ہمارا اپنا ہے۔ مگر مفتی سجاد ہم میں سے نہیں رہا۔ تو اگر اپنے لیے کہے تو ہم حاضر ہیں مگر مفتی سجاد حسین کو رشتہ دے کر ہم مولا کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گیں؟” سکیلدھو اس بات پر چپ سادھ لیتا۔ جواب دیتا تو کیا دیتا۔ وہ خود بھائی کی محبت میں مولا کے سامنے اپنے آپ کو شرمندہ پاتا تھا۔ جب سب دروازے بند پائے تو سکیلدھو مفتی سجاد حسین کے آگے آحاضر ہوا۔ “بھائی جی میں نے ہر شاخ ، ہر درخت میں رسی ٹانگنے کی کوشش کی مگر لوگ ماننے سے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں مفتی ہم میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک طرف سے امید کا دامن کھوکر میں تمہارے سامنے ایک درخواست لے کر آیا ہوں۔ لوگوں کا مذہب اپنا ہے۔ تمہارا مذہب اپنا ہے۔ مگر میرا کچھ اور ہی ہے۔ میری چھوٹی بیٹی سکینہ ،جس کو بالغ ہوئے دو تین سال ہوگئے ہیں۔ وہ کسی کی منگ بھی نہیں ہے۔اس سے تم شادی کرلو۔ گھر کی بات گھر تک رہے گی۔۔کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔” سکیلدھو کے الفاظ مفتی صاحب کے کانوں سے جسم میں داخل ہوئے اور انہوں نے اس کی رگوں اور شریانوں کو پھاڑ ڈالا۔ مفتی صاحب کو یوں لگا جیسے اس کا دماغ ہزاروں لاکھوں چھوٹے چھوٹے ذروں میں تقسیم ہو گیا اور ا س کے روئیں روئیں سے بہہ نکلا ہو۔ مفتی صاحب نے جنون کے عالم میں اپنا لوتھڑا بنا جسم اٹھایا اور سکیلدھو کو سجدے کرنے شروع کردیے۔۔ چار سجدوں کے بعد اس کے حلق سے بے اختیار زمیں لرزا دینے والی چیخ نکلی۔ آواز فضا کو دہلاتی اوپر اٹھی توگھر کے چوبارے پر بیٹھے کبوتروں میں سے دو کبوتر قلابازیاں کھاتے زمین پر آگرے اور ٹھنڈے ہوگئے۔ مفتی نے ٹوپی اتارکر کچی مٹی کے فرش پر پھینکی۔اپنی ابھری ہوئی نسوں والے لرزتے ہاتھوں سے گریبان کو پکڑ کر دو حصوں میں چیر دیا اور بھاگتا ہوا ڈیوڑھی میں سے گذر کر گم ہوگیا۔
Categories
فکشن

فنِ گزشتگان

ہم ہمیشہ کی طرح جنگ ختم ہونے کے بعد وہاں پہنچے۔ گیارہ سال ہمیں اس جنگ کا انتظار کرنا پڑا اور یہ جنگ مسلسل سات دن اور سات راتوں تک جاری رہی۔ ان سات دنوں میں ہم لوگ روز دور سے حسرت بھری نظروں سے جنگ میں مرنے والوں کی لاشوں کو دیکھتے رہے مگر ہمیں میدانِ جنگ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہونے کا نقارہ بجا دیا گیا جس کے بعد ہمارا پورا قبیلہ اپنے جھونپڑی نما گھروں سےننگ دھڑنگ میدانِ حشر کی طرف دوڑتا چلا گیا۔ سب نے اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے تھیلے اٹھا رکھے تھے جس میں تمام ضروری اوزار اور مصالحےموجود تھے جنہیں پچھلے سات دنوں میں ہم نے تیار کیا تھا۔ ہمارا قبیلہ موت اور زندگی کی سرحد پہ کھڑا رہتا تھا یہاں تک کہ موت اپنا آخری حُکم سنا دیتی اور آنے کے لئے پر تولتی ایسے میں ہم یکایک کہیں زمین کہ بطن سے نمودار ہو جاتے اور زندگی کشید کرتے۔ ہمارے بزرگوں نے سوریا دیوتا کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا جس کہ بعد اُن کے شراپ کے نتیجے میں ہماری قوم ایسے مرض میں مبتلا ہو گئی کہ کسی بھی زندہ انسان کو چھوتے تو وہ برص کہ مرض میں مبتلا ہو جاتا۔ اس لئے ہمیں صرف دشمن قوم کی لاشوں کو چھونے کی اجازت ہوتی تھی۔ ہم اس لمس کو ترس جاتے۔ تخلیق ہماری انگلیوں میں دم توڑنے لگتی۔ جنگ کہ بعد ہم لاشوں سے کئی ضروری اشیا بناتے تھے۔ یہی ہمارے جیون کا مقصد تھا اور ہم صدیوں سے اس پیشے سے منسلک تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جب پہلی بار ایک شخص نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا تو لاش کو دفناتے وقت اس نے اُس کی آنکھیں نکال لیں تھیں۔ اُن آنکھوں میں حیرت اور خوف تھا یہی حیرت اور خوف بعد میں تخلیق، ایجاد اور دریافت کا سبب بنا، یہی شخص ہمارے قبیلے کا پہلا بزرگ تھا اور اس فن کا بانی بھی۔

 

میں اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو ہمراہ لئے ہوئے تھا کہ یہ اُس کی زندگی کہ پہلی لڑائی تھی اور مجھے اُسے اپنا خاندانی فن سکھانا تھا۔ وہ بہت پُرجوش تھا اور پورے قبیلے کے آگے آگے دوڑتا جا رہا تھا۔میدانِ جنگ میں تاحدِنظر لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ جن پر چیل کوئے اور گدھ جھپٹ رہے تھے۔ انہوں نے کتنی ہی لاشوں کو برباد کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر کُتوں اور گیڈروں نے پوری کر دی تھی۔ وہاں اتنا تعفن پھیلا ہوا تھا کہ اُس کی بو ہمیں مدہوش کئے دیتی تھی۔ کچھ بد مست نوجوان تو اتنے نشے میں تھے کہ جگہ جگہ قے کر رہے تھے۔ اس تعفن کے باوجود ہماری بو سونگھتے ہی یہ سب میدانِ جنگ سے یوں بھاگے جیسے ان سب لاشوں میں جان پڑ گئی ہو۔ کئی کتوں کے منہ سے نوالے گر گئے۔ “بیٹا یاد رکھنا فنونِ لطیفہ سے بے بہرہ یہ اقوام ہماری سب سے بڑی دشمن ہیں، انہوں نے کتنی ہی قیمتی لاشوں کو تباہ کر دیا ہو گا۔ لیکن خیر چونکہ جنگ سات دن اور سات رات جاری رہی ہے اس لئے ابھی بھی بہت ساری لاشیں،کام کی مل جائیں گی”۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا۔ ہم نے دیکھا کہ کچھ سپاہی ابھی بھی زندہ تھے اور ان کی نیم بُریدہ گلوں سے خون کے فوارے چھوٹ رہے تھے۔ ہمیں ان کی موت کا نتظار کرنا تھا۔ سب سے پہلے قبیلے کے بزرگوں نے قابلِ استعمال لاشوں کو الگ کیا۔ خواتین نے ان کے لباسوں کو الگ کیا اور ان کے زخموں کو دھویا۔ ہمیں کُل تین سو پینسٹھ لاشیں ایسی مل گئی تھیں جو مکمل طور پر قابلِ استعمال تھی۔ میں نے ان میں سے تین لاشوں کو الگ کیا۔ ان میں سے ایک تو محض سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان تھا اور اس کے گلے میں تیر لگا تھا۔ دوسرا قدرے ادھیڑ عمر تھا جس کی آدھی گردن تلوار کے وار سے کٹی ہوئی تھی۔ تیسرا ایک بھاری بھرکم جوان تھا جس کے سینے اور پیٹ کے درمیان نیزہ لگا تھا۔

 

میں نے اپنے بیٹے کو پہلو میں بٹھایا اور اُس کو سکھانے لگ گیا۔ وہ نہایت انہماک سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

 

“بیٹا سب سے پہلے لاش کے ہاتھ الگ کرتے ہیں” میں نے مُردہ نوجوان کا ہاتھ بیٹے کے ہاتھ میں دیا۔ اُس کا ہاتھ یکدم اکڑ گیا اور مانو اس نے میرے بیٹے کی کلائی ہی پکڑ لی۔ وہ ڈر کر پیچھے ہٹا۔ میں نے آرام سے اُس کا ہاتھ چھڑایا۔ اور کہا “بیٹا ڈرو مت نوجوان لاشے اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ دیکھو لاش اور عورت اگر تمہارا ہاتھ پکڑ لیں تو جلدی سے چُھڑا لینا، ورنہ اپنا فن فراموش کر بیٹھو گے” اُس نے سعادت مندی سے اپنا سر ہلایا۔ میں نے تیز خنجر سے جلدی جلدی اس کی کلائی کاٹی۔ پھر نہایت چابک دستی سے اُس کی انگلیوں کو الگ کیا اور نوک دار آلے سے انگلیوں میں سوراخ کرنے لگا۔ “ بیٹا ان ہاتھوں کی انگلیوں سے ہار بنتا ہے جو قبیلے کا سردار اپنے گلے میں پہنتا تھا یہ اُس کی شناخت ہوتی ہے۔ جتنی زیادہ انگلیوں والے ہار اُتنا بڑا سردار” میں نے اُسے بتایا۔ پھر میں نے کہنیوں تک بازو الگ کئے۔ “ بابا اس سے کیا بنتا ہے” بیٹا کبھی ہم اس سے چپو بنایا کرتے تھے جس پر زندگی کی کشتی دھیرے دھیرے لہروں پر چلتی رہتی تھی۔ پر اب تو کشتیاں بہت بڑی ہو گئی ہیں یہ اُن کو کھینچ نہیں سکتے۔ اب ہم اس سے بچوں کے جھولے بناتے ہیں”۔

 

پھر میں نے گردن الگ کی اور کھوپڑی کو اندر سے صاف کرنے لگا۔ میرا بیٹا مجھے کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ “بابا ان آنکھوں سے کیا بناتے ہیں۔ یہ بہت خوبصورت ہیں یہ مجھے دے دیں” میرے بہادر بیٹے ان آنکھوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے تم ان سے محض سپنے بنا سکتے ہو۔ دیکھو اگر احتیاط سے اس کے اندر کا کالا حصہ الگ کر لو گے تو وہ قاضی کی انگوٹھی میں جڑنے کے کام آئے گا” میں بہت تیزی سے کھوپڑی صاف کر رہا تھا “ سنو سر ہمیشہ احتیاط سے صاف کیا کرنا کیوں کہ اس سے جام بنتے ہیں جب بادشاہ دشمن فوج کے کسی سورما کے سر کے جام میں شراب پیتا ہے تو اس کا نشہ برسوں رہتا ہے۔ یہ کھوپڑی کسی شہزادے کی ہے اور جب میں اس سے بادشاہ کا جام بنا لوں گا تو یہ بہت اچھے داموں بک جائے گی” لیکن سب کھوپڑیاں تو ایک جیسی ہی ہوتی ہیں” اُس نے معصومیت سے پوچھا” بیٹا یہ انسانوں کی دنیا ہے یہاں مرنے کے بعد بھی سب برابر نہیں ہوتے”۔
پھر میں نے اُس نے سینے کو چاک کیا اور چھاتی کی ہڈیوں کو الگ کرنے لگا اور ایک ایک کر کر کے جسم کے مختلف حصوں کا استعمال اُسے سمجھانے لگا “ سینے اور پسلیوں کی ہڈیاں زینے بنانے کے کام آتی ہیں۔ رانوں سے شہزادیوں کے گاو تکیے بنائے جائیں گے۔ عضو تناسل اور خصیوں کے ساتھ آشا دیوی کے مندر کی گھنٹیاں لٹکائی جائیں گی “ وہ نہایت توجہ سے ایک ایک بات سُن رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اگلی لاش پر وہ بھی میرے ساتھ ہاتھ بٹائے تا کہ وہ اس فن کو پوری طرح سیکھ لے۔ “ ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔ وہ دھیمے سے لہجے میں بولا” جب جنگیں نہیں ہوتی تھیں تو ہم لوگ کیا کرتے تھے اور اگر جنگیں ختم ہو جائیں تو ہم کیا کریں گے؟” میں اُس کے سوال پر مسکرایا میرا خنجر نوجوان کی ٹانگوں کے درمیاں سے کاٹتا ہوا اُس کے پیٹ تک پہنچ چکا تھا۔ ابھی دو مزید لاشوں کو رات سے پہلے کاٹ کر الگ کرنا ہے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔
Categories
فکشن

سوال

پچھلے چند دنوں سے میں اپنی گردن پر رسی کا دباو زیادہ محسوس کر رہا تھا۔ درد میری گردن کی پچھلی سمت سے بڑھتا ہوا میرے کندھوں تک جا پہنچا تھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر کھونٹے کے گرد سات چکر مکمل کئے اور تھک کر کھڑا ہو گیا۔ ایسا کرنے سے رسی کی گرہ میری گردن کے گرد مزید سخت ہو گئی۔اب میں بمشکل اپنا سر پنجرے کی آہنی سلاخوں سے ٹکرا سکتا تھا۔ میں امید بھری نظروں سے پنجرے کے درزوں سے باہر کی سمت دیکھنے لگا مگر وہ لوگ میری موجودگی سے بے خبر آتشدان میں لکڑیاں ڈال رہے تھے۔ میری دائیں طرف موجود دیوار سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھا۔ آج ٹھنڈک بہت زیادہ تھی۔ میں باہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن اُن کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کافی دنوں سے باہر شدید برف باری ہو رہی تھی۔ میں نے سردی کو اپنی ہڈیوں میں جاتا محسوس کیا اوراپنی اونی کھال میں گردن تک دُبک کر بیٹھ گیا۔انہوں نے پنجرے کے اندر میرا کھانا پھینکا۔ میں نے کھانے کو عادتاً سونگھا حالانکہ کہ کھانے کے ذائقے میں مجھے کبھی فرق محسوس نہیں ہوا وہ ہمیشہ ہی باسی ہوتا تھا۔میں نے تو کبھی اس کے علاوہ کچھ کھایا ہی نہیں تھا پھر میں اسے باسی کیوں کہہ رہا ہوں اس بارے میں میں واقعی کچھ نہیں جانت۔ا

 

میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔
میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔ شاید شروع ہی سے میں یہیں تھا۔ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ بھی کہنا ناممکن تھا۔ مجھے اس بارے میں بھی قطعی اندازہ نہ تھا کہ مجھے یہاں کیوں لایا گیا۔ مجھے مبہم سا یاد پڑتا تھا کہ پہلے میرے علاوہ یہاں اور بھی تھے یا شاید یہ میرا واہمہ ہی ہو۔ میں اپنی یاداشت پر ہر گز بھروسہ نہیں کرتا۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا کہ وہ میری موجودگی کو مکمل طور پر فراموش کر چُکے ہیں۔ میں نے اُن لوگوں کو کبھی میرے بارے میں گفتگو کرتے نہیں سنا۔ شاید میں وہ راز تھا جسے وہ سب جانتے تھے پھر بھی ایک دوسرے سے چھپاتے تھے۔ میں ان کی وہ کمزوری تھا جس سے وہ چھٹکارہ نہ پا سکتے تھے۔

 

میری گردن کی رسی اتنی مختصر تھی کہ میں ایک جست بھی نہیں بھر سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ رسی نہ بھی ہوتی تو پنجرے کی سلاخیں بہت مضبوط اور اونچی اونچی تھیں۔ ایک بار میں نے سر اونچا کر کے اُس کی بلندی دیکھنے کی کوشش کی تھی پر مجھے یوں لگا کہ میری گردن ٹوٹ جائے گی۔ میں اپنی گردن کی قیمت پر فرار ہر گز نہ چاہتا تھا۔ ایک بار میں نے سلاخوں کے درمیانی راستے سے نکلنے کا سوچا تو میرا سینگ اس خیال میں ایسا الجھا کہ مجھے لگا کہ میرا سانس رُک جائے گا۔ اور میں زور زور سے اپنا سر پیچھے کھنچنے لگا۔ اسی کوشش میں میرا سینگ زخمی ہو گیا۔ کافی دنوں تک مجھے سر کا ایک حصہ خالی خالی محسوس ہوتا۔ اور پہلی دفعہ میں نے اپنی اوپری منزل پر دوئی کو محسوس کیا۔ وہ عموماً مقررہ وقت پر مجھے کھانا دیا کرتے تھے۔ لیکن وہ پنجرے کے اندر کبھی داخل نہ ہوتے بس وہیں سے کھانا اندر پھینک دیتے۔ کبھی کبھی جب وقت پر کھانا نہ آتا تو میں دیکھتا کہ وہ چوری چوری میری سمت دیکھ رہے ہوتے ایسے میں اُن کی آنکھوں میں شرمندگی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ میں اُس لمحے میں بےنیاز ہو کر بیٹھ جاتا اور جُگالی شروع کر دیتا حالانکہ مجھے شدید بھوک محسوس ہو رہی ہوتی۔

 

اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔
کھانا کھانے کے بعد ہمیشہ ہی میں اپنی اگلی دو ٹانگیں اُٹھا کر سلاخوں کے اوپر رکھتا اور اپنا چہرہ رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتا۔ پھر میں اپنے چہرے کو پچھلی دو ٹانگوں کے درمیان لے جاتا گرم گرم دھار میرے ہونٹوں پر پڑتی اور میرے پورے وجود میں حرارت دوڑ جاتی۔ ایسے میں میرا دل کرتا کہ میں یہ آہنی دیواریں توڑ کر باہر نکل جاوں پر مجھے اُن کے ہاتھ میں ہنٹر دیکھ کر خوف محسوس ہوتا تھا۔ میری یادداشت میں انہوں نے مجھے کبھی ہنٹر سے نہیں مارا تھا لیکن مجھے اپنی کھال پر موجود بہت سے نشان اُسی ہنٹر کے محسوس ہوتے تھے۔ اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔ جب زخموں کا درد کم ہو جاتا تو میں انہیں چاٹ چاٹ کر میٹھے میٹھے درد کا اعادہ کرتا۔ مجھے اُن پر ہرگز اعتبار نہیں کرنا چاہے۔ یقینا یہ محض خواب نہیں تھے بلکہ وہ میرے سونے کے بعد اس پنجرے میں داخل ہوتے ہوں گے اور مجھے ہنٹر سے مار لگاتے ہوں گے۔ بس اب میں نے طے کر لیا ہے کہ اب مجھے سونا نہیں ہے۔ لیکن وجود کا کمبل اوڑتے ہی میں پھر سے نیند میں جانے لگتا ہوں۔ مجھے اُن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ وہ میرے وجود سے سخت نالاں ہیں اور سوتے میں مجھے قتل کرنے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب وہ چاقو تیز کر ہے ہیں جس سے وہ میری گردن کو کاٹ دیں گے۔ اب وہ دھیرے دھیرے میرے پنجرے کی طرف آ رہے ہیں ۔ میں ان کے قدموں کی چاپ سُن سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے مجھے اُٹھ جانا چاہئے اور ان کو بتا دینا چاہئےکہ میں ان کی مکروہ سازش کو سمجھ چُکا ہوں۔ لیکن یہ کیا کہ مجھے سخت نیند آتی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے اس قتل کو خاموشی سے قبول کر لینا چاہئے۔ میرا سینگ ابھی بھی سلامت ہے جسے میں اُن کے پیٹ میں گھونپ سکتا ہوں۔ خاص طور پر وہ موٹے پیٹ والا جو سب سے آگے آگے چل رہا ہے۔ اُسی نے چاقو اپنی قمیص کے اندر چُھپایا ہوا ہے۔میں اُن کے آتشدان کی طرف دیکھتا ہوں وہاں لکڑیاں ختم ہو چکی ہیں۔ میں اپنے سر کو بھی کھال میں چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ سب تو سردی سے مر جائیں گے۔ میں اپنا سینگ زور زور سے پنجرے کی سلاخوں سے رگڑتا ہوں۔ اب یہ جلنے لگا ہے۔وہ سب میرے سینگ کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ تاپنا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Wookjae Maeng

Categories
فکشن

ریفری‎

‘م’ نامی سڑک کے کنارے پر واقع ‘ص’ نامی رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے نکڑ والے کمرے میں جو اپنے مثلث نما یعنی ٹیڑھے نقشے کی وجہ سے وکٹر ہیوگو کے عظیم ناول کبڑے عاشق کے مرکزی کردار کواسمودو کی یاد دلاتا تھا، میں، کیکاوس، سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیشاب کرنے کےلئے بستر سے اٹھا اور پیشاب کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو چارپائی پہ سویا ہوا ہے۔ سونے والے نے یعنی اس نے خود ہی سبز رنگ کا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جس کی پنڈلی کی باہرلی طرف پیلے اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ عام طور پر اس طرح کے ڈیزائن دار ٹراؤزر کھلاڑی پہنتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کے ہوتے ہیں۔ اس ٹراؤزر کے اوپر اس نے نیلے رنگ کے کپڑے کی ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے ڈیزائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بازار سے کم قیمت کسی ایسے درزی سے سلی ہوئی ہے جو زمانے کی رفتار سے تھک کر بڑھے بوڑھوں کے کپڑے سینے تک محدود ہو چکا ہے۔

 

اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔
تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا بائیس سالہ نوجوان ستتر کلو کی جسامت سے کسی آلو کی بوری کی طرح بستر پہ پڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اسے یعنی خود کو جگانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس نے سگریٹ جلائی جو وہ اکثر رات کو دوستوں سے چوری چھپے اپنے بستر کے نیچے رکھ دیا کرتا تھا تاکہ صبح نہار منہ اس کو پی سکے۔ ایک دن کلاس میں اس نے ایک لیکچرر سے سنا تھا کہ سگریٹ دو ہی وقت مزہ دیتی ہے، ایک بستر سے اٹھ کر نہار منہ اور دوسرا رات کو سوتے وقت۔ اگر چہ لیکچرر کے بر خلاف اس نے دو سے زیادہ پینے والی عادت کو نہ چھوڑا مگر اس کے ٹائم ٹیبل کو مان لیا اور اب اس پہ ہی عمل پیرا تھا۔ ایک دو کش لیتے ہی سگریٹ نے اس کے دماغ کے غنودگی زدہ گھوڑے کو جگا دیا جو کہ اکثر نوجوان اور فلسفی سوچتے ہیں اور اس کا رخ اس نوجوان کے چہرے کی طرف مڑ گیا۔ اگر وہ سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یقینناً اسے بستر پہ اپنے آپ کو پڑے دیکھ کر جھر جھری آ جاتی۔ پتلے بغیر کنگھی کیے ہوئے بال جن کو دھوئے ہوئے نجانے کتنے دن ہو چکے تھے، کھلا منہ اس کے اندر بغیر برش ہوئے پیلے دانت اور بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں جو موٹے نقوش پہ اور بھی بھدی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔ بالکل داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر پڑے کسی ملنگ کی مافک جس کے بالوں سے مٹی نکال دی گئی ہو اور صاف اور مکمل کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔۔۔۔ اسے اس کے دوستوں کے متعلق تشویش ہونے لگی کہ کیا یہ ہم مذہبی تھی جو وہ اسے اس حال میں بھی برداشت کر رہے تھے یعنی اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس نے گئے دنوں میں اس کے ہاں کام کرنے والے عیسائی جونی سائی کو یاد کیا جس کے برتن اس کے گھر والوں نے باقی مزارعوں کے برعکس علیحدہ رکھے تھے یا وہ نوجوان مارکسسٹ جن کے نزدیک دوسرے انسان سے نفرت صرف طبقاتی تقسیم کے معاملے میں ہوتی ہے جیسا عظیم کامریڈ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ لوگ یا تو ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔۔۔ تمام محنت کش ہمارے دوست ہیں اور تمام سرمایہ دار و جاگیر دار ہمارے دشمن۔۔۔۔ کیا سب ہاسٹل میں رہنے والے مارکسی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں؟ نہیں مگر زیادہ تر!

 

وہ ایسے ہی بہت ساری باتیں سوچ رہا ہوتا مگر اتنے میں اس کے بستر پہ لیٹے نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسی لمحے کا انتظار کیے بغیر اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اس کے بستر پہ کیا کر رہا ہے؟ اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بہروپیا ہے جس نے ٹی وی اور تھیٹر کی وجہ سے اپنا اصل کام چھوڑ کر چوری چکاری شروع کر دی ہے اور اب بھی اپنے پرانے فن سے مدد لیتا ہے۔۔۔ مگر اس نے اسے بالکل نظرانداز کر دیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ اس نے اس کے ساتھ والے بستر پہ لیٹے وسیم کو جگانے کی کوشش کی جو اس کی ہی یونیورسٹی میں ماحولیات میں گریجوایشن کر رہا تھا مگر اس نے بھی کوئی جنبش نہ کی۔ تھک ہار کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو باتھ روم جاتے دیکھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگ گیا۔ اس نے اسے کہا کہ آج حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ نہا لے لیکن جواب ندارد اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے نے وسیم کو جگایا کہ دروازہ بند کر لے اور باہر نکل گیا۔

 

اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔
سڑک پر پہنچنے پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دوست کا انتظار کیے بغیر جو گاڑی سے یونیورسٹی جاتا تھا، بس پر جائے گا اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ لینے کے بعد جب وہ بس کی طرف جانے کے لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو دیکھا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب وہ بند پڑی ہیں اور پیدل اوپر جانے کے خیال سے اس کا سانس رکنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔ وہ اکثر آخرت میں ملنے والی سزا کا دنیا ہی میں ہونے والی معمولی قسم کی چیزوں سے موازنہ کیا کرتا تھا جیسے وہ اپنے ایک دوست بلال کو کہتا تھا کہ وہ آخرت کا عذاب دنیا میں گھٹیا موبائل استعمال کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر اس نے ہمت باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ٹوکن چیک کروایا اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ گاڑی آ گئی. دروازہ کھلا اور اندر داخل ہو گیا. کیکاؤس بھی ساتھ ہی تھا مگر کوئی بھی اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور رش کی وجہ سے اے سی بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ یہ تمام بھیڑ جس میں زیادہ تر تعداد داتا صاحب، شاہ عالمی چوک اور اردو بازار میں کام کرنے والوں کی تھی اپنی وضح قطح سے صاف پہچانی جا سکتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے رنگوں والی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جن کے بارے آسانی سے بتایا نہیں جا سکتا اکثر دیہاتوں میں اسے سفیانے یا ٹسری رنگ کی طرز کے نام دیے ہوتے ہیں اور پاؤں میں چائنہ کے جوتے، سستی چپلیں اور اکثر کے موبائل نوے کے عشرے کے ہندی گانوں کی ٹیون لیے بج اٹھتے۔ ان میں سے کوئی بھی سارے راستہ نہ اترا اور بالآخر اس کا سٹاپ آ گیا۔ کیکاؤس بھی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے باہر نکلا اور خود کے ساتھ ہو لیا۔ نیچے اتر کر اس نے سڑک پار کی۔ بے ہنگم اژدھام کی وجہ سے سڑک پار کرنا اسے فتح کرنے جیسا لگتا تھا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار نے اسے روک لیا اور کارڈ دکھانے کا تقاضہ کیا۔ اس نے کارڈ نکالا اور بغیر کسی تاثر کے چوکیدار کے آگے کر دیا۔ کیکاؤس نے خود کو انتہائی غصہ سے دیکھا اور کہا کہ اسے چوکیدار کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ بہت عرصہ سے یہاں سے گزر رہا ہے اور اس کا یوں اس طرح روکے جانا اس کے وجود کی نفی ہے کہ کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ مگر اسے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔ وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔ منہ دھو کر وہ باہر نکلا اور اس راستے سے کلاس میں جانے لگا جہاں وہ کم سے کم کسی کو نظر آسکے۔ اور کلاس میں چلا گیا۔ کلاس ختم ہونے پر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے وہ باہر نکلا اور صحن میں لگے ہوئے بینچ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جہاں اور بھی لڑکے جمع تھے۔ اس خوف سے کہ کوئی اسے مذاق کا ہدف بنائے اس نے کوشش کی کہ باتوں کو کسی اور موضوع کی طرف موڑ دے اور کامیاب ہو گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔
کیکاؤس کا غصہ اب چرچراہٹ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔ وہ باقی لڑکوں کو ورغلانے لگا کہ اسے بےعزت کریں، جگتیں لگائیں مگر کوئی بھی اس کی باتوں میں نہ آیا۔ بالآخر وہ ان کے پاس سے اٹھا اور لائبریری چلا گیا اور فلسفہ وجودیت کے اوپر لکھی ایک کتاب پڑھنے لگا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نظریہ کے اوپر لکھے ناولوں کے ورق کھنگالنے لگا۔ وہ جوں جوں انہیں پڑھتے گیا توں توں اسے ان کے کرداروں سے نفرت ہونے لگی۔ ایک ایک کردار اسے منافقت کا مینار لگ رہا تھا جسے جاننے اور نا جاننے والے سبھی پر شکستہ (رشک اور حسد کے ملے جلے تاثر) نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سب زندگی سے اتنے تنگ تھے تو مر کیوں نہیں گئے انہوں نے دوسروں کو کیوں ورغلایا کہ زندہ رہنا قابل نفرت ہے۔ آخر دوستوئفسکی اور چیخوف نے ان سے بدتر زندگی گزاری تھی لیکن اس کے باوجود اس سے محبت کی حالانکہ وہ دونوں اپنے سے زیادہ دوسروں سے پیار کرتے تھے۔ اس نے دعا کی کہ اے پروردگار اس لڑکے کو جلدی سے اس سنسان کونے سے اٹھا تاکہ یہ ناامیدی کے اس حصار سے جو ان کتابوں نے کھینچ دیا تھا باہر نکلے۔ وہ یہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ لڑکے نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس پہ ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ نیچے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کی اور نیچے دوست کے پاس چلا گیا۔ اس کے پہنچنے پر دو اور لڑکے جمع ہو گئے جو ان کے مشترکہ دوست تھے اور چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے۔کینٹین پہنچ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کھانے لگے۔ اس سب کے دوران کیکاؤس اپنے آپ کو ایک طرف بیٹھ کے دیکھتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے باقیوں سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لئے چل پڑا۔

 

رہائش گاہ پر جا کر آرام کرنے کے خیال سے وہ خاصا پرجوش لگ رہا تھا، اس نے دعا مانگی کے بجلی نہ ہو تاکہ سیڑھیاں چڑھنے کے بہانے اس کا کھانا ہضم ہو جائے اور تھک بھی جائےلیکن اب کی بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، بجلی ہونے کی وجہ سے وہ ان پر کھڑا ہوا اور یک لخت اوپر پہنچ گیا۔ ٹکٹ کاؤنٹر پہ کوئی مسافر کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے آسانی سے ٹکٹ لی اور بس پہ سوار ہو گیا۔ صبح کے قابل نفرت مسافر اب اتنے باعث نفرت نہیں لگ رہے تھے۔ شاید اسکی وجہ کم رش ہی تھا۔ سٹاپ پر پہنچ کر وہ نیچے اترا اور فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلیٹ کے لالچی چوکیدار نے جو اکثر اس سے سو پچاس مانگ لیا کرتا تھا اسے سلام کیا جس کا جواب اس نے ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی لگائی اور کپڑے اتار کے سو گیا۔ کیکاؤس نے کچھ دیر اس کے سونے کاانتظار کیا اور آنکھ لگتے ہی اس کے جسم میں گھس گیا۔

 

کچھ دیر بعد پورے دن کے حالات کو لے کر ان دونوں کرداروں نے آپس میں باتیں شروع کردیں جیسے فلسفی اوشو اور سوال کرنے والوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس دوران اس کے جسم نے آخری سوال کیا کہ کب تک ہمیں اس طرح جینا ہو گا؟ یہ بوجھ کب تک اٹھائے رکھنا ہے؟

 

جب تک چار آدمی تمہیں اٹھا کر قبرستان تک نہیں چھوڑ آتے۔ اس نے جواب دیا اور دونوں خاموش ہو گئے۔

Image: Rook Floro