Laaltain

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے […]

کچا

جیم عباسی: اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

پہلے میرا باپ (محمد عباس)

محمد عباس: اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔

بدبو

عمار غضنفر: اچانک ارشد کی نظر حمیداں کی جانب اٹھ گئی۔ دونوں کی۔نظریں ملیں تو ارشد کو حمیداں کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک نظر آئی۔ اس نے گبھرا کر گردن جھکا لی۔ اسی لمحےاسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کےاس کے اندر سے بھی اچانک وہی بدبو پھوٹنے لگی ہے۔

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی

سجدۂ سہو

محمد حمید شاہد: بس ایک ساعت کے لیے اس کا چہرہ اور اس پر برستے یقین کے رنگوں کو دیکھ سکا۔ اور پھر اس کی جانب کٹے ہوے شجر کی طرح یوں گرا جیسے سجدہ سہو کر رہا ہو۔

جنم جلی

اسد رضا: وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔

گلٹی

فرخ ندیم: جب چارسو اندھیرا پھیل چکا تو اس اندھیرے میں مجھے اپنا گھر ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، میں نے اپنے بٹن کھولے اور اپنی پسلیوں پہ ہاتھ پھیرا جہاں میرے ہاتھوں نے جلد پہ لگے زخم سے ہلکا سا خون بھی رستا ہوا محسوس کیا۔

پارینہ لمحے کا نزول

محمد حمید شاہد: یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟

ناصر عباس نیر:“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔

ساتواں سبق

زیف سید: دس میں سے نو ایسے لوگ مخبر ہوتے ہیں اور سگریٹ کی ایک ڈبیاکے عوض آپ کے راز پولیس تک پہنچانے میں ذرا بھر دریغ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں سے بچ کے رہیں کریں۔

پھر وہی کہانی

اسد رضا: مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔

بھگوڑا

جیم عباسی: عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔

قبریں اور دیگر کہانیاں

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا: شوگر نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ وہ پیر جی کا مرید تھا، پیر جی شوگر کے لیے چینی دم کرتے تھے۔ اس نے دم کی ہوئی چینی خوب کھائی،