شاعری ہر جگہ موجود ہے، بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔
پستان — دوسری قسط

تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت!
پستان — پہلی قسط

انسان کو اس طرح کبھی خودکشی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ پہلے بے ہوش ہو اور پھر دھیرے دھیرے اس کی جان جائے۔ اس لیے نہیں کہ یہ کوئی بہت تکلیف دہ عمل ہے، مگر ایسا اس لیے ہے کہ اس میں بچا لیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں
دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 5

شہروں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔یہاں ایک دہریے کا خدا سے گہرا رشتہ ہے، ایک غیر مذہبی کا مذہب سے اور ایک پاکدامن کا فریب کاری سے۔
دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 4

میں نے سنا ہے محمد شاہ رنگیلے کو جب حضرت امیر خسرو اور محبوب الہٰی کے آستانوں کے درمیان دفنایا گیا تو ان دنوں جیسے دہلی پر ہجر کے لمبے لمبے کالے سائے دیواروں پر بال کھولے چیختے چلاتے، ماتم کرتے نظر آتے۔
نادیدہ کا موہوم الف

میں کہاں ہوں؟ تم کہاں ہو،کوئی کہیں نہیں ہے، نہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، نہ تم مجھے۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے نادیدہ ہیں، یا اس لفظ کے درمیان جو یہ الف ہے اب ہلکے ہلکے موہوم ہوتا جارہا ہے، کیونکہ میں نے خواب میں ہی سہی،تمہیں چھولیا ہے، پی لیا ہے۔
ہمیں خود سے خطرہ ہے

ہمیں ملک پرستی کے بجائے ملک سازی پر دھیان چاہیےکیونکہ سخت گیر قسم کی ملک پرستی ایک خراب چیز ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مذہب پرستی بہت سی بربادیاں لایا کرتی ہے
دس برسوں کی دلی- قسط نمبر 3

دنیا کی شاید سب سے گہری جدائی میاں بیوی کے درمیان واقع ہونے والا فاصلہ ہی ہوسکتی ہے، دو کھری روحوں کے درمیان، جن میں اکثر مرد کی جانب سے کھوٹے پن کا اظہار زیادہ ہوتا ہے، بار بار ہوتا ہے، مگر اس وقت میرے والد کی بے وفائی مسئلہ نہیں تھی، ان کی جدائی مسئلہ تھی
دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 2

“تم کیسے بے وقوف انسان ہو! شراب نہیں پیتے، سگریٹ نہیں پیتے اور شاعری کرتے ہو۔ جبکہ شاعری نہ کرتے تو کوئی پریشانی نہیں تھی، لیکن شراب اور سگریٹ ضرور تمہیں پینی چاہیے تھیں۔”
