Categories
نان فکشن

صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میں نے دسویں جماعت کے پرائیوٹ امتحان کا فارم بھرا تھا اورمجھے انگریزی پڑھنے کے لیے کسی اچھے استاد کی ضرورت تھی۔ایک صاحبہ اس سکول میں بھی پڑھایا کرتی تھیں، جسے میں نے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے آٹھویں جماعت میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ پھر اک دن جب میں یونہی واہی تواہی دوستوں کے ہمراہ گھومتا گھامتا، آوارہ گردی کرتا گھر پہنچا تو میری والدہ نے بتایا کہ انہوں نے سکول کے پرنسپل سے بات کرلی ہے اور وہ اب چاہتی ہیں کہ میں دسویں جماعت کا فارم بھردوں۔ میں یہ بات ٹال دیتا مگر ان کے لہجے میں ایک عجیب قسم کی بے چارگی تھی، اس بے چارگی کا قصہ اور اسباب کبھی اور ذکر میں لائوں گالیکن ہوا یہ کہ پھر میں نے فارم بھر دیا۔ایڈمیشن کے بعد سکول نے مجھے یہ رعایت دی تھی کہ میں جب چاہوں دسویں کی کلاسز اٹینڈ کرسکتا ہوں، مگر میں بہت کم سکول گیا، ان دنوں زمین کی پیروں سے نئی نئی شناسائی ہوئی تھی، ہم گلی محلوں کے نقشے ناپا کرتے،دوستوں کے ساتھ مل کر کبھی سانگلی، کبھی ران گائوں اور وسئی اور اس کے مضافات کی پیدل یا سائیکل پر خوب سیر کیا کرتے۔ وہ بلڈنگ، جس میں ہم کبھی بڑی شان سے رہا کرتے تھے، اب اس کی گریل میں سے جھانکتی ہوئی سلائڈنگ کی چھلی ہوئی بغلیں، ان گلابی دیواروں کے سایے سے دکھایا کرتی تھیں، جن کو دیکھ کر سولہ برس کی عمر کا ایک لڑکا کافی ناسٹلجیک ہوجایا کرتا تھا۔بہرحال ہم پھر بھی ناریل کے جھومتے ہوئے درختوں، ان پر سینہ پھلاتے گرگٹوں کو دیکھتے ہوئے، بلڈنگ کے اوبڑکھابڑ میدان میں جس پر کسی قیدی کے گالوں کی طرح ان چاہی گھانس اگ آتی تھی، روز کھیلا کرتے تھے۔اس عمر میں دھوپ کی ہتھیلیوں سے بچنے کے لیے ہم سڑکوں پر اونگھتے ہوئے آٹورکشا میں بیٹھ جایا کرتے، کسی دوست کی لڑائی ہورہی ہے تو ساتھ لگ لیے،مچھلی بازار میں، مین مارکیٹ میں، کنوئوں پر، مندر کے باہر اور کونونٹ کے ارد گرد، صبحوں، شاموں اور ان کے درمیان یا اگلی پچھلی ساعتوں میں دوست سگریٹ پھونکا کرتے، گالیاں بکا کرتے اور بلے بازی اور گیند بازی کی نت نئی ترکیبوں پر گفتگو کرتے۔الغرض چھوٹی عمر میں بڑے دریا عبور کرنے لگے۔والد ایک بڑے معاشی نقصان کی تلافی میں دن بہ دن سفید داڑھی کا لبادہ اوڑھتے جارہے تھے، اس دوران وہ اپنی عمر سے کئی گنا بوڑھے معلوم ہونے لگے، ان کی شاندار ماضی والی زندگی، جس کے قصے، ہم مزے لے لے کر ان سے اسی بچھڑے ہوئے فلیٹ کی ٹھنڈی اور چکتے دار زمین پر بیٹھ کر سنا کرتے تھے، اب خود ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوتی جارہی تھی اور اس کی جگہ ایک پپڑی زدہ چیخ اور چبھتی ہوئی کاروباری غلطیوں کے احساس نے لے لی تھی۔لیکن میری ماں، جو کہ سخت حالات میں کسی دہقانی لہجے کی طرح ٹھوس اور مضبوط بنی رہیں، اپنے نرم ہاتھوں سے ہمیں راتوں میں نوالہ کھلاتے ہوئے ضرور سوچا کرتی تھیں کہ زندگی کا یہ طریقہ نامناسب اور ناقابل قبول ہے اور اگر یہی سب یونہی چلتا رہا تو ایک دن حالات کے یہ مہین کیچوے میرے بچوں کو اپنے لجلجے پیٹ میں اتارلیں گے۔

بہرحال ایڈمیشن کے بعد میں سب سے پہلے سکول میں پڑھانے والی استاد سلطانہ باجی کے پاس پڑھنے کے لیے گیا۔ کچھ روز تک ان کے یہاں ٹیوشن جانے کے بعد میں نے اور دوسرے دوستوں نے فیصلہ لیا کہ ہمیں یہ ٹیوشن چھوڑدینی چاہیے۔وہ ایک تھل تھل پیٹ اور پھیلے ہوئے سینے والی عورت تھیں، خفا ہوتیں تو اپنا اوپری موٹا ہونٹ، جو کہ ان کے نچلے ہونٹ کی دبازت کے لحاظ سے کچھ دبلا تھا، ناک پر ٹکا کرہمیں گھورنے لگتیں۔ان کے یہاں پڑھائی کم ہوتی تھی، گھر کے کام زیادہ کرنے پڑتے تھے، گھر ان کا بھی بڑے خوبصورت مقام پر تھا، گرائونڈ فلور پر بیٹھے ہوئے ہم اکثر باہر پھیلے ہوئے نمک کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسانوں کو دیکھا کرتے۔وہ بڑے بڑے ٹوکروں میں وائپر نما کسی بڑی سی چیز سے نمک حاصل کرکے ٹوکروں میں انڈیلتے تھے اور عورتیں انہیں اٹھا کر اپنی علیحدہ سجی ہوئی جھونپڑیوں کے پچھلے حصے میں ڈھیر لگایا کرتی تھیں۔ہم چونکہ سکول میں تمام ٹیچرز کو باجی ہی کہا کرتے تھے، اس لیے سلطانہ بھی اس رشتے سے ہماری باجی ہی ہوتی تھیں، مگر ان میں باجیوں والی کچھ عجیب سی حرکتیں بھی تھیں، مثال کے طور پر برتن دھلوانا، جھاڑو دلوانا، موٹی موٹی بھیگی ہوئی دریوں کو لڑکوں کی مدد سے نچڑوا کر پھیلوانا۔یہ سب کام اضافی مشقت کے زمرے میں آتے تھے، چنانچہ یہاں سے بھاگ لینا زیادہ مناسب تھا۔ہم نے وہ ٹیوشن چھوڑ دی، پھر کسی روز مجھے معلوم ہوا کہ ایک صاحبہ ہیں جو ہمارے ہی اردو میڈیم سکول سے پڑھی ہوئی ہیں، اور بچوں کو انگریزی پڑھاتی ہیں،میں ان صاحبہ سے کچھ کچھ واقف تھا، وجہ یہ تھی کہ ایک سال پہلے بھی، جب میں نے والدہ کی زبردستی پر فارم بھرا تھا تو انگریزی کی ٹیوشن کے لیے ان کے پاس گیا تھا، مگر چونکہ مجھے امتحانات دینے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس لیے صرف بات کرکے واپس آگیا، جب میں نے پہلی دفعہ انہیں دیکھا تھا تو وہ ایک شال میں لپٹی ہوئی تھیں، ان کے بالوں پر ایک ہلکا شفون کا دوپٹہ تھا، جو بار بار سرک جاتا تھا، آنکھوں کی لکیروں پر ہلکا کاجل اور وہ باتیں کرتے وقت اپنے سیدھے ہاتھ کو کچھ جنبش بھی دیتی تھیں۔بہرحال، جب ایک سال بعد دوبارہ انہی کی چوکھٹ پر جانا پڑا تو معلوم ہوا کہ ان کا نام صفیہ ہے، سارے طلبا انہیں صفیہ باجی کہہ کر پکارتے تھے، سو ہم بھی پکارنے لگے۔

لوگوں نے عشقیہ جذبات اور والہانہ تعلقات کے ساتھ کچھ عجیب و غریب سے جھوٹ گھڑ رکھے ہیں، یہ جھوٹ ڈائجسٹوں میں رومانی کہانیاں لکھتے اور بالی ووڈ کی فلمیں بناتے وقت بہت کام آتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آپ کسی کو دیکھیں اور دیکھتے ہی آپ کو محبت ہوجائے۔محبت برتے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، لگاؤ یا نسبت بغیر ذہنی ہم آہنگی کے کیسے ممکن ہے۔ہم کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں، کسے کتنا جانتے ہیں اور پرکھتے ہیں، اسی کے بعد تو ہم اس انسان کے ساتھ مل کر جذبات کی ہانڈی تیار کرسکتے ہیں۔دل ملتے ہی نہیں کبھی، حقیقت میں صرف دماغ ملا کرتے ہیں، مگر یہ نکتہ ہماری لسانیاتی جمالیات کو ہلکا سا مجروح کرتا ہے کہ ‘میرا کسی شخص پر دماغ آگیا ہے’ اس لیے ہم یہاں دل کو دماغ کو متبادل بناکر حسن کی ایک پرفیکٹ دنیا بنایاکرتے ہیں۔صفیہ باجی کا مکمل نام صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری تھا۔میں نے بہت بعد میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہماری اخلاقیات ہمیں اس قدر جھوٹ سکھاتی ہے کہ دنیا کی تمام چالاکیاں اس کے آگے ہیچ ہیں۔آخر جن لوگوں سے ہمارا صرف اتنا تعلق ہو کہ ہم ان سے کسی خاص معاملے پر تعلیم حاصل کریں، انہیں باجی کہنے کا مطلب ہی کیا ہے۔ہم نے کبھی کسی مرد ٹیچر کو تو باپ یا بڑے بھائی کا درجہ نہیں دیا، لفظی سطح پر بھی نہیں۔ ہم نے کبھی کسی ایسے مرد کو جو ہمیں پڑھاتا رہا ہو، فلاں بھائی یا بھیا کہہ کرپکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،آخر وہ نظریہ حیات کتنا منجمد اور تنگ ہوگا، جو سکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں سے یہ خوف کھاتا ہے کہ اگر یہ ان عورتوں کو جو انہیں پڑھاتی ہیں، باجی نہیں کہیں گے تو ان سے کوئی جذباتی یا جنسی رشتہ قائم کربیٹھیں گے۔اب یہ عورتوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے ہے یا بچوں کے لیے کسی قسم کا حفظ ما تقدم، مگر ہے بڑی بھونڈی بات۔ہمیں یاد ہے کہ ہم اپنے سکول میں چھٹی، ساتویں جماعت میں ہی سعدیہ اور شگفتہ نام کی دو ‘باجیوں’ کو بڑی حسرت آمیز نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ان کے حسن کو سراہتے اور یقینی طور پر اس ستائش میں ہوس کا پہلو بھی شامل تھا۔ہم خوابوں میں انہیں دیکھتے اور مشترکہ طور پر ہم بہت سے دوستوں کی یہ رائے تھی کہ وہ دونوں بہت خوبصورت ہیں اور کسی فلمی ہیروئن سے کم معلوم نہیں ہوتیں۔ باجی نام کا کوئی بھی لفظ، ان کے لیے ہمارے جذبات کو ابھارنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور ہم نے ان کے تعلق سے نت نئے خیالات سجائے، ان سے باتیں کرکے حظ اٹھایا اور نوجوانی کی اس کچی دہلیز پر جہاں ہماری شریانیں، جنسی جذبات سے بالکل ابھی ابھی واقف ہوئی تھیں، ان کی قربت کو خود کے لیے بہت فرحت بخش محسوس کیا۔آپ اسے عمر کے کسی بھی پڑائو پر پرورٹ قسم کی سوچ سے تعبیر کرسکتے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ جسم دریا بنتے بنتے، سمندروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایک ننگی حقیقت ہے، جس سے بچنا ممکن نہیں۔

الغرض صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری کے یہاں میرا ٹیوشن جانا شروع ہوا، میں نے قریب چھ مہینے ان سے انگریزی پڑھی۔انگریزی میں رفتہ رفتہ میرا دل دوسرے مضامین کی بہ نسبت زیادہ لگنے لگا۔ وجہ یہ تھی کہ میں انہیں پسند کرنے لگا تھا، ان کی بولتی ہوئی آنکھوں میں ہرنیوں کی سی قلانچیں موجود تھیں، ان کی چمکدار سیاہ پتلیوں پر کانچ کی سی رمق تھی، وہ ایک سخت مذہبی گھرانے میں پلی بڑھی تھیں، ان کے والد ایک وہابی مولوی تھے، جو کہ جمعے کی نماز پڑھانے کے لیے اپنے گھر سے قریب آٹھ کلو میٹر دور ایک مسجد میں جایا کرتے تھے۔دو بھائی تھے، جن میں ایک شاید باہر گائوں (دبئی وغیرہ) میں تھا اور ایک کسی گیراج میں کام کیا کرتا تھا۔ ایک چھوٹی بہن بھی تھی، شگفتہ نام کی، جوپہلے ہماری کلاس میٹ بھی رہ چکی تھی۔صفیہ کا حسن اپنے گھر میں سب سے الگ تھا، ان کی شکل و شباہت میں بھائیوں اور بہن والا نقشہ تو ہلکا ہلکا ضرور تھا، مگر حسن کی تیزی ایسی تھی کہ بہت دیر تک آنکھیں ملانا ممکن نہ تھا۔باتوں میں بلا کا اعتماد، ہنسی ایسی، جیسے سرسوں کی بالیوں سے پیدا ہونے والے رقص کی آواز ہو، دانت سفید، چمکدار موتیوں کی طرح، دہانہ نہ بہت بڑا، نہ بالکل چھوٹا۔ جب وہ باتیں کرتی تھیں تو کئی بار ماتھے پر شکنیں پیدا ہوجایا کرتیں، مگر یہ بہت خوبصورت سی شکنیں تھیں، جیسے بے فکر نیندوں میں چکنی پنڈلیاں، سفید چادروں پر سلوٹوں کا حسن دریافت کرتی رہتی ہوں۔

میرے ساتھ ایک بات یہ ہوئی تھی کہ چونکہ میں پرائیوٹ تعلیم حاصل کررہا تھا، اس لیے انہوں نے مجھے دوسروں سے الگ طور پر پڑھانے کا فیصلہ کیا۔یہ کوئی خوش فہمی کی بات نہ تھی، بلکہ ان کی ایک طالب علم کے لیے خاص توجہ کا معاملہ تھا۔وہ چاہتی تھیں کہ میں کسی طرح اچھے نمبر لاؤں، وہ میری اردو سے کچھ متاثر بھی تھیں، انہیں معلوم ہوا کہ میں اس سے پہلے کچھ شاعری واعری کرتا رہا ہوں تو انہوں نے ایک دن میری ڈائری منگا کر دیکھی، اس میں بہت سی نعتیں، بزرگوں کے لیے مناقب اور منظوم شجرے لکھے ہوئے تھے، جو کہ میں نے اس زمانے میں قصص الانبیا، تذکرۃ الاولیا، سفینۃ الاولیا جیسی بہت سی کتابیں پڑھ کر لکھے تھے۔نظریاتی اعتبار سے انہیں یہ سب کچھ پڑھ کر غصہ آنا چاہیے تھا، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، انہوں نے انہی چیزوں کی بہت تعریف کی اور مجھ سے پوچھا کہ شاعری، اتنی عمر میں اتنی کیسے کرلیتے ہو۔میں نے پتہ نہیں کیا جواب دیا، مگر اسی طرح کی غیر روایتی باتوں نے مجھے ان کے قریب کردیا۔ میں دن میں زیادہ تر وقت وہیں رہا کرتا تھا، جب وہاں جانا ہوتا تو والد کی اچھی اچھی شرٹیں، جو کہ میرے پتلے بدن پر کافی پھیلی ہوا کرتی تھیں، اپنی جھولا نما پینٹوں کے ساتھ پہن کر وہاں جایا کرتا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ کبھی انہوں نے مجھے کپڑوں پر ٹوکا نہیں، مجھے یہ احساس نہ دلایا کہ میں حد سے زیادہ ان کے قریب آنے کی کوشش کررہا ہوں اور ایک عجیب قسم کی سچویشن پیدا کرنے کی کوشش میں ہوں، جس میں اس توقع کے شائبات شامل ہیں کہ میں ان سے اظہار عشق بس کرنے ہی والا ہوں۔مگر، انہوں نے کسی بات پر کبھی برا نہیں منایا۔بہت سی خالی دوپہریوں میں جب ان کے گھر پر ٹاٹ کے پردے پڑے تپ رہے ہوتے، میں ان کے ساتھ ایک الگ تھلگ کمرے میں بیٹھ کر اوٹ پٹانگ باتیں کیا کرتا، مجھے ان کو دیکھتے رہنا ہی بہت پسند تھا۔شاید میری زندگی کا ایک سب سے گہرا جذباتی پہلو یہی ہے کہ میں جس لڑکی یا عورت کے حسن کو پسند کرنے لگتا ہوں، اور اتفاق سے اگر اس کے ساتھ میری ذہنی ہم آہنگی بھی ہو تو اس سے جدائی کا کوئی بھی لمحہ مجھے پریشان کرتا ہے۔ اب تو خیر میں نے اپنی تربیت اس طرح کرلی ہے کہ جی کو کہیں اور لگا لیتا ہوں، مگران دنوں معاملہ ایسا نہیں تھا، میں ذرا ذرا سی دیر کے لیے بھی ہڑکنے لگتا اور جس وقت گھر پر رہا کرتا، صرف گھڑی دیکھا کرتا، حد تو یہ تھی کہ جب ان سے رخصت لیتا تو دل ہی دل میں اگلے دن کی ملاقات میں حائل گھنٹوں کو ناپنے لگتا۔جیسے جیسے وقت گزرتا، میرے دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگتیں اور کئی بار میں وقت سے بہت پہلے تیار ہوکر گھر سے نکل جایا کرتا، راستوں میں سست رفتار سے چلتا، کہیں بیٹھ جایا کرتا، مجھے یاد ہے کہ بارہ بجے کے معینہ وقت پر پہنچنے کے لیے کئی دفعہ میں گھر سے گیارہ بجے نکل گیا، جبکہ ان کے گھر کا فاصلہ میرے گھر سے یہی کوئی آٹھ دس فرلانگ کا تھا۔راستے میں ایک مزار کا احاطہ پڑتا تھا، جس میں ایک ساتھ چار پانچ قبریں ہوا کرتی تھیں، میں دھوپ میں وہیں بیٹھ جایا کرتا، سامنے کچھ کھپریلوں والے پکے گھر تھے، ایک چھوٹا سا میدان اور اس کے بیچوں بیچ ایک کنواں۔ پائوڈر گلے پر تھپا ہوا ہے، جسے چھپانے کے لیے میں نے کالر کا بٹن لگا رکھا ہے، جوتے ہلکے پھٹے ہوئے ہیں، کہیں سے کچھ کھٹک رہاہے، مگر میں ہوں کہ کسی بات کا دھیان ہی نہیں۔بس ایک ہی دھن ہے کہ شاید اب بیس منٹ گزر گئے ہونگے، شاید اب چالیس منٹ۔کئی دفعہ راستے میں ظہیر ملا کرتا تھا، جس کے ساتھ میں قیوم بھائی جوتے والے کی دکان پر کچھ عرصہ کام کرچکا تھا۔مدت بہت کم تھی، مگر وہ بھی چونکہ میری طرح پتلا دبلا لڑکا تھا، اس لیے ہماری گاڑھی چھننے لگی تھی۔مگر ظہیر سے زیادہ مجھے اس وقت اس وقتی فاصلے کے کم ہونے کی فکر رہتی تھی، جسے عرف عام میں ‘گھنٹہ’ کہا کرتے ہیں۔
صفیہ کی اپنی قد کاٹھی بہت چست درست تھی، ایسا لگتا تھا کہ وہ قدرت کا کہا ہوا ایک ایسا شعر ہیں، جس میں کہیں سے کوئی لفظ زیادہ یا کم کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔میں ان کے ساتھ تنہائی میں کیا باتیں کرتا تھا، کوئی ایسی عاشقانہ باتیں نہ تھیں، اس کے لیے بڑی ہمت چاہیے تھی، مجھے یاد ہے کہ میں نے ٹیوشن چھوڑنے کے بعد ایک طویل خط لکھا تھا، جسے دو ایک دفعہ اپنے دوستوں کی مدد سے انہیں پہنچانا چاہا، مگر وہ بھی میری ہی طرح نکھٹو نکلے۔میرا بس چلتا تو آنکھوں کو صرف اسی کام پر لگادیتا کہ انہیں دیکھتی رہیں، مگر یہ سب ممکن نہ تھا۔ ہائے ! کیا دن تھے، پڑوس میں آباد قبرستان کے دامن پر بہت سے گھنے اور پتلے دبلے پیڑ تھے، ان پیڑوں پر ہر وقت مختلف رنگوں اور نسلوں کی چڑیائیں سریلی آوازیں پیدا کرتی رہتی تھیں، اس کمرے کے باہر ایک ہرے رنگ کی دیوار تھی، برابر میں ایک پلنگ پڑا رہتا تھا، جس پر شام کو اکثر ان کی امی بیٹھا کرتی تھیں،صفیہ بتاتی تھیں کہ جب قبرستان میں لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں تو میں اور شگفتہ اسی دیوار سے میچ دیکھا کرتے ہیں، ان کے گھر میں اس زمانے میں ٹی وی نہیں تھا۔جب کبھی باہر جانا ہوتا، وہ ایک کالے چست برقعے میں اپنے آپ کو ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور اس طرح ان کے بدن پر صرف دو چمکدار آنکھیں رہ جایا کرتی تھیں۔ اپنے خیالات سے وہ ہمیشہ لبرل تھیں، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ وکیل بننا چاہتی تھیں مگر پڑوس میں رہنے والے انگریزی کے کہنہ مشق استاد جنہیں ہم سب سعید سر کے نام سے جانتے تھے، ان کے والد کی آواز سے آواز ملا کر ہمیشہ انہیں بڑی شفقت سے بتاتے کہ بیٹا! یہ پیشہ لڑکیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔تم ایک پڑھے لکھے مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی ہو اور وکالت کے پیشے میں سو طرح کے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں،میں نے اسی وقت ان سے کہا تھا کہ میں آپ کے والد کو قائل کرسکتا ہوں، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ تھا اور وہ بھی اس بات کو جانتی تھیں کہ ان کے والد کو جو کہ محلے میں مشہور ایک باعزت مولوی کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور خاندان کی چوکھٹ سے اندر اور باہر بڑی دور تک حبیب اللہ انصاری کے رعب و دبدبے کی دھوپ پھیلی ہوئی ہے، اس بات پر آمادہ کرنا ناممکن ہے کہ وہ بیٹی کو کسی بھی قسم کا ایسا کام کرنے کی اجازت دیں جو سو مردوں کے بیچ میں کھڑے ہوکر جرح کرنے کی نسبت سے بدنام ہے۔اکثر وہ جھنجھلاتی بھی تھیں اور ان کا یہ احتجاج ‘شادی نہ کرنے کی صورت میں’ نمایاں ہوا کرتا تھا۔

وہ مجھ سے عمر میں سات برس بڑی تھیں، یعنی کہ میں سترہ سال کا تھا اور وہ چوبیس سال کی تھیں۔اب اس حادثہ راہ و رسم کو قریب تیرہ چودہ سال گزر گئے ہیں، مگر اب بھی وہ چہرہ آنکھوں میں دمکتے ہوئے سورج کی طرح روشن ہے، وہ آنکھیں، گالوں میں پڑھنے والے گڑھے، وہ مسکراہٹ، وہ تیکھے نقوش، وہ لہجہ، وہ آواز سب کچھ گویا دل کے کسی خاص کمرے میں رکھا ہوا ہے، اس کمرے میں خود کو جانے کی اجازت بھی میں روز روز نہیں دیتا، کوئی بھی حادثہ، کوئی بھی واقعہ زندگی کے ان چھ مہینوں کی یاد اب شاید ہی کبھی دھندلا سکے۔اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ میں نے سب سے پہلے انہی کے لیے غزل لکھی تھی، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ قافیہ بندی (جسے اصل میں تک بندی کہنا چاہیے)غلط سلط تلفظات کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی بحروں میں تو میں بہت پہلے سے کرتا تھا، یعنی شاید پانچویں جماعت میں میں نے کلاسیکی رنگ کی ایک غزل کہی تھی، پھر دوسری اور تیسری۔میرے والد ان غزلوں کو سنتے، ہنستے بھی اور حوصلہ افزائی بھی کرتے جاتے۔ایک اچھی بات انہوں نے یہ کی کہ کبھی ٹوکا نہیں، گرپڑ کر، دوڑ ہانپ کر اسی وجہ سے میں نے خود ہی شاعری کو سیکھا، شاعری مجھے ان موٹی موٹی کتابوں نے نہیں سکھائی، جنہیں ‘حسن بلاغت’ یا ‘آئینہ بلاغت’ کے نام سے جانا جاتا ہے، بلکہ شاعری کا فن تو میں نے صفیہ کے حسن سے کشید کیا تھا۔دوسرے بچوں کی طرح میں بھی انہیں باجی تو کہتا تھا مگر اب یہ لاحقہ میرے لیے بالکل ہی بے معنی تھا، دوسرے طلبا بھی مجھ سے ان کا نام لے لے کر ہنسی ٹھٹھول کیا کرتے تھے۔
میرا ایک کزن ترجمان جو کہ انگریزی میڈیم میں پڑھا کرتا تھا، ان سے کافی اچھی طرح واقف ہوگیا تھا۔میں نے ہی ان دونوں کی ملاقات صفیہ کی سالگرہ پر کروائی تھی، وہ مجھے بہت ٹھیلا کرتا تھا کہ کسی طرح میں ان کو یہ بتادوں کہ میرے دل میں ان کے لیے کیا جذبات ہیں، کیا باتیں ہیں، جو مجھے ان سے کہنی چاہیے، مگر میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آخر یہ سب باتیں کیسے کہی جاتی ہیں۔پھر یہ ہوا کہ ٹیوشن کا عرصہ ختم ہونے کے بعد بھی میں ان کے پاس جاتا رہا، ان سے جھوٹ کہتا رہا کہ میں فلمی دنیا میں کیرئیر بنائوں گا، مجھے لگتا تھا کہ شاید یہ دائو ان پر کچھ کام کرجائے اور وہ ایک دن خود ہی محبت کا اظہار کربیٹھیں۔مگر ظاہر ہے ایسا کچھ بھی تو نہیں ہونا تھا۔
وقت بھی کیا چیز ہے، گزر جاتا ہے اور بڑی بڑی باتوں کو ایسے بہادیتا ہے، جیسے سنامی قد آدم عمارتوں کے پائوں اکھاڑ کر انہیں سمندر کے گہرے نیلے پیٹ میں ڈبو کر شانت ہوجاتی ہے۔صفیہ حبیب الرحمٰن انصاری، میری زندگی کا ایسا ورق ہے، جس کو میں بھول نہیں سکتا۔ان سے تعلق کیسے ٹوٹا، یہ ایک الگ داستان ہے، مگر اس داستان کو بیان کرنے سے کیا فائدہ۔ وقت گزر گیا ہے، اور اس کے بس میں محض اتنا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے میرے چہرے کو گوشت کی کمی زیادتی، کھال کی اترن اور چڑھن کے ساتھ مختلف روپ میں ڈھالتا رہے گا، پھر دھیرے دھیرے جھریاں پڑ جائیں گی اور اس کے بعد ایک دن میں اس دنیا سے ساری یادداشتیں اور تجربے لے کر ایک سنسان قبرستان میں دفن ہوجائوں گا۔کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ قبرستان دہلی کا ہو، کہیں اور کا ہو یا پھر وہ ہو، جس کی گہری بھوری آنکھیں، میرے اور صفیہ کے ہمراہ گزارے ہوئے چھ مہینے کی گواہ ہیں۔

Categories
نان فکشن

جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

میں نے چند روز قبل اپنی ٹائم لائن پر ایک پوسٹ لکھی، پوسٹ ہندی میں تھی اور اس تعلق سے تھی کہ لوگوں کو پڑھنا چاہیے اور ادب کو سمجھنے کے لیے تھوڑے بہت جتن کرنے چاہیے۔ایسا نہیں ہے کہ یا میر ، یاغالب اور یا جون ایلیا چلاتے ہوئے اس آنگن میں دھم سے کود پڑیں اور بس ہوجائیں شاعر۔ویسے بھی شاعر ہونا کمال بات نہیں ہے، شاعری ہماری ایک دوست کے مطابق الفاظ کے ناپ تول سے تعلق رکھنے والا ایک ہنر ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے انسان کو بس ایک خاص قسم کی موزونیت اپنے اندر پیدا کرنی ہوتی ہے۔عرف عام میں شاعر ایسے لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو رومانی زندگی گزارتے ہیں، لاپروا ہوتے ہیں، بکھرے بکھرے سے رہتے ہیں اور بہت سارے عشق کرتے ہیں۔ہم نے جس مذہبی ماحول کو بچپن سے دیکھا، اس میں بھی شاعر کی اسی تعریف کی وجہ سے تہذیب یافتہ سماج اس سے بدظن رہا کرتا تھا۔اب چونکہ نئی دنیا میں شاعر ہونا صرف شاعر ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بہت سی خاموش، تفکر آمیز اور خود کشی کی خواہشوں والی ایک فینٹسی جڑی ہوئی ہے، اس لیے ہر دوسرا آدمی سمجھتا ہے کہ اس میں ایسی کیا برائی ہے، بال بکھرالیے، واہی تباہی پھرنے لگے، دنیا کو گالیاں دیں ، محبوب کو یاد کیا اور بن گئے شاعر۔اب اس پکی پکائی کھیر میں بس الفاظ کے چند مرجھائے ہی سہی، مگر گلابی پتے ہی تو ڈالنے کی دیر ہے، اپنے حلیے کے کیوڑے کی مدد سے اسے مزید دیدہ زیب بناکر فیس بک کے تھال پر سجادیا جائے اور ٹیگنگ کے ذریعے اس دعوت میں پچاس سے سو افراد تک کو شریک کرلیا جائے۔یہ ہے سوشل میڈیا کا شاعر، جی ہاں اسی سوشل میڈیا کا، جس پر جون ایلیا کے قصائد پڑھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔مگر جون ایلیا کو سمجھنے اور جاننے سے انکار کرنے والی دنیا، ان کے مشہور اشعار کو(جو دنیائے عشق کی ایک گھسی پٹی مات کا استعارہ ہیں)گنگناتی ہوئی رقص کررہی ہے۔جدھر جائیے، جسے دیکھیے، واہ جون، آہ جون کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔مگر کسی سے یہ پوچھیے کہ جون ایلیا ہی کیوں؟ اور جون ایلیا کیسے؟ تو ان کے اچھے اچھے مرید بھی قل ہواللہ احد کہہ کر منہ کے بل گرجانے میں ہی عافیت محسوس کریں گے۔

اس کی دو تین وجوہات ہیں۔جون کی شاعری سے زیادہ ان کی شخصیت اور اس سے جڑے سنسیشنل قصوں کی دریافت نے انہیں مشہور کیا ہے۔پھٹی ہوئی جینز پہننے والے نوجوان، سینہ تانے، گردن اکڑائے، جون کی بے پروا لٹوں میں اپنے عشق کی موٹی موٹی گرہیں ڈھونڈتے نظر آئیں گے۔یہاں وہ جون کے الفاظ کے سہارے اپنی اس محبوبہ کے ہجر میں محو مرثیہ نظر آئیں گے، جسے شاعری کی الف ب تک سے چڑ ہے۔میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میراجی نے بھی اگر کچھ ایسی ہی عام رنگ کی غزلیں کہہ رکھی ہوتیں اور ان کے پاس اپنی محبوبہ کے سینے اور ناف کا چٹخارے دار بیان اسی صورت میں ہوتا، جیسا کہ جون کے پاس ہے تو وہ اس وقت جون سے زیادہ مشہور شاعر ہوتے، مگر شکر ہے کہ انہوں نے اپنی محبت کو جون کی طرح بات بات پر طعنے دے کر یاد نہیں کیا اور نہ ہی ان کو کسی مشاعرے میں اپنی اکلوتی بنگالی محبوبہ سے آنکھیں اور انگلیاں نچا نچا کر اپنی ڈھلتی ہوئی جوانی میں بھی مردانہ غرور کا اعلان کرنے یا خود سپردگی سے انکار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میراجی تو محبوبہ کے کپڑے کی دھجیوں کے ساتھ خوش تھے، انہوں نے خوشبوؤں سے اگنے والی استعاروں کی بھید بھری کائنات میں قدم رکھا، نظم کہی اور اسی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی سعی کی، جس میں عشق اور ہوس کے بیچ کا فرق مٹ کر رہ گیا۔ان کی نظمیں آکاش میں ٹکے تاروں کی جھلمل اور جھاگ اگلتے، لہریں اچھالتے سمندر کو بھی محبوب کے دھندلے عکس میں تبدیل کرسکیں۔میراجی کا جنون، جون ایلیا کی طرح مشاعروں میں یا مائک پر جوش میں نہ آتا تھا، وہ ایک بند کمرے میں اپنی ہی ننگی دنیا کے تنہا باشندے تھے، انہوں نے میرا کو سانسوں کی ڈار میں شامل کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس جون نے بھیڑ میں اپنی محبوبہ کو کوسا بھی، اس کے سامنے گھگھیائے بھی۔اس پر طعنہ زن بھی ہوئے اور اسے خون تھوکنے کی تکلیف کا احساس بھی دلانے کی کوشش کی۔ یہاں جون اور میراجی کا کوئی مقابلہ مقصود نہیں۔کہنا یہ ہے کہ جس حوالے سے جون ایلیا مشہور ہوئے، وہ ان کی زندگی کا صرف ایک رخ ہے، اور وہ رخ نہایت ڈرامائی ہے، اس میں جون کی سچی تخلیقی دنیاؤں کی جھلک کم ہے اور ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے چھوچھوکر داد کا جواب دینے کی خواہش زیادہ ہے۔

جون ایلیا کی شعری کتب کا مطالعہ کرتے وقت بظاہر دو زاویوں سے ان پر روشنی ڈالی ہی جانی چاہیے۔اول تو یہ کہ ان کی ذات میں حقیقت پسندی بہت زیادہ تھی۔حقیقت پسند انسان شاعری کرسکتا ہے، عشق نہیں کرسکتا۔عشق ایک آئیڈیل سچویشن کا نام ہے۔اسی لیے جون نے فاقہ کش لڑکی کو ننگی نگاہوں سے دیکھ کر اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ خوبصورتی کے لیے دیدہ زیب ہونا ضروری ہے۔وہ خوب سے خوب تر جسم کو دیکھ کر بھی اس کے اندر موجود معدے میں بھری غلاظت کا خیال دل سے نہ نکال سکے۔ان کی جمالیاتی حس نے انہیں ناف اور سینے کا گرویدہ بنائے رکھا، وہ حسن کی تعریف کرسکتے ہیں، مگر حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ وہ اس کے پس منظر اورمختلف حالات میں اس کے بگڑ جانے کا خیال دل سے نہیں نکال پاتے۔عشق ان باتوں سے ماورا ہوتا ہے،میراجی جیسے لوگ جنہیں نہایت ہوس پرست سمجھا جاتا ہے، عشق تو انہی کے بس کا روگ ہے۔کیونکہ وہ تو ایک چھچھلتی نظر کے عشق کو بھی عشق ہی سمجھتے ہیں، وہ اس جذبے کو لمحوں میں قید کرکے، اس کا نام نہیں بدلتے۔جون کے یہاں تہذیب کا رونا زیادہ ہے، وہ تہذیب کو، نفاست کو اور خوبصورتی کے ساتھ موجود متانت کے تصور کو الگ نہیں کرپاتے، جبکہ عشق تہذیب ، نفاست اور سنجیدگی تینوں سے بغاوت کانام ہے۔عشق میں کوئی آداب ، کوئی ٹکی ٹکائی پاکیزگی کا تصور یا پھر ٹھٹہ ٹھٹھول کا انکار موجود ہی نہیں ہوتا۔وہاں تو شوخی بھی ہے، جنون بھی، خود سپردگی بھی ہے اور تسلیم ورضا بھی۔اس زاویے سے روشنی ڈالتے ہی جون ایلیا کا وہ تمام کلام دراصل ایک جلد باز عاشق کی روداد معلوم ہوتا ہے جو محبوب سے بس اپنی ضد پوری کروانے کے لیے اس سے ایسی باتیں کررہا ہے، جس سے اسے رام کیا جاسکے۔جون کے وہ بیشتر اشعار جو مشہور ہیں اور جن کو پڑھ کر ہند و پاک کی نوجوان نسل بے ساختہ واہ کہتی ہے، وہ اسی قسم کے شعر ہیں، جن میں بے چینی کے نعرے، عشق کے بڑے بڑے دعوے، طنز و تشنیع، خون تھوکنے کے واقعات اور بات بات پر اپنی برتری کا احساس دلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔یہ جون کی شاعری کا وہ حصہ ہے جو ذرا دیر کو مزہ تو دیتا ہے مگر اس میں شعور کو کوئی بڑا دخل نہیں ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس سے پڑھنے والا ان کی گہری تخلیقی صلاحیت سے بہت دیر تک متاثر رہ سکے۔جہاں انسان میں ذرا علمی سنجیدگی پیدا ہوئی، اس نے جون ایلیا کے اس پینترے کو سمجھا، وہاں یہ شاعری بودی معلوم ہونے لگے گی۔

جون کا ایک دوسرا رخ ہے، اس پر ہمارے نوجوان روشنی تو کیا ڈالیں گے، بس اسے عقیدت سے بیٹھ کر سن لیتے ہیں کہ جس شاعر کی اتنی واہ واہ کی ہے، اس نے ضرور اس زبان میں بھی اعلیٰ باتیں ہی کہی ہونگیں، جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔جون نے انسانی ارتقا، تہذیب کے بننے بگڑنے، سیاست کے مختلف چہروں اور انسان کے وجودی و سماجی مسائل پر اپنی نظموں اور غزلوں میں جس طرح بات کی ہے،وہ انہیں ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔لفظ و معنی کی ایک علمی بحث کو جون نے اپنی نظم ‘سوفسطا ‘ میں یوں رقم کیا

ہاں لفظ ایجاد ہیں/یہ ہزاروں’ہزاروں برس کے/سراسیمہ گر اجتہاد تکلم کا انعام ہیں/ان کے انساب ہیں/جن کی اسناد ہیں/اور پھر ان کی تاریخ ہے/اور معنی کی تاریخ کوئی نہیں۔

جون کی اس نظم کا مآخذ یونان کا فلسفی پروٹاگورس ہے۔جون نے کس حد تک یونانی فلسفہ اور اس کے معاملات پر غور و فکر کیا ہوگا اور کس طرح اس کے خیالات کو نظم کرنے میں جون نے ایسا کامیاب راستہ تلاش کیا ہوگا، اس جانب ہماری نظر نہیں جاتی۔یہ تو ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔فلسفہ، منطق، تاریخ، سیاست، سماجیات اور اس طرح کے دوسرے علوم سے جون کی دلچسپی ، اسے اپنے دوسرے ہم عصروں سے الگ کردیتی ہے، اس کے یہاں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے۔جون کی نظمیں رمز ہمیشہ، اعلان رنگ، ، درخت زرد، دو آوازیں وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نوجوان دراصل ان باتوں کو جانے بغیر کہ جون کی شعری تربیت اور سیاسیات میں ان کی دلچسپی، سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی چڑ کن عقلی و علمی دلیلوں پر استوار ہوئی تھی، ان سے اتنا عشق کیسے فرمارہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جون ایلیا ہمارے دور میں جس قدر مشہور ہوئے ہیں، ان کی شہرت ترقی پسندوں کے اس دور کی یاد دلاتی ہے، جہاں کمیونزم اور سوشلزم جیسے الفاظ کو سمجھے بغیر شاعر مزدوروں کے حق میں نظمیں غزلیں کہہ کر خود کو کمیونسٹ اور سوشلسٹ ادیب کہلوانا پسندکرتے تھے۔بھیڑ چال کا ایک دور ہوتا ہے اور اس دور کی ایک مدت ہوتی ہے۔جون ایلیا کی عام فہم شاعری سے زیادہ اگر ان کا دیباچہ شاید نئی نسل میں مشہور ہوتا تو جون کی شہرت سے زیادہ ان کی مقبولیت کے دروازے کھل سکتے تھے۔وہ لوگ جو مذہبی، نسلی اور فکری معاملات میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، مہنگے مہنگے موبائل میں فیس بک چیک کرتے وقت شعروں پر لائکس کے ٹک لگاتے ہوں، جون کو کیسے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی جون نے مخالفت کی، اسی نظام کے پروردہ اذہان میں جون کو شہرت حاصل ہوئی، اس لیے ان کی تعبیر ہی سرے سے غلط ہوگئی، وہ ایک گھسے پٹے شاعرانہ عاشق کی صورت میں مشہور ہوئے، جبکہ انہیں علم اور کہنہ روایات سے بغاوت کا استعارہ بن کر نمودار ہونا چاہیے تھا۔ حتیٰ کہ عشق میں بھی ان کے یہاں روایت شکنی کا جذبہ حاوی رہا ہے۔وہ خود عشق میں مرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اس کے برعکس کسی کو اپنی محبت میں جان گنواتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔

جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔پھر بھی اگر ہم جون سے صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہیں خودکشی سے ایک خاص نسبت تھی، محبوبہ کی ناف اور سینے سے لگاؤ تھا تو ہماری محبت قابل رحم حد تک غلط بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔جون نے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک شعر کہا تھا

مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے

دیکھا جائے تو بٹن لگانا بے حد چھوٹا سا کام ہے، مگر اس سے موجودہ انسانی تہذیب کے خدوخال کا تعین ہوتا ہے۔ہم جس طرح پتلون کے بٹن لگائے بغیر مہذب یا ترقی پسند نہیں ہوسکتے۔اسی طرح شاعری سے تعلق رکھنے والے مضامین سے شدبدرکھے بغیر خود کو شاعر یا شعر فہم نہیں کہلوا سکتے۔خواہ ہم جون کے شعروں پر مچل مچل ہی کیوں نہ جائیں۔

Categories
شاعری

شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

اے خدائے خاموشی، اے خدائے تنہائی
دیکھ تیری دنیا میں قتل کرنے والوں کی
ہر جگہ حکومت ہے
قتل ان ہواؤں کا
جن سے تیرے دامن میں لفظ پھوٹ سکتے تھے
قتل ان صداؤں کا
جن سے اہل نفرت کے
خواب ٹوٹ سکتے تھے، سنگ چھوٹ سکتے تھے
تو کہیں نہیں موجود، پھر بھی ان جیالوں نے
نام پر ترے کیسے سرخ شور ڈالے ہیں
ہول ان کی آنکھوں میں، گونج ان کی بانچھوں میں
کلمہ جہالت کے بوجھ سے دبے یہ لوگ
جو زباں نکالے ہیں، اس زباں پہ تالے ہیں
ابلہوں کی آنکھوں میں عکس ہے کتابوں کا
اور ان کتابوں کا رنگ آسمانی ہے
آسمانی رنگوں کی ہر کتاب کے اندر
خون کی کہانی ہے، پھر بھی تیرے لوگوں کو
یہ کتابیں پیاری ہیں، یہ ترے پجاری ہیں
ایک رنگ کے شیدائی، اک علم کے دیوانے
شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

Categories
شاعری

عشرہ // اودا سوٹ اور بارش

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اودا سوٹ اور بارش

اس بہتے منظر میں جھانکو، ہے یہ غیر شفاف
لیکن اس پہ سبز و سفید چڑھا ہے ایک غلاف
بھینبھریاں سب پنکھ نکالے ناچ رہی ہیں گھر گھر کرتی
اور وہ اپنی بالکنی میں دیکھ رہی ہے شور سڑک کا
ماتھے پر بندیا ہے یا پھر روشنیوں کی رات
سرمئی شاخوں پر رقصیدہ موسم کی ہے برات
اودے سوٹ میں چمک رہے ہیں بازو چکنے صاف
اور ریلنگ سے ٹچ ہوتی ہے گرم گلابی ناف
گھنے ابر نے بنادیا ہے شہر کو کوہ قاف
ایسے میں اک بوسہ لے لوں تو شاید کردے معاف

Categories
فکشن

پیالہ پاؤں

وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا یا اس طرح کہا جائے کہ آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں، سایہ بھی ٹین کے ایک پترے کا تھا، تپش ایسی تھی کہ لوگوں کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں۔ آسمان پر دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ جس لکڑی کی بینچ پر وہ بیٹھا تھا، اس میں لوہے کا ایک بڑا سکریو آدھا پیوست تھا، اس طرح کہ دو انگلیوں کی مدد سے گھماؤ تو گھوم جاتا، مگر باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا، غالبا بھوسے نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ کانچ کی چھوٹی سی پیالی اس کے سوکھے ہونٹوں پر گرم اور خاکی بوسہ دینے کو تیار تھی، گلے کی بنجر سرنگ میں یہ خاکی تیر تیزی سے اترتا اور سینے کو سینکتا ہوا، پیٹ میں پھیلے لمبی آنتوں کے جال میں پتہ نہیں کس طرف کو نکل جاتا۔ جب وہ کرسی پر بیٹھا تووہ خاصی گرم تھی، اتنی زیادہ کہ سائے والا حصہ بھی ہانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ کولہے کو ایک گہری تپن سے داغدار کرنے کے بعد کچھ دیر میں اس کے بدن کی گرمی نے بینچ کے ساتھ مصالحت کرلی تھی۔ وہ کھسک کربیٹھ جاتا مگر ذرا سی دور پر ایک شخص بیٹھا تھا، جس نے غالبا تین چار روز سے کپڑے نہیں بدلے تھے، اس کے مٹیالے پنجے اور پنڈلیاں بتارہی تھیں کہ وہ بہت دور تک پیدل چلتا رہا ہے۔ سر پر ایک انگوچھا بندھا تھا اور ہاف شرٹ کی بغلیں کسی بیمار گٹر کی طرح ہوا کے بلبلے چھوڑ رہی تھیں، جن کو برداشت کرنا بڑا مشکل کام تھا،اس کے دماغ نے بڑے حساب سے فاصلے کا ایک نقشہ تیار کیا اور اس کی ہتھیلیاں ، ہلتی ہوئی رانیں اور زمین بجاتے ہوئے بوٹ سب ایسی جگہ براجمان ہوگئے، جہاں سے اس شخص کی بدبو ہوا کے کسی اور رخ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل جارہی تھی، بالکل ہوائی جہازوں کی طرح بدبوؤں اور خوشبوؤں کے بھی اپنے راستے ہوتے ہیں، وہ انہی مصور نقشوں کے مطابق بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور راستوں میں آنے والے مختلف نتھنوں میں اپنی سڑاند، بساند یا پھر مہک کے گھونسلے بنالیتی ہیں۔

وہ ایک عورت کا پیچھا کررہا تھا۔ ورنہ اس بری دھوپ میں اپنے سات سالہ بچے اور جوان بیوی کو چھوڑ کر کون باہر نکلتا ہے۔شادی کے نو سال ہوچکے تھے، پہلا بچہ پیدا ہوا اور دوسری بار چیچک کے حملے کی تاب نہ لاکر دنیا سے چل بسا۔دوسرے ہی سال اس نے پھر کوشش کی ،کامیابی ملی اور اس کی بیوی کی زندہ اولاد کا سکھ بھوگنے کی خواہش مکمل ہوئی۔دراصل وہ اپنی بیوی کو کہیں سے بھگا کر لایا تھا، شادی سے پہلے کوئی ٹٹ پنجیہ سے قسم کے کیس میں جہاں اس کی بڑی تضحیک ہوئی تھی، ذلت اٹھانی پڑی تھی اور پورے پیسے بھی نہیں ملے تھے، صرف یہی ایک عورت تھی، جو اس کے ہاتھ لگی۔کسی انسپکٹر کی رکھیل تھی ، حالات سے پریشان اور تنگ دست۔منہ سے کچھ بولتی ہی نہ تھی، انسپکٹر نے حالانکہ اس کیس میں تھوڑی بہت مدد بھی کی تھی، مگر عشق نے مروت کو بالائے طاق رکھ کر ان دونوں کو ساتھ بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔شادی کے بعد یہ پہلا کیس تھا، جس میں اسے دس ہزار دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ ایک بڑے شہر کا چھوٹا پرائیوٹ جاسوس تھا۔ابتدا میں اس کام میں اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی، اس نے ایک پرائیوٹ ڈیکٹٹو ایجنسی میں کچھ مہینوں نوکری بھی کی، مگر کیسز بہت کم ملتے تھے، تنخواہ بھی زیادہ نہیں تھی اور بہت سے کام کمیشن پر ہی کرنے پڑتے تھے۔کمیشن بھی کیا طے ہوتا، تین ہزار یا چار ہزار۔اس نے سوچا اس سے بہتر ہے کہ اپنا ہی کام شروع کیا جائے، تھوڑا بہت دھکا دینے سے گاڑی چل نکلے گی۔ویسے بھی جاسوس کا دفتر بھی کیا ہوتا ہے، ایک موبائل فون، کچھ تفصیلات اور پھر گلیوں، چوراہوں کی خاک کے ساتھ جیب میں پڑی ہوئی طویل تعاقبوں کی ایک فہرست۔پچھلے کئی برسوں سے وہ ایسے ہی تعاقب پر گزارہ کررہا تھا، جن میں قدموں کی چھاپ سے سکوں کی چھن چھن تک کا بہت معمولی سا سفر اس نے طے کیا تھا۔بریڈ بٹر کے پیسے جٹانے مشکل ہوجاتے، اتفاق سے شادی ہوگئی تو دوجانوں کا بوجھ اور سر پر آن پڑا۔بیوی نے بچے کی ضد کی تھی، ورنہ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا۔بیوی بھی کیا کرتی، وہ ہمیشہ سےعدم تحفظ کا شکار رہی تھی، اسے لگا کہ کہیں یہ بھی ایک وقت کے بعد بغیر نکاح نامے کی اس بیوی کو رکھیل نہ سمجھنے لگے اور جاسوس سے انسپکٹر میں تبدیل ہوجائے، چمڑے کے پٹے سے مارے، شراب سے بھری ہوئی تھوتھنی کو اوک بنا کر اودے ہونٹوں میں انڈیلنا نہ شروع کردے۔چنانچہ وہ درمیان میں اولاد کا لگھڑ ڈال کر دیکھنا چاہتی تھی، جس کی مدد سے وہ جب چاہے اپنے نام نہاد شوہر کو اپنی جانب گھسیٹ سکتی تھی۔

وہ سوچتا تھا کہ ہماری فلموں میں بھی تو جاسوس دکھائے جاتے ہیں، کتنے شاندار ہوتے ہیں وہ، ہمیشہ ان کے عقب میں ایک مہیب موسیقانہ لہر رواں رہتی ہے، خوبصورت لڑکیوں سے چالاکی کےساتھ بنائے جانے والے جنسی تعلقات۔دل میں اترجانے والا چہرہ، دو پل میں ہپنٹائز کردینے والی صلاحیت اور کیسے بھی مشکل حالات میں خود کو بچا لینے والا انداز۔اف! کیا جاسوس ہوتے ہیں، مگر وہ آج تک کسی بھی ایسے جاسوس سے نہیں ملا تھا۔اب تو اس کا پیٹ بھی نکل آیا تھا۔پتلی بانہیں، گہرا سانولا چہرا، آنکھوں میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی کہ دیکھنے والا ہپنائز کیا جاسکے۔زیادہ بھاگنے سے ہانپنے لگتا اور ٹانگیں جواب دے جاتیں، کسی کا تعاقب کرتے وقت اکثر اسے بیچ میں ہی رک جانا ہوتا کیونکہ کوئی ضروری فون آجاتایا بیوی پڑوس کا کوئی نیا دکھڑا سنانے کے لیے فون کردیتی۔پھر اس نئے شہر میں اس کے زیادہ تعلقات بھی نہ تھے، نیا کاروبار اور وہ بھی اس قدر انفرادی اور پراسرار۔اب تو وہ بال اور داڑھی مونچھ کٹوانے بھی زیادہ نہیں جاتا تھا۔شادی سے پہلے بھی بغل اور ناف کے بالوں سے اسے اتنی الجھن کبھی نہیں ہوتی تھی، مگر وہ مونچھیں اور داڑھی ترشوا لیا کرتا تھا۔مگر اب یہ سب مشکل تھا، وہ ٹائٹ جینز اور دھاری دار شرٹ پہنے، کالا چشمہ لگائے کسی دوسری دنیا کے سادھو جیسا لگتا تھا۔اسے اپنی بھگل پر اتنا افسوس نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ جاسوسی کا کام اس کا پسندیدہ کام ہے۔ورنہ ماں باپ نے بہت ضد کی تھی کہ پرچون کی دکان پر بیٹھ جائے اور آج بھی گاؤں میں اس کا بوڑھا باپ بمشکل وہ دکان چلاتا تھا۔کئی دفعہ اس کے جی میں آئی کہ لوٹ جائے،مگر سوچتا تھا کہ اس صورت میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ہے، اسے لگتا تھا کہ بھاگ بدلیں گے، بس کسی کیس میں اس کا نام اخبار میں آجائے اور ذرا سی شہرت مل جائے تو لوگ خود اس کی خدمات لینے آجایا کریں گے۔

رات کو تھک ہار کر جب بیوی کے پاس بیٹھتا تو اس کے کھردرے اور سوراخ دار چہرے کو اپنی سخت انگلیوں سے چھوتے ہوئے بڑے پیار سے باتیں کیا کرتا۔اس کا بیٹا اب پہلی جماعت میں داخل ہوگیا تھا۔وہ رات کو اکثر لنگی پہنا کرتا تھا۔بیوی دنیا بھر کے خرچے بتانے لگتی اور وہ اس فراق میں رہتا کہ بیوی کے بدن کے کون سے پنے سے اسے پڑھنے کی ابتدا کرے۔ایک جاسوس ہونے کی وجہ سے دن بھر وہ اتنے سارے رازوں اور گتھیوں کے ساتھ گزارا کرتا تھا کہ بیوی کو کسی مبہم عبارت کی طرح نہیں پڑھنا چاہتا تھا، اسے بغل میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی جس کا جمپر اٹھا کر وہ پیٹ پر گہرے لمبےرنگ بکھیرتا تھا،جب سسکیاں بھرتے کسی معمے میں تبدیل ہوتی نظر آتی تو وہ اس کی گول اور چکنے نقش بنانے والی پسینے دار بغلوں میں اپنا منہ دفن کردیتا۔بیوی کے پسینے سے اٹھتی ہوئی مخلوط گرم و سرد لہریں اس کے منہ میں بھاپ بن کر داخل ہوتیں اور تالو پر چمگادڑوں کی طرح لٹک کر رقص کرنے لگتیں۔وہ اس ہلکی بھیگی دنیا میں دبے پاؤں داخل ہوجاتا اور بیوی کے گدگدے اور فربہ بدن کی سفید چربی اور سرخ گوشت میں اپنی ہانپ کے بیج بونے لگتا،درمیان میں جب نظر اٹھتی تو اس کی بیوی آنکھیں بندکیے ہوئے ایک ایسی ہی بالکل الگ دنیا میں تیررہی ہوتی، جہاں کسی بچے کے ہوم ورک کا سردرد نہیں تھا، پڑوسن کے اوندھے سیدھے نخرے نہیں تھے، دودھ اور راشن والے کی چڑچڑاہٹیں نہیں تھیں، برتنوں کی کھنکھناہٹ اور سندور یا دوپٹے کا تکلف بھی نہیں تھا، بس خلا میں بجتے ہوئے دو گھنگھرو تھے، جن کی صدائیں اس کے جسم میں غوطے لگاتی تھیں،اور انگوٹھی اور انگلی کی شکل میں تبدیل ہوکر اس کے شکن آلود بدن کی چادر کو چٹکیوں میں سمیٹ لیتی تھیں۔۔۔اسے اپنی بیوی کو یوں دیکھنا بہت پسند تھا،ہلکے گہرے اندھیرے میں جب اس کے پسینہ اگاتے ہوئے چہرے پر بیوی کے چپچپے بال دلدل میں پھنسے ہوئے سانپوں کی طرح جم جاتے تھے۔اور پھر وہ دونوں اس پندرہ بیس منٹ کی سخت محنت کے بعد ایک دوسرے کی ٹانگوں پر ٹانگیں پسارے سو جاتے یا کبھی کبھار جاسوس اٹھتا اور گھر کی بالکنی میں جاکر سگریٹ سلگایا کرتا اور دن کے کسی الجھے ہوئے کیس کے بارے میں از سر نو غور کرتا۔سوچنے کا اسے آج تک اس سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں لگا تھا، بہت سے معاملات انہی لمحوں میں روشن ہوتے تھے، وہ سوچتا تھا کہ وہ کون سے بدنصیب جاسوس ہونگے، جن کے پاس عورت کے بدن سے دماغ کو تیزتر کردینے والا یہ منتر نہیں ہوگا۔

وہ ان لمحوں کو سوچ کر مسکرایا، چائے آدھی ہی ختم ہوئی تھی ، مگر ہنوز گرم تھی۔لو کے ایک تھپیڑے نے اس کے گال کو تھپتھپایا، اب وہ عورت سامنے موجود بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔اتنے میں کوئی بس آئی، عورت جب بھیڑ کے ساتھ بس میں سوار ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر بس کا نمبر دیکھا۔چائے کی دکان کے برابر کھڑی ہوئی ایک پولیس موبائل وین میں بیٹھے ہوئے ڈرائیور نے اسے گھور کر دیکھا، وہ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔اس نے چائے والے سے معلوم کیا کہ یہ بس کہاں جاتی ہے۔کیونکہ اب اس میں زیادہ پیچھا کرنے کی قوت نہیں تھی، اس نے چائے کے پیسے ادا کیے اور اپنے گھر کی جانب واپس آنے کے لیے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔قریب ہی سڑک پر دھول اڑاتی ہوئی گاڑیاں گزر رہی تھیں، وہ سوچ رہا تھا کہ ان شیشوں کے پیچھے ٹھنڈی ہوا کھانے والے لوگ کیا کام کرتے ہوں گے، کیا گاڑیوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مثلا سوئفٹ ڈزائر کے پرانے اور ٹاپ موڈل میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے، یہ تو ایک کمرشیل گاڑی ہے، مگر اب شہروں میں ذاتی ملکیت کے طور پر بھی زیادہ مقبول ہورہی ہے۔جگہ کم گھیرتی ہے اور بہ آسانی ڈرائیورسمیت پانچ لوگ اس میں بیٹھ سکتے ہیں۔یہ تو عام لوگوں کی گاڑی ہے، مثلا اس بڑے شہر میں یہ چائے بیچنے والا بھی اگر ارادہ کرے تو ایک سکینڈ ہینڈ سوئفٹ ڈزائر خرید سکتا ہے۔ نینو گاڑی کم نظر آتی ہے، لوگ اسے دیکھ کر مذاق اڑایا کرتے ہیں، وہ لگتی بھی کسی حاملہ عورت کے پیٹ کی طرح ہے، اس سے بہتر تو وہ سولر گاڑیاں ہیں، جو ہوتی تو ٹو سیٹر ہیں، مگر ان کی شکل و صورت کتنی کیوٹ ہوتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی بہت بڑی اور رئیس گاڑی کی معصوم اولادیں ہوں۔بہت سی گاڑیا ں ہیں، ورنا، آئی ٹین ، آئی ٹوئنٹی۔ ان گاڑیوں میں کون لوگ ہوں گے۔ سرکاری نوکر، پروفیسر، کلرک، پرائیوٹ کمپنیوں کے ملازمین یا پھر کچھ چھوٹے نجی کاروباری۔اسی سڑک پربی ایم ڈبلیو اور پجیرو جیسی بڑے سائز اور بڑی قیمتوں کی گاڑیاں بھی دوڑتی ہیں۔آٹومیٹک گیئر والی۔بالکل پیروں کی طرح، جن کو کہاں رکنا ہے،کتنی رفتار بڑھانی ہے،کتنا چلنا ہے اچھی طرح پتا ہے۔فٹ پاتھ پر کھل اٹھنے والے ایک ادھ موئے سریے پر سے اس نے چھلانگ لگائی اور ان بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کی حیثیت کا اندازہ کرنے لگا۔ابھی اس کے اندازے کی مٹھیاں ان مخصوص اور بڑے لوگوں کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت ہی جٹارہی تھیں کہ اوپر والی جیب میں موجود فون پر ہمنگ کی دائرہ بناتی لہریں پیدا ہونے لگیں۔اس کے فیچر فون میں کانٹے جیسے نمبروں کے اوپر چکنی سکرین کا ایک گنجا اور ہلکا سبز سر تھا، جس پر نئے کلائنٹ کا نام ابھر رہا تھا۔اس وقت وہ کسی کا بھی فون ریسیو کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، اس نے فون کو جینز کی جیب میں ٹھونسا مگر اس کا وائبریشن بند نہیں کیا۔اسے وائبریشن کی آواز اورننھی سی گرج بہت پسند تھی۔

گھر پہنچا تو بیوی کھانا کھارہی تھی، اس نے ہاتھ منہ دھویا، لنگی پہنی اور بیوی کی بغل میں بیٹھ گیا۔بچہ پڑوس کے ایک گھر میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، دوپہر تھی اور دور دور تک شانتی اور چین کاراج تھا۔اس نے بیوی کے ہاتھ سے نوالہ کھایا اور بیوی کو نئے کیس کے بارے میں بتانے لگا۔یہ کیس ایک دیوالیہ ہو جانے والے رئیس کی طلاق شدہ بیوی کا تھا، رئیس کو اپنی مطلقہ بیوی میں بھی پتہ نہیں کیا دلچسپی تھی کہ وہ اس کے سارے ٹھور ٹھکانوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، مگر مشکل یہ تھی کہ اسے سب کچھ سمجھانا آسان نہ تھا، وہ اونچا سنتا تھا، اس لیے سامنے بیٹھ کر تو کسی نہ کسی طرح ہانپتے کانپتے اسے تفصیلات بتائی جاسکتی تھیں، شور اور دھول بھری سڑک پر ، فون پر چلا چلا کر سب بتانا مشکل تھا۔مگر عجیب قسم کا شکی تھا کہ خود سے الگ ہوجانے والی عورت کا بھی حساب رکھنا چاہتا تھا، بقول اس رئیس کے ، اس کے پاس اب چند لاکھ روپے کی ملکیت باقی رہ گئی تھی، سارا کاروبار تباہ ہوچکا تھا، عمر کے اس پڑاؤ پر تھا، جہاں پتہ نہیں کب دل کا دورہ طعمہ ہوس بن کر اس کی روح کو نگل لے ، مگر وہ باز آنا نہیں چاہتا تھا، پچھلی بار جب جاسوس نے اسے اس کی بیوی یا مطلقہ بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ اکیلی رہ رہی ہے اور کسی ایڈورٹزمنٹ ایجنسی میں کام کررہی ہے تو رئیس کے چہرے پر ایک چمک پیدا ہوگئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے شاید بمجبوری اپنی بیوی سے الگ ہونا پڑا ہوگا، یا پھر اسی عورت نے دیوالہ نکل جانے کے بعد طلاق لی ہوگی، ورنہ وہ آج بھی اپنی بیوی کے ذکر کی بوچھار میں بھیگ کر ہرا ہوجاتا تھا۔اس کے بوڑھے اور اکڑے ہوئے سخت گیر چہرے پر اپنی بیوی کا ذکر سنتے ہوئے بہت سی ملائم پرتیں جاگا کرتی تھیں، جن میں مختلف رنگ ہوتے تھے، کبھی غصہ، کبھی جھنجھلاہٹ، کبھی بے حد پیار اور ترحم کا جذبہ۔وہ چاہتا تھا کہ اس عورت کی کچھ مدد کی جائے، کسی طرح وہ اس کی زندگی میں واپس آجائے یا پھر اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کچھ رقم پہنچا سکے۔جاسوس نے ایک دفعہ کوشش کی تھی کہ رئیس کی دی ہوئی کچھ رقم اس کی بیوی تک ایک بچے کے ذریعے پہنچائی جائے مگر اس نے رئیس کا نام لفافے پر دیکھتے ہی وہ رقم بچے کو واپس لوٹادی تھی اور بہت ڈانٹا پھٹکارا بھی تھا۔رئیس یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ رقم کسی ایسے طریقے سے عورت تک پہنچے جس سے اسے پہنچانے والے کا نام نہ معلوم ہوسکے، وہ عشق میں بھی ایک کاروباری کے ذہن سے کام لے رہا تھا اور یہ توقع رکھتا تھا کہ عورت کبھی نہ کبھی پیسے کی چمکتی ہوئی ہتھیلی پر اپنا سونے جیسا گال رکھ دے گی۔اب تک اس کیس میں اسے تین ہزار روپے مل چکے تھے، باقی رقم کام ہوجانے کے بعد ملنی تھی۔بیوی نے پوچھا:

‘اب کیا کام باقی رہ گیا ہے، سب تو صاف ہوچکا ہے، بیوی اس بڈھے سے ملنا نہیں چاہتی۔اسے تو اس کے پیسوں میں بھی اب دلچسپی نہیں رہی۔’
‘ہاں بات تو سچ ہے، مگر بوڑھے رئیس کی پرابلم کچھ اور ہے؟’
‘کیا؟’
‘وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ چھٹی کے روز اس کی بیوی کیا کرتی ہے؟’
‘عجیب بے وقوف آدمی ہے، ایک عورت نے جب اسے چھوڑ دیا ہے تو اس سے فرق ہی کیا پڑے گا کہ وہ چھٹی یا کام کے دنوں میں کیا کرتی پھر رہی ہے؟’

جاسوس خود اس قصے کو پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا، مگر اس نے بیوی کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہمیں تو اس کام کو کرکے بقیہ سات ہزار روپے لینے ہیں، ہمارا اس بوڑھے کی رنگین دلچسپیوں سے کیا لینا دینا۔بیوی مطمئن ہوگئی ، مگر جاسوس اپنے اندر، بہت اندر غیر مطمئن تھا۔رات کے کسی پہر وہ اٹھا اور نہادھوکر باہر نکل گیا۔ آج اس نے اپنی آنکھوں پر لگانے کے لیے کالا چشمہ بھی نہیں لیا تھا۔وہ اس عورت کے گھر کے باہر جاکر ایک کھمبے سے ٹک کر کھڑا ہوگیا، رات کا وقت تھا، لوہے کی گریل اور ہلکے سانولے ، غیر شفاف کانچ میں سے چھلکتی ہوئی ڈم لائٹ کی روشنی دکھائی پڑرہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ ڈگ بھرتا ہوا عورت کے فلیٹ کی طرف چل پڑا، دوسری منزل پر پہنچنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے کچھ تیز چاپوں کی آواز آئی، چابی کا ایک گچھا جیسے ہوا میں لہرایا اور اس کی آواز نے جاسوس کے کانوں کے ٹنل سے ہوتے ہوئے چھٹی حس کے خانے میں دھم سے ایک ضرب لگائی، وہ اگلی منزل کی سیڑھیوں پر چڑھا اور دبک کر بیٹھ گیا۔ایک نسوانی وجود کا احساس اس اندھیرے میں موجود تھا۔دروازہ لاک کرنے کی آواز آئی اور عورت نیچے کی طرف اتر گئی، وہ اگلے چند منٹوں تک یونہی دبکا رہا۔انہی چند منٹو ںمیں اس نے ایک خیالاتی دنیا آباد کرلی۔اس دنیا میں اس نے دیکھا کہ عورت کے جاتے ہی وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا ہے، اچانک اس کا پھیلا ہوا بدہنگم پیٹ اندر کی طرف چلا گیا، سینہ ابھر آیا، رانوں کے پٹھوں میں نہ جانے کون سی مردانہ طاقت اتر آئی ہے، گال نکل آئے ہیں اور مضبوط مچھلیوں والے بازوؤں سے وہ گھر کی ایک ایک طاق اور دراز کو کھنگال رہا ہے، کاغذوں کے پلندے اتھل پتھل ہوچکے ہیں، باہر سے چھلک چھلک کر آنے والی روشنی میں اس کا پراسرار وجود کسی سرد ملک کے انگریز جاسوس کی طرح سائے جیسا دکھائی دے رہا ہے، دیکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہیں اس لیے جاسوس کی ہر حرکت احتیاط اور توجہ سے زیادہ ریاکاری کا تقاضا کررہی ہے۔ہوائی شیشے کھل گئے ہیں، روشنیاں بکھر گئی ہیں اور لیزر بیم کے جال سے بچتے بچاتے جب وہ ایک ایسے لاکر تک پہنچ گیا ہے، جہاں اس کہانی کا سب سے مخفی راز جاسوس کےتیز دماغ اور گرم ہاتھوں کی زیرکی سے بے خبر خاموشی کے دامن میں پڑا سورہا ہے، تو اچانک اس کے گردن پر ریوالرر کی سرد نوک سرسراہٹ پیدا کردیتی ہے۔مگر وہ سرد سرسراہٹ ایک گرم بوسے میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کی گردن پر زبان سے ایک جوان عورت گلابی رنگ کی گیلی لکیریں پیدا کرنے لگتی ہے، جاسوس آہستگی سے پلٹتا ہے ،یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں مزید روشن ہوجاتی ہیں کہ پچھلے روز ساڑی میں بس کا انتظار کرنے والی بوڑھے رئیس کی بیوی ، سٹریٹ بالوں اور مہنگے پرفیوم کی مہک کے ساتھ اپنےفیشیئل کرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے کھڑی ہے،اس نے سانسوں کی گرم دھاریوں میں جاسوس کی احتیاط زدہ آہوں کو لپیٹ لیا ہے اوراس کے حیرت سے کھل جانے والے ہونٹوں پر اپنے دائمی سرخ اورطلسمی ہونٹ رکھ دیے ہیں۔وہ ہر پرت کے ساتھ جاسوس کے اودے ہونٹوں پر اپنی لال لپ سٹک کی تھاپ جگاتی جارہی ہے اور وہ پھر لمحہ آتا ہے جب وہ جاسوس کی پینٹ کا بٹن کھول کر، اس کا لیدر جیکٹ اتار کر پلنگ پر اسےبستر کے ملائم دریا میں ڈوبنے کے لیے دھکا دے دیتی ہے۔

اس خیالاتی دنیا سے دھکیل دیے جانے کے بعد اتر کر اس نے پہلے دروازہ ٹٹولا، پھر اپنے موبائل فون میں موجود ٹارچ کی ننھی اور تیز روشنی میں دروازے کو دیکھا، اسے کھولنا ممکن نہیں تھا، اس نے آس پاس کوئی اوزار ٹٹولا، ایک چھوٹی سی پن اسے زمین پر پڑی دکھائی دی، اٹھاکر لاک کے پیٹ میں اس نے پن کا پتلا وجود اتار دیا، مگر کافی کوششوں کے بعد بھی لاک نہیں کھل سکابلکہ مصیبت یہ ہوئی کہ پن اس میں اتنی بری طرح اٹک گئی کہ اس کا باہر نکلنا دشوار ہوگیا۔زیادہ دیر تک ٹارچ جلانے کا مطلب تھا کہ آس پڑوس میں کسی کو بھی اس پر شک ہوسکتا تھا، اس نے ٹارچ بند کی اور پن کو جھنجھوڑنے لگا، مگر اس احتیاط سے کہ آواز نہ پیدا ہو اور اچانک جھٹ سے پن کا ایک ٹوٹا ہوا سرا اس کے ہاتھ میں آگیا۔اوپر کہیں کھڑکھڑاہٹ سی سنائی دی تو بوکھلاہٹ میں اس نے لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے بلڈنگ سے نیچے اترنا شروع کردیا، پسینہ اس کے ہاتھوں اور کنپٹی پر بہہ رہا تھا،نیچے اترا تو دو کتے بھونکتے ہوئے اس کی طرف بڑھے، وہ نہ چاہتے ہوئے ایک گلی میں بھاگنے لگا، مگر کچھ دور جانے کے بعد معلوم ہوا کہ گلی بند ہے، اس نے آس پاس موجود پتھروں کو اٹھانا چاہا مگر کتوں کی رفتار بہت تیز تھی، ابھی وہ جینز پر لگی بیلٹ کو کھولنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کتوں نے اس کے پیروں پر حملہ بول دیا ، ایک کتے نے پنڈلی میں دانت گاڑے تو ہول سے اس کی چیخ نکل پڑی۔اس نے بوکھلاہٹ میں گلی کی دوسری طرف بھاگنا شروع کیا، پنڈلی سے خون بہہ رہا تھا اور درد بھی ہورہا تھا، مگر اس وقت ان کٹ کھنے کتوں سے خود کو بچانا بہت ضروری تھا، اسے لگا جیسے آج اس کے پیچھے بھی ایک مہیب موسیقانہ لہر دوڑ رہی ہے، کتوں کی آوازوں نے اپنی پوشاک تبدیل کی تو آس پاس کی اندھیرے میں اونگھ لگاتی بلڈنگیں بھی شطرنج کے مہروں میں بدل گئیں اور اسے لگا جیسے وہ ایک طویل ، لمبی بساط پر دوڑنے والا بے بس بادشاہ ہے، جسے وزیرکی گھات سے بچنے کے لیے جہاں تک ممکن ہو، خانے بدلتے جانا ہے۔

‘پھر ہر طرف اجالا ہوگیا، اتنا گھنا اجالا کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا، بس ایک دھاپ کی آواز سنائی دی، جس میں گونجتے ہوئے دو لبلبلے ڈرم جیسے ہوش کی ڈانڈیوں سے بے نیاز ہوجائیں۔بہت دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو ایک عورت اس کی پنڈلی پر پٹی باندھ رہی تھی۔

اور وہ عورت جاسوس کی بیوی تھی۔

Categories
نان فکشن

سماج کا ننگا دیباچہ

سعید ابراہیم لاہور میں رہتے ہیں اور میں دلی میں مقیم ہوں۔ خاص طور پر جس علاقے میں میری رہائش ہے، میرے کئی پاکستانی دوست اس کی تصویریں دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بالکل لاہور جیسا دکھائی دیتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ عکس کتنے خوبصورت یا بدصورت ہیں۔۔ مگر حالات جس طرح بدل رہے ہیں، میرے شہر اور ملک میں لوگ پاکستان کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ اس ملک میں صرف دہشت گرد، تشدد پسند اور سخت گیر مذہبی فکر رکھنے والے ایسے افراد موجود ہیں، جن کے ساتھ دوستی ہونا یا کسی قسم کا تعلق ہونا ایک عام ہندوستانی کو مشکوک کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صورت حال پہلے تو ایک وہم کی صورت میں موجود تھی، اب ایک بیماری بن گئی ہے بلکہ اسے وبا کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسی طور میری ایک پاکستانی دوست مجھے بتاتی تھی کہ اس کے کالج میں موجود اساتذہ بار بار طلبا کو سمجھاتے ہیں کہ ہندوستانی ہمارے دشمن ہیں۔ وہاں کے ہندو، مسلمانوں پر مظالم کی برسات کررہے ہیں، وہاں مسلمانوں کے ساتھ اجنبیوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ان کو مارا، کاٹا اور اغوا کیا جاتا ہے، وہ دوسرے شہری کی حیثیت سے اس ملک میں ڈر ڈر کر رہتے ہیں۔یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کے لوگوں کے بارے میں رائے بناچکے ہیں اور یہ دونوں طرف ہے۔ اوریا مقبول جیسے پاکستانی کالم نویس تو ہندوستانی مسلمانوں کو غدار، ڈرپوک حتٰی کہ کافر بھی کہہ چکے ہیں۔ان صورتوں میں جب ہمارے ہی ٹی وی چینل ایسے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر پروپگینڈا کرتے ہیں جو اپنے ملک کے تعلق سے خطرناک صورت حال کو بیان کرتے ہیں، وہاں کی ایسی تصویر دکھاتے ہیں، جس میں لگتا ہے کہ وہاں کا ہر باشندہ یا تو خودکش بمبار ہے یا پھر بمباری کرنے والے افراد کا ہمدرد۔میں نے اس حوالے سے ہندی میں کچھ مضامین لکھے ہیں اور کچھ لکھنے کا ارادہ ہے، جس سے یہ بات ثابت ہو کہ کوئی ملک اگر انتشار کا شکار ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کے تمام رہنے والے اسی فکر کے ہوں، آج کل بھارت کی بھی حالت نازک ہے۔میں نے اپنے بچپن سے اب تک ہندو مسلمان، دلت اور براہمن کی ایسی خطرناک تفریق پیدا کرنے والی لکیر اتنی روشن اور ایسی کاٹ دار نہیں دیکھی تھی، جس کا مشاہدہ آج کل کررہا ہوں۔بھارت کے سیکولر ہندو سیاست کی اس کروٹ سے پریشان ہیں۔ اقلیتوں میں بے چینی ہے اور بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ مذہب کی ٹوکری میں رکھ کر بیچی جانے والی نشہ آور ادویات کا کاروبار بند ہو اور جمہوریت کے اس جدید اور اجنبی تصور سے راحت ملے، جس میں عوام کی عدالت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے لگوائی جارہی ہے۔

 

ہم یہاں بیٹھ کر جب دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مجبور عیسائی عورت کو قید و بند کی صعوبت صرف پاکستانی مسلمانوں کی جہالت آمیز ضد کی وجہ سے برداشت کرنی پڑرہی ہے تو دکھ ہوتا ہے۔مشعال کے بارے میں برے اور گھنونے پروپگینڈے کی صورتیں سامنے آتی ہیں، اس کو مارنے والے بے رحم ہاتھ، اس کے سر میں داغی جانے والی گولی، اس کی لاش پر پھوڑے جانے والے گملے اور مذہبی جنونیت کو منہ چڑاتا ہوا اس کا ادھ ننگا بدن دیکھ کر دل جمنے لگتا ہے،آنکھیں تھمنے لگتی ہیں۔ مذہبی گستاخیوں کے الزام میں سنائی جانے والی ایسی خطرناک سزائوں کا دور سرحد کے دونوں جانب موجود ہے۔بازار لگا ہوا ہے، نظریں جھکی ہوئی ہیں۔جن لوگوں نے اخلاق کو مارا تھا، انہیں اس کی ابلی اور کچلی ہوئی وہ آنکھیں کہاں دکھائی دی ہونگی، جو موت سے پہلے ہی باہر کو نکل آئی تھیں۔جن لوگوں نے راجستھان میں پہلو خان نامی ایک غریب شخص کو گائے بیچنے کے جرم میں سڑک پر گھسیٹ کر پیٹا ہوگا، اس کے خون کا رنگ کب ان کی آنکھوں کو پانی کرسکا ہوگا۔ہم سب رفتہ رفتہ سفاک ہوگئے ہیں، ہم ہندوستانی اور ہم پاکستانی سبھی ایک قسم کے جرم میں ملوث ہیں۔تماشا دیکھنے کے جرم میں، جہاں سچ بولنے، سچ کی طرفداری کرنے، غیر جانبدار یا سیکولر ہونے، مذہب و وطن کی محبت میں انسان کو جنونی بنانے کی مخالفت کرنے اور اب تو اپنی روزی روٹی کمانے کے بدلے بھیانک موت کی سزا سنائی جاتی ہے، گلیوں میں نعش کھینچتے پھرنے کا حکم صادر کردیا جاتا ہے۔

 

اس قسم کی صورت حال میں جب آپ ایک کتاب پڑھتے ہیں، جو اندھوں کو آنکھیں عطا کرنے کا ہنر رکھتی ہے تو آپ چونکتے ہیں۔آپ سوچتے ہیں کہ یہ مصنف کہاں سے اتنی جرات بٹور لایا کہ اس نے ایک ایسے موضوع پر، جس کی مذمت بھی ہمارے سماجوں میں شرم کے مارے ٹھیک سے نہیں کرنے دی جاتی۔اتنے منطقی لہجے میں گفتگو کی ہے۔اس قدر عقل و شعور کے ساتھ، مختلف ذیلی موضوعات بنا کر ان کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کیا ہے اور ان کی اصلی صورت ہمیں دکھائی ہے۔سعید ابراہیم کا شہر اور میرا علاقہ ہی نہیں ملتا جلتا ہے، بلکہ میں ان میں ایک آزاد، سمجھدار اور ذمہ دار انسان کی جھلک دیکھتا ہوں، جو ہمیں بتاتا ہے کہ سوسائٹی میں موجود سیکس کا تصور اتنا خام اور الجھا ہوا کیوں ہے، جبکہ اس پر بات کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ان کی کتاب کا نام ہی ‘سیکس اور سماج’ ہے۔ ظاہر ہے کہ سماج سیکس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ریپ ہوتے رہیں، گھروں میں لڑکیاں/عورتیں شادی سے پہلے یا بعد میں اپنے ہی رشتہ داروں، عزیز و اقارب کی ہوس کی بھینٹ چڑھتی رہیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے داڑھی والے سفید پوش بزرگ کونوں کھدروں میں جنسی تسکین حاصل کرتے رہیں، بسوں،ٹرینوں، سڑکوں اور گلیوں میں عورت کا جسم دیکھ کر ہیجان میں مبتلا ہوجانے والی نسلیں تیار ہوتی رہیں، لوگ فرسڑیٹ ہوجائیں، پاگل ہوجائیں، جنون اختیار کرلیں، مرجائیں۔مگر اتنی اجازت نہیں مل سکتی کہ اس موضوع پر کھل کر چند لمحوں تک بات کی جائے۔سب کے سامنے، کیونکہ یہ سب کا مسئلہ ہے،یہ ایک اجتماعی پرابلم ہے،جس کا اجتماعی حل ضروری ہے۔اسے نہایت انفرادی کہہ کر، اس پر قابو پالینے کو ثواب یا پنیہ گرداننے والے ملائوں اور پنڈتوں نے ہمیشہ سے لوگوں کو ایک بند ہانڈی میں ابلنے والے چاولوں کی طرح چھوڑ دیا ہے، پتیلیوں کے تلے داغدار ہورہے ہیں، ڈھکنوں سے سفید جھاگ کی لکیریں رس کر باہر آرہی ہیں، مگر ڈھکنی ہٹانے کی اجازت نہیں ہے۔میرے ایک دوست نے بتایا تھا کہ ہندوستان کے سب سے بڑے ہسپتال ایمز میں ایک کیس آیا تھا، جس میں ایک لڑکی اپنے سر کے بال نوچتی تھی،اور بار بار اپنے کپڑے پھاڑ کر الگ کردیتی تھی، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جنسی جذبات کو دباتے دباتے پاگل ہوگئی ہے۔آپ غور کیجیے تو ہمارے معاشروں میں ہر دوسرا آدمی اسی قسم کاذہنی مریض ہے۔سعید ابراہیم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بتایا ہے کہ اس ذہنی مرض سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔میں آپ کے سامنے پوری کتاب ضیافت کے لیے پروس نہیں سکتا۔یہ آپ کا مسئلہ ہے، آپ کے گھروالوں کا مسئلہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ کتاب خریدیں اور اسے پڑھیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ سیکس کے موضوع پر اردو میں ایسی بہترین کتاب اس سے پہلے شاید نہیں لکھی گئی۔اگر کہیں اکا دکا کچھ نمونے ہونگے بھی۔ تب بھی وہ اس کتاب کی تنظیم و ترتیب اور آسانی کلام یا سہل بیانی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

 

سعید ابراہیم نے کتاب نہیں لکھی ہے، سیکس کو سماج کا سب سے بڑا سوال بنایا ہے۔انہوں نے اس مردہ تصور سے باہر نکل کر اس پرابلم کو دیکھا ہے جو بیک وقت دنیا کی سب سے بڑی لذت بھی ہے اور ڈھکے چھپے معاشروں کے لیے جی کا جنجال بھی۔سیکس کے مسئلے کو چار شادیوں اور ہزار باندیوں کے چودہ سو سال پرانے نسخے سے حل نہیں کیا جاسکتا اور پھر یہ مسئلہ صرف مرد کا تو ہے نہیں۔مذہب تو صرف مرد کی آسائش کو ملحوظ رکھتا ہے، عورت کے اندر تو اس کے لحاظ سے نہ کوئی جسمانی خواہش ہوتی ہے،نہ کوئی جنسی ضرورت۔وہ تو ایک ایسی مشین ہے کہ بس جس کے پلے باندھ دی جائے، خواہ اس کی پہلے سے تین بیویاں اور ستر باندیاں موجود ہوں، وہ چپ چاپ اپنی باری آنے کا انتظار کرتی رہے۔اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب صرف سیکس کو موضوع نہیں بناتی ہے، بلکہ سیکس کے بارے میں غلط تصورات خواہ وہ مذہبی ہوں یا سماجی۔اس کی سب سے بڑی دریافت ہیں۔حالانکہ ان دریافتوں کا سہرا مکمل طور پر سعید ابراہیم کے سر جانا چاہیے مگر بالراست اس کا کریڈٹ اردو کے مشہور افسانہ نگار منٹو کو بھی ملتا ہے۔بقول مصنف انہوں نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے ان بے چینیوں سے تو کام لیا ہی، جو ان کے بچپن سے شاخ نو کی طرح ان کے اندر پھوٹ رہی تھیں، مگر ساتھ ہی ساتھ منٹو کی تحریروں سے عشق اور اس کے جرات بیان سے ایک ایسی غیر ادبی کتاب وجود میں آسکی جو اس نہایت عام انسانی مسئلے پر خاص انداز میں بات کرنے کا ہنر جانتی ہے۔اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ منٹو جیسا تخلیق کارسوسائٹی کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے، وہ خود تو ان مسائل پر ایک غیر منظم طور سے اپنی کہانیوں اور مضامین میں بات کرتا ہی ہے، مگر اپنے زیر اثر ایسے مصنف بھی پیدا کرتا ہے، جن کے یہاں سیکس کے موضوع پر تحقیق کرنے کی ہمت اور اپنے مشاہدات و مطالعے کی بنیاد پر پیدا ہونے ہونے والے نظریات کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی موجود ہوتا ہے۔

 

کتاب کے سارے حصے دلچسپ ہیں۔فہرست پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کا ذہن کتنا صاف ہے، اردو میں لکھی جانے والی اس کتاب کا بلاشبہ اگر ہندی اور انگریزی میں ترجمہ ہو تو بہت سے نئے ذہن اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، بلکہ اس کتاب کا تو کئی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے۔بلوچی، سندھی، مراٹھی، بنگالی، پنجابی اور گجراتی۔خاص طور پر ان زبانوں میں کیونکہ ان میں ایسی کتابوں کی کمی ہے۔بنگالی میں شاید نہ ہو،لیکن باقی زبانیں تہذیب اور اس کے خول میں اتنی بری طرح قید ہیں کہ ان میں اس کتاب کو پڑھنے والے واقعی بہت کچھ نیا جان سکیں گے اور شرم کے اس نام نہاد دائرے سے باہر آکر اپنے بنیادی مسئلوں پر گفتگو کرنے کا سلیقہ سیکھیں گے۔ کیونکہ یہ مسئلہ صرف اردو بولنے والوں کا نہیں ہے۔ہندوستان کے اتراکھنڈ یا ہماچل پردیش میں صورت حال یہ ہے کہ آج بھی حیض شدہ عورت کا بستر الگ کردیا جاتا ہے، اس کے گرد ایک دائرہ بنادیا جاتا ہے، وہ کچن میں نہیں جاسکتی، اس کے برتن الگ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر دودھ پینے والا بچہ اس کے ساتھ موجود ہے، تو اسے بھی اس کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اور اگر وہ اپنی نادانی کی وجہ سے لکیر پار کرکے کسی جگہ پہنچ جائے تو اس جگہ کو گائے کے پیشاب سے دھوکر پاک کیا جاتا ہے۔ہریانہ میں حیض کےدوران عورتوں کو بہت وقت تک طبیلوں میں باندھ دینے کا رواج رہا ہے اور آج بھی ایسا کئی جگہوں پر ہوتا ہے، جہاں حیض کی شکار عورت کو نفسیاتی اور جسمانی تنہائی گھوڑوں یا بھینسوں کے ساتھ گزارنا پڑتی ہے۔پاکستان کی صورت حال اس معاملے میں زیادہ مختلف نہیں ہے، وہاں بھی حیض کو ایک آسمانی آفت تصور کیا جاتا ہے، حیض آنے پر گویا عورت عورت نہیں رہتی، وہ نماز نہیں پڑھ سکتی، روزہ نہیں رکھ سکتی۔مذہب اسے چٹکی میں پکڑ کر ایک ایسے اجنبی ریگستان میں چھوڑ دیتا ہے جہاں صرف اپنے عورت پن کو کوسنے کے علاوہ اور دوسرا کوئی چارہ نہ رہے۔حیض آج بھی ایک بڑا موضوع ہے، جس پر ہمارے معاشروں میں موجود مختلف تصورات پر تحقیق کرکے سعید ابراہیم جیسے مصنف ہی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں اور ان کے تعلق سے موجود غلط فہمیوں کو دور کرسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو بہت سی سہولیات مہیا کرائی جائیں، ایسے مصنفین کو تو باقاعدہ حکومت کی امداد ملنی چاہیے، مگر حکومتیں ہمارے معاشروں میں ایسے غلیظ تصورات کا فائدہ اٹھاکر ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خوشحال اور امیر طبقہ یا خود کفیل پرائیوٹ ادارے ایسے موضوعات پر بات کروانے یا کتابیں لکھوانے کے لیے مصنف کو ایک آرام دہ زندگی میسر کرانے کے لیے آگے آئیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مصنف پر بالکل احسان نہ کریں گے بلکہ اپنے معاشرے کو صحیح سمت میں لے جانے اور اسے ابتذال سے بچانے کے لیے، ایک بہتر مستقبل عطا کرنے کے لیے کام کریں گے، جس کا اثر ظاہر ہے کہ ان کی نسلوں پر تو پڑے گا ہی بلکہ ان کی موجودہ شناخت کو بھی یہ تبدیلی متاثر کرے گی اور وہ اپنے وطن میں موجود سیکولر ذہنوں کو زیادہ سے زیادہ پیدا کرسکیں گے۔

 

سیکس اور سماج جیسی کتابیں سرکاری نصاب کا حصہ تو شاید نہ ہوسکیں۔ لیکن انہیں نصاب کا حصہ بہرحال ہونا چاہیے،ایسے مصنفین کو سکولوں، کالجز میں طلبا سے بات چیت کے لیے بلایا جانا چاہیے، طلبا کو اس بات پر آمادہ کرنا اساتذہ کا کام ہے کہ وہ جو باتیں اپنے والدین، دوستوں یا عزیز و اقارب سے کہتے ہوئے گھبراتے ہیں، مصنف سے کھل کر کہہ سکیں۔اس سے معاشرے میں لگے ہوئے فرسٹریشن کے گھن کا کچھ علاج ہوگا اور رفتہ رفتہ یہ تبدیلی آزاد ذہنوں کو پیدا کرے گی اور وہی طلبا کل کو اپنے دوستوں اور بہت ممکن ہے کہ اپنے والدین کو بھی اس بات پر آمادہ کرسکیں کہ سیکس کے موضوع پر بات کرنے یااس سے جڑے مسائل کا تذکرہ کرنے سے بے شرمی نہیں پھیلتی بلکہ معاشرہ ایک غیر ضروری ذہنی و نفسیاتی تکلیف سے آزادی حاصل کرتا ہے۔

 

دلی میں ریپ بڑھ رہے ہیں، ظاہر ہے دوسری جگہوں پر بھی ان کی تعداد میں کمی نہیں ہورہی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ریپ اب بے رحمی سے کیے جاتے ہیں، ریپ کرنے والا معلوم ہوتا ہے کہ عورت سے کسی قسم کا بدلہ لے رہا ہے، وہ اس کے وجود سے گھبرایا ہوا ہے، عورت کے بدن سے چپکی دو نازک جھلیوں کو وہ اپنے غصے سے پھاڑ دینا چاہتا ہے، اس کے بدن میں نہ جانے کیسے کیسے خطرناک آلات گھسیڑ کر وہ بچہ دانی اور آنتوں تک کو باہر نکال لینا چاہتا ہے۔ریپ ہوجاتا ہے، میڈیا میں شور مچتا ہے، باتیں ہوتی ہیں، لوگ اسے قیامت کے آثار میں شامل ایک بات کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں، کینڈل مارچ ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ عورتوں یا لڑکیوں کی بھیڑ پھانسی کا مطالبہ کرتی ہے۔دلی میں ہی چند برسوں قبل ہونے والے نربھیا کانڈ کے سبھی ملزمین کو پھانسی کی سزا ہوئی،لیکن راجدھانی میں ریپ نہیں رکے، ہوتے رہے اور اسی بے رحمی سے ہوتے رہے۔اگر پھانسی کی سزا اس بیماری کا علاج ہوتی تو یہ بے رحم عمل رک جانا چاہیے تھا۔لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ ریپ کرنے والوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے، وہ اتنے ناراض کیوں ہیں۔عورت نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا ہے۔بلکہ سماج ہی اس معاملے میں ملزمین کا بھی دوشی ہے اور عورتوں کا بھی۔وہی نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ حل ہو کیونکہ اگر مسئلہ حل ہوا تو اسی صورت میں حل ہوگا جب لوگ بالغ ہوکر ان معاملات پر سوچیں گے اور لوگوں کو سوچنے سے جتنا زیادہ دور رکھا جاسکتا ہے، اتنا اچھا ہے۔سعید ابراہیم کی کتاب اسی سوچنے سمجھنے کےرویے کو عام کرسکتی ہے۔انہیں بھی اس سوسائٹی میں خطرہ ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ اسی سوسائٹی میں ان کے ہمدرد بھی پیدا ہوچکے ہوں گے۔

 

آپ اس کتاب کا کوئی بھی حصہ پڑھ جائیے، یہ کتاب آپ کو پریشان کرے گی، پریشان اس معاملے میں کہ اتنی اچھی باتیں سمجھنے سے آپ کو کیوں روکا جاتا ہے۔والدین کیوں اپنے بچوں کی پرابلم نہیں سنتے۔سیکس آخر ہے کیا چیز؟ سیکس کا مذہبی تصور کتنی اہمیت رکھتا ہے؟ ماسٹربیشن کا معاملہ کیا ہے اور اس کی حقیقت اور اس سے پڑنے والے نفسیاتی اثرات کے درمیان کتنا فرق ہے۔اس کے علاوہ خود عورتیں اس معاملے میں کتنی کنفیوزڈ ہیں، ہمارے وہ بڑے اذہان جنہیں ہم اقبال یا اکبر الہہ آبادی کے نام سے جانتے ہیں، تہذیب کے نام پر سماج سے کیسی دشمنیاں نبھاتے رہے ہیں۔مردانگی کے اوندھے الٹے تصورات کیا ہیں، عورت سے خوف کیوں آتا ہے، شادی اور جہیز کا سسٹم اتنا عام اور لعنت کی طرح کیوں مسلط ہے۔یہ تمام مسائل اور ان پر گفتگو کرنے والی سعید ابراہیم کی کتاب کو اگر آپ نے نہیں پڑھا ہے اور اپنے دوستوں کو پڑھنے کے لیے اب تک آمادہ نہیں کیا ہے تو ضرور کیجیے کیونکہ یہ مسئلہ ہر ذہن کو متاثر کرتا ہے، یہ صرف ایک آدمی کی پرابلم نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

طلاق کی روایت اور مسلمانوں کا رویہ

اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلق سے دو تین باتیں بہت زیادہ شور میں ہیں۔انہی میں تین طلاق کی بابت کافی کچھ کہا سنا جارہا ہے،نیوز چینلز ڈبیٹ کرارہے ہیں، قانونی چارہ جوئی ہورہی ہے۔مسلمان مرد و عورت بھی اس سلسلے میں دو الگ الگ خانوں میں بٹ گئے ہیں، جن میں کچھ کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کی دخل اندازی دراصل مذہبی معاملات میں دخل اندازی جیسا معاملہ ہے اور دوسری طرف ایک بھولے بسرے مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والے گرد آلود ادارے کی آنکھیں پھر چمکنے لگی ہیں ، جس کا نام مسلم پرسنل لا بورڈ ہے۔اس ادارے کے کارہائے نمایاں کیا ہیں، ان کا کچھ پتہ نہیں، یہ ادارہ ابھی تک مسلمانوں کی پچھڑی ہوئی حیثیت اور شناخت کو ختم کرنے کے لیے کیا کرتا رہا ہے، اس بارے میں کوئی سوال نہیں، اس ادارے نے مسلمانوں کے شدت پسندانہ رویے کی کتنی مذمت کی ہے ، کوئی ریکارڈ نہیں۔حتیٰ کہ ابھی چند روز پہلے تک یعنی جب تک تین طلاق کا مسئلہ وجود میں نہیں آیا تھا، بیشتر مسلمان اس ادارے کے نام سے بھی واقف نہ تھے، ابھی بھی بہت سے لوگوں سے اس کے کام کرنے کے طریقے، اس کی باڈی، اس میں موجود اہم افراد کے ناموں کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ جھینپتے ہوئے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہ کرسکیں گے، لیکن پھر بھی اچانک حکومت کے اس اعلان پر کہ ہم مسلمان عورتوں کو تین طلاق کی اس لعنت سے چھٹکارہ دلائیں گے اورقانونی طور پر اس بات کا بندوبست کیا جائے گا کہ ہمارے ملک میں موجود ایک مخصوص مذہب کی عورتوں کو روبرو، موبائل پر، واٹس ایپ، فیس بک یا کسی اور پیغام کے ذریعے تین طلاق بھجوا کر ان سے زندگی بھر کے لیے رشتہ منقطع کرلینے کی فرسودہ روایت سے چھٹکارا دلایا جائے۔ایسے میں اچانک مسلم پرسنل لابورڈ کی حمیت جاگ گئی اور وہ تمام دوسرے اہم مسائل کو چھوڑ کر تین طلاق کے قائم رہنے کواسلام کے وجود کے لیے بے حد ضروری خیال کرنے لگا، بورڈ کا ماننا ہے کہ حکومت کی اس قسم کی دخل اندازی سے مذہبی قانون مجروح ہوتا ہے اور اللہ کے بنائے گئے قانون میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یعنی حکومت جب ایک ایسی چیز کو ختم کرنا چاہ رہی ہے جو قرآن و حدیث کے عین مطابق خدا کی سب سے ناپسندیدہ چیز ہے تو اسے ایک سیاسی لبادہ اڑھا کر اپنا نام چمکانے اور ادارے کو دوبارہ ذکر میں لانے کا سنہری موقع کیسے گنوایا جاسکتا ہے۔

 

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ہندوستان کے پڑھے لکھے مسلم طبقے کی بھی نگاہوں میں شک کے ڈورے تیر جاتے ہیں کہ آخر بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو کہ مسلم دشمن پارٹی کے طور پر معروف رہی ہے، آخر ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ وہ تین طلاق کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور مسلمان خواتین کی اتنی ہمدرد بن رہی ہے، یعنی سارا مسئلہ شک کی بنیاد پر قائم ہے، شک یہ ہے کہ ہمارے دین کا دشمن، ہماری ہمدردی کی بات کیوں کررہا ہے،یعنی بالراست یہ بات سب مانتے ہیں کہ یہ فیصلہ یا اقدام مسلمان عورتوں سے ہمدردی کی بنیاد پر ہی کیا جارہا ہے، مگر جہاں شک کے کیڑے رینگنے لگیں وہاں کسی کی ہمدردی کیسے قبول کی جاسکتی ہے اور وہ بھی اہل اسلام کے نزدیک، جو کسی دوسرے فرقے کی بات کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، دوسرے مسلک کے طریقوں میں بھی شک کا پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں، ان کے لیے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی ایسی باتیں ، شک نہ پیدا کریں گی، ممکن ہی نہیں۔مگر اصل مسئلہ شک کا نہیں ہے۔اصل مسئلہ ہے غلط بات کو غلط نہ سمجھنے کا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بعد میں آئے گا، اس پر عمل کے منصوبے بعد میں بنیں گے۔پہلے تو یہ پوچھنا چاہیے کہ مسلمان اپنے مذہب کی ایسی کتنی باتوں کو اپنی زندگیوں میں روا رکھتے ہیں ، جو خدا کے نزدیک جائز ہیں، مثال کے طور پر خداکی راہ میں لڑنا، باندیاں رکھنا، چار شادیاں کرنااورداڑھی کا لازمی طور پر رکھناوغیرہ وغیرہ۔یہ سب وہ باتیں ہیں، جن کو ظاہر ہے تمام یا بیشتر مسلمان مرد ہندوستان میں پریکٹس میں نہیں لاسکتے یا لانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ان کی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، موخرالذکر بات بالکل ٹھیک ہے، ایسی باتیں موجودہ زمانے سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ان کو جاری رکھنے سے زندگیوں میں بہت سے مسائل پیدا ہونگے، اس لیے ضروری یہی ہے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ چھوڑی جاسکتی ہیں، ان کے چھوڑنے سے نہ مذہب کو کوئی فرق پڑرہا ہے اور نہ ان کی زندگی کو، البتہ ان کے جاری رکھنے سے بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور ان میں سے جو شخص آج بھی انہیں جاری رکھنا چاہتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے تو لامحالہ اس کی اپنی اور آس پاس موجود لوگوں کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔اس لیے سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ کیا طلاق کا وہ طریقہ جو کہ قرآن و حدیث کی رو سے بھی ثابت نہیں ہے اور جسے بعد میں رائج کیا گیا ہے ، اسے اپنے وقت کے مطابق چھوڑ کر مسلمان زندگیوں کو زیادہ بہتر بنائیں۔ایسے میں ان قوانین کی پشت پناہی کرنے والے ادارے ایک طرف مردوں کو یہ حوصلہ دیتے ہیں کہ کسی عورت کو یونہی بے یار و مددگار چھوڑ دینا، مہر کی حقیر سی رقم اس کے منہ پہ مار کراسے بے آسرا کردینا تمہارے لیے جائزہی نہیں عین مذہبی رو سے مستحسن بھی ہے کیونکہ یہ طریقہ اگر مستحسن نہ سمجھا جاتا اور اسے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرنے والا مسلم پرسنل لابورڈ بھی غلط ہی سمجھتا تو اس کے قائم رہنے پر اس قدر اصرار نہ کرتا اور اپنے حلف نامے میں یہ کہتے ہوئے کچھ شرم محسوس کرتا کہ اللہ کے نزدیک چونکہ مرد عورت سے عقل میں بالاتر ہے اس لیے اسے طلاق کا حق دیا گیا ہے۔

 

اب اس میں سب سے زیادہ ضرورت کس بات کی ہے ، ضرورت ہے عورتوں کو سمجھنے کی۔عورتیں اگر یہ سمجھ جائیں کہ یہ لڑائی کسی اور کے حق کی نہیں، ان کے حق کی ہے۔وہ اگر یہ مانیں کہ مردوں کو کسی بھی طور پر اس طرح کے جبر کا عادی ہونے سے روکنا ضروری ہے تو وہ طلاق کے ایک طویل اور جائز طریقے پر غور کریں۔ طلاق ہرگز بری چیز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کے ساتھ زبردستی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے قبل آپ کو یہ یقین کرلینا ہوتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے، اب آپ محض اسے سماجی مجبوری کے کندھوں کی مدد سے گھسیٹ رہے ہیں، اور اگر یہ رسہ ٹوٹا تو ظاہر ہے بے حد نقصان ہوسکتا ہے، لیکن اس کے لیے بوجھ اتار کر کچھ دیر تک تو اپنے ہم سفر کو یہ بات بتانی ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ کیوں نہیں رہنا چاہتے اور جب آپ نے اس سماجی معاہدے کو قبول کیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاکر آپ نے کئی سہاگ راتوں کے مزے لوٹے ہیں تو سماج کو جواب دینا بھی آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔اگر آپ اصولی طور پر شادی کے ہی مخالف ہوتے تو بات کچھ اور تھی، لیکن کسی ایک اصول کے زیر اثر اپنی زندگیوں کی بنیاد رکھنے والوں کو یہ حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ رسہ تڑا کر بھاگ کھڑے ہوں، جبکہ اس سے دوسروں کی زندگی پر بہت برا سماجی، معاشی اور نفسیاتی اثر پڑسکتا ہے۔پھر اس ذمہ داری سے باہر نکلنے کے لیے آپ کو عورت کی کفالت کا کچھ انتظام کرنا ہوگا کیونکہ آپ ہی ہیں جو ایک طرف اسے پردے میں رکھنا چاہتے ہیں، اس کے اعتماد کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں، اس سے گھر کے سارے کام کاج کرانا چاہتے ہیں، اس کی ہنسنے بولنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے پر نظروں اور احکام کے بھاری ٹیکس لگاتے ہیں ،اس کے باوجود اگر عورت آپ کو اپنا شریک سفر مان رہی ہے، آپ کو اہمیت دے رہی ہے، آپ کے بچے پال رہی ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کو منظر نامے سے یکدم غائب ہوجانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

 

پھر ہندوستان کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ دوسروں کی طرح اس وطن میں مین سٹریم کا حصہ کیوں نہیں بن پاتے، وہ کون سے ایسے عوامل ہیں، جن کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمر دوہری ہوگئی مگر مذہب کے ٹھیکیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اور اب ا س استحصال کے جاری رکھنے کے لیے خود مسلمانوں کا ہی استعمال کیا جارہا ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ دیکھو، تمہارا مذہب خطرے میں ہے، کوڑے کھائو، ظلم سہو، بھوکے مرو، مگر اس رسم کو ختم کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائو جو تمہارے ہی رب کے نزدیک ناپسندہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمانوں کا خدا کے تعلق سے یہ کیسا کنفیوزن ہے جو انہیں خدا کی ہی ناپسندیدہ چیز کو ان ہی کی زندگیوں میں کم سے کم کرنے سے روک رہا ہے۔لیکن پھر سوچتا ہوں کہ مذہب کے اس جعلی تصور سے آزاد ہونے کے لیے کم از کم مذہب کا ہی بنیادی علم ہونا ضروری ہے، لیکن مدرسوں کی بھرمار والے اس ملک میں مسلمان لڑکے لڑکیوں کو قرآن بھی اس زبان میں پڑھایا جاتا ہے، جس کی انہیں سمجھ ہی نہیں ۔اس لیے مولوی جو کہے وہ بغیر سمجھے بوجھے ، قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے!
Categories
فکشن

پستان-آخری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

این اور صدر کی جس بات پر علیحدگی ہوئی تھی، وہ ایک ایسی بات تھی، جس پر کم از کم الگ ہوجانے کا تو خیال کسی کو نہیں آنا چاہیے۔لیکن ان دونوں کی ہی فطرت میں شاید محبت کا ویسا خمیر موجود نہ تھا، جس میں کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی خواہش ہو۔محبتیں بعض اوقات بڑی بے پروا بھی ہوا کرتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس سے کرتا ہی چلا جائے، محبت تو عین وصل کے درمیان بھی پھوٹتی ہے اور ہجر کے بیچ بھی اگتی ہے۔کسی کا حاصل ہوتا ہوا بدن اور دماغ پر تیرتی ہوئی اس کے جسم کی بھینی یادیں، یہ سب مل کر ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی ہیں۔محبت کا دوامی تصور عام ذہنوں کا پیدا کیا ہوا ہے، ورنہ محبت تو وہ شے ہے، جو ایک وقت کے بعد اگر اپنا اثر نہ کھوئے تو بوجھ بن جائے۔کسی چیونگم میں موجود مٹھاس کی طرح یا پھر پھول میں موجود خوشبو کی طرح محبت کو ایک روز مرنا ہوتا ہے۔ختم ہونا دراصل ہر شے کا انتہائی حسن ہے، اختتام سے زیادہ بہتر بات اور کوئی ہوہی نہیں سکتی۔صدر نے انہی دنوں ایک تصویر بنائی تھی، جب وہ این کے بہت قریب تھا، جس میں ایک مرد اپنے ہاتھوں میں کسی لڑکی کے دو پستان لیے کھڑا تھا، اور دونوں پستان آہستہ آہستہ پگھلتے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔این جاننا چاہتی تھی کہ پستانوں کے پگھلنے کا کیا مطلب ہے۔صدر کا موقف تھا کہ پگھلتے ہوئے پستان دراصل لڑکی کے پستانوں کے پنرجنم کی داستان بیان کررہے ہیں۔ہر بار جب ایک نیا تعلق لڑکی کسی سے بناتی ہے تو اس کے پستانوں کا ایک نیا جنم ہوتا ہے، ان کی سختی کا، وہ ایسی مٹھیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جن کے اندر بے انتہا شکنیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی موجود ہوں۔جیسے جیسے یہ مٹھیاں صنف مخالف پر کھلتی ہیں ، پگھلتی جاتی ہیں۔ان کی تیزی، چستی اور ایک آسیبی و تیزابی کیفیت میں فرق آتا جاتا ہے۔تو این سوچنے لگی کہ کیا اس مختصر سے عرصے میں اس کے پستان بھی گھل رہے ہیں، پگھل رہے ہیں، کیا اسے اس عمل سے خود کو بچانا چاہیے۔اس نے اضطراری طور پر صدر سے پوچھا، پھر انسان کسی کے فراق میں پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔کیا تمہارے نزدیک کسی کی دوری سے پڑنے والے شدیدنفسیاتی اثر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، کیا وہ متھ ہے، یہ گتھی تم کس طرح سلجھائو گے۔صدر کہتا تھا کہ گتھیاں سلجھانے والی چیز نہیں ہیں، وہ تجربے سے خود بخود سلجھنے لگتی ہیں،دنیا کی کوئی ایسی محبت نہیں، جس میں ایک وقت کے بعد بیزاری نہ پیدا ہوجائے۔این کا اصرار اس بات پر تھا کہ یہ ایک سخت گیر قسم کا بیان ہے، جس کا اطلاق تمام زندگیوں اور ذہنوں پر نہیں کیا جاسکتا۔مگر صدر کہتا تھا کہ فطرت ایک ہی چیز کا اطلاق کرتی ہے، اور جب کسی شے پر ایک ہی بات کا اطلاق نہیں ہوپاتا تو پھر اس سے دوسری چیز پیدا ہوجاتی ہے۔عورت، دراصل مرد کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔جس کے بگاڑ نے ہی اسے مرد سے علیحدہ کیا ہے، اسی طرح جس طرح دوسرے چرند پرندانسان سے الگ ہیں۔این کو اس لفظ’بگڑنے’ پر شدید اعتراض تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ صدر عورت کے معاملے میں کسی ناقد کا سا رویہ اختیار کررہا ہے۔اس نے اس بات پر شور مچانا شروع کردیا۔’عورت ہی کیوں بگڑی ہوئی شکل ہوگی، مرد بھی تو ہوسکتا ہے، مرد کے پاس ویسے بھی عورت سے زیادہ جنسی کشش کا سامان نہیں ہے، اس حساب سے تو عورت مرد کی ایک ارتقائی شکل ہے، عورت کا پورا بدن ایک جنسی آبجیکٹ کے طور پر ہمارے معاشروں میں قبول کیا جاچکا ہے۔کوئی اوپر سے کتنی بھی شرافت کا اظہار کرے، کھوکھلے بیانات یا اخلاقیات کی فہرست کو سینے پر ٹائی کی طرح ٹانگ کر گھومتا رہے، مگر عورت کے معاملے میں ہر مرد ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، اسے بستر پر عورت کے مسکراتے یا چیختے ہوئے پستانوں کا انتظار رہتا ہے۔یہ اس لیے ہے کیونکہ مرد کو اس معاملے میں پوری طرح عورت پر منحصر ہونا پڑتا ہے اور جب وہ عورت پر سے اپنا انحصار ختم کردیتا ہے تو دنیاکے مہذب معاشرے اسے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ عورت مرد کی ہی کوئی بگڑی ہوئی شکل ہے۔صدر کہتا تھا کہ بگاڑ کا لفظ منفی نہیں ہے۔اسے منفی اس ذہنیت نے بنایا ہے، جس نے تمہیں عورت اور مجھے مرد کا خطاب دیا ہے۔ہم نے لفظوں کو چیزیں کی شناخت کے لیے ایجاد کیا تھا، لیکن پھر ہم ان شناختوں سے گھبرانے لگے۔این نے کہا کہ ظاہر ہے اگر تم مرد کو عورت کی بگڑی ہوئی شکل نہیں کہتے یا اس کی ارتقائی شکل نہیں مانتے ہو تو تم بھی تو اس شناخت سے گھبراہی رہے ہو۔صدر کو اب اپنا مقدمہ دوسری طرح بیان کرنا پڑا۔اس نے بتایا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لفظ بگاڑ کی جگہ ہم اسے عورت کا ارتقائی عمل بھی کہہ سکتے ہیں اور پھر مرد بھی تو کسی نہ کسی جانور کی بگڑی ہوئی شکل ہی ہے۔بگڑنا دراصل بننے کا ابتدائی مرحلہ ہے، ایک شے جب دوسرے سے بگڑتی ہے تو وہ بغاوت کرکے اپنا ایک نیا راستہ پیدا کرتی ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، میرا نہیں۔ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ہمارے آس پاس بگڑ رہی ہوتی ہیں، مگر ہم ان پر دھیان نہیں دیتے۔جیسے کہ ہمارا جنسی عمل ، باقی لوگوں کے جنسی عمل سے جتنا کچھ بھی مختلف ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ وہی بگاڑ یا بغاوت ہے جو ہمیں ایک ہی جیسا ہونا یا دوسروں جیسا ہونے سے روکتی ہے۔سو عورت نے بھی کسی ایک وقت میں فطرت کے اسی رویے سے بغاوت کرکے اپنے سینے پر ان دو گنبدوں کو ابھارا ہوگا، سوچو ابتدا میں جب آدمی نے عورت کا سینہ بدلتا ہوا دیکھا ہوگا، جب اسے محسوس ہوا ہوگا کہ کوئی تبدیلی آرہی ہے، یہ تبدیلی کیا ہے اور کیسی ہے، ان سوالوں نے چاہے اسے ڈرایا ہو یا چونکایا ہو، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ عورتوں نے اور مردوں نے اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے بطور حسن بھی تسلیم کیا، اندرونی بغاوتیں ہوں یا بیرونی، ظاہری ہوں یا باطنی ، ایک وقت کے بعد اپنے شباب پر آتی ہیں، خود کو منواتی ہیں اور ان کی جدو جہد کا راستہ جتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، ان کی خوبصورتی بھی اسی حد تک تسلیم کی جاتی ہے۔مشرقی سماجوں نے پستانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے ساتھ جنسی عمل کے جتنے طریقے دریافت کیے گئے، اتنے تو عورت کی گلابی یا سیاہ جھلیوں کے ساتھ بھی وجود میں نہ آسکے۔اور پھر جدید اور مہذب قسم کی روایتیں، ان پستانوں سے خوف کھانے لگیں، یعنی وہی پستان جو ایک طویل اور خوفناک قسم کی بغاوت کا نتیجہ تھے اور جن کو حسن کی دو عظیم آماجگاہوں کے طور پر ہمارے ذہنوں نے قبول کیا تھا۔جدید معاشرے نے انہیں بھٹکانے والا، پریشان کردینے والا اور مرد کے لیے خطرناک حد تک مضر ثابت کیا۔یہاں تک کہ عورتوں کو بھی یہ باور کرادیا گیا کہ ان کے سینے ، ان کے ابھار سمیت ، معاشرے کے لیے ایک ایسی لعنت ہیں، جن کا ظاہر ہوجانا خود ان کے لیے بھی سفاک ترین حد تک مصیبت میں ڈالنے والا عمل ہے۔

 

اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔جنس کو وہ بھی اہمیت دیتی تھی ،لیکن لطف لینے کی حد تک، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس دور میں، اتنے روشن خیال عہد میں جہاں صنفی امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔عورت اب ایک جنسی آبجیکٹ نہیں رہ گئی ہے،و ہاں صدر کو ایسی پینٹنگز بنانے سے کیسے روکا جائے۔وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا وہ مکمل طور پر صدر کو غلط قرار دے سکتی ہے، پھر اسے خیال آتا کہ غلط یا صحیح کا پتہ نہیں لیکن اب اسے صدر سے ڈر لگنے لگا تھا، رفتہ رفتہ اس کے اندر سے وہ جنسی ہیجان بھی غائب ہورہا تھا جو پہلے اس سے مختلف قسم کے تجربے کرواتا تھا، انہوں نے اب تک بہت سے مختلف مقامات پر عجیب عجیب طرح سے جنسی عمل کو انجام دیا تھا، کبھی برسات میں بھیگتے ہوئے، کبھی جان بوجھ کر فلیٹ کی سلائڈنگ کھول کر ، وہ پڑوس کے ایک بالکل نوجوان لڑکے کو یہ خوبصورت عمل دکھایا کرتے تھے، وہ کنکھیوں سے اس پورے عمل کو دیکھا کرتا، اس کے اوپری ہونٹ پر جگمگاتے ہوئے بھورے روئیں تن جایا کرتے تھے، انہوں نے اپنے وصال میں بہت سی دوسری قدرتی اور غیرقدرتی چیزوں کو شامل کرلیا تھا، جیسے وہ اکیلے نہ ہوں، جیسے اب وہ دنیا کو ، دیکھنے اور سونگھنے والی صلاحیتوں کو اپنی سسکیاں سنانا چاہتے ہوں۔مگر این سمجھتی تھی کہ صدر کا پستانوں کے ساتھ خاص قسم کا لگائو اسے جنونی بنارہا تھا، وہ این کے داہنے پستان کو منہ میں بھر کر اس پر دانتوں کی تیز ضربیں لگایا کرتا، اپنی مٹھیوں سے انہیں ایسے بھینچتا ، جیسے کوئی طاقت ور دیو ، کسی کلی کو مسل رہا ہو۔تنے ہوئے پستانوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات وہ اس کے جھولتے ہوئے ، نرم اور گدگدے ابھاروں کو بھی نہیں بخشتا تھا، وہ اپنے عضو تناسل کو این کے پستانوں کے درمیان رکھ کر دو ابرقوں میں پیدا کی جانے والی رگڑ کی طرح اسے گھسنے کی کوشش کرتا۔این ہانپنے ہی نہیں، کانپنے بھی لگتی، اس کی بانچھوں سے اففف کی لمبی لکیروں کے جھاگ نکلا کرتے اور فضائیں اس کی چیخوں اور گھٹی ہوئی سسکیوں سے محبوس ہوجاتیں۔مگر وہ نہ مانتا تھا۔آدھے بدن کے اس عجیب بڑھتے ہوئے شور میں اس کی ننھی سی جان دہک دہک کر ہلکان ہوئے جارہی تھی،جب بستر آگ روشن کرتے، سانسیں، پھنکاروں میں بدل جاتیں، لفظ غائب ہوجاتے اور پیروں پر پیروں کے آہنی گرز اپنا بوجھ اتار دیتے تو بمبجوری این کو اپنی جھلیوں میں اپنی ہی انگلی کو اتارنا پڑتا، وہ وہاں سے نکلتی ہوئی دھار میں اپنے چیختے ہوئے وجود کی پتلی سی لکیر کو تر کرتی، کئی بار اس نے کوشش کی کہ صدر کا وجود اس کی شرمگاہ کے غاروں میں بھی اترے، لیکن اول تو وہ ادھر کا رخ بھولتا جارہا تھا، وہ غاروں سے نکل کر چٹانوں کی سیر کرنے میں زیادہ خوشی اور کرب محسوس کرتا، بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وہ پستانوں کو کستے کستے رونے لگا، انہیں بھینچتے بھینچتے اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور اس کی آنکھوں میں ڈھیروں لعل دھڑ دھڑ کرنے لگے۔مگر ان آتشیں نگاہوں، ان برق رفتار آنسوئوں کی وجہ سے بھی اس کا وجود تھمتا نہیں تھا، وہ جب نڈھال ہوتا تو اکثر اوقات این کی بھوک اپنے شباب پر ہوا کرتی تھی، وہ اس ادھورے عمل سے اکتاتی جارہی تھی اور اسے خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر کا جنون اس کی بھوک بڑھادے اور اس کے پستانوں کو ایک روز کھینچ کر اس کے سینے سے علیحدہ کردے۔

 

حالانکہ یہ ڈر بھی اتنا ہی غیر معقول سا تھا جتنی کہ صدر کی پستانوں کے متعلق منطق۔وہ واقعی ایک ایسی متھ تھی، جو اس نے خود گڑھی تھی، وہ اس کتاب میں لکھے ہوئے غیر معروضی قصوں سے بہت آگے بڑھنے لگا تھا، جن کو وہ کچھ عرصے تک خود ہی بے ڈھب اور بے مصرف خیال کرتا تھا۔مگر پستان ، اب اس کے وجود کا حصہ بنتے جارہے تھے ، این نے ایک روز دیکھا کہ بھیانک رات ہے، وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی ہے، سامنے سے ایک بھورے بالوں والی ریچھنی پر سوار ہوکر صدر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، صدر کے سینے پر دو بہت بڑے بڑے پستان اگ آئے ہیں، وہ ریچھنی کے پستانوں میں اپنے سینے کو انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے دھندھکتا ہوا موجود تھا، وہ خود بھی تھوڑی دور پر اوندھی لیٹی تھی، مگر وہ وہیں موجود تھی، بالکل عین اس ریچھنی اور صدر کے سامنے۔صدر کے اس پاگل پن کو دیکھتے ہوئے، وہ اچانک اسے روکنے کے لیے اٹھی ، مگر یہ دیکھ کر اس کی گگھی بندھ گئی کہ اس کا سینہ سپاٹ ہے، بالکل سپاٹ۔اس نے ررھیاتے ہوئے صدر کی طرف دیکھا، وہ این کے پستانوں کو ریچھنی کے کولہوں پر باندھ رہا تھا، عجیب سی رنگ برنگی دھجیوں کی مدد سے۔اپنے سپاٹ سینے کو دیکھ کر این بہت دیر تک چیخنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے اپنے انگوٹھے کے نیچے اس کی حلق کے عین درمیان آواز کو دبایا ہوا ہے، اور جب وہ چیخی تو دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ صدر، نہ ریچھنی ،دو چمکتے ہوئے پھسلواں گلابی رنگ کے گول گول کٹوروں کے نیچے اس کے پستان محفوظ تھے۔صدر کمرے میں نہیں تھا اور یہ سناٹا بھائیں بھائیں کرکے، اس کی وحشت کو اور بڑھا رہا تھا۔رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا، وہ اٹھی، اس نے کرتا پہنا اور سلائڈنگ میں جاکر کھڑی ہوگئی، اب وہ شعوری طور پر اپنے ذہن کی آنکھ کھلی رکھ کر اپنے پستانوں کا مستقبل طے کرنے جارہی تھی۔

 

پستان جو اس ہلکے خنک ماحول میں دھڑکنوں کے ہنڈولے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔

 

نیچے اندھیرا تھا۔شفاف اندھیرا، جس میں سے جھانکتے ہوئے چھدرے کمپائونڈ کی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔نہ جانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔اس کا جی چاہا کہ وہ سگریٹ پیے، مگر اسے ڈھونڈنا پڑتا اور اس وقت وہ ہلنے ڈلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وقت بیتتا رہا، جیسے اس کا تمام بدن اپنے پستانوں کی موجودگی پر خوش ہے اور ہوائیں، اس کی زلفوں، گردن کے روئوں اور پستانوں کو لوریاں سناتی رہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صدر کی آنکھ کھلی تو این جاچکی تھی۔ایک چھوٹا سا نوٹ فرج کے اوپر لگا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا۔

 

‘میں جارہی ہوں، کیونکہ میں ابھی تک اپنے پستانوں کی موجودگی پر مطمئن ہوں۔بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جس کتاب کو پڑھ کر بہک رہے ہو، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ سائنس سے زیادہ ایک فکشن کی کتاب ہے۔اور وہ کتاب تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے آرٹ کو بھی خود میں ضم کرتی جارہی ہے۔ہوسکے تو اس وہم سے خود کو باہر نکالو۔میں صرف تمہاری اتنی ہی مدد کرسکتی تھی کہ وہ کتاب تمہاری نگاہوں سے دور لے جائوں۔شاید یہی تمہارا علاج ہو۔اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔’

 

صدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے این کے پستانوں کے ساتھ کوئی وہمی قسم کا سلوک کیا ہو۔
Categories
فکشن

پستان ۔ بارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دریا ان دنوں چڑھا ہوا تھا، پانی کی آوازیں، چڑیوں کی شور مچاتی ہوئی منقاروں سے مقابلہ کررہی تھیں۔ ایک طرف تنہا اور پھیلے ہوئے آبی وجود کی گرج تھی تو دوسری جانب بہت سے ننھے منے جسموں کا اتفاق۔ ایک سمت تھل تھل کرتے پیٹ سے اگلی جانے والی شور آور ڈکاریں تھیں تو دوسری طرف باریک جھلیوں میں لپٹٰے ہوئے بازیچہ نما پھیپھڑوں کی یورش۔ دیکھنے پر ایسا بھی معلوم ہوتا تھا کہ ایک منظر دوسرے منظر کو پیدا کررہا تھا، ایک تماشے سے دوسرا تماشہ جنم لے رہا تھا، جیسے چیختے ہوئے ہونٹ، روتے ہوئے بچوں کو جنم دیتے ہیں، جیسے گرجتی ہوئی بجلیاں، راتوں کا سیاہ لباس تبدیل کرتی رہتی ہیں۔سب کچھ یونہی جاری رہتا ہے، اور اس وقت بھی جاری تھا، جب ریت کے پسرے ہوئے دامن پر دھنسی ہوئی چمکیلی سرمئی پنڈلیوں پر چڑھے ہوئے جنیز کے پائنچے، پانی کی گدلاہٹ اور ریت کی بھربھراہٹ میں لتھڑے ہوئے تھے، این ایک ہلکے ٹی شرٹ کو پہنے ہوئے، دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر کے نیچے سجائے ہوئے تھی اور مٹتی ہوئی، شکست کھاتی دھوپ میں اس کی بند آنکھیں، اندر سے ایک سرخ و زرد منظر بنارہی تھیں، پھر وہ منظر دھیرے دھیرے سرمئی ہوتا گیا، جیسے سورج آج پانی کے بجائے ریت کے پیچھے چھپ رہا ہو، اسی میں جذب ہورہا ہو۔اس کے سینے پر ‘پستان’ نامی وہی کتاب رکھتی تھی، جس کے مطالعے کے لیے اس نے اپنے باپ کے ہوٹل میں بغیر اجازت ایک اجنبی کے کمرے میں جانے کا خطرہ مول لیا تھا۔کتاب اوندھی رکھی ہوئی تھی، اس کا ابتدائی صفحہ پھڑپھڑارہا تھا، جو کہ ہلکے رنگین کاغذ کا تھا، وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی نسخہ تھا یا نہیں۔این پوری طرح سوئی نہیں تھی اور اس کے دماغ میں اسی کتاب کی چند سطریں گونج رہی تھیں جو کہ ان مردوں کے تعلق سے لکھی گئی تھیں، جن کے پستان عام طور پر زیادہ موٹے اور ابھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جن میں ایک قسم کی نسوانی چمک بھی آجاتی ہے، ساتھ ہی ایسی عورتوں کا ذکر تھا، جن کے پستانوں پر بال اگ آیا کرتے ہیں۔ مصنف کا ماننا تھا کہ ایسے تمام پستان جنہیں عام طور پر غیر قدرتی اور غیر فطری خیال کیا جاتا ہے، انسانی زندگی کی ضرورت ہیں، بالوں والے پستانوں کے تعلق سے اس کا کہنا تھا کہ ایسے پستانوں میں دودھ، عام اور چکنے پستانوں سے کہیں زیادہ بنتا ہے،اس کی تکنیکی وجوہات پر بھی اس نے روشنی ڈالی تھی،مگر ایک جملہ ایسا تھا جس کو سمجھنے کے لیے عملی طور پر تجربہ کرنے کی ضرورت تھی، مصنف نے ایک واقعے کا ذکر کیا تھا، جس میں ایک ٹھنڈے ملک میں رہنے والا سفید فام مرد پستانوں کے لیے اس قدر جنونی ہوگیا تھا کہ وہ ان عورتوں کو دوران جنسی عمل قتل کردیتا تھا، جن کے سینے سے سفید یا سرخ رنگ کا لبلبا مادہ نہ نکلتا ہو۔سفید رنگ کے لبلبے مادے سے دودھ کو تشبیہ نہیں دی جاسکتی، پھر وہ کیا چیز تھی، سرخ رنگ کا لبلبا مادہ خون ہوسکتا ہے یا نہیں، وہ اس معاملے میں کنفیوز تھی۔وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی ناف پر دو انگلیاں رینگنے لگیں،اس نے آنکھیں نہیں کھولیں، ان انگلیوں نے ٹھیک اسی طرح اس کے بازوئوں کے رونگٹے کھڑے کردیے تھے، جیسے کانوں کے پاس کپکپاتے ہوئے ہونٹ، کنپٹی کے بالوں کو اچکانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔وہ ان انگلیوں کی سرسراہٹ سے اچھی طرح واقف تھی، یہ ہلکی گرم اور جوان انگلیاں سوائے صدر کے اور کس کی ہوسکتی تھیں۔اس نے آنکھیں بند کیے کیے ہونٹ ہلائے۔

 

‘ایک بات پوچھنی ہے؟’

 

‘ہمم۔۔۔ضرورپوچھو’

 

‘ پستانوں سے نکلنے والا سفید و سرخ رنگ کا لبلبا مادہ کیا ہوسکتا ہے؟’

 

انگلیاں ابھی بھی ناف پر تیر رہی تھیں، مگر ان کی بے قراری میں کچھ کمی آگئی، ایسا لگتا تھا جیسے ڈوبتی ہوئی مضطرب ٹانگیں، ہولے ہولے ٹھنڈی پڑتی جارہی ہیں۔تھوڑی دیر خاموشی رہی تو این نے آنکھیں کھول دیں۔’کیا سوچ رہے ہو؟’

 

‘ تم یہ کتاب مت پڑھا کرو۔۔۔’

 

‘کیوں؟

 

‘ کیونکہ تم اسے تحقیقی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو، جبکہ یہ ایک مکمل اور خالص تخلیقی کتاب ہے۔اس میں بہت سے واقعات ایسے ہیں، جو آج کی سائنسی اور معروضی دنیا میں بالکل بے جواز معلوم ہوتے ہیں۔اب جس واقعے کو پڑھ کر تم یہ سوال مجھ سے کررہی ہو، میں نے اس سے ایک بہت خوبصورت بنائی تھی، سفید و سرخ رنگ کا مادہ، اور وہ بھی لبلبا۔ہماری متھ بتاتی ہے کہ انسان کیچڑ سے بنا ہے، یعنی ایسی مٹی سے جو بجتے ہوئے گارے کی طرح ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انسان کا رنگ سمینٹی ہونا چاہیے تھا، مگر کیچڑ کے لبلبے ہونے میں کیا شک ہے۔اب اس سوکھی ہوئی کیچڑ سے جو چیز باہر نکالی جائے گی اور خاص طور پر جب وہ مائع شکل میں ہو تو اسے گاڑھے سرخ اور سرمئی رنگ کی آمیز ش سے تیار شدہ ہونا چاہیے۔ تم کہہ سکتی ہو کہ مصنف نے جس مرد کی نفسیات بیان کی ہیں، وہ صرف اسی مرد کا مسئلہ نہیں ہے، ہم کیا کرتے ہیں،دراصل ہماری پوری زندگیاں عورتوں کے پستان کھاتے اور پھاڑتے ہوئے ہی گزرتی ہے، وہ شخص جو اس سے اپنے حصے کی مٹی لے رہا ہے، خوراک حاصل کررہا ہے، اور گاڑھا سفید رنگ کا مادہ اپنے جسم میں انڈیل رہا ہے دراصل وہ اس سے کیا بنائےگا، خون ہی تو بنائے گا۔مان لو، ایک عورت یہ سفید رنگ کا مادہ دینے میں کامیاب نہ ہو تو، اگر وہ بانجھ ہو تو، تو اس کے پستانوں کا کیا مصرف؟ پستانوں سے دنیا کے ہر مرد کا تعلق ہے، ان مردوں کا بھی، جنہوں نے مائوں کی چھاتیوں کو منہ نہیں لگایا، کیونکہ وہ بھی مختلف جانوروں کی سیاہ اور بھوری، سفید اور خاکی رنگ کی چھاتیوں سے نکلنے والے سفید رنگ کے مادے پر ہی خون بناتے آئے ہیں۔ایسے تمام جانور اسی لیے پستانیہ کہلاتے ہیں۔

 

وہ اپنی دھن میں بولے جارہا تھا اور یقینی طور پر ابھی اور بھی کچھ کہتا کہ این نے اسے ٹوک دیا
یہ کوئی بات نہیں ہوئی، تم ابھی بھی لبلبلے کا جواز نہیں دے پائے ہو، مجھے تو لگتا ہے کہ مصنف سے زیادہ تمہارا اپنا ذہن ایک عجیب سی اپج کا شکار ہے۔عورت کے پستان اور جانور کے پستان کو تم آپس میں ملارہے ہو،اسی کتاب میں ذکر ہے کہ بہت سے قدیم معاشروں میں پستانیہ کا لفظ عورت کے لیے بھی مستعمل تھا۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے، میں جاننا یہ چاہتی تھی کہ وہ لبلبا مادہ کیا ہے۔عورت کے سینے سے نکلنے والے دودھ اور کسی جانور کی پنڈلیوں میں جمع گودے میں کچھ تو فرق ہوگا، مصنف انہیں کیسے ملا سکتا ہے۔

 

یکدم صدر کو کچھ سوجھا اور اس نے کہا’رکو، شاید میں نے اپنی تصویر میں، جب کہ میں نے اسے بنایا تھا، اسے زیادہ بہتر طور پر واضح کیا تھا۔کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گی؟

 

این نے اثبات میں جواب دیا، کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں صدر کے اپارٹمنٹ میں مچان سے ایک لکڑی کا ایسا فریم نکالنے میں مصروف تھے، جو بہت سی دوسرے فریموں میں پھنس کر رہ گیا تھا، احتیاط کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ اس کا کینواس جو کہ کپڑے کا تھا، ذرا سی کھینچ تان میں پھٹ سکتا تھا۔بمشکل جب وہ پینٹنگ باہر نکل آئی تو اس پر جمی بہت سی دھول کو ایک صافے کی مدد سے جھاڑ کر الگ کیا گیا، باہر کا اندھیرا دبیز ہوتا جارہا تھا، کمرے کی لائٹٰ جل چکی تھی، دھول بھری آنکھوں سے این نے اس پینٹنگ کو دیکھا، جس میں ایک طرف کوئی مردانہ ہیوالا عورت کے سینے پر سوار تھا، عورت کے پاس صرف ایک بڑا سا گنبد نما پستان تھا جو سینے پر کسی مقدس عمارت کی طرح دمک رہا تھا، مرد کا سرہلکا سا اس پر جھکا ہوا تھا، جبکہ اس کی دو نوں ہاتھ اوپر کو اٹھے ہوئے تھے، ایک میں نکیلا، چمکدار چاقو تھا اور دوسرے میں ایک سانولے رنگ کا موٹا اور شکن آلود عضو تناسل، جس کے منہ پر ہلکا سفید رنگ لپیٹا گیا تھا، عورت کا منہ تو نہیں دکھایا گیا تھا، مگر پورے سر کی جگہ صرف دو کھلے ہوئے ہونٹ تھے، جن کے اندر بہت سے ستارے چمکتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ این ابھی اور غور سے اس پینٹنگ کو دیکھنا چاہتی تھی کہ صدر نے اس کے بازو کو پکڑ کر اسے بائیں سمت پینٹنگ سے کافی دور لے جاکر کھڑا کردیا اور کہا

 

‘اب یہاں سے بھی دیکھو!’

 

این ہلکی سی چڑچڑی نظروں کے ساتھ صدر کو دیکھ کر دوبارہ پینٹنگ میں داخل ہوگئی، یہاں سے دیکھنے پر عورت کے سینے پر دو پستان نظر آتے تھے، دونوں کی سائز میں ہلکا سا فرق تھا، مگر اب مرد پینٹنگ سے غائب تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پستانوں کے دو سینگ اگ آئے ہیں اور ان سینگوں پر مزید سینگ نکلے ہوئے ہیں۔ایک طرح سے یہ پورا منظر اب بارہ سنگھے کی اس کھوپڑی کی طرح معلوم ہورہا تھا، جس کو کسی جنگلی اور سوکھے ہوئے پیڑ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔این سمجھ نہیں پارہی تھی کہ صدر نے ایسا کیوں کیا، اس نے ایک ہری بھری، سر سبز چھاتی سے بھرپور منظر کو کیوں ایک بنجر کھوپڑی اور سینگوں کی اوبڑ کھابڑ دنیا میں تبدیل کردیا، اس پینٹنگ کو بناتے وقت اس نے لامحالہ فنکاری دکھائی تھی، مگر یہ فنکاری اس کے قنوطی ہونے کی دلیل بھی تھی، لیکن پاس جانے پر وہ منظر بدل بھی تو جاتا تھا، لیکن صدر نے پہلے اسے یہ مایوس منظر کیوں نہ دکھایا،این سوچتی رہی، زندگی بھی تو پہلے سرسبزی و شادابی ہی دکھاتی ہے، دنیا میں انسان کا سامنا سب سے پہلے ایسی ہی بھری ہوئی چھاتیوں سے ہوتا ہے، انہی بھری ہوئی چھاتیوں سے زندگی نکلتی ہے اور انسان کی شریانوں میں داخل ہوجاتی ہے، پھر ایک دن مرد کے سینگ نما عضو تناسل سے نکلنے والے ایک گاڑھے سفید رنگ کے مادے سے خون کی ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے، جو عور ت کی چھاتیوں تک پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے شروع ہوتا ہے، ایک نیا سفر۔پتہ نہیں وہ جو کچھ سمجھ پائی تھی، اتنا ہی آسان تھا، یا اس کی سوچ ہی سطح تک رکی ہوئی تھی،لیکن کیا ضروری ہے کہ ہر بات کو نہایت مبہم بنایا جائے۔آخر سمجھ میں آتے ہی ہر بات اتنی ہلکی اور بے جان کیوں معلوم ہونے لگتی ہے، جیسے اس میں کوئی نکتہ ہی نہیں، کیا سلجھی ہوئی گتھیوں اور حل کی جاچکی پہلییوں سے زندگی کا کوئی واسطہ نہیں،ان کا کوئی مقدر نہیں۔وہ چاہتی تھی کہ یہ صدر سے اس پینٹنگ کا مطلب پوچھے، مگر جانتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کہے گا، کبھی نہیں، اسے اپنی پینٹنگ کی تشریح و تعبیر کرنا کرانا بالکل پسند نہیں تھا۔وہ تو ایسے لوگوں کو پینٹنگز بیچنا بھی پسند نہیں کرتا تھا، جو انہیں مکمل طور پر سمجھ لینے کا دعویٰ کرتے ہوں۔

 

باہر اذان کی آواز بلند ہوئی، کہیں دور سے ہی سہی، مگر اس کی لہر نے این کے انہماک کے شیشے پر پتھر کا سا کام کیا۔اس نے کمرے میں دیکھا تو سب سے پہلے اسے ہلکا دھواں دکھائی دیا، صدر ایک خوشبو دار لوبان کہیں سے لایا تھا، ان دنوں وہ روز شام کو اسے سلگاتا تھا، اس کا ماننا تھا کہ یہ لوبان اس کے ذہن کو بہت سکون پہنچاتا ہے، ہلکے دھویں کی موج میں این نے اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، سفید اور سانولی چھلنیوں میں سے صدر کا چہرہ بالکل کسی پیغمبر یا اوتار کی طرح سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ این نے جینز کی جیب میں ہاٹھ ڈال کر ایک ہلکے نیلے رنگ کا سفوف نکالا اور منہ میں یوں ڈالا جیسے چھوٹے بچے پانی کے ننھے ننھے نوالوں کے سانس کے ساتھ پھٹک لیتے ہیں۔اچانک ساری دنیا رقص کرنے لگی، اس نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے دھیان میں بیٹھے صدر پر دھاوا بول دیا، نئے زمانے کی مینکا اور فنکاروشوامتر کے ادھ کھلے ننگے بدن پر جھول گئی، اس کا کے پستانوں نے جب چکنی پیٹھ پر ہلکی رگڑ پیدا کی تو چقماق کی طرح روشنی اور اگن نے ایک ساتھ صدر کے دماغ پر دھاوا بول دیا، لوبان کی بو میں نشہ تھا یا این کی سانسوں میں، مگر صدر دھیان کی دنیا سے نکل کر جنس کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور ہوگیا۔ این پر جیسے عجیب قسم کی افتادہ کیفیت طاری تھی،وہ صدر کے کپڑے، جو کہ اس کے بدن پر پہلے بھی محض جھول رہے تھے، نکالنے کے بجائے پھاڑنے لگی، وہ دونوں ایک دوسرے کے جسموں کو نوچتے ہوئے، کاٹتے اور چباتے بیڈروم سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آگئے، جہاں ہلکا اندھیرا تھا، جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔اسی قسم کے وحشیانہ رقص میں پتہ نہیں کب این بے ہوش ہوکر گری، صوفے کے ہتھے سے اس کا سر ٹکرایا اور وہ فرش پر آرہی، مگر صدر اپنی پیاس کے بے چین بارہ سنگھے کی اوبڑ کھابڑ شاخوں والی کھوپڑی کو اس کی گرم اور لبلبی، بے جان اور سرد ظلمتوں والی آغوش میں دھکیلتا رہا، یہاں تک کہ ایک سفید لبلبے مادے نے ابل کر سانسوں اور دھڑکنوں کی اس بے تاب ریل کو سبز کپڑا نہیں دکھادیا۔ تھوڑی دیر وہ پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ، این کے بے جان بدن پر پڑا اونگھتا رہا، پھر نیم غنودگی کے عالم میں اٹھا اور اپنے کمرے کے دروازے کو دھکا دے کر بستر پر اوندھ گیا،دروازہ پورا بند ہوجاتا، مگر زور لگنے کی وجہ اس کا سٹاپر جو کہ ڈھیلا ہوچکا تھا، اپنے آپ زمین پر گرایا اور ہوا کے اس اجلے شور سے سائڈ ٹیبل پر رکھی بیئر کی ایک خالی بوتل نہ جانے کب، زمین پر گری اور لڑھکتی ہوئی دروازے کے باہر نکل کر صدر کی طرح خاموش اور این کی طرح بے جان ہوگئی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان۔ گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-11
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بھری بھری سانسوں کی آواز آرہی تھی، جیسے نرخرے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہو، بلغم یا پھر کٹھل کا کوئی بیج۔ مرنے والا ایسی سانسیں نہیں لیتا۔ بدلتے ہوئے گہرے سرد اور ہلکے سرخ اجالے میں ایک شخص اپنی ہی کھال کی پوشاک پہنے ہوئے بستر پر الٹا پڑا تھا، کولہوں پر سے ڈولتی ہوئی ایک سفید رنگ کی چادر اس کو اور زیادہ لائق دید بنارہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ آس پاس کی ساری چیزیں اسے گھور رہی ہیں، دیکھ رہی ہیں اور مستقل اس کے وجود میں اپنے نکیلے اور تیز ناخن اتار کر اس کو لہو لہان کردینا چاہتی ہیں۔ آس پاس بکھری ساری کھردری اشیا کو اس بدن سے الجھن ہورہی تھی۔ بستر اور بدن کے درمیان گونجتی ہوئی دھک دھک کی صدا نے پورے ماحول کو موت کی آہٹوں سے ہم آہنگ کردیا تھا۔ ہواؤں کا تجسس پھیکا پڑتا جارہا تھا کیونکہ وہ کب سے بند دروازے سے اپنا سر مارے جارہی تھیں، باہر ڈرائنگ روم کا دروازہ بھٹم بھاٹ کھلا ہوا اتھا، جیسے کوئی چور اچکا اس پورے شہر میں نیندوں کی پھیلتی ہوئی سیاہی میں غوطہ نہ لگانا چاہتا ہو۔شراب کی ایک بوتل دروازے کے پاس چٹخی ہوئی پڑی تھی اور اس کا ڈولتا ہوا بے روح وجود بار بار دروازے کے سٹاپر سے ٹکرارہا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے پوری فضا غنودگی میں ہے، ہر شے کی پلک بھاری ہے اور نیند کی بلیا ں اپنے پھولے ہوئے ، گدگدے جسم کے ساتھ اس خاکی قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی ہیں، آوازوں پر چونک کردیکھنا اور پھر اپنے منہ کو بغل میں دبا لینا، کب سے اس ہلکی شفق مائل اداس کردینے والی دنیا میں یہی کھیل تماشا جاری تھا۔لیکن باہر ڈرائنگ روم میں کوئی وجود اپنے سائے سمیت صوفے کے نیچے اپنا ایک ہاتھ پھیلائے دراز تھا، اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ساکت جسم کی بے جان پتلیاں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے جان نکل چکی ہے۔ ہونٹ ہلکے اودے ہورہے تھے اور ننگے بدن پر پھیلے ہوئے ، گول اور چکنے سینے میں کھنچی ہوئی سبز رگوں کے جال پر لگتا تھا کسی نے کبودرنگ چھڑک دیا تھا۔کمر دو چار بار پھڑکی تھی اور ایک ننھا کیڑا ہتھیلی سے رینگتا ہوا بغل کے باریک پسے ہوئے بھورے گچھے کی طرف کسی گھونگھے یا کچھوے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ سیلنگ فین یوں چرچرارہا تھا جیسے کسی بات پر خفا ہو، اس کی ناراض نگاہوں میں دھول جمی ہوئی تھی ، اچانک نیچے پڑے ہوئے وجود کے پاؤں اکڑنے لگے، تمام انگلیاں ایک معدوم رسی سے باندھ کر کھینچی جانے لگیں، انگلیاں خون کے انجماد سے گھبرا کر پچکنے لگیں، کیا وہ خون کا انجماد تھا یا کچھ اور، لگتا تو یہی تھا۔ مگر لگنے سے کیا ہوتا ہے۔اچانک اس وجود کے نتھنوں سے چنگھاڑتی ہوئی ہوا نکلی، آنکھوں کی سٹی ہوئی پتلیوں میں حرکت پیدا ہوئی ، گال سرخ ہوگئے، کان کی لویں گہری لال اور سینے کے پھیلے ہوئے ننھے ننھے راستوں کے نقشے پر سے نیلے تھوتھیے کو جھاڑ کر گویا کسی نے کنارے سے لگادیا، اب وہاں پھر وہی سبز رنگ کی شام مسکرانے لگی، جس میں نیلاہٹ کے اجلے آثار صبح اور دوپہر کے ملے جلے رنگوں کی طرح اپنی نکھری ہوئی صورتیں ابھارنے لگے۔

 

این نے گھبراکر آنکھیں کھولیں، اپنے گال پر دو طمانچے مارے اور اس بات کی تسلی کی کہ وہ زندہ ہے، اس کی سانس اپنے پورے جوبن سمیت جسم کی اینٹوں میں چنی ہوئی ہے۔وہ مسکرائی،ایک لمبی سانس اس نے باہر کی سمت دھکیلی اور پھر ایک خیال کے آتے ہی دوبارہ اداسیوں کی پگڈنڈی پر رینگنے لگی۔اچانک اسے محسوس ہوا جیسے بغل میں کسی نے زور کی چٹکی لی ہے، بلبلا کر اس نے ایک سرعت میں میلے بھورے سے لپٹے ہوئے ایک ننھے وجود کو ہوا میں اچھال دیا، کچھ بال بھی ٹوٹ گئے تھے، اور جس جگہ چٹکی کا احساس ہوا تھاوہاں ایک سوجن زدہ سرخ دھبہ اجاگر ہوگیا تھا۔ وہ بغل اٹھا کر ترچھی نظروں سے دیکھنے لگی اور جب آنکھوں کا وجود اس دھبے کی گولائی کو پوری طرح اپنے دائرے میں لینے سے قاصر رہا تو این نے انگلیوں کے پوروں پر سجی اور سلی ہوئی بے شمار ننھی ننھی آنکھوں کو اس کام پر لگا دیا۔وہ نہ جانے کب تک اپنی بغل کو سہلاتی رہی۔ہلکی ہلکی گدگدی اور اداسی نے اس کے اندر ہنسی اور مایوسی کی بالکل متضاد اور مختلف دھاراؤں کو بدن کی ندی میں گرایا، آخر کار اس نے تنگ آکر گدگدی کے آبشار سے خود کو الگ کر لیا اور دھپ سے زمین پر لیٹ کر دوبارہ مایوسی کے اندھے غار میں گم ہو گئی۔

 

این جس رات صدر کے پاس آئی تھی، وہ مل نہیں سکا تھا، کسی دوست کے یہاں تھا، گھر میں تالا تھا، چنانچہ اس نے بھری رات کے پیٹ میں اتر کر پھیلی ہوئی سڑکوں کی آنتوں پر مجبوری میں ایک غلیظ ہوٹل کا سہارا لیا۔اس ہوٹل میں پوری رات وہ ایک بدبودار کمرے میں بیڈ پر ہلکی روشنی کا لباس اوڑھ کر عریاں حالت میں سوچتی رہی کہ صدر سے سامنا ہونے پر آخر کیا کیا باتیں ہونگی۔وہ ضرور ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی غلط بھی تو نہیں ہوگی۔وہ اور کچھ بھی سوچنا چاہتی تھی، مگر بدبو کا اثر اتنا گہرا تھا کہ دماغ پوری طرح اس کے شور میں ڈوبنے لگا، قریب ساڑھے چار بجے وہ بے تاب ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور اسی ننگی حالت میں رسیپشن پر چلی گئی، سیڑھی پر ایک گیلے اور گہرے اور سرمئی رنگ کے کتے نے اسے دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا، وہ اس کے برابر سے نکلی تو وہ ڈر کر بھاگا اور اپنے چکنے وجود سمیت لکڑی کی سیڑھیوں سے پھسلتا ہوا زمین پر گرا، اور بھاگتا ہوا رسپشن کے پیچھے چلا گیا ، اس کے منہ سے اب بھی ہلکی ہلکی غاؤں غاؤں نکل رہی تھی۔کاؤنٹر پر کوئی نہیں تھا، اس نے زور زور سے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجانا شروع کردی۔کئی بار دھاپ دھاپ کی گونج سے کتا سٹپٹا گیا، اسے لگا جیسے اس پر حملہ ہونے والا ہے، وہ دیوار سے چمٹ گیا اور اپنے ہی وجود میں سمٹتا ہوا بالکل خاموش ہوگیا، جیسے خوف سے اسے سکتہ سا ہوگیا ہو۔اس شور سے کئی لوگ ہوٹل کے کچے اور اوبڑ کھابڑ کمروں سے جو بالکل چھپکلی کے زہر سے بنائی جانےو الی ٹھرا شرابوں کے پیپے کی طرح زنگ آلود اور بدبو دار تھے، آنکھیں ملتے باہر نکلے اور جب انہوں نے دیکھا کہ ایک جوان لڑکی بالکل ننگی حالت میں کاؤنٹر پر کھڑی بری طرح چیخ رہی ہے تو کچھ زیر لب مسکرانے لگے، کچھ اس کی ہذیانی کیفیت پر افسوس کرنے لگے ۔عورتیں اس منظر کو دیکھ کر چیخنے چلانے لگیں، ایک آٹھ سالہ بچہ دوڑ کر کہیں باہر سے اتنی رات گئے نہ جانے کیسے ہوٹل میں آدھمکا، اس کے پیچھے پیچھے ایک پھیلی ہوئی توند والا شخص تھا، جس نے ٹائی اور سوٹ میں اپنے مختلف کھانوں اور مٹیوں سے بھرے ہوئے بدن کو کس کر باندھ رکھا تھا۔ایک دو بار اس نے لڑکی کو پکڑنا چاہا مگر جب وہ اول فول بکتی رہی تو اس نے ایک الٹا ہاتھ لڑکی کے منہ پر رسید کیا، جب تک پڑوس کی دکان میں بیٹھ کر گپ شپ کررہے رسپشنسٹ کو بھی اس ہنگامے کی بھنک لگ گئی، وہ دوڑ کر یہاں آیا تو لوگوں نے اسے بھی پیٹنا شروع کردیا۔رو رو کر اس نے اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہا، لڑکی ایک دراز بینچ پر اوندھی پڑی ہوئی تھی، اس کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ الغرض اس تماشے کا سد باب اس طرح کیا گیا کہ پولیس کو بلا کر این کو اس کے حوالے کردیا تھا۔نتیجتا صبح سوا چار بجے تک وہ ایک کال کوٹھری میں جہاں بہت سے زندہ چوہے، اندھے پروں والے کاکروچ اور دوسرے بے نام کیڑے اڑتے یا رینگتے ہوئے محسوس ہورہے تھے، پڑی ہوئی تھی۔اس تماشے نے اس کے پورے وجود کو تھکا دیا تھا، اسے یاد آیا کہ اس کی کوٹ کی جیب میں ، جوپولیس والوں نے اسے زبردستی پہنایا تھا، ایک ایسا سفوف رکھا ہے، جس کو چاٹتے ہی وہ بہت دیر تک دنیا و مافہیا سے بے خبر ہوسکتی ہے۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور وہ ننھی سی پڑیا نکالنی چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ پھٹ گئی ہے اور ہلکے سبز رنگ کا وہ سفوف گہری جیب کے دھاگوں سے بری طرح الجھ گیا ہے۔بہرحال اس نے دو بار چٹکیوں میں جیسے تیسے یہ سفوف بھرا اور گلے میں انڈیل لیا۔

 

اس کے بعد ایک رنگ برنگی ، چمپئی اور بسنتی اداسی کے دو قوی ہیکل جوانوں نے اس کے دل پر بید یں بجانی شروع کردیں ، ان بیدوں سے بڑی مترنم مگر بوفر کی گہری اور حملہ آور آوازیں پیدا ہونے لگیں۔اسے لگا جیسے یہ جوان بیدیں برساتے ہوئے ، دل کو ساز بنا کر کوئی گیت گارہے ہیں ،مگر یہ گیت سننے کے لیے اسے پوری طرح خود کو ان لہروں میں ڈبونا پڑا، مگر اب الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔

 

تیرے دل میں پیتل کے جو پتے ناچ رہے ہیں
دھمم اور گھگھر گھگھر جو کیڑے ناچ رہے ہیں
بیلیں، جو پنڈلی سے لے کر چھاتی کو
ہلکے ہلکے ڈھانپ رہی ہیں
سانسیں جو روحوں کے جل تھل میں
کھانس رہی ہیں، کانپ رہی ہیں

 

اب وہ ان دونوں قوی ہیکل جوانوں کے بالکل نزدیک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں جوان ایک ہی شکل و صورت کے تھے، انہوں نے ماتھے پر انگوچھے باندھ رکھے تھے اور ان کی سفید سلکی لنگیاں، ایسے مشاقی سے بندھی تھیں جیسے پہلوان لنگوٹ باندھا کرتے ہیں، بھرے ہوئے بدن پر ایک کالے رنگ کی بنڈی تھی، دھپ دھپ کی آوازیں زوردار ہوتی جارہی تھیں، وہ جب بھی قدم آگے بڑھاتی تو اسے لگتا کہ وہ ایک پلپلے فرش پر پاؤں رکھ رہی ہے، جیسے بہت سے گدوں کو بچھا کریا بہت سی لاشوں کو سجا کر ایک فرش تیار کیا گیا ہو، وہ پھٹے ہوئے پیٹوں، جمی ہوئی چکنی اور سرد سانسوں اور کچلے ہوئے بھیجوں پر پاؤں رکھتی ہوئی ان دونوں جوانوں کے نزدیک پہنچ گئی، اور پھر ان دونوں جوانوں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا، بیک وقت، وہ دو وجود تھے، ایک نہیں مگر وہ اس کی رانوں پر ہلکے ہلکے چٹکیاں لے رہے تھے، اس کی سسکیا ںپھوٹنے لگیں، ایک بہت تیز سیاہ رنگ کے بھبھکے والی سانس نے اس کی پوری حلق کڑوی کردی، اس کی آنکھوں میں دھواں بھر گیا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی زبان پر ایک لجلجا جھینگا تیر رہا ہو، ان دونوں جوانوں نے اس کی شلوار کو جوش میں چیر دیا اور اپنے مضبوط آلہ تناسل کو اس کے جسم کے دو نچلے اور نہایت پتلے ہونٹوں میں پھنسا کر وہ پھر سے دھپ دھپ کا شور بلند کرنے لگے۔اف کتنا شور تھا، اب یہ پورا شور اس کے پستانوں سے ہوتا ہوا، بدن کے ہر گوشے میں پھیلتا جارہا تھا، وہ چیخنے لگی، اسے لگا جیسے وہ اب بھی اسی ریسپشن پر کھڑی زور زور سے ٹیبل بجارہی ہے۔ اچانک اسے لگا کہ ایک گرم ابلتی ہوئی ہانڈی میں اس کا منہ رکھ دیا گیا ہے، اور ان دونوں جوانوں نے اپنے ننگی ہتھیلیوں کو اس کے کوٹ کے اندر چمکیلی اور چکنی پیٹھ سے چپکا دیا ہے، اسے لگا جیسے اس کی رانوں پر سگریٹ کا دھواں چھوڑاا جارہا ہو، گرم، گیلا اور بے حد سفاک و سفید دھواں، جوا س کے وجود کو ایک بڑی سی ہانڈی میں حلیم کی طرح گھول رہا ہو، گھوٹ رہا ہو۔ اس کی سانسیں پھنسنے لگیں، اس نے پھڑپھڑا کر اس پورے کرب آمیز منظر سے نکلنا چاہا تو زبان پر بیٹھا ہوا وہ لجلجا جھینگا، سانپ بن گیا اور اس کے تالو، زبان، زبان کی نچلی اور اوپر پرت، حلق میں دھنسے ہوئے کوے اور داڑھوں کی باریک سوراخوں تک میں اپنا زہر چھوڑنے لگا۔
آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔وہ پولیس سٹیشن کیسے پہنچ گیا ، جب وہ دونوں باہر نکلے تو اس کے پورے وجود میں ایک درد بھرا نشہ اترا ہوا تھا، اس نے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے صدر سے بس اتنا پوچھا
تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟

 

‘تمہیں پڑوس کی بلڈنگ کے ایک چوکیدار نے دیکھ لیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ کوئی لڑکی میرے گھر گئی تھی، میں نے دماغ پر کافی زور دیا اور پھر یکدم تمہارا خیال آیا، پتہ ہے تم کب سے ہو یہاں؟’
‘کل صبح تو لائے ہیں مجھے؟

 

‘ہمم۔۔۔۔تین دن ہوچکے ہیں ، بڑی مشکل سے مجھے اس ہوٹل کا پتہ چلا جہاں تم نے ہنگامہ مچایا تھا۔’
این کسی بھاری مجرم کی طرح خود کو گھسیٹ کر چل رہی تھی، صدر نے ایک آٹو کیا اور دونوں واپس اس کے فلیٹ میں پہنچ گئے۔
Categories
نان فکشن

اور جب لکھنوی تہذیب سے پردہ اٹھتا ہے

یہ بات کس سے چھپی ہے کہ حکومت جس کی رہی وہ کمینہ رہا ہے۔نظام حکومت آمرانہ ہو یا جمہوری۔ایک میں دھاندلی کے ساتھ اور دوسرے میں عوام کو بے وقوف بنا کر، ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، مختلف رنگ کی پٹیاں پہنا کر محکوم افراد کو لوٹا جاتا ہے۔تاریخ کا مطالعہ کم از کم ایک فریب کی حقیقت دماغوں پر روشن کردیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی زمین، کسی بھی علاقے، کسی بھی زبان، رنگ، نسل، فرقے یا انسان پر فخر سوائے بے وقوفی اور گھامڑ پن کے اور کچھ نہیں ہے۔فخر کا عفریت اس لیے لوگوں کے دماغوں پر حاوی کیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے مذہب اور تہذیب کے نامزدکردہ مقدس لوگوں کے بارے میں سوال نہ کرسکیں، ان کی حقیقت نہ تلاش کر سکیں۔ لوگ ہمارے یہاں اپنی زبان کی شیرینی و نفاست کا سرٹیفیکٹ جن سکولوں سے حاصل کرتے ہیں، ان میں اودھ سکول بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں عیاش نوابوں کی ٹپکتی ہوئی رال نے تقریبا ہر عورت کو کوٹھے پر سجانے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ وہاں جنسی سامان کی اتنی افراط بھی ہوس کے ناگ کو ایک عام سی کھتری بچی کو نوالہ بنانے سے نہ روک سکی۔

 

یہ واقعہ تاریخ نہیں ہے۔ یہ واقعہ ہمارا آج ہے، جہاں موقع بہ موقع ہمارے دور کے اہل حکومت بھی ایسی ہی کھتری بچیوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جن کا تعلق اقلیت سے ہو، سچ ہے اقلیتیں خاص طور پر مشرق میں کسی دور، کسی وقت اور کسی طرح سے محفوظ نہیں رہی ہیں۔ ہمارے ایک دوست ہیں محمد علی، اسلامیات کے طالب علم ہیں اور اپنے سبجیکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں باندیوں کے چلن نے اہل عرب کو اتنا عیش کوش بنادیا تھا کہ وہ بازار سے اپنی پسند کی عورتیں لایا کرتے، ان کے ساتھ جنسی عمل کرتے، مگر انہیں حاملہ نہ ہونے دیتے۔ جب تک دل چاہتا، مزے کرتے اور بعد میں انہیں کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیتے۔ پھر آپ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم مذاہب کو پتھروں کے دور کی ایجاد کیوں مانتے ہیں۔ ہم تاریخ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ نے اپنے حرم میں ہزار عورتیں رکھ چھوڑی تھیں، کسی نے سو۔خیر جس کی جتنی وسعت، قدرت۔ اس کے پاس اتنی عورتیں۔
علاوالدین خلجی کے ایک وزیر کے پاس دو ہزار عورتیں بطور غلام موجود تھیں۔اسی طرح مرقع دہلی میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب نادرشاہ دہلی آیا تو اس نے محمد شاہ رنگیلے کے ایک وزیر سے پوچھا کہ تمہارے پاس کتنی عورتیں ہیں، اس نے بتایا کہ آٹھ سو ترانوے (یااس سے کچھ زیادہ)، نادر شاہ نے اپنے وزیر سے طنزیہ لہجے میں کہا کہ انہیں ایک سو تین عورتیں اور عطا کرکے منصب ہزاری بخش دو۔

 

بہرحال ہم بات کررہے تھے لکھنوی تہذیب کے ایسے نقش کی، جس کا عیب اس کی ظاہری نفاست و رنگارنگی نے ڈھانپ رکھا ہے۔یہاں ہندوستان میں میں جب بھی دیکھتا ہوں کہ ہندو مغلوں کو برا بھلا کہتے ہیں تو انہیں بتاتا ہوں کہ بھائی! مغل تو پھر بھی ہندوؤں کے حق میں بہتر تھے، سلاطین اور نوابین کے دور کے بارے میں پڑھ لو گے تو نسلوں تک پیدا ہونے والی نفرت کی خلیج پاٹنا مشکل ہو جائے گی۔ دراصل عورتوں کے پاس مردوں کا ہونایا مردوں کے پاس عورتوں کا ہونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام تر واقعات جو ہوتے رہے اور اب بھی ہمارے سماجوں میں ہوتے ہیں، عورتوں کی مرضی جانے بغیر بلکہ ان کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں۔ امیر طبقے کے لیے آج بھی اپنی پسند کی عورت اٹھالے جانا، اس کا ریپ کردینا اور بچ جانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اور ہم تب تک ان مسائل کا شکار رہیں گے، جب تک اپنی تاریخ، اپنے مذہب، اپنے سماج اور اپنی زندگیوں میں موجود ایسے لوگوں کی نشاندہی کرکے ان کی گندگی اور غلاظت کا انہیں احساس نہ دلائیں۔انہیں یہ نہ بتائیں کہ وہ شاہی دور گزر گیا جب کسی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر یا اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ہاتھ لگانا ایک نہایت واہیات اور کریہہ عمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ پھر چاہے آپ کا مذہب آپ کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہو یا آپ کا طرز زندگی آپ کو سو عورتوں کو گٹھلیوں کی طرح چوس کر پھینک دینے کی سہولت عطا کرتا ہو۔بہرحال یہ واقعہ پڑھیے۔یہ واقعہ ہماری تہذیبوں کو عریاں کرنے والا محض ایک اشارہ ہے، تاریخ ایسے سنگ دل معاملات سے اٹی پڑی ہے۔

 

“ایک دن نواب شجاع الدولہ ہاتھی پر سوار ہوکر شہر میں ایک رستے سے نکلے ایک محلے میں ایک کوٹھے پر اٹھارہ برس کی ایک لڑکی کھڑی تھی، اس پر نظر جا پڑی۔اس کی دلفریب صورت دیکھ کر فریفتہ ہوگئے۔بعد اس کے مخبروں سے کہا کہ اس مکان کے مالک کا پتا لگائیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ گھر ایک کھتری کا ہے۔نواب وہاں سے اپنے مکان میں پہنچے مگر عشق کی وجہ سے پلنگ پر بے چین رہے اور رات بھر کچھ نہ کھایا۔ دوسرے روز راجہ ہمت بہادر نے ہندو مذہب کی دو کٹنیاں نواب سے ملائیں نواب نے ان کو انعام و عنایات کا امیدوار کرکے اس عورت کا پتہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا انہوں نے سب حال معلوم کرکے نواب کی خدمت میں عرض کرایا اور تین روز کے بعد راجہ نے اپنے ہمراہی چند نانگے آدھی رات کے وقت اس کھتری کے مکان پر بطور چوروں کے بھیجے اس عورت کے گھر کے آدمی خوف سے سہم گئے یہ لوگ اس کا پلنگ اٹھا کر نواب کے پاس لے آئے۔نواب کی عمر اس وقت تیئس یا چوبیس سال کی تھی اس سے صحبت کرکے رخصت کردیا۔وہ گرتی پڑتی اپنے گھر کو گئی۔وارثوں نے دریافت کیا کہ شب کہاں رہی اور کیا بلا پیش آئی۔اس نے تمام حال بیان کیا۔گھر والوں نے قرینے سے دریافت کرلیا کہ وہ آدمی نواب شجاع الدولہ کے ایما سے آئے تھے کوئی ان میں سے چور نہ تھا بلکہ نانگے تھے جن کو ہمت بہادر نے بھیجا ہوگا۔ پس چند آدمیوں نے متفق ہوکر راجہ رام نرائن دیوان کے پاس جاکر زمین پر پگڑیاں ڈال کر کہا کہ رعیت پروری اسی کا نام ہے۔ ہم یہاں سے جلا وطن کریں گے۔ ہماری سکونت یہاں ممکن نہیں۔

 

راجہ رام نرائن اور اس کا بھتیجا جگت نرائن دس بارہ ہزار کھتریوں کا مجمع لے کر ننگے سر اور ننگے پاؤں اسمعیل خاں کابلی کے پاس گئے اور عرض کیا کہ والی ملک نے رعیت کے آزار پر کمر باندھی ہے۔ہم آپ کو صفدر جنگ کی جگہ جانتے ہیں۔ اب آپ ہم کو اجازت دیں کہ یہاں سے نکل کر اور کسی ملک میں چلے جائیں یا ہماری فریاد رسی کرنی چاہیے۔اسمعیل خاں نہایت ناراض ہوا اور کئی مغل سرداروں کو بلا کر یہ سارا ماجرا ان سے بیان کیا اور سب کو اس بات پر آمادہ کیا کہ ہمت بہادر اور اس کے بھائی کو نواب سے لے کر سزادینی چاہیے۔اگر نواب ان کے سپرد کرنے پر راضی ہوئے تو بہتر ہے نہیں تو محمد قلی خا ن کو الہ آباد سے بلا کر مسند نشین کردینا چاہیے اور نواب کے لیے جاگیر مقرر کردی جائے۔ سب نے اسمعیل خان کی رائے سے اتفاق کرکے نواب کو پیام دیا کہ ہمت بہادر اس کے بھائی کو ہمارے حوالے کردینا چاہیے۔نواب نے کہا ہمت بہادر میرا محکوم ہے اس نے جو کچھ کیا ہے میرے حکم سے کیا ہے تم کو مجھ سے باز پرس کرنی چاہیے نہ ہمت بہادر سے۔اور یہ بات بخوبی یقین کرلو کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کی یہ مجال نہیں کہ ہمت بہادر کو ایذا پہنچاسکے۔میں ایسی ریاست کا خواہاں نہیں۔ایسی مسند سے فقیر کا بوریا ہزار درجہ بہتر ہے تم کو اپنی جمیعت پر ناز ہے۔ میں اس تھوڑی سی جماعت سے مقابلے کو حاضر ہوں۔ جب ارادہ کرو گے ادھر سے کمی نہ پاؤ گے۔مغلیہ سرداروں نے محمد قلی خان کو لکھ کر الہ آباد سے طلب کیا اور دربار میں اپنی آمد و رفت موقوف کردی۔شجاع الدولہ کی والدہ نے رام نرائن کو اپنی ڈیوڑھی پر بلا کر پردے کی آڑ میں اس سے کہا کہ اپنے آقا زادے کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہیے تھا۔لاکھوں روپے جس کے باپ کے ہاں سے پائے۔کیا تم کو صفدر جنگ نے اسی دن کے لیے پرورش کیا تھا۔ایک ادنیٰ ہندو کے واسطے اتنی ہنگامہ آرائی مناسب نہ تھی۔ مانا کہ محمد قلی خان صفدر جنگ کا بھتیجا ہے لیکن ہر شخص کا نام بیٹے سے باقی رہتا ہے نہ بھتیجے سے۔رام نرائن نے کہا کہ اگر صاحبزادے میری جان چاہیں تو حاضر ہے۔ مگر جو رویہ انہوں نے اختیار کیا ہے اس سے ملک ویران ہوجاتے ہیں۔دوست دشمن بن جاتے ہیں۔یہ جو کچھ شورش تھی اس سے صرف یہ مقصود تھا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں جس سے بدنامی ہندوستان میں ہوگی جبکہ بیگم صاھبہ نے رام نرائن کو اپنے شوہر کے احسانات جتاکر قائل و معقول کیا تو اس نے کہا میں تابعدار ہوں اگر مجھ کو معلوم ہوتا کہ اس معاملے کو اتنا طول ہوگا تو کھتریوں کو پہلے ہی راضی کر لیتا۔اب آپ اسمٰعیل بیگ اور دوسرے سردارن مغلیہ کو بلاکر اسی طرح تالیف کردیں تو امید اصلاح کی ہے چنانچہ انہوں نے سب کو بلا کر اسی طرح کے کلمات کہے کہ سب محجوب ہوئے اور معزولی کے ارادے سے باز آئے۔”

 

تاریخ اودھ، حصہ دوم کے صفحہ تین، چار اور پانچ پر ایسا دلسوز واقعہ لکھنے کے بعد پتہ نہیں کیسے نجم الغنی خود کو یہ لکھنے پر راضی کر پائے کہ ’(شجاع الدولہ) عیاشی میں بجز شراب نوشی کے منہمک رہتے تھے۔ اکثر عورتوں کی مباشرت میں راغب اور لہو ولعب میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن مزاج میں حیا و شرم اور عفو و اغماض اور ترحم تھا۔‘ جبکہ آگے یعنی صفحہ پندرہ پر ان کی صفات مردانہ کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے

 

۔۔۔دیو نفس سے بے حد عاجز تھے کہ خواہش نفسانی اور غلبۂ شہوانی کے وقت بے حواس ہوجاتے تھے۔ آنکھوں میں دنیا اندھیر ہوجاتی تھی۔یہاں تک کہ اکثر ایسا وقت ہوتا کہ راستے میں سواری چلی جاتی اور شہوت سے بے تاب ہوکر عورتوں کے ساتھ صحبت کرکے آگے کو روانہ ہوتے اس لیے ہر وقت اور ہر جگہ عورتیں ان کے لیے مہیا رہتیں رات دن میں عورتوں کے ساتھ مباشرت کی نوبت دس پندرہ بار تک پہنچ جاتی تھی۔چند کٹنیاں مقرر تھیں کہ جا بجا سے خوبصورت عورتوں کو تلاش کرکے ہزاروں روپے خرچ کرکے نواب کے واسطے لاتیں ان کی مدخولہ عورتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ پہنچ گئی تھی کثرت مباشرت سے اکثر امراض مزمنہ میں گرفتار ہوگئے تھے اور آخر کار بد کے عارضے سے انتقال کیا۔
Categories
نقطۂ نظر

کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ پچھلے زمانوں میں مدارس ایسی جگہوں کو کہا جاتا تھا، جہاں دینی و دنیاوی تعلیمات ایک ساتھ دی جاتی ہوں۔ عرفان حبیب نے اپنی کتاب عہد وسطیٰ کا ہندوستان : ایک تہذیب کا مطالعہ ‘میں پندرہویں صدی میں قائم ایک ایسے سکول کی تصویر بھی دی ہے، جس میں لڑکوں کے ساتھ ایک لڑکی کو بھی وہاں پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ باقاعدہ سکولنگ سسٹم یا وہ جدید تعلیمی نظام جو آج ہمارے ملکوں اور سوسائٹی میں قائم ہے، انگریزوں کا مرہون احسان ہے۔لیکن اس تعلیمی نظام کے ہوتے ہوئے بھی مذہبی درسگاہوں کا باقاعدہ وجود اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ درس گاہیں سمجھتی ہیں کہ بچوں کو جس دینی یا مذہبی علم کی ضرورت ہے، وہ انہیں سکولوں سے حاصل ہوسکے گا اور جدید طرز کے سکول بچوں کو سائنسی اعتبار سے دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور نئے سوالات قائم کرنے کے لائق بنادیں گے، جن کی بنیاد پر کل کو ایک ایسا نظام وجود میں آجائے گا، جو ان کی قوم کے بچوں کو کسی بھی حال میں مذہبی متون کے لیے خطرناک ثابت کرسکتا ہے۔ان مذہبی متون کی رکھوالی کیسے کی جاتی ہے؟ بچوں کو پوری کتاب حفظ کرواکر یا مذہبی زندگی کے بارے میں ایک باضابطہ مینی فیسٹو تیار کر کے انہیں دے دیا جاتا ہے، جس کے مطابق یہ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔

 

دنیا ایک ایسی جگہ ہے، جس میں محنت اور استقلال کے جذبے کے ساتھ ہر منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کمپنی یا ادارہ جب کسی شخص کو اپنے یہاں ہائر کرتا ہے تو دنیا میں ایک بہتر مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کام کرنے والا پوری ایمانداری، توجہ اور نیک نیتی کے ساتھ اس ادارے سے وابستہ رہے تو اسے ایک حد تک اس کا پھل بھی ملتا ہے۔ یہی حال دنیاوی تعلیم بانٹنے والی درسگاہوں کا بھی ہے۔ ان میں بھی بچوں کو ایک بہتر مستقبل کی امید میں داخل کرایا جاتا ہے، جہاں محنت کرنے اور ایک ڈھنگ کا انسان بن پانے کی خواہش ماں باپ کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے لیے روشن رہا کرتی ہے۔ مگر مدارس میں زیادہ تر ایسے بچے داخلہ حاصل کرتے ہیں، جو یا تو بہت غریب ہوتے ہیں اور دنیاوی تعلیم حاصل کرانے کے لیے کی جانے والی مالی مشقت سے ان کے ماں باپ بچنا چاہتے ہیں یا پھر وہ بچے جن کے والدین یا عزیز و اقارب عقبیٰ میں ایک دائمی اور بہتر زندگی کا عکس تراشنا چاہتے ہیں۔ہم نے مدتوں سے یہ سوال طاق پر دھر رکھا ہے کہ عقبیٰ کی زندگی کو کس صورت بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے، کیا ایسے مدارس، جن میں تھرڈ کلاس قسم کے مدرس پائے جاتے ہوں، جن کا نظریہ راکھ کی بوند سے بھی زیادہ سکڑا ہوا ہواور جن کے دماغ بس مسجد میں نمازیں پڑھا کر، اذانیں دے کر حاصل ہوسکنے والی چھوٹی سی تنخواہ کے اردگرد پھرتے ہوں، کس طرح ان بچوں کو عقبیٰ کی ایک بہتر دائمی زندگی کا حقدار بناسکیں گے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آیا مساجد اور ان میں پرورش پانے والے بچوں کا مستقبل کن لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کی ذہنی و مالی حیثیت آخر کیا ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ مدارس میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور یہ نظام آج سے نہیں کئی صدیوں سے جاری ہے، جس کو جانتے ہوئے بھی ہم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سمجھیں کہ جنسی تشدد جھیل کر، آیتیں حفظ کرکے، اذانیں دے کر یا روزے رکھ کر کوئی بھی شخص عقبیٰ کی بہتر دائمی زندگی کا حقدار نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی پہلی سیڑھی دنیا ور اس میں گزاری جانے والی ایک عزت دار زندگی ہے اور اب آپ کو یہ بات تسلیم کرنی ہو گی کہ بڑی سے بڑی دریافتوں کی جانب مائل ہونے والی سائنسی دنیا میں ایسے لوگوں کے لیے بالکل جگہ نہیں، جن کو دنیا کا مطلب ہی عقبیٰ نظر آتا ہو، زندگی کا مقصد ہی موت دکھائی دیتا ہو۔

 

ایک سوال یہ بھی ہے کہ دین کا مکمل علم اور مذہب کے سارے معاملات پر توجہ ہونے کے باوجود آخر ہمارے پاس ایسے کتنے لوگ ہیں، جو بتاسکیں کہ مدرسے کی تعلیم نے انہیں دنیا میں ایک نہایت عزت دار، وسیع نظریات پر محیط اور دوسروں کی مدد کرنے یا انہیں کسی لائق بنانے والی ایسی زندگی بخشی ہو، جو مرنے کے بعد ان کے کسی کام آ سکے۔ میں مانتا ہوں کہ اس نظریے پر میرا بالکل ایقان نہیں کہ مرنے کے بعد آدمی سے کسی قسم کا حساب کتا ب لیا جائے گا، مگر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں یا اس بات پر ایمان لائے ہوئے ہیں، انہیں بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ موت کے بعد پوچھنے والے سوالوں کا سلسلہ بہرحال موت کے بعد ہی شروع ہوگا اور اس سے پہلے ایک طویل زندگی، ماہ و سال کی وسعت لیے آنکھوں کے آگے دامن پھیلائے کھڑی ہے۔پھر جب آپ کسی قوم کی نمائندگی کرنے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لے لیتے ہیں تو آپ کے الفاظ، آپ کی وضع قطع، آپ کی حرکتیں اس قوم کی عملی تعریف بنتی جاتی ہیں اور اسی سے ان لوگوں کے طرز زندگی، فکریات و نظریات کا بھی تعین ہوتا ہے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں، خواہ ان کا طرز زندگی اور نظریات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔

 

ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ مسلسل مذہب اور خاص طور پر اسلامی فکر کے حامل افراد نے دنیا بھر میں اتھل پتھل مچا رکھی ہے۔ ان کے تشدد پسند نظریات نے نہ صرف ان پر بلکہ ان کے ہم مذہب افراد پر بھی دنیا تنگ کردی ہے۔ تو ایسے میں ریشنل طریقے سے سوچتے ہوئے ان افراد اور ایسے انسٹی ٹیوشنز پر پابندی کا مطالبہ میرے خیال میں وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، جس سے انسانی زندگی کو بجائے فائدے کے متواتر نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

 

مدرسے کی زندگی بہرحال ایک فرسٹریشن پیدا کرتی ہے۔ وہاں کا طالب علم جب اپنے تین یا اس سے زائد سال مختلف کورسز کی نذر کرکے باہر نکلتا ہے تو بہت سے اہم سبجیکٹس میں خود کو دوسروں سے کمزور پاتا ہے۔ ایسے شخص کے آگے دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو وہ خود کو معاشی طور پر غنڈوں پر مشتمل ایسی کمیٹیوں کے حوالے کردے، جو اس کو قوم سے چندہ سمیٹنے، انہیں مسجد کی تعمیر میں ہاتھ بٹانے اور مذہبی معاملات میں اکسانے یا کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کرنے کے کام میں لاسکیں۔یا پھر سخت محنت کرکے خود کو اس پورے چکر سے باہر نکال لائے۔دوسری صورت اس لیے بہت حد تک مشکل ہوجاتی ہے، کیونکہ مدرسوں میں گزارا جانے والا وقت کسی بھی فرد کو ایک خاص طرز زندگی کا عادی بنادیتا ہے۔کاہلی، مذہبی جوش، نعروں، فضائل و وظائف جیسی غیر حقیقی باتوں میں اس کا ذہن الجھ جاتا ہے۔اگر دارالعلوم تبلیغی جماعت والوں کا ہو تو چلہ کشی اور مذہبی تبلیغ کا چسکہ لگ جاتا ہے۔ان ہر دو معاملات میں نقصان اس ننھی جان کا ہوتا ہے جو دراصل ‘علم’ کی تلاش میں اس مدرسے میں داخل ہوا تھا، جبکہ علم دے پانا، چندے پر پلنے والے چند مولویان کے بس کی بات کبھی ہوہی نہیں سکتی، جن سے زیادہ ذہین اور باخبر پرائیوٹ سکولوں میں پڑھنے والے چوتھی جماعت کے طالب علم ہوا کرتے ہیں۔

 

گزشتہ سال ہم نے سنا تھا کہ حکومت ایسے مدرسوں کو جاری رکھے گی، جن میں معاشیات، سائنس یا انگریزی جیسے سبجیکٹس کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ یا تو حکومت ان لوگوں کو بے وقوف بناتی ہے جن سے مختلف قسم کے خالی خولی وعدے کرکے اسے کرسی حاصل ہوئی تھی، یا ان لوگوں کو معصوم سمجھتی ہے جو اس فیصلے سے اس لیے خوش ہوتے ہیں کہ چلو اب مدرسے میں میرے بچوں کو کچھ دنیاوی تعلیم مل سکے گی اور وہ ترقی کی راہ پر چل سکیں گے۔ یاد رکھیے! مدرسے کی تعلیم کا نظام جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اعلیٰ تو دور کی بات بنیادی بہتر دنیوی تعلیم دینا بھی ان کے بس کی بات نہیں۔نہ وہ تاریخ ٹھیک پڑھا سکتے ہیں، نہ جغرافیہ تو معاشیات، سائنس اور انگریزی تو دور کی منزلیں ہیں۔ان مدرسوں میں کون سے مدرس جاکر پڑھائیں گے یا ان کو کس طرح موڈرن بنایا جائے گا۔ اس کا کوئی خاکہ حکومت کے پاس نہیں، مدرسے کا بچہ زیادہ سے زیادہ کمپیوٹر پر عربی سیکھ سکتا ہے، ٹائپنگ جان سکتا ہے یا قرآن کی آیتوں کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھ کر رٹ سکتا ہے، مگر اس کی ذہنی مفلسی بدستور قائم رہے گی اور تب تک اس کا علاج ممکن نہیں، جب تک مدرسے کا طالب علم، دوسرے سکولوں کے طلبا کی طرح اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کسی سویلائزڈ استاد سے ضروری سبجیکٹس نہ پڑھے۔

 

متواتر مذہب کی تعلیم، بچے میں ایک قسم کا فریب پیدا کرتی ہے۔ کچھ بچے اس سے اکتا جاتے ہیں، مگر زیادہ تر اسی کو اصل دنیا سمجھ لیتے ہیں اور بعد میں اس کی ضرورت اور لازمیت پر زور دیتے ہیں، کیونکہ ان کی روزی روٹی بھی ایسے ہی بچوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اگر مدرسوں کو بند کردیا جائے تو یہ موجودہ مولویان اکرام کی زیادہ تعداد اچانک بے روزگار ہوجائے گی۔مگر اس بے روزگاری کے خوف سے آئندہ نسل کو مستقل ایک ذہنی بیماری میں مبتلا کرنا اور ان کے مستقبل کو دائو پر لگانا عقلمندی نہیں ہے۔

 

جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہاں ماڈرن مدرسے کا تصور محض ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے مدرسوں کو مکمل طور پر تالا لگا کر ان کی جگہ ایسے سکولوں کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکیں اور انہیں دنیا کے باقی بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بہتر مستقبل کا نقشہ تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔ ورنہ تعلیم نہ تو کسی ڈگری کی محتاج ہے اور نہ ہی کسی ہری پگڑی کی۔اس کے لیے تو اصل زندگی سےجڑنا پڑتا ہے اور اس کے مسائل کو جھیل کر تجربوں سے بہت کچھ سیکھنا ہوتا ہے، اصل سوال تو یہی ہے کہ ہم ان تجربوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بچوں کو ماضی پرست اور نام نہاد موڈرن مدرسے کی جانب دھکیلتے ہیں یا مستقبل کی سمارٹ سکولنگ کی طرف۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جب کبھی سردیوں کی اس تنگ و تاریک دنیا کو دیکھتا ہوں، جو شام ہوتے ہی معدے میں بچی کھرچن بھی صاف کرکے ایسی بھوک جگاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی ننھے پیروں والے جانور نے اپنی زبان سے سارا پیندا چاٹ ڈالا ہے تو مجھے آج سے قریب نو سال پہلے کی ایک شام یاد آتی ہے۔ میں ان دنوں ماتھر سٹوڈیو جایا کرتا تھا۔ دوردرشن کا کام زوروں پر تھا اور ایک کشمیری پروڈیوسر نے جس کا نام عرفان تھا۔ مجھے پھانس لیا تھا۔ پھانس لینے کا محاورہ میں نے دونوں معنی میں استعمال کیا ہے، یعنی کہ اس نے جتنا کام کرایا اس کی آدھی اجرت بھی نہ دی، جبکہ اس کے قریب چھ سات پروگراموں کے دو سو ڈھائی سو ایپی سوڈ میں نے لکھے تھے۔ دوردرشن اردو کا ایک بڑا عہدے دار کشمیری تھا اور عرفان اور اس کے بھائی کے اس سے مراسم تھے، یہیں دلی کے گریٹر کیلاش میں وہ رہا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اپنے گھر بھی لے گیا تھا۔اس نے ماتھر سٹوڈیو کو ان دنوں اپنا اڈا بنا رکھا تھا، آئی آئی ٹی روڈ پر واقع یہ سٹوڈیو بہت سے پروڈیو سر کرایے پر لیا کرتے تھے۔اسے میرا پتا ایک اینکر نے دیا تھا، جس کا نام حنا موج تھا اور اس کے ساتھ میں پہلے بھی ایک پروجیکٹ میں کام کرچکا تھا۔بہرحال عرفان اور اس کے بھائی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔دونوں چار چھ پائی کا بھی برابر حساب رکھتے تھے، رقم یہاں سے وہاں ہوئی، چھوٹے اور معمولی کریو کے کسی ممبر نے کہیں کچھ زیادہ خرچ کیا تو وہ گریبان پر ہاتھ ڈالنے میں دیر نہ کرتے تھے۔میرے ساتھ حالانکہ اس کا رویہ نہایت شریفانہ رہا، مگر میں اس کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر بہت اوبا کرتا تھا۔ اس کی گالیاں دلچسپ اس لحاظ سے تھیں کہ وہ ماں بہن کی گالیاں نہ دیتا تھا، بلکہ کسی شخص کو برسر شوٹنگ اگر کچھ کہنا ہو، اچانک بگڑ پڑنا ہو تو اس کے کیسے میں کچھ جانوروں کے نام ہوا کرتے تھے۔وہ ایسے خراب لہجے میں یہ نام لیا کرتا کہ سننے والوں کو وہ خطابات کریہہ ترین گالیوں سے بھی زیادہ برے معلوم ہوا کرتے۔اپنی بڑی سی کالی گاڑی میں بیٹھ کر اکثر وہ مجھے کبھی کسی، کبھی کسی سرکاری دفتر لے جایا کرتا، گاڑی میں اکثر کشمیر کے موضوع پر باتیں کیا کرتا تھا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ خود کو دل سے ہندوستانی تسلیم نہیں کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہم تو اس ملک میں بس کمانے آیا کرتے ہیں۔مجھے انہی دنوں یہ معلوم ہوا کہ کشمیریوں کو بہت الگ قسم کی مراعات دی جاتی ہیں۔سرکاری رعایتیں الگ، وہ رشوت خوری، کنجوسی اور دوسرے کئی رویوں کے ساتھ سرکاری دفاتر سے رقم اینٹھا کرتے ہیں۔لیکن عجیب بات تھی کہ اس کھلم کھلا اعلان کے باوجود ماتھر سٹوڈیو کا مالک ان دونوں بھائیوں کا بہت اچھا دوست تھا۔ایک دفعہ جب اس نے مجھ سے کسی کشمیری مسئلے پر بات کی، تو میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور واقعی اس وقت تک مجھے کشمیر کے معاملے میں نہ کوئی دلچسپی تھی اور نہ میں اس کی دوغلی باتیں سننا چاہتا تھا۔اس سے مخالفت کا نتیجہ میں جانتا تھا کہ کام سے ہاتھ الگ دھونا پڑے گا اور ہوسکتا ہے کہ کچھ بدتمیزی بھی کرے۔بہرحال، میں نے اس سے دبے لہجے میں سوال کیا کہ جو حکومت آپ کو اس قدر روزگار دے رہی ہے، اس کے خلاف ایسی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔میں نے کہا کہ شاید جتنی آسانی سے آپ نے یہ پروگرام حاصل کیے ہیں، ہر کسی کو نہیں ہواکرتے۔اس کے علاوہ ایک الگ سرکاری چینل جو کہ ڈی ڈی کاشمیر کے نام سے تھا، خود اس کے ذریعے میں دیکھتا تھا کہ بہت سے کشمیری پروڈیوسر، اداکار اور نہ جانے کتنے لوگ پیسہ کمارہے تھے۔اس نے میری بات کا جواب تو نہ دیا مگر اس کے منہ سے جتنی اول فول باتیں میں نے سنیں، اتنی تو گلمرگ نامی سیریل کی شوٹنگ کے دوران ‘جموں ‘ میں بھی نہ سنائی پڑیں۔لیکن اس کا قصہ اتنا اہم نہیں تھا، وہ جلد ہی منظر نامے سے غائب ہو گیا کیونکہ دوردرشن اردو کا کام ہی دھیرے دھیرے ٹھپ پڑتا گیا۔
میں ماتھر سٹوڈیو کا ذکر ایک خاص مقصد سے کر رہا تھا۔ وہاں کوئی ٹیکنیشین تھا، شاید کیمرہ مین یا کوئی اور، اب مجھے یاد نہیں۔ مگر کالا بھجنگ چہرہ، گھنی مونچھیں اور سیاہی مائل لال بھبھوکا آنکھیں۔وہ ہمیشہ غصے میں رہا کرتا تھا یا پتہ نہیں اس کا چہرہ ہی کچھ اس نوعیت کا ہوگیا تھا۔وہ عرفان اور اس کے بھائی سے بہت ناراض رہا کرتا تھا اور اس کی چپقلش خاصی مذہبی و قومی قسم کی تھی۔وہ شاید عرفان کی باتوں سے آشنا تھا، اس کے خیالات سے بھی، مجھے بھی شاید اس نے انہی خیالات کا شخص سمجھ رکھا تھا یا خدا جانے کیا بات تھی کہ سیدھے منہ بات ہی نہ کرتا۔ایک دفعہ شوٹنگ ختم ہوتے ہوتے دو یا ڈھائی بج گئے، اور مجھے ایک دوسرے کام کے سلسلے میں اسی وقت لکشمی نگر جانا تھا، ماتھر سٹوڈیو سے لکشمی نگر کا فاصلہ قریب پندرہ کلو میٹر ہے۔ رات سرد تھی، دسمبر کا زمانہ، سب نکل چکے تھے، عرفان اس دن پہلے ہی کسی کام سے جاچکا تھا،و رنہ وہ اتنا بااخلاق تو تھا ہی کہ مجھے کسی آٹو سٹینڈ تک اپنی گاڑی میں چھوڑ دیتا۔میرے لیے دلی شہراس وقت، بہت حد تک اجنبی تھا، چنانچہ میں نے صرف آٹو سٹینڈ کے بارے میں اس شخص سے پوچھنا چاہا تو وہ مجھے گھورتا ہوا نکل گیا۔بہت دیر تک میں گومگو کے عالم میں گیٹ پر کھڑا رہا اور پھر اندھیری گلیوں میں یہ سوچتے ہوئے اتر گیا کہ مین سڑک بہت دور نہیں ہے، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو پلٹ آؤں گا۔ یہ الگ بات کہ فراٹے بھرتی ہوئی ہوا نے میری کانوں میں ابلتے ہوئے سیسے کی مانند شور مچایا اورہاتھوں، پیروں کی انگلیوں کے پورے کپو گئے، مگر میں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں دوسرے دفتر تک پہنچ گیا۔اس کے دو تین روز کے بعد کا واقعہ ہے، سٹوڈیو میں وہی شخص مجھے شام کو اچانک گھورے چلا جارہا تھا، میں نے اس سے پہلے کبھی اس کو اپنی طرف اتنا متوجہ نہیں دیکھا تھا، پتہ نہیں کیا بات تھی کہ آج وہ مجھ پر سے نظر نہ ہٹاتا تھا، اس کی آنکھوں میں عجیب سی حقارت نظر آتی تھی، ایک سخت گیر قسم کی نفرت اور کراہت۔میں سمجھ ہی نہ پارہا تھا کہ آخر بات کیا ہے۔چائے بسکٹ لے کر جب ایک لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ ان صاحب کو کوئی دماغی پروبلم ہے کیا؟ مگر لڑکے نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔مجھے محسوس ہوا کہ شاید میری کوئی ایسی بات اس شخص نے سن لی ہے، جو اسے نہایت ناگوار گزری ہو، کوئی ایسا جملہ، کوئی ایسا لفظ، جو اس کی سماعت پر اس قدرگراں گزرا ہو کہ مجھے کوئی کمینہ فطرت شخص سمجھ رہا ہو۔ بہرحال میں نے اس کی طرف سے دھیان ہٹا کر پھر کام میں لگالیا، کچھ وقت بعد، جب دفتر میں تھوڑا سناٹا چھایا تو وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس نے مجھ سے کہا

 

‘تصنیف صاحب! کیسے ہیں؟’ میں نے علیک سلیک کرکے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی، مگر اس نے جھٹ سے کہا۔

 

‘بے نجیرکو ماردیا ایک ٹریرسٹ نے۔’ میں نے تب تک پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے زیادہ نام بے نظیر بھٹو کا ہی سنا تھا پھر بھی اس خبر کا میرے دل پر کوئی صدماتی اثر نہیں ہوا تھا۔میں نے کنفرم کرنے کے لیے اس سے پوچھا۔

 

‘بے نظیر بھٹو؟’

 

اس نے کہا ‘ہاں، انہی کو۔کتنی نیک عورت تھیں۔’

 

اس کی باتوں سے احساس ہوتا تھا کہ اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔اس روز اس نے کھل کر باتیں کیں۔’اس نے کہا کہ بھائی! یہ مسلمان اپنے اچھے لوگوں کو ہی کیوں ماررہے ہیں۔’اب جب اس نے مجھ سے بات کی تو مجھے احساس ہوا کہ اس کا لہجہ اس کی شکل سے بالکل مطابقت نہ رکھتا تھا۔بس وہ ایک کم گو شخص تھا، جس سے میں بلا سبب خوف کھاتا آرہا تھا۔میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں اسلام وغیرہ کا کوئی دخل نہیں، یہ تو سیاست کی لڑائی ہے۔اور سیاست کی لڑائی تو دنیا بھر میں جاری ہے۔مگر مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ اسے بے نظیر سے اس قدر ہمدردی کیوں تھی، بے نظیر نہ اس کی ہم مذہب تھی، نہ ہم رشتہ، نہ ہم زبان تھی نہ ہم قوم۔ مگر وہ ناراض تھا، اسے ایسے ڈرپوک، بزدلانہ قسم کے حملے پر غصہ تو آیا ہی تھا، ساتھ ہی ساتھ اس نے اس غم کی نکاسی کے لیے ایک مسلمان لڑکے سے گفتگو کرنے کو کیوں ترجیح دی تھی۔شاید وہ سمجھتا تھا کہ وہ مجھے انسانیت کے بارے میں درس دے کر مسلمانوں کو اس قتل و غارت گری کے گورکھ دھندے سے بچا لے جائے گا۔دلی اور اتر پردیش دو ایسی ریاستیں ہیں، جہاں لوگ غم و خوشی دونوں قسم کے ماحول میں اپنے مذہب کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔یہاں تک کہ کسی ایسے حادثے پر بات کرتے وقت بھی مذہب ان کے پیش نظر ہوتا ہے، جن میں اس کی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔اس کا ایسا سوچنا شاید غلط نہ تھا کیونکہ نائن الیون کے حادثے کو زیادہ برس نہیں بیتے تھے اور پوری دنیا میں تشدد اور فساد کے تعلق سے مسلمانوں کی بدنامی دن بہ دن بے قابو سیاہی کی طرح پھیلتی جارہی تھی۔میں اس موقع پر نہ اس سے ہمدردی کرپایا نہ اس معاملے پر کوئی خاص روشنی ڈال سکا۔ مگر پھر بھی اس کا افسوس میرے لیے باعث حیرت تھا۔دنیا ادھر کی ادھر ہوگئی، تقسیم نے لوگوں کو بانٹ دیا، دھرم، مذہب کی لکیروں نے نہ جانے کتنا خون بہایا، کتنے لوگوں کو بے قصور پھانسیاں ہوئیں، کتنے ادیب، کتنے شاعر، کتنے فلسفی، کتنے سماجی خدمتگار اس صبح کا انتظار کرتے کرتے مٹی میں جاملے، جس میں لہو کی سرخی نہ ہو، تلوار کی تیزی نہ ہو، چیخ کی کڑواہٹ نہ ہو، درد کی آہٹ نہ ہو۔ بس ایک سکون ہو، جس میں لوگوں کو ناپنے یا تولنے کا عمل ان کے مذاہب و مسالک کی بنیاد پر ختم ہوجائے، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، ستر سال کا عرصہ گزر گیا اور نفرت میں سر مو فرق نہ آیا۔ کتنے استقلال اور کتنی شدت سے ہم نے یہ رشتے نبھائے اور ہر تعمیر کے خواب کو تخریب کی دھار میں بہادیا۔پھر بھی کہیں کوئی دل، بے نام و بے ہنگام، ایک دوسرے بند ہوتے ہوئے دل کے لیے روتا ہے، یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا تھا۔آج بھی اس شخص کو یاد کرکے مجھے خوشی ہوتی ہے۔بعد میں نہ میں کبھی اس سے ملا، نہ ملنے کی ضرورت محسوس کی، ہوسکتا ہے وہ آج بھی ماتھر سٹوڈیو میں ہی ہو یا کہیں اور کھو گیاہو، دس سال سو انقلابوں کے لیے کافی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی سو سال ایک تبدیلی بھی پیدا نہیں کرپاتے۔پتہ نہیں کیوں، مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے میں بے نظیر کا قاتل ہوں اور وہ شخص مجھے سمجھا رہا ہے۔یہ اتنی سچی، ایسی دیانتدارانہ نفسیات ہے کہ اسے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔مجھے لگا کہ میرے ہاتھ اس زنگ آلود طمنچے کو تھامے، بھیڑمیں اس مسکراتے ہوئے چہرے کو داغنے کے لیے تیار ہورہے ہوں، جو نعروں کو تتر بتر کردیں گے، لوگوں کو ادھر ادھر کردیں گے۔بس اس کے بعد ایک خاموشی، ایک نیا صدر اور ایک نیا سیاست داں۔میں اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ میرا اس ملک کی تقدیر سے کوئی واسطہ نہیں، جس نے خود کو علیحدگی کی منزل پر سات دہائیوں قبل چیختے بلکتے چھوڑ دیا تھا۔مگر آج جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی مسلمان، کوئی سیکولر اپنی سوچ کو نمایاں کرتے ہوئے، اس ملک میں پاکستان جانے کے ایک ان دیکھے مشورے یا دھمکی کو موصول کرتا ہے تو مجھے یکبارگی بے نظیر کے لہو میں ڈوبے ہوئے وہ انجان ہاتھ یاد آجاتے ہیں۔سچ ہے کہ شناخت کے نام کی رکھوالی کرنے والی آوازوں کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔

 

غالب جب دہلی سے کلکتہ گئے اور وہاں کے باشندوں سے دل برداشتہ ہوئے تو اپنی شناخت کو یاد کر کے یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ

 

برگ دنیا نہ ساز دینش بود
ننگ دہلی و سرزمینش بود

 

میں سوچنے لگا کہ دہلی سے اکھڑنے والے پائوں، پاکستان کے مختلف شہروں پر جم گئے ہوں گے تو آخر انہوں نے کیا سوچا ہوگا اور ان روحوں کا ملال کیسا ہوگا، جو واقعی بے نظیر کو اپنا ہیرو مانتی رہی ہونگی اور جنہوں نے اس کی سیاسی زندگی میں بہت سے اتار چڑھائو کے بعد ایک سڈن موت کو بھیڑ کی پالکی پر رقص کرتے دیکھا ہوگا۔ماتھر سٹوڈیو کی بتیاں اس وقت بجھ گئی ہوں گی، میں بھی قلم تھامتا ہوں اور آپ کو دہلی کے دوسرے دروازوں کی طرف لیے چلتا ہوں۔
Categories
فکشن

پستان ۔ نویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-9
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

عام طور پر جو لڑکیاں آزاد مزاج ہوتی ہیں، ان کی صفت سیمابی ہوا کرتی ہے، مگر صدر کو بہت جلد اندازہ ہوگیا تھا کہ این کی فطرت سیمابی سے زیادہ تیزابی ہے۔اس کے اندر پاگل پن کی حد تک ایک خیال رچا بسا رہا کرتا تھا کہ وہ جو کچھ حاصل کرنا چاہے کرلے۔وہ کہا کرتی تھی کہ دنیا اس کمرے کی طرح ہے، جس میں ہمیں بند کرکے لاک کردیا گیا ہے، اس لیے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور پسند کی چیزیں حاصل کریں یا چھین لیں۔اس کے نزدیک چوروں، لفنگوں، بدمعاشوں اور اٹھائی گیروں میں بس اتنی خرابی تھی کہ وہ پسند اور ضرورت کے پیمانوں کو حد سے زیادہ بڑا کرلیتے ہیں۔لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ انسان جو چاہے اسے حاصل کرنے کے لیے منہ دیکھتا رہے۔وہ صدر کے ذہن پر ایک ڈراؤنی رات کی طرح حاوی ہوتی جارہی تھی، جس کی وحشت سے نکل پانا بہت آسان کام نہ تھا۔اس نے خود صدر سے کئی بار کہا تھا کہ وہ ایک آسیب ہے، جس کا سایہ رات کے ان لمحوں میں بھی بھٹکتا رہتا ہے، جب وہ خود نیند میں ہوا کرتی ہے۔وہ جنسی عمل کے دوران اپنے بال کھول کر جھوما کرتی تھی، اسے اس ہیجانی رقص کا جیسے جنون سا تھا، صدر کے لیے اپنی شہوت کے گھوڑوں کو گھسیٹ کر اس آڑھی اور سفید لکیر تک لے جانا ضروری سا تھا، جہاں این خود تڑ سے اس کے بدن پر کسی کچے پھل کی طرح گر پڑے۔این کے شوق بڑے عجیب تھے، ہوش کے عالم میں صدر جب ان باتوں کے حوالے سے سوچتا تو اسے بڑی کراہت ہوا کرتی تھی، وہ کئی بار اپنے بدن اور منہ کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتا تھا، مگر این کے چہرے پر کبھی بھی ان حرکتوں کی وجہ سے ندامت اور تاسف کا شمہ بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔مگر رفتہ رفتہ صدر اس کا عادی ہوتا جارہا تھا۔اس کی ان عجیب حرکتوں کا جن سے وہ عالم خرد میں بھاگتا تھا، مگر اب عالم خرد کے وقفے خود اس کی زندگی میں بہت کم رہ گئے تھے۔اس کا دماغ ماؤف ہوتا جارہا تھا اور وہاں بس این کی حکمرانی قائم ہورہی تھی۔جیسے شہروں کے شہر، بسیتوں کی بستیاں اجاڑتا، خاک و خون کرتا ہوا کوئی لشکر اپنی اشتہا اور گرسنگی کو ہوا دیتا، ایک نئی زمین اور مملکت کا لال نقشہ تیار کررہا ہو۔این بھی اسی طرح اس کے حواس پر چھارہی تھی، اس کی جنسی ترنگ کا نہ کوئی طے شدہ وقت تھا، نہ اندازہ۔ وہ کہتی تھی کہ موت اور جنس کا وقت معین ہو تو ان کا مزہ ہی خراب ہوجاتا ہے، یہ دونوں مختلف قسم کے ایڈونچر کی طرح ہم پر ہر وقت سوار رہنے چاہیے، اس لیے رسک لینے، اور خطرہ اٹھانے سے باز آ جانا عقلمندوں کا شیوہ نہیں ہے۔موت، کنہی حالات میں بھی ممکن ہے اور جنس کنہی حالات میں بھی دلچسپ، اس لیے سب طرح کے حالات کا کم از کم ایک دفعہ جائزہ لینا ضروری ہے، صدر آرٹ کی حد تک تو اس بات کا قائل تھا، مگر زندگی میں خطرے اٹھانے اور ایڈونچر کی طرح اس گیند کو مختلف طریقوں سے اچھالنے کی ا س میں ہمت نہ تھی۔وہ گیند چھوٹ جانے سے ڈرتا تھا، جبکہ این کے ماتھے پر شکن تک نہ آتی۔وہ کھانا کھاتے کے عین درمیان، جب نوالے کی کرچیاں، اس کے داڑھ کی اوبڑ کھابڑ درازوں میں کھچا کھچ بھری ہوتیں، زبان اور تالو میں رال سے گتھے ہوئے گیہوں کی بواور سالن کی مہک جھمک رہی ہوتی، صدر کے ہونٹوں پر منہ رکھ کر اسے ہلکے ہلکے گلابی پرتوں کی ہتھیلیوں سے کترنے لگتی۔ان دونوں کے منہ کی مختلف بو، ذرات اور گاڑھا لعاب وصل کے اس انتہائی لمحے میں ایک دوسرے سے الجھ پڑتے اور آوااز کے ہلکے اجالے، ہچکیوں کے دھندلکوں میں ڈوبنے لگتے۔وہ جنگل میں پھیلی ہوئی کسی آگ کی طرح دستر خوان پر ہی بچھ جایا کرتی، وہ صدر کے چہرے کو اپنی گرم سانسوں اور چپچپے لعاب میں بھگا دیتی، بکھرے ہوئے دانوں اور چھچھلتی ہوئی ہواؤں کے درمیان وہ صدر کا لباس اتار کر اس کی شرمگاہ کو اپنے سینے کا ستون بنالیا کرتی اور ہانپتی ہوئی دھاروں کے درمیان اس کی ننگی امنگوں کو بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتی۔وہ صدر کو اس جنسی مملکت میں حکم دینے کی عادی ہوتی جارہی تھی، اتنی کہ اگر کبھی صدر مدہوشی کے عالم میں کوئی بات ماننے میں دیر کردیتا تو وہ اس کا بدن نوچنے لگتی یا پھر عین جوش کے لمحوں میں الگ ہوکر کھڑی ہوجاتی، اسے گالیاں بکتی اور باہر نکل جانے کے لیے کہتی۔ ایک دفعہ رات میں اس نے صدر کو کوریڈور میں ننگا نکال کر دروازہ بند کردیا۔انجان جگہ پر اسے اپنی عریانی کی اتنی فکر نہ تھی، جس قدر سن سن کرتی ہوئی ہواؤں سے لڑنے کے پست حوصلوں کا اندازہ تھا، وہ دروازہ پیٹتا، منتیں سماجتیں کرتا اور بعض اوقات رودیا کرتا۔رو دینا، این کے سامنے ایک آخری اور فائنل دھمکی کی طرح ہمیشہ کار گر ثابت رہتا۔صدرکا اصل مقصد دراصل اس وقت چنگھاڑتی ہوئی جنسی تشنگی کو رام کرنا ہوتا تھا۔پتہ نہیں کیوں مگر خود ایسے لمحات میں اسے این کے سامنے گڑگڑانے اور رونے میں لطف آیا کرتا تھا، این نے ایک دفعہ اس سے اپنے پاؤں تک زبان سے چٹوائے، تلووں پر ناک رگڑوائی اور قہقہہ لگاتے ہوئے، اس کے گالوں پر کئی تھپڑ بھی رسید کیے۔دیکھنے میں یہ سارے مناظر ایسے معلوم ہوا کرتے، جیسے کوئی نہایت مظلوم شخص، دنیا کی سب سے ظالم عورت کے سامنے اپنی عزت نفس کو بٹے سے کچل کر، ٹشو پیپر میں رکھ کر پیش کررہا ہو، مگر ایسا نہ تھا، یہ تمام باتیں اصل میں اسی جذبہ جنسی کی نمائندہ ترین صورتیں تھیں، جن میں بدن کے حرکی تیشے، شہروں میں پٹے پڑے سرد جذبات کی برفانی سلیوں پر ضرب لگاتے تھے اور اس میں صدر کو بہت مزہ آتا تھا۔ایسا ہر رات نہ ہوتا، مگر صدر کو محسوس ہوا کہ جب بھی یہ ہوتا، وہ اگلے دن بہت اچھی اور آرٹ سے چھلکتی ہوئی ایک تصویر بنایا کرتا تھا۔یہ سب بالکل غیر عقلی معلوم ہوتا تھا، مگر جذباتی طور پر واقعی یہ نہایت شاندار اور کامیاب تجربے کی صورت میں اجاگر ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اسی طرح کبھی نہایت تیز گرم پانی میں نہاتے ہوئے، کبھی مختلف قسم کے مہکتے ہوئے تیلوں کا لباس پہن کر، چکنی جلدوں کو تھامتے، انہیں چاٹتے اور حلق میں اتارتے ہوئے رات اور دن ہانپ اور بھانپ کے کھیل میں مصروف رہا کرتے۔دنیا کے سارے کام چھوٹ گئے تھے، بس ایک کام تھا، جس نے تنہائیوں کا سارا عرق نکال کر ان دونوں کے ماتھوں پر سجادیا تھا۔

 

ایک روز این صدر کو ڈوبتی ہوئی شام کے موقع پر ہوٹل کے چھت پر لے گئی، کچھ وقت پہلے برسات ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوائیں معلوم ہوتا تھا گرم کوٹ کے آرپار ہوئی جارہی ہیں، حالانکہ صدر نے دستانے اور موزے دونوں پہن رکھے تھے، مگر سردی کی شدت سے اس کی ناک لال ہوگئی تھی اور آنکھیں بار بار بھیگ جاتی تھیں۔این نے صدر کو ایک کھجور سے بٹا ہوا پلنگ دکھایا، یہ لکڑی کے چوپایوں پر کھجور کی موٹی، سخت اور چبھنے والی رسیوں سے بٹی گئی ایک کھاٹ تھی، جسے سردی کے موسم کے لیے خاص طور پر این کے والد کو ان کے کسی دوست نے تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔ساتھ میں زعفران سے بھرا ایک گدا بھی دیا گیا تھا، جس کا یہاں کوئی اتا پتا نہ تھا۔این نے دروازہ بند کیا اور اپنے کپڑے اتارنے لگی، صدر کچھ کہتا، اس سے پہلے اس نے عالم عریانی میں اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیر کر اسے خاموش رہنے کا حکم دیا۔این چاہتی تھی کہ اس سرد رات میں وہ دونوں اس چبھتے ہوئے کھجور کے پلنگ پر بے لباسی کے عالم میں ایک یادگار رات گزاریں۔صدر کہنا چاہتا تھا کہ اتنی سردی میں اس کے دل و دماغ پر بھی دھند جم سکتی ہے، بدن سن ہوسکتے ہیں، زہریلی ہوائیں ہڈیاں اکڑا سکتی ہیں، مگر وہ این کو جانتا تھا۔وہ کسی حال ماننے والی نہ تھی، چار و ناچار اسے کانٹوں بھرے اس بستر کی زینت بننا پڑا۔وہاس عذاب میں اس کی برابر کی شریک تھی، اورپھر دونوں ایک دوسرے کے بدن پر جلتی ہوئی رسیوں کے تازیانے برسارہے تھے، ہوائیں اس دہکتی ہوئی دیگچی میں ان کو چمکتے ہوئے گوشت اور کھنکھتی ہوئی ہڈیوں کی طرح خوب ابال رہی تھیں۔چند ہی منٹوں میں ان دونوں کے گھٹنے بری طرح اکڑ چکے تھے، کھاٹ کی سائز صدر سے کافی چھوٹی تھی، اس لیے جب اس کے سمٹے ہوئے پیروں کو این نے اپنی رانوں کے زور سے نیچے دھکیلا تو اس کی چیخ نکل گئی۔وہ کپکپاتے، کانپتے ہوئے، ایک دوسرے کے بدن کو ڈھال بنانے کی کوشش میں ہلکے ہلکے گرم ہورہے تھے، مگر ہواؤں کی تاب، ان کی ننھی کوششوں سے زیادہ کارگر تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جنسی عمل پورا ہونے سے کافی پہلے، ان دونوں پر غشی چھانے لگی، این کو دھندھلاتی ہوئی نگاہوں سے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی پینٹ نظر آرہی تھی، جو اس وقت ٹین کے ایک باسی ٹکڑے پر پڑی،کہیں دور جاگرنے کے لیے بے صبر ہوئی جارہی تھی، اور اس کے بعد گرجتی ہوئی سخت سرد اور دبیز چادر نے نہ جانے کب اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔اس کے پورے بدن میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ادھر صدر کا بلڈ پریشر اتنا ہائی ہوگیا تھا کہ کانوں کی لویں گویا آگ کی لپٹوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔اسے محسوس ہورہا تھا، جیسے وہ کسی لبلبی مگر نہایت گرم تختی پر سجا ہوا کوئی پکوان ہے، جو ہوا میں اڑتا جارہا ہے، نہ جانے کس سمت مگر یہ سرمئی خلا، بڑھتا ہی گیا، دل دھڑکنے کے بجائے دھڑ دھڑ کرنے لگا اور عافیت اسی میں تھی کہ آنکھیں بند کرلی جائیں، مگر وہ تو بند ہوگئی تھیں، یا شاید دو سفید کناروں کے بیچ پھنسی ہوئی ایک کالی گوٹ برف کی سنسان اور اتھاہ تہوں پر سجے ہوئے کسی گول اور سیاہ جزیرے کی طرح جمی ہوئی نظر آتی تھی۔ نظر آتی تھی، مگر کس کو۔۔۔یہ نہ معلوم ہوا۔۔۔۔

 

این جانتی تھی کہ رات کو جو کچھ بھی ہوا وہ بہت الگ اور عجیب تھا، مگر کیا وہ کل رات ہی ہوا تھا، اسے بیتے ہوئے تو کافی وقت گزر چکا تھا۔کئی دن یا شاید کچھ مہینے۔نہ جانے کتنے یگوں تک وہ اپنے بستر پر ہڈیوں کے پگھلنے کا انتظار کرتی رہی تھی۔مگر وہ جو کچھ بھی تھا، اس نے موت کو کس قدر قریب کردیا تھا، بس جیسے سرد موت، جنس کے لفافے میں چھپی ہوئی اس کی مٹھی تک آگئی تھی، تو پھر اس نے مٹھی بند کیوں نہیں کی؟ اس نے موت کو جانے کیوں دیا؟صدر کہاں تھا۔کیا وہ مرگیا تھا؟کہیں دور سے ستار کی دھن بجتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔کیا وہ ہسپتال میں تھی، مگر ہسپتال کے نزدیک موسیقی کی لہریں کہاں سے آسکتی ہیں۔ہسپتال تو قبرستان کی نمائندگی کرنے والی خاموش دنیا ہے، جہاں موت اپنی اونگھ میں کسی قسم کا خلل پسند نہیں فرماتی۔اس نے ہلکے اجالے میں ہچکولے کھاتے ہوئے کیلنڈر کو دیکھا، واقعی بہت وقت بیت گیا تھا، شاید بارہ، تیرہ دن۔پھر اسے اپنے والد سے آخر معلوم ہی ہوگیا کہ اس گہری اور سرد نیند کے وقفے کے دس گیارہ گھنٹوں بعد، ٹھٹھرتی دوپہری میں کسی ویٹر نے ان دونوں کو ٹیرس پر، ایک دوسرے کے جسم پر ننگ دھڑنگ حالت میں پایا تھا، ان کے ہونٹ خون کی بے حد ہلکی رفتار کی وجہ سے دھیمے اودے ہورہے تھے۔پریس والوں نے اس معاملے میں کافی شور مچایا تھا۔ابھی دو دن پہلے صدر کی طبیعت جب سنبھلی تو اس کے والد نے اسے نہایت سخت برا بھلا کہہ کر راتوں رات، اس کے شہر واپس بھجوادیا تھا۔جہاں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں سڑتی ہوئی، بغیر کسی مستقبل کا نقشہ تیار کرتی عجیب سی زندگی اس کی منتظر تھی۔۔باپ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اپنے ویٹرز کے ساتھ مل کر اس یقین کے ساتھ صدر کی اچھی خاصی پٹائی بھی کروائی تھی، کہ اس کی بیٹی کو ایسا واہیات آئیڈیا اسی نے دیا ہوگا۔وہ اسے ایک جنسی و ذہنی مریض بک رہا تھا اور اپنی بیٹی سے بار بار ہمدردی ظاہر کررہا تھا۔این کے پاؤں میں مزید کچھ دنوں تک سوجن رہی، مگر جب وہ چلنے پھرنے کے لائق ہوئی تو اس نے ایک ویٹر کی مدد سے صدر کے گھر کا پتہ نکلوالیا اور اس کے شہر کو روانہ ہوگئی۔وہ سوچ رہی تھی کہ شاید اس کا باپ، صدر سے اچھی طرح پیش نہیں آیا ہوگا، جب کہ وہ خود اس معاملے میں ایک وکٹم کی سی حیثیت رکھتا تھا۔این کے خیال میں اس کا صدر سے ملنا نہایت ضروری تھا۔وہ بغیر یہ جانے، بوجھے اس کی گلیوں کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھی کہ پتہ نہیں وہ شخص، جس کو اس نے عین سرد رات میں مرنے کے لیے بدن کی ٹھنڈی دعوت میں شریک کیا تھا،اس کے ساتھ کیسا سلوک کرسکتا ہے۔
(جاری ہے)
Categories
فکشن

پستان۔ آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-8
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

این گاڑی میں تھی، مگر ابھی تک ہوائی جہاز کی وہ ژووووں ں ں کرتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ ہوائی سفر پسند نہیں کیا کرتی تھی۔ باہر تیز برسات ہو رہی تھی۔ طویل راستہ تھا تو اس کے پاس سوائے موسیقی سننے اور دھیمے ٹریفک میں رینگتی ہوئی گاڑی کے درمیان یادوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے کے، کوئی دوسرا کام نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس بھری اور اس کے گول سینے کی ابلتی ہوئی ہانڈی میں دو خاموش طبع لوگوں کی یادیں گڑگڑانے لگیں۔وہ آنکھیں، وہ خوبصورت آنکھیں، جن سے بچھڑے ہوئے اسے قریب ڈیڑھ سال ہوگیا تھا۔ اس عرصے میں اس نے ہر دن ان آنکھوں کو بہت یاد کیا تھا، آخر کیا تھا ان آنکھوں میں جو صدمے کی طرح رہ رہ کر اس کے شانوں کو دباتا ہوا محسوس کرتا۔ راتوں میں جب وہ تکیے کے ساتھ لپٹ کر سو رہی ہوتی تو اس کی تنگ تاریک عریانی میں وہ آنکھیں دھڑکتی ہوئی آن پہنچتیں۔ اور اپنی پلکیں پھیلا کر اس کا پورا وجود خود میں گھول لیتیں، ملا لیتی۔ وہ رات بھر انہی آنکھوں کی تجوری میں کسی گرم خزانے کی طرح ہانپتی رہتی۔

 

این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا ملنا ایک عالیشان محل کے پھاٹک کی طرح ہمیشہ شاندار اور جاذب نظر معلوم ہوتا تھا۔ جسے جب بھی دیکھو، کتنی بھی دور سے، کتنی بھی ظلمت یا کیسی بھی روشنی میں، وہ خوبصورت ہی معلوم ہوتا تھا۔ وہ چقماق جیسی آنکھیں جو این کے سینے سے رگڑ کھاتے ہی سرخ ہونے لگتیں، خمار کی گرم اداسیوں اور محرومیوں کی کائیوں سے اٹی ہوئی۔ وہ نیلی، کالی، سرخ اور سبز آنکھیں۔ بہت سے رنگ بدلتی تھیں۔ این نے اس عرصے میں ہر دفعہ یہی سوچا تھا کہ وہ پلٹ کر صدر کے پاس نہیں جائے گی۔مگر اس کے جسم کی بو اور اس کے ذہن کے اتہاس کا یاتری بار بار رات کی ٹرین کو آنکھوں کے اسی سنسنان سٹیشن پر موڑ لاتا تھا اور وہ رات بھر ان آنکھوں کی پٹریوں، بنچوں، سیڑھیوں اور ریلنگ پر بیٹھ کر سوچا کرتی کہ کیا اسے واقعی واپس جانا چاہیے۔ صدر اس سے ملنے سے پہلے شاید یہی سمجھتا رہا ہوگا کہ وہ دنیا کا سب سے عجیب اور آزاد انسان ہے، مگر این نے اس کی طبیعت کی ساری تیزی اور انا کی ساری کراری ختم کردی تھی۔ وہ راتوں میں اس کے ایک بوسے کے لیے بھکاریوں کی طرح گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اسے خود کے نزدیک آنے کے لیے منتیں کرتا رہتا اور این اپنے آپ کو اس منظر سے تسکین پہنچایا کرتی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ شخص جو خود کو ذہانت کا پتلا سمجھتا ہے، اپنے برش سے عورتوں کے جسم کے ایسے باریک ریشوں اور دھبوں اور رنگوں کو نمایاں کرتا ہے کہ خود عورت کا آئنہ بھی اس پر اتنی صفائی کے ساتھ خود کو روشن نہ کرسکے۔ کیسے اس کے لیے ماہی بے آب بنا ہوا تڑپ رہا ہے۔ یہ روز ہوتا تھا۔ صدر کو اب اس طلب میں اور این کو اس اذیت دہی میں لطف آنے لگا تھا۔ صدر ان دنوں شہر کی کسی سرائے میں ایک کام سے ٹھہرا ہوا تھا، جب این سے اس کی ملاقات ہوئی۔ این اس سرائے کی مالک تھی، مگر وہاں اس کا اتفاق سے ہی جانا ہوا کرتا تھا، کیونکہ اس کا بوڑھا باپ ساری ذمہ داری اٹھائے تھا۔وہ کسی صورت این کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔ چہرے پر جھریوں کا ایسا جال تھا، جیسے لگتا ہوکسی پھوہڑ عورت نے آٹا گوندھنے کی کوشش کی ہو۔ اکثر و بیشتر جب وہ کاؤنٹر پر کھڑا ہوکر اپنے گلے کی لٹکتی ہوئی کھال کو چٹکیوں میں بھر کر کالر میں ڈالا کرتا تو دیکھنے والے جھرجھری لیتے۔ مگر وہ چکنی اور بلاگوشت کی جھولتی ہوئی کھال بار بار پھسل کر باہر آجایا کرتی۔ اس کے بائیں ہاتھ میں رعشہ تھا۔ صدر نے ایک دفعہ این سے پوچھا بھی کہ آخر تمہارا باپ اس قدر بوڑھا کیوں ہے، تو این نے بتایا کہ اس کے باپ نے پچاس سال کی عمر میں شادی کی تھی اور قریب ساٹھ سال کی عمر میں وہ پیدا ہوئی تھی، اس کی ماں ڈلیوری کے وقت ہی دنیا سے سدھار چکی تھی۔ بقول این وہ کافی جوان تھی، اور اگر وہ اس رات بچ جاتی تو شاید این کا باپ پچھلے سترہ اٹھارہ سالوں میں اس قدر بوڑھا نہ ہوا ہوتا۔ این اس کے مقابلے میں بہت خوبصورت تھی، ایک سال پہلے ہی اس کا سکول پورا ہوا تھا، این کو شکایت تھی کہ اس کے پستان زیادہ بڑے نہیں ہیں۔ وہ انہیں انگلیوں سے چھوا کرتی تھی، عجیب بات یہ تھی کہ سکول میں اس کا کسی کے ساتھ افیئر نہیں ہوا تھا۔ بدن پتلا دبلا تھا، بال گردن تک جھولتے ہوئے، ٹھوڑی آگے کو نکلی ہوئی اور آنکھیں بڑی بڑی، ناک البتہ کچھ موٹی تھی، مگر گالوں کے گڑھے اور چوڑے دہانے کی آمیزش نے اس کی ناک کے اس عیب کو دبا لیا تھا۔

 

اس روز صدر کسی کام سے بازار گیا تو واپسی میں اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھلا پایا، احتیاط سے اندر داخل ہوا تو بالکنی میں ایک لڑکی کو اپنی ایک کتاب پڑھتے ہوئے دیکھ کر چونک گیا۔ اس نے کہا:
‘معاف کیجیے گا، لگتا ہے میں کسی غلط کمرے میں گھس آیا ہوں۔’
لڑکی نے کہا:’ہیلو ! میرا نام این ہے۔ آپ کسی غلط کمرے میں نہیں آئے ہیں۔ ایکچولی یہ کتاب ہماری کنٹری میں بین ہے۔’

 

صدر کو سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی بات کا کیا جواب دے۔اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا۔

 

‘واقعی؟’

 

لڑکی نے آگے بڑھ کر صدر کو ایک گال پر ایک بوسہ دیا اور کہا:’فی الحال میرے پاس آپ کو دینے کے لیے دوسرا اور کچھ نہیں ہے۔اس سے کام چلائیے، میں کچھ روز میں کتاب واپس کردوں گی۔’

 

صدر دیکھ رہا تھا کہ لڑکی نے کتاب کو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور درمیان میں انگلی پھنسائی ہوئی ہے۔اس کے انہماک کو توڑتے ہوئے لڑکی نے ایک ہاتھ سے اسے ہلکا سا پیچھے کیا اور مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔وہ بالکنی کی اسی کرسی پر بیٹھ گیا۔ لڑکی کے دائروں کی حرارت ابھی تک کرسی پر جمی بیٹھی تھی۔ پھر وہ کچھ خیال کرکے اٹھا، اس نے لیپ ٹاپ اٹھا کر چیک کیا کہ کیا واقعی وہ کتاب اتنی اہم تھی کہ کسی ملک میں اسے بین کیا جائے۔ وہ دراصل عورتوں کے مختلف پستانوں کے متعلق ایک بہت ہی دلچسپ کتاب تھی۔ خود زیادہ وہ بھی نہ پڑھ سکا تھا، مگر اس کتاب کو لکھنے والے نے ناول اور نالج کو کچھ اس طرح سے ملادیا تھا کہ پڑھتے وقت اگر ایک طرف بہت گرماہٹ محسوس ہوتی تو دوسری طرف پستانوں کے اندرون، ان کی ساخت اور بناوٹ کے اسباب پر جو روشنی ڈالی گئی تھی، اس کی سائنسی، نفسیاتی، فلسفیانہ، تاریخی اور عمرانی وجوہات کو پڑھ پڑھ کو وہ بہت بور بھی ہوا تھا۔وہ کتاب واقعی یہاں بین تھی۔ شاید اس لیے کہ اس کا مصنف ایک ایسا شخص تھا جو پستان اور مرد کے عضو تناسل کے بارے میں دنیا بھر میں ماہر ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عورت اگر اپنے پستان کاٹ بھی دے، تب اس کے اندر کی پستانی صفت ختم نہیں ہوسکتی۔ قدرت کی جانب سے ہر عورت کے سینے پر یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو جس قدر بھاری ہو، اتنا ہی ہلکا معلوم ہوتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسی بھی عورت کے پستان برابر نہیں ہوا کرتے، دنیا میں شاید دو تین فی صد عورتیں ایسی ہوں گیں، جن کے پستانوں کا وزن برابر ہوگا۔ پستان اپنی ایک دنیا خود میں آباد رکھتے ہیں۔ اور ان کی غیر برابری بھی ایک قسم کی تاریخی حقیقت کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ اس کے تعلق سے اس نےاپنے ناول میں بڑا عجیب و غریب لیکن دلچسپ اسطورہ بھی بیان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شروعات میں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں، جن کے پاس اپنے سارے جنسی احساسات موجود تھے، مگر ان کے پستان ابھرا نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ مردوں کی طرح سپاٹ سینہ رہا کرتی تھیں، بس جس وقت ان کا جنسی عمل کرنے کا دل چاہتا، ان کے سینے پھول جاتے اور وہ اس قدر پھولتے کہ ان کی خواہش کسی سے چھپی نہ رہ پاتی تھی۔ اس نے اس سلسلسے میں ایک بھورے بالوں والے بندر کا قصہ سنایا تھا، جس کی بیٹی کو دنیا بھر میں عفیفہ اور عزت مآب شخصیت سمجھا جاتا تھا۔کئی مرد اس کے پاس آتے، اس کے جسم کا طواف کرتے، مگر وہ ایک دائرے میں اس طرح ننگی بیٹھی رہا کرتی کہ اس کا سینہ کسی بھی پہلوان، گبرو یا باہوبلی کے لیے نہیں پھولا کرتا تھا۔ ایک رات بہت برسات ہورہی تھی، اتنی کہ اس میں بھورے بندر کو احساس ہوا کہ دائرے میں موجود کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی اس کی بیٹی بھیگ رہی ہوگی۔وہ خود رات کے پچھلے پہر، سب سے چھپتا چھپاتا اپنی بیٹی کو لینے کے لیے بے تاب سا وہاں پہنچا اور اسے دائرے سے اٹھا کر اپنی خوابگاہ میں لے آیا، اس نے سوچا تھا کہ اگلے پہر جب برسات کا زور ہلکا سا ٹوٹے گا تو وہ بیٹی کو دوبارہ وہاں پہنچادے گا، مگربھاری برسات میں جب وہ اپنی بیٹی کو لارہا تھا، تو اس کے بالوں بھرے ہاتھوں کی رگڑ بیٹی کی ننگی پیٹھ کو ایک عجیب تسکین پہنچا رہی تھی، اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں، بندر کا دوسرا ہاتھ بیٹی کے کولہوں پر تھا، خوابگاہ میں لانے کے بعد جب وہ ایک چھال سے بیٹی کا بدن پونچھنے لگا تو بیٹی نے بے تابانہ آگے بڑھ کر بھورے بندر کا بوسہ لے لیا۔ وہ رات بھورے بندر کے لیے اپنی زندگی کی سب سے گہری طوفانی رات میں بدل گئی اور اس نے سسکتے ہوئے اپنی بیٹی کے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا، سانسیں جب دونوں جانب بے حد گرم ہوگئیں تو قق قق کی آواز کے ساتھ بیٹی کے منہ سے عین وصل کے درمیان خون نکلنے لگا، لیکن بندر پر اس وقت وحشت طاری تھی، جب وہ جنسی عمل سے فارغ ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیٹی مرچکی ہے۔ احساس ندامت نے اسے اتنا جھنجھوڑا کہ وہ خود جاکر اسی دائرے میں بیٹھ گیا، بھیگتی ہوئی برسات اور ٹھٹھرتی ہوئی لہروں نے اس کے جسم کو لپیٹ لیا، اس کی عفیفہ بیٹی کی روح برسات کے چابکوں میں بدل کر اس کی پیٹھ، چہرے اور رانوں کو سڑاک سڑاک کی آوازوں کے ساتھ چھلنی کرنے لگی۔ صبح لوگوں نے دیکھا کہ بھورے بالوں والا بندر دائرے میں اوندھے منہ پڑا ہوا ہے، اوراس کی سپاٹ سینہ و عفیفہ بیٹی اس کی خواب گاہ میں خون میں نہائی ہوئی،اپنے بڑے بڑے ہوئے پھٹے ہوئے سینوں کے ساتھ رانوں کو اوپر کی جانب کیے ہوئے مردہ پڑی ہے۔اس نے اس قصے کے بعد لکھا تھا کہ پستانوں کی دیوی ‘چوچارو’ کو اس روز احساس ہوا کہ ابلا اور بھرا ہوا سینہ ہر عورت کے پاس ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی عورت کو پستانوں کی عدم موجودگی میں اس قسم کے دائروں میں بیٹھنے کی نوبت نہ آئے۔ ناول کے سرورق پر بھی ایک ایسی بے چہرہ عورت کا مردہ وجود بنایا گیا تھا، جس کا بدن خون میں ڈوبا ہوا تھا اور اس کے پستان پھٹے ہوئے تھے۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کتاب کے سرورق پر بنی ہوئی مردہ لڑکی یا عورت کا جسم ‘این’ کے فیگر سے کتنا ملتا جلتا تھا۔

 

صدر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اپنے آپ کو واپس ہوش کی دنیا میں پلٹایا، اس نے سوچا کہ این براہ راست اس سے کتاب مانگ کر کیوں نہ لے گئی، کیا اس نے اسے پہلے کوریڈور میں کہیں دیکھا تھا یا لابی میں یا ڈائننگ روم میں۔کہیں تو دیکھا ہوگا،ا ور پھر وہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی تھی کہ وہ کچھ روز یہاں ٹھہرے گا۔ کہیں وہ کوئی جاسوس تو نہیں تھی۔کوئی جاسوس، جو اس ملک میں صدر کو یہ کتاب لاتے ہوئے دیکھ چکا ہو اور اب اس کا مقصد کسی صورت یہ کتاب وہاں سے ہٹانا ہو۔لیکن ایک کتاب سے اس قدر خوف اس کی سمجھ میں نہ آیا، پستان تو یہاں کی عورتوں کے بھی ہیں، لڑکیوں اور ننھی بچیوں کے بھی، بلکہ خود اس جاسوس کے بھی ہیں۔کیا یہ لوگ اس پر بھی پابندی لگا سکتے ہیں۔کیا یہ پستان کے پیچھے ایک جاسوس چھوڑ سکتے ہیں۔ممکن ہے اس کتاب میں آگے چل کر کہیں کوئی ایسی بات ہو، جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی ہو۔وہ باہر نکل کر دیکھنے لگا کہ شاید اسے کہیں وہ لڑکی دکھائی پڑے۔ مگر وہ دور دور تک نہیں تھی۔پھر اسے یاد آیا کہ جنس تو دنیا کی ہر شے میں موجود ہے۔خودوہ تو یہی سمجھتا ہے۔وہ کچھ سوچتے سوچتے اپنے کینوس کے نزدیک گیا۔اس نے ایک بکسے سے اپنا پسندیدہ ریکارڈ رنکالا اور اس پر ایک فرانسیسی گیت بجاتے ہوئے شرٹ اتار کر تصویر بنانے میں مصروف ہوگیا۔کافی دیر بعد جب وہ وہاں سے ہٹا تو تصویر میں عورت کی شرم گاہ ایک چھوٹی، مڑے اور جھجکے، بھیگے کاغذوں کی کتاب جیسی نظر آرہی تھی، جسے میں مرد کا عضو تناسل کسی انگلی کی طرح ایک مخصوص صفحے کو روکے رکھنے کے لیے درمیان میں کہیں پھنسا ہوا تھا۔

 

وقت بیت رہا تھا، شام ہورہی تھی، اس نے کچھ بسکٹ کھائے اوراپنے بستر پر لیٹ گیا، واٹر کلر اس کے چہرے اور ماتھے پر یونہی لگا ہوا تھا، فرانسیسی گیت اس ماحول میں اداسی کی ایک ایسی بے معنی تشریح کرتا معلوم ہورہا تھا جیسے سب کچھ کہیں پیچھے چھوٹ گیا ہو۔وہ اپنی غریب الوطنی اور خود ترحمی کے ملے جلے احساسات میں ڈوبا ہوا چلا گیا، اس نے دروازہ بھیڑنے تک کی زحمت گوارہ نہ کی تھی۔صبح آنکھ کھلی تو کوئی اس کی آنکھوں کے آگے چٹکیاں بجا رہا تھا۔وہ ‘این’ تھی۔