Categories
فکشن

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔

چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔

’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘

شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔
اس پر قہقہہ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟
کس کی ہے؟
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔
ہم سمجھے نہیں۔
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

Categories
نقطۂ نظر

دو ملکوں کے بے وقوف عوام کا قصہ

محمد اخلاق کی موت پر ایک دنیا سوگ میں ہے، ہندوستان کے اس قصے پر ان لوگوں کو زیادہ افسوس ہے، جو انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں۔اس خبر کو میڈیا نے بھی بہت ہوا دی ہے، لوگ آگ بگولا ہورہے ہیں ، کچھ صدمے میں ہیں، کچھ جذباتی ہیں اور سب مل کر صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں کہ صرف گائے کھانے کا الزام لگا کر کسی انسان کو کیسے مارا جاسکتا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ نہایت غیر انسانی ہے، درد ناک ہے اور میری رائے میں بہت حد تک سیاسی ہے۔اس کی وجہ وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو اس وقت ہندوستان میں مذہب کا لوہاگرم کروانے کی سیاست سے باخبر ہیں۔رائٹ ٹو اسپیچ کے نام پر آج کل یہاں بہت شور مچایا جارہا ہے۔حد تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی اس واقعے پر افسوس جتایا جارہا ہے۔بربریت کی اس مثال پر لوگ ابھی حیرت زدہ ہیں، بعد میں وہ اسے ایک بھیانک تاریخی واقعہ سمجھ کر قبول کرلیں گے اور اس کے بعد اس واقعے کو ایک خطرناک خواب کی صورت بھلانے کی کوشش کی جائے گی۔جو لوگ سیکولر ہیں، ان کے لیے یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، جو مسلمان ہیں ان کے لیے گائے کھانے کا اور جو ہندو ہیں وہ اس وقت مکمل طور پر اس Justificationمیں لگے ہوئے ہیں کہ مارنے والوں کے ساتھ بچانے والے بھی ہندو ہی تھے۔

 

ہندوستان اور پاکستان کی ٹرین ایک ہی پٹری پر دوڑ رہی ہے اور اس کے مسافروں کی اوقات نہیں کہ ڈرائیوروں سے سوال کریں کہ ہمیں تو اس راستے پر نہیں جانا تھا، تم کیوں ہمیں اس طرف لے آئے ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان ، دونوں ملکوں کی کہانی بہت الگ نہیں ہے، یہاں کے لوگوں نے اپنی تاریخ میں عقیدے اور مذہب کے نام پر اب تک جو کچھ بویا ہے، اسے ہی کاٹا بھی ہے۔اس میں میں دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی شامل کرسکتا ہوں مگر سچی بات یہ ہے کہ انہیں شامل کرنے سے میرا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ان دو ملکوں پر بھی بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اور شاید اب یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ان لوگوں کی تاریخی غلطیاں اب ان کی فطرت بن چکی ہیں۔ان کے باپ داداؤں نے انہیں تہذیب اور مذہب کے نام پر جو کچھ دیا ہے، سیاست کے پاس اس کا استعمال کرنے کا یہ وقت خوب ہے، اب انسان کو بڑے پیمانے پر مارنے کے لیے شہر سے دور کسی میدان میں جاکر باقاعدہ لڑاکا لوگوں کے ساتھ جنگ نہیں لڑنی پڑتی، اب وہ میدان بھوکوں، مزدوروں، ننگے فٹ پاتھیوں کے گھروں میں اتر آیا ہے۔جنہیں مارنا آسان ہے، جن کی لاشوں پر سیاست کرنا آسان ہے، جن کی بھک منگی ، سڑی ہوئی اور خون میں ڈوبی لاشوں کے مناظر دکھا کر ٹی آرپی حاصل کرنا بہت فائدے مند ہے اور اس میں کسی کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔درمیانی طبقہ اپنی مجبوری کا رونا رو کر اپنی فطرت نہیں بدلتااور اشرافیہ کے ایک حصے کو ان سب باتوں سے غرض نہیں، دوسرے طبقے کو ان باتوں سے بھی روپیہ بنانے کی تدبیر کرنی ہوتی ہے۔چنانچہ یہ واقعہ ہمارے لیے کوئی دل کو ہلا کر رکھ دینے والی واردات نہیں ہے، یہ بس ہماری روٹین کا حصہ ہے، یہ ہمارے دور کی تجارت کا کارنامہ ہے،جس میں مذہب ، غربت اور چند پیسہ خرچ کرکے جمع کیے گئے غنڈوں کے آلات استعمال کیے گئے ہیں۔محمد اخلاق کی موت کا پیٹرن بالکل وہی ہے جو راج کشن کوٹ والے میاں بیوی کی موت کا تھا۔یہاں بھی مقدس مانی جانے والی ایک عمارت کو استعمال کیا گیا، وہاں بھی ۔یہاں بھی لوگ کھنچے چلے آئے ، وہاں بھی۔یہاں بھی بے رحمی سے دو لوگوں کو پیٹا گیا، وہاں بھی۔یہاں بھی ان کو بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آیا، وہاں بھی، یہاں بھی یہ اقلیت کا حصہ تھے، وہاں بھی۔یہ سارا معاملہ بتاتا ہے کہ داڑھی یا تلک کا فرق ، انسانی فطرت کو الگ نہیں کرتا، ان کی حرکتیں، ان کے معاملے کو یکساں ثابت کرتی ہیں۔وہ ایک دوسرے کو الگ الگ کہہ کر ماررہے ہوتے ہیں، مگر وہ دراصل ایک ہوتے ہیں۔

 

ارے بھئی! مجھے کس علاقے میں کیا کھانا چاہیے، کن حالتوں میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے ، یہ کوئی اللہ یا بھگوان کے طے کرنے کی بات ہی نہیں ہے۔خدا اتنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں کیوں بولے گا، اس کے پاس بڑے مسئلے نہیں ہیں کیا؟
اچھا ایسا نہیں ہے کہ یہ بالکل ان پڑھ، مین اسٹریم سے کٹے ہوئے لوگوں کی داستان ہے۔میں نے بیشتر اپنے آس پاس موجود اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو موسم سے زیادہ مذہب پر بات کرنے میں منہمک پایا۔یہ کیسے لوگ ہیں، جو پڑھ لکھ کر آج تک ایک ایسی سیاست کو جنم نہیں دے سکے، جو لوگوں کا استحصال کرنے کے بجائے ان کو زندہ کرنے، بیدار کرنے، ان کی ترقی کے لیے فکرمند ہونے پر مجبور کرسکے، یہ کون سی مخلوق ہے،جسے کیچڑ میں پڑے رہنے کا اتنا شوق ہے کہ اندھی تقلید سے باز ہی نہیں آتی، یہ کیا انسان ہیں جو ہمیشہ سے خود کو استعمال کرنے کی دعوت سیاستدانوں کو دیتے رہے۔کیا امن ایسے آسکتا ہے، کیا اس کی چاپ اس طرح سنائی دے سکتی ہے۔اس طرح تو ہم اگلے سو سال تک لڑتے رہیں گے۔یوں تو میں مانتا ہوں کہ ہمیں مارنے کے لیے قدرت کی طرف سے بھیجی ہوئی وبائیں اور تکلیفیں اتنی کم پڑگئی ہیں کہ اب ہم مذہب کے نام پر مارے جارہے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کی ٹرین ایک ہی پٹری پر دوڑ رہی ہے اور اس کے مسافروں کی اوقات نہیں کہ ڈرائیوروں سے سوال کریں کہ ہمیں تو اس راستے پر نہیں جانا تھا، تم کیوں ہمیں اس طرف لے آئے ہو۔میں مسجد نہیں جاتا، پہلے خوب جاتا تھا، بہت روز تک گیا،مگر پھر ایک روز ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کیسی عجیب سی بات ہے کہ ایک آدمی کے ذہن میں جو بات آرہی ہے، کہے جارہا ہے، اور سینکڑوں لوگ وضوکرتے ہوئے،سکڑے سمٹے بیٹھے ہوئے، عطر لگائے اسے سنے جارہے ہیں، خشوع و خضوع سے نہ سہی،مجبوری میں۔لیکن کوئی اٹھ کر اس سے یہ سوال نہیں کرتا کہ یہ کون سی بات کررہے ہو، مذہب کی یہ بات ہمیں قبول نہیں۔اگر واقعی مذہب میں اس طرح کی کوئی بات موجود ہے، تو اب اسے ختم کردو۔پھر بعد میں میں نے جب مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہر مذہب کو اپنی جامد شکل موجودہ رہن سے پسند ہے۔کسی ملک کا قانون یا وہاں کے عوام اس میں تبدیلی کرسکتے ہیں، مگر کرتے نہیں ۔بہت ہوا تو وقت کی مجبوری کی وجہ سے کچھ آیتوں کو خاموشی سے نظر انداز کردیتے ہیں۔لیکن یہ سسٹم ہی غلط ہے۔ایک آدمی اتنے لوگوں میں صحیح نہیں ہوسکتا، تو پھر مائک اسی کے ہاتھ میں کیوں ہے؟پھر بعد میں سوچا کہ اس آدمی کو اسی سوتی ہوئی بھیڑ نے کھڑا کیا ہے، یہی بھیڑ ہے جو نہیں چاہتی کہ اس کے خراٹوں میں کوئی پریشانی آئے۔یہی بھیڑ ہے جو نہیں چاہتی کہ کوئی اسے ٹھیلے، ستائے، پریشان کرے۔اسی لیے اس بھیڑ نے ایک آدمی چن لیا ہے ، اب وہ جو کچھ سوتے ہوئے کانوں میں دم کردے گا۔اسے یہ ماننے لگے گی، سو اس طرح کے ایک فریب اور جھوٹ کو اس بھیڑ نے سچ کانام دے دیا ہے۔ہنسی آتی ہے کبھی کبھی یہ سوچ کر کہ جن چیزوں کو علم کے حساب سے طے ہونا چاہیے تھا، سائنس کے حساب سے طے ہونا چاہیے تھا، اس کا فیصلہ مذہب جیسی غیر منطقی چیز طے کررہی ہے اور لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان باتوں کو مان رہے ہیں۔ارے بھئی! مجھے کس علاقے میں کیا کھانا چاہیے، کن حالتوں میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے ، یہ کوئی اللہ یا بھگوان کے طے کرنے کی بات ہی نہیں ہے۔خدا اتنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں کیوں بولے گا، اس کے پاس بڑے مسئلے نہیں ہیں کیا؟ وہ مجھے بتارہا ہے کہ چوپایہ کھانا چاہیے یا نہیں، سور حرام ہے یا حلال۔اس طرح تو خدا طے نہیں کرتا، یہ تو ضرور کسی انسان کی کارستانی لگتی ہے کہ دلدل میں لوٹتے ہوئے سور کو دیکھ لیا تو اسے نجس قرار دے دیا۔

religious-unity-hindu-muslim

آپ ہزاربھارت ماتا کی جے یا پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیے، آپ اپنے ملک، اپنے لوگوں سے پیار نہیں کرتے۔آپ کے خمیر میں لوگوں سے محبت نہیں ہے، آپ سب سے بڑے غدار ہیں۔
قدرت کے اصول سب کے لیے یکساں ہیں، کتے کے لیے تو کوئی آسمانی کتاب نہیں اتری کہ کیا اس کے لیے حلال ہے اور کیا حرام ،پھر بھی اس نے اپنے وجود کی ابتدا سے اب تک کے سفر میں یہ معلوم کرلیا کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں اور اگر غلطی سے وہ کچھ کھا لے تو اسے کون سی مخصوص گھانس کھا کر الٹی کرنی چاہیے۔لیکن انسان ، جو کہ اشرف المخلوقات ہے ، اسے یہ سب طے کرنے کے لیے ایک آسمانی کتاب کی ضرورت ہے؟ ہمارے پاس مذہب سے زیادہ بہتر علوم موجود ہیں، جو ہمیں سوچنے، پہننے، کھانے اور زندگی گزارنے کے بہتر راستے بتاسکتے ہیں،ہماری ذہنی، علمی اور نفسیاتی تربیت کرسکتے ہیں۔لیکن فیس بک پر لوگوں کو دیکھتا ہوں، کشمیر کے مسئلہ پر جھگڑ رہے ہیں، مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، ایک دوسرے کو ملیچھ، نجس، ناپاک، گندا اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہے ہیں۔کیا عجیب قومیں ہیں، کیا عجیب لوگ کہ تقسیم پر ہونے والے لاکھوں لوگوں کے قتل کو افسوسناک واقعہ بھی کہتے ہیں اور اب بھی ایسے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں گویا موقع مل جائے تو پھر تلواریں نکل آئیں اور ایک دوسرے کو مارڈالیں۔آپ حکومت کو گالیاں مت دیجیے، میڈیا کو قصوروار مت ٹھہرائیے، یاد رکھیے کسی بھی مارکیٹ میں وہی مال زیادہ بکے گا، جس کی مانگ زیادہ ہوگی۔اور اس مارکیٹ میں نفرت کی بہت مانگ ہے،اتنی کہ اس کی کھپت کم پڑتی جارہی ہے ،نئی نئی فصلیں اگائی جارہی ہیں،کھیپیں تیار ہورہی ہیں،مگر کم پڑرہی ہیں۔اور اس کا پورا پورا فائدہ سرمایہ داروں کو ہورہا ہے، ان لوگوں کو جو آپ کی نفرت بیچنے کا ہنر جانتے ہیں۔اگر آپ کو محبت پسند ہوتی، اگر آپ کہتے کہ یہ کیا نفرت نفرت لگا رکھا ہے، ہمارے مذاہب الگ ہیں تو کیا، ہم اپنے دفاع پر اتنا پیسہ خرچ نہیں کریں گے، ہمیں یہی پیسہ غریبوں کی بھلائی میں لگانا ہے، ان کی ترقی میں لگانا ہے، ہمیں پانچ دس سال میں ملک کی شکل بدل دینی ہے،گلیوں ،محلوں سے لے کر شہروں تک میں ترقی کے نئے امکانات روشن کرنے ہیں، تو آپ دیکھتے کہ آپ کے ٹیکس کا کتنا صحیح استعمال ہوتا۔آپ کے پیسوں سے آپ کی بھلائی کے لیے پیسے خرچ کیے جاتے، سرکاری اسکولوں، ہسپتالوں میں بہترین سہولتیں مہیا ہوتیں، لوگ اور زیادہ پڑھ پاتے اور حکومت کا اور محاسبہ کرنے کے لائق ہوپاتے کہ وہ کون سا کام ٹھیک کررہی ہے اور کون سا کام ٹھیک نہیں کررہی ہے۔جمہوریت میں کوئی برائی نہیں ہے، وہ تو ایک آئینہ ہے، آپ کو جیسی سیاست پسند تھی، آپ نے ویسی کروائی، جب تک کسی ملک میں نفرت پنپ رہی ہے، وہاں نفرت پر مبنی حادثات ہورہے ہیں اور ان میں دن رات اضافہ ہورہا ہے تو سمجھ لیجیے کہ حکومت کے کارندے جاکر وہاں یہ حرکتیں نہیں کررہے، بلکہ آپ خود کررہے ہیں، آپ کا اصلی چہرہ یہی ہے۔آپ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔آپ ہزاربھارت ماتا کی جے یا پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیے، آپ اپنے ملک، اپنے لوگوں سے پیار نہیں کرتے۔آپ کے خمیر میں لوگوں سے محبت نہیں ہے، آپ سب سے بڑے غدار ہیں۔جانتا ہوں کہ اس معاملے میں مجھ جیسے ایک شاعر کے سمجھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہونا، پھر بھی سوچتا ہوں کہ آپ مذہب کو کیوں ایسا آلہ بننے دے رہے ہیں۔ٹھیک ہے کہ آپ مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔مگر اس کو اپنے گھروں تک محدود رکھیے، میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں بیس سے زائد مسجدیں ہیں، جب اذانیں ہوتی ہیں تو آپس میں لڑتی، ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان فرقہ وارانہ طور پر کتنا بٹا ہوا ہے۔یہی حال دوسری مذہبی عمارتوں کا ہے۔عمارتیں ہمارے حواس پر چھائی ہوئی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خیر و عافیت کا سبب ہیں، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔مذہب کا ارادہ ہوسکتا ہے کہ نیک ہو، مگر اس کی آڑ لینے والوں کا ارادہ کسی زمانے میں نیک نہیں رہا۔یہ آپ سے کہتے ہیں کہ دیکھو!فلاں نے ہمارے مذہب کی توہین کی، آپ اس کے پیچھے پل پڑتے ہیں۔یہ نہیں پوچھتے کہ اگر کسی غیر مذہب کا آدمی،قرآن کی کسی آیت پر سورہا ہے تو قرآن کی آیت تو اپنا کام کررہی ہے، اسے سردی سے بچارہی ہے، اس کے لیے بچھونا بن رہی ہے، اور ہم اس کی مخالفت کرکے ، اسی انسان کے قاتل بنے جارہے ہیں، یعنی جیسے قرآن نے تحفظ بخشا، اسے ہم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔واہ واہ! تو سوچیے کہ توہین کس نے کی؟ملا یا پنڈت کو اپنے سماج کا نمائندہ مت بننے دیجیے۔یہ ڈھونگی لوگ ہیں۔انہیں خود قرآن یا گیتا یا کوئی بھی اچھی کتاب سمجھ میں نہیں آسکتی۔کیونکہ یہ عقل کی آنکھ سے کوئی چیز نہیں پڑھتے۔یہ وقت کی آنکھ سے کوئی چیز نہیں پڑھتے بلکہ یہ تو کانے لوگ ہیں، ان کے پاس بس اندھی عقیدت کی ایک آنکھ ہے، اور وہ بھی زنگ آلود!

 

خدا اور اس کے احکام کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا واقعی کوئی خدا اس قسم کے احکامات جاری بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔اور جب تک ہم یہ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہیں۔ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم دونوں ممالک کے رہنے والوں کی حالتیں نہیں بدلیں گی، کیونکہ ہم خود ہی بے وقوف ہیں۔
ہم دونوں کے ملکوں کی سیاست کا جہاں تک سوال ہے، تو اس میں لالچی لوگوں کی تعداد زیادہ ہے، وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ملک میں انتشار پھیلانے والی آگ ، جنگل کی اس آگ کی طرح ہے، جو ببول اور بیر کے درختوں میں کوئی فرق نہیں کرتی، وہ تو سب کو جلاتی ہے۔یہ تو خدا کا شکر ادا کیجیے کہ ابھی ان دونوں ملکوں میں آرٹ اور ادب کے نام پر چیخنے والے کچھ لوگ ہیں، جو گالیاں کھاتے ہیں، برا بھلا سنتے ہیں، مگر سچ بولتے ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جن ملکوں کی زمینیں، انسانوں کے لیے اتنی تنگ ہوں کہ وہاں کا اچھا خاصا مڈل کلاس طبقہ بھی کرائے کے گھروں میں رہتا ہو، وہاں اتنی ساری عمارتیں کیسے بن جایا کرتی ہیں، یہ عمارتیں دراصل سیاست دانوں کا ووٹ بینک ہیں۔انہی کو Permission دے کر ، ملاؤں کے لیے پیسہ اور سیاستدانوں کے لیے لوگ اکھٹا کرنے کی سازش کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ کے اتنے گھروں کی ضرورت کیا ہے، ان سے تو مظلوموں، غریبوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کیا کبھی کسی مسجد سے یہ اعلانات ہوتے ہیں کہ موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے کوئی بھی غریب فٹ پاتھ پر نہ لیٹے، مسجد میں آجائے ، یہاں رہے، جب تک اس کے کھانے، پینے ، پہننے کا انتظام نہیں ہوتا، مسجد کی انتظامیہ اس کی دیکھ ریکھ کرے گی، یا وہ اس معاملے میں کچھ خاص غریبوں کی تعداد ہی طے کرکے بتادیتے۔چندے پر مسجد کی عمارت کو بڑھانے کے بجائے، انسانی زندگی کو تھوڑا بڑھاوا دیتے۔

 

تہذیبیں جب آپس میں ملتی ہیں، تو انہیں نئی زندگی ملتی ہے، ایک ہی ڈربے یا ڈبے میں بندھ رہ کر تودودھ کا پاؤڈر بھی سیل جاتا ہے، زندگی تو پھر احساس بھی رکھتی ہے۔وہ آپس میں ملتی ہیں، تو نئے زمانے جنم لیتے ہیں ، یہ دنیا ایک دوسرے سے ملنے ملانے، ایک دوسرے کو جاننے، پہچاننے کے لحاظ سے بہت خوبصورت ہے،مذہبی اجارہ دار کبھی نہیں چاہے گا کہ آپ اس ڈربے سے باہر نکلیں۔وہ آپ کو خدا کی لال لال آنکھیں دکھا کر روکے گا۔اس لیے خدا اور اس کے احکام کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا واقعی کوئی خدا اس قسم کے احکامات جاری بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔اور جب تک ہم یہ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہیں۔ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم دونوں ممالک کے رہنے والوں کی حالتیں نہیں بدلیں گی، کیونکہ ہم خود ہی بے وقوف ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہمارا رویہ

” یہ جو خودکش حملہ آور ہیں ، یہ جو بچوں کی گردنیں کاٹنے والے ہیں ، یہ جو بچیوں کے سکول کو بموں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو پولیو ٹیموں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو ایک نہتی عورت کو سرِبازار کوڑے مارنے والے ہیں ، یہ جو محرم کے جلوسوں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو صوفیاء کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو تعلیم کے دشمن ہیں ، یہ جو ترقی کے دشمن ہیں ، یہ جو پولیس پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے والے ہیں ، یہ جو شریعت کے نام پر پر ستر ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانے والے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ انسان نہیں ہو سکتے اور اگر انسان ہیں تو کم از کم مسلمان کبھی نہیں ہو سکتے۔۔۔ یہ پاکستانی بھی نہیں ہیں۔۔۔ یہ ضرور کسی اور کی سازش ہیں۔۔۔۔”یہ ہے ہمارا وہ مشترکہ اور عمومی رویہ جس کا اظہارہم ہر بم دھماکے، خودکش حملے یا دہشتگردی کے ہر واقعے کے بعد کھلے عام کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری جانب یہ سب کچھ کرنے والے سرِعام نہ صرف ان واقعات کی ذمہ داری تسلیم کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان فرما رہے ہوتے ہیں کہ شریعت کے نفاذ تک یہ جنگ جاری رہے گی اوروہ ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔ اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ ہمارے اس مغالطے میں کچھ حقیقت بھی ہے کہ نہیں۔ کیں ہم ایسی پرفریب کہانیوں میں الجھ کر اپنے لیے مزید مسائل تو پیدا نہیں کر رہے؟
فرقہ وارانہ سوچ اور مذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔
شدت پسند عورتوں کی تعلیم ، حقوق اور مساوی حیثیت کے خلاف ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے جو فرسودہ سوچ پائی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اکثر علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کو یا تو سرے سے ہی برا سمجھا جاتا ہے یا ایک مخصوص حد تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ معاشرے میں ایسی انتہا پسندانہ سوچ کا پایا جانا انتہاپسند قوتوں کے لیے اپنے عزائم آگے بڑھانے کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔اس کے علاوہ عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا، خریداری کے لیے بازار جانا، کسی محفل میں شرکت کرنا، موبائل کا استعمال کرنا، ملازمت کے لیے نکلنا بھی بہت سارے علاقوں میں سختی سے ممنوع ہے اور جہاں جہاں عورتوں کو کسی قدر آزادی نصیب ہے وہاں بھی ان کے حوالے سے کچھ اچھے جذبات نہیں پائے جاتے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عمومی تاثرات کو ترقی پسند یا انتہاپسندی یا شدت پسندی کے خلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ تاثر عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو عورت گھر سے باہر نکلتی ہے وہ شاید اچھے کردار کی مالک نہیں ہے ۔ ملازمت کے لیے باہر نکلنے والی خواتین کے بارے میں بھی عام خیال یہ ہے کہ وہ اچھے کردار یا چال چلن کی مالک نہیں ہو سکتیں۔
مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہر گروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔
فرقہ وارانہ سوچ اورمذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔اپنے مسلک کے ماننے والے اگر کسی حملے میں مارے جائیں تو شہید اور اگر مرنے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والے ہوں تو وہ ہلاک۔ مذہبی اجتماعات میں کھلے عام نفرت انگیز تقریروں پر جھوم جھوم کر نعرے لگانے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ وال چاکنگ، پوسٹرز، کتابوں، رسالوں یا سوشل میڈیا پر کھلے عام کفر کے فتوے بانٹنے والے، انہیں پسند فرمانے والے اور تکفیریت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہماری بات چیت، گفتگو اوربحث و مباحثے کے دوران بھی یہی خرد دشمن رویہ عام ہے۔اگر کوئی عقل، علم یا شعور کی بنیاد پر بات کرتا ہے تو اس کی زبان بندی کے لیے ہمارے پاس یوں تو کئی راستے ہیں لیکن سب سے آسان اور آزمودہ راستہ فتویٰ لگانا ہے۔ جب کسی پر فتویٰ لگ جاتا ہے تو باقی کام ہمیں کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ خود بخود ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔عقل، علم یا شعور کی راہ روکنے کے علاوہ ہم اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی یہ طریقہ کار بہت کامیاب نتائج کے ساتھ بہت عرصے سے آزماتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال کوٹ رادھا کشن میں ہونے والا اندوہناک واقعہ بھی ہے جو سوچنے سمجھنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت ہے۔
آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ستر ہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟
ہمارے ہاں ایک نقطہ نظر اچھے طالبان اور برے طالبان کی تفریق کا بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس سوچ کا گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو ہر مسلک یا فرقے کے حساب کتاب میں اچھے اور برے طالبان کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہرگروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو لڑکیوں کے سکولوں پر حملہ کرنے والوں کو برے طالبان مانتا ہے لیکن دوسری طرف بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جو ملالہ یوسف زئی پر حملے کو با لکل درست اقدام تصور کرتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کے ذمہ دار انتہائی برے طالبان ہیں لیکن ان طالبان کا رہنما ملا عمر ہمارے دانشوروں اور مذہبی جماعتوں کی آنکھوں کا تاراہے۔ سلمان تاثیر کے قاتل کے حق میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور اسے ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ ایک جانب انسانی حقوق، امن، محبت اور رواداری کی بات کرنے والوں کو یا تومار دیا جاتا ہے یا ان کے راستے میں ہر طرح سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور دوسری جانب کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کام کرتی ہیں اور ان کے کارندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے، ان کی مذمت کرنے یا ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ۔
بظاہرہم شدت پسندی اور انتہا پسندی کے جس قدر خلاف ہیں ہمارا عمومی رویہ دہشت گردوں کے لیے اسی قدر راستے ہموار کررہا ہے۔ آئیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں، آئیے ذرا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لیں، آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سترہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟ کہیں ہمارے عمومی رویے اس سب کے پیچھے کارفرما تو نہیں؟؟؟ ذرا سوچیئے!
Categories
نقطۂ نظر

کوڑھ کی کاشت

سانحہ صفورہ اور سبین محمود کے قتل میں ملوث لڑکوں کی گرفتاری سے ملک کے بہت سے حلقوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملزمان کا تعلق ملک کے صاحب ثروت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے ہونا ہے ۔ اگرچہ اس سے قبل بھی دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں صاحب ثروت طبقے کے نوجوان ملوث پائے گئے ہیں لیکن دہشت گردی کی جڑیں صرف غربت اور جہالت میں تلاش کی جاتی رہی ہیں اور مدرسوں کو وہ نرسری قرار دیا جا تا رہا ہے جہاں دہشت گرد وںاور شدت پسندوں کی فصل تیار ہو تی ہیں۔
سانحہ صفورہ کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد بہت سے تجزیہ نگار اور دانشور حضرات اس ملک کے نظام تعلیم پہ سوالات اٹھا رہے ہیں ۔چند سال پہلے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے لاہور ،کراچی اور اسلام آباد کی بڑی جامعات میں ایک سروے کروایا تھا جس کے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے تھے ۔ان نتائج کے مطابق ان یونیورسٹیز کے طلبا میں انتہا پسندی کا غالب رحجان سامنے آیا تھا۔
آخری چٹان، شاہین، محمد بن قاسم اور پناہ (حصہ اول و دوم) کے علاوہ تیس سے زائد ڈرامے اور سریلز سرکاری ٹی وی سے نشر ہوئے جن کے ذریعے ملک میں جہادی فکر اور طرززندگی کو فروغ دیا گیا۔
ضیا دور میں امریکی اور سعودی مالی امدادسے مذہبی انتہا پسندی کی ترویج کے لیے جو سماجی تشکیل نو (Social Engineering) کی گئی اس میں نظام تعلیم کے علاوہ بھی کئی ذرائع استعمال کیے گئے ۔معاشرتی پیچیدگیوں کو ضرورت سے زیادہ آسان اور سادہ بنا کر پیش کیا گیا ۔سردجنگ کے اواخر میں امریکی صدر ریگن کے مطابق دنیا خیر اور شر کے دھڑوں میں منقسم تھی تو پاکستان میں گھڑے جانے والے بیانیے کے مطابق دنیا اور معاشرہ کفر ودہریت اورایمان میں تقسیم تھا ۔اس جانبدار نقطہ نظر کی ترویج میں سرکاری ذرائع ابلاغ پیش پیش تھے ۔ سرکاری ٹی وی پہ چلنے والے تاریخی ڈراموں میں ہندوو اور عیسائیوں کی تصویر کشی کسی بھی طور پے انہیں معاشرے اور دنیا کے حصے کے طور پر پیش نہیں کرتی تھی۔نسیم حجازی کے نالوں پہ بننے والے ڈرامے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے تھے لیکن یہ ڈرامے اس وقت کے ریاستی بیانیے کے معیار پہ پورا اترتے تھے ۔”آخری چٹان “،” شاہین”، “محمد بن قاسم” اور”پناہ” (حصہ اول و دوم) کے علاوہ تیس سے زائد ڈرامے اور سریلز سرکاری ٹی وی سے نشر ہوئے جن کے ذریعے ملک میں جہادی فکر اور طرززندگی کو فروغ دیا گیا۔ تھیوڈور گیبریل نے اپنی کتاب کرسچن سٹیزن ان این اسلامک سٹیٹ (Christian Citizen in an Islamic State) میں دی کرسچن وائس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ “ٹیپو سلطان” ،”محمد بن قاسم “اور “شاہین ” میں نہ صرف تاریخ کو مسخ کیا گیا بلکہ ان ڈراموں نے پاکستان میں اقلیتوں پہ بھی برے اثرات مرتب کیے۔ان ڈراموں میں جہاں ایک طرف جہاد بالسیف کے تصورکو اجاگر کیا گیا وہیں ایسے پرواگرام اور ڈرامے بھی تھے جو بہت ہی دھیمے لہجے میں دین کی تبلغ کرتے تھے۔ ان پروگراموں کے کردار اکثر ایک اچھا اور سچا مسلمان بننے کے لیے نہ صرف تصوف کا سہارا لیتے بلکہ وہ خدا کی تلاش میں کبھی خاکروبوں اور کبھی گڈریوں کے پاس دھکے کھاتے بھی نظر آتے۔
نصاب تعلیم ،سرکاری ذرائع ابلاغ سے ایک ایسی قدامت پسندنسل کی آبیاری کی گئی جو اب اس ملک کے تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں اہم فیصلہ ساز نشستوں پہ براجمان ہے جوابھی تک کسی نہ کسی صورت میں جہاداور سچا مسلمان بننے کے بیانیے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ہم ٹی وی اور دیگر ٹی وی چینلوں ڈراموں میں اب ایک نیا عنصر سامنے آ رہا ہے ۔”شہر زاد”،”ایک پل”اور” شناخت ” جیسے ڈراموں میں دوطرح کے کردار نظر آتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو کہ “سچے”،” کھرے”اور” اچھے مسلمان” ہیں جنہوں نے اسلامی شعار کو اپنی زندگی بنا یا ہوا ہے اور مذہب کو ایک ثقافتی رویے کے طور پہ اپنایا ہوا ہے ۔یہ لوگ اعلیٰ یعنی صاحب ثروت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کبھی گمراہ تھے جن کی لڑکیاں ننگے سر بے حجاب اور عبادات سے دور تھیں پھر کسی مرشد کامل کے سمجھانے پہ نہ صرف صوم صلوٰۃ کی پابند ہو گئیں بلکہ اپنے طور پہ ایک مقصدبھی چُن لیا اور وہ مقصد اپنے قول اور اعمال سے دوسرے لوگوں کو ان کی گمراہی کا احساس دلا کر انہیں دین کی طرف واپس لے جانے کی کوشش ہے ۔ان کے مقابل دوسرے کردار وہ ہیں جو نہ صرف دین سے دور ہیں بلکہ اس کی وجہ سے خسارہ بھی اٹھا رہے ہیں یہ خسارہ کبھی جسمانی تو کبھی جذباتی شکل میں سامنے آتا ہے ۔یہ ڈرامے یہ بھی دکھاتے ہیں کہ صاحب ثروت طبقے کے بچے اچھے مسلمان نہیں ہیں ۔شہرزاد کی ہیروئن ایک منظرمیں اپنی ماں سے کہتی ہے کہ اس نے اس کی اچھی تربیت نہیں کی ہے اسے نماز پڑھنا نہیں سکھائی اور اسے وضو کرنے کا طریقہ تک نہیں آتا ۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ سے دور ہے اور اللہ سے دوری ہے اس کی مصبیتوں کی وجہ ہے (یہا ں سب سے بڑی مصبیت کا اس کردار کو طلاق کی شکل میں سامنا ہے )۔
نصاب تعلیم ،سرکاری ذرائع ابلاغ سے ایک ایسی قدامت پسندنسل کی آبیاری کی گئی جو اب اس ملک کے تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں اہم فیصلہ ساز نشستوں پہ براجمان ہے جوابھی تک کسی نہ کسی صورت میں جہاداور سچا مسلمان بننے کے بیانیے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
ڈراموں کی دنیا سے نکل کر اگر ہم ٹی وی ٹاک شوز کا رخ کریں تو ہمیں ایک الگ دنیا نظر آتی ہے گذشتہ سال ایک بڑے ٹی وی چینل پر سنیل نامی ایک لڑکے کو آن ایر مسلمان کیا گیا ۔پاکستان میں جب سے نجی ٹی وی چینل آئے ہیں تب سے لے کر اب تک ہر تیرہ فروری کی رات ویلٹینائن ڈے پہ ایک ایک نہ ایک پروگرام ہر ٹی وی چینل پر ایسا دیکھنے کو ملے گا جو اس بات پربحث کر رہا ہوگا کہ اسلام میں اس دن کو منانے کی اجازت ہے یا نہیں ہے۔ منہ سے جھاگ نکالتے اور اسلام کا پرچار کرنے والے وہ تجزیہ نگار جو نئے نئے سول بیورکریسی سے ریٹائر ہوئے ہیں ،وہ نہ صرف اسے حرام قرار دیں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے یہودو ہنود کی سازش بھی قرار دے دیں گے ۔ایسا ہی پروگرام سن کر اگر کوئی ایسا بچہ بہک جائے جس کے ذہن میں کسی ٹی وی ڈرامے نہ یہ بات پختہ کی ہو کہ وہ ایک اچھا مسلمان نہیں ہے تو ایسے حالات میں کسی نوجوان کا شدت پسندوں کے ہاتھ چڑھا جانا کوئی انہونی نہیں ۔
جب تک ہمارے ٹی وی چینل اس بات کا شور مچاتے رہیں گے اور یہ دکھاتے رہیں گے کہ ہم اچھے اور سچے مسلمان نہیں ہیں اور ہمیں اپنی شناخت اپنے مذہب سے پیدا کرنی ہے ناکہ اپنی قومیت اور اپنی ثقافت سے تو ہم کہیں نہ کہیں وہ دروازہ کھلا چھوڑ رہے ہیں جس سے گزر کر سخت گیر مذہبی نظریات رکھنے والے ہماری نوجوان نسل کے دل دماغ میں گھس جاتے ہیں ۔ہمیں ایک کھلے ذہن کا حامل معاشرہ بنانے کی بجائے ایک تنگ نظر جتھا بنایا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا ٹی وی ڈرامہ نہیں دیکھا جس میں مذہبی اقلیتوں کو بھی جگہ دی گئی ہو انہیں ایک عام شہری کی طور پہ دکھایا گیا ہو جوکہ عام انسانوں کی طرح ہنستا اور بولتا ہے اور اس کے مسلمانوں کے ساتھ اچھے اور نزدیکی سماجی روابط ہیں اوریہ ایک ایسی خلیج ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہے ۔ایسے میں صرف نظام تعلیم ہی نہیں ہمیں اور بھی بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے ۔