Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

بھولی بھالی گائے، فسادات اور ہندوانتہا پسند

بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو جنہیں مسلمانوں سے اور خاص کر پاکستانی مسلمانوں سے خدا نام کا بیر ہے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔خاص کر جب سے نریندرمودی صاحب کی حکومت آئی ہے ان کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں شدت آگئی ہے اور اب یہ حال ہے کہ یہ انتہا پسند ہندو کسی اور مذہب کے پیروکاروں کو خواہ وہ مسلمان ہوں ، عیسائی ہو ں یا سکھ ہو ں برداشت نہیں کر پا رہے۔ ہندوستان میں رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتوں پر تشدد اور ان کی مقدس کتابوں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی معمول بنتی جارہی ہے۔ ان انتہا پسند ہندوتنظیموں کے لیے صرف غیر مذہب کے لوگ ہیں نہیں بلکہ ہم مذہب سیکولر اور روشن خیال افراد بھی ناقابل قبول ہیں۔ ان انتہاپسند تنظیموں میں سب سے زیادہ فعال بال ٹھاکرے کی تنظیم شیو سینا کا ہے جو کسی نہ کسی بہانے مذہبی اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہتی ہے، کبھی رام مندر کی تعمیر کا شوشا چھوڑا جاتا ہے ،کبھی دانشوروں کے منہ پر کالک مل دی جاتی ہے اور کبھی پاکستانی فنکاروں کے پروگراموں اور فلموں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔ شیوسینا کی سرگرمیوں پر بات کرنے سے پہلے شیوسینا کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے ۔
بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔

 

شیو سینا کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ اس کی بنیاد بال ٹھاکرے نامی ایک کارٹونسٹ نے رکھی۔ اس نے لسانی اور مذہبی بنیاد پرایسے ہندو نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کیا جو بے روزگار تھے اور 1966 میں شیوسینا قائم کی جسے مراٹھی ہندو راجہ شیوا جی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ شیواجی کو بعض مورخ مغل بادشاہوں کے خلاف جدوجہد کے علم بردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے مطابق یہ تنظیم صرف مراٹھی ہندو نوجوانوں کو حقوق دلانے کے لیے قائم کی گئی یہی وجہ تھی کہ غیر مراٹھیوں کے خلاف اس تحریک نے کئی دفعہ تشدد کا رنگ اختیار کیا۔ شیوسینا میں بال ٹھاکرے کے علاوہ کوئی دوسرا رہنما نہیں تھا اور نہ ہی کبھی کسی نے جماعت کے اندر انتخاب کرانے کی بات کی کیونکہ اگر کبھی کسی نے ایسی بات کی بھی تواسے تنظیم سے نکال دیا گیا۔ شیو سینا کے مطابق ہندوستان کی تہذیب ہندو ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو اسے ماننا پڑے گا۔ 1992 میں جب تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے منہدم کیا گیا تو بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ عظیم کام شیو سینکوں نے انجام دیا جس پر مجھے فخر ہے وہ کئی دفعہ ہٹلر کو اپنا سیاسی پیشوا تسلیم کرچکا ہے۔

 

جیسے ہی نریندر مودی نے حلف اٹھایا فرقہ پرستی کی بنیادوں پر قائم ان تنظیموں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا جن میں میں سب سے آگے شیوسینا ہے جسے مودی سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بعض مقامات پر خنزیر مار کر مسجدوں میں پھینکنےکے علاوہ شیو سینا کے جنونیوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے گائے کے تقدس کو استعمال کیا ہے۔ ہندوستان میں ایک زمانے سے لوگ گائے کا گوشت استعمال کرتے آئے ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں ہندوستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے پیروکار بھی گائے کا گوشت استعمال کرتے ہیں مگر گائے کے گوشت پر زیادہ تر فسادات مسلمانوں کے خلاف ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ بات ہوگئی کہ ” ہے ٹھاکر جی کا عجب فلسفہ جو سب کھائیں تو حلال ہے مسلمان کھائے تو حرام ہے۔” یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شیوسینا نہ تو پورے ہندوستان اورنہ ہی تمام ہندووں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ بہت سے ہندووں نے بھی شیو سینا کی ان سرگرمیوں کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں کی جانب سے اس مذہب عدم برداشت کے خلاف احتجاجاً سرکاری اعزازات لوٹانے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ شیوسینا کی ان کارروائیوں سے ہندوستان بدنام ہورہاہےاور ہندوستان کی اپنی تہذیب خطرے میں پڑ گئی ہے۔
شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔

 

میں نے گائے کے گوشت کھانے یا گائے ذبح کرنے کے مسئلے پر بھارت میں تشدد کے واقعات جب پڑھے تو ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر اسی طرح بھارت میں تشدد جاری رہا تو عین ممکن ہے لوگ خوف سے گائے ذبح کرنا ہی چھوڑ دیں اگر ایسا ہوا تو پھر بھارتی گائیں کہاں جائیں گی؟ جب اس غرض سے انٹرنیٹ پر اپنے سوال کو ڈھونڈا تو جواب میں کئی حیران کن چیزیں سامنے آئیں اور ذہن میں کئی سوالات مزید پیدا ہوئے کہ کیا واقعی یہ جنونی شیوسینا کے پیروکار گائے کو مقدس جانور مان کر تشدد کو فروغ دے رہے ہیں یا اس کے پیچھے کچھ اور سیاسی یا تجارتی مقاصد ہیں۔ اب ذرا دیکھیں کہ بھارت میں اگر یہ مطالبہ شیوسینا کی طرف سے آرہا ہے کہ گائے ذبح کرنے پر سرکاری طور پر پابندی لگائی جائے اور اس کے گوشت کے فروخت پر تو غیر اعلانیہ پابندی ہے ہی لیکن افسوس یہ کہ اس پابندی کا شکار زیادہ ترمسلمان ہی ہیں باقی خود ہندوؤں کو گائے کا گوشت برآمد کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ بھارت میں6 بڑی کمپنیاں ہیں جو گائے کا گوشت فراہم کرتی ہیں جن میں سے 4 ہندوؤں کی ملکیت ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ہندوؤں نے گوشت فراہم کرنے کے لیے اپنی کمپنی کا نام مسلمانوں جیسا رکھا ہے ۔ آخر انہیں ایسا کیوں کرنا پڑا جبکہ ہندو تو گائے کو مقدس خیال کرتے ہیں؟ ان اداروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
الکبیر ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالکان کا نام ہے مسٹر شتیش اور مسٹر آتل سبھروال ، ایڈریس ہے جولی میکر چیمبر ممبئی 40021
عربین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر سنیل کپور ، ایڈریس ہے رشین مینشن اورسیز ممبئی 400001
ایم.کے. آر .فروزن فوڈ ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، مالک کا نام ہے مسٹر مدن ابووٹ ، ایڈریس ہے ایم جی روڈ جن پتھ نیو دہلی 110001
پی .ایم .ایل انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ، مالک کا نام مسٹر اے ایس بندرا، ایڈریس ہے ایس سی او62۔63 سیکٹر 34۔اے چندریگڑ160022

 

اب جناب کوئی پوچھے شیوسینا سے کہ کیا تم میں سے کسی نے ان کمپنیوں کے مالکان کے منہ پر کالک ملی ان کے اوپر سیاہی پھینکی یا ان کو مارا پیٹا اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ شیوسینا کی سرگرمیاں گو ابھی صرف غیرہندو بھارتیوں کے خلاف ہیں مگر بہت جلد ان کا دائرہ کار ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد تک پھیل سکتا ہے۔ شیوسینا کی یہ سرگرمیاں مذہب کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ یہاں غورطلب امر یہ ہے کہ اس پر مودی سرکار کیوں چپ سادھے ہوئے تماشہ دیکھ رہی ہے؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی شیوسینا اور انتہا پسند ہندو ووٹ بنک کھونے سے ڈرتی ہے؟ ہندوستان میں اتنی شدت سے عدم برداشت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر بھارتی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو بھارت کو بھی پاکستان ہی کی طرح مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی سطح پر ہندوستان کو بدنامی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور تمام مذاہب کو ماننے والوں کو آزادی کے ساتھ رہنے دیا جائے۔ کسی کے منہ پر کالک ملنا، پاکستانی کھلاڑیوں، فنکاروں اور ادیبوں کے خلاف مظاہرے کرنا، نامور ہستیوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنانا خود بھارت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سے ہندوستانی اداکار ، شعراء ، تاجر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی آتے ہیں لیکن ہمارے عوام کبھی ان سے اس قدرنفرت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں ہندوستان کو بھی اپنی سابقہ روایات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان اور اپنے ملک کے عوام کے درمیان امن، رواداری اور برداشت کو فروغ دینا چاہیئے۔
Categories
نان فکشن

ہندوستان میں اردو ادب کی چھوٹی (تنگ) دنیا

میں تنہائی میں کررہا تھا پرندوں سے باتیں
میں یہ کہہ رہا تھا۔۔۔
پرندو! نئی حمد گاؤ
کہ وہ بول جو اک زمانے میں
بھنوروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے
باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے
اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں
نئی حمد گاؤ!
پرندے لگاتار لیکن
پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق
سراسر وہی آسماں چیختے تھے
(میں کیا کہہ رہا تھا؍ن ۔م۔راشد)
ہندوستان میں اس وقت دو تین معاملات ایسے ہیں، جن پر ادیب اپنا اعتراض درج کرارہے ہیں، جن میں پروفیسر کالبرگی کے قتل کا معاملہ بھی اہم ہے اور دادری والا معاملہ بھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں، جہاں کوششوں کے باوجود آوازیں دبائی نہیں جاسکتی ہیں اور لوگ سچ کو جاننے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے مذہب اور وطن پرستی پر انسان کے زندہ رہنے، عزت سے زندگی گزارنے اور سوچی ہوئی بات بولنے کی آزادی عطا کرنا مقدم ہے۔ میں ایک ہندوستانی ہوں، میرے کئی ہندو مسلمان دوست ہیں اور سب میرے اپنے ہیں، مجھ سے ہزار قسم کے ذہنی اختلافات ہونے کے باوجود ان میں مجھے برداشت کرنے کی قوت ہے اور مجھے ان کی رسمیں، باتیں نا پسند ہونے کے باوجود وہ عزیز ہیں۔سماجیات کا مسئلہ ایک طرف، لیکن میرے ذہن میں اس وقت کچھ خیالات ہیں، کچھ باتیں ہیں، جو میں کہنا چاہتا ہوں۔
میں ایک ہندوستانی ہوں، میرے کئی ہندو مسلمان دوست ہیں اور سب میرے اپنے ہیں، مجھ سے ہزار قسم کے ذہنی اختلافات ہونے کے باوجودان میں مجھے برداشت کرنے کی قوت ہے اور مجھے ان کی رسمیں، باتیں نا پسند ہونے کے باوجود وہ عزیز ہیں۔
ہندوستان میں اردو جاننے والوں کا حلقہ کم ہے اور ادب سے سچا تعلق رکھنے والوں کی دنیا اس سے بھی چھوٹی ہے۔ میں بھی اسی بہت چھوٹی سی دنیا کا ایک فرد ہوں۔ ہمارا زور دن بدن ٹوٹتا جارہا ہے، اردو کی حالت دگرگوں ہوتی جارہی ہے، اچھا ادب پسند کرنے والوں اور لکھنے والوں دونوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ اور اس کے قصوروار سب سے زیادہ یہی اردو والے ہیں۔ان کی دنیا چھوٹی ہے یا تنگ ہے؟ اس سوال پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے پروفیسر کالبرگی کے قتل اور دادری جیسے دل سوز حادثے کے علاوہ بھی ہندوستان میں ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن پر حکومت سے جوابدہی کی ضرورت ہے۔ ابھی دلتوں کے ساتھ ناانصافی کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، خاص طور پر اترپردیش میں ان دنوں امن و امان کی حالت اتنی پتلی کیوں ہے؟ اور کیسے کچھ ہلکے ذہن کے لوگوں کو مذہب اور برادری کا سہارا لے کر ایک ہنستے بولتے سماج کے منہ پر تالا لگانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ کیوں اس سماج میں بے رحمی سے ہونے والے ریپ ختم نہیں ہوتے اور بہت سے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں نہیں مل پاتیں، ملک کی بہت سی ریاستوں میں ایسے کچے گھروں میں لوگ زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہیں، جن کے گھر کے اندر سورج کی کسی بھی کرن کا داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ جن کے چولہے ٹھنڈے ہیں اور جن کے پیٹ اور پیٹھ کا فرق روزبروز کم ہوتا جارہا ہے۔ ان ساری باتوں کو سننے، جاننے اور سمجھنے کے باوجود کیا ساری ذمہ داری ان ٹی آر پی بیسڈ چینلوں کو دے دی جائے گی، جن کا ایک کارندہ مائیک کو مٹھی میں کسے ہمیں کبھی اس تباہی کی سیر کروائے گا کبھی اس تباہی کی اور ہم اپنے گھروں میں کمبل میں دبکے مونگ پھلیاں چھیلتے ہوئے صرف حکومت کی اس اندیکھی پر ’’چچ چچ چچ ‘‘ کرتے رہیں گے۔
اس وقت بہت سے لوگوں کے سامنے مسئلہ صرف عدم برداشت کا ہے، اور اس عدم برداشت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوارڈ واپس کیے جارہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ایوارڈ واپس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، حکومت کسی اور کا منہ ان رقموں سے بھر دے گی اور کوئی تیسرا سستا ادیب اٹھ کر جھٹ سے اس خالی ہونے والی کرسی پر بیٹھ جائے گا، ابھی نہ سہی،کچھ دیر میں سہی۔ میرے خیال میں ہندوستان کی سیاست کی تاریخ میں یہ وقت سب سے زیادہ توجہ طلب ہے، جب اتنی بڑی تعداد میں ادیبوں کا غصہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ ایک ادیب دن دیہاڑے قتل کردیا گیا، ایک محقق اپنی دہلیز پر مارا گیا، ایک بولنے والا خاموش کردیا گیا۔ اس ’حرف گیری‘ کی تحریک میں میں ان لوگوں کی جانب ہوں، جو آواز اٹھا رہے ہیں، ایوارڈ واپس کررہے ہیں، کچھ بول رہے ہیں۔ چاہے یہ ایوارڈ ٹی وی یا اخبار میں جگہ دینے والے ایک چھوٹے سے انٹرویو کی ہوس میں ہی کیوں نہ واپس کیا جارہا ہو، چاہے یہ ایک فیشن ہی کیوں نہ بن گیا ہو۔ویسے بھی کچھ لو کچھ دوکی اس دنیا میں جہاں خاموشی کے بدلے اگر سینکڑوں فائدے مل سکتے ہیں تو کچھ بولنے کا بھی تھوڑا بہت فائدہ تو ہونا ہی چاہیے۔
کہ ہندوستان وہ ملک رہ چکا ہے، جہاں کے اردو شاعروں نے ایک دوسرے کے مذاہب کی کتابوں کا ترجمہ کرتے وقت ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا، مسلمانوں نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں کے ترجمے پر ہے رام اور ہے ہنومان لکھتے وقت اور ہندو ادیبوں نے مسلمانوں کے مذہبی تراجم پیش کرتے وقت بسم اللہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی
اردو والوں میں ابھی تک ایوارڈ واپس کرنے والے اور بولنے والے ادیبوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ منہ میں جمے ہوئے اس دہی کا نظارہ کرتے ہوئے اپنا منہ بھی تھوڑا بہت کھٹا ہوہی جاتا ہے۔میرے علم کے مطابق رحمٰن عباس اور شمیم عباس کے علاوہ شاید اکا دکا ادیبوں نے ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے، جن پر اردو والے آپس میں چہ میگوئیاں کررہے ہیں، اور کچھ زیر لب مسکرابھی رہے ہیں۔ مگر اس چھوٹی سی دنیا کی تنگی کا اندازہ تب ہوتا ہے جب گیان چند جین کی کتاب ایک بھاشا دو لکھاوٹ دو ادب پر جذباتی قسم کا لمبا چوڑا جواب دینے والے چپ سادھے بیٹھے رہتے ہیں، اپنی کتابوں میں سیکولر ہندوستان کی تصویر پیش کرنے والے ایک سنہری تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہندوستان وہ ملک رہ چکا ہے، جہاں کے اردو شاعروں نے ایک دوسرے کے مذاہب کی کتابوں کا ترجمہ کرتے وقت ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا، مسلمانوں نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں کے ترجمے پر ہے رام اور ہے ہنومان لکھتے وقت اور ہندو ادیبوں نے مسلمانوں کے مذہبی تراجم پیش کرتے وقت بسم اللہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور پھروہی ایک ایسے واقعے پر خاموشی کی ٹوکری سر پر رکھ لیتے ہیں جس میں ایک انسان کو اس کے مذہب کے مطابق حلال سمجھی جانے والی شے کو کھانے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ماردیا گیا۔
اردو کے کسی ایک معروف ادیب نے اب تک اپنی چپ نہیں توڑی ہے اور اس معاملے پر کوئی بھی ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ہے۔آگے کا مجھے علم نہیں، مگر پیچھے کا افسوس ضرور ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ ان کا ادب زندگی سے کتنا کٹا ہوا ہے، ان کے لیے اپنی زندگی کے علاوہ، اپنے فائدے کی بات کے علاوہ، اپنی مجبوریوں اور مصالت کے اظہار کے علاوہ کوئی بھی دوسری چیز اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ یہ اس تنگ ادبی دنیا کے رہنے والے ہیں، جہاں اخباروں میں اپنے بارے میں خبر ڈھونڈنے، اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا دانش ورسمجھنے اور اپنے حریفوں اور کم عمروں کی کھلی اڑانے کارواج ہے۔ جہاں سچ بولنے کی ضرورت سمجھی ہی نہیں جاتی، جہاں ادیب ہونے کا صرف ایک مطلب رہ جاتا ہے کہ موقع ملے تو خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور اپنے قریبی لوگوں، شاگردوں کو فائدہ حاصل کرواؤ۔ ان کے لیے اچھا ادب وہ ہے جو یا تو کہیں نہ کہیں ان کے نظریات کی تائید کرتا ہو، یا پھر ان کی بے تحاشا تعریف میں لکھا گیا ہو۔ یہ اپنے پروں میں منہ دیئے اونگھتی ہوئی اس مرغی کے مشابہ ہیں، جن کو اپنی اپنی کرسیاں اتنی عزیز ہیں کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ کس معاملے میں کب بولنا ہے، کتنا بولنا اور کیوں بولنا ہے اور کس کی طرف سے بولنا ہے۔ ان ادیبوں کے پیٹ کی داڑھیاں اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب گیان چند کی کتاب کا جواب دینا ہوتا ہے، ان کے ماتھے کا تلک تب روشن ہوتا ہے جب مدرسے میں تعلیم پارہے بچوں کو گالیاں دینا ہوتا ہے، مگر یہ تب بالکل خاموش رہتے ہیں جب زندگی نالیوں میں بہائی جارہی ہوتی ہے۔ ان کو زعم ہے کہ انہوں نے اردو میں تب لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا جب ہندوستان میں اردو کو غدار زبان سمجھا جارہا تھا، لیکن آج ان کی تمام تر قوت اظہار سلب کرلی گئی ہے جب ادیب کو صرف غدار نہیں کہا جارہا بلکہ اسے ختم کردیا جارہا ہے، اسے اسی کے گھر پر مارا جارہا ہے۔ یہ بہت اچھے ادیب ہیں، یہ سماج میں رہنے والے تمام مذاہب کی عزت کرتے ہیں، کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے، اس لیے یہ خاموش ہیں، کیونکہ ان کے لیے ان کا ادبی قد ایک کعبے کی صورت اختیار کرگیا ہے، جو لاکھوں کو اپنے سامنے جھکا سکتا ہے، مگر کسی ابرہہ کے ہاتھوں شہید ہونا اسے منظور نہیں۔
ان ادیبوں کے پیٹ کی داڑھیاں اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب گیان چند کی کتاب کا جواب دینا ہوتا ہے، ان کے ماتھے کا تلک تب روشن ہوتا ہے جب مدرسے میں تعلیم پارہے بچوں کو گالیاں دینا ہوتا ہے، مگر یہ تب بالکل خاموش رہتے ہیں جب زندگی نالیوں میں بہائی جارہی ہوتی ہے
میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے تہذیبی نظام پر جہاں ادب اس کال کوٹھری کا نام ہو، جہاں روشن خیالی کی لہر تک نہ پہنچے، جہاں انسان کو کچھ بولنے، کہنے یا سننے سے پہلے بہت حد تک اپنے امیج کا خیال کرنا پڑتا ہو۔ جہاں کسی ادارے سے جڑے رہنے اور اس کے اکابرین کوخوش رکھنے کے لیے فسطائیت پرستوں کی حرکتوں پر خاموش رہنا بہتر خیال کیا جاتا ہو۔ میرے لیے تمل ، کنڑ، مراٹھی، گجراتی، بنگالی اور پنجابی میں لکھنے والا ادیب بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا اردو، ہندی یا انگریزی میں لکھنے والا۔ میں جن آیتوں اور اشلوکوں کو مقدس نہیں مانتا، ان کی تعظیم مجھ پر فرض نہیں ہے، ان پر میرے جائز اعتراضات کو آپ اپنے مذہب کی توہین نہیں قرار دے سکتے، اگر بات بری لگتی ہو تواپنے کانوں پر ہاتھ رکھیے، میرے ہونٹوں پر نہیں۔ مذہب پر اعتراض کسی پر ذاتی حملہ نہیں ہے، یہ اسی طرح کا مخالفانہ اظہار ہے، جس طرح آپ آئے دن اپنے عمل سے دوسرے مذاہب کے خلاف اپنے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کرتے رہتے ہیں۔جب اسے توہین نہیں سمجھا جاتا، تو اسے کیوں سمجھا جائے۔
میں ادب برائے زندگی کا قائل نہیں ہوں، مگر وہ زندگی پیش تر از ادب کا قائل ضرور ہوں۔تجریدیت، ابہام یہ سب ادب کا حصہ ہیں، مگر زندگی کی گتھی ادب کی طرح جتنی الجھی ہوئی ہو، اتنی ہی اچھی معلوم ہو یہ ضروری نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بولیں، آواز اٹھائیں، چاہے ہماری آواز کتنی ہی منحنی ہویا صدا بصحرا کی سی حیثیت کیوں نہ رکھتی ہو کیونکہ چیخ توتب بھی نکلتی ہے جب صحرا میں بچھو ڈنک ماردیتے ہیں۔ دوسری زبان کے ادیبوں کی طرح ہندوستان کے اردو ادیبوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک رہیں، کیونکہ ہماری زبانیں الگ ہوسکتی ہیں، ہمارے مسائل بہت الگ نہیں ہیں، اور اگر ہوں بھی تو بھی ہمیں انہیں سمجھنے اور ان کو ختم کرنے کے زاویوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں رہنے والے اردو کے ادیب بندڈبوں میں رہتے ہیں، انہیں تازہ ہوا کی ضرورت ہے، انہیں اپنے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کروانی چاہیے کہ وہ ترجمے کی ایک بڑی تحریک شروع کریں اور دوسری مقامی زبانوں کے ادب کو اردو میں منتقل کریں، یہ صرف ادب کا ہی نہیں سماجیات کے مطالعے کا بھی ایک پہلو ہے، اس سے دوسرے سماجوں پر پڑنے والے سیاسی اثرات کا بھی علم ہوتا ہے۔ان کے ذہنوں، ان کے مزاجوں سے آگاہی ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ زبانوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے اور لوگ بھی بالغ ہوتے ہیں، بصورت دیگر ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے، کہ کونے میں بیٹھ کر لکھے، پڑھے جاؤ اور اپنے ادب کو ادب عالیہ سمجھو۔ آخر اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ قتل جیسی سنگین واردات پر ہی کیوں ہو، کیا یہ ’ون پارٹ وومن‘ جیسے ناولوں پر پابندی لگائے جانے پر نہیں کیا جاسکتا، جس کے مصنف پیرومل مورگن کو اس سماج کی بے ہودہ ہا ہا کار سے تنگ آکر ساری زندگی کے لیے اپنے قلم کی نوک توڑلینے مجبور ہونا پڑگیا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

دو ملکوں کے بے وقوف عوام کا قصہ

محمد اخلاق کی موت پر ایک دنیا سوگ میں ہے، ہندوستان کے اس قصے پر ان لوگوں کو زیادہ افسوس ہے، جو انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں۔اس خبر کو میڈیا نے بھی بہت ہوا دی ہے، لوگ آگ بگولا ہورہے ہیں ، کچھ صدمے میں ہیں، کچھ جذباتی ہیں اور سب مل کر صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں کہ صرف گائے کھانے کا الزام لگا کر کسی انسان کو کیسے مارا جاسکتا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ نہایت غیر انسانی ہے، درد ناک ہے اور میری رائے میں بہت حد تک سیاسی ہے۔اس کی وجہ وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو اس وقت ہندوستان میں مذہب کا لوہاگرم کروانے کی سیاست سے باخبر ہیں۔رائٹ ٹو اسپیچ کے نام پر آج کل یہاں بہت شور مچایا جارہا ہے۔حد تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی اس واقعے پر افسوس جتایا جارہا ہے۔بربریت کی اس مثال پر لوگ ابھی حیرت زدہ ہیں، بعد میں وہ اسے ایک بھیانک تاریخی واقعہ سمجھ کر قبول کرلیں گے اور اس کے بعد اس واقعے کو ایک خطرناک خواب کی صورت بھلانے کی کوشش کی جائے گی۔جو لوگ سیکولر ہیں، ان کے لیے یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، جو مسلمان ہیں ان کے لیے گائے کھانے کا اور جو ہندو ہیں وہ اس وقت مکمل طور پر اس Justificationمیں لگے ہوئے ہیں کہ مارنے والوں کے ساتھ بچانے والے بھی ہندو ہی تھے۔

 

ہندوستان اور پاکستان کی ٹرین ایک ہی پٹری پر دوڑ رہی ہے اور اس کے مسافروں کی اوقات نہیں کہ ڈرائیوروں سے سوال کریں کہ ہمیں تو اس راستے پر نہیں جانا تھا، تم کیوں ہمیں اس طرف لے آئے ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان ، دونوں ملکوں کی کہانی بہت الگ نہیں ہے، یہاں کے لوگوں نے اپنی تاریخ میں عقیدے اور مذہب کے نام پر اب تک جو کچھ بویا ہے، اسے ہی کاٹا بھی ہے۔اس میں میں دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی شامل کرسکتا ہوں مگر سچی بات یہ ہے کہ انہیں شامل کرنے سے میرا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ان دو ملکوں پر بھی بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اور شاید اب یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ان لوگوں کی تاریخی غلطیاں اب ان کی فطرت بن چکی ہیں۔ان کے باپ داداؤں نے انہیں تہذیب اور مذہب کے نام پر جو کچھ دیا ہے، سیاست کے پاس اس کا استعمال کرنے کا یہ وقت خوب ہے، اب انسان کو بڑے پیمانے پر مارنے کے لیے شہر سے دور کسی میدان میں جاکر باقاعدہ لڑاکا لوگوں کے ساتھ جنگ نہیں لڑنی پڑتی، اب وہ میدان بھوکوں، مزدوروں، ننگے فٹ پاتھیوں کے گھروں میں اتر آیا ہے۔جنہیں مارنا آسان ہے، جن کی لاشوں پر سیاست کرنا آسان ہے، جن کی بھک منگی ، سڑی ہوئی اور خون میں ڈوبی لاشوں کے مناظر دکھا کر ٹی آرپی حاصل کرنا بہت فائدے مند ہے اور اس میں کسی کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔درمیانی طبقہ اپنی مجبوری کا رونا رو کر اپنی فطرت نہیں بدلتااور اشرافیہ کے ایک حصے کو ان سب باتوں سے غرض نہیں، دوسرے طبقے کو ان باتوں سے بھی روپیہ بنانے کی تدبیر کرنی ہوتی ہے۔چنانچہ یہ واقعہ ہمارے لیے کوئی دل کو ہلا کر رکھ دینے والی واردات نہیں ہے، یہ بس ہماری روٹین کا حصہ ہے، یہ ہمارے دور کی تجارت کا کارنامہ ہے،جس میں مذہب ، غربت اور چند پیسہ خرچ کرکے جمع کیے گئے غنڈوں کے آلات استعمال کیے گئے ہیں۔محمد اخلاق کی موت کا پیٹرن بالکل وہی ہے جو راج کشن کوٹ والے میاں بیوی کی موت کا تھا۔یہاں بھی مقدس مانی جانے والی ایک عمارت کو استعمال کیا گیا، وہاں بھی ۔یہاں بھی لوگ کھنچے چلے آئے ، وہاں بھی۔یہاں بھی بے رحمی سے دو لوگوں کو پیٹا گیا، وہاں بھی۔یہاں بھی ان کو بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آیا، وہاں بھی، یہاں بھی یہ اقلیت کا حصہ تھے، وہاں بھی۔یہ سارا معاملہ بتاتا ہے کہ داڑھی یا تلک کا فرق ، انسانی فطرت کو الگ نہیں کرتا، ان کی حرکتیں، ان کے معاملے کو یکساں ثابت کرتی ہیں۔وہ ایک دوسرے کو الگ الگ کہہ کر ماررہے ہوتے ہیں، مگر وہ دراصل ایک ہوتے ہیں۔

 

ارے بھئی! مجھے کس علاقے میں کیا کھانا چاہیے، کن حالتوں میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے ، یہ کوئی اللہ یا بھگوان کے طے کرنے کی بات ہی نہیں ہے۔خدا اتنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں کیوں بولے گا، اس کے پاس بڑے مسئلے نہیں ہیں کیا؟
اچھا ایسا نہیں ہے کہ یہ بالکل ان پڑھ، مین اسٹریم سے کٹے ہوئے لوگوں کی داستان ہے۔میں نے بیشتر اپنے آس پاس موجود اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو موسم سے زیادہ مذہب پر بات کرنے میں منہمک پایا۔یہ کیسے لوگ ہیں، جو پڑھ لکھ کر آج تک ایک ایسی سیاست کو جنم نہیں دے سکے، جو لوگوں کا استحصال کرنے کے بجائے ان کو زندہ کرنے، بیدار کرنے، ان کی ترقی کے لیے فکرمند ہونے پر مجبور کرسکے، یہ کون سی مخلوق ہے،جسے کیچڑ میں پڑے رہنے کا اتنا شوق ہے کہ اندھی تقلید سے باز ہی نہیں آتی، یہ کیا انسان ہیں جو ہمیشہ سے خود کو استعمال کرنے کی دعوت سیاستدانوں کو دیتے رہے۔کیا امن ایسے آسکتا ہے، کیا اس کی چاپ اس طرح سنائی دے سکتی ہے۔اس طرح تو ہم اگلے سو سال تک لڑتے رہیں گے۔یوں تو میں مانتا ہوں کہ ہمیں مارنے کے لیے قدرت کی طرف سے بھیجی ہوئی وبائیں اور تکلیفیں اتنی کم پڑگئی ہیں کہ اب ہم مذہب کے نام پر مارے جارہے ہیں۔ہندوستان اور پاکستان کی ٹرین ایک ہی پٹری پر دوڑ رہی ہے اور اس کے مسافروں کی اوقات نہیں کہ ڈرائیوروں سے سوال کریں کہ ہمیں تو اس راستے پر نہیں جانا تھا، تم کیوں ہمیں اس طرف لے آئے ہو۔میں مسجد نہیں جاتا، پہلے خوب جاتا تھا، بہت روز تک گیا،مگر پھر ایک روز ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کیسی عجیب سی بات ہے کہ ایک آدمی کے ذہن میں جو بات آرہی ہے، کہے جارہا ہے، اور سینکڑوں لوگ وضوکرتے ہوئے،سکڑے سمٹے بیٹھے ہوئے، عطر لگائے اسے سنے جارہے ہیں، خشوع و خضوع سے نہ سہی،مجبوری میں۔لیکن کوئی اٹھ کر اس سے یہ سوال نہیں کرتا کہ یہ کون سی بات کررہے ہو، مذہب کی یہ بات ہمیں قبول نہیں۔اگر واقعی مذہب میں اس طرح کی کوئی بات موجود ہے، تو اب اسے ختم کردو۔پھر بعد میں میں نے جب مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہر مذہب کو اپنی جامد شکل موجودہ رہن سے پسند ہے۔کسی ملک کا قانون یا وہاں کے عوام اس میں تبدیلی کرسکتے ہیں، مگر کرتے نہیں ۔بہت ہوا تو وقت کی مجبوری کی وجہ سے کچھ آیتوں کو خاموشی سے نظر انداز کردیتے ہیں۔لیکن یہ سسٹم ہی غلط ہے۔ایک آدمی اتنے لوگوں میں صحیح نہیں ہوسکتا، تو پھر مائک اسی کے ہاتھ میں کیوں ہے؟پھر بعد میں سوچا کہ اس آدمی کو اسی سوتی ہوئی بھیڑ نے کھڑا کیا ہے، یہی بھیڑ ہے جو نہیں چاہتی کہ اس کے خراٹوں میں کوئی پریشانی آئے۔یہی بھیڑ ہے جو نہیں چاہتی کہ کوئی اسے ٹھیلے، ستائے، پریشان کرے۔اسی لیے اس بھیڑ نے ایک آدمی چن لیا ہے ، اب وہ جو کچھ سوتے ہوئے کانوں میں دم کردے گا۔اسے یہ ماننے لگے گی، سو اس طرح کے ایک فریب اور جھوٹ کو اس بھیڑ نے سچ کانام دے دیا ہے۔ہنسی آتی ہے کبھی کبھی یہ سوچ کر کہ جن چیزوں کو علم کے حساب سے طے ہونا چاہیے تھا، سائنس کے حساب سے طے ہونا چاہیے تھا، اس کا فیصلہ مذہب جیسی غیر منطقی چیز طے کررہی ہے اور لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان باتوں کو مان رہے ہیں۔ارے بھئی! مجھے کس علاقے میں کیا کھانا چاہیے، کن حالتوں میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے ، یہ کوئی اللہ یا بھگوان کے طے کرنے کی بات ہی نہیں ہے۔خدا اتنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں کیوں بولے گا، اس کے پاس بڑے مسئلے نہیں ہیں کیا؟ وہ مجھے بتارہا ہے کہ چوپایہ کھانا چاہیے یا نہیں، سور حرام ہے یا حلال۔اس طرح تو خدا طے نہیں کرتا، یہ تو ضرور کسی انسان کی کارستانی لگتی ہے کہ دلدل میں لوٹتے ہوئے سور کو دیکھ لیا تو اسے نجس قرار دے دیا۔

religious-unity-hindu-muslim

آپ ہزاربھارت ماتا کی جے یا پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیے، آپ اپنے ملک، اپنے لوگوں سے پیار نہیں کرتے۔آپ کے خمیر میں لوگوں سے محبت نہیں ہے، آپ سب سے بڑے غدار ہیں۔
قدرت کے اصول سب کے لیے یکساں ہیں، کتے کے لیے تو کوئی آسمانی کتاب نہیں اتری کہ کیا اس کے لیے حلال ہے اور کیا حرام ،پھر بھی اس نے اپنے وجود کی ابتدا سے اب تک کے سفر میں یہ معلوم کرلیا کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں اور اگر غلطی سے وہ کچھ کھا لے تو اسے کون سی مخصوص گھانس کھا کر الٹی کرنی چاہیے۔لیکن انسان ، جو کہ اشرف المخلوقات ہے ، اسے یہ سب طے کرنے کے لیے ایک آسمانی کتاب کی ضرورت ہے؟ ہمارے پاس مذہب سے زیادہ بہتر علوم موجود ہیں، جو ہمیں سوچنے، پہننے، کھانے اور زندگی گزارنے کے بہتر راستے بتاسکتے ہیں،ہماری ذہنی، علمی اور نفسیاتی تربیت کرسکتے ہیں۔لیکن فیس بک پر لوگوں کو دیکھتا ہوں، کشمیر کے مسئلہ پر جھگڑ رہے ہیں، مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، ایک دوسرے کو ملیچھ، نجس، ناپاک، گندا اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہے ہیں۔کیا عجیب قومیں ہیں، کیا عجیب لوگ کہ تقسیم پر ہونے والے لاکھوں لوگوں کے قتل کو افسوسناک واقعہ بھی کہتے ہیں اور اب بھی ایسے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں گویا موقع مل جائے تو پھر تلواریں نکل آئیں اور ایک دوسرے کو مارڈالیں۔آپ حکومت کو گالیاں مت دیجیے، میڈیا کو قصوروار مت ٹھہرائیے، یاد رکھیے کسی بھی مارکیٹ میں وہی مال زیادہ بکے گا، جس کی مانگ زیادہ ہوگی۔اور اس مارکیٹ میں نفرت کی بہت مانگ ہے،اتنی کہ اس کی کھپت کم پڑتی جارہی ہے ،نئی نئی فصلیں اگائی جارہی ہیں،کھیپیں تیار ہورہی ہیں،مگر کم پڑرہی ہیں۔اور اس کا پورا پورا فائدہ سرمایہ داروں کو ہورہا ہے، ان لوگوں کو جو آپ کی نفرت بیچنے کا ہنر جانتے ہیں۔اگر آپ کو محبت پسند ہوتی، اگر آپ کہتے کہ یہ کیا نفرت نفرت لگا رکھا ہے، ہمارے مذاہب الگ ہیں تو کیا، ہم اپنے دفاع پر اتنا پیسہ خرچ نہیں کریں گے، ہمیں یہی پیسہ غریبوں کی بھلائی میں لگانا ہے، ان کی ترقی میں لگانا ہے، ہمیں پانچ دس سال میں ملک کی شکل بدل دینی ہے،گلیوں ،محلوں سے لے کر شہروں تک میں ترقی کے نئے امکانات روشن کرنے ہیں، تو آپ دیکھتے کہ آپ کے ٹیکس کا کتنا صحیح استعمال ہوتا۔آپ کے پیسوں سے آپ کی بھلائی کے لیے پیسے خرچ کیے جاتے، سرکاری اسکولوں، ہسپتالوں میں بہترین سہولتیں مہیا ہوتیں، لوگ اور زیادہ پڑھ پاتے اور حکومت کا اور محاسبہ کرنے کے لائق ہوپاتے کہ وہ کون سا کام ٹھیک کررہی ہے اور کون سا کام ٹھیک نہیں کررہی ہے۔جمہوریت میں کوئی برائی نہیں ہے، وہ تو ایک آئینہ ہے، آپ کو جیسی سیاست پسند تھی، آپ نے ویسی کروائی، جب تک کسی ملک میں نفرت پنپ رہی ہے، وہاں نفرت پر مبنی حادثات ہورہے ہیں اور ان میں دن رات اضافہ ہورہا ہے تو سمجھ لیجیے کہ حکومت کے کارندے جاکر وہاں یہ حرکتیں نہیں کررہے، بلکہ آپ خود کررہے ہیں، آپ کا اصلی چہرہ یہی ہے۔آپ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔آپ ہزاربھارت ماتا کی جے یا پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائیے، آپ اپنے ملک، اپنے لوگوں سے پیار نہیں کرتے۔آپ کے خمیر میں لوگوں سے محبت نہیں ہے، آپ سب سے بڑے غدار ہیں۔جانتا ہوں کہ اس معاملے میں مجھ جیسے ایک شاعر کے سمجھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہونا، پھر بھی سوچتا ہوں کہ آپ مذہب کو کیوں ایسا آلہ بننے دے رہے ہیں۔ٹھیک ہے کہ آپ مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔مگر اس کو اپنے گھروں تک محدود رکھیے، میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں بیس سے زائد مسجدیں ہیں، جب اذانیں ہوتی ہیں تو آپس میں لڑتی، ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان فرقہ وارانہ طور پر کتنا بٹا ہوا ہے۔یہی حال دوسری مذہبی عمارتوں کا ہے۔عمارتیں ہمارے حواس پر چھائی ہوئی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خیر و عافیت کا سبب ہیں، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔مذہب کا ارادہ ہوسکتا ہے کہ نیک ہو، مگر اس کی آڑ لینے والوں کا ارادہ کسی زمانے میں نیک نہیں رہا۔یہ آپ سے کہتے ہیں کہ دیکھو!فلاں نے ہمارے مذہب کی توہین کی، آپ اس کے پیچھے پل پڑتے ہیں۔یہ نہیں پوچھتے کہ اگر کسی غیر مذہب کا آدمی،قرآن کی کسی آیت پر سورہا ہے تو قرآن کی آیت تو اپنا کام کررہی ہے، اسے سردی سے بچارہی ہے، اس کے لیے بچھونا بن رہی ہے، اور ہم اس کی مخالفت کرکے ، اسی انسان کے قاتل بنے جارہے ہیں، یعنی جیسے قرآن نے تحفظ بخشا، اسے ہم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔واہ واہ! تو سوچیے کہ توہین کس نے کی؟ملا یا پنڈت کو اپنے سماج کا نمائندہ مت بننے دیجیے۔یہ ڈھونگی لوگ ہیں۔انہیں خود قرآن یا گیتا یا کوئی بھی اچھی کتاب سمجھ میں نہیں آسکتی۔کیونکہ یہ عقل کی آنکھ سے کوئی چیز نہیں پڑھتے۔یہ وقت کی آنکھ سے کوئی چیز نہیں پڑھتے بلکہ یہ تو کانے لوگ ہیں، ان کے پاس بس اندھی عقیدت کی ایک آنکھ ہے، اور وہ بھی زنگ آلود!

 

خدا اور اس کے احکام کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا واقعی کوئی خدا اس قسم کے احکامات جاری بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔اور جب تک ہم یہ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہیں۔ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم دونوں ممالک کے رہنے والوں کی حالتیں نہیں بدلیں گی، کیونکہ ہم خود ہی بے وقوف ہیں۔
ہم دونوں کے ملکوں کی سیاست کا جہاں تک سوال ہے، تو اس میں لالچی لوگوں کی تعداد زیادہ ہے، وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ملک میں انتشار پھیلانے والی آگ ، جنگل کی اس آگ کی طرح ہے، جو ببول اور بیر کے درختوں میں کوئی فرق نہیں کرتی، وہ تو سب کو جلاتی ہے۔یہ تو خدا کا شکر ادا کیجیے کہ ابھی ان دونوں ملکوں میں آرٹ اور ادب کے نام پر چیخنے والے کچھ لوگ ہیں، جو گالیاں کھاتے ہیں، برا بھلا سنتے ہیں، مگر سچ بولتے ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جن ملکوں کی زمینیں، انسانوں کے لیے اتنی تنگ ہوں کہ وہاں کا اچھا خاصا مڈل کلاس طبقہ بھی کرائے کے گھروں میں رہتا ہو، وہاں اتنی ساری عمارتیں کیسے بن جایا کرتی ہیں، یہ عمارتیں دراصل سیاست دانوں کا ووٹ بینک ہیں۔انہی کو Permission دے کر ، ملاؤں کے لیے پیسہ اور سیاستدانوں کے لیے لوگ اکھٹا کرنے کی سازش کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ کے اتنے گھروں کی ضرورت کیا ہے، ان سے تو مظلوموں، غریبوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کیا کبھی کسی مسجد سے یہ اعلانات ہوتے ہیں کہ موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے کوئی بھی غریب فٹ پاتھ پر نہ لیٹے، مسجد میں آجائے ، یہاں رہے، جب تک اس کے کھانے، پینے ، پہننے کا انتظام نہیں ہوتا، مسجد کی انتظامیہ اس کی دیکھ ریکھ کرے گی، یا وہ اس معاملے میں کچھ خاص غریبوں کی تعداد ہی طے کرکے بتادیتے۔چندے پر مسجد کی عمارت کو بڑھانے کے بجائے، انسانی زندگی کو تھوڑا بڑھاوا دیتے۔

 

تہذیبیں جب آپس میں ملتی ہیں، تو انہیں نئی زندگی ملتی ہے، ایک ہی ڈربے یا ڈبے میں بندھ رہ کر تودودھ کا پاؤڈر بھی سیل جاتا ہے، زندگی تو پھر احساس بھی رکھتی ہے۔وہ آپس میں ملتی ہیں، تو نئے زمانے جنم لیتے ہیں ، یہ دنیا ایک دوسرے سے ملنے ملانے، ایک دوسرے کو جاننے، پہچاننے کے لحاظ سے بہت خوبصورت ہے،مذہبی اجارہ دار کبھی نہیں چاہے گا کہ آپ اس ڈربے سے باہر نکلیں۔وہ آپ کو خدا کی لال لال آنکھیں دکھا کر روکے گا۔اس لیے خدا اور اس کے احکام کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا واقعی کوئی خدا اس قسم کے احکامات جاری بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔اور جب تک ہم یہ سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہیں۔ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم دونوں ممالک کے رہنے والوں کی حالتیں نہیں بدلیں گی، کیونکہ ہم خود ہی بے وقوف ہیں۔