Categories
نقطۂ نظر

دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہمارا رویہ

” یہ جو خودکش حملہ آور ہیں ، یہ جو بچوں کی گردنیں کاٹنے والے ہیں ، یہ جو بچیوں کے سکول کو بموں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو پولیو ٹیموں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو ایک نہتی عورت کو سرِبازار کوڑے مارنے والے ہیں ، یہ جو محرم کے جلوسوں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو صوفیاء کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو تعلیم کے دشمن ہیں ، یہ جو ترقی کے دشمن ہیں ، یہ جو پولیس پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے والے ہیں ، یہ جو شریعت کے نام پر پر ستر ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانے والے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ انسان نہیں ہو سکتے اور اگر انسان ہیں تو کم از کم مسلمان کبھی نہیں ہو سکتے۔۔۔ یہ پاکستانی بھی نہیں ہیں۔۔۔ یہ ضرور کسی اور کی سازش ہیں۔۔۔۔”یہ ہے ہمارا وہ مشترکہ اور عمومی رویہ جس کا اظہارہم ہر بم دھماکے، خودکش حملے یا دہشتگردی کے ہر واقعے کے بعد کھلے عام کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری جانب یہ سب کچھ کرنے والے سرِعام نہ صرف ان واقعات کی ذمہ داری تسلیم کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان فرما رہے ہوتے ہیں کہ شریعت کے نفاذ تک یہ جنگ جاری رہے گی اوروہ ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔ اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ ہمارے اس مغالطے میں کچھ حقیقت بھی ہے کہ نہیں۔ کیں ہم ایسی پرفریب کہانیوں میں الجھ کر اپنے لیے مزید مسائل تو پیدا نہیں کر رہے؟
فرقہ وارانہ سوچ اور مذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔
شدت پسند عورتوں کی تعلیم ، حقوق اور مساوی حیثیت کے خلاف ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے جو فرسودہ سوچ پائی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اکثر علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کو یا تو سرے سے ہی برا سمجھا جاتا ہے یا ایک مخصوص حد تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ معاشرے میں ایسی انتہا پسندانہ سوچ کا پایا جانا انتہاپسند قوتوں کے لیے اپنے عزائم آگے بڑھانے کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔اس کے علاوہ عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا، خریداری کے لیے بازار جانا، کسی محفل میں شرکت کرنا، موبائل کا استعمال کرنا، ملازمت کے لیے نکلنا بھی بہت سارے علاقوں میں سختی سے ممنوع ہے اور جہاں جہاں عورتوں کو کسی قدر آزادی نصیب ہے وہاں بھی ان کے حوالے سے کچھ اچھے جذبات نہیں پائے جاتے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عمومی تاثرات کو ترقی پسند یا انتہاپسندی یا شدت پسندی کے خلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ تاثر عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو عورت گھر سے باہر نکلتی ہے وہ شاید اچھے کردار کی مالک نہیں ہے ۔ ملازمت کے لیے باہر نکلنے والی خواتین کے بارے میں بھی عام خیال یہ ہے کہ وہ اچھے کردار یا چال چلن کی مالک نہیں ہو سکتیں۔
مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہر گروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔
فرقہ وارانہ سوچ اورمذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔اپنے مسلک کے ماننے والے اگر کسی حملے میں مارے جائیں تو شہید اور اگر مرنے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والے ہوں تو وہ ہلاک۔ مذہبی اجتماعات میں کھلے عام نفرت انگیز تقریروں پر جھوم جھوم کر نعرے لگانے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ وال چاکنگ، پوسٹرز، کتابوں، رسالوں یا سوشل میڈیا پر کھلے عام کفر کے فتوے بانٹنے والے، انہیں پسند فرمانے والے اور تکفیریت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہماری بات چیت، گفتگو اوربحث و مباحثے کے دوران بھی یہی خرد دشمن رویہ عام ہے۔اگر کوئی عقل، علم یا شعور کی بنیاد پر بات کرتا ہے تو اس کی زبان بندی کے لیے ہمارے پاس یوں تو کئی راستے ہیں لیکن سب سے آسان اور آزمودہ راستہ فتویٰ لگانا ہے۔ جب کسی پر فتویٰ لگ جاتا ہے تو باقی کام ہمیں کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ خود بخود ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔عقل، علم یا شعور کی راہ روکنے کے علاوہ ہم اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی یہ طریقہ کار بہت کامیاب نتائج کے ساتھ بہت عرصے سے آزماتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال کوٹ رادھا کشن میں ہونے والا اندوہناک واقعہ بھی ہے جو سوچنے سمجھنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت ہے۔
آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ستر ہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟
ہمارے ہاں ایک نقطہ نظر اچھے طالبان اور برے طالبان کی تفریق کا بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس سوچ کا گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو ہر مسلک یا فرقے کے حساب کتاب میں اچھے اور برے طالبان کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہرگروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو لڑکیوں کے سکولوں پر حملہ کرنے والوں کو برے طالبان مانتا ہے لیکن دوسری طرف بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جو ملالہ یوسف زئی پر حملے کو با لکل درست اقدام تصور کرتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کے ذمہ دار انتہائی برے طالبان ہیں لیکن ان طالبان کا رہنما ملا عمر ہمارے دانشوروں اور مذہبی جماعتوں کی آنکھوں کا تاراہے۔ سلمان تاثیر کے قاتل کے حق میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور اسے ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ ایک جانب انسانی حقوق، امن، محبت اور رواداری کی بات کرنے والوں کو یا تومار دیا جاتا ہے یا ان کے راستے میں ہر طرح سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور دوسری جانب کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کام کرتی ہیں اور ان کے کارندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے، ان کی مذمت کرنے یا ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ۔
بظاہرہم شدت پسندی اور انتہا پسندی کے جس قدر خلاف ہیں ہمارا عمومی رویہ دہشت گردوں کے لیے اسی قدر راستے ہموار کررہا ہے۔ آئیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں، آئیے ذرا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لیں، آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سترہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟ کہیں ہمارے عمومی رویے اس سب کے پیچھے کارفرما تو نہیں؟؟؟ ذرا سوچیئے!
Categories
اداریہ

کیا یہ جنگ اب ہماری ہو گئی ہے؟ – اداریہ

عمران خان، نواز شریف، منورحسن، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور تمام مذہبی جماعتوں کو اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ جنگ اب ہماری ہوگئی ہے؟ طالبان سے مذاکرات کی حامی اور دہشت گرد مذہبی گروپوں کو اپنا اثاثہ قرار دینے والی جماعتوں اور رہنماوں کو جو اب بھی طالبان کو دہشت گرد قرار دینے اور مسلح جہاد کی مذمت کرنے کو تیار نہیں، انہیں پشاور حملے سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرارنہ دینے پراس حملہ کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے۔ڈرون حملوں، فوجی کارروائیوں اور امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں کو دہشت گردی کی وجہ قرار دینے والے دانشوروں اور سیاستدانوں کو اب یہ سوچنا ہو گا کہ مذہبی دہشت گردی محض معاشی، سماجی اور سیاسی محرومیوں کا ردعمل نہیں بلکہ شدت پسند جہادی فکر کا بھی نتیجہ ہے۔ ماضی میں جن بندوقوں کا رخ ہمارے “دشمنوں” کی جانب تھا ان کے دہانے ہم پر کھلنے سے ہمیں اب یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بلکہ صرف ہماری ہے۔ اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تکفیری فکر کی بنیاد پر انسانی جان لینے کےانتہا پسندانہ مذہبی جواز کو رد نہ کرنے کے باعث ہی آج پاکستانیوں کی جان لینے کو مذہبی فریضہ قرار دیا جارہا ہے۔ پشاور حملہ یقینی طور پر امریکہ، ہندوستان اور روس کے خلاف جہاد کو جائز قرار دینے والے فتاویٰ کا تکلیف دہ تسلسل ہے،پشاور آرمی پبلک سکول کے 132معصوم شہیدوں کو ان ساٹھ ہزار پاکستانیوں کے لاشوں سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا جن کی موت پر خاموشی روا رکھی گئی۔
پشاور سانحہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی ہےاور مسلح جہادی نظریات کا رد کیا جانا حملے یا حملہ آور طالبان کی مذمت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
پشاور سانحہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی ہےاور مسلح جہادی نظریات کا رد کیا جانا حملے یا حملہ آور طالبان کی مذمت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔طالبان جس شدت پسند اسلامی عسکری فکر کی بنیاد پرانسانوں پر حملہ کرنا درست سمجھتے ہیں اس نظریاتی بنیاد کی نفی کیے بغیر پشاور سانحہ کے مقتولین کا کفارہ ادا نہیں کیا جاسکے گا۔ اسی کی دہائی کے دوران جس شدت پسند مذہبی اور فرقہ وارانہ جہادی فکر کی ترویج کی گئی تھی وہ محض مدارس تک محدود نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی جماعتوں اور تبلیغی اجتماعات کے ذریعہ ہر مسلمان میں پیدا کیا جانے والا مذہبی برتری کا کھوکھلا اور اندھا احساس برتری بھی اس حملے کے پس پردہ کارفرما نظریاتی بنیاد کے فروغ کا باعث بنا ہے۔پشاور میں سو سے زائد بچوں کا قتل محض مجرمانہ اقدام نہیں بلکہ سیاسی اسلام اور شدت پسندجہادی فکر پر پختہ اور غیر متزلزل ایمان کا اظہار ہے جس کے تحت کسی کی جان لینا یا اپنی جان قربان کرنا مذہبی فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔
مذہبی مدارس کا نصاب، کالعدم تنظیموں کا لٹریچر اور اور شدت پسند جہادی رہنماوں کے مذہبی خطبے پشاور میں بچوں کے قتل عام جیسے واقعات کو نہ صرف جواز فراہم کرتے ہیں بلکہ ایک مستحسن قدم کے طور یاد کرتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی قریب میں ڈرون حملوں کی بنیاد پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں معصوم انسانوں کے قتل کا جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے، ریاست کے لیے خطرہ بننے تک تحریک طالبان کو اپنا اثاثہ ظاہر کا چلن پرانی بات نہیں ، ہندوستان، اسرائیل امریکہ اور یورپ کی فتح کے لیے جنگی جہادی ترانے گلی محلوں میں گونجتے رہے ہیں اور کشمیر اور افغان جہاد کے لیے پاکستانی نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور تربیت دینے کے مراکز ہر مسجد میں فعال رہے ہیں۔ افغان جہاد اور کشمیر جہاد کو پاکستان کے خلاف جہاد کی طرح دہشت گردی قرار دینا ہوگا ورنہ پشاور سانحہ جیسے سانحات روکے نہیں جا سکیں گے۔
افغان جہاد اور کشمیر جہاد کو پاکستان کے خلاف جہاد کی طرح دہشت گردی قرار دینا ہوگا ورنہ پشاور سانحہ جیسے سانحات روکے نہیں جا سکیں گے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مغرب اور امریکہ کی جنگ قرار دینے والی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں، اعتدال پسند مذہبی رہنماوں اور مسلم مفکرین کو جہادی دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور جہادی فکر کو حق بجانب ثابت کرنے پر آرمی پبلک سکول پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیئے۔ بلکہ ہر اس فرد کو ماضی میں افغان جہاد، کشمیر جہاد، نائن الیون اور ممبئی حملوں کو جہادی کامیابی قرار دینے والے سبھی پاکستانیوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہزارہ ٹاون، مینا بازار پشاور، مون مارکیٹ لاہور، پشاور چرچ، میریٹ ہوٹل، جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس اور ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملوں میں سازش اور بیرونی ہاتھ تلاش کرنے والوں کو اب سنجیدگی سے اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں کی تلاش کرنا ہوگی کیوں کہ یہ محض ریاست یا حکومت کی ناکامی نہیں مذہبی فکر کی ناکامی ہے جو مسلح عسکری جہاد کو رد کرنے میں ناکام رہی ہے۔سیاسی اسلام اور مذہبی غلبہ کے تصورات کی موجودگی میں ہمیشہ عسکری جدوجہد کی گنجائش باقی رہنے کا اندیشہ ہے۔مذہبی سیاسی فکر کے عسکری پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے محض عسکری کاروائیوں، جہادی تنظیموں پر پابندیوں یا سکیورٹی میں اضافہ سے دہشت گردی کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا، ریاستی اور عالمی سطح پرشدت پسند تصورِ جہاد کا سختی سے رد کیا جانا کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردی کے خلاف جنگ نظریاتی ہے۔

حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ طالبان کی طرف سے مسلسل دہشتگرد ی کی کارروائیوں کے نتیجے میں کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا گیا۔ طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ سے چند مذہبی جماعتوں اور تحریک انصاف کے سوا کسی پاکستانی کی حمایت حاصل نہیں تھی عملاً اس وقت مکمل طور پر رک گیا جب طالبان کی طرف سے 2010 میں اغواء کیے گیے 23ایف سی اہلکاروں کو طالبان نے دردناک طریقے سے شہید کر دیا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے عمل کو مزید جاری رکھنے سے معذرت کر لی جس کے بعد وزیر اعظم نے آرمی چیف اور پاک فوج کے اہلکاروں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد پاک فضائیہ کو طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی باضابطہ منظوری دے دی ، جس کے بعد پاک فوج ، آئی ایس آئی ، اور پاک فضائیہ نے باہمی مشاورت کے بعد طالبان کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی اور پاک فضائیہ نے وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں شمالی وزیرستان کے علاقوں حسو خیل، خید خیل ، ایدک اور خوشحال کے علا قوں میں اپنی پہلی کارروائی کا آغاز کیا ، اس فضائی کاروائی کے دوران 6 اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 47 سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔
طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ جسے چند مذہبی جماعتوں اور تحریک انصاف کے سوا کسی پاکستانی کی حمایت حاصل نہیں تھی عملاً اس وقت مکمل طور پر رک گیا جب طالبان کی طرف سے 2010 میں اغواء کیے گیے 23ایف سی اہلکاروں کو طالبان نے دردناک طریقے سے شہید کر دیا۔
اس کارروئی کا پہلا ہدف “کمانڈر عبدالستار ” کا مرکز بنا ، دوسرے حملے میں ازبکستان کے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تیسرے اور چوتھے حملے کا نشانہ ترکمانستان اور تاجکستان کے دہشتگرد بنے ۔ اسی طرح پانچواں حملہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد “جہاد یار” کے ٹھکانے پر کیا گیا جس کے نتیجے میں پندرہ دہشتگردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ جہاد یار اپنے مرکز پر نہ ہونے کی وجہ سے بچ گیا ہے جبکہ مرکز مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ چھٹا حملہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر عبدالرزاق کے مرکز پر کیا گیا جس میں تیس سے زائد دہشتگردوں کے ہلاک ہو نے کی تصدیق ہوئی ۔ اس کارروائی میں دہشتگردوں کے زیر استعمال بھاری اسلحہ اور بارود بھی تباہ ہو گیا ہے اور غیر ملکی دہشتگرد کافی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں ۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دوسرے مرحلے میں ہنگو کی تحصیل ٹل اور وسطی کرم ایجنسی کے سرحدی علاقوں در سمند اور تورا وڑی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے دہشتگردوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 9 دہشتگرد جسں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم رہنماء گل نواز، ارشد اور ولی زمان کے ہلاک ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے چار اہم ٹھکانے بھی مکمل طور پر تباہ کر دئیے گئے ۔ تیسرے مرحلے میں سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کر کے 13 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ۔ تاہم وزیرستان کے علاقوں میں صحافیوں اور خبر رساں اداروں کی رسائی نہ ہونے کے باعث عام شہریوں کی ہلاک ہونے یا نہ ہونے سے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آسکی ۔
اس کارروائی کو پاکستان کی اکثریت نے بھر پور انداز سے خوش آمدید کہا ہے جس کی مثال ہنگو میں بنگش اور طوری قبائل کے جرگے میں پاکستان فوج کو اپنی مکمل مدد اور حمایت کا یقین دلایا گیا ہے اسی طرح ایم کیو ایم کی کراچی میں فوج کی حمایت میں نکالے جانے والی ریلی میں پاکستان کی سنی ، شیعہ خصوصاً سنی اتحاد کونسل ، سنی تحریک ، مجلس وحدتِ مسلمین اور دیگر جماعتوں سمیت اقلیتی جماعتوں کی تنظیموں نے بھر پور شرکت کی اور پاک فوج کو اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایا۔ پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے اپنی پریس بریفنگ میں وزیر اعظم کو یقین دلایا ہے کہ پاک فوج شمالی وزیرستان جو کہ طالبان اور دیگر دہشت پسند تنظیموں کی جائے پناہ ہے کو چند ہفتوں میں دہشتگردوں سے آزاد کرالے گی اور حکومت کی رٹ کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے کہا ہے کہ پاک فوج پاکستانی عوام کی خواہشات پر اپنی بے مثال کارکردگی کی بنا پر پورا اترے گی اور دہشتگردوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کر دے گی۔ حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا فیصلہ خوش آئند ہےتاہم ان علاقوں سے دہشت گرد تنظیموں کے انخلاء کے بعد ان علاقوں میں شدت پسندوں کی دوبارہ واپسی کو روکنے کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی ۔
نظریاتی میدان میں مذہب کی بنیاد پر آئین اور جمہوریت کی نفی کرنے والی تنظیموں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ شدت پسند تنظیموں کے لٹریچر اور ویب سائٹس تک آسان رسائی کے باعث نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو جہادی تنظیموں میں شمولیت پر آمادہ کئے جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ماضی میں سوات سے دہشت گردوں کے انخلاء کے بعد سےفوج ان علاقوں میں موجود ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے وسائل اور تربیت کی کمی کے باعث دہشت گرد تنظیموں کے انخلاء کے بعد ان علاقوں پر حکومت کی رٹ قائم رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ ریاستی خارجہ پالیسی میں بھی ماضی کی طرح افغانستان میں موجود مسلح غیر ریاستی گروہوں کی حمایت کی بجائے عوام کی نمائندہ جماعتوں اور سیاسی حکومت کی حمایت کی پالیسی اپنانا ہو گی ۔ ریاست اور عوام کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات کی ہے، انسانی آزادی، حقوق اور جمہوری نظام کی کامیابی کی جنگ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے گزشتہ تین دہائیوں سے جاری مختلف حکومتوں کی دہشتگردی سے پہلو تہی ، در پردہ حمایت اور سٹریٹجک ڈیپتھ (strategic depth) کے نظریات کو رد کرتے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف فوجی، سیاسی ، ثقافتی اور فکری سطح پر جنگ لڑی جائے ۔ نظریاتی میدان میں مذہب کی بنیاد پر آئین اور جمہوریت کی نفی کرنے والی تنظیموں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے نصاب تعلیم کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ شدت پسند تنظیموں کے لٹریچر اور ویب سائٹس تک آسان رسائی کے باعث نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو جہادی تنظیموں میں شمولیت پر آمادہ کئے جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ایسے میں پاکستانی معاشرے ، عوام اور ریاست کی طرف سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف وزیرستان میں فوجی کاروائی کافی نہیں بلکہ نظریاتی سطح پر شدت پسند سوچ کے خلاف فکری محاذ پر بھی جنگ لڑنا ہوگی۔