Categories
شاعری

بندوق کے نمازی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بندوق کے نمازی

[/vc_column_text][vc_column_text]

ان کی بغلوں سے خدا نکلتے ہیں
عورتیں ۔۔۔۔
انہیں گنا ہوں کی طرح پھینک جاتی ہیں
بے نشان سڑکو ں پر
یہ جزا کے پھول نہیں سونگھ سکتے
ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”
آ گے پیچھے کچھ نہیں ہے
کوئی تصویر ان کے چہرے نہیں کھینچ سکتی
ان کی آ نکھیں۔۔۔۔۔
اس جرم سے ملتی ہیں
جو کسی عورت نے پہلی رات کیا تھا !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

زمین بانجھ پن کے درخت کیوں نہیں اگاتی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

زمین بانجھ پن کے درخت کیوں نہیں اگاتی

[/vc_column_text][vc_column_text]

(دسمبر میں برف نہیں اب آگ گرتی ہے)
اب ٹھنڈی ٹھار قبروں کی تختیاں
کالی دھوپ میں سکھائی جائیں گی
اور۔۔۔وقت تیسرے پاؤں پہ رینگ رہا ہو گا
پچھلے برس
آدھے آدھے گز کے سایوں نے
سرخ پانی سے بلبلے بنائے تھے
تو آسمان کی آٹھویں لکیر سے عقاب نکلا
اور ۔۔۔پورا جنگل خالی ہو گیا

 

شکار پہ جانے والوں نے ایک جنگل فرض کیا
اور اسکول کی دیواروں سے خشک لہو کے
دھبے اتار کر
ایک رخصت ٹانگ دی
لوگ دیواریں جمع کر تے رہتے ہیں
تاکہ ان پر چھٹیوں سے پُر کیے گئے کیلنڈر
آویزاں کر سکیں

 

ہم نے باسی روٹیوں جیسے آنسو
خیرات کر دیئے ان جھونپڑیوں کو
جنہوں نے گندھک، کوئلے اور پوٹاشیم نائٹریٹ سے بھرے ہوئے
جوتے تخلیق کیے
وقت اب ننگے پاؤں چلنا چاہتا ہے !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

سلمان حیدر کی ایک نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سلمان حیدر کی ایک نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ جن کی داڑھیوں کے بال ان کی ناف تک آئے ہوئے ہیں
وہ جب اس بحث میں مشغول ہو جائیں
کہ جب اسکولوں میں مقتل کهل چکیں گے
تو مقتولوں کے زیر ناف بالوں سے تعین ہو سکے گا
کہ ہم قاتل کو جنت کی بشارت دیں
کہ بیت المال سے کچه خوں بہا خیرات ہو جائے
تو اس دن جان لینا
کسی بالوں کے گچھے کا
شریعت اور بلوغت سے
کوئی رشتہ نہیں ہوتا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]