ٹائم کیپسول

نصیر احمد ناصر: کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
چیف جسٹس کا مطالبہ

جمیل الرحمان: اگر تم میری عدالت سے مطمئن نہیں
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو
بابے کی ہٹی

نصیر احمد ناصر: میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
ائیر پورٹ پر

حسین عابد: میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو

نصیر احمد ناصر: کتنی عجیب بات ہے
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں
روتا ہوا بکرا

شارق کیفی: وہی بکرا
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں
محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
نٹ راج

ستیہ پال آنند: اس تنی رسی پہ ننگے پائوں وہ جم کر کھڑا ہے
لڑکھڑاتا، ڈولتا، کچھ کچھ سنبھلتا
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھتا ہے
لڑکھڑاتا، ڈولتا، کچھ کچھ سنبھلتا
اک نظر پیچھے کی جانب دیکھتا ہے
اللہ ہو سے عالمِ ہو تک
ستیہ پال آنند: اپنے ہی پانی مٹی سے اک ساعت ایسی گھڑ لیں
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
جوحیات میں عین موت ہو
اور موت میں عین حیات
اللہ ہو سےعالمِ ہو تک
عالمِ ہو سے اللہ ہو تک!
رشتہ خور چوہے

قرۃ العین فاطمہ: یہ دنیا چوہوں کی آماجگاہ ہے
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں
رات کے لیے ایک نظم

نصیر احمد ناصر: اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
نثری نظم کا تخلیقی جواز

نصیر احمد ناصر: دراصل ہر نظم اپنی ہیئت یا ساخت خود لے کر آتی ہے۔ تخلیق کے بعد اس کی تراش خراش تو کی جا سکتی ہے لیکن تخلیقی عمل کے دوران اسے زبردستی “نظم” یا “نثری نظم” نہیں بنایا جا سکتا۔
زندہ قبریں

نصیر احمد ناصر: ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
کالی رات ہے

سوئپنل تیواری: کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

عذرا عباس: اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا