Laaltain

قومی شناختی کارڈ

ذکی نقوی: گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ ‘شناختی کارڈ’ سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔

پارو

محمد حمید شاہد:لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔

شکن

صدف فاطمہ: اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔

حرامزادی

عمار غضنفر: اپنی توند تو دیکھ۔ سارا حرام مال بھر رکھا ہے۔ تیری کمپنی کی بنائی سڑک ایک سال نہیں نکالتی۔ تو تُو زیادہ ٹائم کیسے نکال سکتا ہے۔

گورکھ دھندہ

اسد رضا: وقت تیزی سے گزر رہا تھا جو کچھ بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔ چوہوں نے کھلے عام قبروں کے اوپر اچھل کود شروع کر دی تھی۔ ہم نے قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عظیم کائناتی گورکھ دھندے کے لئے کھدائی شروع کر دی تھی۔

رنگ (محمد عباس)

محمد عباس: آخر ایک دن ڈیرے کی رونق پھر سے بحال ہو گئی۔ اچّھے کا ابا واپس بحرین چلا گیا اوراچھّا اس شب پھر رات دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ اب وہ پھر وہی پرانا اچّھا تھا، ڈیرہ پھر تاش کا ڈیرہ بن گیا۔

گُلاں کی سرگوشیاں

رفاقت حیات: گلاں نے تھیلی اٹھائی۔ بھاگ کر اندر کی روشنی میں اسے کھول کر دیکھا۔ سونے کی پازیب اور اس میں جڑے سفید نگینے اسے بہت اچھے لگے۔ اس نے فورا تھیلی کو صندوق میں چھپا دیا اور جیون کا انتظار کرنے لگی۔

پارہ دوز (تین پارچے ایک کہانی)

محمد حمید شاہد: میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔

غلاملی (محمد عباس)

محمد عباس: وہ بلک بلک کے رونے لگا اور میں اس کی آنکھوں سے امڈتی ہوئی پدرانہ شفقت کو حیرانی سے دیکھتارہا۔اس کے ہاتھ قبر کے کتبے پہ یوں سرک رہے تھے جیسے بیٹے کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اسے دلاسہ دینے کے بہانے خود اپنے آپ کوتسلی دے رہا ہو۔

بدبو

عمار غضنفر: اچانک ارشد کی نظر حمیداں کی جانب اٹھ گئی۔ دونوں کی۔نظریں ملیں تو ارشد کو حمیداں کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک نظر آئی۔ اس نے گبھرا کر گردن جھکا لی۔ اسی لمحےاسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کےاس کے اندر سے بھی اچانک وہی بدبو پھوٹنے لگی ہے۔

واپسی

محمد عباس: میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔

راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

محمد حمید شاہد: بیدی نے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور انسانی بطون میں اتر کراس کے گنجھل کھولے ہیں، انتہائی ضبط اور پورے خلوص کے ساتھ ،اور یہ کوئی معمولی اور کم اہم واقعہ نہیں ہے

ہاں، یہ بھی روشنی ہے!

ناصر عباس نیر: مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!