اپنے ناول Identity میں میلان کنڈیرا اپنے ایک کردار کے بارے میں کہتا ہے:
She dislikes dreams: they impose an unacceptable equivalence among the various periods of the same life, a levelling contemporaneity of everything a person has ever experienced; they discredit the present by denying it its privileged status.
اور یہیں مجھے اسد فاطمی کی پس انداز کو کھولنے کی ایک کلید مل جاتی ہے۔ اسد زمانوں میں برتی جانے والی متنوع زبانوں کو اپنے احوال کا حصہ بناتا ہے اور الگ الگ زمانے اپنی ماہیت کو قائم نہیں رکھ پاتے۔ نتیجتاً ایک خواب آمیز دنیا وجود میں آتی ہے، جسے میں اسد کی دنیا کہہ سکتا ہوں۔
مجھے اسد فاطمی کی شاعری، غزل ہو یا نظم، اس میں سب سے پر کشش پہلو اس کا اپنی داخلی، خارجی واردات کو زبان کے متنوع پہلوؤں کے ساتھ آمیز کرنے کا عمل لگتا ہے۔ کتاب کھولتے ہی میری نظر پہلی ہی غزل پر پڑتی ہے تو جو شعر سامنے آ کر مجھے روکتے ہیں، انہیں ہی دیکھ لیتے ہیں:
درِ خانۂ دلربایاں کے درباں، ٹھہرنے تو دے بات تو سن مری جاں
سلاموں، کلاموں، پیاموں کے صدقے ابھی تیرے سر سے اتارے نہیں ہیں
وہ کٹیا جہاں پچھلا موسم کٹا تھا، وہاں اپنا کچھ ساز و ساماں پڑا تھا
پہ جن پہ تواضع کی مینا بنی ہو، سمجھنا وہ برتن ہمارے نہیں ہیں
یہ دونوں شعر اپنی بنت میں اس خطے میں صدیوں سے رائج فارسی اور ہندوستانی کا وہ نکتۂ اشتراک ہیں جہاں یہ دونوں آپس میں ایسے گھل مل جاتی ہیں کہ اپنی الگ الگ شناخت سے دستبردار ہو جاتی ہیں ۔ اب کیا کہیے گا کہ یہ بیت مفرّس ہیں یا ہندی سے متاثرہ؟ شاید آپ یہ دونوں باتیں نہ کہہ سکیں۔ اگر آپ کسی طرح کی ٹکسالی زبان کی تلاش میں اس شاعری تک آئے ہیں تو شاید آپ مایوس ہوں۔
اسد کے ہاں ماجرا دلچسپ ایسے ہوتا ہے کہ وہ تنقید کے دبستانوں اور چائے خانوں میں جاری ہئیت کی بحثوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور یہی وہ اہم کام ہے جو پس انداز کے ذریعے فی زمانہ اس نے کیا ہے کہ یہاں غزل ہے مگر وہ غزل نہیں جسے مجلسی واہ وا سے علاقہ ہو ، نظم ہے معری بھی پابند بھی آزاد بھی لیکن ایسی نہیں جسے مجھ سے، آپ سے ،اپنے عصر سے علاقہ نہ ہو:
قیدِ تنہائی کا گوشہ ہے خموشی کی سزا
ملنا جلنا ہے کہ اک جبر ہے گویائی کا
بات اک سنتا ہوں اور دوسری کہہ جاتا ہوں،
چھوڑتا جاتا ہوں اک صوت و علامت کی لکیر
اور امکانِ معانی کا ہیولا سا کوئی
پیچھے پیچھے اسی خط پر کہیں چلتے چلتے
آخرِ کار مجھے ڈھونڈ کے آ ملتا ہے
(نطق و نفس)
اب بتائیے کیا اس معرّیٰ ٹکڑے کو مجھ، آپ سے، اس عصر سے کوئی علاقہ ہے کہ نہیں۔ نفی میں جواب دینا شاید میرے لیے ممکن نہ ہو کہ میں اسی نوع کے داخلی اور خارجی جبر کے سنگم پہ کھڑا جب کوئی اظہار منتخب کرنا چاہتا ہوں تو یہ نظم میرا ہاتھ پکڑ لیتی ہے اور مجھے نہیں کہنے دیتی کہ میں معریٰ ہوں یا میری زبان تو وہی “روایتی” ہے سو مجھ سے فاصلے پہ رہو۔ پھر یہ زبان کا پرانا یا نیا ہونا میں تو کبھی نہیں سمجھ سکتا:
جو گم ہوئے پریم پتر سارے مہاجنوں کی بہی سے نکلے
شبِ عروسی کے رزمیوں نے طرب کے پیالوں میں زہر گھولے
اس شعر کو پڑھتے ہوئے میں مصرعِ اولیٰ کو دیکھتا ہوں تو ہند میں رچا ہوا ایک احساس میرے رگ و پے میں اترتا ہے اور وہاں مصرعِ ثانی مجھے اسی کی ایک extension محسوس ہوتا ہے بغیر کسی غرابت یا اجنبیت کے۔ جیسے یہ ملاپ بڑا فطری ہو۔ یہی شاید شاعر کا کام ہے لفظ کو اٹھا کے یوں برت دینا کہ جو عمارت ان لفظوں کی اینٹوں سے بنے، اس میں کوئی اینٹ بدنما نہ لگے۔۔۔
خیر پہلو تو اور بھی ہیں اور خاصے دلچسپ، بات بڑھتے بڑھتے “دہقان و دریا” تک لے آئی ہے مجھے۔ دہقان و دریا میں جو اسطورہ اسد فاطمی نے تخلیق کیا ہے، اس کا احساس وہ کس زبان میں اپنے قاری تک پہنچا سکے گا، کہاں لفظ کو پر شکوہ ہونا ہے کہاں عجز آمیز، اسد جانتا ہے اور اس کا مظہر یہ شاندار نظم ہے جس میں داستان کا سا رویہ ہے:
گفت دہقان: یہ کرشمہ ہے، پہیلی ہے، فریبِ چشم ہے یا کوئی مخفی رمز ہے؟
گفت مردِ پیر: یہ اک معجزہ ہے اور اس میں کچھ نہیں جائے کلام۔۔۔
یہ معجزہ کیسے خود عجز کا شکار ہوتا ہوتا اپنے انجام تک یہاں آ پہنچتا ہے:
چھت پہ اک چمنی ہے اور چمنی پہ اک گھڑیال ہے
گویا یہ نظم “تراشیدم، پرستیدم، شکستم” کی ایک ایسی شکل میرے سامنے لاتی ہے جس کو پہچاننے میں مجھے دقت ہوتی ہے آغاز میں، لیکن پھر مجھے میرے ہی ایک تاریک پہلو سے جوڑ کر ایک نیا جمالیاتی زاویہ کھولتی ہے جس کے ساتھ میں بہت دیر رہنا چاہوں گا۔
صحن میں سر چڑھی عشقِ پیچاں کہیں تتلیوں کے ترنجن سے کہنے لگی۔۔۔
میں یہاں عشق پیچاں اور تتلیوں کے ترنجن میں رک کے مسکرا رہا ہوں، خود اس بات سے بے غرض کہ اب کہا کیا جانے والا ہے۔ تمثیل کا اعجاز حیرت بھی ہے اور جہاں حیرت آ جائے وہاں کلام کی کیا حاجت۔ میر صاحب کا شعر یاد آگیا:
تصویر سے دروازے پہ ہم اس کے کھڑے ہیں
انسان کو حیرانی بھی دیوار کرے ہے۔۔۔
اچھا مجھے جس شے نے اس کتاب سے جوڑ رکھا ہے وہ اسی نوع کا ایک استعجاب ہے۔ اب تو خال خال یہ استعجاب بہم پہنچتا ہے۔ استعجاب و حیرت دیر پا احساسات ہیں، چونکانے کا کام کچھ دیر پا نہیں سو آس پاس بہ کثرت ہوتا ہے۔ جو شے اسد کو الگ کرتی ہے وہ اس کا “حال” کے لیے موزوں “قال” کھوجنے کی کاوش ہے۔ وہ ہونے اور کہنے کا درمیانی سفر بڑی دقت طلبی سے طے کر کے ہمارے سامنے بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے:
یار بناں جو جی پر گزری کون لکھے اور کون سنائے
کاتب تجھ کو اللہ رکھے، قاصد تجھ کو رام سَہائے
جھونکا، موسم، کاگ، پپیہا، سَنت، نجومی، دست شناس
کس سے اُس کی خبر نہ مانگی، کس کے نہیں ہیں ناز اٹھائے۔۔۔
بتائیے ہے ناں دلچسپ بات! پہلے مصرعے کے استفہامیے ہی میں جناب کہہ بھی گئے کہ ماجرا کیا ہے۔۔۔
اچھا ایک خاص بات ہے جسے انگریزی میں Satire کہتے ہیں ہم۔ وہ اسد کے یہاں کبھی بلند آہنگ میں آئے تو ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ جیسی نظم سامنے آتی ہے اور زیر لب آئے تو شاید ہی آپ ایسی چیز ڈھونڈ سکیں جہاں آپ یہ Satire محسوس نہ کریں۔ یہ طنز بڑا گہرا ہے اور زندگی، سماج، وجود کے تئیں اسد کے رویے کی اور نشاندہی کرتا ہے:
خالی بٹووں میں ناکام غزلیں لیے کب تلک خود کو خود ہی سناتے پھریں
زندگی تیرے بے دام مزدور ہیں، شعر کہنے کی فرصت کجا، ہم کجا
ظہیر انور کون تھا، صدا کر چلے، حَسن حجام سے کہتا ہے، اور بہت سی نظمیں، ذرا گہرا اتر کے دیکھنا ہوں گی تاکہ ہم پس انداز سے اپنے اپنے حصے کی تلخی پائیں اور جانیں کہ گاہے یہ کاٹ دینے والی تلخی اپنے وجود کا حصہ بنانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ تلخی اور Satire کا ملاپ ہمیں ہمارے زندگی جینے کے رویے کو شاید ازسر نو دیکھنے کا موقع ہی مہیا کر دے:
عدم کی شاہرہ پر راستے کیا اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھل بھلیاں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو اور پھر ہانپ جاؤ گے
(صدا کر چلے)
۔۔۔۔۔
یہ ناک کی سیدھ جس میں کوئی خم و تغیر،
کوئی دوراہا، نہ دایاں بایاں،
خطِ معین سے ہٹ کے کچھ لغزش و تجاوز کی جا نہیں ہے،
۔۔۔
رمِ رہِ مستقیم والوں کے جان و تن کی تھکن نہ پوچھو
(سدِ راہ)
وہ خطِ مستقیم کو سدِ راہ جانتا ہے، بتاتا ہے اور اس کے منحرفین کا آزار لکھتا ہے۔ اس کے لیے خطِ مستقیم میں زمانہ چلتا ہے نہ زبان اور نہ وارداتِ وجود۔ سو وہ ان کو ملاتا ہے یا اس کے وجود میں ان سب کے اندر ایک ہم عصریت پیدا ہو کے ہمیں ایسے خواب سے دوچار کرنا چاہتی ہے جسے شاید ہم پسند نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ اس ہم عصریت کی تلخی ہمارے تالو تک پہنچاتا ہے کہ وہ اور ہم اسی خواب کے باشندے ہیں:
دہر کے ہر آن میں سو نام ہیں سو کام ہیں
ہم یہاں دل نام کا لَلُو لبھاتے رہ گئے
کہیں بین السطور دل نام کا لَلو لبھانا ہی نہیں سو نام اور سو کام کا خطِ مستقیم سے منحرف واقعہ بھی ہے جس کا حصہ ہوتے ہوئے محض ناظر رہ جانے کا رنج جان کھاتا ہے:
ذرا تھم کے کتر اے کِرمِ مردہ خور تیرے پنجہ و دندان نازک ہیں
یہ چمڑی نیم اور کیکر کی جڑ سے بڑھ کے کڑوی ہے
(شگافِ گور سے ایک آواز)
یہاں ایک زندگی نامہ آغاز ہوتا ہے، کیسی ہو گی اس زندگی کی بڑھت، بڑھ کے نظم اٹھائیے اور ہمت کر کے اس کے انت تک چلے جائیے۔۔۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر مجھے شعری مجموعوں پہ کلام کرنا نہیں آتا، محسوس کرنا آتا ہے سو اس کا مختصر اظہار ہی مجھ ایسے سے ممکن ہے۔ آخر میں “ہفت سین” کے نام سے چھ فارسی غزلیں اور دو نظمیں موجود ہیں۔ غزل کا ذائقہ آپ چکھیے اور نظم پڑھنا ہو تو “وداعیہ بہ مہاجرانِ افغان” پڑھ ڈالیے:
مردمی اشکِ نہنگ است
مردمی نوبتِ دیدن بہ رمِ آہوئے غافل ز دو چشمانِ پلنگ است
مردمی یک اثرِ پائے گریزاں ز رہِ گورِ غریب
۔۔۔
برسرِ چوبِ درِ خود بنوشتیم
این سوی چوبِ دری ہیچ کسی خانہ ندارد
یہ وداعیہ کیا ان کے لیے تھا جو رخصت ہوئے یا اپنے لیے بھی، جو مقامِ رفتن پہ ٹھہر گئے ہوئے ہیں:
اینسوی چوبِ دری ہیچ کسی خانہ ندارد
اگر آپ اس خواب سے نفرت کرتے ہیں تو ایک بار اسے جینا آپ کے لیے لازم ہے اور اسد اس خواب میں آپ کو خوش آمدید کہہ رہا ہے مسکراتے ہوئے۔ اس مسکراہٹ میں طنز ہے لیکن اس طنز کی تلخی اس ہم عصریت کا شاخسانہ ہے جو ہم آپ پہ مسلط ہے سو مسکرا کر اس خواب میں داخل ہو جائیے جہاں دروازے پہ کھڑا اسد فاطمی کہتا ہے:
اے اشک سوئے دیدۂ خشکم نگاہ کن
بگذار این دمم کہ گلویم گرفتہ ای۔۔۔



One Response
زیرک ، تخلقی ادراک اور موجہء خیال کی تازگی ۔میرے لئے شاعر اور نقد شاعر، بہت لطف انگیز ہے۔عہد شاعری کی نئی آوزیں۔