Skip to main content

Laaltain

آکسیٹوسن کی واپسی اور دیگر افسانے

15 اگست، 2026

آکسیٹوسن کی واپسی

گاہے گاہے اٹھنے والی درد کی وہ لہر، اب ایک متلاطم دریا کا روپ دھار چکی تھی۔

ایسا دریا جو پل میں بپھرتا اور پل میں شانت ہو جاتا۔ بپھرتا تو ایسے کہ اس کی سانسوں کا تانا بانا اکھاڑنے کے در پے ہوجاتا اور تھمتا تو یوں جیسے پتھرا کر جامد ہوگیا ہو۔ درد کی شدت نے سوچنے کی قوت اور فرصت اس سے چھین لی تھی۔ کائنات اور اس کے نوع بنوع مظاہر اِس وقت اُس کے لئے اپنی معنویت اور موجودگی کھو چکے تھے۔ کچھ موجود تھا تو وہ ہیلتھ کئیر سینٹر کا یہ کیبن تھا جو لحظہ بہ لحظہ اس کے وجود کو نگلتا جا رہا تھا۔

وقفے وقفے سے جسم میں ایسی اینٹھن اٹھتی کہ وہ ادھ موئی ہو کر ایک طرف لڑھک جاتی۔ دیر بعد جب آنکھیں کھول کر ذرا سنبھالا لینے کی جد وجہد کرتی تو بدن پہ نقاہت کا ایسا قبضہ ہوتا کہ کوئی عضو ہِل کے نہ دیتا۔ ایک پل کو لگتا جیسے کمر کی ہڈی ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئی ہے اور اگلے لمحے اعضائے رئیسہ ایک ایک کر کے کٹتے اور اندر کسی کھائی میں گرتے محسوس ہوتے۔ اس نے جسم پر ابھری شبنمی پرت کا بار محسوس کیا لیکن کوشش کے باوجود ماتھے سے تری پونچھنے کی سکت نہ جٹا پائی۔ کُولھے کے اوپری حصے میں پھر ایک ٹیس اٹھی اور پورے وجود میں پھیل گئی۔ ضبط کا باندھ توڑ کرایک چیخ نکلی اور دیواروں سے منعکس ہو کر اس کے اپنے مغز سےٹکرائی۔ بے حال ہو کر وہ پھر ایک جانب ڈھے گئی۔ خودکار میڈیکل بیڈ نے فوراً حرکت میں آکر پھر سے اسے سابقہ اور مطلوبہ پوزیشن پر بحال کر دیا۔

کیبن میں موجود روشنیوں کے تیز شیڈز اس کی آنکھوں میں، اس کی سرخ وسپید جلد میں، اس کے ذہن میں اور اس کے تخئیل میں چُبھ رہے تھے۔ اور وہ بے بسی کے عالم میں آنکھیں موندے برداشت کے بوجھ تلے پِسی جاتی تھی۔ درد کی شدت کچھ ڈھیل دیتی تو ہلکے سے وہ آنکھیں کھولتی اور دیکھتی کہ اس کے جسم کا ہر عضو کسی خودکار آلے کی زد پہ ہے۔ کَوفت سے جھنجلا کر وہ دوبارہ آنکھیں موند لیتی۔ دیواروں میں نصب کیمرے اور سینسرز اَن گِنت زاویوں سے اس کی حرکات و سکنات اور دگرگوں حالت کو ریکارڈ کر رہے تھے۔ بخار کا اتار چڑھاؤ، اعضا کی کارکردگی، فشارِ خون، ہارمونز کا تناسب، نسوں اور پٹھوں کا تناؤ، اورلمحہ بہ لمحہ بدلتی دیگر جسمانی کیفیات کی رواں معلومات مسلسل متعلقہ سکرینوں پر منعکس ہو رہی تھی۔ جوں ہی کسی سکرین پر کسی غیر متوقع یا قابلِ تشویش صورتِ حال کی الرٹ اُبھرتی، مستعد عملہ اورمشینری فوراً ہنگامی پوزیشن میں آ جاتے۔

صورتِ حال اس روز بھی ہنگامی ہو گئی تھی جب سال بھر پہلے اسی ہیلتھ کئیر سینٹر کے فیملی پلاننگ سیکشن میں ایک عجیب و غریب درخواست موصول ہوئی تھی۔ سارا اور سمیر نے درخواست فارم مکمل کر کے جوں ہی ‘سب مِٹ ‘ کے نشان پر کلک کیا، ان کے سامنے تیزی سے الرٹ لائٹ کوندی۔ اور اگلے ہی لمحے متعلقہ سیکشن کی ہرفعال سکرین پر آلارم کا نشان دکھائی دیا تھا۔

“نامناسب درخواست” سکرین پر تنبیہی نوٹ ابھرا تو لمحہ بھر کے لئے وہ دونوں سہم گئے۔

لیکن پھر فوراً اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے دونوں نے تقریباً بیک وقت اپنے اپنے کمپیوٹر پر اجاگر ‘ایڈِٹ باکس’ کو بند کر کے دوبارہ ‘سب مِٹ’ پہ کلک کر دیا۔

“ممکنہ طور پرقابلِ گرفت مواد” اس بار سکرین پر عیاں ہونے والی وارننگ لائٹ زیادہ سرخ تھی۔ دونوں نے مضبوط ارادے کے ساتھ ایک بار پھر درخواست واپس لینے یا کوئی تبدیلی کرنے کی بجائے فارم سب مٹ کرنے کا آپشن دبا دیا۔

اور پھر چشم زدن میں یہ خبر ہیلتھ کئیر سینٹر کی چار دیواری سے نکل کرپورے شہر کے حافظے کا حصہ ہو گئی کہ ایک انسانی جوڑے نے اپنا بچہ آپ اپنے جسم سے پیدا کرنے کے لئے انتظامیہ سےاجازت طلب کی ہے۔

روبوز اور انسان ہر دو کی رسمی اور غیر رسمی نشستوں میں اگلے کئی دنوں تک گفتگو کا سب سے بڑا موضوع یہی بنا رہا کہ آیا اس جوڑے کی یہ عجیب و غریب درخواست منظور ہو گی یا نہیں؟ اور ہونی چاہئے یا نہیں؟ اور اگر اسے مطلوبہ اجازت مل جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟

انسان اور اکثر جانوروں کے بچوں کی تخلیق کا رائج طریقہ یہ تھا کہ فرٹیلائیزیشن سے ابتدائی پرورش تک سارے مراحل پوری احتیاط، درستی اورتحفظ کے ساتھ لیب میں سرانجام دیے جاتے تھے۔ اس عمل کے دوران کسی بھی مرحلے میں انسان کی جسمانی شمولیت درکار نہیں ہوتی تھی۔ اولاد کے خواہش مند کسی قریبی لیبارٹری یا ہیلتھ کئیر سینٹر میں رجسٹریشن کروا کر کسی بھی وقت اپنی مرضی کا، طے شدہ خصوصیات کا حامل بچہ حاصل کر سکتے تھے۔ اس کے لئے انھیں اپنی درخواست کے ساتھ مطلوبہ خصائل کی تفصیلات کا مکمل خاکہ، لیب میں پیش کرنا ہوتا تھا۔ جنس، رنگ،قد، نین نقوش اور دیگر مطلوبہ خصوصیات میں سے کتنی ہو بہو دستیاب ہوں گی اور کتنے پہلووں پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا اس کا دارومدار جینیاتی ذخائر میں موجود مواد اورامیدوار والدین کی قوت خرید پر منحصر ہوتا تھا۔ بچے کی تخلیق عموماً مرکزی جینیاتی بینکس میں دستیاب بیضے اور سپرم سے ہی عملائی جاتی تھی لیکن جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے معمولی یا مکمل رد و بدل کی سہولت بھی مطالبے پر تقریباً ہر جگہ دستیاب تھی۔ مقامی جین پول میں مطلوبہ خصوصیات والے کروموسوم کی عدم موجودگی کی صورت میں دوسری جگہوں سے منگوائے جانے پر آنے والے اضافی خرچ کا بوجھ البتہ گراہک والدین کو سہنا ہوتا تھا۔ تمام بالغ شہری ہر پانچ سال میں ایک بار اپنا تولیدی مادہ بینک میں ڈپازٹ کروانے کے قانوناً پابند تھے۔ ایسے والدین جو یہ چاہتے تھے کہ ان کی مجوزہ اولاد صرف اور صرف ان کے جنسی مواد سے تشکیل دی جائے انھیں اس کے لئے اضافی ٹیسٹس سے گزرنا پڑتا تھا تاکہ یہ یقینی بنا لیا جائے کہ ان کے کرومسومز پوری طرح صحت مند اور جینیاتی نقائص سے پاک ہیں۔ کلوننگ سوائے کچھ مخصوص صنعنی یا تجارتی مصارف کے لگ بھگ متروک ہو چکی تھی۔ اولاد کے حصول کے لئے تو اس کا استعمال بالکل ممنوع تھا۔ ایسے افراد جو اولاد کرنے میں دل چسپی نہیں رکھتے تھے انھیں کچھ دوسری اضافی خدمات اور خانہ پریوں کے بعد اس کا بھی اختیار مل جاتا تھا۔

ایسے میں سارا اور اس کے شوہر سمیر کی یہ خواہش کہ وہ اپنے بچہ کی پیدائش کے لئے اپنا ذاتی جسم استعمال میں لائیں، عجیب و غریب تو تھی ہی اسے انتہائی احمقانہ بھی سمجھا گیا۔

“اٹکل پچو طریقے سے ہونے والی فرٹیلائزیشن اور اس کے نتیجے میں بننے والا بچہ کیا جینیاتی نقائص سے پاک ہو گا؟” یہ سوال کئی مذاکروں میں زیرِ بحث رہا۔

“ہمیں عہدِ عتیق میں نہیں مستقبل میں جانا ہو گا، اسی میں ترقی کی کلید ہے” ایک اخباری ایڈیٹوریل کا عنوان تھا۔
“کیا موجودہ انسانی جسم اس قدر مشقتیں اٹھا سکنے کا متحمل ہے؟ یا یہ اقدام خود کشی کے مترادف ہے؟” ایک مقامی نیوز پورٹل نے سرخی لگائی۔

“انسان، جنگلی چوپایوں کے نقشِ قدم پہ!” سنسنی خیز موادکے لئے مشہور ایک ویب پورٹل نے ہوم پیج سجایا۔

ابتدائی رد و کد کے باوجود جب یہ جوڑا اپنی ضد پر اڑا رہا تو انھیں کونسلنگ کے سیشنس سے گزارا گیا۔ سارا کو اس عمل سے منسلک ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ سمولیشنس کے ذریعے انھیں اس عمل کے تمام مراحل اور ان کی پیچیدگیاں دکھائی گئیں۔ اس مقصد سے خصوصی طور تیار کی گئی ایک فلم بھی سارا کو دکھائی گئی جس میں ایک ماں نو ماہ کی طویل مدت ہوش ربا اذیت سے گزرتی ہے اور بالآخر ایک لاغر سے بچے کو جنم دے کر اپنی جان کی بازی بھی ہار جاتی ہے۔ پرانے دستاویزی ریکارڈ اور اعداد و شمار کی مدد سے سمجھایا گیا کہ اپنے جسم کو تولیدی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جانا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ لیکن ان کے ارادے میں قطعاً کوئی تبدیلی نہ آئی۔ دونوں کی برین سکیننگ کی گئی تاکہ معلوم ہو سکے کہ انھیں کہیں کوئی ذہنی یا نفسیاتی عارضہ تو لاحق نہیں۔

متعلقہ شعبہ جب انھیں اپنی درخواست واپس لینے پر راضی نہ کر سکا تو اس معاملے کو جمہوری طرز پر نِپٹانے کا فیصلہ لیا گیا۔ ایکسپرٹس اور عوام کی رائے رکارڈ کی گئی۔ معاملے کے مختلف پہلووں پر غور وخوض کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے ایک ریفرینڈم بھی کروایا گیا جس میں انسانوں کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین روبوز اور کچھ تحقیقاتی مراکز کے تکنیکی عملے کو بھی رائے دینے کا برابر حق دیا گیا تھا۔ ماہرین کا ایک طبقہ اس سارے معاملے کو مصنوعی ذہانت اور روبو کلچر کے غلبے کے خلاف پنپتے احتجاجی رجحان کے ساتھ بھی جوڑ رہا تھا۔ حتمی فیصلہ ٹاؤن کی مرکزی میڈیکل کونسل کو کرنا تھا جس کی گورننگ باڈی میں انسانوں کی تعداد اور قدر کچھ زیادہ تھی۔

تین ماہ کی طویل مدت کے بعد جب سارا اور سمیر کی درخواست کچھ شرائط کے ساتھ قبول کر لی گئی تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اس رات ان کے فلیٹ اورجسم و جاں میں مسلسل چراغاں رہا۔

ذہنی اور جسمانی اذیتوں سے اٹا انتالیس ہفتوں کا یہ طویل اور تھکا دینے والا سفر سارا نے محض اس فنتاسی کے سہارے تکمیل کو پہنچایا تھا جو ایک روز حقیقت کی صورت لے کر اس کی جھولی میں گرنے والی تھی۔ اس دوران وہ پوری طرح عہدِ وُسطیٰ کی کسی رومانٹک ماں کے رول میں ڈھل چکی تھی۔ اپنے مضبوط ارادوں اور ممکنہ خطرات سے متعلق پیشگی آگاہی کے باوجود عملاً جب اس کا سامنا اس دشوار گزار وادی کی ہیبت ناکیوں سے ہوا تو وہ اس قدر ہراساں ہو گئی تھی کہ ایک بار تو پچھتاوے اور بے وقوفی کے بھاری احساس تلے دب کر وہ اپنا ارادہ ترک کرنے کے کگار تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن پھر سمیر کے ساتھ نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور وہ آگے بڑھتی گئی۔ اور اب اس پڑاؤ تک آ پہنچی تھی جہاں زندگی اپنی بقا کی تلاش میں مری جاتی تھی۔

اس کا بدن شل تھا اور ذہن ماؤف۔ ماضی، حال، مستقبل، ساری منصوبہ بندی، سارے خواب، فنتاسی، نو ماہ کی پر تعیش اذیت، امید بھری جدو جہد، سب کچھ اس کے ذہن سے محو ہو چکا تھا۔ اس کے ایک جانب اس کے ماضی کا لاشہ بے حس و حرکت پڑا تھا اور دوری طرف مستقبل کا بے جان ڈھانچہ اور وہ حال کے اژدہے کے جبڑوں میں پھنسی کسمسا رہی تھی جہاں سے آگے پیچھے کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔

کم وبیش گھنٹہ بھر کے اس عرصے میں سیکڑوں بار اس کا وجود حیات و ممات کے دو متضاد لیکن لازم و ملزوم پاٹوں میں لخت لخت ہوا تھا۔ کلاک کے مطابق بھلے ہی یہ وقت منٹوں اور ثانیوں کے حساب سے کٹا ہو لیکن اس کے بھیتر کئی یگ گزر چکے تھے۔

طبی اعتبار سے اگرچہ ہر چیز نارمل چل رہی تھی۔ تمام معیاری اور مقداری سمولیشنز میں مطلوبہ یکسانیت موجود تھی، لیکن پھر بھی اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس ہونے کی وجہ سے تمام ڈاکٹرز، منتظمین، روباکٹرز اور عوام ہلکی سی تشویش اور بے یقینی کا شکار تھے۔ سب کی نظریں سارا کی پل پل متغیر صورتِ حال کو درشاتی سکرینوں پہ جمی تھیں۔

بے بسی کی تصویر بنی وہ لگاتار پیڑھا کے سمندر میں ہچکولے کھائے جا رہی تھی۔

یک بارگی اسے لگا جیسے کسی نے کسی بہت اونچے پہاڑ کی چوٹی تک لے جا کر اسے نیچے گہری کھائی میں پھینک دیا ہو۔ لمحہ بھر کے لئے جیسے سب کچھ شانت ہو گیا! اس کا وجود، اس کی سانسیں، اس کی دھڑکنیں، درد کا احساس۔۔۔ سب موقوف! کائنات گویا یک لخت بھڑک کر بجھ گئی ہو! پھر اچانک ایک چیخ ابھری۔۔۔ شاید اس کے اپنے اندر سے۔۔۔ یا شاید کہیں باہر سے۔۔۔ اس کو اندازہ نہیں ہوا، البتہ اس کا، اپنے زندہ ہونے کا یقین لوٹ آیا۔ تسکین کے ایک سائے نے، ہلکے سے، اس کے پورے وجود کو ڈھانپ لیا۔

اس نے آنکھیں کھولیں۔ کسی نے تسکین کا وہ برہنہ سایہ اس کے عریاں سینے کے ساتھ چمٹا رکھا تھا۔

اس کے جسم میں آکسی ٹوسن (oxytocin) کا اُچھال اس قدر بڑھ چکا تھا کہ سامنے سکرین پوری کی پوری ہری دکھائی دے رہی تھی۔

اگلے چند لمحوں میں فیملی پلاننگ مرکز میں ایک ارب کے قریب ایسی درخواستیں موصول ہو چکی تھیں جن میں ‘اپنا بچہ آپ’ پیدا کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا

ہلکی بارش کے بعد ہوا میں کچھ خنکی آ گئی تھی لیکن فضا میں موجود خوف و ہراس بدستور اپنے ابال پر تھا۔ بازار، گلیاں، سڑکیں، چوراہے، ہر جگہ وحشت برس رہی تھی۔

ابھی تک،علاقے میں بیماری کی موجودگی کی کوئی مصدقہ اطلاع تو نہیں تھی لیکن ڈر اور خدشات نے ماحول کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ لاک ڈاؤن واحد دستیاب ہتھیار تھا جس کا دنیا بھر میں استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ لوگوں کے کھلے عام میل جول کو ختم کر کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا یا کم سے کم کچھ کم کیا جا سکے۔ پہلے درمیانی نوعیت کی پابندیوں اور اب سخت قسم کے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے تقریباً سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا۔ سکول، پارک، دکانیں، ٹریفک، سب کچھ بند، یا بہت محدود کر دیا گیا تھا۔

“صاحب آگے تک لے چلو۔۔۔” میں نے سلانی پولیس ناکے پر گاڑی روکی تو دس گیارہ سال کا ایک لڑکا دوڑتا ہوا پاس چلا آیا۔

“سر، ہو سکے تولے جاؤ اس کو، سالا صبح سے در بدری کر رہا ہے، اتنی بار بھگایا ہے لیکن پتہ نہیں کس مٹی کا بنا ہے، پھر آ جاتا ہے۔ ڈنڈے کا بھی کوئی اثر نہیں کم بخت پر” وہاں کھڑے پولیس والے نے اس کی برائی بھی کر دی اور سفارش بھی۔

گورا، دبلا پتلا سا لڑکا دیکھنے میں تیز طرار لگتا تھا، لیکن شاید اُتنا تیز تھا نہیں۔ سفیدی مائل نیلے کُرتے پاجامے میں ملبوس وہ بالکل چپ چاپ، سِمٹا سِمٹایا سا، سامنے والی سیٹ پر بیٹھا رہا۔ سمجھ دار دِکھنے کے چکر میں، یا شاید شرم اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے، میکانکی انداز میں بیٹھا، وہ لگاتار سامنے دیکھے جا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اپنی حرکات و سکنات کو ڈسپلن میں رکھنے کے لئے وہ سخت احتیاط برت رہا ہو کہ کہیں کوئی بچگانہ یا اوچھی حرکت نہ سرزد ہو جائے۔

دو چار کلو میٹر چلنے کے بعد میں نے، بوریت سے بچنے کے لئے، ریڈیو آن کر دیا۔گو وہ مسلسل اپنی ناک کی سیدھ میں دیکھتا جا رہا تھا لیکن اس کی ساری توجہ میری طرف تھی، میرے ہر فعل پہ اس کی نظر تھی۔ہلکی سی جنبش کے ساتھ، تقریباً کنکھیوں سے، اس نے اِنفوٹینمنٹ سکرین کی جانب دیکھا اور جوں کا توں بیٹھا رہا۔ ایک پل کے لئے مجھے وہ کوئی جاسوس لگا۔ ریڈیو پر خبریں چل رہی تھیں۔ وہ بڑے انہماک سے سنتا رہا جیسے سب سمجھ رہا ہو۔ خبروں کے بعد گانے بجنے لگے تو اس نے پھر ایک ترچھی نظر سکرین پر ڈالی۔ چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ موسیقی اُسے پسند ہے، لیکن کچھ بولنے یا کوئی ردِ عمل ظاہر کرنے سے اس نے گریز کیا۔

میں، روا روی میں، اُسے بٹھا تو لایا تھا لیکن اپنی بے وقوفی پر اب اندر اندر پچھتا رہا تھا۔ احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ کسی انجان سے کوئی ربط نہ رکھا جائے۔ کیا معلوم کون کس وقت کسی بیمار سے مل کر آ یا ہو اور اب، جانے انجانے میں، ہر ملنے والے کو وائرس کی سوغات بانٹتا چلا جا رہا ہو۔

تھوڑی دیر بعدمیں نے میوزک آف کر دیا۔ لڑکا کوئی رد عمل دیے بغیر متواتر وِنڈ سکرین کے پار دیکھتا رہا۔
“ہاں بھئی کہاں جانا ہے تمھیں؟ ” میں نے بے رخی سے پوچھا۔
“صاحب آپ نے کہاں تک جانا ہے؟” اس نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد پہلی بار لب کھولے۔
“مجھے تو شہر جانا ہے۔۔۔تمھیں؟” میرے لہجے کی ترشی برقرار تھی۔
“میں بھی شہر جاؤں گا صاحب!”
“کیوں جارہے ہو شہر؟ حالات کا کچھ اندازہ نہیں تمھیں؟ پتہ نہیں کہ ہر جگہ لاک ڈاؤن لگا ہے۔”
“صاحب مجبوری تھی، بہت ضروری جانا پڑ گیا۔ماں کی دوائی ختم ہو گئی ہے۔ وہ بیمار ہے” وہ کچھ سہما سہما، لیکن اوتاولا سا بولتا گیا۔
بیماری کا نام سن کر میری چڑچڑاہٹ تشویش میں بدل گئی۔
“کیوں۔۔۔ کیا ہوا ہے” دل چاہا کہ فوراً گاڑی روک کر اسے باہر نکال دوں،لیکن میں نے ضبط سے کام لیا۔
“انھیں گھٹنوں میں درد رہتاتھا، اب بہت زیادہ ہو گیا ہے۔اب۔۔۔اب وہ چل پھر بھی نہیں سکتیں” اس نے کسی بڑے انسان کی طرح قدرے فکر مندی کے ساتھ کہا۔

میں نے کچھ سکھ کا سانس لیا۔ دل میں بِسورتے غصے اور خفگی کا رخ اب اس کی بجائے اس کے ماں باپ کی طرف مڑ گیا۔
“کوئی اور نہیں تھا تمھارے گھر میں، کوئی بڑا ۔”
“نہیں صاحب بڑی بہن کو چوہدریوں کے بیل نے مار کر زخمی کردیا ہے۔ اور بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں۔”
“اور تمھارا باپ؟”
“وہ نہیں ہیں۔ پچھلے سال بس کاایکسیڈنٹ ہوا تھا نا، شہر سے آتے ہوئے، اس میں مارے گئے تھے” اس نے کسی خاص تاثر کے بغیر، کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئےکہا۔

میں نے سوچا جب تک آگے کہیں،کسی بہانے، اُسے گاڑی سے اُتار دوں، کیوں نہ اس کے ساتھ ٹائم پاس کیا جائے۔
“پڑھتے ہو؟” اسےباتوں میں لگائے رکھنے کے لئے میں نے پوچھا۔
“ہاں سر جی” وہ ‘ صاحب’ سے اچانک ‘سر’ پر آ گیا۔
“کِس کلاس میں؟”
“سِکستھ میں سر جی”۔
” تمھیں پتہ ہے دنیا میں خطر ناک بیماری پھیل رہی ہے۔”

“جی سر جی،بہت خطر ناک بیماری ہے۔انگلینڈ میں، نیوزی لینڈ میں، اٹلی میں سب جگہ پہنچ گئی ہے۔ اور سر،سب سے زیادہ لوگ امریکہ میں مر گئے ہیں اس کی وجہ سے” میرے لہجے میں درآئی نرمی کو بھانپ کر وہ کُھل کر بولنے لگا تھا۔

“واہ بھئی تم تو بڑے اپڈیٹڈ ہو!” میں نے تعریفی سے زیادہ طنزیہ لہجے میں کہا۔

پتہ نہیں وہ اِسے تعریف سمجھا یا طنز لیکن کچھ شرما سا گیا اور گالوں پر اُبھری لالی، دبی دبی سی مسکراہٹ میں گھل مل کر اس کے چہرے پر پھیل گئی۔ لیکن پھر فوراً چہرے کے بھاؤ سنجیدہ بنا کر وہ ایک دم نارمل ہو گیا۔
“امیر ملکوں میں زیادہ پھیل رہی ہے سر جی۔”
“اوہوں ں ں!”

دنیا کو تیزی سے اپنے چنگل میں کھینچتے جا رہے کورونا اِنفیکشن نے امیر غریب، مرد عورت، چھوٹے بڑے، مشرقی مغربی، کالے گورے، سب کو دہشت زدہ کر رکھا تھا۔ اب تک لاکھوں جانیں جا چکی تھیں اور ہر گزرتا دن مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کرتا جارہا تھا۔ ایک وائرس نے انسان کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔ لڑکا کم عمر تھا لیکن اس ساری صورت حال سے آگاہ تھا۔

” اور اس کی کوئی دوائی بھی نہیں ہے سرجی۔”
” یہ تمھیں کس نے بتایا؟”
“دادی نے بتایا سر جی” وہ اب بلا جھجک بولنے لگا تھا۔
” انھیں کس نے بتا دیا؟” میں نے روکھے پن سے پوچھا۔
“شاید ماسٹر جی نے بتایا ہو۔۔۔” اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا”۔۔۔۔۔ماسٹر جی سکول بند ہونے سے پہلے ایک دن ہمارے گھر آئے تھے تب شاید انھوں نے دادی کو اور ماں کو بھی بتایا ہو گا کہ اس کی کوئی دوائی نہیں ہے۔”
“اچھا!”
“جی سرجی۔ دادی کہتی ہیں یہ بیماری دوا سے نہیں دعا سے جائے گی۔”
“اوہوں۔۔۔ !”
“وہ سب کے لئے دعا کرتی ہیں۔”
”اچھا!”

ہوا کچھ تیز ہو گئی تھی اور آسمان صاف ہوتا جا رہا تھا۔ چاروں اور چھائے بادل اب تقریباً چھٹ چکے تھے۔ کہیں کہیں سڑک پر نمی برقرار تھی جس کی وجہ سے وہ گریفائٹ جیسی سیاہ دکھائی پڑتی تھی۔ میں نے گاڑی کے شیشے مزید اوپر کرلئے، رفتار ذرا سی بڑھا لی اور ڈرائیو کا لطف لینے لگا۔ سڑک کے دونوں اطراف کی فضا اب بالکل صاف ہو گئی تھی۔ اتنی صاف کہ سامنے برف سے لدی پیر پنجال کی چوٹیاں اور ڈھلانیں بہت واضح اور قدرے پاس نظر آر ہی تھیں۔ آس پاس کے گاؤں محلے بارش کی پھواروں کے بعد اور بھی خوب صورت دِکھنے لگے تھے۔ لوگ گھروں سے باہر نکلنا مناسب سمجھتے تھے نہ محفوظ اس لئے ٹریفک بھی زیادہ نہیں تھا۔لمبے وقفے کےبعد کوئی اکا دکا گاڑی دیکھنے کو مل جاتی تو مل جاتی، ورنہ زیادہ ترسڑک خالی تھی۔

“سر شہر میں تو بیماری نہیں آئی ناں؟”
” ابھی تک تو نہیں” میں نے بےدلی سے جواب دیا۔
” دادی شہر کے لئے بھی دعا کرتی ہیں ۔”
“اچھا۔۔۔”
“آپ کے گھر میں کون کون ہے سرجی؟” وہ حد پھلانگنے لگا تھا۔
میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی تو اس نے اپنی جھینپ چھپانے کے لئے اگلا سوال داغا۔
“سر تیل مہنگا ہو گیا ہے کیا؟”
“کون سا تیل؟”
“یہی پیٹرول، سرجی ”
” اچھا، ہاں۔۔۔۔ مگر تمھیں اس سے کیا لینا دینا بھئی۔۔۔اور تمھیں یہ اتنی خبریں دیتا کون ہے؟”
”نہیں سر جی۔۔۔۔”وہ پھر کچھ شرمندہ سا ہو گیا “۔۔۔۔یہ پولیس ناکے پہ جہاں سے میں آپ کے ساتھ آیا ہوں نا، وہاں پولیس والے آپس میں بات کر رہے تھے” اس نے صفائی پیش کی۔
“یہ سڑک اب اچھی ہو گئی ہے سر۔ پہلے اس میں بھی بہت کھڈے تھے، ہمارے گاؤں کی سڑک کی طرح” اس نے موضوع بدلا۔
“تمھارے گھر تک سڑک جاتی ہے۔”
“نہیں سرجی، سکول تک جاتی ہے۔ مکتب تک بھی ہے۔ہمارا گھر تھوڑا اوپر پڑ جاتا ہے، سڑک سے تھوڑا ہی دور ہے۔”
میرا کوئی ردعمل نہ پا کر کچھ دیر کے لئے وہ بھی چپ ہو گیا۔

“سر اگر یہ بیماری نہ رکی اور ایسے ہی بڑھتی رہی تو کیا ہو گا؟” تھوڑی دیر بعد اس کے اندر کا باتونی جن پھر کلبلایا۔لیکن اُس کے اِس سوال کا تو میرے پاس واقعی کوئی جواب نہیں تھا۔
“نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا۔کچھ عرصے بعد یہ بیماری بھی ختم ہو جائے گی، اس کی ویکسین آ جائے گی” میں نے پیچھے سے آرہی ایک تیز رفتار گاڑی کو سائڈ دیتے ہوئے بہر حال اس کو کچھ نہ کچھ جواب دے دیا۔
“لیکن سرجی تب تک کتنے لوگ مر جائیں گے نا!” لڑکا باتونی بھی تھا اور اپنی عمر سے زیادہ سیانا بھی۔
“ہاں وہ تو ہے۔”

سڑک کے دونوں اطراف ایستادہ چیڑ اور بلوط کے چھتنار پیڑوں کے ساتھ دھوپ کی اٹکھیلیاں جاری تھیں لیکن ہوا میں کچھ خنکی ابھی بھی برقرار تھی۔ لمبے گھنے پیڑوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایکسیلیریٹر پر میرے پاؤں کا دباؤ غیر شعوری طور پر ہلکا ہوتا چلا گیا۔ گاڑی کی رفتار کافی کم ہو گئی تھی۔ لیکن چھوٹا سا یہ جنگل کچھ منٹوں میں ہی ختم ہو گیا اور اگلے موڑ کے فوراً بعد سڑک ایک کشادہ سے چوک میں بدل گئی۔

چوک میں کچھ دکانیں اور ایک آدھ ریستوران کھلا تھا جہاں لوگ تقریباً معمول کے مطابق آ جا رہے تھے۔ اکا دکا افراد نے ماسک پہن رکھا تھا یا مفلر،گمچھے وغیرہ سے منہ لپیٹ لیا تھا لیکن زیادہ تر لوگ ایسے کسی احتیاطی تکلف سے آزاد تھے۔ سامنے مسجد سے متصل چھوٹے سے پہاڑی جھرنے پر دو تین لوگ وضو کر رہے تھے۔ شاید لاک ڈاؤن میں کچھ ڈھیل دی گئی ہو گی تاکہ لوگ ضروری خریداری کر سکیں۔

قوس کی شکل بناتی دکانوں کی قطار کے سامنے کا احاطہ پارکنگ ایریا کے طور پر استعمال میں تھا جس میں ایک آدھ گاڑی، ایک سائکل اور کچھ موٹر سائکل لگے تھے۔ ایک دکان کے سامنے میں نے گاڑی پارک کر دی۔

آہستگی سے دروازہ کھولتے ہوئے لڑکا گاڑی سے باہر نکلا اور ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اسی دوران اذان کی آواز آئی تو وہ گھوم کر مسجد کی طرف دیکھنے لگا۔
“نماز پڑھتے ہو؟” گاڑی لاک کرتے ہوئے میں نے اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے پوچھا۔
“جی”اس نے فوراً جیب سے ایک ٹوپی نکالی اور سر پر پھیلا لی۔
” چائے پیو گے؟۔۔۔آ جاؤ پہلے چائے پی لیتے ہیں پھر پڑھ لینا” ریستوران کی طرف بڑھتے ہوئے میں نے فارمیلٹی کے لئے کہا۔
“نہیں سر جی، میں نہیں پیوں گا۔۔۔آپ پی لیں۔۔۔ میں تب تک نماز پڑھ کے آ جاتا ہوں”
میں اسے یہیں ڈراپ کرنے کا من بنا چکا تھا اور مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ میرا یہ کام اس نے خود ہی آسان کر دیا۔
”ایک کپ، لیکن ذرا جلدی” میں نے چائے کا آرڈر دیا۔
چائے اچھی تھی۔ میں نے گاڑی سے فلاسک نکال کر چائے والے کو دی اور دو کپ چائے اور بنا کر اس میں ڈالنے کے لئے بول دیا۔

پل بھر کے لئے میرا ذہن لڑکے کی مجبوری اور گاڑیوں کی عدم دستیابی کی طرف چلا گیا۔لیکن پھر میں نے سوچا کہ اسے کوئی اور لفٹ مل جائے گی۔ جیسے یہاں تک میں لے آیا، آگے کوئی اور لے جائے گا۔ “۔۔۔ویسے بھی مجھے اس کا کوئی ٹھیکہ نہیں ہے” میں نے فیصلہ کن انداز میں سوچا۔
” بن جائے تو گاڑی میں دے دینا، تھوڑا جلدی کرنا” میں نے چائے کے پیسے دیے اور دکان سے باہر آگیا۔

باہر ہوا کچھ تیز چل رہی تھی۔ میں ٹہلتے ٹہلتےجا کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور چائے والے کا انتظار کرنے لگا۔
“سر جی۔۔۔ ایک منٹ رُکیں گے آپ” لڑکا جانے کہاں سے بھاگتا ہوا آ یا اور گاڑی کے ساتھ تقریباً چپک کر کھڑا ہو گیا۔
” کیوں بھئی پڑھ لی نماز؟، اتنی جلدی؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں پڑھ لی۔۔۔لیکن تھوڑا سا ابھی۔۔۔آپ رُکیں گے؟” اس کی آواز میں لجاجت تھی۔
“بولو کیا بات ہے؟ نماز پڑھ چکے ہو تو آؤ بیٹھو گاڑی میں” ظاہر ہے میں نے رسماً کہا کیوں کہ اسے ساتھ لینے کا میرا کوئی ارادہ تھا نہیں۔
“وہ۔۔۔۔تھوڑی سی دعا ابھی اور کرنا تھی مجھے۔۔۔۔”وہ کچھ ہچکچاتے ہوئے بولا۔
“کیوں، نمازمیں دعا نہیں کی؟”
“نہیں نہیں سرجی۔۔۔۔ وہ۔۔۔وہ میں نے اپنے لئے دعا کی، آپ کے لئے بھی کی۔۔۔پورےملک کے لئے بھی کی لیکن۔۔۔۔”
“واہ بھئی کیا بات ہے۔”
“نہیں۔۔ وہ۔۔۔وہ۔۔۔ امریکہ کے لئے اور اٹلی کے لئے دعا کرنا بھول گیا۔۔۔ابھی سب سے زیادہ بیماری وہیں پھیلی ہے نا اس لئے۔۔۔م میں کر کے آ جاؤں؟” اس نے پھر بڑی عاجزی کے ساتھ کہا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کے انتظار میں وہیں بندھا رہا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوڑتا ہواواپس آ گیا اوردھیرے سے کار کا دروازہ کھول کر، سمٹتے ہوئے، میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
“چلو سرجی!” اس کے نوخیز چہرے پر بے پناہ اطمینان تھا۔
اُسے دیکھ کر، لمحہ بھر کے لئےہی سہی، مجھے لگا جیسے دنیا سے اس جان لیو ا وائرس کا خاتمہ شروع ہو چکا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرد سے اٹے اوراق
اس نے مین چوک میں پہنچ کر جیب سے پرچی نکالی اور فہرست پر ایک نظر ڈالی۔
“یہ۔۔۔یہ اِدھر ملے گا۔۔۔اس کے لئے وہاں جانا ہو گا۔۔۔یہ بھی وہیں ہو گا، یہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔ یہ بھی ہو جائے گا۔۔۔”اس نے ایک ایک چیز پر سوچتے ہوئے نشان لگائے اور کمر کس لی۔
دھوپ تیز تھی، کہ جِلد کو چیرتی ہوئی ہڈیوں میں کھُب رہی تھی۔
۔۔۔کیمِسٹ شاپ، الیکٹرانکس سٹور، سبزی منڈی،کریانہ سٹور،۔۔۔۔
اس کا درمیانے سائز کا تھیلا تقریباً بھر چکا تھا۔

“چلو یہ سب تو ہو گیا۔۔۔” اس نے بیگ بینچ پر ایک طرف جمایا اور چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوئے پھر پرچی نکال لی۔”۔۔۔لیکن سب سے ضروری چیز تو ابھی لینی ہے۔۔۔ اگر آج بھی یہ رہ گئی تو شبیب کی رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہو جائے گی۔۔۔ویسے بھی اس کی بات نہ ہوتی تو کون دھول پھانکتا ،اس گرمی میں اپنے آپ کو بھوننے نکلتا۔۔۔”
تھوڑی دیر بعد وہ بازار میں اپنی پرانی پسندیدہ جگہ، سٹیشنری سٹریٹ میں تھا۔

چُبھتی ہوئی گرمی اور اُمس کے باوجود یکایک اسےایک گونہ راحت کااحساس ہوا۔ اسے لگا جیسے شہر کا شور پیچھے رہ گیا ہو اورسامنے الفاظ کی ایک خاموش مملکت اس کے استقبال کو کھڑی ہو۔مارکیٹ میں دونوں جانب کتابوں کی چھوٹی بڑی کئی دکانیں یوں آراستہ تھیں گویا سارا ماحول علم کی روشنی میں جگمگا رہا ہو۔ مدتوں بعد آج اس طرف آنا ہوا تھا، بلکہ اسے تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں آرہا تھا کہ آخری بار کب وہ یہاں آیا تھا۔

ایک بڑی سی، صاف ستھری دکان کے سامنے وہ رک گیا۔

شفاف شیشوں کے پیچھے وسیع ہال میں، الگ الگ سیکشنوں کے تحت، الماریوں، میزوں، ریکس اور فرش پر، قرینےسے کتابیں رکھی تھیں۔ کسی زمانے میں وہ دکان کے چپے چپے سے واقف تھا، لیکن اب ترتیب بدل چکی تھی۔

اس نے کاونٹر پر بیٹھے شخص کے چہرے میں شناسائی ڈھونڈھنے کی ہلکی سی کوشش کی، لیکن سوائے میکانکی استقبالیہ اشارے کے کچھ ہاتھ نہ لگا۔

“اردو رائٹنگ پریکٹس بک چاہئے؟”

بھیڑ کوئی زیادہ نہیں تھی پھر بھی دکان دار نے اسے سنا ان سنا کر دیا۔اس نے آگے بڑھ کرکچھ کتابوں، رسالوں کو دیکھا، الٹا پلٹا اورتھوڑے توقف کے بعد پھر دکان دار کی جانب مڑا:
“اردو رائٹنگ بک۔۔۔؟”
دکان دار نے غور سے اس کو دیکھا۔
“نہیں ہے”
“نہیں ہے۔۔۔؟”اسے حیرت ہوئی۔

“۔۔۔ اتنی بڑی، پرانی اور مشہور دکان اور ایک عام سی، چھوٹی سی کتاب موجود نہیں۔۔۔” نظر گھما کر اس نے خود ڈھونڈھنے کی کوشش کی ، ممکن ہے دکاندار ٹھیک سے سمجھا نہ ہو۔

بچوں کی کتابیں تو موجود تھیں لیکن اس کی مطلوبہ کتاب واقعی سامنے کہیں دکھائی نہ دی۔
“سر ،چھوٹے بچوں کی ۔۔۔ لکھنے کے لئے ۔۔۔” اس نے وضاحت کی۔

” بولا نا نہیں ہے۔۔۔اردو والی نہیں ہے” دکان دار اُسی روکھائی سے بولا اور دوسرے گراہک کی طرف متوجہ ہو گیا۔
“۔۔۔یہ تو اے سی میں بیٹھا ہے ، کاروبار بھی ٹھیک ٹھاک ہے، پھر کیوں اتنا اُکھڑا ا کھڑا سا ہے۔۔۔خیر سب کے اپنے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔۔۔۔” وہ چپ چاپ دکان سے باہر آگیا۔

باہر گرمی جوں کی توں تھی، جسے تھوڑی دیر کے لئے وہ بھول گیا تھا۔

“کیا زمانہ تھا۔۔۔” وہ ناسٹیلجِک ہو گیا۔ یونی ورسٹی کے دنوں میں تقریباً ہر روز وہ یہاں آیا کرتا تھا۔ شاید ہی گلی میں کوئی دکاندار ہوجس کے ساتھ اس کی علیک سلیک نہ رہی ہو گی۔کتنی کتابیں اس نے دکانوں میں کھڑے کھڑے پڑھ ڈالی تھیں اور مجال ہے کبھی کسی دکان دار نے بھنویں چڑھا کر اسےگھورا ہو۔

“۔۔۔ وہ لوگ باذوق اور وسیع المطالعہ ہوا کرتے تھے ۔۔۔ بزنس کے ساتھ ساتھ علم دوستی اور تربیت کا بھی جذبہ رکھتے تھے ۔۔۔ خوش اخلاق تھے، پڑھنے والوں کی قدر کرتے تھے ۔۔۔ کیا لوگ تھے وہ۔۔۔ بڑے دل، بڑی سوچ، بڑے لوگ ۔۔۔ آہ سب رخصت ہوگئے۔۔۔”

دوسری دکان بھی ساتھ ہی تھی۔ وہ نکلتے ہی اس میں گھس گیا لیکن وہاں بچوں کی کتابیں نہیں تھیں، سو وہ کچھ پوچھے بتائےبنا دکان سے نکل آیا۔ اگلی دو تین دکانیں وہ قصداً چھوڑ کر ایک سٹیشنری کی دکان میں داخل ہوا۔

“ہوں ں ں ، بچوں کی کتابیں تو یہاں ملیں گی” ایک معصومیت سی اس کے اپنے چہرے پر بھی عود کر آئی۔
“ایک اردو رائٹنگ پریکٹس بک اور ایک اردو پرائمر” اس باراس نے ایک کتاب اور ساتھ جوڑ لی
چیونگم چباتے لڑکے نے، سکرین سے نظر اٹھائے بغیر، نفی میں سر ہلا دیا۔
” نہیں ہے؟؟؟” اُسے یقین نہیں آیا۔
“لوگ کم مانگتے ہیں نا”
“اس گرمی میں اتنے دور سے آ رہا ہوں بھائی ۔۔۔کہیں سے منگوا ہی دو” ا س نے درخواست کی۔

“مشکل ہے سر، آج کل اردو پڑھتا کون ہے۔۔۔ہندی چاہئے تو مل جائے گی۔۔۔ڈوگری والی بھی مل جائے گی۔۔۔”
“اردو والی چاہئے تھی”
“گرافک ٹیبلیٹ دکھا دوں؟۔۔۔ ویسے بھی تختی، سلیٹ اور کاپیوں پہ اب کون لکھتا ہے”
“بیٹے ہاتھ کی لکھائی اپنی جگہ ہے، اس کا کوئی سبسٹی ٹیوٹ نہیں”
“اوہو۔۔۔ڈونٹ بی سینٹی مینٹل، انکل”

وہ بھِڑنے کی بجائے ایک بار پھر بنا کچھ خریدے دکان سے باہر آ گیا ” ۔۔۔یہ لونڈے دن بدن بدتمیز ہوتے جارہے ہیں۔۔۔”
اگلی دکان تھوڑے فاصلے پر تھی۔

جگہ جگہ کُھدی ہوئی سڑک اور بنتی، مسمار ہوتی عمارتوں سے اٹھتا گرد وغبار چلنے والوں کا حلیہ بگاڑ دیتاتھا۔
“اردو پرائمر اور اردوپریکٹس بک پلیز ۔۔۔ایک ایک کاپی”
دکان دار نے اوپر سے نیچے تک اُسے دیکھا
“دیکھو بھئی اردو والے آئے ہیں۔۔۔”
وہاں موجود ایک آدھ گراہک اور دکان میں کام کرنے والے لڑکوں نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔

” ۔۔۔وہ تو اب ختم ہو گئی ‘صاحب’۔۔۔ویسے بھی آج کل بچے اردو کیوں پڑھیں گے۔۔۔؟” بات میں استفہام سے زیادہ استعجاب، اور اس سے زیادہ استہزا تھا۔
“دیکھیں کہیں کوئی کاپی بچی ہو تو۔۔۔؟”
” نہیں ہو گی صاحب” دکان دار نے ‘صاحب’ پر پھر خاصا زور دیا۔
“ہندی لے لیجئے نا۔۔۔” اسے دکان سے جاتے دیکھ کر ایک لڑکےنے آواز لگائی۔
“ہندی والی ہے بیٹے۔ میرا بیٹا اردو پڑھنا چاہتا ہے” اس نے پلٹ کر جواب دیا۔
“پھر اسے مسجد بھیجا کریں انکل” لڑکے نے ہنستے ہوئے کہا۔
وہ بنا کوئی جواب دیے باہرنکل آیا۔

باہر دھول ،گرمی، امس ،سب اپنے جوبن پر تھے۔
اس نے سوچا یہ ایر کنڈیشنڈ دکانوں اور آگ اگلتی گلی کے درمیان اس تواتر اور سرعت سے آوا جائی کہیں اسے”بیمار نہ کر دے، اس لئے۔۔۔” لیکن پھر ننھے شبیب کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے آ گیا۔ “اب نکلا ہوں تو لے کر ہی جاؤں گا۔”

“اردو پریکٹس بک” اس بار اس نے ایک کاغذ پر لکھ کر کاونٹر پر رکھا۔
“یہ؟۔۔۔یہ تو نہیں ہے ۔۔۔لیتا ہی کوئی نہیں، اس لئے آتی نہیں اب۔۔۔ ” ادھیڑ عمر دکان دار نے پرچی واپس دیتے ہوئے نرمی سے جواب دیا۔

سورج افق کی جانب جھکنے لگا تھا۔ دھوپ کا زور بھلے ہی ٹوٹ رہا تھا مگرفضا میں اُمس بدستور حاوی تھی۔

پارک کے عین سامنے ایک سٹیشنری شاپ دِکھی تو اس نے، سستانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے، آخری کوشش کے طور پر سیدھے اس کی راہ لی۔

رسالوں، کتابوں اور سٹیشنری آئٹمز سے لبالب ٹُھسی ہوئی دکان کسی تنگ گلی کا منظر لگتی تھی۔

“پینسل سیٹ، کلر باکس، ڈرائنگ بک اور اردو پریکٹس بک” اس نے اپڈیٹیڈ پرچی چھوٹے سے کاونٹر پر رکھ دی۔
“باقی سب آ گیا ۔۔۔ یہ نہیں۔” ‘اردو پریکٹس بک’ کے گرد سُرخ پین سے دائرہ بناتے ہوئے، ایک لڑکا کتابوں کے ڈھیر کے پیچھے سے برآمد ہوا۔

“مگر یہ تو ارجنٹلی چاہئے تھی۔۔۔۔باقی نہ بھی ہو تو چلے گا” اس نے اپنی جھنجھلاہٹ دبا کر، متانت سے کہا۔
“یہ تو پھر انکل اب میوزیم میں ملے گی “لڑکے نے کسی رو رعایت کے بغیر جواب دیا۔

وہ بنا کوئی چیز خریدے ایک بار پھر سڑک پر آ گیا۔

“آن لائن ہی منگوانی پڑے گی۔۔۔بےکار میں آدھا دن ضایع کر دیااور اس گرمی میں اپنی بھی حالت خراب کی۔۔۔ ایک گرمی ہو تو انسان برداشت بھی کر لے ۔۔۔اوپر سے یہ گردو غبار، دھول دھواں، ہر طرف بدبو کے انبار،اور یہ شور ۔۔۔بازار گویا آلودگیوں کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے ۔۔۔باہرنکلتے ہی انسان کو ایک بدحواسی گھیر لیتی ہے، جسم ہوش میں رہتا ہے نہ دماغ ٹھکانے پہ۔۔ ۔۔۔اندر رہو تو قدرےعافیت ہے، آرام ہے۔ ۔۔لیکن کوئی کتنا اندر رہے گا آخر، باہر تو نکلنا ہو گا۔۔۔ راشن، سودا سلف، بزرگوں کی دوائیاں، بچوں کی فرمائشیں، نوکری دھندہ ۔۔۔ سب چلانا ہے، باہر نکلنا تو ہو گا ہی” خود کلامی کی رو میں چلتے چلتے وہ ٹیکسی سٹینڈ تک آن پہنچا۔

گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے اس کی نظر ایک پرانی سی، کھوکھا نما سٹیشنری دکان پہ پڑی۔
“اردو پریکٹس بک ملے گی؟” چلتے چلتے ، یوں ہی بے دلی سےاس نے پوچھ لیا
” آخری ہے” بزرگ دکان دار نے ایک کتاب نکال کر، گرد جھاڑتے ہوئے، اس کی طرف بڑھا دی۔
صاف کرنے کے باوجود کتاب کے ٹائٹل پر دھول جمی تھی، ایک کونا پھٹ بھی چکا تھا۔
“کوئی اور کاپی نہیں ہو گی؟”
“بولا نا یہ آخری ہے۔”
“ٹھیک ہے، دے دیجیے۔”
اس کی ساری تھکاوٹ یکایک کافور ہو گئی۔

گھر میں قدم رکھتے ہی، بیٹا اچھلتا ہوا اُس کے پاس آگیا۔ اس نے گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی کتاب ننھےہاتھوں میں تھما دی۔
“واؤ، سو بیوٹی فل۔۔۔۔تھینک یو پاپا۔۔۔”
شبیب نے ریپر پھاڑا، کتاب کھولی اور منہ بنایا.
“۔۔۔بٹ پاپا میں یہ روز روز نہیں پڑھوں گا۔۔۔ویک میں صرف ایک دن، اونلی فرائے ڈے کو ۔۔۔او کے پاپا؟”
اسے لگا جیسے کتاب کے اوراق اچانک گرد بن کر ہوا میں اڑ گئے ہوں۔

باہر گرمی، امس اور گرد وغبار کا قہر جوں کا توں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *