Categories
گفتگو

اُردو صحافت اور نئے نظریات

wajahat
[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود بیکن ہاوس یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے۔ بی بی سی اردو میں لکھنے کے علاوہ مختلف اخبارات میں ادارتی کام کر چکے ہیں۔

[/blockquote]

لالٹین : اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
وجاہت: میرے سات بہن بھائی تھے، سب ماں باپ کے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن میں دادا کے پاس رہتا تھا ۔ وہ پوسٹل اینڈ ٹیلی گرافک سروس میں ملازم تھے۔ میرا تعلق غریب طبقے سے تھا اور مجھے بچوں کے عمومی اشغال میسر نہیں تھے۔ گھر میں موجود علمی دولت کل ملا کر بانگِ درا، شاہنامہِ اسلام اور بہشتی زیور پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بانگ درا کو کمزور کتاب کہہ رہا ہوں لیکن یہ ایسے ہی تھا جیسے کسی نے گھر میں ہرن کا مجسمہ رکھا ہو، بغیر اس کی فنی اہمیت جانے۔ گویا ارد گرد کچھ ایسی مضبوط علمی روایت موجود نہیں تھی۔
لالٹین : بچپن اور لڑکپن میں کون سے تجربات نے شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا ؟
وجاہت: میرے داد ایک مہذب آدمی تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب اُن کی نظر بہت کمزور ہوگئی تو میں اُن کو ’اِمرو ز ‘ اَخبار پڑھ کر سُنایا کرتا تھا۔ اِمروز معیاری زبان و بیان اور عمدہ صحافتی معیار کا حامل اخبار تھا، یہ بھٹو صاحب کا اِبتدا ئی زمانہ تھا۔ پریس ٹرسٹ کا اخبار ہونے کے ناتے امروز کا رجحان ترقی پسندی کی طرف تھا۔ کچھ اثر وہاں سے آیا۔
میری دادی کا ایک بیٹا1947 ءکے فسادات میں مارا گیا تھا اوروہ کبھی کمرے کے اندر نہ سوتی تھیں۔ اُنہیں لگتا تھا کہ انکا بیٹا مرا نہیں اور کسی رات واپس آکر دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ اگر وہ کمرے میں سو رہی ہوں گی تو انہیں آواز نہیں آئے گی Partition riots were a deplorable human experience and a man-made disaster تقسیم کے فسادات کا اِلزام میں کسی ایک مذہبی فرقے پہ نہیں دھرتا۔ جو دُکھ میں نے دادی سے محسوس کیا ،وہ یقینا ہندو اور سکھ ماﺅں نے بھی جھیلا ہو گا۔
میری شخصی تربیت میری پھوپھی نے کی جو ایک نہا یت مہذب اور درد مند خاتون ہیں۔ انہوں نے 42برس تک سکول میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ خود بے حد مذہبی خاتون ہیں لیکن مجھے انہوں نے اخلاقیات کی تعلیم دی۔ میں نے ان کی تربیت کے زیر اثر سب انسانوں سے محبت کرنے کو نیکی سمجھا۔
لالٹین : اَدب اور شاعری کی طرف کیسے مائل ہوئے اور پنجابی شاعری کا تجربہ کیسا رہا ؟
وجاہت: ادب میرے لیے وہ خط ہے جومحاذِ جنگ سے ہم اپنی ماں کو لکھتے ہیں۔ زندگی ایک جنگ ہے اور جس طرح کی زندگی ہم گزارتے ہیں، اسی کا احوال اِس مکتوب میں آئے گا۔ کسی ادبی تخلیق کے معیار کے بارے میں تنقیدی شعور اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی فعل بذات خود ایک قابل احترام تمدنی اور تہذیبی عمل ہے۔
پنجابی شاعری میں نے شعو ری طور پر اختیار نہیں کی۔ کئی برس پہلے اُداسی کے عالم میں مَیں نے کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ لکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو وہ کوئی شاعری نما چیز تھی۔ شاعری کے لیے پنجابی کا انتخاب کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اُردو اَصوات میری نہیں ہیں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ اردو میں کون سا حرف ساکن ہے اور کون سا متحرک۔ میں نثر اردو اور انگریزی میں لکھتا ہوں لیکن شاعری کے لیے پنجابی کو چنا اور اب تو قریب دس برس سے پنجابی شاعری کا دروازہ بھی بند ہے۔ شاید مجھے اتنا ہی کہنا تھا۔
لالٹین : صحافت بطور پیشہ پہلے سے طے شدہ تھا یا حالات اس طرف لے آئے؟
وجاہت: بنیادی فیصلہ تومیں نے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کا کیا تھا۔ دیکھیے معاشرے میں تبدیلی تو آناہے۔ آپ کوشش کریں تو بھی معاشرہ بدلے گا، نہ کریں تو بھی بدلے گا۔ لیکن جب آپ کوشش کرتے ہیں تو آنے والی تبدیلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے کا موثر ترین ذریعہ سیاست ہے۔ مہذب معاشرہ سیاست اور سیاسی کارکن کو قابل احترام سمجھتا ہے۔ غیر جمہوری معاشرے میں سیاست کواحترام اس لیے نہیں دیا جاتاتاکہ ایک خاص گروہ کی اجارہ داری برقرار رہے۔
میری رائے کے مطابق سیاست ذہانت کی اعلیٰ ترین سطح مانگتی ہے اورمیں اپنے بارے میں اس غلط فہمی میں نہیں ہو ں کہ میں اس کی اہلیت رکھتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ ایک نوجوان جو سرے سے وراثت کا قائل ہی نہیں، وہ اپنے والد کی جائیداد تو ایک طرف، والد کے گھر ہی سے چلا جاتا ہے، اُس کے پاس اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں، کوئی سماجی و سیاسی پس منظر نہیں ہے، جو مالی وسائل نہیں رکھتا، وہ انتخابی سیاست میں نہیں جا سکتا۔ یہ طے ہونے کے بعد فطری طور پر دوسرا انتخاب صحافت تھی۔
لالٹین : مالی وسائل اور سیاسی پس منظرکے بغیر ایک عام شخص سیاست میں نہیں آسکتا تو کیا اسے سسٹم کی خرابی کہیں گے؟

شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
وجاہت: نہیں یہ کلی طور پر درست نہیں ہو گا۔ اس میں مجھے بہت سے سچ بولنا پڑیں گے۔ بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مالی وسائل اورسماجی پس منظر نہ ہوتے ہوئے بھی سیاست کی۔ اُس کے لیے جس آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل ہے۔ باچا خاں صاحب، اجمل خٹک، سوبھو گیا ن چندانی اور میجر اسحاق جیسے کتنے قابل احترام سیاسی کردار ہیں جو بہت سادہ پس منظر کے ساتھ سیاست میں آئے لیکن آپ دیکھیں پھر وہ کس کٹھنائی سے گزرے اور کتنا بڑا مقام حاصل کیا۔ یہ صرف نظام کی کمزوری نہیں، میں اپنی کوتاہی بھی تسلیم کرتا ہوں۔
لالٹین : آپ نے ماسٹرز تو انگریزی ادب میں کیا لیکن صحافت میں آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟
وجاہت: آغاز تو میں نے انگریزی ہی سے کیا تھا، مختلف انگریزی اخبارات میں کام کرتا رہا۔ انگریزی میں بہت نفیس صحافت ممکن ہے اور معاشی طور پہ بھی نفع بخش ہے لیکن اردو میں لکھنے کا جو فیصلہ میں نے کیا اس پر مجھے خوشی ہے۔ میں اس ترغیب میں نہیں آیا کہ انگریزی صحافی کو ہمارے ہاں ذرا اشرافیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ بات تو لوگوں تک پہنچنے کی ہے، کام تو بات کو سمجھنے اور سمجھانے کا ہے۔ اس ملک میں گریجویٹ آبادی 2سے 3 فیصد سے زائد نہیں ہے اور اُن میں سے بھی کتنے لوگ انگریزی پڑھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے سارے انگریزی اخبارات کی سرکولیشن ملا کر بھی ایک اردو اخبار کی سرکولیشن کے برابر نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ انگریزی میں بات کہنے کی بہت سی ایسی سہولتیں میسر ہیں جو اُردو میں دستیاب نہیں۔ لیکن اگر ہم نے عوام سے بات کرنا ہے تو ہمیں اُردو اِستعمال کرنا ہو گی۔
لالٹین : اردو اور انگریزی میڈیا میں زبان کے علاوہ کیا بنیادی فرق دیکھتے ہیں؟
وجاہت: حقیقت تو یہ ہے کہ بطورِسماجی اِدارہ ہماری صحافت نے عوام دشمن کردار ادا کیا ہے۔ اُردو صحافت یا مقامی زبانوں میں ہونے والی صحافت نے اس رجحان میں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو تحکمانہ (Authoritarian) معاشرے ہوتے ہیں وہاں پر نظریاتی مفروضات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ میں انہیں مفروضات ہی کہتا ہوں خواہ وہ دائیں بازوکے ہوں یا بائیں بازو کے، مذہب کے نام پہ ہوں یا طبقے کے نام پہ، قومی سلامتی کے نام پہ ہوں یا شناخت کے نام پہ۔
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریز ی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔ میراتو یہ کہنا ہے کہ جو بنیادی فرق ہے وہ زبان کا نہیں ہے وہ صحافت کی حتمی اجتماعی سمت (Ultimate Collective Vector)کا ہے۔ ہماری صحافت کا جو اجتماعی رخ متعین ہوا ہے وہ عوام دشمنی کا ہے، وہ تاریخ کو مسخ کرنے اور سیاسی شعور کو تباہ کرنے کا ہے۔ البتہ ہماری صحافت میں بھی نہایت قابل فخرمستثنیات موجود رہی ہیں ۔ میں آپ کو چند نام جنہوں نے میرے مطابق بڑا کام کیا ہے بتائے دیتا ہوں۔ اس میں اردو یا انگریزی کی تمیز نہیں اور تقدیم وتاخیر کا خیال بھی نہیں۔ چراغ حسن حسرت، ضمیر نیازی، احمد علی خان، نثار عثمانی، مظہر علی خان، رضیہ بھٹی، عزیز صدیقی، خالد حسن، خالد احمد، حسین نقی، آئی اے رحمان اور منو بھائی۔ ان بزرگوں نے اور ان جیسے اور بہت سے صحافیوں نے جن حالات میں اور جس اعلیٰ معیار کا کام کیا، پاکستانی قوم کوان کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔
لالٹین : ہماری صحافت کے عوام دشمن کردار اور اُردو اورانگریزی کی اِس مصنوعی تقسیم میں کون کون سے سماجی اور تاریخی عوامل کارفرما ہیں ؟
پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
وجاہت: بنیادی بات تو سماجی، سیاسی اور معاشی تحکم پسندی (Authoritarianism) کی ہے۔ انسانوں کی اکثریت طاقت کا ساتھ دیتی ہے کیونکہ بہاو کے خلاف تیرنا مشکل ہوتا ہے۔ مزیدبرآں آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے کوئی 110کے قریب دانشور صحافی ایسے تھے جنہیں ضیا الحق نے مکمل بین کر دیا تھا کہ وہ ریڈیو پر نہیں آ سکتے، اخبار میں نہیں لکھ سکتے، ٹی وی پہ نہیں آسکتے، اِ ن کو کسی سرکاری اجتماع میں نہیں بلایا جا سکتا۔ اس خلا کو جن لوگوں سے پُر کیا گیا آج وہ ہمارے مرکزی دھارے کی صحافت کے بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کی Origin بھی معلوم ہے اور معاف کیجئے ان کی اخلاقی قامت بھی کچھ ایسا ریاستی راز نہیں۔
ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میںبارہ سے چودہ کروڑ وہ ہیں جو 1978ءمیں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 1978ءو ہ تاریک برس ہے جب ضیا الحق نے جماعتِ اسلامی کے تعاون سے ہمارے ملک میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کا وہ بیانیہ مرتب کیا تھا جو آج تک رائج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بارہ سے چودہ کروڑ لوگوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، کتاب، نصاب، کمرہ جماعت، سیاسی جلسہ گاہ گویا ہر سمت سے ایک ہی بات سنی ہے۔ جب ہم ان سے کہتے ہیں کہ پاکستان ایک وفاقی، آئینی اور سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ پاکستانی ریاست کا مذہب اسلام سے، جو چودہ سو برس پرانا ہے، جسے پاکستان سے باہر رہنے والے کروڑوں لوگ بھی مانتے ہیں، عقیدے پر مبنی کوئی تعلق نہیں، سوائے اس کے کہ پاکستان میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کی ایک خاص تعداد پائی جاتی ہے، تو لوگ آپ کا منہ دیکھنے لگتے ہیں، ان کو اِس بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
تاہم یہ رائے میں تسلیم نہیں کرتا کہ اردو پس ماندہ ذہنیت کی حامل ہے، بالکل ایسی بات نہیں ہے۔ کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہوتی، ہر زبان میں محبت اور نفرت کی لغت موجود ہوتی ہے۔ احمد مشتاق کا ایک شعر عرض کرتا ہوں۔
زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائے
محبت کی زبان ممتا ز ہے ساری زبانوں سے
ہمارے ہاں تو جتنی بھی روشن خیالی ہے وہ آئی ہی اردو لکھنے والوں کے طفیل سے ہے، تو ہماری اجتماعی ذہنی پس ماندگی کا کسی خاص زبان سے کوئی تعلق نہیں۔
لالٹین : آپ کے خیال میں وہ کون سے جدیدنظریات ہیں جو نہ صرف سماجی طورپر ذمہ دار صحافت بلکہ ذمہ دار سماجی اورسیاسی رویوں کے ضامن ہیں ؟
وجاہت: دیکھیں اس خطے کے رہنے والے لوگوںکا سیاسی و سماجی ارتقا باقی دنیا سے کٹا ہوا تو نہیں ہے، آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ دنیا نشاة ثانیہ (Renaissance) اور روشن خیالی (Enlightenment)کی پیداوار ہے۔ نشاة ثانیہ کے بعد کی دنیا کا علمی منہاج ہی مختلف ہے۔ علم، پیداوار، حاکمیت اور اقدار کے سانچے اب ا سی نئے علمی منہاج سے پھوٹیں گے۔
جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے، سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا یا کیسے بنا؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو چلانا کیسے ہے۔ تو اِس میں میرا یہ کہنا ہے کہ ہمیں سائنسی فکر کو آگے بڑھانا چاہئے۔ ہمیں علم اور پیداوار کو بنیادی اجتماعی اقدار کے طور پر اپنانا چاہئے۔ ہمیں رواداری اور رائے کے اختلاف کو احترام دینا چاہئے۔ اور ایسا کرنا تمام شہریوں کی آئینی اور قانونی مساوات کے بغیرممکن نہیں۔ شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
لالٹین : کیا بنیاد پرستی اور طالبانائزیشن کی تحریک ایسا اختلاف رائے ہے جسے برداشت کیا جا سکے؟
وجاہت: ہر گز نہیں۔ ہم جن اختلافات کو برداشت کرنے کی بات کرتے ہیں وہ ایک آئینی، سیاسی اور تمدنی دائرے میں پرامن طور پر سماجی نقطہ نظر کا اختلاف ہے۔ عقائد، زبان، ثقافت، رہن سہن، سیاسی خیالات اور علمی آرا کا اختلاف ہوتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی بات ہے۔ طاقت اور تشدد کے بل پر معاشرے پر اپنا فہم مذہب اور اپنا ترجیحی سیاسی یا سماجی نمونہ مسلط کرنے کے حامی بنیادی طور پر ایک فسطائی نصب العین رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور وہ دستاویز ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کاباہمی عمرانی معاہدہ ہے، تمام مذاہب کے ماننے والوں، تمام نسلوں اور تمام خطوں کے لوگوں نے اُس پر اتفاق کیا ہے، رواداری اس کا حصہ ہے۔ طالبان سرے سے انسانی حقوق کے بیانیے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ قومی ریاست کی حدود کو نہیں مانتے۔ ہماری آئین اور آئینی اداروں کو نہیں مانتے۔ وہ اپنی رائے کو قوت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ فسطائیت کے ساتھ سمجھو تہ کرنا رواداری کے ذیل میں نہیں آتا، وہ

ظالم کے ہاتھ پر بیعت میں شمار ہوتا ہے۔

تو میرے دست بریدہ کا کنایہ تو سمجھ
یعنی تجھ کو میری بیعت نہیں ملنے والی
لالٹین : انسانی حقوق کے میدان میں آپ کا وسیع کام ہے۔ پاکستان میں اِنسانی حقوق سے متعلق منفی رویے کی حرکیات پر روشنی ڈالیں۔
وجاہت: بات یہ ہے کہ دنیا کی بہت سی دوسری ریاستوں کی طرح پاکستانی ریاست بھی اِنسانی حقوق کو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں پاتی کیونکہ اس سے جو ریاستی ذمہ داریاں جنم لیتی ہےں، وہ اِسے قبول نہیں۔ انہیں تسلیم کرنے کے لیے ہمیں بنیادی ریاستی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ پچھلے ساٹھ، باسٹھ برس میں انسانیت نے جو ترقی کی ہے اس میں بظاہر نادیدہ لیکن نہایت وقیع حصہ انسانی حقوق کے فریم ورک کی طرف بڑھنا ہے۔انسانی حقوق کے معیارات انسانوں کی ہزاروں برس پر محیط جدوجہد کا قیمتی ترین ثمر ہیں اور انسانیت انہیں چھوڑے گی نہیں۔
ہمیں اچھا لگتا ہے کہ طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل رہے اور استہزائیہ ڈھنگ میں سوال کیا جائے کہ ہیومن رائٹس کیا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں انسانی حقوق کا بیانیہ آگے بڑھا ہے، تو اسکی مخالفت کے لیے بھی دلائل اور ہتھکنڈے گھڑے گئے ہیں۔ لیکن میرا ایقان ہے کہ تاریخ کا بہاﺅ انسانی حقوق کے بہتر احترام اور زیادہ آزادیوں کی طرف ہے۔
لالٹین : صحافتی زبان کیسی ہونی چاہیے۔ اپنی تحریروں کی روشنی میں بتائیں؟
وجاہت: صحافت کی زبان خالص اَدبی نہیں ہوتی لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ تھڑے کی زبان بھی تو نہیں۔ کیونکہ اب تو یہ تقاضاشروع ہو گیا ہے کہ آپ زبان کو اتنا آسان کریں کہ وہ تھڑے والے کو بھی سمجھ آجائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا تھڑے والے کے ذہنی شعور کی سطح نصب العین یا معیار ہے یا ہمیں تھڑے والے کو تربیت کرتے ہوئے آگے لے کر چلنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غلط زبان معیار کیسے ہو سکتی ہے۔ میری رائی میں جو بنیادی نکتہ ہمیں سمجھنا چاہےی وہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی شعور کا ایک بہت اہم حصہ انسانی زندگی کی پیچیدگی کو تسلیم کرنا ہے، جب ہم اس پیچیدگی سے جان چھڑاتے ہوئے اسے سادہ بیانیے کے روپ میں سادہ لوحی کی طرف لے کر جاتے ہیں تو ہم پڑھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پیچیدہ مسائل کو سادہ بنا کر پیش کرنے سے کوتاہ نظری اور عقیدہ پرستی جنم لیتی ہے۔
عوام کو نعرہ بہت آسانی سے سمجھ آجاتا ہے، لیکن معاف کیجیے گا نعرہ اکثر و بےشتر گمراہ کن ہوتا ہے۔ میں نے اپنے لیے شعوری طور پریہ زبان چنی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ زبان کو آسان تر کروں لیکن میں خیال کو سادہ کیسے کروں؟ میں خیال کو بھی سادہ کرنے کی کوشش کرتا لیکن میری رائے میں خیال کی حقیقت پسندی اعلیٰ سماجی شعور کی طرف لے کر جاتی ہے۔ خیال بذات خود سماجی شعور کی ایک خاص سطح کی عکاسی کرتا ہے۔ خیال کو سادہ کرنے کا مطلب ہے کہ میں انسانوں کی ذہنی سطح کو پست دیکھنا چاہتا ہوں۔ ’یہ ہم سے نہیں ہو گا‘۔
لالٹین : آپ پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اِس د ہائی کی ترقی سے بخوبی آگاہ ہیں، ایک وسیع تناظر میں اِسکے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریزی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔
وجاہت: کچھ زاویوں سے تو یہ ایک بہت خوشگوار پیش رفت ہے۔ 17اکتوبر 1979ءسے1983 ءکے اس دن تک جب ضیاالحق نے مجلسِ شوریٰ میں آئندہ انتخابات کا اعلان کیا، ہماری صحافت قید و بند، سنسر شپ، عقوبت گاہوں، کوڑوں اوردیدہ و نادیدہ دباﺅ کی جس آزمائش سے گزری، پاکستان کے لوگوں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد صحافت پر ایسا برا وقت کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس میں ہوا یہ ہے کہ ہمارے کچھ صحافی بہن بھائیوں کے جوڑ پٹھے اکڑ گئے ہیں۔ اِس سنسر شپ میں رہتے ہوئے وہ پرواز کا ڈھنگ بھول گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحافت کی آزادی بہت بڑی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اور ذمہ داری علم کے بغیر نبھائی نہیں جا سکتی اور علمی معیار ہمارے ہاں نیچے آیا ہے۔ تیسری بات میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی صحافتی آزادی اس وقت بھی ایک سراب ہے۔ کیونکہ بعض امور پہ بات کرنے کی تو بہت آزادی ہے لیکن بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر اب بھی صحافی، اخبار یا الیکٹرانک میڈیا میں بات نہیں کر سکتا۔
ہمارا ہم عصر صحافی سیاستدانوں کو تو بڑی سہولت کے ساتھ بُرا بھلا کہتاہے۔ سیاسی عمل کی مخالفت میں اسے عار نہیں، جمہوریت کی ساکھ بگاڑنے سے اسے اجتناب نہیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں چار مارشل لا لگانے والی قوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہمارے ملک میں امتیازی قوانین موجود ہیں۔ صحافت اس پر کیوں سوال نہیں اٹھاتی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ جب تک بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا نہیں گیا، پاکستان کے کسی اخبار میں اس کی تصویر شائع نہیں ہوئی۔ خوف کا یہ عالم تھا۔ اب بھی پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
لالٹین : پاکستان کے سیاسی مستقبل میں جمہوریت ہی واحد رستہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں :
وجاہت: بدقسمتی سے ہماری لغت پر غور فرمائیے۔ ہم کہتے ہیں، ”ہم نے 2008ءمیں جو جمہوری تجربہ شروع کیا“ تو عرض یہ ہے کہ جمہوریت تجربہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک طرز حیات ہے۔ جمہوریت کا کوئی متبادل ہی نہیں۔ فسطائیت مذہب کے نام پہ ہو یا نسل کے نام پہ ، کوئی مسیحا وردی پہن کر آئے یا داڑھی رکھ کر آجائے، کیا ہم نے یہ تجربے کر کے نہیں دیکھے؟ اور وہ تجربے ناکام ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ناکام نہیں ہوئی جمہوریت کے ساتھ جو کھلواڑکیا گیا، وہ ناکام ہوا ہے۔
لالٹین : آپ کی شریکِ حیات آپ کے کام اور نظریات میں آپ کی معاون رہی ہیں۔ ان کا آپ کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟
وجاہت: میں اِس میں کسی بد دیانتی سے کام نہیں لینا چاہتا۔ مجھ میں توبہت سی کمزوریاں ہیں۔ میری افتاد میں جلا وطنی کی ایک کیفیت مسلسل میرے ساتھ رہی ہے۔ آپ تو سمجھتے ہیں اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تنویر جہاں نے سب سے اہم مہر بانی یہ کی کہ اس نے مجھ سے کبھی ایسا تقاضانہیں کیا کہ میں جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں وہ نہ گزاروں۔ ہمارا رشتہ بنیادی طور پر مساوات کا رشتہ ہے۔ جو زندگی میں نے گزاری ہے وہ اُس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اس نے اپنی اخلاقی قامت اور سوجھ بوجھ سے مجھے بہت سی ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جن کے لیے میں زبردست کشش محسوس کرتا تھا۔
لالٹین : پاکستان کی اِ س پیچیدہ صورتحال میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
وجاہت: نوجوانوں میں بہت امکان ہوتا ہے اور اُن میں بددیانتی کا عنصر بھی کم ہوتاہے۔ اُنہیں چاہیے کہ پیداواری، تخلیقی اور جذباتی طور پر خوشگوار زندگی گزاریں۔ معاشرے کو نوجوانوں میں اِن تینوں چیزوں کا خواب جگانا چاہیے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ جنس کوضروری اِحترام دے۔ ہم نے نوجوانوں کو دکھی کیا ہوا ہے اور دکھی نوجوان بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی جبلتوں کی مناسب تہذیب نہ کی جائے تو پھر ان کی توانائی اِستحصال، نفرت، بدعنوانی، تشدد اور تفرقے کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔

Categories
خصوصی

پنجاب انرولمنٹ ایمرجنسی کیمپین 2013

سٹاف رپورٹر

campus-talks

پنجاب حکومت نے 5-16 برس کے بچوں کے داخلوں کے لئے ہنگامی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ مہم کے تحت سکول نہ جانے والے چھبیس لاکھ بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لئے سروے اور تربیت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ بچوں کے داخلے کے لئے بیس ہزار اساتذہ 35تحصیلوں میں کام کریں گے۔ اس مہم میں سکول نہ جانے والے اور مختلف وجوہ کی بنیاد پر سکول چھوڑ نے والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے انتظامت کیے جائیں گے۔ مہم کے پہلے مرحلے میں سکول نہ جانے والے بچوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔دوسرے مرحلے میں ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپنے ضلع میں تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے بچوں کی انرولمنٹ یقینی بنائیں گے۔ مہم کے دوران بڑی عمر کے سکول نہ جانے والے بچوں کو لٹریسی سنٹرز میں داخل کیا جائے گا۔ چھوٹی عمر اور سکول چھوڑنے والے بچوں کو ان کی عمر اور قابلیت کے مطابق مختلف جماعتوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ پاکستان میں اس وقت لاکھوں بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی اس کوشش کو سماجی اور فلاحی تنظیموں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ماضی میں بیوروکریسی اور سرکاری اداروں میں موجود بدعنوانی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث تعلیم بالغاں اور مسجد سکول جیسے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ انرولمنٹ ایمرجنسی کیمپین میں سرکاری سطح پر فنڈا کی عدم دستیابی، پسماندہ علاقوں میں سکولوں کا نہ ہونا اورچائلڈ لیبر جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔


Categories
اداریہ

ناقص نتائج کی وجہ ؛اضافی ذمہ داریاں اور ناکافی وسائل

سٹاف رپورٹر

campus-talks

پنجاب ٹیچرز یونین نے پنجاب کے سکولوں میں ناکافی سہولیات اور اساتذہ پر غیر تدریسی ذمہ داریوں کے بوجھ پر تنقید کی ہے۔ یونین نےجماعت پنجم اور ہشتم کے خراب نتائج کی وجہ اضافی ذمہ داریوں اور ناکافی وسائل کو قرار دیا ہے۔ ٹیچرز یونین نے پنجاب بھر کے اساتذہ کو خراب نتائج پرحکومتِ پنجاب کی طرف سے بھیجے گئے شوکاز نوٹسز پر احتجاج کرتے ہوئے حکومتی حکمت عملی کو ناقص قرار دیا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب نے پنجاب ایمپلائز ایفیشینسی، ڈسپلن اینڈاکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کے تحت رواں سال ناقص نتائج دکھانے والے اساتذہ کو شوکاز نوٹسز بھیجے تھے۔ اساتذہ کی تنظیم پی ٹی یو نے اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کے لئے نتائج کو معیار بنانے کی بجائے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران اساتذہ کو انسدادڈینگی پروگرام ، ایجوکیشن سروے اور عام انتخابات 2013کے دوران اضافی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ غیر تدریسی سرگرمیوں میں اساتذہ کی شمولیت پاکستان میں معمول کی بات ہے۔ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان میں طلبہ کے نتائج پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل اساتذہ کی ناقص تربیت، سکولوں میں ناقص سہولیات اور غیر تدریسی انتظامی سرگرمیوں میں اساتذہ اور طلبہ کی شمولیت کو قرار دیا ہے۔ پاکستان میں سرکاری اداروں کے طلبہ اساتذہ کی عدم موجودگی کے باعث اضافی ٹیوشن اور امدادی کتب کے استعمال پر مجبور ہیں۔

Categories
نقطۂ نظر

قبر سے واپسی

حماد حسن

qabar

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں کہاں ہو سکتی ہیں اور وہ کونسی فیکٹریاں ہیں جہاں یہ پروڈکٹ تیار ہو کر ملک کی کونے کونے میں سپلائی ہوتی ہے ؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو اس ڈرامے کے اصل ہدایت کار ہیں ؟ ان سارے سوالوں کا جواب اور اس صورت حال کا نقشہ شاید میری آپ بیتی سے واضح ہو پائے۔
میں ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوا۔بچپن کے ابتدائی سال انتہائی خوشگوار تھے۔ سارا سارا دن اپنے کزنوں کے ہمراہ گھر کے بڑے صحن میں کھیلنا میرا معمول تھا۔ ہر صبح ایک سہانی صبح ہوتی اور ہر شام کے پرندے مسرت کا پیغام دے کر جاتے ، کسی بھی قسم کے غم کے وائرس نے ابھی میرے سسٹم پر حملہ نہیں کیا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میری زندگی میں ایک ایسا موڑ آنے والا ہے جس کے اثرات میرے دل و دماغ پر شدید ہوں گے۔
پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد میرے والدین نے مجھے دین کی ”اعلیٰ “ تعلیم دلوانے کے لیی نواحی گاﺅں کی ایک مشہور مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ جبکہ میرے بڑے بہن بھائی میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ایک بچے کو دین کے لیے وقف کریں گے۔
مدرسے میں پڑھنے والے کو ”طالب ‘ جبکہ پڑھانے والے کو ”استاد جی “ کہا جاتا تھا مدرسے میں دو ہزار کے لگ بھگ طالب زیر تعلیم تھے۔ جن میں سے بہت سارے طالب مدرسے میں رہائش پذیر تھے جبکہ باقی طالبوں کا تعلق مقامی گاﺅں

مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے

سے تھا ۔اس مدرسے کے پڑھے ہوئے بہت سے طالب مختلف علاقوں کی مساجد کے منبر سنبھال چکے تھے۔
شہر سے گاﺅں میں اور اسکول سے مدرسے میں، شروع میں تومیں وہاں کے ماحول کو سمجھ نہ پایا۔ پھر آہستہ آہستہ پردے ہٹتے گئے۔ اُستاد جی نے میرا استقبال قمیض کے کالر کاٹ کر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے اور یہ کتے کے کان ہیں ،مجھے ایک ٹوپی ہر وقت پہنے رکھنے، اور بڑا حاجیوں والاچوخانہ رومال اپنے کندھوں پہ ڈالے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
صبح منہ اندھیرے تین بجے نیند سے بیدار کر دیا جاتا ۔ فجر کی نماز تک کلاس ہوتی جس میں بچے روز کا یاد کیا ہوا سبق سناتے تھے۔نماز کے بعد پھر کلاس شروع ہو جاتی جو 11:00بجے تک جاری رہتی۔ 11:30 پر ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ایک ساتھ دیا جاتا تھا۔ 12:00بجے سے ظہر کی نماز تک کے وقفہ میں طالب کپڑے دھوتے، نہاتے اور آرام کرتے تھے، ظہر سے عصر کی نماز تک پھر کلاس ہوتی۔ عصر سے مغر ب کے وقفے کے دوران رہائشی طالب کھیلتے جبکہ وہاں کے مقامی طالبوں کو برتنوں کے ساتھ مقامی گھروں سے استاد جی حضرات کے لیے کھانا مانگنے کے لیے بھیج دیا جاتا۔ مغرب سے عشاءتک پھر کلاس ہوتی اور عشاءکی نماز کے بعد رات کا کھانا کھا کر طالب سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں میں چلے جاتے۔
مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے۔ مدرسے میں ٹوائلٹ کو بیت الخلا کہا جاتا تھا۔ وہاں جا کر یونہی محسوس ہوتا تھا جیسے انسان واقعی خلاﺅں میں چلا گیا ہو، وہاں کی دیواروں پر بھی دوسرے فرقوں کے خلاف کُفر کے فتوے درج ہوتے تھے۔ طالب اور استاد جی حضرات باہمی گفتگو میں دوسرے مسالک کے لوگوں پر پھبتیاں کستے اور برا بھلا کہتے۔
معمولی معمولی باتوں پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں بید سے مارنا، مرغا بنانا، چہرے پر تھپڑ مارنا سرفہرست تھیں۔ میرے سامنے استاد جی نے ایک 6سالہ بچے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر دے مارا ۔اس کے سر پر ایسی شدید چوٹ لگی کہ اُس کے حواس کافی دیر تک بحال نہ ہوئے ۔ والی بال کھیل کھیل کر استاد جی حضرات تھپڑ رسید کرنے میں کافی مہارت حاصل کر چکے تھے۔
مدرسے میں صرف والی بال کھیلی جاتی تھی (یہ دیہاتی طرز کی والی بال ہوتی ہے جس کے اصول وقوانین ، بین الاقوامی طور پر کھیلی جانے والی ، والی بال سے کافی مختلف ہیں ) ۔ ایک دفعہ ہم نے کرکٹ کھیلی، استاد جی کو کسی طرح پتا چل گیا۔ انہوں نے ہمیں بید سے پیٹا اور بیٹ کو تنور میں ڈال دیا۔ انہوں نے فرمایا ”کرکٹ انگریزی کھیل ہے، والی
بال کھیلا کرو، یہ اسلامی ہے “۔
طالب مختلف ”غیر نصابی “ سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ استاد جی حضرات ان سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان سرگرمیوں میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا، جہادی کیمپوں میں جا کر عسکری تربیت حاصل کرنا اور باقی طالبوں کو بھی جہاد کی طرف مائل کرنا سرفہرست ہوتی تھیں۔ 9/11کے بعد ایک ترانہ طالبوں میں بہت مقبول تھا جس کے بول تھے ”میرا شیر اسامہ بن لادن، اسلام کا ہیرو نمبر ون“۔
طالبوں کا مدرسے کی چاردیواری سے باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ اخبار ہوا کرتے تھے۔ ان اخباروں میں جہادی تنظیموں کے اخباروں تک طالبوں کو رسائی حاصل تھی جبکہ باقی اخبارات کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی، صرف استاد جی حضرات انہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اخباروں میں برہنہ تصاویر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے طالبوں کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔

ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا

انہیں دنوں 99ءکا کرکٹ ورلڈ کپ ہو رہا تھا ایک استاد جی جو قدرے زندہ دل معلوم ہوتے تھے، نے مجھ سے مختلف میچوں کی صورت حال دریافت کی۔ اُن کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بڑھ چڑھ کر تفصیلات مہیا کیں ۔ میرے ذخیرہ معلومات سے متاثر ہو کر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انہوں نے کچھ طالبوں کو بلا کر میرے سامان کی تلاشی کا حکم دیا۔ میرے سامان سے ایک بے ضرر ننھا سا ریڈیو دریافت ہونے پر میری جو درگت سنی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
مدرسہ میں طالبوں کو حکم دیا جاتا کہ استاد جی حضرات کو ہمیشہ جھک کر ملنا چاہئیے۔ ایسا کرنے سے سبق زیادہ یاد ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
اُنہیں دنوں مدرسے میں ایک نئے اُستاد جی بھرتی کیے گئے ، ان کی آمد کے کچھ ہی دنوں بعد ایک رات جب ہم سب سو چکے تھے تو اچانک شور ہونے پر میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اپنے کمرے سے ایک دوست کے ہمراہ باہر نکلا تو دیکھا کہ نئے استاد جی کے کمرے کے باہر کچھ طالب جمع تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک اور استاد جی وہاں آگئے۔ انہوں نے طالبوں کو وہاں سے منتشر کیا اور نئے استاد جی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر انہیں آواز دی۔ کمرہ کھلا اور استاد جی بر آمد ہوئے۔ پرانے استاد نے اندر جا کر ایک نو دس سالہ لڑکے کو باہر نکالا جس کو نئے استاد محترم نے’ پاﺅں دبوانے ‘کے لیے رات گئے اپنے کمرے میں بلا لیا تھا۔ پرانے استاد نے اس معصوم لڑکے کی پٹائی شروع کر دی کہ وہ اتنی رات گئے اس کمرے میں کیا کر رہا تھا۔ اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
اتنے بڑے مدرسے کے انتظام و انصرام کو چلتا دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ آخر اس معاملے کی بھی گتھیاں سُلجھنا شروع ہوئیں۔مدرسہ کے مہتمم اعلیٰ کے ایک بھائی جرمنی میں کوئی مدرسہ چلا رہے تھے ،دوسرے بھائی لندن میں ایک مدرسے کے مہتمم تھے، تیسرے بھائی ہر سال بنکاک کی کسی مسجد میں تراویح پڑھانے کے لیے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد علیحدہ تھی۔
تقریباً تین سال اس جزیرہِ علم میں رہ کر میں حافظ بن چکا تھا ۔ میرے والدین کی خواہش مجھے درس نظامی سے مزید تعلیم دلوانے کی تھی۔ لیکن میں مزید ”اعلیٰ “ تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا والدین نے دوبارہ اسکول میں داخل کروادیا۔ اسکول اور گھر اب اجنبی سے محسوس ہوتے تھے۔ اکثر لوگ چلتے پھرتے کافرنظر آتے تھے۔ گھر میں TVچلتا دیکھ کر عجیب و حشت ہو تی تھی۔ میں دوسرے مسالک کے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دینے کے حق میں بے تحاشا دلائل دیا کرتا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تعلیم مجھے سراسر غیر اخلاقی اور کفریہ عقائد پر مبنی نظر آتی تھی۔ دوسرے مسالک کے لڑکوں سے میری دو ایک بار جھڑپیں بھی ہوئیں۔
FScکا امتحان جیسے تیسے پاس کرنے کے بعد مجھے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ وہاں میرے کمرے میں جہادی لڑکوں کا آنا جانا لگا رہتا، ہم جہاد کشمیر کے حق میں تقاریر کرتے اور نئے طلباءکے کمروں میں جا کر انہیں جہاد کی ترغیب دیتے۔ انہی دنوں میں نے ایک جہادی کیمپ سے ٹریننگ لینے کا فیصلہ کیا۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔ گو کہ میں خودبھی کٹر، متعصبانہ خیالات کا مالک تھا لیکن شاید میرے ذہن کے کسی گوشے میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ ان جنونیوں کے غیر انسانی اور معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دینے والے رویوں سے میرا دل متنفر ہوتا گیا۔

جہادی کیمپ سے واپسی پر میں ایک مکمل طور پر بدلا ہوا انسان تھا۔ ایسے موقع پر ایک سینئر کے توسط سے مجھے اعتدال پسند لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں کچھ ترقی پسند،روشن خیال دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے جمہوریت،رواداری اور انسانی ترقی کے نظریات سے متعارف کرایا ۔ ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے توسط سے دوسرے اعتدال پسند سوچ رکھنے والے دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ اندھیرے چھٹتے گئے اور میں زندگی میں واپس آنا شروع ہوا۔ آجکل میں سماجی وسیا سی کارکن کے طور پر مختلف تنظیموں کے ساتھ منسلک ہوں اور ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔ اب مختلف صحت مندانہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے ، آگے بڑھنے اور دوسروں کی ترقی میں معاون بننے میں مجھے بے تحاشا خوشی محسوس ہوتی ہے۔


Categories
نقطۂ نظر

قارئین سے ناظرین تک

youth-yell-inner

شیزی توصیف ایڈوکیٹ

کہتے ہیں کسی معاشرے کے تہذیب و تمدّن کوجانچنا ہو تو وہاں کے ٹریف نظام کو دیکھ لیا جائے، کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو کہ وہ کتنے خوشحال ہیں توپھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کی فی کس آمدنی کیا ہے اوروہ ہیومن ڈویلپمنٹ اِنڈیکس(Human Development Index) کے کس درجے پر ہیں۔لیکن میری نظر میں کسی بھی معاشرے کی ترقی یا پسماندگی کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ کتا ب پڑھتے ہیں یا نہیں۔اس حوالے سے اگر ہم اپنے ملک کا جائزہ لیں توصورت حال نہایت اندوہناک ہے۔شوقِ مطالعہ میں ہم تیسری دنیا کے ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔مطالعے کی عادت در اصل کسی بھی ملک کی قوتِ فکر کا اظہار ہے کتاب سے ناطہ ٹوٹ جائے تو پھر نئے خیالات کہاں سے آئیں گے،تخلیقی کام کیسے ہوگا،مکالمہ کا عمل رک جائے گا،فکری ارتقااور ایجاد کا عمل ختم ہو جائے گا۔مطالعہ سے دوری سماج میں عدم برداشت اور تشدد میں اضافہ کا باعث ہے۔
کتابیں پڑھنا،فلم دیکھنا،ڈرامہ دیکھنا،موسیقی سننا یا اسی طرح کی دیگر مصروفیات دراصل اپنی پہچان کاعمل ہے۔ایسی مصروفیات خیالات اور سوچ کو جِلا بخشتی ہیں ،تخیل کو وسعت عطا کرتی ہیں۔عادتِ مطالعہ (Reading habit)کی کمی سیاسی و معاشی صورتحال،غربت اوربے روزگاری کی طرح سماجی گراوٹ جانچنے کا ایک معیار ہے۔اس وقت پاکستانی معاشرے کا فکری بانجھ پن اورعلمی تنزلی(Deintellectualization of society)گھمبیر صورت اختیار کرچکے ہیں اوراس کے اسباب اور ان کا حل تلاش کرناا آسان نہیں۔
پاکستان میں اس وقت پبلشنگ انڈسٹری کا مقابلہ الیکٹرانک میڈیا سے ہے۔کتابوں کی جگہ کمپیوٹر،ٹی وی،فلمز،پبلسٹی اورپروپیگنڈے کے دیگر ذرائع نے لے لی ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اب قارئین کم اور ناظرین بڑھ گئے ہیں۔لائبریریز کم ہیں اور جو ہیں ان میں جانے اور مطالعہ کرنے کا رحجان کم ہوتا جا رہا ہے ۔کسی زمانے میں لوگ لائبریریز سے کتابیں لاتے تھے،ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ایک زمانے میں گلی محلوں میں’’ایک آنہ لائبریری‘‘ ہوا کرتی تھیں۔بچوں کو گھروں میں ماں باپ، دادا دادی کہانیاں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اورپھر آہستہ آہستہ بچے خود ہی پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔
آدمی سے انسان بننے کی درمیانی کڑی کتاب ہے؛آدمی ایک مادّی وجود ہے جبکہ انسان ایک اخلاقی وجود۔کتاب چاہے الہامی ہوچاہے انسانی عقل کی پیداوار،زمین کی تہوں میں چھپے خزائن ٹٹولتی ہویاخوابوں کی تعبیر تلاش کرتی ہو؛زندگی کا کوئی حوالہ کتاب یا لکھے ہوئے حرف کے بغیر ممکن نہیں۔ہم نے اپنے آپ کو علم سے جان بوجھ کر پیچھے کیا ہے،ہم ہنر کے تعاقب میں ہیں۔ہمارے ہاں علم زندگی کے لئے نہیں بلکہ روزگار کے لئے حاصل کیا جاتا ہے ،حالانکہ زندگی علم سے عبارت ہے۔کتاب ،حرف اورقول سے رشتہ، در اصل ایک ورثہ دوسرے تک منتقل ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔بدقسمتی سے مطالعے کی عادت ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ ضیا دورکا سرکاری سرپرستی میں گھڑا جانے والا وہ نظام تعلیم ہے جس میں کتاب سے رشتہ توڑ دیا گیا، تقریر کا فن چھین لیا گیا اور خطبہ باقی رہ گیا۔تقریر میں دونوں پہلو ہوتے ہیں یعنی مخالفت اور موافقت ، قطعیت کے لہجے میں ہر امکان کو رد کر دیا جاتا ہے اورفتوے دیے جاتے ہیں۔زندگی فتوؤں پر نہیں امکانات پر زندہ ہے۔اب مکالمہ خاموش ہے اور بحث کا شور ہر جانب برپاہے،نہ کتاب رہی نہ مطالعہ۔کتاب سوچنا سکھاتی ہے اور کتاب سے دوری کے باعث معاشرے میں فکری تنزل اور عدم برداشت نے جنم لیا جس سے افراد کے اخلاقی اور علمی پہلو کی جگہ مادی پہلو کی افزائش کا عمل تیز ہوتا چلا گیا، نظریات اور افکار کی آبیاری کا عمل سست پڑاتو انتہا پسندی اور توہم پرستی کے جھاڑنے سر اٹھا لیا۔لوگوں نے خود کو دوسروں کے ہاتھوں کتھ پتلی بنا لیااور اس خود فریبی میں لطف یہ ہے کہ اس میں وہ نظر آتا ہے جو نہیں ہوتا اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا۔صرف کتاب ہی وہ آئینہ ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ جو تھا،جو ہے،جو ہوگا اور جو ہوسکتا ہے وہ سب نظر آسکتا ہے۔
مطالعے کی عادت کوزندہ کرنے کے لئے سماج اور حکومت دونوں کو ذمہ داری لینی ہو گی۔ بچے بنیادی باتیں والدین ہی سے سیکھتے ہیں والدین بچوں میں کتاب پڑھنے کا شوق بیدار کر سکتے ہیں۔ اسکولوں میں ’’ہفتۂ کتب بینی‘‘ کا اہتمام کیا جانا چاہئے ، لائبریریزمیں مفت سہولیات فراہم کی جائیں تو لوگ کتب خانوں کا رخ کریں گے۔ای ۔بکس نے نئی نسل کے لئے مطالعہ آسان اور پرکشش بنا دیا ہے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ اس طرف راغب ہو سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر پبلشرز کو بچوں اور دیگر معلوماتی کتابیں شائع کرنے کے لئے کاغذکی خریداری پرخصوصی رعایت دی جانی چاہیے۔ کتاب کی پرورش کی جائے گی تو معاشرہ کی تعمیر ہو گی۔

Categories
نقطۂ نظر

ماں تجھے سلام

youth-yell-inner

عمر سلیم

لکھنے کے لیے موضوع تلاش کرنا میرے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دن کے ۲۴ گھنٹوں میں سیکڑوں مسائل سیاست ، ریاست، ضرورت اور غربت کی کوکھ سے جنم لینے کے بعد لکھاریوں کے سامنے اپنی نگہداشت کے لیے کھڑے ہوجاتے ہوں ،وہاں لکھنے کیلئے موضوع نہ ملنا میرے لیے باعثِ حیرت ہے۔ہونا تو یوں چاہئیے تھا کہ میں بھی جشنِ آزادی کو موضوع بناتا ، حالات کو لفظوں کے کپڑے پہناتا اور آزادی کے گیت گاتا ،مگردو ہفتے قبل 13 اگست کی رات کوابھی میں اپنے قلم اور دماغ کو ہم آہنگ کیے لفظوں کی بے ساکھیاں اپنے جذبات کے لیے تلاش کرنے میں محو تھا تو کمرے کی دیوار پر آویزاں گھڑی نے۱۲ بجا دیے۔ادھر کیلنڈر کی تاریخ بدلی تووزیرِاعظم ہاؤ س سے لے کر گورنر ہاؤسز ٹمٹماتی ہوئی روشنیوں میں نہاگئے،کئی تقریبات میں قومی ترانہ پڑھا گیا،سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر ملک کا پرچم لہرایا گیا، شہروں کی گلیاں اور گھر جھنڈیوں سے سجائے گئے، ٹی وی چینلز کی دن بھر کی نشریات میں ملی نغمے چلائے گئے اور ماضی کی کئی نایاب تصویریں جن پر وقت کی دھول نے بسیرا کر رکھا تھا جھاڑ پونچھ کر پھر سے نمائش میں رکھ دی گئیں۔خلاصہ کچھ یوں کہ یوم آزادی پر ملک بھرمیں ہرسومسرت کا سماں تھاہر جگہ خوشیاں منائی گئیں۔مگر کیا کروں اندر کی کیفیت کچھ عجیب طرح کی ہے۔اس برس کے یوم آزادی سے اب دو ہفتے بعدبھی لکھنے بیٹھوں توکہیں محبت سامنے کھڑی ہوتی ہے تو کہیں نفرت پھوٹنے لگتی ہے ۔ذرا سی خوشی ملتی ہے تو اتنے میں غم دروازے پر دستک دینے لگتا ہے ۔میں رونا بھی چاہتا ہوں اور مسکرانا بھی ۔عجب کشمکش ہے ۔میری طرح یہ حالت میری ماں کی بھی ہے، وہ بھی اسی کیفیت سے دوچار ہے۔جسے اپنے بچوں پر کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی پیار۔اسے وہ وقت یاد ہے جب اس کی گود میں ۳ کروڑ کے لگ بھگ بچے اپنی پرورش کے لیے پر تول رہے تھے ۔اس ماں نے اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں بارہا اپنا استحصال دیکھا ہے ۔وہ جب اپنے ہی بچوں کوآپس میں آگ لگاتا دیکھتی ہے تو دن کے اُجالے اور رات کے اندھیرے میں سسکیاں بھرتی ہے۔اس کے آنسو اس کی اپنی ہی آغوش میں گر کر امر ہو جاتے ہیں ۔وہ ماں ہے اور براہِ راست اپنی اولاد سے شکوہ و شکایت کا حق رکھتی ہے۔
دنیااب اکیسویں صدی میں قدم رکھ چکی ہے،زمانہ بدل گیا ہے ۔ بیسویں صدی کے آغاز میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے جو ماں اپنا پیٹ کاٹتی رہی ، اب بچے اپناتن ڈھانپنے کو اسی ماں کی چادر نوچ رہے ہیں ۔اپنے بچوں کی برہنگی چھپاتے چھپاتے اپنا تن ننگا کر بیٹھی ہے ۔ لیکن پاکستان میں بسنے والوں میں سے ۸۸ فیصد اب بھی خواب دیکھتے ہیں۔۔سہانے مستقبل کے خواب۔ سماجی انصاف، برابری اور خوشحالی کے خواب۔ ایسے خواب جن میں تن ڈھانپنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی ہے۔
خواب دیکھنے پر پابندی کیسی؟ خواب تو ۱۹۴۷ سے پہلے بھی دیکھے اور بعد میں بھی ، آمروں کے آنے اور جانے پر، ووٹ پڑنے اور حکومتیں ٹوٹنے پر،جج بحال ہونے اورجمہوری طریقے سے اقتدار منتقل ہونے پر، ہر باراس قوم نے خوابوں کے ٹکسالوں میں نئے خواب ڈھالے اوراب پھر بہتر مستقبل کے خواب نے آنکھوں میں پھر ڈیرہ ڈال لیا۔خوابوں کا یہ سلسلہ نجانے کب تک جا ری رہے گا،آنے والے حالات کیسے ہونگے؟ کوئی نہیں جانتامگر مجھے یقین ہے کہ یہ دھرتی تا قیامت سلامت رہے گی۔میں اپنی ماں کے لیے لفظوں کی بیساکھیاں اٹھانے سے قاصر ہوں ،پھر بھی دعاؤں کے سہارے ابھی بھی اتنے کمزور نہیں پڑے، خواب دیکھنے والی آنکھیں ابحی روشن ہیں۔۔۔خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصلِ گُل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

Categories
نقطۂ نظر

پھرہوگے تم امت خیر

صفدر سحر
safdar-saharکروڑوں لوگوں سے زندگی  کا امکان چھیننے والے اعلی انتظام کو سنبھالے  ہوئے چند نازک کندھوں اور اس سے بھی نحیف دماغوں سے سوال ہے کہ تحفظ کے نام پر تراشی گئی تمہاری پالیسی آج ہمیں کس مقام پرلے آئی ہے۔ ان کنفیوز لوگوں کے پیٹ چیر کر دیکھو جنہوں نے عقل کی جنت پر عقیدت کی دھند پھیلا کر ہمیں خرد سے بیگانہ کر دیا تو دیکھو گے کہ وہاں وہ سارے سرچشمے موجود ہیں جو ہماری سماجی عفونت سے جڑے ہیں۔ ان بزعم خود دانشوران و کاسہ لیسان شاہ سے پوچھیے کہ قومیت تراشنے کے نام نہاد مفروضے پر کلچر، زبان اور فنون کی قربانی کا جو نسخہ کیمیا لائے تھے اس کا اثر بلاخیز کیا ہوا، کہ آج ہماری زبان بانجھ ہو کر اعلی تخلیقات کو جنم دینے سے معذرت کر رہی ہے۔کلچر کے نام پر ہمارے پاس منافقت کے کھوٹے سکے کے سوا کچھ نہیں کہ لطف تو ہمیں بالی ووڈ کی جھنکار دیتی ہے مگر زبان پاکستانی کلچر کی مدح سرائی میں محو ہے اور فنون کی اقلیم پر قحط سالی کا تو ذکر ہی کیا کہ فنون کا بدن زخم زخم ہے۔

کہتے ہو کہ تنقید کیوں ؟ او عاقلان شہر ،بیماری کی تشخیص نہ ہو تو علاج کیسے ہوگا؟ کبھی کسی ڈاکٹر کو اس بات پر قتل کیا گیا کہ اس نے کہا تمہیں کینسر ہے؟اس کے تو ہاتھ چومتے ہو کہ وقت پر آگاہ کر دیا اور تم نے علاج کی فکر کر لی۔

دنیاسے،جدیدیت سے ، ترقی سے،پڑوسیوں سے نفرت کرنے کا صلہ کیا ملا کہ ہم دشمن تہذیب کی ایجاد موبائل فون پر دوست مشرقی تہذیب کے گن ہی نہیں گاتے آیات مقدسہ کی نشر و اشاعت سے تبلیغ دین کا فریضہ ملی بھی نبھا رہے ہیں۔دنیا سے نفرت سکھاتے ہوئے تم یہ کیوں بھول گئے کہ ہر عمل، ردعمل بھی رکھتا ہے جو شدت میں مساوی اور جہت میں برعکس ہوتا ہے۔ پڑوسیوں سے عداوت پڑھاتے جن کی عمریں گزریں وہ یہ سوچ کر آج پچھتاتے تو ہوں گے کہ بھارت اور افغانستان کے سلسلے میں ہماری حکمران اشرافیہ اپنا طرز عمل بدل بیٹھی ہے۔جدیدیت کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے خطیبان شعلہ بیاں سے سوال تو بنتا ہے کہ بجلی ، سپیکر، موبائل، ٹی وی ، پرنٹنگ مشین تم سے چھین لیں تو کتنوں کو اپنی بات پہنچا سکو گے۔ ثقافت دیرینہ سے کاٹ کر نئی قومیت کی بنیادیں جنہوں نے ہوا میں اٹھائیں انہیں خدا را بتاؤ کہ ہر محب وطن قوم کے لیے زرمبادلہ کمانے کے لیے امریکہ و یورپ میں مزدوری کرنے کا خواہش مند ہے۔ معاشی انقلاب تو افراد کی پیداواری صلاحیتوں سے پھوٹتے ہیں، تم نے تو افرادی قوت کے امکان کو مانع حمل گولیاں کھلا کر نمود سے پہلے نابود کر دیا۔سماجی فضا میں امن وآشتی کی ہوائیں چلانے کی خواہش رکھنے والی ہماری حکومت اپنے ہی ریکارڈ کو کھنگال کے دیکھے تو جان لے گی اسلام آباد کے پر تعیش ہوٹلوں کے اندر خمار انگیز ماحول میں خفی و جلی ایجنسیوں نے مل کر جو مومن فورس تیار کی تھی، اس نے سپر طاقتوں کا غرور ہی خاک میں نہیں ملایا ہماری تہذیب پر تشدد کی کالک بھی تھوپ دی۔تعلیم کو ترقی کا زینہ اول کہنے والے ہمارے وزیر ان ومشیران تعلیم یہ تو بتائیں کہ تعلیم وہ کہتے کسے ہیں، جھوٹ پڑھا کر ، تاریخ کو ملفوف کرکے (حوالے کے لیے کے کے عزیز کا شاہکار مرڈر آف ہسٹری دیکھ لیں)تدبیر کو تقدیر کے تابع کرکے اور عقل پر عقیدت کی اوڑھنی چڑھا کر کب تعلیم ذریعہ ارتقا بنی۔ معاشرے اور افراد ایک دوسرے کے تکمیلی عنصر تھے مگر ہمارے ہاں کیا ہواکہ معاشرے کی شریانوں اور وریدوں میں خون کو رواں رکھنے کے لیے افراد کی شہ رگیں کاٹ دی گئیں۔ آج فرد ڈھونڈے نہیں ملتا کہ سماج کی فیکٹری صرف روبوٹ نما انسان بنا رہی۔ سماج کہتا ہے کہ نظریہ پاکستان ہمارے وجود کا جواز ہے ،ہر فرد بغیر اس موضوعی چٹکی کی خلش محسوس کیے طوطے کی طرح نظریہ پاکستان کا حوالہ دے رہا ہے بغیر اس تصور کی تعریف متعین کیے ہوئے۔۔۔ سماج نے کہا کہ تمہارا عقیدہ یہ ہے، عقیدتیں یہ ہیں، کلچر یہ ہے ہر فرد مانے جارہا ہے ، گواہی دیے جا رہا ہے بغیر عقل کی کسوٹی کو عیار بنائے۔ سماج کو مصنوعی انداز میں تشکیل دینے والوں نے کہا کہ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی اور حجاز مقدس کی زمین اطہر ہمارا مرکز و محور ہے ، ہر فرد یہی راگ الاپے جا رہا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس حجاز مقدس میں ہم اہلیان مملکت خداداد کو زباندان ، گونگے کہہ کر حقارت سے دیکھتے ہیں۔ عمریں گل جاتی ہیں، نسلیں فنا ہو جاتی ہیں مگر وہاں کی شہریتیں نہیں ملتیں، مسلمان اخوت کے دھاگے میں بندھے ہیں مگر عرب لڑکی سے شادی کوئی غیر عرب نہیں کر سکتا، بتان رنگ وبو نہ ٹوٹ سکے۔ پھر کہتے ہو کہ تنقید کیوں ؟ او عاقلان شہر ،بیماری کی تشخیص نہ ہو تو علاج کیسے ہوگا؟ کبھی کسی ڈاکٹر کو اس بات پر قتل کیا گیا کہ اس نے کہا تمہیں کینسر ہے؟اس کے تو ہاتھ چومتے ہو کہ وقت پر آگاہ کر دیا اور تم نے علاج کی فکر کر لی۔اور پھر مغربی مشین پر خون کے نمونے کی آزمائش سے ہیپا ٹائٹس کے وائرس کو تسلیم کر لینے والو ڈی این اے سے والدین کی شناخت بھی اسی مشینری سے ہوتی ہے۔ان کی نیو کلیر ٹیکنالوجی کو امت مسلمہ کی سب سے بڑی فتح کے شادیانوں کے شور میں آخر یہ حقیقت کیوں دب جاتی ہے کہ ان کے علوم،ان کی تہذیب، ان کے کلچر نے اختراع وایجاد کے در میں سوراخ ہی نہیں دروازہ ہی توڑ دیا ہے۔ اعلی ظرفی کہتی ہے کہ دشمن کی بھی خوبی کو تسلیم کروتو کیوں کم ظرفی کا اظہار کیا جائے آخر۔۔۔ اس معاشرے پر تنقید کرنے والوں کو مارنے کی روش ترک کر و بلکہ اپنی تہذیب اور کلچر کو امن و خوشحالی کا نمونہ بنا کر ان کا منہ بند کر دو۔ مغرب کی حکومتیں ہماری دشمن ہیں، رہنے دو۔ مغرب کی سیاست مشرق کی دشمن ہے ، ہونے دو،مگر اس سماج اور تہذیب کی کامیابیوں کو اپناؤ۔تمہاری سائنس، فلسفہ مر رہا ہے کہاں سے آب حیات لاؤ گے، سرسید کہاں سے لائے تھے وہ آب حیات۔۔۔۔انسان سے نفرت کا رویہ ترک کرو، مغربیوں سے بھی پیار کرو کہ انسانیت نے آپ کو ایک لڑی میں پرویا ہے، سب کی خیر سوچو، آگے بڑھ ، ترقی کرو پھر ہو گے تم امت خیر۔۔۔ جاہل، نحیف دماغوں کے پھیلائے جال کو توڑو کہ اس کو توڑے بنا آگے بڑھا نہیں جا سکتا۔

 


(نوجوان صحافی صفدر سحر کا تعلق قومی اخبار روزنامہ جنگ سے ہے)


 

Categories
شاعری

شہدائے پاراچنار کے لیے ایک نظم

(مشتاق علی بنگش، پاراچنار)

تشنہ لب ، ضعفِ دست و پا لے کر

جس فریضے نے شل کیا تھا بدن

اُس کے ضامن سوال کرتے ہیں

وقتِ افطار لاش اپنوں کی

ہم اُٹھائیں گے اے خدا لیکن

کب جنازہ سُپردِ خاک کریں

اِس قدر سخت ہو گئی ہے زمیں

دست و بازو کا زور جاتا ہے

ہم جنازے اُٹھا کے آئے ہیں

اِس لیے تھک گئے ہیں یا اللہ

حکم دے فرشِ خاک کو اتنا

اپنی ساری امانتیں اِمروز

اپنی آغوش میں اُتارے خود

ہم بہت تھک گئے ہیں یا اللہ۔۔۔

Categories
عکس و صدا

عزیزچنگیزی کی فوٹو گرافی

azizchangezi

عزیزچنگیزی

 

 


[nggallery id=9]

Categories
فکشن

مٹری کی کہانی

mattri-ki-kahani-2

لوک کہانیاں کسی بھی تہذیب کی اپنی ثقافت، روزمرہ کے رہن سہن اور عام لوگوں کی خواہشوں، اندیشوں اور خیالوں کی ترجمان ہوتی ہیں۔ اب بھی بہت سے گھر کے بزرگ اپنے بچوں کو سونے سے پہلے اس طرح کی لوک کہانیاں سناتے ہیں اور کہانی نسل در نسل تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ یہ کہانیاں بڑے ہونے کے بعد ناصرف ان بچوں کی اخلاقی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں، بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت کو بھی نکھارتی ہیں۔ ایرانی تہذیب بھی اپنے آپ میں شاعری، داستانوں اور قصوں کی تہذیب ہے۔ ایک ایرانی لوک کہانی “قصۂ نخودی” کا ترجمہ اسد فاطمی نے لالٹین کے اردو قارئین کے لیے کیا ہے۔

 

بہت پرانے وقتوں کی یہ بات ہے کہ ایک بہت شاداب سے گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے جن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت خدا سے یہی دعا کرتے رہتے کہ خدا انہیں اولاد دے۔
ایک دن کیا ہوا کہ وہ عورت شوربے کی پیالی ہاتھ میں لیے جا رہی تھی کہ پیالی میں سے مٹر کا ایک دانہ اچھلا اور تندور میں جا گرا۔ تندور میں گرتے ہی وہ مٹر کا دانہ ایک خوبصورت اور نٹ کھٹ سی بچی بن گیا۔
اسی اثنا میں اس کی ایک پڑوسن جو ہر وقت اس کا دماغ کھاتی رہتی تھی، اس نے دیوار سے سر اوپر کر کے کہا: “اری بہن! میری بیٹیاں جنگل میں پھل پھول چننے جانے لگی ہیں۔ اپنی بیٹی کو بھی ان کے ساتھ بھیج دو جنگل میں پھل پھول چننے”۔
اس عورت کا چونکہ کوئی بچہ نہ تھا، وہ سمجھی کہ وہ ہمسائی کا سر کھا رہی ہے۔ وہ اس بات پر بہت غمگین ہوئی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے رونے لگی۔ مٹر نے رونے کی آواز سنی اور باتیں کرنے لگا، اس نے تندور کے اندر سے آواز سنی: “پیاری اماں! مجھے باہر نکالو اور ان لڑکیوں کے ساتھ جنگل بھیجو!”
عورت حیران اور پریشان سی ہو گئی اور سمجھی کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی وقت اس کے کانوں پر آواز پڑی اور اسے اندازہ ہوا کہ آواز تندور سے ہی آ رہی ہے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور تندور کے اندر جھانکا اور ایک ننھی منی سی پیاری سی، بالکل ایک مٹر کے دانے جیسی چھوٹی سی بچی تندور میں پڑی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اسے تندور سے باہر نکالا۔ اس نے اسے نہلایا دھلایا، اسے اچھے سے کپڑے پہنائے۔ اس کی بالوں میں مانگ کھینچی۔ اور اس کا نام رکھا مٹری۔ پھر اس نے پڑوسن کے بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیا۔
مٹری پڑوسن کے بچوں کے ساتھ سورج ڈوبنے تک پھل پھول چنتی رہی۔ سورج پہاڑ کے پیچھے کہیں چھپ گیا اور سب بچوں نے کہا: “اب ہم گھر لوٹتے ہیں”۔
مٹری نے کہا: “ابھی بہت جلدی ہے۔ تھوڑی دیر اور چن لیں”۔
سب بچوں نے مٹری کی بات مان لی اور سبھی پھر سے جنگل میں پھل پھول چننے لگے۔ اندھیرے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، اور سبھی بچے اپنا کام ختم کر کے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔ اچانک ایک دیو اندھیرے سے نکل کر باہر آ گیا۔
دیو نے کہا: “بچو بچو، چاند سے بچو! یہ راستہ کہاں اور تم کہاں! یہاں سے آگے جاؤ گے کہاں؟”
مٹری نے کہا: “ہم یہاں سے گھر کی طرف جا رہے ہیں”۔
دیو نے کہا: “چاروں طرف چھایا ہے اندھیرا۔۔ یہاں سے آگے ہے بھیڑیے کا ڈیرا۔۔ وہ آ نکلا بچے، تو کیا بنے گا تیرا!!۔۔ اگر تم مانو، ایک مشورہ ہے میرا۔۔”
بچوں نے پوچھا: “کہیے، ہم کیا کریں اب؟”
دیو نے کہا: ” گھروں کو نکلنا صبح سویرے۔۔ آج کی رات رہو گھر میرے۔۔”
مٹری نے کہا: “ٹھیک ہے، ہمیں قبول ہے”۔
اور وہ سبھی دیو کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دیو نے انہیں سونے کے کپڑے پہنائے اور جونہی وہ سو گئے اس نے اپنے آپ سے کہا: “آہا! کیسا ان کو میں نے الو بنایا۔۔ بھیڑیے سے ڈرا کے گھر لے آیا۔۔ کچھ دن ان کو کھلاؤں گا، پلاؤں گا۔۔۔ ان کو خوب موٹا تازہ بناؤں گا۔۔ جب ٹھیک سے پل جائے گا ایک ایک بچہ۔۔ مزے سے ان کو چباؤں گا کچا۔۔”
تھوڑی دیر گزری تو دیو نے اونچے سے کہا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “آدھی ہے رات ، سوتی ہے خدائی۔۔ پر تم کو نیند ابتک نہ آئی۔۔۔ کیوں بچے؟”
مٹری نے کہا: “مجھے اس طرح نیند نہیں آتی۔۔”
دیو نے کہا: “جھولا جھلاؤں کہ لوری سناؤں۔۔۔ بتاؤ بچی، تمہیں کیسے سلاؤں؟”
مٹری نے جواب دیا: “جب میں گھر میں ہوتی ہوں تو میری اماں سونے سے پہلے حلوا بناتی ہیں اور تلے ہوئے انڈے کے ساتھ مجھے کھلاتی ہیں۔
دیو گیا ، حلوہ اور تلا ہوا انڈہ بنا کر لایا اور لا کر مٹری کے آگے رکھ دیا۔ مٹری نے باقی سب لڑکیوں کو جگایا اور کہا: “اٹھو اور حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھاؤ”۔
سبھی لڑکیوں نے جی بھر کے حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھایا اور پھر جا کر سو گئیں۔
کچھ دیر گزری تو دیو نے اونچی آواز میں پوچھا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “سبھی سو رہے ہیں، صرف میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “تم کیوں جاگتی ہو؟”
مٹری نے کہا: “جب میں اپنے گھر میں ہوتی ہوں تو میری ماں ہمیشہ شام پڑنے کے بعد کوہ بلور کی طرف جاتی ہے اور چھلنی سے نُور نَدی کا پانی چھان کر لاتی ہے اور مجھے پلاتی ہے”۔
دیو ایک چھلنی ہاتھ میں لیے کوہ بلور اور نور ندی کی طرف چل دیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔مٹری اور باقی سبھی لڑکیاں نیند سے جاگیں اور انہوں نے دیو کے گھر سے جو چیز پسند آئی، اٹھا لی اور گھر کو چل دیں۔ وہ آدھے راستے تک پہنچی تھیں کہ مٹری کو یاد آیا کہ ایک بہت خوبصورت سونے کا چمچ دیو کے گھر پڑا رہ گیا ہے۔ وہ واپس پلٹ گئی کہ جا کر وہ چمچ اٹھا لے۔ جونہی وہ دیو کے گھر پہنچی، اس نے دیکھا کہ دیو گھر واپس آ گیا پہنچ آیا ہے۔ وہ اپنی جگہ لیٹ گئی اور سونے کا چمچ اٹھانے کے لیے رینگنے لگی۔ اس کوشش میں برتنوں کے ٹکرانے سے کھٹ کھٹ کی آواز پیدا ہوئی جو دیو نے سن لی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر مٹری کو پکڑ لیا۔ اس نے اسے پکڑ کر ایک بوری میں بند کر دیا اور بوری کے منہ کو باندھ دیا اور جنگل چلا گیا تاکہ مٹری کو پیٹنے کے لیے انار کی لکڑی سے ڈنڈا بنا لائے۔
مٹری نے جیسے تیسے، زور لگا کر بوری کی گرہ کھول لی اور باہر نکل آئی۔ اس نے دیو کے پالے ہوئے میمنے کو پکڑ کر بوری میں ڈال دیا اور گرہ دے کر ایک کونے میں چھپ کر کھڑی ہو گئی۔
دیو بغل میں چھڑی دبائے واپس آیا اور اس کے ساتھ زور زور سے اپنے میمنے کو پیٹنے لگا۔ میمنا مارے درد کے زور سے ممیاتا اور چلاتا، اور دیو اسے اور زور سے مارتا جاتا اور کہتا: “پہلے مجھے الو بناتی ہو!۔۔ پھر میرے گھر کی سبھی چیزیں اٹھا لے جاتی ہو۔۔۔ اب میمنے کی طرح ممیاتی ہو!”
جب میمنے نے ممیانا اور تڑپنا بند کر دیا تو دیو نے بوری کو کھولا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کا لاڈلا میمنا اسی کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور دائیں بائیں سونگھنے لگا۔ گھر کے ہر کونے کھدرے سے ڈھونڈنے کے بعد آخر اس نے مٹری کو ڈھونڈ لیا اور اسے پکڑ کر اونچی آواز میں چلایا: “میں تیری تکا بوٹی نہیں بناؤں گا۔۔ میں تمہیں زندہ ہی کھاؤں گا۔۔۔اور تیری شرارتوں سے جان چھڑاؤں گا۔۔”
مٹری نے کہا: “اگر تو مجھے زندہ کھائے گا تو میں تیرے اندر جا کر تیرا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی اور باہر نکل آؤں گی”۔
دیو ڈر گیا اور سوچا کہ یہ سچ مچ میری انتڑیاں توڑ ڈالے گی اور میرا پیٹ پھاڑ دے گی۔ اس نے پوچھا: “تجھے ایسے نہ کھاؤں۔۔ تو پھر کیسے کھاؤں؟”
مٹری نے کہا: “پہلے روٹیاں پکاؤ۔ پھر میرے کباب بھوننا اور مجھے روٹی کے ساتھ مزے لے لے کر کھانا۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ روٹی اور کباب کیسے مزے کا کھانا ہے”۔
یہ بات سنتے ہیں دیو کے منہ میں پانی بھر آیا اور جھاگ بن کر اس کی باچھوں سے نکلنے لگا۔ اس کا دل گرما گرم کباب اور تازہ روٹی کے لیےبے چین ہو گیا۔ وہ تیزی سے تندور کی طرف گیا اور اس میں آگ جلائی۔ جونہی وہ روٹی پٹخنے کو تندور میں جھکا، مٹری اس کی بغل سے پیچھے کود گئی۔ اس نے دیو کو ایک زور دار دھکا دیا جس سے وہ جلتے ہوئے تندور کے اندر جا گرا۔ مٹری سونے کا چمچ اٹھا کر واپس اپنے گھر اپنے ماں باپ کے پاس جا پہنچی اور ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔

 

Categories
نقطۂ نظر

انصاف

youth-yell-inner
احمد فرہادمیں حکیم اللہ محسود ہوں کیا تم نہیں جانتے؟ جانتا ہوں۔ میں تحریک طالبان کا امیر ہوں کیا تم نہیں جانتے؟۔ جی میں جانتا ہوں۔ تو پھر میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ یہ دھماکہ ہم نے کیا ہے۔ ہاں یہ دھماکہ ہم نے کیا ہے۔ یہ تیس فوجی،سات بچے،دو عورتیں اور پانچ مرد ہم نے اڑائے ہیں۔ پچھلے دنوں پچاس فوجیوں کی گردنیں ہم نے کاٹی تھیں۔۔ ہم مزید لوگ اڑائیں گے ۔۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جب تک پاکستان کے چپے چپے پر اسلام نافذ نہیں ہو جاتا۔ بتاؤ اب مانتے ہو کہ نہیں؟۔نہیں نہیں ایسا نہ کہیں۔ میں نہیں مان سکتا امیر میں نہیں مان سکتا۔

خبیث شخص کیا کچھ دیر پہلے میں نے تمہارے سامنے ایک ایف سی اہلکار کی گردن نہیں کاٹی ؟

نہیں نہیں یہ کام آپ نے نہیں کیا۔ نہیں نہیں میری آنکھوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ نہیں نہیں میری آنکھیں دھوکہ کھا رہی تھیں۔ یہ ظلم آپ کر ہی نہیں سکتے۔

تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟۔

نہیں میرا دماغ ٹھیک ہے ا میر۔

تو پھر مانتے کیوں نہیں۔

مانتا تو ہوں۔ کیا مانتے ہو؟۔

کہ یہ دھماکہ آپ نے نہیں کیا۔

خر زاد کیا عجیب شخص ہو تم؟لعنت ہو تم پر۔

نہیں امیر میں نہیں مان سکتا۔ میں کچھ بھی نہیں مان سکتا۔ اور وہ چند ماہ پہلے کی ویڈیو جس میں آپ ایک فوجی کا گلہ کاٹ رہے تھے وہ بھی جعلی تھی۔ اور یہ بھی مانتا ہوں کہ آپ نے آج تک مکھی بھی نہیں ماری۔

پاگل شخص اب تمہیں اور کیا ثبوت دیں۔

ثبوت نہیں رہائی چاہیے۔

رہائی نہیں تمہیں اب زندگی سے ملے گی۔

تم نے ہمارا نام خراب کیا ہے۔

حضور خدارا ایسا مت کہیے۔یا امیر آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔میں تو آپکا حامی ہوں ۔

لعنت ہو تم پر۔۔ تم زندیق ہو۔تمہیں مجاہدین کی طاقت پر شک ہے۔تم واجب القتل ہو۔تم حامی نہیں ہمارے۔تم بزدل ہو۔۔ ہم بہادر ہیں۔ہم مار کر بتاتے ہیں۔

نہیں امیر کچھ بھی ہو جائے میں کبھی نہیں مانوں گا کہ یہ آپ نے کیا ہے۔ یہ امریکہ نے کرایا ہے۔ یہ بھارت نے کرایا ہے۔ اگر کسی نے نہیں تو یہ ظلم ہماری فوج نے خود کیا ہے۔ ہم نے کیا ہے۔ ہماری ایجنسیوں نے کیا ہے۔ میں نے کیا ہے ۔ مگر آپ نے ہر گز نہیں کیا۔

کیا تم نے خود کش حملہ آور کی جاتے ہوے ویڈیو نہیں دیکھی۔ جی دیکھی تھی ۔ کیا اس لڑکے نے حملے کی پوری منصوبہ بندی نہیں بتائی؟۔

جی بتائی تھی۔

کیا اس نے نہیں بتایا کہ وہ کون ہے اور اسے کون بھیج رہا ہے؟۔

جی بتایا تھا۔

کیا خود کش حملہ آور اور ویڈیو والا لڑکا ایک ہی نہیں تھے؟۔

جی جی دونوں ایک ہی تھے۔

کیا ویڈیو میں اس کے ساتھ میں موجود نہیں تھا ؟۔

جی جی آپ بھی تھے میرے امیر۔

تو پھر تم نے بار بار میڈیا میں بیان کیوں دیا کہ یہ ہم نے نہیں کیا؟۔ تم جھوٹے ہو۔جھوٹے کو خدا پسند نہیں کرتا۔

نہیں امیر ایسا مت کہیے۔میں اب بھی کہتا ہوں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔آپ تو جہاد کر رہے ہیں۔آپ نے آج تک پتا بھی نہیں توڑا ۔

اڑا دو اس کے بیٹے کو۔

نہیں امیر رحم۔

تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔تڑاخ ۔

ہائے امیر یہ کیا ظلم ہو گیا۔۔یہ کیا آفت ٹوٹ پڑی مجھ پر

اب بتا تیرے بیٹے کو کس نے مارا؟

نہیں امیر میں نے نہیں دیکھا۔۔مجھ سے قسم لے لیجیے میں نے نہیں دیکھا

لعنتی آدمی تو کس مٹی کا بنا ہے۔ خبیث انسان تو نے ہمیشہ ہماری محنت کا صلہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کے کھاتے میں ڈالا ہے ۔تو نے ہمارے مجاہدین کی قربانیوں کا انکار کیا ہے۔ تونے میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔لگتا ہے توامریکہ کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی لیے ہم تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اغواء کر کے لائے ہیں۔اب تمہاری باری ہے۔

نہیں نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔ ہم بہادر ہیں ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔

احمد فرہاد پیشہ کے اعتبار سے صحافی اورکیپیٹل ٹی وی میں سینئر ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہیں۔ صحافت کے علاوہ نغمہ نگاری، ڈرامہ نویسی اور شاعری میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ان تصانیف کی متعدد اداروں نے اعزازات اور انعامات کی شکل میں پذیرائی کی ہے۔

Categories
اداریہ

‘روشنی سے ڈرتے ہو’

فیس بک پر روشن خیالی اورانسانی حقوق کے ترجمان پیج ‘روشنی’ پر پابندی

roshni

میڈیا، چاہے وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، آزادی اظہار اور عوامی رائے کے معاملے میں کئی حوالے سے حدود وقیود رکھتا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا کی مقبولیت فطری رجحان ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں سوشل میڈیا نے پاکستان میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔سوشل میڈِیا پرصارفین کی دلچسپی کے مطابق ذرائع کا وسیع خزانہ موجود ہے۔ ان ذرائع میں سیاسی و نظریاتی میدان میں جہاں دائیں بازو کی فکر کی بھرمار ہے، روشن خیال خیال اور معتدل مواد ڈھونڈنے سے ہی ملتا ہے۔ایسے میں ‘روشنی’ نام کا ایک پیج تیزی سے مقبول ہو رہا تھا کہ حال ہی میں پی ٹی اے [پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی] نے اس پیج کو بند کر دیا ہے۔
‘روشنی’ کا مقصد سیاسی و سماجی مسائل پر متبادل آراء کو سامنے لا کرعوام کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنا تھا۔ ‘روشنی’ پیج کے ایڈمن کے مطابق “روشنی کا کام، ملا ہو یا فوج، سیاست دان ہو یا پاکستانی قوم، جہالت اور منافقت کو جائز تنقید اور طنز کے ذریعے سامنے لانا اور لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرنا ہے- روشنی بعض اوقات تلخ سچ بھی دکھاتی ہے، ایسے سچ سے فرار ہونا تو مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ اگر آئینے میں نظر آنے والی شکل اچھی نہیں تو آئینہ توڑدینے سے کوئی حقیقت تو نہیں بدلے گی۔ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آنے سے انکھیں چندھیا جاتی ہیں، مگر ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔”
‘روشنی’ جن موضوعات کو معلومات، بحث اور متبادل آراء کے ساتھ سامنے لاتی رہی ہے ان میں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت، مذہبی سیاست، غیر جمہوری اداروں کا کردار، میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار وغیرہ شامل ہیں۔
سوشل میڈیا کا مطلب ہی یہی ہے کہ صارفین کو مواد تخلیق کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق اس تک رسائی حاصل کرنے میں مکمل آزادی ہے۔ کوئی بھی ناپسندیدہ مواد صارف کو زبردستی نہیں دکھایا جا سکتا۔ یوں یہ پابندی بے بنیاد اور بے معنی ہے۔ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ ‘روشنی’ جیسے بے ضرر پیج پر پابندی لگا دی گئی، مگر طالبان کے آفیشل پیج ابھی تک کیوں چل رہے ہیں۔

Categories
خصوصی

میرا جہاد

rana-irfan

رانا عرفان

ضیا الحق کی موت کے ساتھ اس کا گیارہ سالہ دور ختم ہوئے کئی دن ہو چکے تھے اور ابھی تک مساجد میں جمعہ کے خطبوں میں اس کے فضائل پر مشتمل دھواں دھار تقریروں کا سلسلہ جاری تھا۔ جہادی تنظیمیں اب بھی ہمارے شہر میں برابر سرگرم تھیں۔ لٹریچر اور جوشیلے ترانوں والی کیسٹوں کی تقسیم، جہادی مظاہرے، اسلحے کی نمائش اور تقریروں، خطبوں میں کمی آنے کی بجائے یہ سلسلہ کچھ تیز ہوتا نظر آ رہا تھا۔
میرا تعلق چنیوٹ کے ایک سخت گیر مذہبی گھرانے سے ہے جو اس وقت کی ایک نوزائیدہ فرقہ پرست کالعدم تنظیم کا شدید حامی خاندان تھا۔ اس پس منظر کی وجہ سے مجھے مخالف فرقوں کے خلاف متشدد جذبات رکھنے کے لیے بڑی حد تک گھر میں ہی موزوں فضا میسر آ گئی تھی۔ مذہبی مزاج کا یہی انتہا پسند پہلو آگے جا کر میری زندگی کے ایک بڑے حصے کوایک نہایت بے سمت سفر میں دھکیلنے والا تھا۔میں اس وقت کالج میں زیرِ تعلیم تھا اور بجا طور پر اس وقت کے نوجوانوں میں گردش کرنے والے تشدد پسند لٹریچر سے ازحد متاثر بھی تھا۔ گلی محلوں میں آ کر جہاد کی تبلیغ کرنے والے سبھی اجنبی چہروں سے مانوسیت ہو چکی تھی اور میں نے ان کے مقامی اجتماعات اور محافل میں جانا شروع کر دیا تھا۔ روایات صالحات کے مسلسل اعادے سے ہمیں یہ تو باور کروا دیا گیا تھا کہ اسلحہ مومن کا زیور ہے، ساتھ میں ان اجتماعات میں جدید اسلحے کی سرِ عام نمائشیں ہمیں یہ زیور پہننے کے لیے للچاتی اور لبھاتی بھی رہتیں۔ میرے یہ نئے دوست پر امن تبلیغی مہمات اور تبلیغی گروہوں کی شدید مخالفت اور مذمت کرتے ہوئے ہمیں پر جوش جہادی ترانوں کی دھن پر “عملی قدم” اٹھانے کی تلقین کیا کرتے تھے، اور ہم ان تعلیمات کو ان اجتماعات سے ازبر کر کے اپنے اقارب میں آ کر ان تعلیمات کا اعادہ کرتے۔ شہر کے عام لوگوں میں بھی اب اخلاقی قدریں بڑی حد تک بدل رہی تھیں۔ میرے جو دوست میری تبلیغ کے باوجود نماز کے لیے باقاعدگی سے مسجد میں نہیں پائے جاتے تھے، میں نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔روز مرہ معاملات میں ملنے جلنے والےلوگوں سے تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کے لیے میں نے تقویٰ کے ایک ذاتی معیار کو پیمانہ بنا لیا۔ اب مجھے اپنی باتوں پر کان نہ دھرنے والے لوگ دوزخ کا ایندھن اور جانوروں سے بدتر مخلوق نظر آنے لگے تھے۔ میرا حلقۂ احباب ایک طرف سے سکڑ رہا تھا، جبکہ دوسری طرف میں آئے روز نئے “نورانی” چہروں سے متعارف ہو رہا تھا۔
چنیوٹ میں آئے روز مختلف گروہوں کے زیر اہتمام جہاد کانفرنسیں منعقد ہو رہی تھیں، اور میں بھی تمام تعلیمی مصروفیات سے ترجیحی طور پر وقت نکال کر ان اجتماعوں میں شریک ہوتا رہا۔ کشمیر اور افغانستان کے میدانوں سے آئے ہوئے مجاہدین اپنی تقریروں میں جوشیلے جملوں کے ساتھ اپنی کارروائیوں کا احوال سناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پِس رہا ہے اور سبھی غیر مسلم ممالک کی سوائے اس بات کے، کسی اور امر میں دلچسپی نہیں کہ مسلمانوں کوصفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے۔سبھی لوگوں پر مسلح اقدام واجب ہے اور پر امن تبلیغ یا سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگ کشمیری اور افغان مسلمانوں کے مجرم ہیں وغیرہ۔ بیچین کر دینے والی ان تقریروں کو سن کر میرے اندر عدم تحفظ کا ایک احساس پیدا ہوا اوراسلحے کی نمائشوں کو دیکھ کر میرے دل میں ہتھیار چلانے کی لگن پیدا ہوئی۔
۱۹۸۹ء کے ابتدائی دنوں میں میں نے جہاد پر جانے کا فیصلہ کر لیا اورایک مقامی کالعدم فرقہ پرست تنظیم سے وابستہ افراد کے توسط سےمجاہد تنظیموں کے چنیوٹ سطح کی انتظامیہ تک رسائی حاصل کی۔مقامی تشکیل کے باریش امیر المجاہدین نے میرے جذبۂ جہاد کی قدر کی اور میری شہادت کی آرزو کے پورے ہونے کی دعا کی۔ سن ۸۹ء کے موسم بہار میں ایک دن میں گھر سے ضروری سامان اور کپڑے لے کر چنیوٹ مرکز پہنچا اور امیر صاحب نے مجھ سمیت پچیس نوجوانوں کے لیے ایک رقعہ میرانشاہ معسکر کے امیر المجاہدین کے نام لکھ کر ہمیں دیا۔ایک طویل اور بے چین فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم میرانشاہ میں قائم حرکۃ المجاہدین کے معسکر (چھاؤنی) پہنچے اور پہنچتے ہی ہمارے تمام کوائف کی تصدیق کی گئی۔اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہماری تشکیلِ نو کی گئی اور ہمیں دس سے بارہ جوانوں پر مشتمل گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ تشکیلِ نو کے بعد ایک گاڑی ہمیں میرانشاہ سے شمال مغرب کی طرف لےگئی۔ افغانستان کی حدود میں پہنچنے کے بعد گاڑی تبدیل کی گئی جو کہ ہمیں خوست شہر کے نواحات میں واقع ایک جہادی معسکر تک لے گئی۔ اس معسکر میں ہمیں چالیس دن تک جہادی تربیت حاصل کرنا تھی۔ ہمارے استقبال کے بعد ہم سے مختلف قسم کے فارم اور حلف نامے بھروائے گئے جن میں ہم نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم اپنی مرضی سے جہاد پر آئے ہیں اور مارے جانے کی صورت میں جہادی تنظیم، والدین یا لواحقین کے کسی ردعمل کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔
دوسرے ہی دن ہماری تربیت کا آغاز ہوا، جس میں نمازِ فجر کے بعد تلاوت ہوتی اور اس کے بعد وردی بوٹ بدلنے کے لیے دو منٹ دئیے جاتے جس کے فوراً بعد ہم پیشہ ور اساتذہ کے زیرِ نگرانی صبح سات تا نو بجے تک پی.ٹی اور ڈرل جیسی مشقیں کرتے۔ ناشتے کے بعدظہر کے وقت تک اسلحہ کی تربیت حاصل کرتے جس میں ہلکے اسلحے سے لے کر بھاری راکٹ لانچروں تک کی تربیت شامل تھی۔ عصر تک سپیشل کمانڈوز ٹریننگ (تخصص) کرنے والے جوان اپنی مشقوں میں مگن رہتے جبکہ ہم اپنا اسلحہ کی صفائی کرتے اور سستاتے، عشاء کی نماز کے بعد دیر تک جہادی بیان ہوتا اور جہاد کے فضائل اور کشمیر و افغانستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داستانیں بیان کی جاتیں۔
چالیس دن بعد ہماری تربیت مکمل ہوئی اور مجھے صوبہ خوست ہی میں شمالی اتحاد کے خلاف ایک محاذ پر بھیج دیا گیا۔ یہاں ہر پندرہ روز بعد تعینات جنگجوؤں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ پندرہ روز تک معمول کی جھڑپوں اور گوریلا کارروائیوں کے بعد میری جگہ ایک اور جنگجو کو تعینات کر کے مجھے معسکر واپس بلوا لیا گیا۔ یہاں ہم سے جہاد جاری رکھنے اور تخصص (اسپیشل کمانڈو تربیت) کرنے کے لیے ہماری آمادگی کا پوچھا گیا۔ تخصص کر چکنے والے جنگجوؤں کو بہت قابلِ ذکر مراعات حاصل تھیں اور دیگر وابستہ حلقوں میں انہیں بہت تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔میں نے جہاد جاری رکھنے اور تخصص کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی جس کے بعد مجھے میرانشاہ سےپشاور بھیج دیا گیا۔ پشاور کے مرکز میں رسمی کارروائیاں نمٹانے کے بعد جلال آباد (افغانستان) میں واقع ایک اور معسکر میں بھیج دیا گیا جہاں تین ماہ پر مشتمل تربیتی دور کا آغاز ہوا۔ یہ معسکر فلپینی جنگجوؤں کے زیرِکمان تھا جو عربی، پشتو اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ دیگر زیرِتربیت جنگجو چونکہ ان تینوں زبانوں سے نابلد تھے لہٰذا مجھے انگریزی سے موزوں واقفیت کی وجہ سے ان کمانڈروں کے نہایت قریب رہنے کا موقع ملا۔ میں زیرتربیت جنگجوؤں اور فلپینی کمانڈروں کے درمیان ترجمانی اور رابطے کا کام بھی سرانجام دیتا رہا۔تخصص کے دوران ہمیں بھاری توپ خانے، ہلکے ہتھیاروں اور دیگراعلی مہارتوں کی تربیت دی گئی۔ اس کورس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ہمیں کشمیر، تاجیکستان یا اندرون افغانستان کے محاذوں کی مہمات پر بھیجا جانا چاہیے تھا۔ تین ماہ کی تربیت کے اختتام پر ہم سے ہماری پسند کے محاذوں کا پوچھا گیا۔
معسکر کی راتوں میں جہادی کانفرنسوں میں سنی تقریریں ہمارے کانوں میں گونجتی تھیں اور جہادی لٹریچر میں دکھائی گئی کٹی پھٹی لاشیں ہمارے خوابوں میں آ آ کر چیختی تھیں۔ہم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور پکار پکار کر کشمیر کے لوگوں کو آوازیں دیتے اور انہیں بھارتی ریاست سے آزاد کرانے کے عہد کیا کرتے۔ پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آنے والی خنک ہوائیں ہمیں جنت کے بہشتی جھونکوں کی طرح لگتیں اورجنتی خیموں کے کنارے بیٹھی حوروں کا انتظار ہمارے بس سے باہر ہونے لگتا۔ تخصص مکمل ہوتے ہی میں نے اور کچھ دوسرے ساتھیوں نے کشمیر جانے پر آمادگی ظاہرکی۔جلال آباد سے ہمیں مظفرآباد لایا گیا۔ یہاں سے اَٹھ مقام میں واقع قومی حساس ادارے کے ایک دفتر میں ہمارا استقبال کیا گیا۔اکتوبر ۱۹۸۹ء کو سخت سردی میں اَٹھمقام سے ہم حساس اداروں کی حفاظت میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے لیکن شدید برفباری کی وجہ سے آگے کے راستے بند تھے اور ہم فضا سازگار ہونے کے انتظار میں وہیں رک گئے۔
اسی دوران مظفرآباد سے مجھے پیغام ملا کہ میرے والد صاحب مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے مظفرآباد پہنچ آئے ہیں۔ مجھ سے میری آمادگی جان کر خصوصی گاڑی پر مظفرآباد بھیجا گیا جہاں میں نے والد صاحب سے ملاقات کی۔ والد صاحب نے مجھے والدہ کی صحت اوردیگر معاملات اور گھر پر میری ضرورت کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں اور اس دوران وہ نہایت جذباتی ہو گئے۔ میں نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور والد صاحب کے ہمراہ چنیوٹ آ گیا۔ گھر واپسی پر میرے خاندان میں ایک خوشی کی لہر ضرور دوڑی لیکن اس وقت تک مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔خوست کے سرحدی محاذوں پر جھڑپوں میں عملی شرکت اور مجاہدین کی ہمراہی میں تقویٰ اور روحانی ریاضتوں نے ایک خاص قسم کی پرہیزگارانہ نخوت پیدا کر دی تھی۔ آس پاس رہنے والے عام لوگ، جو میری طرح جہاد پر نہیں گئے تھے اور جہادی حلیے کی بجائے روایتی لباس اور وضع قطع کے ساتھ روزمرہ کے کام کاج کرتے تھے، ان لوگوں کے لیے میرے دل میں سوائے حقارت کے اور کوئی جذبہ نہیں بچا تھا۔ اب میرے نزدیک شہر کے سبھی “غیرمجاہد” باسیوں کی زندگی کا ایک ایک سانس ایک کفریہ فعل کے مترادف تھا۔ افغانستان میں جاری روس امریکہ جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے حامی افراد میں میری جہاد سے واپسی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ آئے روز شہر میں نئے سے نئے ناواقف افراد کے ہاں سے مجھے کھانے کے دعوت نامے موصول ہونے لگے۔ ان مجلسوں میں بیٹھ کر اپنے جہاد کے قصے سنا کر مجھے جس قدر تکریم اور پذیرائی ملتی رہی، اسی قدر عام “دنیادار” لوگوں سے بیزاری اور میرے جنگجویانہ مزاج میں مزید ترشی آتی گئی۔
اس دوران میں نے دوبارہ جہاد پر جانے کا فیصلہ کیا اور نئے سرے سے اپنا سامان باندھ لیا۔میرا ایک ہم راز دوست مجھے بس اسٹاپ تک چھوڑنے میرے ساتھ آیا، لیکن اسی دوران میرے والد کو میرے دوبارہ جہاد پر جانے کا علم ہو چکا تھا۔ وہ نہایت جذباتی ہو کر بس سٹاپ پہنچے اور مجھے روکنے پر قائل کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے اس ارادے سے باز نہ آیا تو وہ گاڑی کے چلتے ہی اس کے آگے لیٹ کر اپنا خاتمہ کر لیں گے۔ اس وقت دنیا کا ہر وہ جذبہ جو مجھے لڑائی پر جانے سے روکتا تھا، میرے نزدیک نہایت مذموم اور میرے جنت کے حصول کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ میں نے پوری بے حسی کے ساتھ اپنے مرحوم والد کو واویلا کرتا چھوڑا اور بڑے بس اڈے کی طرف نکل پڑا۔ میرے بس اڈے پہنچنے تک بنوں جانے والی آخری بس نکل چکی تھی۔ بس نکلنے کو میں نے اپنی روانگی کے لیے ایک برا شگون سمجھا اور مجھے اپنے والد کی نافرمانی پر ندامت محسوس ہوئی۔ لیکن دوسری طرف میری اپنی انا، اور جنت کا حصول میرے گھر لوٹنے سے مانع بھی ہو رہے تھے۔ ایک طویل پس و پیش کے بعد میں نے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ گھر پہنچا تو میرے والد ابھی تک گھر نہیں پہنچے تھے اور والدہ بستر پر نڈھال پڑی تھیں۔ میں نے دوبارہ جہاد پر نہ جانے کا فیصلہ کیا لیکن ساتھ ہی میں جہادی مراکز میں میری ذہن کو جس طرح کے متشدد خیالات میں ڈھالا گیا تھا، مجھے مسلسل بے چین کیے رکھتا تھا۔
۱۹۹۲ء میں میری ملاقات ایک کالعدم فرقہ پرست تنظیم کے ایک عسکریت پسند سے ہوئی۔ بے تکلفی ہونے کے بعد وہ مجھے ایک مسجد کے ایک گوشے میں لے گیا جہاں اس نے مجھے جدید اسلحے اور ایمونیشن کا ایک بڑا ذخیرہ دکھایا۔ اسے دیکھ کر میری اسلحہ استعمال کرنے کے لیے بیچینی اور بڑھ گئی۔ اپنے ذاتی پس منظر اور امتیازی تربیت کی وجہ سے میں دوسرے تمام فرقوں کو بھی دیگر غیر مسلموں کی طرح واجب القتل سمجھتا تھا۔ اور اسی ہم فکری نے مجھے اس نئے دوست سے قریب کیا تھا۔ اس شخص نے مقامی سطح پر ‘جہاد’ کے ارادے میں شمولیت کے حوالے سے میری رائے لی، جس کے لیے میں پہلے سے ہی تیار تھا۔ کالعدم تنظیم کے اس رکن نے مجھے مقامی سطح پر شیعہ فرقہ کے لوگوں کے خلاف مسلح جہاد کی ایک اسکیم پیش کی۔ اس کے مطابق ہمیں پہلے مرحلے میں علاقہ کے بااثر اور ثروت مند شیعہ لوگوں کو مالی طور پر کمزور بنانا اور ان کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچانا تھا۔ میں شیعہ فرقہ کی تکفیر پر مشتمل تقریری و تحریری مواد اس قدر پڑھ سُن چکا تھا کہ مجھے ڈکیتی جیسا سنگین اخلاقی جرم ایک کارِ خیر سے کم نہیں لگا۔
کالعدم تنظیم کے اس گروہ کے ساتھ ہم نے ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں ہمیں تالا توڑنےاور نقب لگانے کے لیے پیشہ ور چوروں اور نقب زنوں کی ہمراہی حاصل تھی۔ اس وقت تک مجھے اپنا ہر مجرمانہ عمل، نفاذِ اسلام اور ناموسِ صحابہ کے مشن کے لیے ایک مقدس اقدام لگتا تھا اور میرے پاس اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ہزار جواز تھے۔ تاوقتیکہ ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران میں نے اپنے گروہ کے سب سے پارسا ‘مجاہدوں’ کی اخلاقی سطح کو بے نقاب ہوتے دیکھا، جب ایک شیعہ گھر پر رات گئے بلوہ کے دوران اس گھر سے ایک خاتون نے ہماری توقع سے کہیں ذیادہ مزاحمت کی۔ میرے ساتھیوں نے اس خاتون کو خاموش کروانے کے لیے نہایت حیا باختہ گالیاں دیتے ہوئے انتہائی بے دردی سے زدوکوب کیا۔ اس خاتون کے مانوس زبان میں احتجاجی واویلا اور چیخ و پکارکے آگے مجھے مظلوم عورتوں کی وہ سب فرضی چیخیں بہت مدھم ہوتی نظر آئیں جو مجھے خوابوں خیالوں میں کشمیر یا کابل کی بولیوں میں سنوائی جاتی رہی تھیں۔ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی شہر کی ایک خاتون کی اس درجہ بے احترامی کو اپنے آنکھوں کے آگے دیکھ کر میرے ذہن میں اپنی زندگی کے گزشتہ ڈھائی سالوں پر کئی ایک سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔ان ڈھائی سالوں میں، جب میں اپنے ہم وطنوں سے مسلسل نفرت کر کے غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں شریک رہا تھا، جس جنگ کے پیچھے کارفرما عوامل اور طاقتوں کے ذاتی مفادات کے متعلق نسبتاً متوازن مطالعے کی میں نے کبھی زحمت نہیں کی تھی۔
اس رات کا واقعہ میرے لیے سوچ میں تبدیلی کا ایک اہم محرک تھا ہی، لیکن ساتھ ہی میں نے اب تک معسکروں اور جہادی کانفرنسوں میں پڑھی سنی یکطرفہ آراء کو ایک طرف رکھ کر متبادل تجزیوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ متوازن مطالعے کی بدولت مجھے گزشتہ ڈھائی سالوں میں اپنی تعلیم، خانگی زندگی اور توانائیوں کی رائیگانی کا احساس اور بھی شدت سے ہوا۔ اس تبدیلی کے بعد میں نےاپنی سماجی زندگی میں ملنساری اور انسان دوستی کے جذبے بحال کرنے کے لیے خوب ریاضت کی تاکہ گزشتہ برسوں کی مردم بیزاری کی تلافی کر سکوں۔اپنے گھر کی معیشت میں بہتر حصہ ڈالنے کے لیے میں نےشہر میں تن سازی کا کلب قائم کیا اور ساتھ میں میرے باطن میں فکری جوڑ توڑ کا عمل بھی برابر جاری رہا۔
سن ۹۲ء ہی کے موسمِ گرما میں ایک دن پولیس نے میرے کلب پر ریڈ کیا اور مجھے گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ علاقہ میں کالعدم تنظیم کی ایک تازہ ڈکیتی کی واردات پر مشکوک افراد کی فہرست میں، سابقہ وابستگی کی بنیاد پر مجھے بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ ملزمان پر چھبیس لاکھ روپے کی ڈکیتی کا الزام تھا۔ ایک طویل قانونی جدوجہد کے بعد مَیں اس مقدمہ سے بری ہو گیا اور اسی دن اپنی تن سازی کی دکان بڑھا کر شہر چھوڑ دیا۔ حوالات میں گزرنے والی رات اپنے ہاتھوں پر لگی آہنی ہتھکڑیوں کے ساتھ میں نے اپنی گزشتہ زندگی کا تفصیلی اور دیانتدارانہ محاسبہ کیا اور بہت سے ایسے نتیجوں پر پہنچا، جن کے اخذ کرنے کی اب تک مجھ میں ہمت نہیں آ رہی تھی۔ میں نے چنیوٹ کو خیرباد کہہ دیا۔فیصل آباد میں میری ڈاڑھی مونڈنے والا حجاّم وہ پہلا آدمی تھا جسے میں نے سب سے پہلے اپنے مجرمانہ ماضی کی داستان سنائی، اور جس نے مجھے ایک بدلی ہوئی وضع قطع کے ساتھ، ایک عام پاکستانی شہری کے روپ میں پہلی بار دیکھا تھا۔
آج میں لاہور میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک نئی اور بالکل مختلف زندگی گزار رہا ہوں۔ اگرچہ دو دہائیاں پرانی وہ جنگ ہمارے گھروں تک پہنچ آئی ہے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میرے بچوں نے ایک مختلف صدی میں جنم لیا ہے۔ یہاں میری معاش درس و تدریس سے وابستہ ہے اور اپنے تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہوئےمیری کوشش ہوتی ہے کہ نئی پود کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی بجائے انہیں محبتیں بانٹنے والا، جمہوریت پسند اور پرامن پاکستانی بننے کی تلقین کی جائے۔
افغان جہاد اور جہادِ کشمیر میں میرے ساتھ کئی ایک لوگ ایسے تھے، جو محاذوں سے زندہ نہیں لوٹے… بہت سے ایسے بھی ہیں جو محاذ سے لوٹ آئے لیکن اب تک عام شہریوں کو ان کے “پارسا” نہ ہونے کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، یا ان کے ہم وطنوں نے انہیں اپنے درمیان قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور کئی ایک ایسے بھی ہیں، جو اپنے سماج میں واپسی پر اس تصادم کے خوف سے اب تک پہاڑوں میں بیٹھے اپنے وطن کو یاد کر رہے ہیں۔ مجھے جلال آباد میں اپنے فلپینی کمانڈر کے وہ الفاظ اب بھی یاد ہیں جب میں نے اس پوچھا تھا کہ وہ وطن واپس کب جائے گا۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک دلگیر درد تھا جب اس نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا تھا؛ “شاید کبھی نہیں…”
میں خوش قسمت ہوں کہ ایک نئی زندگی کے ساتھ اپنے بیوی بچوں کے درمیان زندہ ہوں، تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی نسل کی منفی مہم جوئیوں کی یادداشتیں سنا سکوں۔


انگلش میں ترجمہ پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں۔


Categories
فکشن

قومی تفاخر کے باب میں

oliver-goldsmith

ترجمہ :زکی نقوی

جیسا کہ میرا تعلق فانی انسانوں کی اس آوارہ قبیل سے ہے جو کہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ کافی ہاؤس، مہمان سرائے اور دیگر عوامی جگہوں پر گزارتے ہیں سو مجھے بھانت بھانت کے کرداروں سے واسطہ رہتا ہے جو کہ کسی فطری نظارے یا کسی فن پارے سے لطف اندوز ہونے سے بڑی بھی کہیں تفریح ہے۔
اسی طرح کی ایک آوارگی کے دوران مجھے کچھ ایک جگہ کچھ ایسے حضرات کی صحبت مل گئی جو ایک سیاسی مسئلے پر گرماگرم بحث میں مشغول تھے۔ چونکہ سب برابر جذباتی ہوئے جا رہے تھے، لہٰذا فیصلے کے لیے مجھے ثالث چنا گیا جس سے مجھے بھی اس گفتگو میں حصہ لینا پڑا۔
دوسرےکئی موضوعات کے تنوع میں ہمیں یورپ کی دوسری اقوام کی خصوصیات کے بارے میں بھی بات کرنے کا موقع ملا کیونکہ ایک صاحب جو کہ اپنے تئیں انگریزی خصوصیات اور انگریزی قوم کی وضعداری کی تمام خصوصیات کا علمبردار سمجھ رہے تھے، انہوں نے اعلان کر دیا کہ ولندیزی نحوست اور لالچ کے پلندے ہوتے ہیں، فرانسیسی خوشامدی اور مسخرے ہوتے ہیں، جرمن شرابی اور وحشیوں کی طرح بسیار خور ہوتے ہیں، ہسپانوی مغرور، خودبین اور ظالم ہوتے ہیں، جبکہ دلیری، سخاوت، ترحمّ اور دیگر اچھی صفتوں میں انگریز تمام دنیا سے افضل ہیں…
اس انتہائی “پڑھے لکھے” اور تقدس مآبانہ نظریے کو سب نے قبولیت اور استحسان بھری مسکراہٹ سے دیکھا ماسوائے ناچیز راقم الحروف کے۔ میں نے اپنی ناگواری کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنا سر اپنے بازو پر ٹکا دیا گویا میں فی الوقت کسی اور معاملے پر سوچ رہا ہوں اور اس موضوع میں شاملِ مباحثہ نہیں ہوں۔ اور امید تھی کہ اس طرح میں اس ناگواری سے بچ جاؤں گا جو مجھے اپنا مؤقف واضح کر کے ان صاحب کو ان کی فرضی خوشی محروم کرنے سے ہو سکتی تھی۔ لیکن ان نام نہاد محب وطن صاحب کو اتنی عقل نہ تھی کہ مجھے معاف رکھتے۔ وہ فقط اسی پر مطمئن نہ تھے کہ ان کی رائے بغیر کسی اختلاف کے قبول کی جائے گی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ محفل میں موجود ہر شخص باقاعدہ ان کی رائے پر مہر تصدیق ثبت کرے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک بھرپور خوداعتمادی کے ساتھ مجھے مخاطب کیا گویا مجھ سے پوچھ رہے ہوں کہ آیا میں ان کی رائے سے متفق ہوں یا نہیں۔ جیسا کہ میں اپنی رائے دینے میں جلدی نہیں کرتا اور بالخصوص ایسی جگہوں پر جہاں مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ناقابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ جب رائے دینا ناگزیر ہوتی ہے تو میں ہمیشہ اپنے واقعی جذبات کے اظہار کے لیے کسی قول کا سہارا لیتا ہوں۔ میں نے اسی لیے کہہ دیا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اس موضوع پر اس قدر مستحکم انداز میں اس وقت تک حکم نہیں لگا سکتا جب تک میں بذات خود یورپ کا سفر نہ کر لوں اور ان اقوام کے رویوں کو احتیاط اور دوستی کے ساتھ پرکھ نہ لوں۔ پھر ایک غیر جانبدار منصف تو شاید ولندیزیوں کے بارے میں یہ بھی کہے گا کہ وہ کفایت شعار اور محنتی ہوتے ہیں، فرانسیسی متحمل اور شائستہ ہوتے ہیں، جرمن سخت جان اور سختی یا تکان کو برداشت کرنے کے اہل ہوتے ہیں اور ہسپانوی بردباری میں انگریزوں سے بہتر ہیں جبکہ انگریز جہاں شجاع اور سخی قوم ہیں وہاں تند مزاج، عزمِ صمیم والے اور جلدباز ہوتے ہیں۔ وہ خوشحالی میں بہت جلد مسرور اور بدحالی میں بہت جلد مایوس ہونے والے ہیں۔
میں بآسانی اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس سے قبل کہ میں اپنی بات مکمل کر پاتا، تمام لوگوں نے مجھے غصے اور نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ صاحب مجھے یوں گھور رہے تھے گویا سوچ رہے ہوں کہ؛ حیرت ہے! لوگ ایسے ملک میں کیونکر رہ رہے ہیں جس سے انہیں محبت ہی نہیں، اور ایک ایسی حکومت سے مراعات حاصل کر رہے ہیں جن کے وہ اندر سے دشمن ہیں۔ جب مجھے اندازہ ہوا کہ اپنے جذبات کا اظہار کر کے میں نے شاید جملہ حاضرین محفل کا حقِ رائے دہی ضبط کر لیا ہے اور انہیں موقع دے دیا ہے کہ وہ میرے سیاسی افکار پر بھی شک کریں، اور یہ کہ جہاں اس قدر خود پسندی ہو، وہاں کسی بحث و جرح کی کوئی افادیت نہیں، میں نے اپنی بحث کا رخ نسلی و قومی تعصبات کی بے بنیادی اور مضحکہ خیزی کی طرف موڑ دیا۔
عہدِ قدیم کے مشہور ترین اقوال زریں میں سے اپنے کہنے والے کے لیے سب سے زیادہ باعثِ عزت اور سننے والے کے لیے باعثِ مسرت قول وہ ہے کہ جب کسی فلسفی سے اس کی شہریت پوچھی گئی تو اس نے کہا تھا: “میں دنیا کا شہری ہوں”۔
دورِ جدید میں ایسے لوگ کتنے ہیں جو یہی بات کہہ سکتے ہیں۔ یا ایسے لوگ جن کا طرزِ عمل اس انداز کا ہو۔ ہم اس حد تک انگریز، ولندیزی (ڈچ)، فرانسیسی، ہسپانوی یا جرمن ہو چکے ہیں کہ ہم سیارۂ زمین کے شہری نہیں رہے۔ ہم کسی ایک خطۂ زمین یا کسی چھوٹی سی سوسائٹی کے ساتھ اس حد تک جڑ چکے ہیں کہ ہم خود کو من حیث الانسان، کرۂ ارض کا باسی سمجھتے ہی نہیں۔ ہم خود کو اس عظیم تر سوسائٹی کا فرد نہیں گردانتے جس کی تشکیل تمام بنی نوعِ انسان سے ہوتی ہے۔
کیا یہ تعصبات فقط کم وقعت کے پست ذہن لوگوں پر ہی غالب ہیں؟ انہیں تو شاید اس وجہ سے معاف کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مطالعہ، سفر یا غیر ملکیوں سے بات چیت کے ذریعے اپنے خیالات کی اصلاح کرنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن مقامِ افسوس یہ بھی ہے کہ ایسے خیالات ان لوگوں میں بھی پائے جاتے ہیں جو کہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ تعصبات سے بالاتر ہونے کے علاوہ باقی تمام شریفانہ فضائل کے حامل ہوتے ہیں۔ ایک شخص پیدائشی طور پر کتنا ہی نجیب الطرفین کیوں نہ ہو، اور ان تمام خواص سے مالامال ہو جو کسی بھی شریف زادے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ نسلی و قومی تعصبات سے بالاتر نہیں ہے تو میں اسے بے دھڑک یہ کہنا پسند کروں گا کہ وہ ادنیٰ اور پست درجے کی ذہنیت کا حامل ہے اور اسے شرافت و نجابت کے دعوے کا حق حاصل نہیں ہے۔ درحقیقت وہ لوگ اپنی قوم کی خوبیوں میں خودستائی کا شکار ہوتے ہیں جن میں بذات خود وہ خوبیاں نہیں ہوتیں۔ تاک کی کمزور بیل اسی لیے مضبوط برگد سے لپٹ جاتی ہے کہ اس میں خود کو سہارا دینے کی قوت نہیں ہوتی۔
اگر قومی تعصبات کی حمایت میں یہ کہا جائے کہ وطن کے لیے محبت کا پروان چڑھنا ضروری اور عین فطری ہے اور قومی تعصب کو ختم کرنے کے لیے وطن کی محبت کو ختم کرنا ضروری ہو جاتا ہے، تو میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ یہ سراسر مغالطہ اور فریب ہے۔ اگر ایسا کہا جائے کہ یہ ہم میں وطن کے لیے محبت پروان چڑھنے کے عمل کی وجہ سے ہے، تو میں اس سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ فطری ہے، تو میں اسے یکسر مسترد کرتا ہوں۔
اوہام اور جذباتیت بھی مذہب سے پھوٹتے ہیں لیکن کون کہتا ہے کہ یہ مذہب جیسے مقدس ضابطے کی ناگزیر پیداوار ہیں۔ یہ تو اس مقدس ضابطے کی ناپسندیدہ شاخیں ہیں، ناکہ فطری اور حقیقی۔ اور اس شجر کے اساسی جوہر کو نقصان پہنچائے بغیر ان شاخوں کو بحفاظت کاٹ پھینکا جا سکتا ہے، بلکہ جب تک ان شاخوں کو اتار پھینکا نہیں جائے گا، یہ شجر بھرپور صحت اور توانائی کے ساتھ پھل پھول نہیں سکتا۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ میں دوسرے ممالک سے نفرت کیے بغیر اپنے ملک سے محبت کر سکوں؟ کیا یہ واقعی ممکن نہیں کہ میں دوسری قوموں کو بزدل اور کم ہمت کہہ کر ان سے نفرت کیے بغیر ہی اپنے ملک کے آئین اور آزادی کی حفاظت میں اعلیٰ درجے کی شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کروں؟ یقیناً ایسا ممکن ہے۔ لیکن اگر ناممکن ہے… ویسے کیا ضرورت ہے اسے ناممکن تصور کرنے کی! لیکن اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر میں اپنی ذات کے لیے اس قدیم فلسفی کی دی گئی شناخت پسند کروں گا، ناکہ انگریز، فرانسیسی، یورپی یا کوئی اور خطاب…

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
اداریہ

بنیادی شہریتی تعلیم

In the backdrop of the upcoming elections Khudi and Hanns Seidel Foundation has started an awareness program on civic education to promote participatory democracy and active citizenship among youth. This small handout aimed at imparting civic awareness among young voters so that they can make informed political choices and play a dynamic role during and after the elections.۔